• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
98- بَاب فِي الْجُنُبِ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لا يَمَسُّ مَاءً
۹۸- باب: غسل کیے بغیر جنبی کے سوئے رہنے کا حکم​

581- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُجْنِبُ ثُمَّ يَنَامُ وَلا يَمَسُّ مَاءً، حَتَّى يَقُومَ بَعْدَ ذَلِكَ فَيَغْتَسِلَ۔
* تخريج: ت/الطہارۃ ۸۷ (۱۱۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۲۴)، وقد أخرجہ: د/الطہارۃ ۹۰ (۲۲۸)، حم (۶/۴۳) (صحیح)
(اس سند میں ابو اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)
۵۸۱- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جنبی ہوتے، اور پانی چھوے بغیر سو جاتے، پھر اس کے بعد اٹھتے اور غسل فرماتے۔

582- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ،عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ إِنْ كَانَتْ لَهُ إِلَى أَهْلِهِ حَاجَةٌ قَضَاهَا، ثُمَّ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لايَمَسُّ مَاءً۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۳۸) (صحیح)

۵۸۲- ام المو منین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو اگر اپنی بیوی سے کوئی حاجت ہوتی تو اسے پوری فرماتے، پھر پانی چھوئے بغیر اسی حالت میں سو جاتے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: جنبی اگر بغیر غسل کے سونے کا ارادہ کرے تو مستحب یہ ہے کہ وہ وضو کر لے، اور اگر نہ کرے تو بھی جائز ہے جیسا کہ اس حدیث اور اس سے پہلے کی حدیث میں مذکور ہے۔

583- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ،عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُجْنِبُ ثُمَّ يَنَامُ كَهَيْئَتِهِ لا يَمَسُّ مَاءً.
قَالَ سُفْيَانُ: فَذَكَرْتُ الْحَدِيثَ يَوْمًا، فَقَالَ لِي إِسْمَاعِيلُ: يَا فَتَى! يُشَدُّ هَذَا الْحَدِيثُ بِشَيْئٍ.
* تخريج: د/الطہارۃ ۹۰ (۲۲۸)، ت/الطہارۃ ۸۷ (۱۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۲۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/ ۱۰۶) (صحیح)

۵۸۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جنبی ہوتے ، پھر پانی چھوئے بغیر اُسی حالت میں سو جاتے۔
سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز یہ حدیث بیان کی تو مجھ سے اسماعیل نے کہا: اے نوجوان! اس حدیث کو کسی دوسری حدیث سے تقویت دی جانی چاہئے۱؎ ۔

وضاحت۱؎: کیوں کہ اس کے راوی ابو اسحاق ہیں، گرچہ وہ ثقہ ہیں، لیکن اخیر عمر میں ان کا حافظہ بگڑ گیا تھا، پس حدیث میں غلطی کا شبہ ہوتا ہے، خصوصاً جب اس کے خلاف دوسری صحیح روایتیں وارد ہوں جو آگے مذکور ہوں گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
99- بَاب مَنْ قَالَ: لا يَنَامُ الْجُنُبُ حَتَّى يَتَوَضَّأَ وُضُوئَهُ لِلصَّلاةِ
۹۹- باب: جنبی کے صلاۃ جیسا وضو کئے بغیر نہ سونے کا بیان​

584- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ، وَهُوَ جُنُبٌ، تَوَضَّأَ وُضُوئَهُ لِلصَّلاةِ۔
* تخريج: م/الحیض ۶ (۳۰۵)، د/الطہارۃ ۸۹ (۲۲۲،۲۲۳)، ن/الطہارۃ ۱۶۴ (۲۵۷)، ۱۶۵ (۲۵۸)، ۱۶۶ (۲۵۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۶۹)، وقد أخرجہ: خ/الغسل ۲۵ (۲۸۶)، حم (۶/۸۵) ، دي/الطہارۃ ۷۳ (۷۸۴) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ۵۹۱،۵۹۳) (صحیح)

