• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
{ 7- كِتَابُ الصِّياَمِ }
۷- کتاب: صیام کے احکام ومسائل

1- بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصِّيَامِ
۱- باب: صیام کی فضیلت کا بیان​

1638- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ مَا شَاءَ اللَّهُ، يَقُولُ اللَّهُ إِلا الصَّوْمَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ >۔
* تخريج: حدیث وکیع عن الأعمش قد أخرجہ: م/الصوم ۳۰ (۱۱۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۲۰)، وحدیث أبي معاویہ عن الأعمش قد أخرجہ: م/الصوم ۳۰ (۱۱۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۴۷۰)، حم (۲/۲۳۲، ۲۵۷، ۲۶۶، ۲۷۳، ۲۹۳، ۳۵۲، ۴۴۳، ۴۴۵، ۴۷۵، ۴۷۷، ۴۸۰، ۵۰۱)، دي/ الصوم ۵۰ (۱۸۱۱) (صحیح)

۱۶۳۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ''انسان کی ہر نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھادی جا تی ہے،اللہ تعالی فر ما تاہے: سوائے صیام کے اس لئے کہ وہ میرے لئے خاص ہے، اور میں ہی اس کا بد لہ دوںگا،آدمی اپنی خواہش اور کھانا میرے لئے چھوڑ دیتا ہے، صائم کے لئے دو خو شیا ںہیں :ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملنے کے وقت، اور صائم کے منہ کی بو اللہ تعالی کے نز دیک مشک کی بو سے بہتر ہے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ صیام کے سوا دوسری نیکیوں کا ثواب معین اور معلوم ہے ، یا ان کا ثواب دینا فرشتوں کو سونپ دیا گیا ہے اور صیام کا ثواب اللہ تعالیٰ نے خاص اپنے علم میں رکھا ہے، اور وہ خود ہی قیامت کے دن صائم کو عنایت فرمائے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اور نیکیوں میں ریا کی گنجائش ہے،صیام ریا سے پاک ہے ، آدمی اسی وقت صوم رکھے گا اور حیوانی ونفسانی خواہشات سے اسی وقت باز رہے گا جب اس کے دل میں اللہ تعالی کا ڈر ہوگا، ورنہ صوم نہ رکھے گا اور لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو صائم ظاہر کرے گا۔ خلوف سے مراد وہ بوہے جو سارے دن بھوکا پیاسا رہنے کی وجہ سے صائم کے منہ سے آتی ہے۔​

1639- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ،أَنَّ مُطَرِّفًا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيَّ دَعَا لَهُ بِلَبَنٍ يَسْقِيهِ قَالَ مُطَرِّفٌ: إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < الصِّيَامُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَال >۔
* تخريج: ن/الصیام ۴۳ (۲۲۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۷۱)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۲،۲۱۷) (صحیح)

۱۶۳۹- قبیلہ عامر بن صعصعہ کے مطرف نامی ایک فر د بیان کرتے ہیں کہ عثما ن بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ نے انہیں پلانے کے لیے دودھ منگایا ،تو انہوں نے کہا کہ میں صوم سے ہو ں، اس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فر ماتے سنا ہے: ''صوم جہنم سے ڈھال ہے جیسے تم میں سے کسی کے پاس لڑائی میں ڈھال ہوتی ہے '' ۔​

1640- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ،أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ .يُدْعَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ؟ فَمَنْ كَانَ مِنَ الصَّائِمِينَ دَخَلَهُ، وَمَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا >۔
* تخريج: ت/الصوم ۵۵ (۷۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۴۷۷۱)، وقد أخرجہ: خ/الصوم ۴ (۱۸۹۶)، بدأالخلق ۹ (۳۲۵۷)، م/الصوم۳۰ (۱۱۵۲)،کلاھمادون جملۃ الظمأ، ن/الصیام۴۳ (۲۲۳۸)، حم (۵/۳۳۳، ۳۳۵) (صحیح) ( وَمَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا"
کا جملہ صحیح نہیں ہے، تراجع الألبانی: رقم: ۳۵۱)
۱۶۴۰- سہل بن سعدرضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺنے فر مایا : ''جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، قیامت کے دن پکا را جا ئے گا،کہا جائے گا صائم کہاں ہیں؟ تو جو صائم میں سے ہو گا وہ اس دروازے سے داخل ہوگا اور جو اس میں داخل ہوگا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : صائم سے مراد وہ اہل ایمان ہیں جو رمضان کے فرض صیام کے علاوہ دیگر ایام میں کثرت سے نفلی صیام رکھتے ہوں، ورنہ رمضان کے صوم تو ہر مسلمان کے لئے ضروری ہیں۔​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
2- بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ
۲- باب: ماہ رمضان کی فضیلت​

