• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
120- بَاب مَا جَاءَ فِي الْقُنُوتِ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَبَعْدَهُ
۱۲۰- باب: رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد دعا ئے قنوت پڑھنے کا بیان​

1182- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ الْيَامِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُوتِرُ فَيَقْنُتُ قَبْلَ الرُّكُوعِ۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۳۹ (۱۴۲۳)، ن/قیام اللیل ۳۴ (۱۷۰۰)، (تحفۃ الأشراف: ۵۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۲۳) (صحیح)

۱۱۸۲- ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر پڑھتے تھے تو دعائے قنوت رکوع سے پہلے پڑھتے تھے۔

1183- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سُئِلَ عَنِ الْقُنُوتِ فِي صَلاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ: كُنَّا نَقْنُتُ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَبَعْدَهُ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۸۷ ومصباح الزجاجۃ: ۴۱۸)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۱۲۶ (۷۹۸)، م/المساجد ۵۴ (۶۷۷)، د/الصلاۃ ۳۴۵ (۱۴۴۴)، ن/التطبیق ۲۷ (۱۰۷۲)، حم (۳/۲۱۷، ۲۳۲)، دي/الصلاۃ ۲۱۶ (۱۶۳۷) (صحیح)
(یہ حدیث مکرر ہے ملاحظہ ہو: ۱۲۴۳)
۱۱۸۳- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے صلاۃ فجر میں دعائے قنوت کے متعلق پوچھا گیا کہ کب پڑھی جائے؟ تو انہوں نے کہا: ہم رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد دونوں طرح دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: محدثین نے اسی پر عمل کیا ہے، اور صلاۃِ فجر کی طرح وتر میں بھی یہ جائز رکھا ہے کہ خواہ رکوع سے پہلے قنوت پڑھے یا رکوع کے بعد، مگر رکوع کے بعد پڑھنے کی حدیثیں زیادہ قوی اور زیادہ صحیح ہیں۔

1184- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ ابْنَ مَالِكٍ عَنِ الْقُنُوتِ، فَقَالَ: قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَعْدَ الرُّكُوعِ ۔
* تخريج: خ/الوتر ۷ (۱۰۰۱)، المغازي ۲۹ (۴۰۸۹)، الدعوات ۵۸ (۶۳۹۴)، م/المساجد ۵۴ (۶۷۷)، د/الصلاۃ ۳۴۵ (۱۴۴۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۵۳)، وقد أخرجہ: ن/التطبیق ۲۶ (۱۰۷۱)، حم (۳/۱۱۳، ۵۱۱، ۱۶۶، ۱۶۷) (صحیح)

۱۱۸۴- محمد (بن سیرین) کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ر ضی اللہ عنہ سے دعائے قنوت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
121- بَاب مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ آخِرَ اللَّيْلِ
۱۲۱- باب: رات کے آخری حصے میں وتر پڑھنے کا بیان​

1185- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ يَحْيَى ابْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَتْ: مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ، مِنْ أَوَّلِهِ وَأَوْسَطِهِ، وَانْتَهَى وِتْرُهُ حِينَ مَاتَ فِي السَّحَرِ۔
* تخريج: م/المسافرین ۱۷ (۷۴۵)، ت/الصلاۃ ۲۱۸ (۴۵۶)، ن/قیام اللیل ۲۸ (۱۶۸۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۵۳)، وقد أخرجہ: خ/الوتر ۲ (۹۹۶)، د/الصلاۃ ۳۴۳ (۱۴۳۵)، حم (۶/۱۲۹، ۲۰۴)، دي/الصلا ۃ ۲۱۱، (۱۶۲۸) (صحیح)

۱۱۸۵- مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المو منین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ صلاۃ وتر کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھا، کبھی رات کے شروع حصے میں، کبھی درمیانی حصے میں، اور انتقال کے قریبی ایام میں اپنا وتر صبح صادق کے قریب پڑھا۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے وتر کو رات میں مختلف اوقات میں پڑھا ہے، لیکن اخیر عمر میں وتر کو صبح صادق کے قریب پڑھا ہے، تو ایسا ہی کرنا افضل ہے، بالخصوص ان لوگوں کے لئے جو اخیر رات میں تہجد کے لئے اٹھا کرتے ہیں، اور جو آپ ﷺ نے رات کے ابتدائی حصہ یا درمیانی حصہ میں پڑھا ہے تو اس سے جواز ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس میں امت کے لئے آسانی ہے، واللہ اعلم۔

