• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
88- بَاب مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ
۸۸- باب: جراب (پائے تابہ) اور جوتے پر مسح کا بیان​

559- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الأَوْدِيِّ، عَنِ الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۶۱ (۱۵۹)، ت/الطہارۃ ۷۴ (۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۳۴)، وقد أخرجہ: ن/الطہارۃ ۹۶ (۱۲۴)، حم (۴/۲۵۲) (صحیح)

۵۵۹- مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا، اور پاتابوں اور جوتوں پر مسح کیا۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یعنی جب ان کو طہارت کرکے پہنے، تو پھر ان پر مسح صحیح ہے، اتارنا ضروری نہیں، اور جن لوگوں نے اس میں قید یں لگائی ہیں کہ پائے تابے چمڑے کے ہوں، یا موٹے ہوں، اتنے کہ خود بخود تھم رہیں، یہ سب خیالی باتیں ہیں جن کی شرع میں کوئی دلیل نہیں ہے، اصل یہ ہے کہ شارع علیہ السلام نے اپنی امت پر آسانی کے لئے پاؤں، کا دھونا ایسی حالت میں جب موزہ یا جراب یا جوتا چڑھا ہو معاف کر دیا ہے جیسے سر کا مسح عمامہ بندھی ہوئی حالت میں، پھر اس آسانی کو نہ قبول کرنا، اور اس میں عقلی گھوڑے دوڑانے کی کیا ضرورت ہے۔

560- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، وَبِشْرُ بْنُ آدَمَ، قَالا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عِيسَى بْنِ سِنَانٍ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَرْزَبٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ .قَالَ الْمُعَلَّى فِي حَدِيثِهِ: لا أَعْلَمُهُ إِلا قَالَ: وَالنَّعْلَيْنِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۰۰۷، ومصباح الزجاجۃ: ۲۲۶) (صحیح)
(عیسیٰ ضعیف الحفظ ہیں لیکن طرق و شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، کما تقدم قبلہ، (نیز ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود ۱۴۸)
۵۶۰- ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے وضو کیا، اور پاتابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔
معلی اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ مجھے یہی معلوم ہے کہ انہوں نے ''والنعلين'' کہا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
89- بَاب مَا جَاءَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْعِمَامَةِ
۸۹- باب: پگڑی پر مسح کا بیان​

561- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، عَنْ بِلالٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ۔
* تخريج: م/الطہارۃ ۲۳ (۲۷۵)، ت/الطہارۃ ۷۵ (۱۰۱)، ن/الطہارۃ ۸۶ (۱۰۴)، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۴۷) وقد أخرجہ: حم (۶/۱۲، ۱۳، ۱۴، ۱۵) (صحیح)

۵۶۱- بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے موزوں اور عمامہ (پگڑی) پر مسح کیا۔

562- حَدَّثَنَا دُحَيْمٌ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ (ح) وحَدَّثَنَا أَبُوبَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ جَعْفَرِبِنِ عَمْرِو، عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْعِمَامَةِ۔
* تخريج: خ/الوضوء ۴۸ (۲۰۴)، ن/الطہارۃ ۹۶ (۱۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۷۰۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۸۶ٔ ۴/۱۳۹، ۱۷۹، ۵/۲۸۷، ۲۸۸)، دي/الطہارۃ ۳۸ (۷۳۷) (صحیح)

۵۶۲- عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو موزوں اور عمامہ (پگڑی) پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۱؎ ۔
وضاحت۱؎: عمامہ پر مسح مغیرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، اور ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے، اور ان حدیثوں میں ذکر نہیں ہے کہ پیشانی پر مسح کر کے باقی ہاتھ عمامہ پر پھیرا، یہ حنفیوں کی تاویل ہے جس پر کوئی دلیل نہیں، امام احمد نے سلمان رضی اللہ عنہ سے عمامہ کے مسح کی روایت کی ہے، ابو داود نے ثوبان رضی اللہ عنہ سے، حاصل کلام یہ کہ سر پر اور عمامہ پر، اور سر اور عمامہ دونوں پر تینوں طرح صحیح اور ثابت ہے۔

563- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ، مَوْلَى زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ؛ قَالَ: كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ، فَرَأَى رَجُلا يَنْزِعُ خُفَّيْهِ لِلْوُضُوءِ، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ: امْسَحْ عَلَى خُفَّيْكَ وَعَلَى خِمَارِكَ وَبِنَاصِيَتِكَ، فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۱۱، ومصباح الزجاجۃ: ۲۲۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۳۹، ۴۴۰) (ضعیف)
(سند میں محمد بن زید بن علی الکندی العبدی قاضی مرو کو ابو حاتم رازی نے ''صالح الحدیث لابأس بہ''، کہا ہے، ابن حبان نے ان کو ثقات میں ذکر کیا ہے، اور ابن حجر نے مقبول کہا ہے، یعنی متابعت کی صورت میں، اور ابو مسلم العبدی مولیٰ زید بن صوحان بھی مقبول ہیں، اور ابو شریح بھی مقبول ہیں، متابعت کے نہ ہونے سے یہ حدیث ضعیف ہے، ان کا ترجمہ الاصابہ میں ہے)
۵۶۳- زید بن صوحان کے غلام ابومسلم کہتے ہیں کہ میں سلما ن رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ وضو کے لئے اپنے موزے نکال رہا ہے، تو سلمان رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اپنے موزے، عمامہ اور پیشانی پر مسح کر لیا کرو کیوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو موزوں اور عمامہ پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: بوصیری نے ''مصباح الزجاجۃ'' میں ''باب الصلاة في الثوب الذي يجامع فيه'' میں اس سیاق کو قدرے اختلاف سے دیا ہے جو یہ ہے:
563/أ- حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، عن يونس بن محمد، ثنا داود ابن أبي الفرات، ثنا محمد بن زيد العبدي، عن أبي شريح عن أبي مسلم مولى زيد بن صوحان قال: رأيت سلمان الفارسي ورأى رجلاً يريد أن ينزع خفيه في الوضوء فأمره سلمان أن يمسح على خفيه، وعمامته وشعره وقال سلمان: رأيت رسول الله ﷺ يمسح على خماره وخفيه.
اور آخر میں لکھا:''قال المزي في الأطراف: ليس في السماع ولم يذكره أبو القاسم (ابن عساكر)''
ابن حجر فرماتے ہیں: ''وقد رأيته في رواية سعدون عند ابن ماجة في نسخة صحيحة موجودة، وفيها عدة أحاديث في الطهارة لم أرها في رواية غيره، وقد تتبعتها في أماكنها بعون الله. النكت الظراف
د/عوض الشهري کے محقق نسخہ میں یہ حدیث (۲۲۹) نمبر پر ہے، موصوف فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ہندوستانی حیدر آبادی نسخہ اور د/ مصطفى الأعظمي کے نسخہ میں ساقط ہے۔

564- حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي مَعْقِلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ تَوَضَّأَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ قِطْرِيَّةٌ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِ الْعِمَامَةِ، فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِهِ وَلَمْ يَنْقُضِ الْعِمَامَةَ۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۵۷ (۱۴۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۲۵) (ضعیف)
(اس کی سند میں ابو معقل مجہول ہیں)
۵۶۴- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، آپ کے سر پہ ایک قطری عمامہ تھا، آپ نے اپنا ہاتھ عمامہ کے نیچے داخل کر کے سر کے اگلے حصے کا مسح کیا، اور عمامہ نہیں کھولا۔



******
***
*​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207

{ أَبْوَابُ التَّيَمُّمِ }
تیمم کے احکام ومسائل


90- بَاب مَا جَاءَ فِي السَّبَبِ
۹۰- باب: تیمم کے مشروع ہونے کا سبب​

565- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍأَنَّهُ قَالَ: سَقَطَ عِقْدُ عَائِشَةَ، فَتَخَلَّفَتْ لالْتِمَاسِهِ، فَانْطَلَقَ أَبُوبَكْرٍ إِلَى عَائِشَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهَا فِي حَبْسِهَا النَّاسَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ -عَزَّ وَجَلَّ- الرُّخْصَةَ فِي التَّيَمُّمِ، قَالَ فَمَسَحْنَا يَوْمَئِذٍ إِلَى الْمَنَاكِبِ، قَالَ فَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَ: مَا عَلِمْتُ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۱۲۳ (۳۱۸ ، ۳۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۶۳)، وقد أخرجہ: ن/الطہارۃ ۱۹۶ (۳۱۳)، حم (۴/۲۶۳، ۲۶۴، ۳۲۰، ۳۲۱) (صحیح)

