• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
7- بَاب الْمَرْأَةِ تَحُجُّ بِغَيْرِ وَلِيٍّ
۷- باب: عورت محرم اور ولی کے بغیر حج نہ کرے​

2898- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ سَفَرًا ثَلاثَةَ أَيَّامٍ فَصَاعِدًا، إِلا مَعَ أَبِيهَا أَوْ أَخِيهَا أَوِ ابْنِهَا أَوْ زَوْجِهَا أَوْ ذِي مَحْرَمٍ "۔
* تخريج: م/الحج ۷۴ (۱۳۴۰)، د/الحج ۲ (۱۷۲۶)، ت/الرضاع ۱۵ (۱۱۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۰۴)، وقد أخرجہ: خ/جزء الصید ۲۶ (۱۸۶۴ مختصراً)، حم (۳/ ۵۴)، دي/الاستئذان ۴۶ (۲۷۲۰) (صحیح)

۲۸۹۸- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''عورت تین یا اس سے زیادہ دنوں کا سفر باپ یا بھائی یا بیٹے یا شوہر یا کسی محرم ۱؎ کے بغیر نہ کرے'' ۲؎ ۔
وضاحت۱؎: محرم: شوہر یا وہ شخص جس سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو مثلاً باپ دادا، نانا، بیٹا، بھائی، چچا، ماموں، بھتیجا، داماد وغیرہ یا رضاعت سے ثابت ہونے والے رشتہ دار۔
وضاحت۲؎: محرم سے مراد وہ شخص ہے جس سے نکاح حرام ہو، تو دیور یا جیٹھ کے ساتھ عورت کا سفر کرنا جائز نہیں، اسی طرح بہنوئی، چچا زاد یا خالہ زاد یا ماموں زاد بھائی کے ساتھ کیونکہ یہ لوگ محرم نہیں ہیں، محرم سے مراد وہ شخص ہے جس سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو۔
اور اس حدیث میں تین دن کی قید اتفاقی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تین دن سے کم سفر غیر محرم کے ساتھ جائز ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ایک دن کا ذکر ہے۔
اور اہل حدیث کے نزدیک سفر کی کوئی حد مقرر نہیں جس کو لوگ عرف عام میں سفر کہیں وہ عورت کو بغیر محرم کے جائز نہیں، البتہ جس کو سفر نہ کہیں وہاں عورت بغیر محرم کے جا سکتی ہے جیسے شہر میں ایک محلہ سے دوسرے محلہ میں، یا نزدیک کے گاؤں میں جس کی مسافت ایک دن کی راہ سے بھی کم ہو۔

2899- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: " لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، أَنْ تُسَافِرَ مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَاحِدٍ، لَيْسَ لَهَا ذُو حُرْمَةٍ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۰۳۵)، وقد أخرجہ: خ/تقصیر الصلاۃ ۴ (۱۰۸۸)، م/الحج ۷۴ (۱۳۳۹)، د/الحج ۲ (۱۷۲۳)، ت/الرضاع ۱۵ (۱۶۶۹)، ط /الإستئتذان ۱۴ (۳۷)، حم (۲/۲۳۶، ۳۴۰، ۳۴۷، ۴۲۳، ۴۳۷، ۴۴۵، ۴۹۳) (صحیح)

۲۸۹۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو، یہ درست نہیں ہے کہ وہ ایک دن کی مسافت کا سفر کرے، اور اس کے ساتھ کو ئی محرم نہ ہو''۔

2900- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: إِنِّي اكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا، وَامْرَأَتِي حَاجَّةٌ، قَالَ: " فَارْجِعْ مَعَهَا "۔
* تخريج: م/الحج ۷۴ (۱۳۴۱)، الجہاد ۱۸۱ (۳۰۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۱۵)، وقد أخرجہ: خ/جزاء الصید ۲۶ (۳۰۶۱)، حم (۱/۳۴۶) (صحیح)

۲۹۰۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں جانے کے لئے درج کر لیا گیا ہے، اور میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ''جائو اس کے ساتھ حج کرو''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
8- بَابٌ الْحَجُّ جِهَادُ النِّسَاء
۸- باب: حج عورتوں کا جہاد ہے​