۵۸۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ کرتے، اور جنبی ہوتے تو صلاۃ جیسا وضو کرتے۔

585- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ: أَيَرْقُدُ أَحَدُنَا وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَ : < نَعَمْ . إِذَا تَوَضَّأَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۰۱۹)، وقد أخرجہ: خ/الغسل ۲۷ (۲۸۸)، م/الحیض ۶ (۳۰۶)، د/الطہارۃ ۸۸ (۲۲۲)، ت/الطہارۃ ۸۸ (۱۲۰)، ن/الطہارۃ ۱۶۶ (۲۶۰)، ط/الطہارۃ ۱۹ (۷۶)، حم (۲/۱۷)، دي/الطہارۃ ۷۳ (۷۸۳) (صحیح)

۵۸۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم ﷺ سے پوچھا: کیا کوئی شخص حالت جنابت میں سو سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں، جب وضو کر لے''۔

586- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍالْخُدْرِيِّ أَنَّهُ كَانَ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ بِاللَّيْلِ، فَيُرِيدُ أَنْ يَنَامَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ يَنَامَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۰۱، ومصباح الزجاجۃ: ۲۳۲)، حم (۲/۷۵، ۳/۵۵) (صحیح)

۵۸۶- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں رات میں جنابت لاحق ہوتی اور سونا چاہتے تو رسول اللہ ﷺ انہیں حکم دیتے کہ وہ وضو کر کے سوئیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
100- بَاب فِي الْجُنُبِ إِذَا أَرَادَ الْعَوْدَ تَوَضَّأَ
۱۰۰- باب: جنبی اگر دوبارہ ہم بستری کرنا چاہے تو وضو کرے​

587- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ، فَلْيَتَوَضَّأْ >۔
* تخريج: م/الحیض ۶ (۳۰۸)، د/الطہارۃ ۸۶ (۲۲۰)، ت/الطہارۃ ۱۰۷ (۱۴۱)، ن/الطہارۃ ۱۶۹ (۲۶۳)، (تحفۃ الأشراف:۴۲۵۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۷ ، ۲۱، ۲۸) (صحیح)

۵۸۷- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی شخص اپنی بیوی سے جماع کرے پھر دوبارہ ہم بستری کرنا چاہے، تو وضوء کرلے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس میں نفاست، نظافت، صفائی اور لذت سب کچھ ہے، علماء نے کہا ہے کہ جنبی جب کھانے یا پینے یا جماع یا سونے کا ارادہ کرے، تو اپنا عضو تناسل دھو ڈالے، اور صلاۃ کا سا وضو کر لے، اور بعضوں نے کہا کہ جنبی جب کھانے یا پینے کا ارادہ کرے تو صرف ہاتھ دھو لینا کافی ہے، اور وضو سے یہی مراد ہے، اور جمہور کا یہی قول ہے واللہ اعلم۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
101- بَاب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَغْتَسِلُ مِنْ جَمِيعِ نِسَائِهِ غُسْلا وَاحِدًا
۱۰۱- باب: ساری بیویوں سے ہم بستری کے بعد ایک ہی غسل کرے تو کیسا ہے؟​

588- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَأَبُو أَحْمَدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ ۔
* تخريج: ت/الطہارۃ ۱۰۶ (۱۴۰)، ن/الطہارۃ ۱۷۰ (۲۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۳۶)، وقد أخرجہ: خ/الغسل ۱۲ (۲۶۸)، ۱۷ (۲۷۵)، النکاح ۴ (۵۰۶۸)، ۱۰۲ (۵۲۱۵)، م/الحیض ۶ (۳۰۹)، د/الطہارۃ ۸۵ (۲۱۸)، حم (۳/ ۱۶۱، ۱۸۵، ۲۲۵)، دي/الطہارۃ ۷۱ (۷۸۰) (صحیح)
۵۸۸- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنی ساری بیویوں کے پاس ہو آنے کے بعد آخر میں ایک غسل کر لیتے تھے۔

589- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي الأَخْضَرِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ : وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ غُسْلا، فَاغْتَسَلَ مِنْ جَمِيعِ نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۰۴) (صحیح)
(اگلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ''صالح بن أبی الأخضر ضعیف ہیں)
۵۸۹- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے لئے غسل کا پانی رکھا تو آپ نے رات میں اپنی ساری بیویوں سے صحبت کے بعد (ایک ہی) غسل کیا۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یہ باری کے خلاف نہیں ہے کیونکہ باری میں ایک عورت کے پاس رات کو صرف رہنا کافی ہے صحبت کرنا ضروری نہیں، دوسرے یہ کہ جب عورتوں سے صحبت کی تو یہ بھی باری کی طرح ہو گیا، اور بعضوں نے کہا کہ آپ ﷺ پر باری واجب نہ تھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
102- بَاب فِيمَنْ يَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ وَاحِدَةٍ غُسْلا
۱۰۲- باب: ہر بیوی سے ہم بستری کے بعد الگ الگ غسل کابیان​

590- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُالصَّمَدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي رافِعٍ، عَنْ عَمَّتِهِ سَلْمَى، عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ، وَكَانَ يَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلا تَجْعَلُهُ غُسْلا وَاحِدًا؟ فَقَالَ: < هُوَ أَزْكَى وَأَطْيَبُ وَأَطْهَرُ >۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۸۶ (۲۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۳۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۸،۱۰، ۳۹۱) (حسن)
(سند میں سلمی غیر معروف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے)۔
۵۹۰- ابو رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس ہو آئے۱؎، اور ہر ایک کے پاس غسل کرتے رہے، آپ سے پوچھا گیا: اللہ کے رسول! آپ آخر میں ایک ہی غسل کیوں نہیں کر لیتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ''یہ طریقہ زیادہ پاکیزہ عمدہ اور بہترین ہے''۲؎ ۔
وضاحت۱؎: سبحان اللہ ہمارے نبی ﷺ نہایت نفیس مزاج اور صفائی پسند تھے، اور اسی وجہ سے آپ کو خوشبو بہت پسند تھی، اور بدبو سے بڑی نفرت تھی، آپ کو اپنے لباس، گھر، بدن اور ہر چیز کی طہارت اور پاکیزگی کا بڑا خیال رہتا تھا جیسے دوسری حدیثوں سے ثابت ہے، یہاں تک کہ آپ ﷺ ان چیزوں کے کھانے سے بھی پرہیز کرتے تھے جن کی بو ناگوار ہوتی، جیسے: کچے پیاز یا لہسن وغیرہ۔
وضاحت۲؎: ممکن ہے ایسا نبی اکرم ﷺ نے سفر سے آنے پر یا ایک باری پوری ہو جانے، اور دوسری باری کے شروع کرنے سے پہلے کیا ہو، یا تمام بیویوں کی رضا مندی سے ایسا کیا ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
103- بَاب فِي الْجُنُبِ يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ
۱۰۳- باب: جنابت کی حالت میں کھانے پینے کے حکم کا بیان​

591- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، وَغُنْدَرٌ، وَوَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ اٍذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ، وَهُوَ جُنُبٌ، تَوَضَّأَ۔
* تخريج: م/الحیض ۶ (۳۰۵)، د/الطہارۃ ۸۹ (۲۲۴)، ن/الطہارۃ ۱۶۳ (۲۵۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۲۶)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۲۶، ۱۳۴، ۱۹۱، ۱۹۲، ۲۳۵، ۲۶۰، ۲۷۳)، دي/الطہارۃ ۷۳ (۷۸۴) (صحیح)

۵۹۱- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کھانے کا ارادہ کرتے اور جنبی ہوتے، تو وضو کر لیتے۔

592- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ صَبِيْحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ ﷺ عَنِ الْجُنُبِ، هَلْ يَنَامُ أَوْ يَأْكُلُ أَوْ يَشْرَبُ؟ قَالَ : < نَعَمْ، إِذَا تَوَضَّأَ وُضُوئَهُ لِلصَّلاةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۲۲۸۰) (صحیح)
(سند میں شرحبیل ہیں، جن کو آخری عمر میں اختلاط ہو گیا تھا، لیکن سابقہ حدیث ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)
۵۹۲- جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے جنبی کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا وہ (بحالت جنابت) سو سکتا ہے، یا کھا پی سکتا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں، جب وہ صلاۃ جیسا وضو کرلے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
104- بَاب مَنْ قَالَ يُجْزِئُهُ غَسْلُ يَدَيْهِ
۱۰۴- باب: کھانے پینے کے لئے جنبی کا صرف ہاتھ دھو لینا ہی کافی ہے​

593- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْكُلَ، وَهُوَ جُنُبٌ، غَسَلَ يَدَيْهِ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم (۵۸۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۶۹) (صحیح)

۵۹۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب کھانے کا ارادہ کرتے اور آپ جنبی ہوتے، تو اپنے ہاتھ دھو لیتے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یہ حدیث اس سے پہلے والے باب کی حدیث سے بظاہر متعارض ہے، مگر تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ کبھی بیان جواز کے لئے صرف دونوں ہاتھ دھونے پر اکتفا کرتے، اور کبھی مکمل وضو کرتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
105- بَاب مَا جَاءَ فِي قِرَائَةِ الْقُرْآنِ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ
۱۰۵- باب: بے وضو قرآن پڑھنے کے حکم کا بیان​

594- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَأْتِي الْخَلائَ، فَيَقْضِي الْحَاجَةَ، ثُمَّ يَخْرُجُ، فَيَأْكُلُ مَعَنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ وَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ، وَلايَحْجُبُهُ، وَرُبَّمَا قَالَ لا يَحْجُزُهُ عَنِ الْقُرْآنِ شَيْئٌ إِلا الْجَنَابَةُ۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۹۱ (۲۲۹)، ت/الطہارۃ ۱۱۱ (۱۴۶)، ن/الطہارۃ ۱۷۱ (۲۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۸۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۸۴، ۱۲۴) (ضعیف)
(سند میں عبد اللہ بن سلمہ ضعیف ہیں، امام بخاری نے ان کے بارے میں کہا: ''لا يتابع على حديثه'' ان حدیث کی متابعت نہیں ہو گی)
۵۹۴- عبد اللہ بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، تو انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ بیت الخلاء جاتے اور اپنی حاجت پوری فرماتے، پھر واپس آکر ہمارے ساتھ روٹی اور گوشت کھاتے، قرآن پڑھتے، آپ کو قرآن پڑھنے سے جنابت کے سوا کوئی چیز نہ روکتی تھی۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یعنی آپ صرف جنابت کی حالت میں قرآن نہیں پڑھتے تھے۔

595- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ،عَنْ نَافِعٍ،عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ الْجُنُبُ وَلا الْحَائِضُ >۔
* تخريج:ت/الطہارۃ ۹۸ (۱۳۱)، (تحفۃ الأشراف: ۸۴۷۴) (منکر)
(سند میں اسماعیل بن عیاش کی روایت اہل حجاز سے ضعیف ہے، اور موسیٰ بن عقبہ حجازی ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۱۹۲)
۵۹۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جنبی اور حائضہ قرآن نہ پڑھیں''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یعنی نہ کم نہ زیادہ، امام شافعی کا یہی قول ہے، لیکن ذکر و دعا کے مقصد سے بسم اللہ یا الحمد للہ کہنا درست اورجائز ہے، تلاوت کے مقصد سے نہیں اور امام مالک نے حائضہ عورت کے لئے قرآن کی تلاوت کو جائز کہا ہے۔

[ز] 596- قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ حدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <لايَقْرَأُ الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ >۔
* تخريج: انظر ما قبلہ (منکر)
(سابقہ حدیث ملاحظہ ہو)
۵۹۶- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جنبی اور حائضہ کچھ بھی قرآن نہ پڑھیں''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
106- بَاب تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةٌ
۱۰۶- باب: ہر بال کے نیچے جنابت ہے​

597- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ وَجِيهٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ محَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةً، فَاغْسِلُوا الشَّعَرَ، وَأَنْقُوا الْبَشَرَةَ >۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۹۸ (۲۴۸)، ت/الطہا رۃ ۷۸ (۱۰۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۵۰۲) (ضعیف)
(اس حدیث کی سند میں حارث بن وجیہ ضعیف ہیں)
۵۹۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ہر بال کے نیچے جنابت ہے، لہٰذا تم بالوں کو دھویا کرو، اور بدن کی جلد کو صاف کیا کرو''۔

598- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الأَنْصَارِيُّ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: <الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَأَدَائُ الأَمَانَةِ، كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهَما> ۱؎ قُلْتُ: وَمَا أَدَائُ الأَمَانَةِ؟ قَالَ: <غُسْلُ الْجَنَابَةِ، فَإِنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةً >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۶۱، ومصباح الزجاجۃ: ۲۳۳) (ضعیف)
(طلحہ بن نافع کا سماع ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۳۸۰۱، وضعیف ابی داود: ۳۷)
۵۹۸- ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''روزانہ پانچوں صلوات، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک، اور امانت کی ادائیگی ان کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں،'' میں نے پوچھا: امانت کی ادائیگی سے کیا مراد ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''غسل جنابت، کیوں کہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے''۔
وضاحت۱؎: (فواد عبد الباقی کے نسخہ میں ''بينها'' ہے)

599- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < مَنْ تَرَكَ مَوْضِعَ شَعَرَةٍ مِنْ جَسَدِهِ، مِنْ جَنَابَةٍ، لَمْ يَغْسِلْهَا، فُعِلَ بِهِ كَذَا وَكَذَا، مِنَ النَّارِ >،قَالَ عَلِيٌّ: فَمِنْ ثَمَّ عَادَيْتُ شَعَرِي، وَكَانَ يَجُزُّهُ۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۹۸ (۲۴۹)، (تحفۃ الأشراف:۱۰۰۹۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۹۴، ۱۰۱،۱۳۳)، دي/الطہارۃ ۶۹ (۷۷۸) (ضعیف )
(سند میں عطاء بن سائب ضعیف ہیں)
۵۹۹- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جس نے غسل جنابت کے وقت اپنے جسم سے ایک بال کی مقدار بھی چھوڑ دیا اور اسے نہ دھویا، تو اس کے ساتھ آگ سے ایسا اور ایسا کیا جائے گا''۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے میں نے اپنے بالوں سے دشمنی کر لی، وہ اپنے بال خوب کاٹ ڈالتے تھے۱؎ ۔

وضاحت۱؎: کیونکہ جب بال بڑے ہوں تو اکثر احتمال رہ جاتا ہے کہ شاید سارا سر نہ بھیگا ہو، کوئی مقام سوکھا رہ گیا ہو، علی رضی اللہ عنہ بالوں کو کترتے تھے، بال کاٹنا سارے سر کے منڈانے سے افضل ہے، مگر حج میں پورا بال منڈانا افضل ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
107- بَاب مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ
۱۰۷- باب: مرد کی طرح عورت کو خواب میں احتلام ہو تو کیا حکم ہے؟​

600- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا أَمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: جَائَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَسَأَلَتْهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ قَالَ: < نَعَمْ،إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ فَلْتَغْتَسِلْ> فَقُلْتُ: فَضَحْتِ النِّسَاءَ، وَهَلْ تَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ؟ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: <تَرِبَتْ يَمِينُكِ، فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا إِذًا؟ >۔
* تخريج:خ/العلم ۵۰ (۱۳۰)، الغسل ۲۲ (۲۸۲)، الأنبیاء ۱ (۳۳۲۸)، الأدب ۶۸ (۶۰۹۱)، ۷۹ (۶۱۲۱)، م/الحیض ۷ (۳۱۳)، ت/الطہارۃ ۹۰ (۱۲۲)، ن/الطہارۃ ۱۳۱ (۱۹۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۶۴)، وقد أخرجہ: ط/الطہارۃ ۲۱ (۸۵)، حم (۶/ ۲۹۲، ۳۰۲، ۳۰۶) (صحیح)

