• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
100- بَاب مَا جَاءَ فِي ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ السُّنَّةِ
۱۰۰- باب: سنن موکدہ کی بارہ رکعتوں کا بیان​

1140- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو يَحْيَى الرَّازِيُّ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ ثَابَرَ عَلَى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ ركْعَةً مِنَ السُّنَّةِ، بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ، أَرْبَعٍ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۹۰ (۴۱۴)، ن/قیام اللیل ۵۷ (۱۷۹۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۹۳) (صحیح لغیرہ)
(تراجع الألبانی: رقم: ۶۲۱)
۱۱۴۰- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص روزانہ پابندی کے ساتھ بارہ رکعات سنن موکدہ پڑھا کرے، اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنایا جائے گا: چار رکعتیں ظہر سے پہلے، اور دو رکعت اس کے بعد، دو رکعت مغرب کے بعد، دو رکعت عشاء کے بعد، دو رکعت فجر سے پہلے''۱؎۔
وضاحت۱؎: فرض صلاۃ سے پہلے یا اس کے بعد جوسنتیں پڑھی جاتی ہیں، ان کی دو قسمیں ہیں: ایک قسم وہ ہے جس پر نبی اکرم ﷺ نے مداومت فرمائی ہے، بعض روایتوں میں ان کی تعداد دس بیان کی گئی ہے، اور بعض میں بارہ، اور بعض میں چودہ، انہیں سنن مؤکدہ، یا سنن رواتب کہا جاتا ہے، دوسری قسم وہ ہے جس پر آپ نے مداومت نہیں کی ہے، انہیں نوافل یا غیرموکدہ کہا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ سے مزید تقرب کے لیے نوافل یا سنن غیر موکدہ کی بھی بڑی اہمیت ہے، بہتر یہ کہ یہ سنتیں گھر میں ادا کی جائیں کیونکہ نبی اکرم ﷺ کا یہی معمول تھا، ویسے مسجد میں بھی ادا کرنا جائز اور درست ہے۔

1141- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً، بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۹۰ (۴۱۵)، ن/قیام اللیل ۵۷ (۱۸۰۳، ۱۸۰۴)، (تحفۃالأشراف: ۱۵۸۶۲)، وقدأخرجہ: م/المسافرین ۱۵ (۷۲۸)، د/الصلاۃ ۲۹۰ (۱۲۵۰)، حم (۶/۳۲۷، ۴۲۶) (صحیح)

۱۱۴۱- ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہماکہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جس نے رات اور دن میں بارہ رکعتیں (سنن موکدہ) پڑھیں ۱؎، اس کے لئے جنت میں گھر بنایا جائے گا'' ۔
وضاحت۱؎ : یہ وہی ۱۲ رکعتیں ہیں جن کا ذکر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی اوپر کی حدیث میں ہوا ہے۔

1142- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ صَلَّى فِي يَوْمٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً: بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ، رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، وَرَكْعَتَيْن - أَظُنُّهُ قَالَ - قَبْلَ الْعَصْرِ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ -أَظُنُّهُ قَالَ: - وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ الآخِرَةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۷۴۷، ومصباح الزجاجۃ: ۴۰۷)، وقد أخرجہ: ن/قیام اللیل ۵۷ (۱۸۱۲) مختصرا علی قولہ ''من صلی فی یوم ۔۔۔'' (ضعیف)
(اس کی سند محمد بن سلیمان بن اصبہانی ضعیف ہیں، لیکن ''واربع رکعات قبل الظہر'' ''ظہر سے پہلے چار رکعت'' کے لفظ سے یہ حدیث صحیح ہے ملاحظہ ہو: ۲۳۴۷)
۱۱۴۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے ایک دن میں بارہ رکعتیں (سنن موکدہ) پڑھیں، اس کے لئے جنت میں گھر بنایا جائے گا: دو ر کعت فجر سے پہلے، دو رکعت ظہر سے پہلے، اور دو رکعت اس کے بعد، (میرا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا) دو رکعت عصر سے پہلے، اور دو رکعت مغرب کے بعد، (میرا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا) دو رکعت عشاء کے بعد''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
101- بَاب مَا جَاءَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ
۱۰۱- باب: فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت کا بیان​

