• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
159- بَاب مَا جَاءَ فِي انْتِظَارِ الْخُطْبَةِ بَعْدَ الصَّلاةِ
۱۵۹ - باب: صلاۃ کے بعد خطبہ کا انتظار کرنا ضروری ہے یا نہیں؟​

1290- حَدَّثَنَا هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِالْوَهَّابِ، وَعَمْرُو بْنُ رَافِعٍ الْبَجَلِيُّ قَالا: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: حَضَرْتُ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، فَصَلَّى بِنَا الْعِيدَ، ثُمَّ قَالَ: < قَدْ قَضَيْنَا الصَّلاةَ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَجْلِسَ لِلْخُطْبَةِ فَلْيَجْلِسْ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَذْهَبَ فَلْيَذْهَبْ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۵۳ (۱۱۵۵)، ن/العیدین ۱۴ (۱۵۷۲)، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۱۵) (صحیح)

۱۲۹۰- عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صلاۃ عید میں حاضر ہوا، تو آپ نے ہمیں عید کی صلاۃ پڑھائی، پھر فرمایا: ''ہم صلاۃ ادا کر چکے، لہٰذا جو شخص خطبہ کے لئے بیٹھنا چاہے بیٹھے، اور جو جانا چاہے جائے ۱؎۔
وضاحت۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ عید کا خطبہ واجب نہیں ہے، اور نہ اس کا سننا واجب ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
160- بَاب مَا جَاءَ فِي الصَّلاةِ قَبْلَ صَلاةِ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا
۱۶۰- باب: عید سے پہلے اور اس کے بعد صلاۃ پڑھنا کیسا ہے؟​

1291- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمُ الْعِيدَ، لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلا بَعْدَهَا۔
* تخريج: خ/العیدین ۸ (۹۶۴)، ۲۶ (۹۸۹)، الزکاۃ ۲۱ (۱۴۳۱)، اللباس ۵۷ (۵۸۸۱)، ۵۹ (۵۸۸۳)، م/العیدین ۲ (۸۸۴)، د/الصلاۃ ۲۵۶ (۱۱۵۹)، ت/الصلاۃ ۲۷۰ (الجمعۃ ۳۵) (۵۳۷)، ن/العیدین ۲۸ (۱۵۸۸)، (تحفۃ الأشراف: ۵۵۵۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/ ۲۸۰، ۳۴۰، ۳۵۵)، دي/الصلاۃ ۲۱۹ (۱۶۴۶) (صحیح)

۱۲۹۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید گاہ کی طرف گئے تو آپ نے لوگوں کو عید کی صلاۃ پڑھائی، اور اس سے پہلے یا بعد کوئی اور صلاۃ نہ پڑھی ۱؎۔
وضاحت۱؎: عید گاہ میں تو مستحب یہی ہے کہ صلاۃِ عید سے پہلے اور اس کے بعد نفل نہ پڑھے، ابن حجر کہتے ہیں کہ اگر کسی نے نفل پڑھی اور وقت مکروہ نہیں ہے تو مکروہ نہ ہو گا، کیونکہ انس رضی اللہ عنہ وغیرہ سے ایسا ثابت ہے۔ اس کی تخریج بیہقی نے کی ہے، اور مالک اور احمد کا یہی قول ہے کہ عید کی صلاۃ سے پہلے اور اس کے بعد نفل نہ پڑھے، اور ابو حنیفہ سے یہ منقول ہے کہ صلاۃ عید کے بعد نفل پڑھ سکتا ہے، مگر یاد رکھیے کہ ہر حالت میں نبی کریم ﷺ کی پیروی سب پر مقدم ہے، اور ایک روایت میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو عید کی صلاۃ سے پہلے نفل پڑھتے دیکھا تو انہوں نے اس کو منع کیا، اس شخص نے کہا اللہ تعالی صلاۃ پڑھنے پر مجھ کو عذاب نہ دے گا، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالی تجھ کو سنت کی مخالفت پر عذاب دے گا۔

1292- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلابَعْدَهَا فِي عِيدٍ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۲۹، ومصباح الزجاجۃ: ۴۵۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۸۰) (حسن صحیح)

