- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
41- بَاب النَّهْيِ أَنْ يُسْبَقَ الإِمَامُ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ
۴۱- باب: امام سے پہلے رکوع یا سجدہ میں جانا منع ہے
۴۱- باب: امام سے پہلے رکوع یا سجدہ میں جانا منع ہے
960- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُعَلِّمُنَا أَنْ لا نُبَادِرَ الإِمَامَ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وإِذَا كَبَّرَ فَكَبِّرُوا، وَإِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۴۴۷) (صحیح)
۹۶۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہمیں سکھاتے کہ ہم رکوع اور سجدے میں امام سے پہل نہ کریں اور (فرماتے) جب امام اللہ اکبر کہے تو تم بھی اللہ اکبر کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۱؎۔
وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ مقتدی کو ہر ایک رکن امام کے بعد کرنا چاہئے، امام کے ساتھ ساتھ یا امام سے پہلے یا امام کے بعد زیادہ دیر سے کرنا درست نہیں ہے۔
961- حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَلا يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ؟ >ـ۔
* تخريج : م/الصلاۃ ۲۵ (۴۲۷)، د/الصلاۃ ۷۶ (۶۲۳)، ت/الصلاۃ ۲۹۲ (۵۸۲)، ن/الإمامۃ ۳۸ (۸۲۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۳۶۲)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۵۳ (۶۹۱)، حم (۲/۲۶۰، ۲۷۱، ۴۲۵، ۴۵۶، ۴۶۹، ۴۷۲، ۵۰۴)، دي/الصلاۃ ۷۲ (۱۳۵۵) (صحیح)
۹۶۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے، کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالی اس کے سر کو گدھے کے سر سے بدل دے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی گدھے کی طرح اس کو بے وقوف بنا دے، اور آخرت میں وہ گدھے کی طرح اٹھے، بعضوں نے کہا کہ دنیا میں بھی گدھے کی طرح مسخ ہو سکتا ہے، اس لئے کہ یہ مسخ خاص ہے اور اس امت میں وہ ہو سکتا ہے، البتہ مسخ عام نہیں ہو گا۔
962- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ دَارِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ، فَإِذَا رَكَعْتُ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعْتُ فَارْفَعُوا، وَإِذَا سَجَدْتُ فَاسْجُدُوا، وَلا أُلْفِيَنَّ رَجُلا يَسْبِقُنِي إِلَى الرُّكُوعِ، وَلا إِلَى السُّجُودِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۹۴، ومصباح الزجاجۃ: ۳۴۵) (صحیح) (دوسری سندوں سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں دارم مجہول ہیں، ملاحظہ: الصحیحۃ: ۱۷۲۵)
۹۶۲- ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میرا بدن بھاری ہو گیا ہے، لہٰذا جب میں رکوع میں جاؤں تب تم رکوع میں جاؤ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھا لوں تو تم اپنا سر اٹھاؤ، اور جب سجدہ میں چلا جاؤں تو تم سجدہ میں جاؤ، میں کسی شخص کو نہ پاؤں کہ وہ مجھ سے پہلے رکوع یا سجدے میں چلا جائے''۱؎۔
وضاحت۱؎: نبی اکرم ﷺ کا جسم شریف جوانی میں ہلکا تھا، پھر جب عمر زیادہ ہوئی تو ذرا موٹاپا آگیا تھا، جیسے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں مذکور ہے، اور موٹا پے اور ضعف کی وجہ سے آپ ﷺ نوجوانوں کی طرح جلدی جلدی رکوع اور سجدہ نہیں کر سکتے تھے، اس لئے یہ حدیث فرمائی۔
963- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ (ح) وَحَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <لا تُبَادِرُونِي بِالرُّكُوعِ وَلابِالسُّجُودِ، فَمَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا رَكَعْتُ، تدْرِكُونِي بِهِ إِذَا رَفَعْتُ، وَمَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا سَجَدْتُ، تدْرِكُونِي بِهِ إِذَا رَفَعْتُ، إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۲۶، ومصباح الزجاجۃ: ۳۴۶)، وقد أخرجہ: د/الصلاۃ ۷۵ (۶۱۹)، حم (۴/۹۲، ۹۸)، دي/الصلاۃ ۷۲ (۱۳۵۴) (حسن صحیح)
۹۶۳- معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم رکوع اور سجدے میں مجھ سے سبقت نہ کرو، اگر میں رکوع تم سے پہلے کروں گا تو تم مجھ کو پا لو گے جب میں رکوع سے سر اٹھا رہا ہوں گا، اور اگر میں سجدہ میں تم سے پہلے جاؤں گا تو تم مجھ کو پا لو گے جب میں سجدہ سے سر اٹھا رہا ہوں گا، کیوں کہ میرا جسم بھاری ہو گیا ہے''۔