2901- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عَاءِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَاءِشَةَ؛ قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! عَلَى النِّسَائِ جِهَادٌ؟ قَالَ: " نَعَمْ، عَلَيْهِنَّ جِهَادٌ لا قِتَالَ فِيهِ: الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ "۔
* تخريج: خ/الحج ۴ (۱۵۲۰)، الجہاد ۶۲ (۲۷۸۴، ۲۸۷۶) ن/الحج ۴ (۲۶۲۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۷۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۷۱، ۷۶، ۷۹ ۱۶۵) (صحیح)

۲۹۰۱- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر بھی جہاد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیس فرمایا: ''ہاں، لیکن ان پر ایسا جہاد ہے جس میں لڑائی نہیں ہے اور وہ حج اور عمرہ ہے''۔

2902- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيِّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ؛ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " الْحَجُّ جِهَادُ كُلِّ ضَعِيفٍ "۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۱۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۰۲۳)، وقد أخرجہ: ن/الحج ۴ (۲۶۲۹)، حم (۲/۲۱، ۶/۲۹۴، ۳۰۳، ۳۱۴) (حسن)
(ابو جعفر الباقر کا سماع ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ثابت نہیں ہے، لیکن شواہد و متابعات سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۳۵۱۹)۔
۲۹۰۲- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''حج ہر ناتواں اور ضعیف کا جہاد ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
9- بَاب الْحَجِّ عَنِ الْمَيِّتِ
۹- باب: میت کی طرف سے حج کرنے کا بیان​

2903- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ سَمِعَ رَجُلا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَنْ شُبْرُمَةُ ؟ " قَالَ: قَرِيبٌ لِي، قَالَ: " هَلْ حَجَجْتَ قَطُّ؟ " قَالَ: لا، قَالَ: " فَاجْعَلْ هَذِهِ عَنْ نَفْسِكَ، ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَةَ "۔
* تخريج: د/المناسک ۲۶ (۱۸۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۵۵۶۴) (صحیح)

۲۹۰۳- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو لبیک عن شبرمہ (حاضر ہوں شبرمہ کی طرف سے) کہتے ہوئے سنا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ''شبرمہ کون ہے''؟ اس نے بتایا: وہ میرا رشتہ دار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ''کیا تم نے کبھی حج کیا ہے''؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تو اس حج کو اپنی طرف سے کر لو، پھر (آئندہ) شبرمہ کی طرف سے کرنا''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حج دوسرے کی طرف سے نائب ہو کر کرنا جائزہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ اس سے پہلے خود اپنا فریضہء حج ادا کرچکا ہو۔

2904- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: أَحُجُّ عَنْ أَبِي ؟ قَالَ: " نَعَمْ، حُجَّ عَنْ أَبِيكَ، فَإِنْ لَمْ تَزِدْهُ خَيْرًا لَمْ تَزِدْهُ شَرًّا "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۵۵، ومصباح الزجاجۃ: ۱۰۲۴) (صحیح الإسناد)

۲۹۰۴- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: کیا میں اپنے والد کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ہاں، اپنے والد کی طرف سے حج کرو، اگر تم ان کی نیکی نہ بڑھا سکے تو ان کی برائی میں اضافہ مت کرو'' ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یعنی باپ کے بڑے احسانات ہیں، آدمی کو چاہئے کہ اپنے والد کی طرف سے خیر خیرات اور اچھے کام کرے، جیسے صدقہ اور حج وغیرہ، اگر یہ نہ ہو سکے تو اتنا ضروری ہے کہ والد کے ساتھ برائی نہ کرے، وہ برائی یہ ہے دوسرے لوگوں سے لڑ کر والد کو گالیاں دلوائے یا برا کہلوائے یا ان کے والد کو برا کہہ کر، جیسے دوسری حدیث میں آیا ہے کہ بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے والد کو گالی دے، لوگوں نے عرض کیا: اپنے والد کو کو ن گالی دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اس طرح سے کہ دوسرے کے والد کو گالی دے وہ اس کے والد کو گالی دے'' ۔