1641- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ >۔
* تخريج: خ/الإیمان ۲۷ (۳۸)، الصوم ۶ (۱۹۰۱)، التراویح ۱ (۲۰۰۹)، ن/قیام اللیل ۳ (۱۶۰۴)، الصوم ۲۲ (۲۱۹۶) الإیمان ۲۱ (۵۰۲۷)، ۲۲ (۵۰۳۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۳۵۳)، وقد أخرجہ: م/المسافرین ۲۵ (۷۶۰)، د/الصلاۃ ۳۱۸ (۱۳۷۱)، ت/الصوم ۱ (۶۸۳)، ۸۳ (۸۰۸)، ط/الصلاۃ في رمضان ۱ (۲)، حم (۲/۲۴۱، ۲۸۱، ۲۸۹، ۴۰۸، ۴۲۳، ۴۷۳، ۴۸۶، ۵۰۳، ۵۲۹، دي/الصوم ۵۴ (۱۸۱۷) (صحیح)

۱۶۴۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا: ''جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے صوم رکھا، اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جائیں گے''۔​

1642- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < إِذَا كَانَتْ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ، صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ وَمَرَدَةُ الْجِنِّ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ، فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَابٌ، وَفُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَابٌ، وَنَادَى مُنَادٍ: يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ، وَيَابَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ، وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ،وَذَلِكَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ "۔
* تخريج: ت/الصوم ۱ (۶۸۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۴۹۰)، وقد أخرجہ: خ/الصوم ۵ (۱۸۹۸،۱۸۹۹)، بدأالخلق ۱۱ (۳۶۷۷)، م/الصوم ۱ (۱۰۷۹)، ن/الصیام ۳ (۲۰۹۹)، ط/الصیام ۲۲ (۵۹)، حم (۲/۲۸۱، ۲۸۲، ۳۵۷، ۳۷۸، ۴۰۱)، دي/الصوم ۵۳ (۱۸۱۶) (صحیح)

۱۶۴۲- ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا:'' جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطان اور سرکش جن زنجیروں میں جکڑدئیے جا تے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جا تے ہیں، اور اس کا کو ئی بھی دروازہ کھلا ہو ا نہیں رہتا، جنت کے دروازے کھول دئیے جا تے ہیں، اور اس کا کو ئی بھی دروازہ بند نہیں رہتا، منادی پکارتا ہے: اے بھلائی کے چاہنے والے! بھلائی کے کا م پہ آگے بڑھ ،اور اے بر ائی کے چاہنے والے! اپنی بر ائی سے رک جا، کچھ لوگوں کو اللہ جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے ، اور یہ(رمضان کی ) ہر رات کو ہو تا ہے'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یہی وجہ ہے کہ رمضان میں اہل ایمان کی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف بڑھ جاتی ہے، اور وہ اس میں تلاوت قرآن ،ذکر وعبادت اورتوبہ واستغفارکاخصوصی اہتمام کرنے لگتے ہیں۔​

1643- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ لِلَّهِ عِنْدَ كُلِّ فِطْرٍ عُتَقَاءَ وَذَلِكَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۳۳۵، ومصباح الزجاجۃ: ۵۹۷) (حسن صحیح)
(حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب : ۹۹۱ - ۹۹۲ ، صحیح ابن خزیمہ : ۱۸۸۳ )
۱۶۴۳- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا : ''اللہ تعالی ہر افطار کے وقت کچھ لو گوں کو جہنم سے آزاد کر تا ہے اور یہ(رمضان کی ) ہررات کو ہو تا ہے ''۔​

1644- حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِلالٍ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: دَخَلَ رَمَضَانُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ هَذَا الشَّهْرَ قَدْحَضَرَكُمْ، وَفِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَهَا فَقَدْ حُرِمَ الْخَيْرَ كُلَّهُ وَلا يُحْرَمُ خَيْرَهَا إِلامَحْرُومٌ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۳۲۴، ومصباح الزجاجۃ: ۵۹۸) (حسن صحیح)

۱۶۴۴- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رمضان آیا تو رسول کرام ﷺنے فر ما یا : ''یہ مہینہ آگیا اور اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے،جو اس سے محروم رہا وہ ہر طرح کے خیر (بھلائی )سے محروم رہا، اور اس کی بھلائی سے محروم وہی رہے گا جو ( واقعی ) محروم ہو '' ۔​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
3- بَاب مَا جَاءَ فِي صِيَامِ يَوْمِ الشَّكِّ
۳- باب: شک کے دن کے صوم کا بیان​
1645- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَقَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ، فَأُتِيَ بِشَاةٍ، فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ عَمَّارٌ: مَنْ صَامَ هَذَا الْيَوْمَ فَقَدْ عَصَى أَبَاالْقَاسِمِ ﷺ۔