1143- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا أَضَاءَ لَهُ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۶۵)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۱۲ (۶۱۸)، التہجد ۲۹ (۱۱۷۳)، ۳۴ (۱۱۸۱)، م/المسافرین ۱۴ (۷۲۳)، ن/المواقیت ۳۸ (۵۸۴)، قیام اللیل ۵۷ (۱۷۶۱، ۱۷۶۲)، ۶۰ (۱۷۶۶) (صحیح)

۱۱۴۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب صبح صادق روشن ہو جاتی تو دو رکعت پڑھتے۔

1144- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ، كَأَنَّ الأَذَانَ بِأُذُنَيْهِ۔
* تخريج: خ/الوتر۲ (۹۹۵)، م/المسافرین ۲۰ (۷۴۹)، ت/الصلاۃ ۲۲۲ (۴۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۶۶۵۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۱، ۴۵، ۷۸، ۸۸، ۱۲۶) (صحیح)

۱۱۴۴- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی صلاۃ سے پہلے دو رکعت پڑھتے تھے، گویا کہ آپ اقامت سن رہے ہوں۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اقامت کے وقت جیسے جلدی ہوتی ہے، ویسی جلدی آپ ﷺ ان رکعتوں کے ادا کرنے میں کرتے، مطلب یہ ہے کہ ان رکعتوں میں طول نہ کرتے، مختصر سورتیں پڑھتے۔

1145- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ إِذَا نُودِيَ لِصَلاةِ الصُّبْحِ، رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، قَبْلَ أَنْ يَقُومَ إِلَى الصَّلاةِ۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۲ (۶۱۸)، التہجد ۲۹ (۱۱۷۳)، ۳۴ (۱۱۸۱)، م/صلاۃ المسافرین ۱۶ (۷۳۲)، ت/الصلاۃ ۲۰۳ (۴۳۳)، ن/المواقیت ۳۸ (۵۸۴)، قیام اللیل ۵۷ (۱۷۶۱)، ۶۰ (۱۷۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۰۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۶، ۱۷، ۱۴۱، ۶/۲۸۳، ۲۸۳، ۲۸۴، ۲۸۵، دي/الصلاۃ ۱۴۶ (۱۴۸۳، ۱۴۸۴) (صحیح)

۱۱۴۵- ام المومنین حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب صلاۃ فجر کی صلاۃ کی خبر دے دی جاتی تو آپ صلاۃ کے لئے اٹھنے سے پہلے دو ہلکی رکعتیں پڑھتے تھے۔

1146- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ ،عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا تَوَضَّأَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ،ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلاةِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۳۷، ومصباح الزجاجۃ :۴۰۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۷۷، ۸۷، ۹۸، ۱۱۱، ۱۱۵) (صحیح)
(سند میں ابو اسحاق السبیعی مدلس ومختلط راوی ہیں، لیکن اختلاط سے پہلے ان سے ابو الاحوص نے روایت کی ہے، چنانچہ امام بخاری اور امام مسلم نے ابو الاحوص کے واسطہ سے روایت فرمائی ہے)
۱۱۴۶- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب وضوء کرتے تو دو رکعت پڑھتے، پھر صلاۃ کے لئے نکلتے۔

1147- حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَمْرٍو، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ،عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الإِقَامَةِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۰۵۴، ومصباح الزجاجۃ: ۴۰۹، وقد أخرجہ: حم (۱/۷۷، ۸۷، ۹۸، ۱۱۱، ۱۱۵) (ضعیف)
(حارث الاعور ضعیف اور شریک سئی الحفظ ہیں)
۱۱۴۷- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اقامت کے وقت دو رکعت پڑھتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
102- بَاب مَا جَاءَ فِيمَا يُقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ
۱۰۲- باب: فجر کی سنتوں میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان​

1148- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ قَالا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} و{ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}۔
* تخريج: م/المسافرین ۱۴ (۷۲۶)، د/الصلاۃ ۲۹۲ (۱۲۵۶)، ن/الافتتاح ۳۹ (۹۴۶)، (تحفۃالأشراف: ۱۳۴۳۸) (صحیح)