2905- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَطَائٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْغَوْثِ بْنِ حُصَيْنٍ ( رَجُلٌ مِنَ الْفُرْعِ ) أَنَّهُ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ ﷺ عَنْ حَجَّةٍ كَانَتْ عَلَى أَبِيهِ، مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ، قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: " حُجَّ عَنْ أَبِيكَ " وَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: " وَكَذَلِكَ الصِّيَامُ فِي النَّذْرِ يُقْضَى عَنْهُ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۷۷، ومصباح الزجاجۃ: ۱۰۲۵) (ضعیف الإسناد)
(سند میں عثمان بن عطاء خراسانی ضعیف ہیں، بلکہ بعضوں کے نزدیک متروک، حدیث کے پہلے جملہ کے لئے آگے کی حدیث (۲۹۰۶) دیکھیں)
۲۹۰۵- مقام فرع کے ایک شخص ابو الغوث بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے حج کی ادائیگی کے بارے میں سوال کیا جو ان کے والد پر فرض تھا، اور وہ بغیر حج کیے مر گئے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اپنے والد کی جانب سے حج کرو''، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ''اسی طرح کا معاملہ نذر مانے ہوئے صیام کا بھی ہے کہ ان کی قضاء اس کی طرف سے کی جائے گی''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
10- بَاب الْحَجِّ عَنِ الْحَيِّ إِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ
۱۰- باب: معذور شخص کی طرف سے حج بدل کرنے کا بیان​

2906- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ؛ قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ؛ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ، لا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلا الْعُمْرَةَ وَلاالظَّعْنَ، قَالَ: " حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ "۔
* تخريج: د/الحج ۲۶ (۱۸۱۰)، ن/الحج ۲ (۲۶۲۲)، ۱۰ (۲۶۳۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۷۳)، وقد أخرجہ: ت/الحج ۸۷ (۹۳۰)، حم (۴/۱۰، ۱۱، ۱۲) (صحیح)

۲۹۰۶- ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں جو نہ حج کرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ عمرہ کرنے کی، اور نہ سواری پر سوار ہونے کی (فرمائیے! ان کے متعلق کیا حکم ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تم اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کرو''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: امام محمد نے کہا کہ ہمارا عمل اسی حدیث پر ہے، میت کی طرف سے اور اس مرد یا عورت کی طرف جو ایسے بوڑھے ہو جائیں کہ ان میں حج کرنے کی طاقت نہ رہے حج کرنا جائز ہے، اور یہی قول امام ابو حنیفہ اور ہمارے اکثر فقہاء کا ہے۔

2907- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ جَائَتِ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ، قَدْ أَفْنَدَ وَأَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ، وَلا يَسْتَطِيعُ أَدَائَهَا، فَهَلْ يُجْزِئُ عَنْهُ أَنْ أُؤَدِّيَهَا عَنْهُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " نَعَمْ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۲۲)، وقد أخرجہ: خ/الحج ۱ (۱۵۱۳)، جزاء الصید ۲۳ (۱۸۵۴)، ۲۴ (۱۸۵۵)، المغازي ۷۷ (۴۳۹۹)، الاستئذان ۲ (۶۲۲۸)، م/الحج ۷۱ (۱۳۳۴)، د/الحج ۲۶ (۱۸۰۹)، ت/الحج ۸۵ (۹۲۸)، ن/الحج ۸ (۲۶۳۴)، ۹ (۲۶۳۶)، ط/الحج ۳۰ (۹۷)، حم (۱/۲۱۹، ۲۵۱، ۳۲۹، ۳۴۶، ۳۵۹)، دي/الحج ۲۳ (۱۸۷۳) (حسن الإسناد)

۲۹۰۷- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلۂ خثعم کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ بہت ناتواں اور ضعیف ہو گئے ہیں، اور اللہ کا بندوں پر عائد کردہ فرض حج ان پر لازم ہو گیا ہے، وہ اس کو ادا کرنے کی قوت نہیں رکھتے، اگر میں ان کی طرف سے حج ادا کروں تو کیا یہ ان کے لیے کافی ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ہاں''۔

