• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
21- بَاب الاعْتِدَالِ فِي السُّجُودِ
۲۱-ب اب: سجدے میں اعتدال اور میانہ روی​

891- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَعْتَدِلْ، وَلا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ الْكَلْبِ>۔
* تخريج: ت/المواقیت ۸۹ (۲۷۵)، (تحفۃ الأشراف: ۲۳۱۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۰۵، ۳۱۵، ۳۸۹) (صحیح)

۸۹۱- جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم میں کوئی شخص سجدہ کرے تو اعتدال سے کرے۱؎، اور اپنے دونوں بازووں کو کتّے کی طرح نہ بچھائے''۔
وضاحت۱؎: سجدہ میں اعتدال یہ ہے کہ دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھے، اور دونوں کہنیاں زمین سے اٹھائے رکھے، اور پیٹ کو ران سے جدا رکھے، حافظ ابن حجر نے کہا: بازوؤں کو بچھانا مکروہ ہے کیونکہ خشوع اور آداب کے خلاف ہے، البتہ اگر کوئی دیر تک سجدے میں رہے تو وہ اپنے گھٹنے پر بازو ٹیک سکتا ہے، کیونکہ حدیث میں ہے کہ صحابی نے نبی اکرم ﷺ سے سجدے کی مشقت کی شکایت کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''گھٹنوں سے مدد لو''۔

892- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ ابْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: <اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ، وَلا يَسْجُدْ أَحَدُكُمْ وَهُوَ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ>۔
* تخريج: ن/الافتتاح ۸۹ (۱۰۲۹)، التطبیق ۵۳ (۱۱۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۷)، وقد أخرجہ: خ/المواقیت ۸ (۵۳۲)، الأذان ۱۴۱ (۸۲۲)، م/الصلاۃ ۴۵ (۴۹۳)، د/الصلاۃ ۱۵۸ (۹۸۷)، ت/المواقیت ۹۰ (۲۷۶)، حم (۳/۱۱۵، ۱۷۷، ۱۷۹، ۱۹۱، ۲۱۴، ۲۷۴، ۲۹۱)، دي/الصلاۃ ۷۵ (۱۳۶۱) (صحیح)

۸۹۲- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''سجدوں میں اعتدال کرو، اورتم میں سے کوئی اپنے بازو کتے کی طرح بچھا کر سجدہ نہ کرے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
22- بَاب الْجُلُوسِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ
۲۲- باب: دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا بیان​

893- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ قَائِمًا، وَإِذَا سَجَدَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، لَمْ يَسْجُدْ حَتَّى يَسْتَوِيَ جَالِسًا، وَكَانَ يَفْتَرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَى۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۴۶ (۴۹۸)، د/الصلاۃ ۱۲۴ (۷۸۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۴۰)، وقد أخرجہ: حم (۶/ ۲۱، ۱۹۴) (صحیح)

۸۹۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے، جب تک کہ سیدھے کھڑے نہ ہو جاتے، اور جب سجدہ کرکے اپنا سراٹھاتے تو اس وقت تک دوسرا سجدہ نہ کرتے جب تک کہ سیدھے بیٹھ نہ جاتے، اور بیٹھنے میں اپنا بایاں پاؤں بچھا دیتے۔

894- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <لا تُقْعِ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ>۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۹۳ (۲۸۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۰۴۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۸۲، ۱۴۶) (ضعیف)
(اس حدیث کی سند میں الحارث روای ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ : ۴۷۸۷)
۸۹۴- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ''تم دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء نہ کرو''۱؎۔
وضاحت۱؎: ''اقعاء'': دونوں پنڈلیاں کھڑی کرکے سرین اور دونوں ہاتھ زمین پر رکھ کر بیٹھنے کو اقعاء کہتے ہیں، اور دونوں قدم کھڑا کر کے اس پر بیٹھنے کو بھی اقعاء کہا جاتا ہے، ممانعت پہلی صورت کی ہے۔

895- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوَابٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ النَّخَعِيُّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى وَأَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيِّ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < يَا عَلِيُّ ! لا تُقْعِ إِقْعَاءَ الْكَلْبِ >۔
* تخريج: حدیث أبياسحاق عن الحارث تقدم فيحدیث (۸۹۴)، وحدیث أبي موسیٰ عن الحارث، قد تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۰۲۸) (حسن)
(شواہد کے بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں أبو مالک ضعیف ہیں)
۸۹۵- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''علی! تم کتے کی طرح اقعاء نہ کرو''۱؎۔
وضاحت۱ ؎: اس طرح صلاۃ میں بیٹھنا ہمیشہ مکروہ ہے، کیونکہ اس میں ستر کھلنے کا ڈر ہوتا ہے، اگر یہ ڈر نہ ہو تو صلاۃ کے باہر مکروہ نہیں ہے۔

896- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ،أَنْبَأَنَا الْعَلائُ أَبُو مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ ﷺ: < إِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَلا تُقْعِ كَمَا يُقْعِي الْكَلْبُ، ضَعْ أَلْيَتَيْكَ بَيْنَ قَدَمَيْكَ، وَأَلْزِقْ ظَاهِرَ قَدَمَيْكَ بِالأَرْضِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۱، ومصباح الزجاجۃ: ۳۲۶) (موضوع)
(علاء بن زید انس رضی اللہ عنہ سے موضوع احادیث روایت کرتا ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۲۶۱۴)
۸۹۶- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب تم سجدہ سے اپنا سر اٹھاؤ تو کتے کی طرح نہ بیٹھو، بلکہ اپنی سرین اپنے دونوں قدموں کے درمیان رکھو، اور اپنے قدموں کے اوپری حصہ کو زمین سے ملا دو''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
23- بَاب مَا يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ
۲۳- باب: دونوں سجدوں کے درمیان کیا پڑھے؟​

897- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا الْعَلائُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، (ح) و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ الأَحْنَفِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: <رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِي>۔
* تخريج:م/الصلاۃ ۲۷ (۷۷۲)، د/الصلاۃ ۱۵۱ (۸۷۴)، ت/الصلاۃ ۷۹ (۲۶۲، ۲۶۳)، ن/الافتتاح ۷۷ (۱۰۰۹)، التطبیق ۷۴ (۱۱۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۵۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۰۰، ۳۸۲، ۳۸۴، ۳۸۹، ۳۹۴، ۳۹۷)، دي/الصلاۃ ۷۶ (۱۳۶۳) (صحیح)

۸۹۷- حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ دونوں سجدوں کے درمیان (جلسہ میں) ''رَبِّ اغْفِرْ لِي، رَبِّ اغْفِرْ لِيْ'' یعنی (اے میرے رب! مجھے بخش دے، اے میرے رب! مجھے بخش دے) پڑھتے تھے۔

898- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلائِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ صَبِيحٍ، عَنْ كَامِلٍ أَبِي الْعَلاءِ قَالَ: سَمِعْتُ حَبِيبَ بْنَ أَبِي ثَابِتٍ يُحَدِّثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فِي صَلاةِ اللَّيْلِ: <رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاجْبُرْنِي وَارْزُقْنِي وَارْفَعْنِي>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۴۷۵، ومصباح الزجاجۃ: ۵۲۷)، وقد أخرجہ: د/الصلاۃ ۱۴۵ (۸۵۰)، ت/الصلاۃ ۹۵ (۲۸۴، ۲۸۵)، حم (۱/۳۱۵، ۳۷۱) (فلم يقولا: ''فِي صَلاةِ اللَّيْلِ'' وقالا: ''اهدني'' بدل ''وارفعني'') (صحیح ابی داود: ۷۹۶) (صحیح)

۸۹۸- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ تہجد کی صلاۃ میں دونوں سجدوں کے درمیان''رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاجْبُرْنِي وَارْزُقْنِي وَارْفَعْنِي'' (اے میرے رب! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، مجھ کو ضائع شدہ چیزوں کا بدلہ دے دے، مجھے رزق دے، اور مجھے بلندی عطا فرما) پڑھتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
24- بَاب مَا جَاءَ فِي التَّشَهُّدِ
۲۴- باب: تشہد کا بیان​

899- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي،حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقِ ابْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، (ح) و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ قُلْنَا: السَّلامُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ، السَّلامُ عَلَى جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَعَلَى فُلانٍ وَفُلانٍ، يَعْنُونَ الْمَلائِكَةَ، فَسَمِعَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: < لا تَقُولُوا: السَّلامُ عَلَى اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلامُ، فَإِذَا جَلَسْتُمْ فَقُولُوا: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، فَإِنَّهُ إِذَا قَالَ ذَلِكَ أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَائِ وَالأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ >.
* تخريج: خ/الأذان ۱۴۸ (۸۳۱)، ۱۵۰ (۸۳۵)، العمل في الصلاۃ ۴ (۲۳۹۷)، الاستئذان ۳ (۶۲۳۰)، ۲۸ (۶۲۶۰)، الدعوات ۱۷ (۶۳۲۸)، التوحید ۵ (۷۱۲۹)، م/الصلاۃ ۱۶ (۴۰۲)، د/الصلاۃ ۱۸۲ (۹۶۸)، ن/التطبیق ۱۰۰ (۱۱۶۳)، السہو ۴۱ (۱۲۷۸)، ۴۳ (۱۲۸۰)، ۵۶ (۱۲۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۴۲، ۹۲۴۵، ۹۲۹۶، ۹۳۱۴)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۱۰۰ (۲۸۹)، النکاح ۱۶ (۱۱۰۵)، حم (۱/۳۷۶، ۳۸۲، ۴۰۸، ۴۱۳، ۴۱۴، ۴۲۲، ۴۲۳، ۴۲۸، ۴۳۱، ۴۳۷، ۴۳۹، ۴۴۰، ۴۵۰، ۴۶۴، ۴۶۹) (صحیح)