* تخريج: خ/الصوم ۱۱ (۱۹۰۶)،(تعلیقا) د/الصوم ۱۰ (۲۳۳۴)، ت/الصوم ۳ (۶۸۶)، ن/الصیام ۲۰ (۲۱۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۵۴) وقد أخرجہ: دي/الصوم ۱ (۱۷۲۴) (صحیح)​
۱۶۴۵- صلہ بن زفر کہتے ہیں کہ ہم شک والے دن میں عمار بن یاسررضی اللہ عنہ کے پاس تھے ان کے پاس ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی بعض لو گ اس کو دیکھ کرالگ ہو گئے،(کیوں کہ وہ صوم سے تھے)عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے ایسے دن میں صوم رکھا اس نے ابوالقاسمﷺ کی نا فرمانی کی ۱؎ ۔​
وضاحت ۱؎ : شک والے دن سے مراد ۳۰شعبان کادن ہے یعنی بادلوں کی وجہ سے ۲۹ویں کو چاندنظر نہ آیا ہو تو پتہ نہیں چلتاکہ یہ شعبان کا تیسواں دن ہے یا رمضان کا پہلا دن اسی وجہ سے اسے شک کا دن کہتے ہیں۔​
1646- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ تَعْجِيلِ صَوْمِ يَوْمٍ قَبْلَ الرُّؤْيَةِ۔

* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۴۳۳۹، ومصباح الزجاجۃ: ۵۹۹) (صحیح)​
(سند میں عبد اللہ بن سعید المقبری ضعیف ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے ، صحیح ابو داود : ۲۰۱۵)​
۱۶۴۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے چاند دیکھنے سے ایک روز پہلے صوم رکھنے سے منع فر مایا ۔​
1647- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْعَلاءُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِالرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: عَلَى الْمِنْبَرِ، قَبْلَ شَهْرِ رَمَضَانَ <الصِّيَامُ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَنَحْنُ مُتَقَدِّمُونَ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَتَقَدَّمْ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَتَأَخَّرْ >۔

* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۳۶، ومصباح الزجاجۃ: ۶۰۰) (ضعیف)​
( سند میںھیثم بن حمید ضعیف ہے، نیز (۱۶۵۰) نمبر پر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے یہ مخالف ہے)​
۱۶۴۷- معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما منبر پر کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ رمضان سے پہلے منبر پر فر مارہے تھے: ''صوم فلاں فلاں دن شروع ہوگا،اور ہم اس سے پہلے سے صوم رکھنے والے ہیں لہٰذا جس کا جی چاہے پہلے سے صوم رکھے، اور جس کا جی چا ہے مؤخر کرے'' ۱؎ ۔​
وضاحت ۱؎ : یعنی رمضان کا دن آجائے تب صوم شروع کرے ،واضح رہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے، مسئلہ کے لیے حدیث نمبر (۱۶۵۰) کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیں۔​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
4- بَاب مَا جَاءَ فِي وِصَالِ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ
۴- باب: شعبان کے صیام کو رمضان کے صیام سے ملانے کا بیان​

1648- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ،عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ؛ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَصِلُ شَعْبَانَ بِرَمَضَانَ۔
* تخريج: ت/الصوم ۳۷ (۷۳۶)، ن/الصیام ۱۹ (۲۱۷۸)، ۷۰ (۲۳۵۴، ۲۳۵۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۳۲)، وقد أخرجہ: د/الصوم ۱۱ (۲۳۳۶)، حم (۶/۳۰۰، ۳۱۱)، دي/الصوم ۳۳ (۱۷۸۰) (صحیح)
( ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود : ۲۰۲۴)
۱۶۴۸- ام المو منین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ شعبان کو رمضان سے ملا دیتے تھے۔​

1649- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ الْغَازِ،أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ، عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَتْ: كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ حَتَّى يَصِلَهُ بِرَمَضَانَ ۔
* تخريج: ت/الصیام ۴۴ (۷۴۵ مختضراً)، ن/الصیام ۱۹ (۲۱۸۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۸۱)، وقد أخرجہ: خ/الصوم ۵۲ (۹۷۰)، م/الصیام ۳ (۱۰۸۲)، ط/الصیام ۲۲ (۵۶)، حم (۶/۸۰، ۸۹، ۱۰۶)
(یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ۱۷۳۹) (حسن صحیح)
(صحیح أبی داود : ۲۱۰۱)
۱۶۴۹- ربیعہ بن الغاز سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المو منین عا ئشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کے صیام کے سلسلے میں پو چھا تو انھوں نے کہا : آپﷺ پو رے شعبان صوم رکھتے تھے یہاں تک کہ اُسے رمضا ن سے ملا دیتے تھے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : پورے شعبان صیام رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ آپﷺ شعبان میں صیام زیادہ رکھتے تھے کیونکہ اس مہینہ میں اعمال رب العالمین کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں ،اور آپ کو یہ بات بے حدپسند تھی کہ جب آپ کے اعمال بارگاہ الٰہی میں پیش ہوں تو آپ صیام کی حالت میں ہوں۔​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
5- بَاب مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ أَنْ يُتَقَدَّمَ رَمَضَانُ بِصَوْمٍ إِلا مَنْ صَامَ صَوْمًا فَوَافَقَهُ