2908- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: أَخْبَرَنِي حُصَيْنُ بْنُ عَوْفٍ؛ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْحَجُّ وَلا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحُجَّ إِلا مُعْتَرِضًا، فَصَمَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: " حُجَّ عَنْ أَبِيكَ "۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۱۷، ومصباح الزجاجۃ: ۱۰۲۶) (ضعیف الإسناد)
(سند میں محمد بن کریب منکر الحدیث ہیں، لیکن صحیح و ثابت احادیث ہی ہمارے لئے کافی ہیں)
۲۹۰۸- حصین بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد پر حج فرض ہو گیا ہے لیکن وہ حج کرنے کی سکت نہیں رکھتے، مگر اس طرح کہ انہیں کجاوے کے ساتھ رسی سے باندھ دیا جائے؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا: ''تم اپنے والد کی طرف سے حج کرو''۔

2909- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَخِيهِ الْفَضْلِ أَنَّهُ كَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ غَدَاةَ النَّحْرِ: فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ، أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَرْكَبَ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: " نَعَمْ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكِ دَيْنٌ قَضَيْتِهِ "۔
* تخريج: خ/جزاء الصید ۲۳ (۱۸۵۳)، م/الحج ۷۱ (۱۳۳۵)، ت/الحج ۸۵ (۹۲۸)، ن/آداب القضاۃ ۹ (۵۳۹۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۴۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۱۲، ۳۱۳، ۳۵۹)، دي/المناسک ۲۳ (۱۸۷۵) (صحیح)

۲۹۰۹- عبد اللہ بن عباس اپنے بھائی فضل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ وہ یوم النحر کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگر عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کے بندوں پر عائد کیے ہوئے فریضۂ حج نے میرے والد کو بڑھاپے میں پایا ہے، وہ سوار ہونے کی بھی سکت نہیں رکھتے، کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''ہاں، اس لیے کہ اگر تمہارے باپ پر کوئی قرض ہوتا تو تم اسے چکاتیں نا؟''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: جب والد نے قرض کی ادائیگی کے لیے مال نہ چھوڑا ہو، تو باپ کا قرض ادا کرنا بیٹے پر لازم نہیں ہے، لیکن اکثر نیک اور صالح اولاد اپنی کمائی سے ماں باپ کا قرض ادا کر دیتے ہیں، ایسا ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے بھی پوچھا کہ تم اپنے والد کا قرض ادا کرتی یا نہیں؟ جب اس نے کہا کہ میں ادا کرتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''حج بھی اس کی طرف سے ادا کر دو، وہ اللہ کا قرض ہے'' ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
11- بَاب حَجِّ الصَّبِيِّ
۱۱- باب: بچے کا حج​

2910- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: رَفَعَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فِي حَجَّةٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ: " نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ "۔
* تخريج: ت/الحج ۸۳ (۹۲۴)، (تحفۃ الأشراف: ۳۰۷۶) (صحیح)

۲۹۱۰- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو حج کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرتے ہوئے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ہاں اور اجر و ثواب تمہارے لیے ہے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ لڑکے کا حج صحیح ہے، چونکہ اس کا ولی اس کی جانب سے کم عمری کی وجہ سے حج کے ارکان ادا کرتا ہے اس لیے وہ ثواب کا مستحق ہو گا، البتہ یہ حج اس بچے سے حج کی فرضیت کو ساقط نہیں کرے گا، بلوغت کے بعد استطاعت کی صورت میں اسے حج کے فریضے کی ادائیگی کرنی ہو گی، اور بچین کا حج نفل قرارپائے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
12- باب النُّفَسَا ء وَالْحائض تُهلُّ بالحجّ
۱۲- باب: نفاس اور حیض والی عورتیں حج کا تلبیہ پکار سکتی ہیں​

2911- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَاءِشَةَ؛ قَالَتْ: نُفِسَتْ أَسْمَاء بِنْتُ عُمَيْسٍ بِالشَّجَرَةِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يَأْمُرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ ۔
* تخريج: م/الحج ۱۶ (۱۲۰۹)، د/الحج ۱۰ (۱۷۴۳)، ن/الحیض ۲۴ (۲۱۵)، الحج ۵۷ (۲۷۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۰۲)، وقد أخرجہ: ط/الحج ۴۱ (۱۲۷، ۱۲۸)، دي/المناسک ۱۱ (۱۸۴۵)، ۳۴ (۱۸۹۲) (صحیح)