۱۲۹۲- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عید میں عید سے پہلے یا بعد کوئی بھی صلاۃ نہیں پڑھی۔

1293- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الرَّقِّيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ؛ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لا يُصَلِّي قَبْلَ الْعِيدِ شَيْئًا، فَإِذَا رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۸۷، ومصباح الزجاجۃ: ۴۵۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۰) (حسن)

۱۲۹۳- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صلاۃِ عید سے پہلے کچھ بھی نہیں پڑھتے تھے، جب اپنے گھر واپس لوٹتے تو دو رکعت پڑھتے ۱؎۔
وضاحت۱؎: یہاں پر دو طرح کی احادیث ہیں، جن میں تطبیق و جمع کی صورت یہ ہے کہ ممانعت عید گاہ میں صلاۃ پڑھنے سے ہے، (ملاحظہ ہو: التلخيص الحبير: ۶۸۷)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
161- بَاب مَا جَاءَ فِي الْخُرُوجِ إِلَى الْعِيدِ مَاشِيًا
۱۶۱- باب: عید کے لیے عید گاہ پیدل چل کر جانے کا بیان​

1294- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدِ مَاشِيًا، وَيَرْجِعُ مَاشِيًا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۳۱، ومصباح الزجاجۃ: ۴۵۲) (حسن)
(شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں عبد الرحمن ضعیف، اور ان کے والد و دادا مجہول الحال ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء : ۶۳۶)
۱۲۹۴- سعد مؤذن سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ عید کے لئے پیدل جاتے اور پیدل ہی واپس آتے۔

1295- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْعُمَرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، وَعُبَيْدُاللَّهِ، عنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدِ مَاشِيًا، وَيَرْجِعُ مَاشِيًا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۷۴۰ و ۸۰۲۰، ومصباح الزجاجۃ: ۴۵۳) (حسن)
(شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں عبد الرحمن بن عبد اللہ العمری ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء : ۶۳۶)
۱۲۹۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید کے لئے پیدل جاتے، اور پیدل ہی واپس آتے۔

1296- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يُمْشَى إِلَى الْعِيدِ۔
* تخريج: ت/الجمعۃ ۳۰ (۵۳۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۰۴۲) (حسن)
(سند میں الحارث ضعیف ہے، لیکن سابقہ حدیث سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء : ۶۳۶)
۱۲۹۶- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ لوگ عید کی صلاۃ کے لئے پیدل چل کر جائیں۔

1297- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، حَدَّثَنَا مِنْدَلٌ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَأْتِي الْعِيدَ مَاشِيًا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۲۱، ومصباح الزجاجۃ: ۴۵۴) (حسن)
(شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں دو راوی: مندل و محمد بن عبید اللہ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۶۳۶)
۱۲۹۷- ابو رافع کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید گاہ کے لئے پیدل چل کرآتے تھے۔
وضاحت۱؎: ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ سنت یہی ہے کہ عید گاہ کو پیدل جائے، اگر عید گاہ دور ہو یا کوئی پیدل نہ چل سکے تو سواری پر جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
162- بَاب مَا جَاءَ فِي الْخُرُوجِ يَوْمَ الْعِيدِ مِنْ طَرِيقٍ وَالرُّجُوعِ مِنْ غَيْرِهِ
۱۶۲- باب: عید کے دن ایک راستے سے عید گاہ جانے او ر دوسرے راستے سے واپس آنے کا بیان​