1186- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، (ح) و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، مِنْ أَوَّلِهِ، وَأَوْسَطِهِ، وَانْتَهَى وِتْرُهُ إِلَى السَّحَرِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۴۵، ومصباح الزجاجۃ: ۹۱۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۷۸، ۸۶، ۱۰۴، ۱۳۷، ۱۴۳، ۱۴۷) (حسن صحیح)

۱۱۸۶- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رات کے ہر حصہ میں کبھی شروع میں، اور کبھی بیچ میں، صبح صادق کے طلوع تک صلاۃ وتر پڑھا۔

1187- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَنْ خَافَ مِنْكُمْ أَنْ لا يَسْتَيْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ ثُمَّ لِيَرْقُدْ، وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَيْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَإِنَّ قِرَائَةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ، وَذَلِكَ أَفْضَلُ >۔
* تخريج: م/المسافرین ۲۱ (۷۵۵)، ت/الصلاۃ ۲۱۷ (۴۵۵)، (تحفۃ الأشراف: ۲۲۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/ ۳۱۵، ۳۸۹) (صحیح)

۱۱۸۷- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں بیدار نہ ہو سکے گا تو رات کی ابتداء ہی میں وتر پڑھ لے اور سو جائے، اور جس کو امید ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں بیدار ہو جائے گا تو رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے کیوں کہ آخر رات کی قراءت میں فرشتے حاضر ہو تے ہیں اور یہ افضل ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
122- بَاب مَا جَاءَ فِي مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ أَوْ نَسِيَهُ
۱۲۲- باب: سو جانے یا بھولنے کی وجہ سے وتر فوت ہو جائے تو کیا کرے؟​

1188- حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمَدِينِيُّ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ نَامَ عَنِ الْوِتْرِ أَوْ نَسِيَهُ، فَلْيُصَلِّ إِذَا أَصْبَحَ، أَوْ ذَكَرَهُ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۴۱ (۱۴۳۱)، ت/الصلاۃ ۲۲۵ (۴۶۵، ۴۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۶۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۱، ۴۴) (صحیح)

۱۱۸۸- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو صلاۃ وتر سے سو جائے، یا اسے بھول جائے، تو صبح کے وقت یا جب یاد آجا ئے پڑھ لے''۔

1189- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِقَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَوْتِرُوا قَبْلَ أَنْ تُصْبِحُوا >.
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: فِي هَذَا الْحَدِيثِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ حَدِيثَ عَبْدِالرَّحْمَنِ وَاهٍ۔
* تخريج: م/المسافرین۲۰ (۷۵۴)، ت/الصلاۃ ۲۲۶ (۴۶۸)، ن/قیام اللیل ۲۹ (۱۶۸۴)، (تحفۃ الأشراف:۴۳۸۴)، وقد أخرجہ: د/الصلاۃ ۳۴۳ (۱۴۲۲)، حم (۳/۱۳، ۳۵، ۳۷، ۷۱)، دي/الصلاۃ ۲۱۱ (۱۶۲۹) (صحیح)

۱۱۸۹- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''صبح صادق سے پہلے وتر پڑھ لو''۔
محمد بن یحیی کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عبد الرحمن بن زید کی حدیث ضعیف ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: تو فجر کے بعد وتر نہیں ہے، عطاء اور احمد کا یہی قول ہے اور اکثر علماء کا یہ قول ہے کہ صبح کے بعد بھی وتر کی قضا پڑھ لے، اور ابو حنیفہ کے نزدیک وتر کی قضا پڑھنا ضروری ہے، اور اگر کسی کو یاد ہو کہ اس نے صلاۃِ وتر نہیں پڑھی، اور صاحب ترتیب ہو اور فجر پڑھ لے، تو وہ صحیح نہ ہو گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
123- بَاب مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ بِثَلاثٍ وَخَمْسٍ وَسَبْعٍ وَتِسْعٍ
۱۲۳- باب: وتر میں تین، پانچ، سات اور نو رکعات پڑھنے کا بیان​

1190- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < الْوِتْرُ حقٌّ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِخَمْسٍ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِثَلاثٍ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۳۸ (۱۴۲۲)، ن/قیام اللیل ۳۴ (۱۷۱۱، ۱۷۱۲)، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۸۰)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۱۸)، دي/الصلاۃ ۲۱۰ (۱۶۲۶) (صحیح)