۲۹۱۱- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو مقام شجرہ ۱؎ میں نفاس آگیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اسماء سے کہیں کہ وہ غسل کرکے تلبیہ پکاریں'' ۲؎ ۔
وضاحت۱؎: شجرہ: ذو الحلیفہ میں ایک درخت تھا جس کی مناسبت سے اس جگہ کا نام شجرہ پڑ گیا۔ اس وقت عوام میں یہ مقام ''بئر علی'' کے نام سے مشہور ہے۔
وضاحت۲؎: صحیح بخاری اورصحیح مسلم میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب انہیں حیض آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ''ہر ایک کام کرو جو حاجی کرتے ہیں، فقط بیت اللہ (خانہ کعبہ) کا طواف نہ کرو جب تک کہ غسل نہ کر لو''۔

2912- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ؛ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَمَعَهُ أَسْمَاء بِنْتُ عُمَيْسٍ، فَوَلَدَتْ، بِالشَّجَرَةِ، مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ النَّبِيَّ ﷺ فَأَخْبَرَهُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَأْمُرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ، ثُمَّ تُهِلَّ بِالْحَجِّ، وَتَصْنَعَ مَا يَصْنَعُ النَّاسُ، إِلا أَنَّهَا لا تَطُوفُ بِالْبَيْتِ۔
* تخريج: ن/الحج ۲۶ (۲۶۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۶۶۱۷) (صحیح)

۲۹۱۲- ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے، ان کے ساتھ (ان کی بیوی) اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا تھیں، ان سے مقام شجرہ (ذوالحلیفہ) میں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، ابو بکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ کو اس کی اطلاع دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسماء سے کہیں کہ وہ غسل کریں، پھر تلبیہ پکاریں اور احرام باندھیں، اور وہ تمام کام انجام دیں، جو دوسرے لوگ کریں البتہ وہ بیت اللہ کا طواف نہ کریں'' ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: طواف ایک ایسی عبادت ہے جس میں طہارت شرط ہے، اسی وجہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسماء رضی اللہ عنہا کو طواف سے روک دیا۔

2913- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ؛ قَالَ: نُفِسَتْ أَسْمَاء بِنْتُ عُمَيْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتَسْتَثْفِرَ بِثَوْبٍ ثُمَّ تُهِلَّ۔
* تخريج: م/الحج ۱۶ (۱۲۱۰)، د/الحج ۱۰ (۱۷۴۳)، ن/الحیض ۲۴ (۲۱۵)، الحج ۵۷ (۲۷۶۲، ۲۷۶۳)، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۰۰)، وقد أخرجہ: ط/الحج ۴۱ (۱۲۷، ۱۲۸)، دي/المناسک ۱۱ (۱۸۴۵) (صحیح)

۲۹۱۳- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو محمد بن ابی بکر کی (ولادت کی) وجہ سے نفاس (کا خون) آیا، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غسل کرنے، اور کپڑے کا لنگوٹ کس کر احرام باندھ لینے کا حکم دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
13- بَاب مَوَاقِيتِ أَهْلِ الآفَاقِ
۱۳- باب: مکہ سے باہر رہنے والوں کی میقات کا بیان​

2914- حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلُ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ " فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَمَّا هَذِهِ الثَّلاثَةُ، فَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ "۔
* تخريج: خ/العلم ۵۳ (۱۳۳)، الحج ۵ (۱۵۲۲)، ۸ (۱۵۲۵، ۱۰ (۱۵۲۸)، م/الحج ۲ (۱۱۸۲)، د/الحج ۹ (۱۷۳۷)، ن/الحج ۱۷ (۲۶۵۲)، (تحفۃ الأشراف: ۸۳۲۶)، وقد أخرجہ: ط/الحج ۸ (۲۲)، حم (۲/۴۸، ۵۵، ۶۵)، دي/المناسک ۵ (۱۸۳۱) (صحیح)