1298- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْعِيدَيْنِ سَلَكَ عَلَى دَارِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، ثُمَّ عَلَى أَصْحَابِ الْفَسَاطِيطِ، ثُمَّ انْصَرَفَ فِي الطَّرِيقِ الأُخْرَى، طَرِيقِ بَنِي زُرَيْقٍ، ثُمَّ يَخْرُجُ عَلَى دَارِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَدَارِ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَى الْبَلاطِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۳۲، ومصباح الزجاجۃ: ۴۵۶) (ضعیف)
(عبد الرحمن اور ان کے والد ضعیف ہیں)
۱۲۹۸- مؤذن رسول سعد القرظ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب عیدین کی صلاۃ کے لئے نکلتے تو سعید بن ابی العاص کے مکان سے گزرتے، پھر خیمہ والوں کی طرف تشریف لے جاتے، پھر دوسرے راستے سے واپس ہوتے، اور قبیلہ بنی زُریق کے راستے سے عمار بن یاسر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما کے مکانات کو پار کرتے ہوئے مقام بلاط ۱؎ پر تشریف لے جاتے ۲ ؎۔
وضاحت۱؎: بلاط ایک مقام کا نام ہے، جو مسجد نبوی اور بازار کے درمیان واقع تھا۔
وضاحت۲؎: علماء نے راستہ بدلنے کی بہت سی حکمتیں بیان فرمائی ہیں، امام نوویؒ نے اس کی حکمت مقامات عبادت کا زیادہ ہونا بتلایا ہے، بعض کہتے ہیں کہ ایسا اس لئے کہ دونوں راستے قیامت والے دن گواہی دیں گے کہ یا اللہ تیری تکبیر و تہلیل کرتا ہوا یہ بندہ ہمارے اوپر سے گزرا تھا کیونکہ صلاۃ عید کے لئے یہ حکم ہے کہ آتے جاتے راستوں میں بہ آواز بلند تکبیریں پڑھتے اور اللہ کا ذکر کرتے رہو، یا مقصد ہے کہ ایک کے بجائے دو راستوں کے فقراء، لوگوں کے صدقہ و خیرات سے بہرمند ہوں، یا اس لئے کہ مسلمانوں کی قوت و اجتماعیت کا زیادہ سے زیادہ مظاہرہ ہو۔

1299- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ إِلَى الْعِيدِ فِي طَرِيقٍ، وَيَرْجِعُ فِي أُخْرَى، وَيَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَاْنَ يَفْعَلُ ذَلِكَ۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۵۴ (۱۱۵۶)، (تحفۃ الأشراف: ۷۷۲۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۰۹) (صحیح)

۱۲۹۹- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ عید کے لئے ایک راستے سے جاتے، اور دوسرے راستے سے واپس آتے اور کہتے کہ رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔

1300- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، حَدَّثَنَا منْدَلٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَأْتِي الْعِيدَ مَاشِيًا، وَيَرْجِعُ فِي غَيْرِ الطَّرِيقِ الَّذِي ابْتَدَأَ فِيهِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۲۱، ومصباح الزجاجۃ: ۴۵۵) (صحیح)
(اگلی و پچھلی حدیثوں سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں مندل و محمد بن عبید اللہ دونوں ضعیف ہیں)
۱۳۰۰- ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید کے لئے پیدل چل کر آتے تھے اور اس راستہ کے سوا دوسری راستہ سے لوٹتے تھے جس سے پہلے آئے تھے۔

1301- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى الْعِيدِ رَجَعَ فِي غَيْرِ الطَّرِيقِ الَّذِي أَخَذَ فِيهِ ۔
* تخريج: خ/العیدین ۲۴ (۹۸۶)، ت/الصلاۃ ۲۷۲ (الجمعۃ ۳۷)، (۵۴۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۳۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۰۹، ۳۸۸) (صحیح)

۱۳۰۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب عیدین کے لیے نکلتے تو اس راستہ کے سوا دوسرے راستہ سے لوٹتے جس سے شروع میں آئے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
163- بَاب مَا جَاءَ فِي التَّقْلِيسِ يَوْمَ الْعِيدِ
۱۶۳- باب: عید کے دن دف بجانے اور کھیلنے کودنے کا بیان​