۱۱۴۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں [arbقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ[/arb] اور قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ پڑھی۔

1149- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيَّانِ قَالا: حَدَّثَنَا أَبُوأَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: رَمَقْتُ النَّبِيَّ ﷺ شَهْرًا، فَكَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۹۲ (۴۱۷)، ن/الافتتاح ۶۸ (۹۹۳)، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۸۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۹۴، ۹۵، ۹۹) (صحیح)

۱۱۴۹- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک مہینہ تک غور سے دیکھا ہے کہ آپ فجر سے پہلے کی دونوں رکعتوں میں قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ اور قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ پڑھا کرتے تھے۔

1150- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ، وَكَانَ يَقُولُ: " نِعْمَ السُّورَتَانِ هُمَا، يُقْرَأُ بِهِمَا فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ،{ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} {وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ }"۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۲۱۶، ومصباح الزجاجۃ: ۴۱۰)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۱۲ (۶۱۹)، د/الصلاۃ ۲۹۰ (۱۲۵۵)، ن/الافتتاح ۴۰ (۹۴۷)، ط/صلاۃ اللیل ۵ (۲۹)، حم (۶/۱۶۵، ۱۸۳، ۱۸۶، ۲۳۵) دي/الصلا ۃ۱۴۶ (۱۴۸۲) (صحیح)

۱۱۵۰- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فجر سے پہلے دو رکعت سنت پڑھتے تھے، اور کہتے تھے کہ یہ دونوں سورتیں جو فجر کی دونوں رکعتوں میں پڑھی جاتی ہیں کیا ہی بہتر ہیں ایک:{قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} دوسری {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ}۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
103- بَاب مَا جَاءَ فِي إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَلا صَلاةَ إِلا الْمَكْتُوبَةُ
۱۰۳- باب: فرض صلاۃ کی اقامت کے بعد کوئی اور صلاۃ نہ پڑھنے کا بیان​

1151- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، (ح) و حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، أَبُو بِشْرٍ، حدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالا: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ، فَلا صَلاةَ إِلا الْمَكْتُوبَةُ >.
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، بِمِثْلِهِ۔
* تخريج: م/المسافرین ۹ (۷۱۰)، د/الصلاۃ ۲۹۴ (۱۲۶۶)، ت/الصلاۃ ۱۹۶ (۴۲۱)، ن/الإمامۃ ۶۰ (۸۶۶، ۸۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۲۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۳۱، ۴۵۵، ۵۱۷، ۵۳۱)، دي/الصلاۃ ۱۴۹ (۱۴۸۸) (صحیح)

۱۱۵۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب فرض صلاۃ کے لئے اقامت کہہ دی جائے تو اس فریضہ کے علاوہ کوئی بھی صلاۃ درست نہیں''۔
اس سند سے بھی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کے ہم مثل حدیث مروی ہے۔

وضاحت۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ فرض صلاۃ کے لیے تکبیر ہو جائے تو نفل پڑھنا جائز نہیں، وہ سنت موکدہ ہی کیوں نہ ہوں، بعض لوگوں نے فجر کی سنت کو اس سے مستثنیٰ اور الگ کیا ہے، لیکن یہ استثناء صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ مسلم بن خالد کی روایت میں جسے انہوں نے عمرو بن دینار سے روایت کیا ہے، مزید وارد ہے ''قيل: يا رسول الله! ولا ركعتي الفجر؟ قال: ولا ركعتي الفجر'' اس کی تخریج ابن عدی نے یحییٰ بن نصر بن حاجب کے ترجمہ میں کی ہے، اور اس کی سند کو حسن کہا ہے، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت جس کی تخریج بیہقی نے کی ہے، اور جس میں ''إلا ركعتي الفجر'' کا اضافہ ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ اس زیادتی کے متعلق بیہقی خود فرماتے ہیں ''هذه الزيادة لا أصل لها'' یعنی یہ اضافہ بے بنیاد ہے اس کی سند میں حجاج بن نصر اورعباد بن کثیر ہیں یہ دونوں ضعیف ہیں اس لیے اس سے استدلال صحیح نہیں۔