۲۹۱۴- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اہل مدینہ ذو الحلیفہ سے تلبیہ پکاریں اور احرام باندھیں، اہل شام جحفہ سے، اور اہل نجد قرن سے، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رہے یہ تینوں (میقاتیں) تو انہیں میں نے (براہ راست) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، اور مجھے یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اہل یمن یلملم سے تلبیہ پکاریں (اور احرام باندھیں)''۱؎۔
وضاحت۱؎: میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے حاجی یا معتمر کو احرام باندھنا اور تلبیہ پکارنا ضروری ہوتا ہے، البتہ حاجی یا معتمر مکہ میں یا میقات کے اندر رہ رہا ہو تو اس کے لیے گھر سے نکلتے وقت احرام باندھ لینا ہی کافی ہے میقات پر جانا ضروری نہیں۔ اور یلملم ایک پہاڑی ہے جو مکہ سے دو منزل پر ہے، برصغیر (ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش) سے بحری جہازسے آنے والے لوگ اس کے محاذاۃ سے احرام باندھتے اور تلبیہ پکارتے ہیں۔

2915- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ؛ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: " مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّامِ مِنَ الْجُحْفَةِ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ، وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ، وَمُهَلُّ أَهْلِ الْمَشْرِقِ مِنْ ذَاتِ عِرْقٍ " ثُمَّ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ لِلأُفُقِ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ! أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ"۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۵۲، ومصباح الزجاجۃ: ۱۰۲۷)، وقد أخر جہ: م/الحج ۲ (۱۱۸۳)، حم (۲/۱۸۱، ۳/۳۳۳، ۳۳۶) (صحیح)
(اس سند میں ابراہیم الہجری ضعیف ہے، لیکن متن صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۴؍ ۱۷۶، تراجع الألبانی: رقم: ۵۲۶)۔
۲۹۱۵- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب کیا اور فرمایا: ''اہل مدینہ کے تلبیہ پکارنے (اور احرام باندھنے) کا مقام ذو الحلیفہ ہے، اہل شام کا جحفہ، اہل یمن کا یلملم اور اہل نجد کا قرن ہے، اور مشرق سے آنے والوں کے احرام کا مقام ذات عرق ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا رخ آسمان کی طرف کیا اور فرمایا: ''اے اللہ! ان کے دل ایمان کی طرف لگا دے''۱؎۔
وضاحت۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں مشرق کی طرف کفر کا غلبہ تھا، اس وجہ سے وہاں کے لوگوں کے لیے دعا کی، اللہ تعالی نے مشرق والوں کو مسلمان کر دیا، کروڑوں مسلمان ہندوستان میں گزرے جو مکہ سے مشرق کی جانب ہے، بعض کہتے ہیں کہ دوسری حدیث میں ہے کہ مشرق سے فتنہ نمودار ہو گا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لیے ہدایت کی دعا کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
14- بَاب الإِحْرَامِ
۱۴- باب: احرام باندھنے اور (تلبیہ پکارنے) کا بیان​

2916- حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ، إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ ، وَاسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ، أَهَلَّ مِنْ عِنْدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۰۳۲، ومصباح الزجاجۃ: ۱۰۲۸)، وقد أخرجہ: خ/الحج ۲ (۱۵۱۴)، ۲۸ (۱۵۵۲)، ۲۹ (۱۵۵۳)، م/الحج ۳ (۱۱۸۷)، ن/الحج ۵۶ (۲۷۵۹)، ط/الحج ۸ (۲۳)، حم (۲/۱۷، ۱۸، ۲۹، ۳۶، ۳۷)، دي/المناسک ۸۲ (۱۹۷۰) (صحیح)
(ملاحظہ ہو: الإرواء: ۴؍۲۹۵)۔
۲۹۱۶- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنا پاؤں رکاب میں رکھتے اور اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی، تو آپ ذو الحلیفہ کی مسجد کے پاس سے لبیک پکا رتے۱؎۔
وضاحت۱؎: تلبیہ پکارنے کے سلسلے میں صحیح اور درست بات یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی الحلیفہ میں صلاۃ ظہر کے بعد تلبیہ پکارا، اور اونٹنی پر سوار ہوئے تو دوبارہ تلبیہ پکارا، اسی طرح جب آپ مقام بیدا میں پہنچے تو وہاں بھی تلبیہ پکارا، آپ کے ساتھ حج کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت تھی ہر صحابی ہر جگہ موجود نہیں رہا، اس لیے جس نے جیسا سنا روایت کر دیا لیکن دوسرے کی نفی نہیں کی۔