1302- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ: شَهِدَ عِيَاضٌ الأَشْعَرِيُّ عِيدًا بِالأَنْبَارِ، فَقَالَ: مَا لِي لا أَرَاكُمْ تُقَلِّسُونَ كَمَا كَانَ يُقَلَّسُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ؟!.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۱۷، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۰۲) (ضعیف)
(سند میں شریک ضعیف الحدیث راوی ہیں، اور ایسے ہی سوید بن سعید متکلم فیہ راوی ہیں، ملاحظہ ہو: الضعیفہ: رقم: ۴۲۸۵)
۱۳۰۲- عامر شعبی کہتے ہیں کہ عیاض اشعری نے شہر انبار میں عید کی اور کہا :کیا بات ہے کہ میں تم کو اس طرح دف بجاتے اور گاتے نہیں دیکھ رہا ہوں جیسے رسول اللہ ﷺ کے پاس بجایا، اور گایا جاتا تھا ۱؎۔

1303- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: مَا كَانَ شَيْئٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِلا وَقَدْ رَأَيْتُهُ، إِلا شَيْئٌ وَاحِدٌ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُقَلَّسُ لَهُ يَوْمَ الْفِطْرِ.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۹۱، و مصباح الزجاجۃ: ۴۵۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۲۲) (ضعیف)
(ابو اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)۔
۱۳۰۳- قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں جتنی چیزیں تھیں، وہ سب میں نے دیکھیں سوائے ایک چیز کے، وہ یہ کہ عید الفطر کے روز آپ کے لئے گانا بجانا ہوتا تھا۔

[ز] 1303/أ- قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا ابْنُ دِيزِيلَ، حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ.
(ح) [وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ثَنَا] ۱؎ إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ.
(ح) وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَامِرٍ نَحْوَهُ۔ (مصباح الزجاجة:458)
۱۳۰۳/أ- ان سندوں سے بھی عامر شعبی سے اسی جیسی روایت آئی ہے۔
وضاحت۱؎: مصباح الزجاجة: بتحقيق د/عوض الشهري: (461)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
164- بَاب مَا جَاءَ فِي الْحَرْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ
۱۶۴- باب: عید کے دن (عید گاہ میں) نیزہ لے جانے کا بیان​

1304- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ،(ح) وحَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالا: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَغْدُو إِلَى الْمُصَلَّى فِي يَوْمِ الْعِيدِ،وَالْعَنَزَةُ تُحْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِذَا بَلَغَ الْمُصَلَّى، نُصِبَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا، وَذَلِكَ أَنَّ الْمُصَلَّى كَانَ فَضَائً، لَيْسَ فِيهِ شَيْئٌ يُسْتَتَرُ بِهِ۔
* تخريج: خ/العیدین ۱۳ (۹۷۲)، ۱۴ (۹۷۳)، (تحفۃ الأشراف: ۷۷۵۷)، وقد أخرجہ: م/الصلاۃ ۴۷ (۵۰۱)، د/الصلاۃ ۱۰۲ (۶۸۷)، ن/العیدین ۹ (۱۵۶۶)، حم (۲/۹۸، ۱۴۵، ۱۵۱)، دي/الصلاۃ ۱۲۴ (۱۴۵۰) (صحیح)

۱۳۰۴- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید کے دن عید گاہ کی جانب صبح جاتے، اور آپ کے سامنے نیزہ لے جایا جاتا، جب آپ عید گاہ پہنچ جاتے تو آپ کے آگے نصب کر دیا جاتا، آپ اس کے سامنے کھڑے ہو کر صلاۃ عید پڑھاتے، اس لئے کہ عید گاہ ایک کھلا میدان تھا اس میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے صلاۃ کے لئے سترہ بنایا جاتا۔

1305- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا صَلَّى يَوْمَ عِيدٍ أَوْ غَيْرَهُ، نُصِبَتِ الْحَرْبَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيُصَلِّي إِلَيْهَا والنَّاسُ مِنْ خَلْفِهِ.
قَالَ نَافِعٌ: فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الأُمَرَاءُ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۰۷۸)، وقد أخرجہ: خ/الصلاۃ ۹۲ (۴۹۸)، م/الصلاۃ ۴۷ (۵۰۱)، د/الصلاۃ ۱۰۲ (۶۸۷)، ن/القبلۃ ۴ (۷۴۸)، حم (۲/۱۳، ۱۸، ۱۴۲)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے : ۹۴۱) (صحیح)