1152- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ رَأَى رَجُلا يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلاةِ الْغَدَاةِ، وَهُوَ فِي الصَّلاةِ، فَلَمَّا صَلَّى قَالَ لَهُ: < بِأَيِّ صَلاتَيْكَ اعْتَدَدْتَ؟ >۔
* تخريج: م/المسافرین ۹ (۷۱۲)، د/الصلاۃ ۲۹۴ (۱۲۶۵)، ن/الإمامۃ ۶۱ (۸۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۱۹)، وقد أخرجہ: حم (۵/۸۲) (صحیح)

۱۱۵۲- عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو صلاۃِ فجر سے پہلے دو رکعت پڑھ رہا تھا، اس وقت آپ فرض پڑھ رہے تھے، جب آپ ﷺ صلاۃ سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ''اپنی دونوں صلاۃ میں سے کس صلاۃ کا تم نے اعتبار کیا''؟۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی وہ جو تم نے اکیلے پڑھی یا وہ جو امام کے ساتھ پڑھی، رسول اکرم ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ جب امام صلاۃ کے لئے کھڑا ہو، تو اب فریضہ کے علاوہ دوسری صلاۃ نہ پڑھنی چاہئے، چاہے وہ فجر کی سنت ہی کیوں نہ ہو۔

1153 - حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ بُحَيْنَةَ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ ﷺ بِرَجُلٍ وَقَدْ أُقِيمَتْ صَلاةُ الصُّبْحِ، وَهُوَ يُصَلِّي، فَكَلَّمَهُ بِشَيْئٍ لا أَدْرِي مَا هُوَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَحَطْنَا بِهِ نَقُولُ لَهُ: مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ؟ قَالَ: قَالَ لِي < يُوشِكُ أَحَدُكُمْ أَنْ يُصَلِّيَ الْفَجْرَ أَرْبَعًا >۔
* تخريج: خ/الأذان ۳۸ (۶۶۳)، م/المسافرین ۹ (۷۱۱)، ن/الإمامۃ ۶۰ (۸۶۸)، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۵۵)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۴۵، ۳۴۶)، دی/الصلاۃ ۱۴۹ (۱۴۹۰) (صحیح)

۱۱۵۳- عبد اللہ بن مالک بن بحینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو صلاۃ پڑھ رہا تھا، اور صلاۃِ فجر کے لئے اقامت کہی جا رہی تھی، آپ ﷺ نے اس سے کچھ کہا جو میری سمجھ میں نہیں آیا، جب وہ شخص صلاۃ سے فارغ ہوا تو ہم اس کے گرد یہ پوچھنے کے لئے جمع ہو گئے کہ رسول اللہ ﷺ نے تم سے کیا کہا تھا؟ اس شخص نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ''قریب ہے کہ اب تم میں سے کوئی فجر کی صلاۃ چار رکعت پڑھے''۱؎۔
وضاحت۱؎: فجر کی چار رکعت پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ اقامت کے بعد وہ دو رکعت سنت پڑھتا ہے، جبکہ وہ فرض صلاۃ کا محل ہے، گویا کہ اس نے فرض کو چار رکعت پڑھ ڈالا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
104- بَاب مَا جَاءَ فِيمَنْ فَاتَتْهُ الرَّكْعَتَانِ قَبْلَ صَلاةِ الْفَجْرِ مَتَى يَقْضِيهِمَا؟
۱۰۴- باب: فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت نہ پڑھی ہو تو اس سے کب پڑھے؟​

1154- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: رَأَى النَّبِيُّ ﷺ رَجُلا يُصَلِّي بَعْدَ صَلاةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < أَصَلاةَ الصُّبْحِ مَرَّتَيْنِ؟ > فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا فَصَلَّيْتُهُمَا، قَالَ: فَسَكَتَ النَّبِيُّ ﷺ۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۹۵ (۱۲۶۷، ۱۲۶۸)، ت/الصلاۃ ۱۹۷ (۴۲۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۰۲)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۴۷) (صحیح)