۱۱۹۰- ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''وتر حق (ثابت) ہے، لہٰذا جس کا جی چاہے پانچ رکعت وتر پڑھے، اور جس کا جی چاہے تین رکعت پڑھے، اور جس کا جی چاہے ایک رکعت پڑھے''۔

1191- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ، قُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ! أَفْتِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، قَالَتْ: كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ فِيمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ، لا يَجْلِسُ فِيهَا إِلا عِنْدَ الثَّامِنَةِ، فَيَدْعُو رَبَّهُ، فَيَذْكُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي التَّاسِعَةَ، ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ، وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُو رَبَّهُ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَأَخَذَ اللَّحْمَ، أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، بَعْدَ مَا سَلَّمَ۔
* تخريج: ن/السہو ۶۷ (۱۳۱۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۰۷)، وقد أخرجہ: م/المسافرین ۱۸ (۷۴۶)، الصلاۃ ۳۱۶ (۱۳۴۲)، حم (۶/۴۴، ۵۴) (صحیح)

۱۱۹۱- سعد بن ہشام کہتے ہیں کہ میں نے ام المو منین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ام المومنین! مجھے رسول اللہ ﷺ کی وتر کے بارے میں بتایئے، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے لئے مسواک اور وضوء کا پانی تیار رکھتے، پھر اللہ تعالی جب چاہتا رات میں آپ کو بیدار کر دیتا، آپ مسواک اور وضوء کرتے، پھر نو رکعتیں پڑھتے، بیچ میں کسی بھی رکعت پہ نہ بیٹھتے، ہاں آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، اپنے رب سے دعا کرتے، اس کا ذکر کرتے اور حمد کرتے ہوئے اسے پکارتے، پھراٹھ جاتے، سلام نہ پھیرتے اور کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھتے اور اللہ کا ذکر اور اس کی حمد و ثنا کرتے، اور اپنے رب سے دعا کرتے، اور نبی اکرم ﷺ پہ درود (صلاۃ) پڑھتے، پھر اتنی آواز سے سلام پھیرتے کہ ہم سن لیتے، سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو ر کعت پڑھتے، یہ سب گیارہ رکعتیں ہوئیں، جب آپ ﷺ کی عمر زیا دہ ہو گئی، اور آپ موٹے ہو گئے، تو آپ نے سات رکعتیں وتر پڑھیں اور سلام پھیرنے کے بعد دو ر کعت پڑھیں۔

1192- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُوتِرُ بِسَبْعٍ أَوْ بِخَمْسٍ، لا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِتَسْلِيمٍ وَلا كَلامٍ۔
* تخريج: ن/قیام اللیل ۳۵ (۱۷۱۵)، (تحفۃالأشراف: ۱۸۲۱۴)، وقد أخرجہ: ت/الوتر ۵ (۴۵۷)، حم (۶/۲۹۰، ۳۱۰، ۳۲۱) (ضعیف)
(اس سند میں مقسم ہیں، اور ان کا سماع ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نہیں ہے، لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۲۹۶۱)
۱۱۹۲- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سات یا پانچ رکعتیں وتر پڑھتے تھے، اور ان کے درمیان سلام اور کلام سے فصل نہیں کرتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
124- بَاب مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ فِي السَّفَر
۱۲۴- باب: سفر میں وتر پڑھنے کا بیان​

1193- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي فِي السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، لا يَزِيدُ عَلَيْهِمَا، وَكَانَ يَتَهَجَّدُ مِنَ اللَّيْلِ، قُلْتُ: وَكَانَ يُوتِرُ؟ قَالَ: نَعَمْ ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۷۴۷، ومصباح الزجاجۃ: ۴۲۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۸۶)
(ضعیف جدًا)
(اس حدیث کی سند میں جابر بن یزید الجعفی کذاب راوی ہے، لیکن اس باب میں صحیح احادیث آئی ہیں جو ہمارے لئے کافی ہیں)
۱۱۹۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں دو رکعت پڑھتے تھے اس سے زیادہ نہیں، اور رات میں تہجد پڑھتے تھے، سالم بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: وتر پڑھتے تھے؟ کہا: ہاں۔