۵۶۵- عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار ٹوٹ کر گر گیا، وہ اس کی تلاش میں پیچھے رہ گئیں، ابو بکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، اور ان پہ ناراض ہوئے، کیوں کہ ان کی وجہ سے لوگوں کو رکنا پڑا، تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے تیمم کی اجازت والی آیت نازل فرمائی، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس وقت مونڈھوں تک مسح کیا، اور ابو بکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور کہنے لگے: مجھے معلوم نہ تھا کہ تم اتنی بابرکت ہو۱؎ ۔
وضاحت۱؎ : اس حدیث سے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ثابت ہوئی، اسی طرح اس حدیث سے اور اس کی بعد کی احادیث سے مونڈھوں تک کا مسح ثابت ہوتا ہے، لیکن یہ منسوخ ہے، اب حکم صرف منہ اور پہنچوں تک مسح کرنے کا ہے، جیسا کہ آگے آنے والی احادیث سے ثابت ہے۔

566- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ؛ قَالَ : تَيَمَّمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِلَى الْمَنَاكِبِ۔
* تخريج: ن/الطہارۃ ۱۹۸ (۳۱۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۵۸)، وقد أخرجہ: د/الطہارۃ ۱۲۳ (۳۱۸) (صحیح)

۵۶۶- عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مونڈھوں تک تیمم کیا۔

567- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، (ح) وحَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَرَوِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، جَمِيعًا عَنِ الْعَلائِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < جُعِلَتْ لِيَ الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا >۔
* تخريج: م/المساجد ۱ (۵۲۳)، ت/السیر ۵ (۱۵۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۰۳۷، ۱۳۹۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۱۱)(صحیح)

۵۶۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’زمین میرے لئے صلاۃ کی جگہ اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یعنی ساری زمین پرصلاۃ کی ادائیگی صحیح ہے، اور پاک کرنے والی کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک قسم کی زمین پر تیمم صحیح ہے ، اور نبی اکرم ﷺ سے دیوار پر تیمم کرنا ثابت ہے، لیکن شافعی اور احمد اور ابو داود کے یہاں زمین سے مٹی مراد ہے، اور مالک، ابو حنیفہ، عطاء، اوزاعی اور ثوری کا قول ہے کہ تیمم زمین پر اور زمین کی ہر چیز پر درست ہے، مگر امام مسلم کی ایک روایت میں تربت کا لفظ ہے، اور ابن خزیمہ کی روایت میں تراب کا، اور امام احمد اور بیہقی نے باسناد حسن علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے: ’’و جعل التراب لي طهوراً‘‘ یعنی مٹی میرے لئے پاک کرنے والی کی گئی، اس سے ان لوگوں کی تائید ہوئی ہے، جو تیمم کو مٹی سے خاص کرتے ہیں، اور زمین کے باقی اجزاء سے تیمم کو جائز نہیں کہتے ، اور قرآن میں جو صعید کا لفظ ہے اس سے بھی بعضوں نے مٹی مراد لی ہے، اور لغت والوں کا اس میں اختلاف ہے، بعضوں نے کہا: صعید روئے زمین کو کہتے ہیں، پس وہ زمین کے سارے اجزاء کو عام ہو گا، ایسی حالت میں احتیاط یہ ہے کہ تیمم پاک مٹی ہی سے کیا جائے، تاکہ سب لوگوں کے نزدیک درست ہو، واللہ اعلم۔

568- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْ أَسْمَائَ قِلادَةً، فَهَلَكَتْ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ ﷺ أُنَاسًا فِي طَلَبِهَا، فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلاةُ، فَصَلَّوْا بِغَيْرِ وُضُوءٍ، فَلَمَّا أَتَوُا النَّبِيَّ ﷺ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ التَّيَمُّمِ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ قَطُّ إِلا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مَخْرَجًا، وَجَعَلَ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ بَرَكَةً۔
* تخريج: خ/التیمم ۲ (۳۳۶)، فضائل الصحابۃ ۳۰ (۳۷۷۳)، النکاح ۶۶ (۵۱۶۴)، م/التیمم ۲۸ (۳۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۸۰۲)، وقد أخرجہ: د/الطہا رۃ ۱۲۳ (۳۱۷)، ن/الطہارۃ ۱۹۷(۳۱۵)، ط/الطہارۃ ۲۳ (۸۹)، حم (۶ /۵۷)، دي /الطہارۃ ۶۵ (۷۷۱) (صحیح)