۱۱۵۴- قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا جو صلاۃِ فجر کے بعد دو رکعت پڑھ رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''کیا صلاۃ فجر دو بار پڑھ رہے ہو''؟، اس شخص نے کہا: میں صلاۃ فجر سے پہلے کی دو رکعت سنت نہ پڑھ سکا تھا، تو میں نے اب ان کو پڑھ لیا، تو نبی اکرم ﷺ خاموش رہے۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صلاۃِ فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے فجر کی دونوں سنتیں پڑھنا جائزہے۔ اہل حدیث اور شافعی کا یہی مذہب ہے۔

1155- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ قَالا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَامَ عَنْ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَقَضَاهُمَا بَعْدَ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۴۶۱، ومصباح الزجاجۃ: ۴۱۱) (صحیح)

۱۱۵۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک مرتبہ سو گئے، اور فجر کی سنتیں نہ پڑھ سکے، تو ان کی قضا سورج نکلنے کے بعد کی۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ فجر کی دو رکعت سنت کی قضا سورج نکلنے کے بعد بھی جائز ہے، یہی ثوری، احمد، اسحاق، اور ابن مبارک کا مذہب ہے، امام محمد کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک زوال تک ان کی قضا پڑھ لینا بہتر ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
105- بَاب مَا جَاءَ فِي الأَرْبَعِ الرَّكَعَاتِ قَبْلَ الظُّهْرِ
۱۰- باب: ظہر سے پہلے کی چار رکعت سنت کا بیان​

1156 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَرْسَلَ أَبِي إِلَى عَائِشَةَ: أَيُّ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ أَنْ يُوَاظِبَ عَلَيْهَا؟ قَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ، يُطِيلُ فِيهِنَّ الْقِيَامَ، وَيُحْسِنُ فِيهِنَّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۱۶۰۶۰، ومصباح الزجاجۃ: ۴۱۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۳) (ضعیف)
(اس کی سند میں قابوس بن ابی ظبیان ضعیف ہیں، ابو ظبیان حصین بن جندب تابعی ہیں، انہوں نے جو واسطہ ذکر کیا ہے، مبہم ہے، ملاحظہ ہو: الترغیب والترہیب للمنذری ۱/ ۴۰۰)
۱۱۵۶- قابوس اپنے والد (ابو ظبیان) سے روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس (یہ پوچھنے کے لئے) بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ (ان سنتوں میں سے) کس سنت پر مداومت پسند فرماتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ ظہر سے پہلے چار رکعت پڑھتے تھے، ان میں قیام لمبا، اور رکوع وسجود اچھی طرح کرتے تھے۔

1157- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ قَرْثَعٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، لا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِتَسْلِيمٍ، وَقَالَ: < إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۹۶ (۱۲۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۴۱۷۵، ۴۲۰) (صحیح)
(حدیث میں وارد لفظ ''لا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِتَسْلِيمٍ'' منکر اور ضعیف ہے، بقیہ حدیث صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: ۱۲۵)
۵۷ ۱۱- ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ظہر سے پہلے سورج ڈھلنے کے بعد چار رکعت پڑھتے تھے اور بیچ میں سلام سے فصل نہیں کرتے تھے، اور فرماتے: ''سورج ڈھلنے کے بعد آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
106- بَاب مَنْ فَاتَتْهُ الأَرْبَعُ قَبْلَ الظُّهْرِ
۱۰۶- باب: جو ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں نہ پڑھ سکا ہو اس کے حکم کا بیان​

1158- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا فَاتَتْهُ الأَرْبَعُ قَبْلَ الظُّهْرِ، صَلاهَا بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ.
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ إِلا قَيْسٌ عَنْ شُعْبَةَ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۲۰۱ (۴۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۲۰۸) (ضعیف)
(اس باب میں صحیح حدیث کریب کی ہے، جو ام سلمہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۴۲۰۸)
۱۱۵۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی ظہر سے پہلے چار رکعتیں فوت ہو جاتیں تو آپ ان کو ظہر کے بعد کی دونوں رکعتوں کے بعد پڑھ لیتے۔
ابو عبد اللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف قیس بن ربیع نے شعبہ سے روایت کی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
107- بَاب فِيمَنْ فَاتَتْهُ الرَّكْعَتَانِ بَعْدَ الظُّهْرِ
۱۰۷- باب: جس کی ظہر کے بعد کی دو رکعت سنت چھوٹ جائے اس کے حکم کا بیان​