۸۹۹- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ صلاۃ پڑھتے تو کہتے: ''السَّلامُ عَلَى اللَّهِ قَبْلَ عِبَادِهِ، السَّلامُ عَلَى جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَعَلَى فُلانٍ وَفُلانٍ'' یعنی (سلام ہو اللہ پر اس کے بندوں سے پہلے، اور سلام ہو جبرئیل و میکائیل اور فلاں فلاں پر)، اور وہ مراد لیتے تھے (فلاں اور فلاں سے) فرشتوں کو، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کہتے سنا تو فرمایا: ''تم (السَّلامُ عَلَى اللَّهِِ) نہ کہو، کیونکہ اللہ ہی سلام ہے، لہٰذا جب تم تشہد کے لئے بیٹھو تو کہو (التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِاللَّهِ الصَّالِحِينَ) یعنی ''عمدہ آداب و تسلیمات اللہ کے لئے ہیں اور صلاۃ اور اچھی باتیں سب اسی کے لئے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام ہو، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر سلام ہو، اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی" جب بندہ یہ کہتا ہے تو یہ دعاء ہر اس نیک بندے کو پہنچ جاتی ہے جو آسمان و زمین میں ہے، (أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ) یعنی: ''میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں''۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی تشہد ہے، اور اسی کو ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور جمہور علماء نے اختیار کیا ہے، اور امام مالک رحمہ اللہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے مروی تشہد اختیار کیا ہے۔

899/أ- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالأَعْمَشِ، وُحُصَيْنٍ، وَأَبِي هَاشِمٍ، وَحَمَّادٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ وَأَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، نَحْوَهُ.
۸۹۹/أ - اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔

899/ب- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، وَمَنْصُورٍ، وَحُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ (ح) قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ وَالأَسْوَدِ وَأَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُعَلِّمُهُمُ التَّشَهُّدَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ۔
۸۹۹/- اس سند سے بھی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ انہیں تشہد سکھاتے تھے، پھر آگے پہلی حدیث کے مانند بیان کیا۔

900- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَطَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، فَكَانَ يَقُولُ: < التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَكَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ >۔
* تخريج: م /الصلاۃ ۱۶ (۴۰۳)، د/الصلاۃ ۱۸۲ (۹۷۴)، ت/الصلاۃ ۱۰۱ (۲۹۰)، ن/التطبیق ۱۰۳ (۱۱۷۵)، السہو ۴۲ (۱۲۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۵۷۵۰، ۵۶۰۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۹۲) (صحیح)

۹۰۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ ہمیں تشہد سکھاتے جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے، آپ کہتے: ''التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِاللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ'' یعنی (بابرکت دعائیں اور پاکیزہ صلاتیں سب اللہ کے لئے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں)۔

901- حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ (ح) و حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِاللَّهِ، عَنْ قَتَادَةَ -وَهَذَا حَدِيثُ عَبْدِالرَّحْمَنِ- عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ خَطَبَنَا وَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا، وَعَلَّمَنَا صَلاتَنَا، فَقَالَ: <إِذَا صَلَّيْتُمْ، فَكَانَ عِنْدَالْقَعْدَةِ، فَلْيَكُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِكُمُ: التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِاللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلااللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، سَبْعُ كَلِمَاتٍ هُنَّ تَحِيَّةُ الصَّلاةِ>.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۸۷ ومصباح الزجاجۃ: ۳۲۸)، وقدأخرجہ: م/الصلاۃ ۱۶ (۴۰۴)، دون قولہ: ''سبع کلمات''، د/الصلاۃ ۱۸۲ (۷۲ ۹، ۹۷۳)، دون طرفہ الآخر، ن/الإمامۃ ۳۸ (۸۳۱)، التطبیق ۲۳ (۱۰۶۵)، حم (۴/۴۰۹)، دي/الصلاۃ ۸۴ (۱۳۷۹) (صحیح)

۹۰۱- ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا، اس میں آپ نے ہمارے لئے طریقے بیان فرمائے، اور ہمیں ہماری صلاۃ سکھائی، آپ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم صلاۃ ادا کرو اور تشہد میں بیٹھو تو بیٹھتے ہی سب سے پہلے یہ پڑھو: ''التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ'' یعنی (آداب بندگیاں، پاکیزہ خیرات، اور صلاۃ اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر، اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں)، یہ سات کلمے صلاۃ کا سلام ہیں''۔

902- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ،(ح) وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالا: حَدَّثَنَا أَيْمَنُ بْنُ نَابِلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ: < بِاسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ، التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِاللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ >۔
* تخريج: ن/التطبیق ۱۰۴ (۱۱۷۶)، السہو ۴۵ (۱۲۸۲)، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۶۵، ومصباح الزجاجۃ: ۳۲۹) (ضعیف)
(سند میں ابو الزبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۳۷۲)
۹۰۲- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد ایسے سکھاتے تھے جس طرح قرآن کی سورت سکھاتے تھے: ''التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ'' یعنی (اللہ کے نام اور اس کی مدد سے، آداب بندگیاں اللہ کے لئے ہیں، اور صلاۃ اور پاکیزہ خیرات اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت، اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر، اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے، اور رسول ہیں، میں اللہ سے جنت کا طلب گار ہوں، اور جہنم سے پناہ چاہتا ہوں)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
25- بَاب الصَّلاةِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ
۲۵- باب: نبی اکرم ﷺ پر درود (صلاۃ) بھیجنے کا بیان​

903- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ (ح) و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَذَا السَّلامُ عَلَيْكَ قَدْ عَرَفْنَاهُ، فَكَيْفَ الصَّلاةُ؟ قَالَ: < قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ >۔
* تخريج:خ/تفسیر الأحزاب ۱۰ (۴۷۹۸)، الدعوات ۳۲ (۶۳۵۸)، ن/السہو ۵۳ (۱۲۹۴)، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۹۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۷) (صحیح)

۹۰۳- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہو گیا، لیکن درود کیسے بھیجیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم کہو: (اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ) یعنی: (اے اللہ! اپنے بندے اور رسول محمد (ﷺ) پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی ہے، اور محمد اور ان کے اہل و عیال پہ برکت اُتار جیسا کہ تو نے ابراہیم پر اُتاری ہے)۱؎۔
وضاحت۱؎: نبی اکرم ﷺ پر صلاۃ (درود) کے حدیث میں کئی الفاظ وارد ہیں جو چاہے پڑھے، اور سب سے صحیح وہ روایت ہے جو صحیحین میں ہے: ''اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ''، پھر اس کے بعد کعب بن عجرہ اور ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہما سے مروی اور اکثر اہل علم کا یہ قول ہے کہ اخیر تشہد میں صلاۃ (درود) پڑھنا مستحب ہے، اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک واجب ہے، اگر وہ نہ پڑھے گا تو صلاۃ صحیح نہیں ہو گی۔

904- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ (ح) و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى قَالَ: لَقِيَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ فَقَالَ: أَلا أُهْدِي لَكَ هَدِيَّةً؟ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقُلْنَا: قَدْ عَرَفْنَا السَّلامَ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ الصَّلاةُ عَلَيْكَ؟ قَالَ: <قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ>۔
* تخريج: خ/أحادیث الأنبیاء ۱۰ (۳۳۷۰)، تفسیر الأحزاب ۱۰ (۴۷۹۷)، الدعوات ۳۲ (۶۳۵۷)، م/الصلاۃ ۱۷ (۴۰۶)، د/الصلاۃ ۱۸۳ (۹۷۶، ۹۷۷)، ت/الصلاۃ ۲۳۴ (۴۸۳)، ن/السہو ۵۱ (۱۲۸۸، ۱۲۸۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۱۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۴۱، ۲۴۴)، دي/ الصلاۃ ۸۵ (۱۳۸۱) (صحیح)

۹۰۴- ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھ سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور کہنے لگے: کیا میں تمہیں ایک ہدیہ نہ دوں؟ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا: آپ پر سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہو گیا، لیکن آپ پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم لوگ کہو: (اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) یعنی (اے اللہ! محمد اور ان کے اہل و عیال پہ رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم پہ رحمتیں نازل فرمائی ہیں، بے شک تو تعریف والا اور بزرگی والاہے، اے اللہ! تو محمد اور آپ کے اہل و عیال پہ برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم پر نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے)''۔

905- حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ طَالُوتَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ عَبْدِالْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أُمِرْنَا بِالصَّلاةِ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَقَالَ: < قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ >۔
* تخريج:خ/أحادیث الأنبیاء ۱۰ (۳۳۶۹)، الدعوات ۳۳ (۶۳۶۰)، م/الصلاۃ ۱۷ (۴۰۷)، د/الصلاۃ (۹۷۹)، ۱۸۳ (۱۲۹۳)، ن/السہو ۵۴ (۱۲۹۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۹۶)، وقد أخرجہ: ط/ قصرالصلاۃ ۲۲ (۶۶)، حم (۵/۴۲۴) (صحیح)

۹۰۵- ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے تو ہم آپ پہ درود کیسے بھیجیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''کہو: (اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) یعنی: (اے اللہ! محمد اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم پہ نازل فرمائی ہے اور محمد اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر برکت نازل فرما جیسا کہ تونے ابراہیم کی آل پر سارے جہاں میں برکت نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف اور بزرگی والا ہے)'' ۔

906- حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ بَيَانٍ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِذَا صَلَّيْتُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَأَحْسِنُوا الصَّلاةَ عَلَيْهِ، فَإِنَّكُمْ لا تَدْرُونَ لَعَلَّ ذَلِكَ يُعْرَضُ عَلَيْهِ، قَالَ فَقَالُوا لَهُ: فَعَلِّمْنَا، قَالَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلاتَكَ وَرَحْمَتَكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ وَإِمَامِ الْمُتَّقِينَ وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ، مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، إِمَامِ الْخَيْرِ، وَقَائِدِ الْخَيْرِ، وَرَسُولِ الرَّحْمَةِ، اللَّهُمَّ ابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا يَغْبِطُهُ بِهِ الأَوَّلُونَ وَالآخِرُونَ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۶۸ ومصباح الزجاجۃ: ۳۲۹) (ضعیف)
(مسعودی اختلاط کے شکار روای ہیں، اس لئے متروک الحدیث ہیں)
۹۰۶- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب تم رسول اللہ ﷺ پہ درود (صلا ۃ) بھیجو تو اچھی طرح بھیجو، تمہیں معلوم نہیں شاید وہ درود نبی اکرم ﷺ پہ پیش کیا جائے، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے ان سے عرض کیا: پھر تو آپ ہمیں درود سکھا دیجیے، اُنہوں نے کہا: کہو: (اللَّهُمَّ اجْعَلْ صَلاتَكَ وَرَحْمَتَكَ وَبَرَكَاتِكَ عَلَى سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ وَإِمَامِ الْمُتَّقِينَ وَخَاتَمِ النَّبِيِّينَ، مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ، إِمَامِ الْخَيْرِ، وَقَائِدِ الْخَيْرِ، وَرَسُولِ الرَّحْمَةِ، اللَّهُمَّ ابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا يَغْبِطُهُ بِهِ الأَوَّلُونَ وَالآخِرُونَ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ) یعنی (اے اللہ! اپنی عنایتیں، رحمتیں اور برکتیں رسولوں کے سردار، متقیوں کے امام خاتم النبیین محمد (ﷺ) پر نازل فرما، جو کہ تیرے بندے اور رسول ہیں، خیر کے امام و قائد اور رسولِ رحمت ہیں، اے اللہ! ان کو مقامِ محمود پر فائز فرما، جس پہ اولین و آخرین رشک کریں گے، اے اللہ! محمد ﷺ اور آل محمد پہ اپنی رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پہ اپنی رحمت نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف اور بزرگی والاہے، اے اللہ! تو محمد اور آل محمد پہ برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پہ نازل فرمائی ہے، بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے)۱؎۔
وضاحت۱؎: بعضوں نے کہا بہتر درود وہی ہے جو صحیح روایت سے آپ ﷺ سے مروی ہے، اور بعضوں نے کہا جس کے الفاظ زیادہ جامع اور زیادہ عمدہ ہوں، اور یہ جو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ''شاید آپ ﷺ پر تمہارا درود پیش کیا جائے''، حالانکہ دوسری حدیث میں ہے کہ تمہارا درود میرے اوپر پیش کیا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جس درود میں اخلاص اور صدق نہ ہو وہ قبول نہیں ہوتا، اور جب قبول نہ ہو تو پیش بھی نہ کیا جائے گا، بلکہ درود بھیجنے والے پر واپس کیا جائے گا جیسے تحفہ جب قبول نہیں ہوتا تو واپس کر دیا جاتا ہے، شیخ البانی نے ''صفۃ صلاۃ النبی ﷺ'' میں صحیح سندوں سے ثابت درود (صلاۃ) کے سارے صیغوں اور الفاظ کو جمع کر دیا ہے، جس سے مکمل طورپر استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

907- حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ،قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: <مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَلِّي عَلَيَّ إِلا صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلائِكَةُ مَا صَلَّى عَلَيَّ، فَلْيُقِلَّ الْعَبْدُ مِنْ ذَلِكَ أَوْ لِيُكْثِرْ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۳۹، ومصباح الزجاجۃ: ۳۳۰) (حسن)
(سند میں عاصم بن عبید اللہ منکر الحدیث ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجۃ و الترغیب والترھیب للمنذری ۲/۵۰۰)
۹۰۷- عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں، اب بندہ چاہے تو مجھ پہ کم درود بھیجے یا زیادہ بھیجے'' ۔

908- حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ نَسِيَ الصَّلاةَ عَلَيَّ خَطِئَ طَرِيقَ الْجَنَّةِ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۹۱، ومصباح الزجاجۃ: ۳۳۱) (حسن صحیح)
(سند میں جبار بن مغلس ضعیف ہیں، لیکن دوسرے شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو : الصحیحہ: ۲۳۳۷، وفضل الصلاۃ علی النبی ﷺ : ص ۴۶)
۹۰۸- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو مجھ پر درود پڑھنا بھول گیا، وہ جنت کا راستہ چوک گیا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
26- بَاب مَا يُقَالُ بَعْدَ التَّشَهُّدِ وَالصَّلاةِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ
۲۶- باب: تشہد اور نبی اکرم ﷺ پر درود (صلاۃ) کے بعد کیا دعا پڑھے؟​

909- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِذَا فَرَغَ أَحَدُكُمْ مِنَ التَّشَهُّدِ الأَخِيرِ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ>۔
* تخريج: م/المساجد ۲۵ (۵۸۸)، د/الصلاۃ ۱۸۴ (۹۸۳)، ن/السہو ۶۴ (۱۳۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۵۸۷)، وقد أخرجہ: خ/الجنائز ۸۷ (۱۲۷۷)، حم (۲/ ۲۳۷)، دي/الصلاۃ ۸۶ (۱۳۸۳) (صحیح)