2917- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِالْوَاحِدِ؛ قَالا: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: إِنِّي عِنْدَ ثَفِنَاتِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ عِنْدَ الشَّجَرَةِ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ قَائِمَةً، قَالَ: " لَبَّيْكَ ! بِعُمْرَةٍ وَحِجَّةٍ مَعًا " وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۴۵۲، ومصباح الزجاجۃ: ۱۰۲۹)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۸۳، ۲۲۵) (صحیح الإسناد)

۲۹۱۷- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مقام شجرہ (ذو الحلیفہ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے پاؤں کے پاس تھا، جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ نے کہا: ''لَبَّيْكَ! بِعُمْرَةٍ وَحِجَّةٍ مَعًا'' (میں عمرہ و حج دونوں کی ایک ساتھ نیت کرتے ہوئے حاضر ہوں)، یہ حجۃ الوداع کا واقعہ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
15- بَاب التَّلْبِيَةِ
۱۵- باب: تلبیہ (لبیک کہنے) کا بیان​

2918- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَأَبُو أُسَامَةَ وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: تَلَقَّفْتُ التَّلْبِيَةَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ يَقُولُ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ! لَبَّيْكَ ! لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ! إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ، وَالْمُلْكَ، لاشَرِيكَ لَكَ "، قَالَ : وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَزِيدُ فِيهَا: لَبَّيْكَ ! لَبَّيْكَ ! لَبَّيْكَ ! وَسَعْدَيْكَ ! وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ لَبَّيْكَ ! وَالرَّغْبَائُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۸۷۳، ۸۰۱۳، ۱۸۱۳)، وقد أخرجہ: خ/الحج ۲۶ (۱۵۴۹)، اللباس ۶۹ (۵۹۵۱)، م/الحج ۳ (۱۱۸۴)، د/الحج ۲۷ (۱۸۱۲)، ت/الحج ۱۳ (۸۲۵)، ن/الحج ۵۴ (۲۷۵۰)، ط/الحج ۹ (۲۸)، حم۲/۳، ۲۸، ۳۴، ۴۱، ۴۳، ۴۷، ۴۸، ۵۳، ۷۶، ۷۷، ۷۹، ۱۳۱، دي/المناسک ۱۳ (۱۸۴۹) (صحیح)

۲۹۱۸- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے تلبیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا، آپ فرماتے تھے: "لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ! لَبَّيْكَ! لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ! إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ، وَالْمُلْكَ، لا شَرِيكَ لَكَ'' (حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، حمد و ثنا، نعمتیں اور فرماں روائی تیری ہی ہے، تیرا (ان میں) کوئی شریک نہیں)۔
راوی کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اس میں یہ اضافہ کرتے: ''لَبَّيْكَ! لَبَّيْكَ! لَبَّيْكَ! وَسَعْدَيْكَ! وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ لَبَّيْكَ! وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ'' (حاضر ہوں اے اللہ! تیری خدمت میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، نیک بختی حاصل کرتا ہوں، خیر (بھلائی) تیرے ہاتھ میں ہے، تیری ہی طرف تمام رغبت اور عمل ہے)۔


2919- حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا ُفْيَانُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ جَابِرٍ؛ قَالَ: كَانَتْ تَلْبِيَةُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ " لَبَّيْكَ ! اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ! لَبَّيْكَ! لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ! إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ، وَالْمُلْكَ، لا شَرِيكَ لَكَ "۔
* تخريج: د/الحج ۲۷ (۱۸۱۳)، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۰۴) (صحیح)

۲۹۱۹- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ تھا: ''لَبَّيْكَ! اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ! لَبَّيْكَ! لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ! إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ، وَالْمُلْكَ، لا شَرِيكَ لَكَ'' (حاضر ہوں اے اللہ! تیری خدمت میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں، حمد و ثناء، نعمتیں اور فرماںروائی تیری ہی ہے، ان میں کوئی شریک نہیں)۔