۵۶۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار عاریۃً لیا، اور وہ کھو گیا، نبی اکرم ﷺ نے اسے ڈھونڈنے کے لئے کچھ لوگوں کو بھیجا، اتنے میں صلاۃ کا وقت ہو گیا، لوگوں نے بغیر وضو کے صلاۃ پڑھی، جب لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس آئے تو آپ سے اس کی شکایت کی، تو اس وقت تیمم کی آیت نازل ہوئی، اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر دے، اللہ کی قسم! جب بھی آپ کو کوئی مشکل پیش آئی، اللہ تعالی نے آپ کے لئے اس سے نجات کا راستہ پیدا فرما دیا، اور مسلمانوں کے لئے اس میں برکت رکھ دی۱؎ ۔
وضاحت۱؎: جیسے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام تراشی اور بہتان کا نازیبا واقعہ پیش آیا تھا تو اس میں بھی اللہ تعالی نے آپ کی عفت و پاکدامنی ظاہر کر دی، اور مومنات کے لئے احکام معلوم ہوئے، اسید رضی اللہ عنہ کا مقصد کلام یہ تھا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر اللہ تعالی کی عنایت ہمیشہ ہی رہی ہے، اور ہر تکلیف و آزمائش میں ایک برکت پیدا ہوتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
91- بَاب فِي التَّيَمُّمِ ضَرْبَةً وَاحِدَةً
۹۱- باب: تیمم میں زمین پر ضرب (ہاتھ مارنا) ایک بار ہی ہے​

569- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: إِنِّي أَجْنَبْتُ فَلَمْ أَجِدِ الْمَائَ، فَقَالَ عُمَرُ:لا تُصَلِّ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: أَمَا تَذْكُرُ، يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! إِذْ أَنَا وَأَنْتَ فِي سَرِيَّةٍ، فَأَجْنَبْنَا فَلَمْ نَجِدِ الْمَائَ، فَأَمَّا أَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ، وَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّكْتُ فِي التُّرَابِ فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: <إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ> وَضَرَبَ النَّبِيُّ ﷺ بِيَدَيْهِ إِلَى الأَرْضِ، ثُمَّ نَفَخَ فِيهِمَا، وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَكَفَّيْهِ۔
* تخريج: خ/التیمم ۴ (۳۳۸)، ۵ (۳۳۹)، م/الحیض ۲۸ (۳۶۸)، د/الطہارۃ ۱۲۳ (۳۲۲، ۳۲۳)، ت/الطہارۃ ۱۱۰ (۱۴۴)، ن/الطہارۃ ۱۹۶(۳۱۳)، ۱۹۹ (۳۱۷)، ۲۰۰ (۳۱۸)، ۲۰۱ (۳۱۹)، ۲۰۲ (۳۲۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۶۳، ۲۶۵، ۳۱۹، ۳۲۰، دي/الطہارۃ ۶۶ (۷۷۲) (صحیح)

۵۶۹- عبد الرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہا کہ میں جنبی ہو گیا اور پانی نہیں پایا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: صلاۃ نہ پڑھو، اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے کہا: امیرالمومنین! کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب میں اور آپ ایک لشکر میں تھے، ہم جنبی ہو گئے، اور ہمیں پانی نہ مل سکا تو آپ رضی اللہ عنہ نے صلاۃ نہیں پڑھی، اور میں مٹی میں لوٹا، اور صلاۃ پڑھ لی، جب میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: ''تمہارے لئے بس اتنا کافی تھا''، اور نبی اکرم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے، پھر ان دونوں میں پھونک ماری، اور اپنے چہرے اور دونوں پہنچوں پر اسے مل لیا۱؎ ۔
وضاحت۱؎: تیمم یہی ہے کہ زمین پر ایک بار ہاتھ مار کر منہ اور دونوں پہنچوں پر مسح کرے، اور جنابت سے پاکی کا طریقہ حدث کے تیمم کی طرح ہے، اور عمر رضی اللہ عنہ کو باوصف اتنے علم کے اس مسئلہ کی خبر نہ تھی، اسی طرح عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو، یہ دونوں جلیل القدر صحابہ جنبی کے لئے تیمم جائز نہیں سمجھتے تھے، اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ کبھی بڑے عالم دین پر معمولی مسائل پوشیدہ رہ جاتے ہیں، ان دونوں کے تبحر علمی اور جلالت شان میں کسی کو کلام نہیں ہے، لیکن حدیث اور قرآن کے خلاف ان کا قول بھی ناقابل قبول ہے، پھر کتاب و سنت کے دلائل کے سامنے دوسرے علماء کے اقوال کی کیا حیثیت ہے، اس قصہ سے معلوم ہوا کہ ہمیں صرف رسول اکرم ﷺ کے اسوہ سے مطلب ہے۔

570- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ؛ أَنَّهُمَا سَأَلا عَبْدَاللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى عَنِ التَّيَمُّمِ؟ فَقَالَ: أَمَرَ النَّبِيّ ﷺ عَمَّارًا أَنْ يَفْعَلَ هَكَذَا، وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى الأَرْضِ ثُمَّ نَفَضَهُمَا، وَمَسَحَ عَلَى وَجْهِهِ، قَالَ الْحَكَمُ: وَيَدَيْهِ، وَقَالَ سَلَمَةُ: وَمِرْفَقَيْهِ ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۶۰ ، ومصباح الزجاجۃ: ۲۳۰) (صحیح)
(سند میں محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ ضعیف الحفظ ہیں، اصل حدیث شواہد و طرق سے ثابت ہے لیکن ''مرفقیہ'' کا لفظ منکر ہے
۵۷۰- حکم اور سلمہ بن کہیل نے عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے تیمم کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ نے عمار رضی اللہ عنہ کو اس طرح کرنے کا حکم دیا، پھر عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے، اور انہیں جھاڑ کر اپنے چہرے پر مل لیا۔
حکم کی روایت میں ''يديه '' اور سلمہ کی روایت میں ''مرفقيه'' کا لفظ ہے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: ''يديه '' یعنی دونوں ہاتھوں پر مل لیا، اور سلمہ بن کہیل کی روایت میں ''مرفقيه '' یعنی کہنیوں تک مل لیا کا لفظ ہے، جو منکر اور ضعیف ہے، جیسا کہ تخریج سے پتہ چلا ''مرفقيه '' کا لفظ منکر ہے، لہذا اس سے استدلال درست نہیں، اور یہ کہنا بھی صحیح نہیں کہ کہنیوں تک مسح کرنے میں احتیاط ہے بلکہ احتیاط اسی میں ہے جو صحیح حدیث میں آیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
92- بَاب فِي التَّيَمُّمِ ضَرْبَتَيْنِ
۹۲- باب: تیمم میں زمین پر ضرب (ہاتھ مارنا) دو بار ہے​

571- حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ حِينَ تَيَمَّمُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَأَمَرَ الْمُسْلِمِينَ فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ التُّرَابَ وَلَمْ يَقْبِضُوا مِنَ التُّرَابِ شَيْئًا فَمَسَحُوا بِوُجُوهِهِمْ مَسْحَةً وَاحِدَةً، ثُمَّ عَادُوا فَضَرَبُوا بِأَكُفِّهِمُ الصَّعِيدَ مَرَّةً أُخْرَى فَمَسَحُوا بِأَيْدِيهِمْ۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۱۲۳ ( ۳۱۸، ۳۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۶۳)، وقد أخرجہ: ن/الطہارۃ ۱۹۶ (۳۱۳)، حم (۴/۳۲۰، ۳۲۱) (صحیح)