1159- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: أَرْسَلَ مُعَاوِيَةُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَ الرَّسُولِ فَسَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بَيْنَمَا هُوَ يَتَوَضَّأُ فِي بَيْتِي لِلظُّهْرِ- وَكَانَ قَدْ بَعَثَ سَاعِيًا، وَكَثُرَ عِنْدَهُ الْمُهَاجِرُونَ، وَقَدْ أَهَمَّهُ شَأْنُهُمْ - إِذْ ضُرِبَ الْبَابُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ جَلَسَ يَقْسِمُ مَا جَاءَ بِهِ، قَالَتْ: فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى الْعَصْرِ، ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: < شَغَلَنِي أَمْرُ السَّاعِي أَنْ أُصَلِّيَهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ، فَصَلَّيْتُهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۱۷۱ ومصباح الزجاجۃ: ۴۱۳)، وقد أخرجہ: خ/السہو ۸ (۱۲۳۳)، المغازي ۶۹ (۴۳۷۰)، م/المسافرین ۵۴ (۸۳۴)، د/الصلاۃ ۲۹۸ (۱۲۷۳)، ن/المواقیت ۳۵ (۵۸۰)، حم (۶/۳۰۹)، دي/الصلاۃ ۱۴۳ (۱۴۷۶) (منکر)
(یزید بن ابی زیاد القرشی الہاشمی ضعیف ہیں، بڑھاپے کی وجہ سے حافظہ میں فرق آگیا تھا، اور تلقین قبول کرنے لگے تھے، نیز شیعہ تھے، ابن حجر کے الفاظ ہیں: ''ضعيف كبر فتغير وصار يتلقن وكان شيعياً'' (خت م ۴) تہذیب الکمال ۳۲؍ ۱۴۰، والتقریب)، بخاری نے تعلیقاً اور مسلم نے دوسرے راوی کے ساتھ ان سے حدیث روایت کی ہے، صحیحین وغیرہ میں دوسرے سیاق کے ساتھ یہ حدیث موجو د ہے، اوپر کی تخریج ملاحظہ ہو)
۱۱۵۹- عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک شخص بھیجا، قاصد کے ساتھ میں بھی گیا، اس نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا، تو انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں صلاۃ ظہر کے لئے وضوء کر رہے تھے، اور آپ ﷺ نے صدقہ وصول کرنے والا ایک شخص روانہ کیا تھا، آپ کے پاس مہاجرین کی بھیڑ تھی، اور ان کی بدحالی نے آپ کو فکر میں مبتلا کر رکھا تھا کہ اتنے میں کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ باہر نکلے، ظہر پڑھائی پھر بیٹھے، اور صدقہ وصول کرنے والا جو کچھ لایا تھا اسے تقسیم کرنے لگے، آپ ﷺ عصر تک ایسے ہی تقسیم کرتے رہے، پھر آپ میرے گھرمیں داخل ہوئے، اور دو رکعت پڑھی، اور فرمایا: ''صدقہ وصول کرنے والے کے معاملے نے مجھے ظہر کے بعد دو رکعت سنت کی ادائیگی سے مشغول کر دیا تھا، اب صلاۃ عصر کے بعد میں نے وہی دونوں رکعتیں پڑھی ہیں''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
108- بَاب مَا جَاءَ فِيمَنْ صَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا
۱۰۸- باب: ظہر سے پہلے اور اس کے بعد چار چار رکعت سنت پڑھنے کا بیان

1160- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < مَنْ صَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا، وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا، حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۲۰۱ (۴۲۷)، ن/قیام اللیل ۵۷ (۱۸۱۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۵۸)، وقد أخرجہ: د/الصلاۃ ۲۹۶ (۱۷۶۹)، حم (۶/۳۲۶) (صحیح)
(تراجع الألبانی: رقم : ۳۷۶)
۱۱۶۰- ام المومنین اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھیں تو اللہ تعالی اسے جہنم پر حرام کر دے گا"۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
109- بَاب مَا جَاءَ فِيمَا يُسْتَحَبُّ مِنَ التَّطَوُّعِ بِالنَّهَارِ
۱۰۹- باب: دن کی مستحب (نفل) صلاۃ کا بیان​