۱۳۰۵- عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید یا کسی اور دن جب (میدان میں) صلاۃ پڑھتے تو نیزہ آپ کے آگے نصب کر دیا جاتا، آپ اس کی جانب رخ کر کے صلاۃ پڑھتے، اور لوگ آپ کے پیچھے ہوتے۔
نافع کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے امراء نے اسے اختیار کر رکھا ہے۔


1306- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ صَلَّى الْعِيدَ بِالْمُصَلَّى مُسْتَتِرًا بِحَرْبَةٍ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۵۸، ومصباح الزجاجۃ: ۴۵۹) (صحیح)

۱۳۰۶- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عید گاہ میں عید کی صلاۃ نیزہ کو سترہ بنا کے ادا فرمائی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
165- بَاب مَا جَاءَ فِي خُرُوجِ النِّسَاءِ فِي الْعِيدَيْنِ
۱۶۵- باب: عیدین میں عورتوں کے عیدگاہ جانے کا بیان​

1307- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ نُخْرِجَهُنَّ فِي يَوْمِ الْفِطْرِ والنَّحْرِ، قَالَ قَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ: فَقُلْنَا: أَرَأَيْتَ إِحْدَاهُنَّ لا يَكُونُ لَهَا جِلْبَابٌ؟ قَالَ: < فَلْتُلْبِسْهَا أُخْتُهَا مِنْ جِلْبَابِهَا >۔
* تخريج: م/العیدین ۱ (۸۹۰)، ت/الصلاۃ ۲۷۱ (۵۳۹)، ن/الحیض الاستحاضہ ۲۲ (۳۹۰)، العیدین ۲ (۱۵۵۹)، ۳ (۱۵۶۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۱۳۶)، وقد أخرجہ: خ/الحیض ۲۳ (۳۲۴)، الصلاۃ ۲ (۳۵۱)، العیدین ۱۵ (۹۷۴)، ۲۰ (۹۸۰)، ۲۱ (۹۸۱)، الحج ۸۱ (۱۶۵۲)، د/الصلاۃ ۲۴۷ (۱۱۳۶)، حم (۵/۸۴، ۸۵)، دي/الصلاۃ ۲۲۳ (۱۶۵۰) (صحیح)

۱۳۰۷- اُم عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عورتوں کو عیدین میں لے جائیں، اُم عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ بتائیے اگر کسی عورت کے پاس چادر نہ ہو تو (کیا کرے؟) آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس کی ساتھ والی اسے اپنی چادر اڑھا دے'' ۔
وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ غریب و مسکین عورت بھی عید گاہ کے لیے نکلے، اگر کپڑے نہ ہوں تو اپنی سہیلی یا رشتے دار عورت سے مانگ لے، اس حدیث سے عورتوں کے عیدین میں عید گاہ جانے کی بڑی تاکید ثابت ہوتی ہے، بعضوں نے کہا کہ یہ حکم نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں تھا اور اب جب کہ زمانہ خراب ہو گیا ہے اور فسق و فجور پھیل گیا ہے تو عورتوں کا باہر نکلنا مناسب نہیں، اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اگر نبی کریم ﷺ عورتوں کے وہ کام دیکھتے جو انہوں نے نکالے ہیں تو یقینا ان کومسجد میں جانے سے منع کرتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں منع کی گئیں، اور اس اثر سے خود ان لوگوں کے قول کے خلاف ثابت ہوتا ہے یعنی یہ کہ عورتوں کو باہر نکلنا منع نہیں ہوا۔
برصغیر میں علماء کا ایک طبقہ عورتوں کے عید گاہ اور مساجد جانے کی بوجوہ چند بڑی مخالفت کرتا ہے، جبکہ نصوص شرعیہ سے عورتوں کا ان جگہوں پر جانا ثابت ہے، اور یہ ان کا حق ہے جو اسلام نے انہیں دیا ہے، بالخصوص اگر ان مساجد اور دینی مراکز کے ذریعہ سے وعظ و تبلیغ اور دینی تعلیم کی ضرورت بھی پوری ہوتی ہو تو اس سلسلہ میں عورتوں کو نہ صرف یہ کہ جانے کی اجازت دینی چاہیے بلکہ اس کا اہتمام بھی کرنا چاہئے، ظاہر بات ہے کہ اسلام نے جو آداب اس سلسلہ میں بتائے ہیں اس کا لحاظ کئے بغیر عورتوں کا باہر نکلنا صحیح اورمناسب نہ ہو گا، لیکن مشاہدہ یہ ہے کہ ہر طرح کے تجارتی اور تفریحی مقامات پر عورتیں بے پردہ اور بے لگام گھوم رہی ہیں اور اس سلسلہ میں کوئی حرج اور انکار کا جذبہ لوگوں میں باقی نہیں رہا، لیکن فقہی فروع کی پابندی اس انداز سے کرائی جاتی ہے کہ شریعت سے ثابت مسائل میں بھی لوگوں کو اعتراض ہوتا ہے، لہذا ہمیں شرعی ضابطہ میں رہ کر عورتوں کو ان دینی مقامات میں جانے کی ترغیب دینی چاہئے کیونکہ یہ ان کا حق ہے، اور اس سے بڑھ کر اگر دینی مسائل کے سیکھنے سکھانے کا موقع بھی فراہم ہو تو اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔

1308- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < أَخْرِجُوا الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، لِيَشْهَدْنَ الْعِيدَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِينَ وَلْيَجْتَنِبَنَّ الْحُيَّضُ مُصَلَّى النَّاسِ >۔
* تخريج: خ/العدین ۱۵ (۹۷۴)، مخصراً م/صلاۃ العیدین ۱ (۸۹۰)، د/الصلاۃ ۲۴۷ (۱۱۳۶، ۱۱۳۷)، مطولاً ن/صلاۃ العیدین ۲ (۱۵۵۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۹۵) (صحیح)

۱۳۰۸- اُم عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کنواری اور پردہ نشیں عورتوں کو عید گاہ لے جاؤ تاکہ وہ عید میں اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں، البتہ حائضہ عورتیں مصلی سے الگ بیٹھیں''۔

1309- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُخْرِجُ بَنَاتِهِ وَنِسَائَهُ فِي الْعِيدَيْنِ۔
* تخريج: تفرد بہ این ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۸۱۸، ومصباح الزجاجۃ: ۴۶۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۳۱، ۳۵۳) (ضعیف)
(اس حدیث کی سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
۱۳۰۹- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو عیدین میں عید گاہ لے جاتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
166- بَاب مَا جَاءَ فِيمَا إِذَا اجْتَمَعَ الْعِيدَانِ فِي يَوْمٍ
۱۶۶- باب: عید اور جمعہ ایک دن اکٹھا ہو جائیں تو کیسے کرے؟​

1310- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي رَمْلَةَ الشَّامِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلا سَأَلَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ: هَلْ شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ عِيدَيْنِ فِي يَوْمٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: صَلَّى الْعِيدَ، ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَالَ: < مَنْ شَاءَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُصَلِّ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۱۷ (۱۰۷۰)، ن/العیدین ۳۱ (۱۵۹۲)، (تحفۃ الأشراف: ۳۶۵۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۷۲)، دي/الصلاۃ ۲۲۵، (۱۶۵۳) (صحیح)

۱۳۱۰- ایاس بن ابو رملہ شامی کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھتے ہوئے سنا: کیا آپ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کبھی ایک ہی دن دو عید میں حاضر رہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، اس آدمی نے کہا: تو آپ ﷺ کیسے کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے عید پڑھائی پھر جمعہ کے بارے میں رخصت دے دی اور فرمایا: ''جو پڑھنا چاہے پڑھے'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: جمعہ اور عید دونوں پڑھنا افضل ہے، اور دور دراز کے لوگوں کو اگر جمعہ کے لئے جامع مسجد آنے میں مشقت اور دشواری ہو تو اس صورت میں صرف عید پر اکتفا ہو سکتا ہے، اور اس صورت میں ظہر پڑھ لے۔

