- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
98- بَاب فِي الْجُنُبِ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لا يَمَسُّ مَاءً
۹۸- باب: غسل کیے بغیر جنبی کے سوئے رہنے کا حکم
۹۸- باب: غسل کیے بغیر جنبی کے سوئے رہنے کا حکم
581- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُجْنِبُ ثُمَّ يَنَامُ وَلا يَمَسُّ مَاءً، حَتَّى يَقُومَ بَعْدَ ذَلِكَ فَيَغْتَسِلَ۔
* تخريج: ت/الطہارۃ ۸۷ (۱۱۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۲۴)، وقد أخرجہ: د/الطہارۃ ۹۰ (۲۲۸)، حم (۶/۴۳) (صحیح) (اس سند میں ابو اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)
۵۸۱- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جنبی ہوتے، اور پانی چھوے بغیر سو جاتے، پھر اس کے بعد اٹھتے اور غسل فرماتے۔
582- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ،عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ إِنْ كَانَتْ لَهُ إِلَى أَهْلِهِ حَاجَةٌ قَضَاهَا، ثُمَّ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لايَمَسُّ مَاءً۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۳۸) (صحیح)
۵۸۲- ام المو منین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو اگر اپنی بیوی سے کوئی حاجت ہوتی تو اسے پوری فرماتے، پھر پانی چھوئے بغیر اسی حالت میں سو جاتے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: جنبی اگر بغیر غسل کے سونے کا ارادہ کرے تو مستحب یہ ہے کہ وہ وضو کر لے، اور اگر نہ کرے تو بھی جائز ہے جیسا کہ اس حدیث اور اس سے پہلے کی حدیث میں مذکور ہے۔
583- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ،عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُجْنِبُ ثُمَّ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لا يَمَسُّ مَاءً.
قَالَ سُفْيَانُ: فَذَكَرْتُ الْحَدِيثَ يَوْمًا، فَقَالَ لِي إِسْمَاعِيلُ: يَا فَتَى! يُشَدُّ هَذَا الْحَدِيثُ بِشَيْئٍ.
* تخريج: د/الطہارۃ ۹۰ (۲۲۸)، ت/الطہارۃ ۸۷ (۱۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۲۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/ ۱۰۶) (صحیح)
۵۸۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جنبی ہوتے ، پھر پانی چھوئے بغیر اُسی حالت میں سو جاتے۔
سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز یہ حدیث بیان کی تو مجھ سے اسماعیل نے کہا: اے نوجوان! اس حدیث کو کسی دوسری حدیث سے تقویت دی جانی چاہئے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: کیوں کہ اس کے راوی ابو اسحاق ہیں، گرچہ وہ ثقہ ہیں، لیکن اخیر عمر میں ان کا حافظہ بگڑ گیا تھا، پس حدیث میں غلطی کا شبہ ہوتا ہے، خصوصاً جب اس کے خلاف دوسری صحیح روایتیں وارد ہوں جو آگے مذکور ہوں گی۔