۵- باب: رمضا ن سے ایک روز پہلے صوم رکھنے کی ممانعت اگر کو ئی شخص پہلے سے صوم رکھتا چلا آ یا ہوتو جائز ہے​
1650- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْحَمِيدِ بْنُ حَبِيبٍ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لاتَقَدَّمُوا صِيَامَ رَمَضَانَ بِيَوْمٍ وَلا بِيَوْمَيْنِ إِلا رَجُلٌ كَانَ يَصُومُ صَوْمًا فَيَصُومُهُ >۔

* تخريج: ن/الصوم ۳۱ (۲۱۷۱، ۲۱۷۲)، ۳۸ (۲۱۸۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۳۹۱)، وقد أخرجہ: خ/الصوم ۱۴ (۱۹۱۴)، م/الصوم ۳ (۱۰۸۲)، د/الصوم ۱۱ (۲۳۳۵)، ت/الصوم ۲ (۶۸۵)، حم (۳/۲۳۴، ۳۴۷، ۴۰۸، ۴۳۸، ۷ ۷ ۴، ۴۹۷، ۵۱۳)، دي/الصوم ۴ (۱۷۳۱) (صحیح)​
۱۶۵۰- ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے صوم نہ رکھو ،الا یہ کہ کوئی آدمی پہلے سے صوم رکھ رہا ہو تو وہ اسے رکھے '' ۱؎ ۔​
وضاحت ۱؎ : مثلاً پہلے سے جمعرات یا سوموار(پیر) کے صوم رکھنے کا معمول ہو، اور یہ دن اتفاق سے رمضان سے دویاایک دن پہلے آجائے تو اس کا صیام رکھے کیونکہ یہ صوم رمضان کے استقبا ل کے لیے نہیں ہے۔​
1651- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ،(ح) وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا كَانَ النِّصْفُ مِنْ شَعْبَانَ فَلا صَوْمَ حَتَّى يَجِيئَ رَمَضَانُ >.

* تخريج: د/الصوم ۱۲ (۲۳۳۷)، ت/الصوم ۳۸ (۷۳۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۰۵۱، ۱۴۰۹۵)، وقد أخرجہ: دي/الصوم ۳۴ (۱۷۸۱) (صحیح)​
۱۶۵۱- ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب نصف شعبان ہو جا ئے ،تو صوم نہ رکھو،جب تک کہ رمضا ن نہ آجا ئے'' ۱؎ ۔​
وضاحت ۱؎ : یہ بات عام امت کے لئے ہے،نبی اکرمﷺ کے بارے میں آتاہے کہ آپ شعبان کے صیام کو رمضان سے ملادیا کرتے تھے کیونکہ آپ کو روحانی قوت حاصل تھی اس لئے صوم آپ کے لئے کمزوری کا سبب نہیں بنتا تھا،لیکن امت کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ نصف ثانی میں صوم نہ رکھیں تاکہ ان کی قوت وتوانائی رمضان کے صیام کے لئے برقرار رہے۔​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
6- بَاب مَا جَاءَ فِي الشَّهَادَةِ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلالِ
۶- باب: رویت ہلال( چاند دیکھنے) کی گو اہی کا بیان​

1652- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِاللَّهِ الأَوْدِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَال: حَدَّثَنَا أَبُوأُسَامَةَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيُّ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: أَبْصَرْتُ الْهِلالَ اللَّيْلَةَ، فَقَالَ: < أَتَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ > قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: < قُمْ يَا بِلالُ! فَأَذِّنْ فِي النَّاسِ أَنْ يَصُومُوا غَدًا >.
قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: هَكَذَا رِوَايَةُ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، فَلَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَقَالَ: فَنَادَى أَنْ يَقُومُوا وَأَنْ يَصُومُوا۔
* تخريج: د/الصوم ۱۴ (۲۳۴۰، ۲۳۴۱)، ت/الصوم ۷ (۶۹۱)، ن/الصوم ۶ (۲۱۱۵)، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۰۴)، وقد أخرجہ: دي/الصوم ۶ (۱۷۳۴) (ضعیف)

(سند میں سماک ہیں جن کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے)
۱۶۵۲- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی) نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ،اور اس نے کہا : رات میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ ﷺنے پو چھا : ''کیا تم اس بات کی گو اہی دیتے ہوکہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور محمدﷺ اس کے رسول ہیں '' ؟ اس نے کہا :ہاں ،آپ ﷺنے فرمایا: ''اے بلال اٹھو، اور لو گوں میں اعلان کردو کہ لو گ کل صوم رکھیں''۔
ابو علی کہتے ہیں: ایسے ہی ولید بن ابی ثور اور حسن بن علی کی روایت ہے ،اس کو حماد بن سلمہ نے روایت کیا ہے ،اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا اور کہا: تو بلال رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ لوگ قیام اللیل کریں( یعنی صلاۃ تراویح پڑھیں) اور صیام رکھیں ۔​

1653- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُمُومَتِي مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالُوا: أُغْمِيَ عَلَيْنَا هِلالُ شَوَّالٍ، فَأَصْبَحْنَا صِيَامًا فَجَاءَ رَكْبٌ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ، فَشَهِدُوا عِنْدَالنَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُمْ رَأَوُا الْهِلالَ بِالأَمْسِ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يُفْطِرُوا، وَأَنْ يَخْرُجُوا إِلَى عِيدِهِمْ مِنَ الْغَدِ۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۵۵ (۱۱۵۷)، ن/صلاۃ العیدین ۱ (۱۵۵۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۶۰۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۵۷،۵۸) (صحیح)