۹۰۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی شخص آخری تشہد (تحیات اور درود) سے فارغ ہو جائے تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، موت و حیات کے فتنے سے، اور مسیح دجّال کے فتنے سے''۱؎۔
وضاحت۱؎: زندگی کا فتنہ یہ ہے کہ دنیا میں مشغول ہو کر اللہ سے غافل ہو جائے، یا گناہوں میں مبتلا ہو جائے، اور موت کا فتنہ یہ ہے کہ معاذ اللہ خاتمہ برا ہو، شیطان کے بہکاوے میں آجائے، کلمہ توحید اخیر وقت نہ پڑھ سکے، اور دجال کا فتنہ تو مشہور ہے، اور اس کا ذکر قیامت کی نشانیوں میں آئے گا ان شاء اللہ تعالی، غرض یہ ہے کہ تشہد اور درود کے بعد یہ دعا پڑھے : ''اللَّهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَاْبِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَذَاْبِ القَبْرِ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَحْيَا وَالمَمَاتِ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ المَسِيْحِ الدَّجَّاْلِ''، اور بعض روایتوں میں زیادہ ہے: ''اللَّهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنَ المَأْثَمِ وَالمَغْرَمِ''، اور بعض روایتوں میں یہ دعاء وارد ہے: ''اللَّهُمَّ إِنِّيْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ ظُلْماً كَثِيْراً وَلا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلا أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِيْ مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِيْ إِنَّكَ أَنْتَ الغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ''، اور بعض روایتوں میں یہ دعا وارد ہے: ''اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِيْ مَاْ قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَاْ أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَاْ أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّيْ، أَنْتَ المُقَدِّمُ وَأَنْتَ المُؤَخِّرْ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ''، ان سب دعاؤں میں سے جو دعا چاہے پڑھے، اور جو چاہے دعا کرے اور اللہ سے مانگے، کچھ ممانعت نہیں ہے، ثابت شدہ دعاؤں کو پڑھنا زیادہ اچھا ہے، اور آدمی اپنی زبان میں بھی اللہ سے دعائیں مانگ سکتا ہے، اور اس سے خیر طلب کر سکتا ہے، لیکن پہلے تشہد کی دعائیں پڑھے، پھر جو چاہے مانگے۔

910- حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِرَجُلٍ: < مَا تَقُولُ فِي الصَّلاةِ؟ >، قَالَ: أَتَشَهَّدُ، ثُمَّ أَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ، أَمَا وَاللَّهِ مَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ: <حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۳۶۳، ومصباح الزجاجۃ: ۳۳۲)، وقد أخرجہ: د/الصلاۃ ۱۲۷ (۷۹۲)، حم (۳/۴۷۴، ۵/۷۴) (صحیح)
(حدیث مکرر ہے، ملاحظہ کریں: ۳۸۴۷)
۹۱۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا: ''تم صلاۃ میں کیا کہتے ہو؟''، اس نے کہا: میں تشہد پڑھتا ہوں، پھر اللہ تعالی سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم! میں آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ اچھی طرح نہیں سمجھتا۱؎، آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہم بھی اسی کے گرد گنگناتے ہیں''۲؎۔
وضاحت۱؎: یعنی آپ ﷺ اور معاذ دھیمی آواز میں دعاء مانگا کرتے تھے۔
وضاحت۲؎: یعنی جنت کے سوال اور جہنم سے پناہ مانگنے جیسی دعائیں ہماری بھی ہوتی ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
27- بَاب الإِشَارَةِ فِي التَّشَهُّدِ
۲۷- باب: تشہد کے دوران انگلی سے اشارہ کرنے کا بیان​

911- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عِصَامِ بْنِ قُدَامَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ نُمَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ،عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ وَاضِعًا يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى فِي الصَّلاةِ، وَيُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۱۸۶ (۹۹۱)، ن/السہو۳۶ (۱۲۷۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۱۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۷۱) (صحیح)
(آنے والی حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)
۹۱۱- نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں ران پہ صلاۃ میں رکھے ہوئے تھے، اور اپنی انگلی سے اشارہ کر رہے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے اور اس باب میں وارد دوسری احادیث سے یہی بات ثابت ہو تی ہے کہ شروع ہی سے آپ ﷺ اسی طرح انگلی کے اشارہ کی شکل پر بیٹھتے تھے، نہ یہ کہ جب ''أشهد أن لا إله'' کہتے تھے تو اٹھا لیتے، اور ''إلا الله'' کہتے تو گرا دیتے، جو لوگ ایسا کہتے ہیں ان کے پاس کوئی صحیح دلیل نہیں۔

912- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍقَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ قَدْ حَلَّقَ بِالإِبْهَامِ وَالْوُسْطَى، وَرَفَعَ الَّتِي تَلِيهِمَا، يَدْعُو بِهَا فِي التَّشَهُّدِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۸۶، ومصباح الزجاجۃ: ۳۳۳)، وقد أخرجہ: د/الصلاۃ ۱۱۶ (۷۲۶)، ۱۸۰ (۹۵۷)، ن /الافتتاح ۱۱ (۸۹۰)، السہو ۳۴ (۱۲۶۹)، حم (۴/۳۱۶، ۳۱۸) (صحیح)