1194- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ عُمَرَ قَال: سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ صَلاةَ السَّفَرِ رَكْعَتَيْنِ، وَهُمَا تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ، وَالْوِتْرُ فِي السَّفَرِ سُنَّةٌ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۷۷۵، ۷۱۱۶، ومصباح الزجاجۃ: ۴۲۱)، حم (۱/۲۴۱) (ضعیف جدا)
(سند میں جابر جعفی متروک اور کذاب راوی ہے، ملاحظہ ہو: المشکاۃ: ۱۳۵۰)
۱۱۹۴- عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر کی صلاۃ دو رکعت مقرر کی ہے، یہ دو رکعت پوری ہے ناقص نہیں، اور سفر میں صلاۃ وتر پڑھنا سنت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
125- بَاب مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوِتْرِ جَالِسًا
۱۲۵- باب: وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھنے کا بیان​

1195- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ مُوسَى الْمَرَئِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْوِتْرِ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، وَهُوَ جَالِسٌ ۔
* تخريج: ت/الوتر ۱۴ (۴۷۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۵۵)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۹۸) (صحیح)
(اس کی سند میں میمون بن موسیٰ مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، لیکن دوسرے شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجۃ: ۴۲۶ بتحقیق الشہری)
۱۱۹۵- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ وتر کے بعد دو ہلکی رکعت بیٹھ کر پڑھتے۔
وضاحت۱؎: اور بعض فقہاء کو اس کی خبر نہیں ہوئی انہوں نے وتر کے بعد اس دو رکعت نفل سے منع کیا، اور شاید کبھی کبھار نبی اکرم ﷺ نے ایسا کیا ہو گا، کیونکہ آپ اکثر وتر اخیر رات میں پڑ ھتے تھے جیسے اوپر گزرا، اور وتر کے بعد دوسری صلاۃ نہ پڑھتے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوتی تو فجر کی سنتیں پڑھتے۔

1196- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِالْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُوتِرُ بِوَاحِدَةٍ، ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ يَقْرَأُ فِيهِمَا وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ فَرَكَعَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۱۵ومصباح الزجاجۃ: ۴۲۳)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۱۲ (۶۹۱)، التہجد ۲۲ (۱۱۵۹)، م/المسافرین ۱۷ (۷۳۸)، د/الصلاۃ ۳۱۶ (۱۳۴۰)، ن/قیام اللیل ۴۶ (۱۷۵۷)، حم (۶/۵۳، ۸۱) (صحیح)

۱۱۹۶- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے۱ ؎ اور ان میں قراءت کرتے، جب رکوع کا ارادہ کر تے تو کھڑے ہوتے اور رکوع کرتے۔
وضاحت۱؎: امام احمد کہتے ہیں کہ میں وتر کے بعد اس دو رکعت سے نہ منع کرتا ہوں، نہ میں اس کو پڑھتا ہوں، اور امام مالک نے اس کا انکار کیا ہے، نووی کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں رکعتوں کو بیٹھ کر پڑھا، اس امر کو ظاہر کرنے کے لئے کہ وتر کے بعد نفل پڑھنا صحیح ہے، آپ ﷺ نے ہمیشہ ان کو نہیں پڑھا، اور قاضی عیاض نے ان حدیثوں کو قبول نہیں کیا، حافظ ابن حجر کہتے ہیں کہ شاید یہ مسافر کے لئے ہے کہ جب تہجد کے لئے جاگنے کی امید نہ ہو تو وتر کے بعد یہ دو رکعت پڑھ کر سوئے، جیسے ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: سفر ایک تکلیف ہے، پھر جب کوئی تم میں سے وتر پڑھے تو دو رکعت پڑھ لے، اگر جاگے تو خیر ورنہ یہ دو رکعت اس کے لئے تہجد کے قائم مقام ہو جائے گی، واللہ اعلم۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
126- بَاب مَا جَاءَ فِي الضَّجْعَةِ بَعْدَ الْوِتْرِ وَبَعْدَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ
۱۲۶- باب: وتر کے بعد اور فجر کی دو رکعت سنت کے بعد لیٹنے کا بیان​

1197- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ وَسُفْيَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا كُنْتُ أُلْفِي (أَوْ أَلْقَى) النَّبِيَّ ﷺ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلا وَهُوَ نَائِمٌ عِنْدِي.
قَالَ وَكِيعٌ: تَعْنِي بَعْدَ الْوِتْرِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۱۵)، وقد أخرجہ: خ/التہجد ۷ (۱۱۳۳)، م/المسافرین ۱۷ (۷۴۲)، د/الصلاۃ ۳۱۲ (۱۳۱۸)، حم (۶/۱۳۷، ۱۶۱، ۲۰۵، ۲۷۰) (صحیح)