2920- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ فِي تَلْبِيَتِهِ: " لَبَّيْكَ ! إِلَهَ الْحَقِّ،لَبَّيْكَ ! "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ : (تحفۃ الأشراف: ۱۳۹۴۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۰۳۰)، وقد أخرجہ: ن/الحج ۵۴ (۲۷۵۳)، حم (۲/۳۴۱، ۳۵۲، ۴۷۶) (صحیح)

۲۹۲۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تلبیہ میں یو ں کہا: ''لَبَّيْكَ! إِلَهَ الْحَقِّ، لَبَّيْكَ!'' (حاضر ہوں، اے معبود برحق، حاضر ہوں)۔

2921- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " مَا مِنْ مُلَبٍّ يُلَبِّي إِلا لَبَّى مَا عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ مِنْ حَجَرٍ أَوْ شَجَرٍ أَوْ مَدَرٍ، حَتَّى تَنْقَطِعَ الأَرْضُ مِنْ هَاهُنَا وَهَاهُنَا "۔
* تخريج: ت/الحج ۱۴ (۸۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۴۷۳۵) (صحیح)

۲۹۲۱- سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جب کوئی تلبیہ کہنے والا تلبیہ کہتا ہے، تو اس کے دائیں اور بائیں دونوں جانب سے درخت، پتھر اور ڈھیلے سبھی تلبیہ کہتے ہیں، دونوں جانب کی زمین کے آخری سروں تک''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
16- بَابُ رَفْعِ الصَّوْتِ بِالتَّلْبِيَةِ
۱۶- باب: بلند آواز سے لبیک کہنے کا بیان​

2922- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ،عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، حَدَّثَهُ عَنْ خَلادِ ابْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالإِهْلالِ "۔
* تخريج: د/الحج ۲۷ (۱۸۱۴)، ت/الحج ۱۵ (۸۲۹)، ن/الحج ۵۵ (۲۷۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۳۷۸۸)، وقد أخرجہ: ط/الحج ۱۰ (۳۴)، حم (۴/۵۵، ۵۶)، دي/المناسک ۱۴ (۱۸۵۰) (صحیح)

۲۹۲۲- سائب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''میرے پاس جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ سے کہوں کہ تلبیہ بلند آواز ۱؎ سے پکاریں''۔
وضاحت۱؎: یہ حکم مردوں کے لیے ہے، عورت بھی تلبیہ پکارے گی لیکن دھیمی آواز سے، حدیث کے مطابق طریقہ یہ ہے کہ حاجی غسل کرے، پھر خوشبو لگائے اور احرام کی چادریں اوڑھے، اور لبیک پکار کر کہے، اگر صرف حج کی نیت ہو تو لبیک بحجۃ کہے، اور اگر عمرے کی نیت ہو تو لبیک عمرۃ کہے، اگر دونوں کی ایک ساتھ نیت ہو یعنی حج قران کی تو یوں کہے لبیک بحجۃ وعمرۃ۔

2923- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ،عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ خَلادِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " جَائَنِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ ! مُرْ أَصْحَابَكَ فَلْيَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ، فَإِنَّهَا مِنْ شِعَارِ الْحَجِّ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۷۵۰، و مصباح الزجاجۃ: ۱۰۳۱)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۹۲) (صحیح)

۲۹۲۳- زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''میرے پاس جبرئیل آئے اور بولے: اے محمد! اپنے صحابہ سے کہو کہ وہ تلبیہ بہ آواز بلند پکاریں، اس لیے کہ یہ حج کا شعار ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے لبیک پکارنے کا وجوب نکلتا ہے، شعارکے لفظ سے واجب ہونا ضروری نہیں، بہت سی چیزیں سنت ہیں، پر شعائر میں سے ہیں جیسے اذان وغیرہ۔

2924- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ؛ قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ يَرْبُوعٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ سُئِلَ: أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " الْعَجُّ وَالثَّجُّ "۔
* تخريج: ت/الحج ۱۴ (۸۲۷)، (تحفۃ الأشراف: ۶۶۰۸)، وقد أخرجہ: دي/المناسک ۸ (۱۸۳۸) (صحیح)

۲۹۲۴- ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: سب سے بہتر عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''عج اور ثج''، یعنی بہ آواز بلند تلبیہ پکارنا، اور خون بہانا'' (یعنی قربانی کرنا)۔
 
Top