- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
{7- كِتَابُ الصِّياَمِ}
۷- کتاب: صیام کے احکام و مسائل
۷- کتاب: صیام کے احکام و مسائل
1- بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصِّيَامِ
۱- باب: صیام کی فضیلت کا بیان
1638- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ مَا شَاءَ اللَّهُ، يَقُولُ اللَّهُ إِلا الصَّوْمَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي، لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ، وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ >۔
* تخريج: حدیث وکیع عن الأعمش قد أخرجہ: م/الصوم ۳۰ (۱۱۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۲۰)، وحدیث أبي معاویہ عن الأعمش قد أخرجہ: م/الصوم ۳۰ (۱۱۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۴۷۰)، حم (۲/۲۳۲، ۲۵۷، ۲۶۶، ۲۷۳، ۲۹۳، ۳۵۲، ۴۴۳، ۴۴۵، ۴۷۵، ۴۷۷، ۴۸۰، ۵۰۱)، دي/ الصوم ۵۰ (۱۸۱۱) (صحیح)
۱۶۳۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''انسان کی ہر نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے، اللہ تعالی فر ما تا ہے: سوائے صیام کے اس لئے کہ وہ میرے لئے خاص ہے، اور میں ہی اس کا بد لہ دوں گا، آدمی اپنی خواہش اور کھانا میرے لئے چھوڑ دیتا ہے، صائم کے لئے دو خوشیاں ہیں: ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے رب سے ملنے کے وقت، اور صائم کے منہ کی بو اللہ تعالی کے نزدیک مشک کی بو سے بہتر ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ صیام کے سوا دوسری نیکیوں کا ثواب معین اور معلوم ہے، یا ان کا ثواب دینا فرشتوں کو سونپ دیا گیا ہے اور صیام کا ثواب اللہ تعالیٰ نے خاص اپنے علم میں رکھا ہے، اور وہ خود ہی قیامت کے دن صائم کو عنایت فرمائے گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اور نیکیوں میں ریاء کی گنجائش ہے، صیام ریاء سے پاک ہے، آدمی اسی وقت صوم رکھے گا اور حیوانی و نفسانی خواہشات سے اسی وقت باز رہے گا جب اس کے دل میں اللہ تعالی کا ڈر ہو گا، ورنہ صوم نہ رکھے گا اور لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو صائم ظاہر کرے گا۔ خلوف سے مراد وہ بو ہے جو سارے دن بھوکا پیاسا رہنے کی وجہ سے صائم کے منہ سے آتی ہے۔
1639- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ،أَنَّ مُطَرِّفًا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيَّ دَعَا لَهُ بِلَبَنٍ يَسْقِيهِ قَالَ مُطَرِّفٌ: إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < الصِّيَامُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَال >۔
* تخريج: ن/الصیام ۴۳ (۲۲۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۷۱)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۲،۲۱۷) (صحیح)
۱۶۳۹- قبیلہ عامر بن صعصعہ کے مطرف نامی ایک فرد بیان کرتے ہیں کہ عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ نے انہیں پلانے کے لیے دودھ منگایا، تو انہوں نے کہا کہ میں صوم سے ہوں، اس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ''صوم جہنم سے ڈھال ہے جیسے تم میں سے کسی کے پاس لڑائی میں ڈھال ہوتی ہے''۔
1640- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ،أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ .يُدْعَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ؟ فَمَنْ كَانَ مِنَ الصَّائِمِينَ دَخَلَهُ، وَمَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا >۔
* تخريج: ت/الصوم ۵۵ (۷۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۴۷۷۱)، وقد أخرجہ: خ/الصوم ۴ (۱۸۹۶)، بدأالخلق ۹ (۳۲۵۷)، م/الصوم۳۰ (۱۱۵۲)،کلاھمادون جملۃ الظمأ، ن/الصیام۴۳ (۲۲۳۸)، حم (۵/۳۳۳، ۳۳۵) (صحیح) (وَمَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا" کا جملہ صحیح نہیں ہے، تراجع الألبانی: رقم: ۳۵۱)
۱۶۴۰- سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، قیامت کے دن پکارا جائے گا، کہا جائے گا صائم کہاں ہیں؟ تو جو صائم میں سے ہو گا وہ اس دروازے سے داخل ہو گا اور جو اس میں داخل ہو گا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: صائم سے مراد وہ اہل ایمان ہیں جو رمضان کے فرض صیام کے علاوہ دیگر ایام میں کثرت سے نفلی صیام رکھتے ہوں، ورنہ رمضان کے صوم تو ہر مسلمان کے لئے ضروری ہیں۔