۱۱۹۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کو جب بھی اخیر رات میں پاتی تو اپنے پاس سویا ہوا پاتی۱؎۔
وکیع نے کہا: ان کی مراد وتر کے بعد۔

وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ وتر پڑھ کر آپ ﷺ لیٹ جاتے، اور تھوڑی دیر آرام فرماتے پھر فجر کی سنتوں کے لئے اٹھتے۔

1198- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۵۰۹)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۱۴ (۶۲۶)، التہجد ۲۳ (۱۱۶۰)، ۲۴ (۱۱۶۱)، الدعوات ۵ (۶۳۱۰)، ت/الصلاۃ ۲۰۸ (۴۴۰)، ن/قیام اللیل ۴۹ (۱۷۶۳)، حم (۶/۳۴، ۳۵)، دي/الصلاۃ ۱۶۵ (۱۵۱۴) (حسن صحیح)

۱۱۹۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب فجر کی دو رکعت سنت پڑھ لیتے تو دائیں کروٹ لیٹ جاتے۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ ذرا آرام کرنے کے لئے ایک خفیف سا لیٹنا تھا، یہ آپ کا فعل ہے، جس کو دلیل بنا کر بعض اہل علم نے اس کو مسنون کہا ہے اور یہ واضح رہے کہ اس سلسلہ میں آپ سے قول ثابت نہیں ہے۔

1199- حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۶۸۵)، د/الصلاۃ ۲۹۳ (۱۲۶۱)، ت/الصلاۃ ۱۹۴ (۴۲۰) (حسن صحیح)

۱۱۹۹- ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ جب فجر کی دو رکعت سنت پڑھ لیتے تو پہلو پر لیٹ جاتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
127- بَاب مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ عَلَى الرَّاحِلَةِ
۱۲۷- باب: سواری پر وتر پڑھنے کا بیان​

1200- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ، فَتَخَلَّفْتُ فَأَوْتَرْتُ، فَقَالَ: مَا خَلَفَكَ؟ قُلْتُ: أَوْتَرْتُ، فَقَالَ: أَمَا لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُوتِرُ عَلَى بَعِيرِهِ ۔
* تخريج: خ/الوتر ۵ (۹۹۹)، تقصیرالصلاۃ ۷ (۱۰۹۵)، ۸ (۱۰۹۶)، ۱۲ (۱۱۰۵)، م/المسافرین ۴ (۷۰۰)، ت/الصلاۃ ۲۲۸ (۴۷۲)، ن/قیام اللیل ۳۱ (۱۶۸۹)، (تحفۃ الأشراف: ۷۰۸۵)، وقد أخرجہ: ط/صلاۃ اللیل ۳ (۱۵) حم (۲/۵۷، ۱۳۸)، دي/الصلاۃ ۲۱۳ (۱۶۳۱) (صحیح)

۱۲۰۰- سعید بن یسار کہتے ہیں کہ میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، میں پیچھے ہو گیا، اور صلاۃِ وتر ادا کی، انہوں نے پوچھا: تم پیچھے کیوں رہ گئے؟میں نے کہا:میں وتر پڑھ رہا تھا، انہوں نے کہا: کیا تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی میں اسوہ حسنہ نہیں ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، کہا: رسول اللہ ﷺ اپنے اونٹ ہی پر وتر پڑھ لیتے تھے۔

1201- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الا سْفَاطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۴۰، ومصباح الزجاجۃ:۴۲۴) (صحیح)
(سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عباد بن منصور ضعیف ہیں)
۱۲۰۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی سواری پر وتر پڑھ لیتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
128- بَاب مَا جَاءَ فِي الْوِتْرِ أَوَّلَ اللَّيْلِ
۱۲۸- باب: رات کے ابتدائی حصہ میں وتر پڑھنے کا بیان​

1202- حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لأَبِي بَكْرٍ: < أَيَّ حِينٍ تُوتِرُ؟ > قَالَ: أَوَّلَ اللَّيْلِ، بَعْدَ الْعَتَمَةِ قَالَ: " فَأَنَتَ يَا عُمَرُ؟ " فَقَالَ: آخِرَ اللَّيْلِ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : " أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ ! فَأَخَذْتَ بِالْوُثْقَى، وَأَمَّا أَنْتَ يَا عُمَرُ ! فَأَخَذْتَ بِالْقُوَّةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۳۷۳، ومصباح الزجاجۃ: ۴۲۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۰۹، ۳۳۰) (حسن صحیح)