۶۰۰- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، اور آپ سے پوچھا کہ اگر عورت خواب میں ویسا ہی دیکھے جیسا مرد دیکھتا ہے تو کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں، جب پانی (منی) دیکھے تو غسل کرے''، میں نے ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا: تم نے تو عورتوں کو رسوا کیا یعنی ان کی جگ ہنسائی کا سامان مہیا کرا دیا، کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''تمہارا گھاٹا ہو، اگرایسا نہیں ہوتا تو کس وجہ سے بچہ اس کے مشابہ ہوتا ہے؟''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: تو معلوم ہوا کہ بچہ کی پیدائش میں مرد اور عورت دونوں کا نطفہ شریک ہوتا ہے، اور جب عورت کی منی بھی ثابت ہوئی تو خواب میں اس کی منی کا نکلنا کیا بعید ہے، جیسے مرد کی منی نکلتی ہے۔

601- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَعَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا رَأَتْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَتْ، فَعَلَيْهَا الْغُسْلُ > فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيَكُونُ هَذَا؟ قَالَ: < نَعَمْ مَائُ الرَّجُلِ غَلِيظٌ أَبْيَضُ، وَمَاءُ الْمَرْأَةِ رَقِيقٌ أَصْفَرُ، فَأَيُّهُمَا سَبَقَ أَوْ عَلا، أَشْبَهَهُ الْوَلَدُ >۔
* تخريج: م/الحیض ۷ (۳۱۱)، ن/الطہارۃ ۱۳۱ (۱۹۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۲۱، ۱۹۹، ۲۸۲)، دي/الطہارۃ ۷۶ (۷۹۱) (صحیح)

۶۰۱- انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا کہ عورت اپنے خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے؟! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب وہ ایسا دیکھے اور اسے انزال ہو، تو اس پر غسل ہے''، ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ایسا بھی ہوتا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: ''ہاں، مرد کا پانی سفید اور گاڑھا ہوتا ہے، اور عورت کا پانی زرد اور پتلا ہوتا ہے، ان دونوں میں سے جس کا پانی پہلے ماں کے رحم (بچہ دانی) میں پہنچ جائے یا غالب رہے، بچہ اسی کے ہم شکل ہوتا ہے''۔

602- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ؛ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْمَرْأَةِ تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ؟ فَقَالَ: < لَيْسَ عَلَيْهَا غُسْلٌ حَتَّى تُنْزِلَ، كَمَا أَنَّهُ لَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ غُسْلٌ حَتَّى يُنْزِلَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۲۷، ومصباح الزجاجۃ: ۲۳۴)، وقد أخرجہ: ن/الطہارۃ ۱۳۱ (۱۹۸)، حم (۶/۴۰۹)، دي/الطہارۃ ۷۶ (۷۸۹) (حسن)
(سند میں علی بن زید ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے، الصحیحہ : ۲۱۸۷ )
۶۰۲- خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عورت کے اپنے خواب میں اس چیز کے دیکھنے سے متعلق سوال کیا جو مرد دیکھتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''جب تک انزال نہ ہو اس پر غسل نہیں، جیسے مرد پر بغیر انزال کے غسل نہیں''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یعنی مرد کو اگر صرف خواب دیکھائی دے لیکن منی نہ نکلے تو غسل لازم نہیں ہے، اسی طرح عورت اگر خواب دیکھے اور منی نہ نکلے تو غسل لازم نہیں، اور تری یا پانی سے دوسری حدیث میں منی ہی مراد ہے، اگر منی کے سوا کسی اور چیز کی تری ہے تب غسل لازم نہ ہو گا، اکثر علماء کا یہی قول ہے۔
 
Top