• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
61- بَاب فِي الْمُعْتَكِفِ يَلْزَمُ مَكَانًا مِنَ الْمَسْجِدِ
۶۱- باب: معتکف اعتکاف کے لیے مسجد میں ایک جگہ خاص کر لے​

1773- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، قَالَ نَافِعٌ: وَقَدْ أَرَانِي عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْمَكَانَ الَّذِي كَانَ يَعْتَكِفُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: خ/الاعتکاف ۱ (۲۰۲۵)، ولیس عندہ: قال نافع، م/الاعتکاف ۱ (۱۷۷۱)، د/الصوم ۷۸ (۲۴۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۳۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۳۳) (صحیح)

۱۷۷۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔
نافع کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے وہ جگہ دکھائی ہے جہاں پہ رسول اکرم ﷺ اعتکاف کیا کرتے تھے۱؎۔

وضاحت۱؎: اعتکاف کے لیے ایسی مسجد شرط ہے جس میں باجماعت صلاۃ ہوتی ہو، جمہور کا خیال ہے کہ جس پر جمعہ فرض نہیں وہ ہر اس مسجد میں اعتکاف کر سکتا ہے جس میں صلاۃ باجماعت ہوتی ہو، لیکن جس پر جمعہ فرض ہے اس کے لیے ایسی مسجد میں اعتکاف کرنا چاہئے جہاں صلاۃ جمعہ بھی ہوتی ہو۔

1774- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عِيسَى بْنِ عُمَرَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ كَانَ إِذَا اعْتَكَفَ طُرِحَ لَهُ فِرَاشُهُ أَوْ يُوضَعُ لَهُ سَرِيرُهُ وَرَاءَ أُسْطُوَانَةِ التَّوْبَةِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۲۵۰، ومصباح الزجاجۃ: ۶۳۵) (ضعیف)

۱۷۷۴- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب اعتکاف کرتے تو آپ کا بستر بچھا دیا جاتا تھا یا چارپائی توبہ کے ستون ۱؎ کے پیچھے ڈال دی جاتی تھی۔
وضاحت۱؎: یہ وہی ستون ہے جس میں ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو باندھ لیا تھا کہ جب تک اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہیں کرے گا وہ اسی طرح بندھے رہیں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
62- بَاب الاعْتِكَافِ فِي خَيْمَةِ الْمَسْجِدِ
۶۲- باب: مسجد کے خیمہ میں اعتکاف کرنے کا بیان​

1775- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ ابْنُ غَزِيَّةَ؛ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ اعْتَكَفَ فِي قُبَّةٍ تُرْكِيَّةٍ، عَلَى سُدَّتِهَا قِطْعَةُ حَصِيرٍ، قَالَ: فَأَخَذَ الْحَصِيرَ بِيَدِهِ فَنَحَّاهَا فِي نَاحِيَةِ الْقُبَّةِ، ثُمَّ أَطْلَعَ رَأْسَهُ فَكَلَّمَ النَّاسَ۔
* تخريج: انظر حدیث رقم: ( ۱۷۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۱۹) (صحیح)

۱۷۷۵- ابو سعیدی خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ترکی خیمہ میں اعتکاف کیا، اس کے دروازے پہ بورئیے کا ایک ٹکڑا لٹکا ہوا تھا، آپ نے اس بورئیے کو اپنے ہاتھ سے پکڑا اور اسے ہٹا کر خیمہ کے ایک گوشے کی طرف کر دیا، پھر اپنا سر باہر نکال کر لوگوں سے باتیں کیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
63- بَاب فِي الْمُعْتَكِفِ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَيَشْهَدُ الْجَنَائِزَ
۶۳- باب: معتکف بیمار کی عیادت کرے اور جنازہ میں شریک ہو​

1776- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِالرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: إِنْ كُنْتُ لأَدْخُلُ الْبَيْتَ لِلْحَاجَةِ وَالْمَرِيضُ فِيهِ فَمَا أَسْأَلُ عَنْهُ إِلا وَأَنَا مَارَّةٌ قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلا لِحَاجَةٍ إِذَا كَانُوا مُعْتَكِفِينَ۔
* تخريج: خ/ الإعتکاف ۳ (۲۰۲۹)، م/الخیض ۳ (۲۹۷)،د/الصوم ۷۹ (۲۴۶۸)، ت/الصوم ۸۰ (۸۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۵۷۹، ۱۷۹۲۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۸، ۱۰۴) (صحیح)