۱۲۰۲- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم وتر کب پڑھتے ہو؟ کہا: شروع رات میں عشاء کے بعد، آپ ﷺ نے پوچھا:تم اے عمر! انہوں نے کہا: رات کے اخیر حصے میں، تب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اے ابو بکر! تم نے مضبوط کڑا پکڑا ہے (یقینی طریقہ اختیار کیا) اور اے عمر! تم نے قوت والا کام پکڑا''۔

1202/أ- حدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، سلَيْمَانُ بْنُ تَوْبَةَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَلِيمٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لأَبِي بَكْرٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ : (تحفۃ الأشراف: ۸۲۲۴، ومصباح الزجاجۃ: ۴۲۶) (صحیح)

۱۲۰۲/أ- اس سند سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہا، پھر انہوں نے اسی جیسی حدیث ذکر کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
129- بَاب السَّهْوِ فِي الصَّلاةِ
۱۲۹- باب: صلاۃ میں سہو (بھول چوک) کا بیان​

1203- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَزَادَ أَوْ نَقَصَ (قَالَ إِبْرَاهِيمُ: وَالْوَهْمُ مِنِّي ) فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَزِيدَ فِي الصَّلاةِ شَيْئٌ؟ قَالَ: < إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَإِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ > ثُمَّ تَحَوَّلَ النَّبِيُّ ﷺ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ. ــ
* تخريج: م/المساجد ۱۹ (۵۷۲)، د/الصلاۃ ۱۹۶ (۱۰۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۲۴)، وقد أخرجہ: خ/الصلاۃ ۲۳ (۴۰۱)، ت/الصلاۃ ۱۷۳ (۳۹۲)، ن/السہو۲۵ (۱۲۴۲)، حم (۱/۳۷۹، ۴۲۹، ۴۳۸، ۴۵۵) (صحیح)

۱۲۰۳- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صلاۃ پڑھائی، آپ نے کچھ زیادہ یا کچھ کم کر دیا، (ابراہیم نخعی نے کہا یہ وہم میری جانب سے ہے) تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا صلاۃ میں کچھ زیادتی کر دی گئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''میں بھی انسان ہی ہوں، جیسے تم بھولتے ہوں ویسے میں بھی بھولتا ہوں، لہٰذا جب کوئی شخص بھول جائے تو بیٹھ کر دو سجدے کرے'' پھر نبی اکرم ﷺ قبلہ کی جانب گھوم گئے، اور دو سجدے کئے۔

1204- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى حَدَّثَنِي عِيَاضٌ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فَقَالَ: أَحَدُنَا يُصَلِّي فَلا يَدْرِي كَمْ صَلَّى، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ >. ـ
* تخريج: د/الصلاۃ ۱۹۷ (۱۰۲۹)، ت/الصلاۃ ۱۷ (۳۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۳۹۶)، وقد أخرجہ: م/المساجد ۱۹ (۵۷۱)، ن/السہو ۲۴ (۱۲۴۰)، ط/الصلاۃ ۱۶ (۶۲)، حم (۳/۱۲، ۳۷، ۵۰، ۵۱، ۵۳، ۵۴)، دي/الصلاۃ ۱۷۴ (۱۵۳۶) (صحیح)

۱۲۰۴- عیاض نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کوئی شخص صلاۃ ادا کرتا ہے اور اُسے یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں ادا کر لیں؟ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم میں سے کوئی شخص صلاۃ پڑھے، اور اسے یاد نہ رہے کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلے''۱؎۔
وضاحت۱؎: بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے یہ اس لئے تاکہ آپ ﷺ کی امت کو اس کا مسئلہ معلوم ہو، اور اللہ تعالی نے سہو کے تدارک میں دو سجدے مقرر کئے، کیونکہ بھول چوک شیطان کے وسوسہ سے ہوتی ہے، اور سجدہ کرنے سے شیطان بہت ناراض ہوتا ہے، تو اس میں یہ حکمت ہے کہ شیطان بھلانے سے باز آجائے گا، جب دیکھے گا کہ میرے بھلانے کی وجہ سے بندے کو زیادہ ثواب ملا۔ اور سجدہ سہو سنت کے ترک سے بھی مشروع ہے، اسی طرح جب صلاۃ میں زیادتی ہو جائے یا شک ہو کہ کتنی رکعتیں پڑھیں، اور جب امام سجدہ سہو کرے تو مقتدی بھی اس کی پیروی کرے۔
 
Top