- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
34- بَاب الرَّجُلِ يُكْنَى قَبْلَ أَنْ يُولَدَ لَهُ
۳۴- باب: اولاد ہونے سے پہلے کنیت رکھنے کا بیان
۳۴- باب: اولاد ہونے سے پہلے کنیت رکھنے کا بیان
3738- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ صُهَيْبٍ أَنَّ عُمَرَ قَالَ لِصُهَيْبٍ: مَا لَكَ تَكْتَنِي بِأَبِي يَحْيَى؟ وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ، قَالَ: كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِأَبِي يَحْيَى۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۵۹، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۰۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۶) (حسن) (سند میں عبد اللہ بن محمد بن عقیل منکر الحدیث ہے، لیکن عمر رضی اللہ عنہ کے ابو داود کے شاہد سے یہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۳۳)
۳۷۳۸- حمزہ بن صہیب سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ تم اپنی کنیت ابو یحییٰ کیوں رکھتے ہو؟ حالانکہ تمہیں کوئی اولاد نہیں ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے میری کنیت ابو یحییٰ رکھی ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: معلوم ہوا کہ اولاد ہونے سے پہلے بھی آدمی کنیت رکھ سکتا ہے۔
3739- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ مَوْلًى لِلزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ ﷺ: كُلُّ أَزْوَاجِكَ كَنَّيْتَهُ غَيْرِي، قَالَ: " فَأَنْتِ أُمُّ عَبْدِاللَّهِ "۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۱۷)، وقد أخرجہ: د/الأدب ۷۸ (۴۹۷۰) (صحیح)
۳۷۳۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اُنہوں نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ نے اپنی تمام بیویوں کی کنیت رکھی، صرف میں ہی باقی ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم ''امّ عبداللہ'' ہو''۔
3740- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَأْتِينَا فَيَقُولُ لأَخٍ لِي وَكَانَ صَغِيرًا : " يَا أَبَا عُمَيْرٍ! "۔
* تخريج: أنظرحدیث رقم : ۳۷۲۰، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۹۲) (صحیح)
۳۷۴۰- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، تو میرا ایک چھوٹا بھائی تھا، آپ اسے ''ابو عمیر'' کہہ کر پکارتے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: انہوں نے ہی نغیر نامی چڑیا پا لی ہوئی تھی آپ ﷺ مزاح کے طور پر اس سے پوچھا کرتے اسے ابو عمیر نغیر چڑیا تمہاری کہاں ہے۔