۵۷۱- عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تیمم کیا، تو آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا، تو انہوں نے اپنی ہتھیلیاں مٹی پر ماریں اور ہاتھ میں کچھ بھی مٹی نہ لی، پھر اپنے چہروں پر ایک بار مل لیا، پھر دوبارہ اپنی ہتھیلیوں کو مٹی پر مارا، اور اپنے ہاتھوں پر مل لیا۱؎ ۔
وضاحت۱؎: بعض علماء نے اس حدیث سے دلیل لی ہے، اور تیمم میں دو بار ہتھیلی کو مٹی پر مار کر چہرے اور ہاتھوں پر ملنے کی بات کہی ہے، لیکن صحیحین میں اس کے خلاف مروی ہے ، اور ایک ہی بار منقول ہے، اور امام احمد نے باسناد صحیح عمار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ''تیمم ایک بار ہے چہرہ کے لئے اور دونوں ہتھیلیوں کے لئے''۔ اور شاید صحابہ کرام نے پہلی بار میں ہاتھ میں مٹی نہ لگنے کی وجہ سے دوبارہ مٹی پر ہاتھ مارا، ورنہ عمار بن یاسر کی ایک ضربہ والی واضح حدیث کی بنا پر جمہور علماء اور عام اہل حدیث کا مذہب ایک ضربہ ہی ہے، جیسا کہ اوپرکی حدیث میں گزرا۔ (نیز ملاحظہ ہو: نیل الأوطار۱/۳۳۲)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
93- بَاب فِي الْمَجْرُوحِ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ فَيَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ إِنِ اغْتَسَلَ
۹۳- باب: غسل جنابت سے زخمی کو موت کا ڈر ہو تو کیا کرے؟​

572- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي الْعِشْرِينِ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يُخْبِرُ أَنَّ رَجُلا أَصَابَهُ جُرْحٌ فِي رَأْسِهِ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ثُمَّ أَصَابَهُ احْتِلامٌ، فَأُمِرَ بِالاغْتِسَالِ، فَاغْتَسَلَ، فَكُزَّ، فَمَاتَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: < قَتَلُوهُ، قَتَلَهُمُ اللَّهُ، أَوَلَمْ يَكُنْ شِفَاءَ الْعِيِّ السُّؤَالُ >.
قَالَ عَطَائٌ : وَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لَوْ غَسَلَ جَسَدَهُ وَتَرَكَ رَأْسَهُ، حَيْثُ أَصَابَهُ الْجِرَاحُ > ۱؎ ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۹۰۴، ومصباح الزجاجۃ: ۲۳۱)، وقد أخرجہ: د/الطہارۃ ۱۲۷ (۳۳۷)، دي /الطہارۃ ۷۰ (۷۷۹) (حسن)
(عطاء کا قول: ''وَبَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ...'' ضعیف ہے کیونکہ انہوں نے واسطہ نہیں ذکر کیا ہے، ملاحظہ ہو:صحیح أبی داود : ۳۶۴)
۵۷۲- عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ بتا رہے تھے کہ رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں ایک شخص کے سر میں زخم ہو گیا، پھر اسے احتلام ہوا، تو لوگوں نے اسے غسل کا حکم دیا، اس نے غسل کر لیا جس سے اسے ٹھنڈ کی بیماری ہو گئی، اور وہ مر گیا، یہ خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا: ''ان لوگوں نے اُسے مار ڈالا، اللہ انہیں ہلاک کرے، کیا عاجزی (لاعلمی کا علاج) پوچھ لینا نہ تھا''۔
عطاء نے کہا کہ ہمیں یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ''کاش وہ اپنا جسم دھو لیتا اور اپنے سر کا زخم والا حصہ چھوڑ دیتا''۔

وضاحت۱؎: مصباح الزجاجۃ (ط۔ مصریہ) میں آخر متن میں ''لأجزه'' ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
94- بَاب مَا جَاءَ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ
۹۴- باب: غسل جنابت کا طریقہ​

573- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ قَالَتْ: وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ ﷺ غُسْلا، فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَأَكْفَأَ الإِنَاءَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاثًا، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى فَرْجِهِ، ثُمَّ دَلَكَ يَدَهُ بِالأَرْضِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلاثًا، ثُمَّ أَفَاضَ الْمَاءَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ۔
* تخريج:خ/الغسل ۱ (۲۴۹)، ۵ (۲۵۷)، ۷ (۲۵۹)، ۸ (۲۶۰)، ۱۰ (۲۶۵)، ۱۱ (۲۶۶)، ۱۶ (۲۷۴)، ۱۸ (۲۷۶)، ۲۱ (۲۸۱)، م/الحیض ۹ (۳۱۷)، د/الطہارۃ ۹۸ (۲۴۵)، ت/الطہارۃ ۷۶ (۱۰۳)، ن/الطہارۃ ۱۶۱ (۲۵۴)، الغسل ۱۴ (۴۰۸)، ۱۵ (۴۱۸، ۴۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۶۴)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۳۰، ۳۳۵، ۳۳۶)، دي/الطہارۃ ۴۰ (۷۳۹)، ۶۷ (۷۷۴) (صحیح)