۱۷۷۶- عروہ بن زبیر اور عمرہ بنت عبد الرحمن سے روایت ہے کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں (اعتکاف کی حالت میں) گھر میں ضرورت (قضائے حاجت) کے لئے جاتی تھی، اور اس میں کوئی بیمار ہوتا تو میں اس کی بیمار پرسی چلتے چلتے کر لیتی تھی، اور نبی اکرم ﷺ اعتکاف کی حالت میں ضرورت ہی کے تحت گھر میں جاتے تھے۱؎۔
وضاحت۱؎: اس روایت سے معلوم ہوا کہ معتکف جنازہ میں نہیں جا سکتا اور نہ کسی مریض کی عیادت کے لیے جا سکتا ہے إلاّ یہ کہ وہ پیشاب یا پاخانہ کے لیے نکلا ہو اور راستے میں اسے کوئی بیمار نظر آجائے تو وہ اس سے حال چال پوچھ سکتا ہے۔

1777- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْهَيَّاجُ الْخُرَاسَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الْخَالِقِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الْمُعْتَكِفُ يَتْبَعُ الْجِنَازَةَ وَيَعُودُ الْمَرِيضَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۲، ومصباح الزجاجۃ: ۶۳۶) (موضوع)
(سند میں عبد الخالق، عنبسہ اور ہیاج سب ضعیف ہیں، نیز اس کے خلاف ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ متفق علیہ حدیث ہے کہ آپ ﷺ اعتکاف کی حالت میں صرف ضرورت کے وقت ہی نکلتے تھے، نیز ملاحظہ ہو : الضعیفہ : ۴۶۷۹)
۱۷۷۷- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''معتکف جنازہ کے ساتھ جا سکتا ہے، اور بیمار کی عیادت کر سکتا ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
64- بَاب مَا جَاءَ فِي الْمُعْتَكِفِ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَيُرَجِّلُهُ
۶۴- باب: معتکف اپنا سر دھو سکتا ہے اور کنگھی کر سکتا ہے​

1778- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ وَهُوَ مُجَاوِرٌ فَأَغْسِلُهُ وَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي وَأَنَا حَائِضٌ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۲۸۸)، وقد أخرجہ: خ/الحیض ۶ (۳۰۱)، الاعتکاف ۴ (۲۰۲۱)، اللباس ۷۶ (۵۹۲۵)، م/الحیض ۳ (۲۹۷)، د/الصوم ۷۹ (۲۴۶۸)، ن/الطہارۃ ۱۷۶ (۲۷۶)، الحیض ۲۱ (۳۸۷)، ط/الاعتکاف ۱ (۱)، ۷ (۷) حم (۶/۳۲، ۵۵، ۸۶، ۱۷۰، ۲۰۴، دي/الطہارۃ ۱۰۸ (۱۰۹۸)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے : ۶۳۳) (صحیح)

۱۷۷۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اعتکاف کی حالت میں مسجد سے اپنا سر میری طرف بڑھا دیتے تو میں اسے دھو دیتی اور کنگھی کر دیتی، اس وقت میں اپنے حجرے ہی میں ہوتی، اور حائضہ ہوتی اور آپ ﷺ مسجد میں ہوتے۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ معتکف اعتکاف کی حالت میں اپنے بدن میں سے بعض اجزاء باہر نکال سکتا ہے، اور حجرے کا دروازہ مسجد کی طرف تھا تو آپ ﷺ مسجد کی اخیر میں بیٹھ جاتے ہوں گے اور سر مبارک حجرے کے اندر کر دیتے ہوں گے، اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اس کو دھو دیتی ہوں گی، تو اس طرح ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا حجرے کے اندر رہتی ہوں گی اور آپ ﷺ مسجد کے اندر۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
65- بَاب فِي الْمُعْتَكِفِ يَزُورُهُ أَهْلُهُ فِي الْمَسْجِدِ
۶۵- باب: معتکف کے گھر والے مسجد میں آکر اس سے مل سکتے ہیں​

1779- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ بْنِ مُوسَى بْنِ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ تَزُورُهُ، وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً مِنَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ، فَقَامَ مَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقْلِبُهَا، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ بَابَ الْمَسْجِدِ الَّذِي كَانَ عِنْدَ مَسْكَنِ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ، فَمَرَّ بِهِمَا رَجُلانِ مِنَ الأَنْصَارِ، فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ،ثُمَّ نَفَذَا، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ > قَالا: سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا >۔
* تخريج: خ/الاعتکاف ۱۱ (۲۰۳۸)، ۱۲ (۲۰۳۹)، بدا ٔالخلق ۱۱ (۳۲۸۱)، الأحکام ۲۱ (۷۱۷۱)، م/السلام ۹ (۲۱۷۵)، د/الصوم ۷۹ (۲۴۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۰۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۵۶، ۲۸۵،۳۰۹، ۶/۳۳۷)، دي/الصوم ۵۵ (۱۸۲۱) (صحیح)