1311- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي مُغِيرَةُ الضَّبِّيُّ، عَنْ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: < اجْتَمَعَ عِيدَانِ فِي يَوْمِكُمْ هَذَا، فَمَنْ شَاءَ أَجْزَأَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ، وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ >.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۴۱۹، ومصباح الزجاجۃ: ۴۶۱) (صحیح)
(ابوداود : ۱۰۷۳) نے محمد بن المصفی سے اسی سند سے یہ حدیث روایت کی ہے، اور ابن عباس کے بجائے، ابو ہریرہ کہا ہے، بوصیری نے اس کو محفوظ کہا ہے، اور وہ مولف کے ہاں آنے والی روایت ہے)
۱۳۱۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تمہارے آج کے دن میں دو عیدیں جمع ہوئی ہیں، لہٰذا جو جمعہ نہ پڑھنا چاہے اس کے لئے عید کی صلاۃ ہی کافی ہے، اور ہم تو ان شاء اللہ جمعہ پڑھنے والے ہیں''۔

[1311/أ] حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِرَبِّهِ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ الضَّبِّيِّ، عَنْ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، نَحْوَهُ۔
* تخريج: د/ الصلاۃ ۲۱۷ (۱۰۷۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۸۲۷) (ضعیف)
(سند میں بقیہ بن الولید مدلس ہیں، اور ان کی احادیث عمدہ نہیں ہوتیں)
(۱۳۱۱/أ) اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی روایت مرفوعاً آئی ہے ۔

1312- حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اجْتَمَعَ عِيدَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، ثُمَّ قَالَ: < مَنْ شَاءَ أَنْ يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ فَلْيَأْتِهَا، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يَتَخَلَّفَ فَلْيَتَخَلَّفْ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۷۷۲، ومصباح الزجاجۃ: ۴۶۲) (صحیح)
(سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں دو راوی مندل و جبارہ ضعیف ہیں)
۱۳۱۲- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں دو عیدیں (عید اور جمعہ) اکٹھا ہو گئیں، تو آپ نے لوگوں کو عید پڑھائی، پھر فرمایا ''جو جمعہ کے لئے آنا چاہے آئے، اور جو نہ چاہے نہ آئے'' ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
167- بَاب مَا جَاءَ فِي صَلاةِ الْعِيدِ فِي الْمَسْجِدِ إِذَا كَانَ مَطَرٌ
۱۶۷-باب: بارش کی وجہ سے صلاۃِ عید مسجد میں پڑھنے کا بیان​

1313- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِالأَعْلَى بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا يَحْيَى عُبَيْدَاللَّهِ التَّيْمِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَصَابَ النَّاسَ مَطَرٌ فِي يَوْمِ عِيدٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَصَلَّى بِهِمْ فِي الْمَسْجِدِ۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۵۷ (۱۱۶۰)، (تحفۃ الأشراف:۱۴۱۲۰) (ضعیف)
(اس کی سند میں عیسیٰ بن عبد الاعلی مجہول ہیں)
۱۳۱۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں عید کے دن بارش ہوئی، تو آپ ﷺ نے انہیں عید مسجد ہی میں پڑھائی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
168- بَاب مَا جَاءَ فِي لُبْسِ السِّلاحِ فِي يَوْمِ الْعِيدِ
۱۶۸- باب: عید کے دن ہتھیار بند ہونے کا حکم​

1314- حَدَّثَنَا عَبْدُالْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا نَائِلُ بْنُ نَجِيحٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعيلُ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَائٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى أَنْ يُلْبَسَ السِّلاحُ فِي بِلادِ الإِسْلامِ فِي الْعِيدَيْنِ إِلا أَنْ يَكُونُوا بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۰۸، ومصباح الزجاجۃ: ۴۶۳) (ضعیف جدا)
(نائل بن نجیح کے حدیث کی کوئی اصل نہیں، نیز اسماعیل بن زیاد متروک راوی ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۵۶۴۵)
۱۳۱۴- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اسلامی شہروں میں عیدین کے دنوں میں ہتھیار باندھ کر جانے سے منع فرمایا، الا یہ کہ دشمن کا سامنا ہو۔
 
Top