۱۶۵۳- ابو عمیر بن انس بن مالک کہتے ہیں کہ میرے انصاری چچائو ں نے جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھے ، مجھ سے بیان کیا ہے کہ ہمارے اوپر شوال کا چاند مشتبہ ہو گیا تو اس کی صبح ہم نے صوم رکھا،پھر شام کو چند سوار آئے اور انھوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس گواہی دی کہ انھو ں نے کل چاند دیکھا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ صوم توڑ دیں اور دوسرے دن صبح عید کے لئے نکلیں ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عید کے چاند کے لئے دو آدمیوں کی شہادت ضروری ہے، اور اہل حدیث کا یہ قول ہے کہ اگر شوال کے چاند کے دن یعنی رمضان کی ۲۹ تاریخ کو بادل ہو توتیس دن پورے کرے جب تک چاند ثابت نہ ہو ، جیسا کہ آگے آنے والی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آیاہے ۔​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
7- بَاب مَا جَاءَ فِي " صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ "

۷- باب: چاند دیکھ کر صوم رکھنے اور چاند دیکھ کر صوم توڑنے کا بیان​
1654- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ،عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ فَصُومُواوَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ > قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَصُومُ قَبْلَ الْهِلالِ بِيَوْمٍ۔

* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۸۰۴)، وقد أخرجہ: خ/الصوم ۵ (۱۹۰۰)، ۱۱ (۱۹۰۸)، م/الصوم ۲ (۱۰۸۱)، د/الصوم ۴ (۲۳۲۰)، ن/الصوم ۷ (۲۱۲۲)، ط/الصیام ۱ (۱) حم (۲/۵، ۵/۵، ۱۳، ۶۳، ۱۴۵)، دي/الصوم ۲ (۱۷۲۶) (صحیح)​
( ملاحظہ ہو: الإرواء : ۴/۱۰ و صحیح أبی داود : ۲۰۰۹)​
۱۶۵۴- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم چاند دیکھ لو تو صوم رکھو ،اور چاند دیکھ کر ہی صوم توڑا کرو، اور اگر چاند بادل کی وجہ سے مشتبہ ہو جا ئے تو تیس دن کی تعداد پو ری کرو'' ۱؎ ۔​
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما چاند نکلنے کے ایک روز پہلے سے ہی صوم رکھنا شروع کردیتے تھے۔​
وضاحت ۱؎ : اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ صوم رکھنے اور چھوڑنے میں چاند دیکھنا ضروری ہے محض فلکی حساب کافی نہیں۔​
رہا یہ مسئلہ کہ ایک علاقہ کی رویت دوسرے علاقہ والوں کے لیے معتبرہو گی یا نہیں تو اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے ، رویت ہلال کا مسئلہ ہمیشہ بحث کا موضوع بنا رہتاہے ، اس لیے اس مسئلہ کی وضاحت ضروری ہے :