۵۷۳- ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے لئے غسل کا پانی رکھا، آپ نے غسل جنابت کیا اور برتن کو اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ پر اُنڈیلا، اور دونوں ہتھیلی کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنی شرم گاہ پہ پانی بہایا، پھر اپنا ہاتھ زمین پر رگڑا، پھر کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، اور اپنا چہرہ اور بازو تین تین باردھویا، پھر پورے جسم پر پانی بہایا، پھر غسل کی جگہ سے ہٹ کر اپنے پاؤں دھوئے۔
وضاحت۱؎: یہ غسل کا مسنون طریقہ ہے، اور اس کی روشنی میں ضروری ہے کہ سارے بدن پر پانی پہنچائے، یا پانی میں ڈوب جائے، کلی کرنی اور ناک میں پانی ڈالنا بھی ضروری ہے، اور جس قدر ممکن ہو بدن کا ملنا بھی ضروری ہے، باقی امور آداب اور سنن سے متعلق ہیں۔

574- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ سَعِيدٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا جُمَيْعُ بْنُ عُمَيْرٍ التَّيْمِيُّ قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ عَمَّتِي وَخَالَتِي، فَدَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلْنَاهَا: كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عِنْدَ غُسْلِهِ مِنَ الْجَنَابَةِ، قَالَتْ: كَانَ يُفِيضُ عَلَى كَفَّيْهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يُدْخِلُهَا فِي الإِنَاءِ، ثُمَّ يَغْسِلُ رَأْسَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى جَسَدِهِ، ثُمَّ يَقُومُ إِلَى الصَّلاةِ، وَأَمَّا نَحْنُ فَإِنَّا نَغْسِلُ رُؤْسَنَا خَمْسَ مَرَّاتٍ، مِنْ أَجْلِ الضَّفْرِ۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۹۸ (۲۴۱)، (تحفۃالأشراف: ۱۶۰۵۳)، وقد أخرجہ: ط/الطہارۃ ۱۷ (۶۷)، حم (۶/۲۷۳)، دي/الطہارۃ ۶۷ (۷۷۵) (ضعیف جدا)
(سند میں جمیع بن عمیر رافضی اور واضع حدیث ہے، نیز صدقہ بن سعید کے یہاں عجائب و غرائب ہیں)
۵۷۴- جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ میں اپنی پھوپھی اور خالہ کے ساتھ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، ہم نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ غسل جنابت کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ پر تین مرتبہ پانی ڈالتے، پھر انہیں برتن میں داخل کرتے، پھر اپنا سر تین مرتبہ دھوتے، پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہاتے، پھر صلاۃ کے لئے کھڑے ہوتے، لیکن ہم عورتیں تو اپنے سر کو چوٹیوں کی وجہ سے پانچ بار دھوتی تھیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
95- بَاب فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ
۹۵- باب: غسل جنابت میں سر کیسے دھلے؟​

575- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ صُرَدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: تَمَارَوْا فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَمَّا أَنَا فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلاثَ أَكُفٍّ >۔
* تخريج: خ/الغسل ۴ (۲۵۴)، م/الحیض ۱۱ (۳۲۷)، د/الطہارۃ ۹۸ (۲۳۹)، ن/الطہارۃ ۲۵۱ (۲۵۰)، الغسل ۲۰ (۴۲۵)، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۸۶) (صحیح)

۵۷۵- جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ ﷺ کے پاس غسل جنابت کے بارے میں بحث و مباحثہ کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''میں تو اپنے سر پہ تین چلو پانی ڈالتا ہوں'' ۔

576- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، (ح) وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ.،حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، جَمِيعًا عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلا سَأَلَهُ عَنِ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَ: ثَلاثًا، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنْ شَعْرِي كَثِيرٌ، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ ﷺ كَانَ أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ۔
* تخريج: (تفرد بہ ابن ماجہ) (صحیح)
(اس سند میں عطیہ ضعیف راوی ہیں، لیکن ابو ہریرہ کی اگلی حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے ، یہ حدیث تحفۃ الاشراف میں ''فضيل بن مرزوق عن عطية عن أبي سعيد'' کے زیر عنوان موجود نہیں ہے، اور نہ ہی ابن حجر نے ''النكت الظراف'' میں اس پر کوئی استدراک کیا ہے، اور نہ ہی یہ مصباح الزجاجۃ میں موجود ہے لیکن ''غاية المقصد في زوائد المسند (ق 37)'' میں موجود ہے، ان شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ابن ماجہ کے قدیم نسخوں میں یہ حدیث موجود نہیں ہے)۔
۵۷۶- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ان سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: تین بار (سارے جسم پر پانی بہائیں) تو وہ کہنے لگا: میرے بال زیادہ ہیں، اس پر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ تم سے زیادہ بال والے تھے، اور تم سے زیادہ پاک و صاف رہتے تھے۔

577- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عنْ جَابِرٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَا فِي أَرْضٍ بَارِدَةٍ، فَكَيْفَ الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ ﷺ: < أَمَّا أَنَا فَأَحْثُو عَلَى رَأْسِي ثَلاثًا >۔
* تخريج: م/الحیض ۱۱ (۳۲۹)، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۰۳)، وقد أخرجہ: خ/الغسل ۳ (۲۵۲)، حم (۳/ ۳۱۹، ۳۴۸، ۳۷۹) (صحیح)

۵۷۷- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں ٹھنڈی کے علاقہ میں رہتا ہوں، غسل جنابت کیسے کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''رہا میں تو اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالتا ہوں''۔

578- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بِنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ سَأَلَهُ رَجُلٌ: كَمْ أُفِيضُ عَلَى رَأْسِي وَأَنَا جُنُبٌ؟ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَحْثُو عَلَى رَأْسِهِ ثَلاثَ حَثَيَاتٍ، قَالَ الرَّجُلُ: إِنَّ شَعْرِي طَوِيلٌ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۰۶۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۵۱) (حسن صحیح)

۵۷۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی شخص نے ان سے پوچھا: جب میں غسل جنابت کروں تو اپنے سر پر کتنا پانی ڈالوں؟ کہا: رسول اللہ ﷺ اپنے سر پر تین پانی چلو ڈالتے تھے، اس پر اس شخص نے کہا: میرے بال لمبے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ رسول ﷺ تم سے زیادہ بال والے، اور زیادہ پاک وصاف رہنے والے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث میں واضح طور پر یہ بات موجود ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو سر پر ڈالنے کے لیے تین لپ پانی کافی ہوتا تھا، حقیقت یہ ہے کہ تین لپ میں سارا سر بخوبی تر ہو جاتا ہے، اور وہ غسل میں کافی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
96- بَاب فِي الْوُضُوئِ بَعْدَ الْغُسْلِ
۹۶- باب: کیا غسل جنابت کے بعد وضو کی ضرورت ہے؟

579- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لا يَتَوَضَّأُ بَعْدَ الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ۔
* تخريج: ت/الطہارۃ ۷۹ (۱۰۷)، ن/الطہارۃ ۱۶۰ (۲۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۱۹، ۱۶۰۲۵)، وقد أخرجہ: د/الطہارۃ ۹۹(۲۵۰)، حم (۶/۶۸، ۱۱۹،۱۵۴، ۱۹۲، ۲۵۳، ۲۵۸) (صحیح)

۵۷۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غسل جنابت کے بعد وضو نہیں کرتے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسو ل اکرم ﷺ غسل جنابت سے پہلے وضو کر لیتے تھے، پھر غسل کے بعد آپ نیا وضو نہ فرماتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
97- بَاب فِي الْجُنُبِ يَسْتَدْفِئُ بِامْرَأَتِهِ قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ
۹۷- باب: غسل جنابت کے بعد شوہر اپنی جنبی بیوی کے بدن کی گرمی حاصل کر سکتا ہے​

580- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ حُرَيْثٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ ثُمَّ يَسْتَدْفِئُ بِي قَبْلَ أَنْ أَغْتَسِلَ ۔
* تخريج: ت/الطہارۃ ۹۱ (۱۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۲۰) (ضعیف)
(اس حدیث کی سند میں راوی ''حریث'' ضعیف ہیں)
۵۸۰- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ غسل جنابت فرماتے، پھر میرے غسل کرنے سے پہلے مجھ سے گرمی حاصل کرتے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ جنابت حکمی نجاست ہے، اور اگر اس پر اور کوئی نجاست نہ لگی ہو تو جنبی کا بدن پاک ہے۔
 
Top