۹۱۲- وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے انگوٹھے اور بیچ والی انگلی کا حلقہ بنایا، اور ان دونوں سے متصل (شہادت کی) انگلی کو اٹھایا، اس سے تشہد میں دعا کر رہے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: احادیث میں تشہد کی حالت میں داہنے ہاتھ کے ران پر رکھنے کی مختلف ہیئتوں (کیفیتوں) کا ذکر ہے انہیں میں سے ایک ہیئت یہ بھی ہے کہ خنصر (چھوٹی انگلی) اور بنصر (اس کے بعد کی انگلی) کو بند کرلے اور شہادت کی انگلی کو کھلی چھوڑ دے، اور انگوٹھے اور بیچ والی انگلی سے حلقہ بنا لے، یہ کیفیت زیر نظر وائل بن حجر کی حدیث میں ہے، علامہ طیبی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ فقہاء نے اس حلقے کی کیفیت میں اختلاف کیا ہے، بعضوں نے کہا کہ (۵۳) کی شکل بنائے، وہ یہ ہے کہ خنصر اور بنصر اور وسطیٰ یعنی سب سے چھوٹی اور اس کے بعد والی اور درمیانی انگلی ان تینوں کو بند کرلے، اور شہادت کی انگلی کو چھوڑ دے، اور انگوٹھے کو شہادت کی انگلی کی جڑ سے لگائے، یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انگوٹھے کو بیچ کی انگلی سے ملائے، اور بیچ کی انگلی بھی بند رہے، (۴۳) کی شکل پر، عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ایسا ہی منقول ہے، تیسرا طریقہ یہ ہے کہ خنصر اور بنصر کو بند کرے اور کلمے کی انگلی کو چھوڑ دے اور انگوٹھے اور بیچ کی انگلی سے حلقہ بنا لے، جیسے وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، اور یہ آخری طریقہ مختار ہے۔

913- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا جَلَسَ فِي الصَّلاةِ وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَرَفَعَ إِصْبَعَهُ الْيُمْنَى الَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ، فَيَدْعُو بِهَا، وَالْيُسْرَى عَلَى رُكْبَتِهِ، بَاسِطَهَا عَلَيْهَا۔
* تخريج: م/المساجد ۲۱ (۵۸۰)، ت/الصلاۃ ۱۰۵ (۲۹۴)، ن/السہو ۳۵ (۱۲۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۸)، وقد أخرجہ: ط/الصلاۃ۱۲ (۴۸)، دي/الصلاۃ ۸۳ (۱۳۷۸) (صحیح)

۹۱۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ جب صلاۃ میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، اور دائیں ہاتھ کے انگوٹھے سے متصل انگلی کو اٹھاتے اور اس سے دعا کرتے، اور بائیں ہاتھ کو بائیں گھٹنے پہ پھیلا کر رکھتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
28- بَاب التَّسْلِيمِ
۲۸- باب: سلام پھیرنے کا بیان​

914- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ: <السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۱۸۹ (۹۹۶)، ت/الصلاۃ ۱۰۶ (۲۹۵)، ن/السہو۷۰ (۱۳۲۳، ۱۳۲۴)، (تحفۃ الأشراف: ۹۵۰۴)، وقد أخرجہ: م/المساجد ۲۲ (۵۸۲)، مختصرا، حم (۱/۳۹۰، ۴۰۶، ۴۰۸، ۴۰۹، ۴۱۴، ۴۴۴، ۴۴۸، دي/ الصلاۃ ۸۷ (۱۳۸۵) (صحیح)

۹۱۴- عبد اللہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے، یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دکھائی دینے لگتی، اور آپ کہتے: ''السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ''

915- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ،عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ۔
* تخريج: م/المساجد۲۲ (۵۸۲)، ن/السہو ۶۷ (۱۳۱۷، ۱۳۱۸)، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۶۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۷۲، ۱۸۱)، دي/الصلاۃ ۸۷ (۱۳۸۵) (صحیح)

۹۱۵- سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے تھے۔

916- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ،عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ؛ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ <السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۵۵، ومصباح الزجاجۃ: ۳۳۴) (صحیح)
(یہ سابقہ حدیث سے تقویت پا کر صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، سند کی تحسین بوصیری نے کی ہے)
۹۱۶- عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے تھے، یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دکھائی دیتی، اور کہتے: ''السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِِ''

917- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: صَلَّى بِنَا عَلِيٌّ يَوْمَ الْجَمَلِ صَلاةً ذَكَّرَنَا صَلاةَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَسِينَاهَا -وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ تَرَكْنَاهَا- فَسَلَّمَ عَلَى يَمِينِهِ وَعَلَى شِمَالِهِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۸۲، ومصباح الزجاجۃ: ۳۳۵) (منکر)
(یہ حدیث ابوبکر بن عیاش اور ابو اسحاق کی وجہ سے منکر ہے، لیکن یہ ٹکڑا ''فَسَلَّمَ عَلَى يَمِينِهِ وَعَلَى شِمَالِهِ'' صحیح ہے، کیونکہ اس سے پہلے والی صحیح حدیثوں سے ثابت ہے، صحیح ابن خزیمہ)
۹۱۷- ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں جنگ جمل۱؎ کے دن ایسی صلاۃ پڑھائی کہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کی یاد تازہ ہو گئی، جسے یا تو ہم بھول چکے تھے یا چھوڑ چکے تھے، تو انہوں نے دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرا ۲؎۔
وضاحت۱؎: جمادی الآخرہ ۳۶ھ میں علی رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین کے قصاص کا مطالبہ کرنے والوں کے درمیان یہ جنگ بصرہ میں واقع ہوئی۔
وضاحت۲؎: اہل حدیث کے نزدیک صلاۃ سے باہر آنے کے لئے سلام پھیرنا واجب ہے، اور دوسری حدیث میں ہے کہ صلاۃ کی تحلیل (یعنی اس کے ختم کرنے اور اس سے باہر جانے کا راستہ) سلام ہے، اب صحیح اور مشہور یہی ہے کہ دائیں اور بائیں طرف دو سلام کرے، ابن القیم نے کہا کہ پندرہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے دو سلام نقل کئے ہیں، ان میں سے ابن مسعود، سعد، جابر، ابو موسی، عمار بن یاسر، عبد اللہ بن عمر، براء، وائل، ابو مالک، عدی، طلق، اوس اور ابو رمثہ رضی اللہ عنہم ہیں، ان میں سے بعض روایتیں صحیح ہیں، بعض حسن ہیں، ان کی مخالف پانچ حدیثیں ہیں، جن میں ایک سلام مذکور ہے، اور ان کی صحت میں اختلاف ہے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ''وبرکاتہ'' کا لفظ زیادہ ہے جس کو ابو داود نے وائل بن حجر کی روایت سے نقل کیا ہے، اور امام مالک رحمہ اللہ کا قول یہی ہے کہ ایک ہی سلام کرنا کافی ہے سلام کے سلسلے میں مختلف روایات ثابت ہیں، اس لئے سب صورتیں صحیح ہیں، اور ثابت شدہ تمام احادیث پر عمل کرنا مشروع و مسنون ہے، ہاں جس کیفیت پر رسول اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب زیادہ رہا کرتے تھے اس کو زیادہ کرنا اولیٰ ہے، نیز ان کیفیات کے لئے، (ملاحظہ ہو: صفۃ صلاۃ النبی ﷺ للألبانی، ص۱۸۷، ۱۸۸)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
29- بَاب مَنْ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً
۲۹- باب: ایک سلام پھیرنے کا بیان​

918- حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدِينِيُّ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ سَلَّمَ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً تِلْقَائَ وَجْهِهِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۷۹۸، ومصباح الزجاجۃ: ۳۳۶) (صحیح)
(اس کی سند میں عبد المہیمن ضعیف ہیں، دوسری صحیح سندوں سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجۃ مع تعلیقات الشہری) ۔
۹۱۸- سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے سامنے کی جانب ایک سلام پھیرا۔

919- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ،حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ،حَدَّثَنَا زُهَيْرُ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً تِلْقَائَ وَجْهِهِ۔
* تخريج: ت/المواقیت ۱۰۶ (۲۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۸۹۵)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۳۶) (صحیح)
۹۱۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سامنے کی جانب ایک سلام پھیرتے تھے۔

920- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ؛ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ صَلَّى فَسَلَّمَ مَرَّةً وَاحِدَةً۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۵۳، ومصباح الزجاجۃ: ۳۳۷) (صحیح)
(یہ حدیث پہلی والی حدیث سے تقویت پا کر صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں یحییٰ بن راشد ضعیف ہیں)
۹۲۰- سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے صلاۃ پڑھی تو ایک مرتبہ سلام پھیرا ۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ حدیثیں امام مالک رحمہ اللہ کی دلیل ہیں، لیکن دو سلام کی حدیثیں زیادہ صحیح اور راجح ہیں، اور ان حدیثوں کا یہ مطلب لیا ہے کہ شاید آپ ﷺ نے جہر سے ایک ہی سلام کیا ہو، اور دوسرا سلام دھیرے سے کیا ہو، پس ان لوگوں نے ایک ہی سلام سنا، اور سامنے سلام کرنے کا معنی یہ ہے کہ سلام شروع کرتے تھے اور قبلے کی طرف منہ ہوتا پھر منہ کو دائیں طرف موڑتے، سلام کی مختلف کیفیات کے لئے ملاحظہ ہو اوپر کی حدیث نمبر (۹۱۷) کا حاشیہ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
30- بَاب رَدِّ السَّلامِ عَلَى الإِمَامِ
۳۰- باب: امام کے سلام کا جواب دینے کا بیان​

921- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < إِذَا سَلَّمَ الإِمَامُ فَرُدُّوا عَلَيْهِ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۱۹۰ (۱۰۰۱)، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۹۷) (ضعیف)
(اس حدیث کی سند میں ابو بکر الہذلی متروک ہیں، نیز حسن بصری کا سماع سمرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث عقیقہ کے سوا ثابت نہیں ہے)
۹۲۱- سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب امام سلام پھیر ے تو تم اس کے سلام کا جواب دو''۔

922- حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْقَاسِمِ، أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ؛ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ نُسَلِّمَ عَلَى أَئِمَّتِنَا، وَأَنْ يُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ.
* تخريج: انظر ما قبلہ (ضعیف)

۹۲۲- سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اپنے اماموں کو اور باہم ایک دوسرے کو سلام کریں۔
 
Top