1161- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَأَبِي، وَإِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ السَّلُولِيِّ قَالَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا عَنْ تَطَوُّعِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِالنَّهَارِ فَقَالَ: إِنَّكُمْ لا تُطِيقُونَهُ، فَقُلْنَا: أَخْبِرْنَا بِهِ نَأْخُذْ مِنْهُ مَا اسْتَطَعْنَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ يُمْهِلُ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا، يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ بِمِقْدَارِهَا مِنْ صَلاةِ الْعَصْرِ مِنْ هَا هُنَا، يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ، قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا، يَعْنِي مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ مِقْدَارَهَا مِنْ صَلاةِ الظُّهْرِ مِنْ هَاهُنَا قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا، وَأَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا، وَأَرْبَعًا قَبْلَ الْعَصْرِ، يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ، وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُؤْمِنِينَ.
قَالَ عَلِيٌّ: فَتِلْكَ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً، تَطَوُّعُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِالنَّهَارِ، وَقَلَّ مَنْ يُدَاوِمُ عَلَيْهَا، قَالَ وَكِيعٌ: زَادَ فِيهِ أَبِي: فَقَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ: يَا أَبَا إِسْحَقَ! مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِحَدِيثِكَ هَذَا مِلْئَ مَسْجِدِكَ هَذَا ذَهَبًا۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۳۰۱ (۵۹۸، ۵۹۹)، ن/الإمامۃ ۶۵ (۸۷۵، ۸۷۶)، (تحفۃالأشراف: ۱۰۱۳۷)، حم (۱/۸۵) (حسن)
(شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ابو اسحاق مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الصحیحۃ: ۲۳۷)
۱۱۶۱- عاصم بن ضمرہ سلولی کہتے ہیں کہ ہم نے علی رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کے دن کی نفل صلاۃ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: تم ان کو ادا نہ کر سکو گے، ہم نے کہا کہ آپ ہمیں بتائیے، ہم ان میں سے جتنی ادا کر سکیں گے اتنی لے لیں گے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ فجر پڑھنے کے بعد رکے رہتے یہاں تک کہ جب سورج مشرق (پورب) کی جانب سے اتنا بلند ہو جاتا جتنا کہ عصر کے وقت مغرب (پچھم) کی جانب سے ہوتا ہے تو کھڑے ہوتے اور دو رکعت پڑھتے،۱؎ پھر ٹھہر جاتے یہاں تک کہ جب سورج (پورب) کی جانب سے اتنا بلند ہو جاتا جتنا ظہر کے وقت مغرب (پچھم) کی طرف سے بلند ہوتا ہے، تو آپ کھڑے ہوتے اور چار رکعت پڑھتے،۲؎ اور جب سورج ڈھل جاتا تو صلاۃ ظہر سے پہلے چار رکعت اور اس کے بعد دو رکعت پڑھتے، اور چار رکعت عصر سے پہلے جن میں ہر دو رکعت کے درمیان مقرب فرشتوں، انبیاء کرام اور ان کے پیروکار مسلمانوں اور مومنوں پر سلام بھیج کر فصل کرتے۔
علی رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سب سولہ رکعتیں ہوئیں جو نبی اکرم ﷺ دن میں بطور نفل پڑھتے، اور ایسے لوگ بہت کم ہیں جو پابندی کے ساتھ انہیں پڑھتے رہیں۔
راوی حدیث وکیع کہتے ہیں کہ میرے والد نے اس حدیث میں اتنا اضافہ کیا کہ حبیب بن ابی ثابت نے ابو اسحاق سے کہا کہ اے ابو اسحاق! اگر اس حدیث کے بدلے مجھے تمہاری اس مسجد بھر سونا ملتا تو میں پسند نہیں کرتا۔

وضاحت۱؎: یہ اشراق کی صلاۃ ہوتی۔
وضاحت۲؎: یہ صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی صلاۃ) ہوتی۔
 
Top