اگرکسی جگہ چاند نظرآجائے تو کیا سارے مسلمانوں کے لیے واجب ہے کہ وہ اس رویت کی بنا پر صیام رکھیں یا صیام توڑ دیں یا ہرملک اور علاقہ کے لوگ اپنے ملک کے مطلع کے مطابق چاند دیکھ کر اس کا اعتبارکریں ، اور اس کے مطابق عمل کریں۔​
(۱) جمہور اہل علم جن میں امام ابوحنیفہ اورامام احمد بھی داخل ہیں کے نزدیک اگرایک شہر میں چاند نکل آئے تو ہرجگہ کے لوگ اس کے مطابق صیام رکھیں، اور چھوڑیں ،یعنی ایک علاقے کی رویت دوسرے علاقے کے لیے کافی ہوگی، ا س لیے کہ حدیث میں وارد ''صوموا '' اور ''أفطروا'' کا حکم عام ہے، اس کے مخاطب دنیا کے تمام مسلمان ہیں ، ان کے نزدیک رویت ہلال میں مطالع کے اتفاق اور اختلاف کا کوئی اعتبارنہیں۔​
(۲) علماء کی ایک جماعت جن میں امام شافعی سرفہرست ہیں کے نزدیک رویت ہلال کے مسئلے میں اختلافِ مطالع مؤثر اورمعتبر ہے، زیرنظر حدیث میں جوحکم ہے وہ ان لوگوں کے لیے جن کے یہاں ہلال نظرآگیا ہے، لیکن جہاں چاندنظرہی نہیں آیا تو ان کے لیے یہ حکم اس وقت مؤثر ہوگا جب چاند نظرآئے جا ئے گاجیسے صوم وصلاۃ کے اوقات میں ہرجگہ کے طلوع اورغروب کا اعتبارہے ، ایسے ہی چاند کی رویت میں بھی اختلافِ مطالع مؤثرہے ،اس لیے ایک علاقہ کی رویت دوسرے علاقے کے مسلمانوں کے لئے کافی نہیں، اس حدیث کے مخاطب صرف وہ مسلمان ہیں جنھوں نے چاند دیکھا ہو،اور جن علاقے کے مسلمانوں نے چانددیکھا ہی نہیں وہ اس کے مخاطب نہیں ہیں، اس لیے ہر علاقے کے لیے اپنی اپنی الگ الگ رویت ہے جس کے مطابق وہ صوم رکھنے اور عیدمنانے کا فیصلہ کریں گے ۔​
شیخ الإسلام ابن تیمیہ کہتے ہیں: اہل علم کا اس مسئلے پر اتفاق ہے کہ مطالع مختلف ہوتے ہیں، اگرمطلع ایک ہو تو صیام لازمی طورپررکھنا ہوگا، ورنہ اختلافِ مطالع کی صورت میں صیام رکھنا ضروری نہیں ہوگا، شافعیہ کا صحیح ترین قول نیز حنبلی مذہب کا ایک قول یہی ہے ، اس عقلی دلیل کے ساتھ اختلافِ مطالع کے مؤثرہونے کی نقلی دلیل صحیح مسلم میں آئی ہے :کریب کہتے ہیں کہ میں شام آیا اور جمعہ کی رات میں رمضان کا چاند دیکھا آخری مہینہ میں واپس مدینہ آیا تو مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا : تم لوگوں نے شام میں کب چانددیکھا تو میں نے جواب دیا کہ جمعہ کی رات کو لوگوں نے چانددیکھا اور صیام رکھا ،ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم لوگوں نے مدینہ میں سنیچرکی رات کوچانددیکھاہے،ہم چاند دیکھ کر صیام توڑیں گے یا تیس دن پورا کریں گے ، اس لیے کہ رسول اکرمﷺ نے ہمیں ایسے ہی حکم دیا ہے ۔​
امام ترمذی فرماتے ہیں کہ اہل علم کا عمل اس حدیث پر ہے ۔​
اس قصے سے یہ بات واضح ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے شام والوں کی رویت کا اعتبارنہیں کیا بلکہ مدینہ والوں کی رویت کومعتبرمانا ۔​
اس مذہب کے قائلین اختلافِ مطالع کوجوکہ ایک حقیقت ہے رویت ہلال کے مسئلہ میں معتبرمانتے ہیں،امت میں اس سلسلے میں شروع سے اختلاف چلاآرہا ہے ،جس کی بنیادحدیث کے ساتھ ساتھ اختلاف مطالع کومعتبرماننابھی ہے ۔​
کتاب الزلال کے مؤلف فرماتے ہیں: یہ بات یقینی طورپرجان لینی چاہئے صحیح بات جس پر محقق علمائے حدیث و اہل نظر اورفلکیات کے ماہرین کا اتفاق ہے کہ رویتِ ہلال میں دیکھا جائے گا کہ جس جگہ رویت ہوئی ہے،وہاں سے دوہزاردوسو چھبیس (۲۲۲۶) کلومیٹر کے درمیان کی دوری کا حکم اتحادمطالع کی وجہ سے صیام رکھنے اورتوڑنے میں یکساں ہوگا ، اور اگراس سے زیادہ مسافت ہوگی تو اس کا اعتبارصحیح نہیں ہوگا، اورہر علاقے کا حکم اس کے مطلع کے اختلاف کے مطابق ہوگا، چاہے یہ دوری مشرق ومغرب کی ہویا شمال وجنوب کی اورچاہے یہ ایک ملک میں ہویا ایک اقلیم میں، یہ شرعی دلائل اورفلکیاتی حساب کے موافق ہے ، اور اس سے سارے اشکالات ختم ہوجاتے ہیں، واللہ اعلم۔​
رویت ہلال سے متعلق سعودی عرب کے کبارعلماء کے بورڈ کے متفق علیہ فتوے کا خلاصہ درج ذیل ہے:​
اختلافِ مطالع ضروری طورپر معلوم ومشہورچیزہے، جس کے بارے میں کوئی اختلاف ہے ہی نہیں ، ہاں علماء کے نزدیک اس کے معتبر ماننے اور نہ ماننے کے درمیان اختلاف ہے ، اختلافِ مطالع کو رویت ہلال کے سلسلے میں مؤثرومعتبرماننا اورنہ ماننا ان مسائل میں سے ہے جن میں اجتہادکی گنجائش ہے، معتبر اہل علم اور اہل دین کے یہاں اس میں اختلاف رہا ہے ، اور یہ جائز قسم کا اختلاف ہے ،اہل علم کی اس میں دو رائے ہے، ایک گروہ اختلافِ مطالع کو مؤثر مانتاہے،اوردوسرے گروہ کے یہاں اختلافِ مطالع کا اعتبارنہیں ہے ، ہرفریق کا اپنا اپنا استدلال ہے ،علماء بورڈ نے اس مسئلے کے مختلف گوشوں پرغوروخوض کرکے اوریہ مان کر کہ یہ مسئلہ چودہ سال سے امت میں موجودہے ، اس رائے کا اظہارکیا کہ ان گزشتہ صدیوں میں ہمیں کسی ایسے زمانے کا علم نہیں ہے جس میں ایک شہرکی رویت کی بنا پر سب لوگوں نے ایک دن ہی عیدمنائی ہو، اس لیے بورڈ کے ممبران کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ جیسے ہے ویسے ہی رہنے دیا جائے، ہر اسلامی ملک کو اس بات کا حق ہے کہ ان دونوں میں سے ان کے علماء وفقہاء جس رائے کے مطابق فتوی دیں اس کے مطابق عمل کیا جائے ، رہ گیا چاند کا ثبوت فلکیاتی حساب سے توعلماء بورڈ اسے بالاجماع غیرمعتبر مانتاہے، (واللہ اعلم)۔​
(ملاحظہ ہو: توضیح الأحکام من بلوغ المرام للشیخ عبداللہ بن عبدالرحمن البسام حدیث نمبر:۵۴۱)​
1655- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُومُوا ثَلاثِينَ يَوْمًا >۔

* تخريج: م/الصوم ۲ (۱۰۸۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۱۰۲)، وقد أخرجہ: خ /الصوم ۱۱ (۱۹۰۶)، ت/الصوم ۲ (۶۸۴)، ن/الصیام ۷ (۲۱۲۰)، حم (۲/ ۲۵۹، ۲۶۳، ۲۸، ۲۸۷، ۴۱۵، ۴۲۲، ۴۳۰، ۴۳۸، ۴۵۴، ۴۵۶، ۴۶۹، ۴۹۷)، دي/الصوم ۲ (۱۷۶۷) (صحیح)​
۱۶۵۵- ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:ـ '' جب تم چاند دیکھو تو صیام رکھو، اور جب چاند دیکھو تو صوم توڑدو، اگر بادل آجا ئے تو تیس صیام پو رے کرو''۔​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
8- بَاب مَا جَاءَ فِي " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ "
۸- باب: مہینہ ۲۹ دن کا بھی ہوتا ہے اس کا بیان​

1656- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < كَمْ مَضَى مِنَ الشَّهْرِ؟ > قَالَ: قُلْنَا: اثْنَانِ وَعِشْرُونَ، وَبَقِيَتْ ثَمَانٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الشَّهْرُ هَكَذَا، وَالشَّهْرُ هَكَذَا، وَالشَّهْرُ هَكَذَا > ثَلاثَ مَرَّاتٍ وَأَمْسَكَ وَاحِدَةً۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۵۱، ومصباح الزجاجۃ: ۶۰۱)، حم (۲/۲۵۱) (صحیح)

۱۶۵۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مہینہ میں کتنے دن گزرے ہیں؟'' ہم نے عرض کیا: بائیس دن گزرے ہیں اور آٹھ دن باقی ہیں،آپ ﷺنے فر مایا: '' مہینہ اتنا ، اتنا اور اتنا ہے، اور تیسری بار ایک انگلی بند کرلی'' ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : آپ ﷺنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے تین بار اشارہ فرمایا، اور تیسری بار میں ایک انگلی بند کرلی تو ۲۹ دن ہوئے ، مطلب آپ کا یہ تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جو کہا کہ ۲۲ دن گزرے ہیں اور آٹھ دن باقی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ مہینہ تیس دن کا ہوتا ہے ، یہ بات نہیں ہے، ۲۹ دن کا بھی ہوتا ہے، اور نبی کریم ﷺ نے ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے ایک ماہ کے لئے ایلا کیا تھا، پھر ۲۹ دن کے بعد ان کے پاس آگئے، اس سے معلوم ہوا کہ اگر ایک مہینہ تک کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے لئے قسم کھائے تو ۲۹ دن قسم پر عمل کرنا کافی ہے ۔​

1657- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا > وَعَقَدَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، فِي الثَّالِثَةِ۔
* تخريج: م/الصوم ۴ (۱۰۸۶)، ن/الصیام ۸ (۲۱۳۷، ۲۱۳۸)، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۲۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۸۴) (صحیح)

۱۶۵۷- سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فر مایا: ''مہینہ اتنا ،اتنا اور اتنا ہے،تیسری دفعہ میں ۲۹ کا عدد بنایا ''۔​

1658- حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَا صُمْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، أَكْثَرُ مِمَّا صُمْنَا ثَلاثِينَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۶۲۲، ومصباح الزجاجۃ: ۶۰۲) (حسن صحیح) (ملاحظہ ہو :صحیح أبی داود : ۲۰۱۱)

۱۶۵۸- ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہﷺ کے زمانے میں بہ نسبت ۳۰ دن کے زیادہ تر انتیس دن کے صوم رکھے ہیں ۔​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
9- بَاب مَا جَاءَ فِي شَهْرَيِ الْعِيدِ
۹- باب: عید کے دونوں مہینوں کا بیان​

1659- حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < شَهْرَا عِيدٍ لا يَنْقُصَانِ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ >۔
* تخريج: خ/الصوم ۱۲ (۱۹۱۲)، م/الصوم ۷ (۱۰۸۹)، د/الصوم ۴ (۲۳۲۳)، ت/الصوم ۸ (۶۹۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۸، ۴۷، ۵۰) (صحیح)

۱۶۵۹- ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: ''عید کے دونوں مہینے رمضا ن اور ذی الحجہ کم نہیں ہوتے '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : یعنی دونوں مہینے ۲۹ دن کے نہیں ہوتے ، اگر ایک ۲۹ کا ہوتا ہے، تو دوسرا تیس کا، اور بعض نے کہا : مطلب یہ ہے کہ گو ان مہینوں کے دن کم ہوں لیکن اجرو ثواب کم نہیں ہوتا ، تیس دن کا ثواب ملتا ہے اور یہی صحیح ہے۔
1660- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمُقْرِءُ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الْفِطْرُ يَوْمَ تُفْطِرُونَ، وَالأَضْحَى يَوْمَ تُضَحُّونَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۴۲۸)، وقد أخرجہ: د/الصوم ۵ (۲۳۲۴)، ت/الصوم ۱۱ (۶۹۷) (صحیح)

۱۶۶۰- ابوہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل ﷺنے فر مایا: '' عید الفطر وہ دن ہے جس میں تم لوگ صوم توڑ دیتے ہو، اور عیدالا ضحی وہ دن ہے جس میں تم لو گ قربانی کرتے ہو '' ۱؎ ۔
وضاحت ۱ ؎ : مطلب یہ ہے کہ جب مسلمان عید کریں تو ہر ایک کو اس میں شریک ہوجانا چاہئے ، جماعت سے الگ رہ کر اپنی عید علیحدہ کرنا اور چاند کی تحقیق میں مبالغہ کرنا ضروری نہیں ہے ، ہماری عید جماعت کی عید کے ساتھ پوری ہوجائے گی، اور جس نے جھوٹ بولا یا جھوٹی گواہی دی اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا ۔​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,579
ری ایکشن اسکور
6,739
پوائنٹ
1,207
10- بَاب مَا جَاءَ فِي الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ
۱۰- باب: سفر میں صوم رکھنے کا بیان​

1661- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: صَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ۔
* تخريج: خ/الصوم ۳۸ (۱۹۴۸)، م/الصوم ۱۵ (۱۱۱۳)، ن/الصوم ۳۱ (۲۲۹۳)، (تحفۃ الأشراف: ۶۴۲۵)، وقد أخرجہ: د/الصوم ۴۲ (۲۴۰۴)، ط/الصیام ۷ (۲۱)، حم (۱/۲۴۴،۳۵۰)، دي/الصوم ۱۵ (۱۷۴۹) (صحیح)

۱۶۶۱- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے سفر میں صیام رکھا بھی ہے، اور نہیں بھی رکھاہے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سفرمیں صیام رکھنے کے سلسلہ میں اختیار ہے چاہے رکھے یا نہ رکھے، اور آگے جوباب آرہا ہے اس کی حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں صیام نہ رکھنا افضل ہے، اس لئے بہتریہی ہے کہ سفر میں صیام نہ رکھا جائے ۔​

1662- حدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: سَأَلَ حَمْزَةُ الأَسْلَمِيُّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي أَصُومُ، أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ؟ فَقَالَ ﷺ: " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ >.
* تخريج: م/الصوم ۱۷ (۱۱۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۹۸۶)، وقد أخرجہ: د/الصوم ۴۲ (۲۴۰۴)، ن/الصیام ۳۱ (۲۳۰۸)، ۴۳ (۲۳۸۶)، حم (۳/۴۹۴)، دي/الصوم ۱۵(۱۷۴۸) (صحیح)

۱۶۶۲- ام المو منین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پو چھا : میں صوم رکھتا ہوں تو کیا میں سفر میں بھی صوم رکھوں ؟تو آپ ﷺنے فر مایا : ''اگر چاہو تو رکھو،اور چاہو تو نہ رکھو''۔​

1663- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ(ح) وحَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْحَمَّالُ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيِّ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي الْيَوْمِ الْحَارِّ الشَّدِيدِ الْحَرِّ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ وَمَا فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ صَائِمٌ إِلا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ۔
* تخريج: م/الصوم ۱۷ (۱۱۲۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۹۱)، وقد أخرجہ: خ/الصوم ۳۵ (۱۹۴۵)، د/الصوم ۴۴ (۲۴۰۹)، حم (۵/۱۹۴، ۶/۴۴) (صحیح)

۱۶۶۳- ابوالد ردا ء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں سخت گرمی کے دن دیکھا کہ آدمی اپنا ہاتھ گرمی کی شدت کی وجہ سے اپنے سر پر رکھ لیتا ، اور لوگوں میں رسول اللہ ﷺ اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے سواکو ئی بھی صائم نہ تھا۔​
 
Top