۱۷۷۹- ام المومنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اکرم ﷺ سے ملنے کے لئے آئیں، اور آپ رمضان کے آخری عشرے میں مسجد کے اندر معتکف تھے، عشاء کے وقت کچھ دیر آپ سے باتیں کیں، پھر اٹھیں اور گھر جانے لگیں، آپ ﷺ بھی ان کے ساتھ انہیں پہنچانے کے لئے اٹھے، جب وہ مسجد کے دروازہ پہ پہنچیں جہاں پہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی رہائش گاہ تھی تو قبیلہ انصار کے دو آدمی گزرے، ان دونوں نے آپ کو سلام کیا، پھر چل پڑے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اپنی جگہ ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی (میری بیوی) ہیں'' ان دونوں نے کہا: سبحان اللہ، یا رسول اللہ! اور یہ بات ان دونوں پہ گراں گزری، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے، مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں شیطان تمہارے دل میں کوئی غلط بات نہ ڈال دے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی شیطان آدمی کا دشمن ہے وہ ایسے مواقع کی تاک میں رہتا ہے، تم نے اس وقت رات میں مجھ کو اکیلی عورت کے ساتھ دیکھا ہے ممکن ہے کہ شیطان تمہارے دل میں یہ خیال ڈالے کہ نبی کریم ﷺ اتنی رات کو اس اجنبی عورت کے ساتھ ہیں تو ضرور کوئی نہ کوئی بات ہو گی -معاذ اللہ - اس وجہ سے میں نے بتلا دیا کہ یہ میری بیوی صفیہ ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
66- بَاب فِي الْمُسْتَحَاضَةِ تَعْتَكِفُ
۶۶- باب: استحاضہ والی عورت کا اعتکاف​

1780- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍالْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: اعْتَكَفَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ، فَكَانَتْ تَرَى الْحُمْرَةَ وَالصُّفْرَةَ، فَرُبَّمَا وَضَعَتْ تَحْتَهَا الطَّسْتَ۔
* تخريج: خ/الحیض ۱۰ (۳۰۹)، الاعتکاف ۱۰ (۲۰۳۷)، د/الصوم ۸۱ (۲۴۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۹۹)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۳۱)، دي/الطہارۃ ۹۳ (۹۰۶) (صحیح)

۱۷۸۰- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آپ کی بیویوں میں سے کسی نے اعتکاف کیا، تو وہ سرخی اور زردی دیکھتی تھیں، تو کبھی اپنے نیچے طشت رکھ لیتی تھیں۱؎۔
وضاحت۱؎: جب خون حیض والے مقررہ دنوں سے زیادہ ہو جائے تو وہ استحاضہ ہے، مستحاضہ کو صوم و صلاۃ سب ادا کرنا چاہئے جیسا کہ اوپر گزرا، اس کا اعتکاف کرنا بھی صحیح ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
67- بَاب فِي ثَوَابِ الاعْتِكَافِ
۶۷- باب: اعتکاف کا ثواب​

1781- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عَبْدِالْكَرِيمِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أُمَيَّةَ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُوسَى الْبُخَارِيُّ، عَنْ عُبَيْدَةَ الْعَمِّيِّ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ فِي الْمُعْتَكِفِ: < هُوَ يَعْكِفُ الذُّنُوبَ وَيُجْرَى لَهُ مِنَ الْحَسَنَاتِ كَعَامِلِ الْحَسَنَاتِ كُلِّهَا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۵۹۷، ومصباح الزجاجۃ: ۶۳۷) (ضعیف)
(سند میں فرقد بن یعقوب ضعیف ہے)
۱۷۸۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معتکف کے بارے میں فرمایا: ''اعتکاف کرنے والا تمام گناہوں سے رکا رہتا ہے، اور اس کو ان نیکیوں کا ثواب جن کو وہ نہیں کر سکتا ان تمام نیکیوں کے کرنے والے کی طرح ملے گا ''۱؎۔
وضاحت۱؎: مثلاً معتکف بیمار پرسی کے لئے نہیں جا سکتا، جنازہ میں شریک نہیں ہو سکتا، تو اللہ تعالی ان نیکیوں کا ثواب اس کو عنایت فرما دے گا جن کو وہ اعتکاف کی وجہ سے نہ کر سکا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
68- بَاب فِيمَنْ قَامَ فِي لَيْلَتَيِ الْعِيدَيْنِ
۶۸- باب: عیدین کی رات میں عبادت کرنے والے کا ثواب​

1782- حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمَرَّارُ بْنُ حَمُّويَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < مَنْ قَامَ لَيْلَتَيِ الْعِيدَيْنِ مُحْتَسِبًا لِلَّهِ لَمْ يَمُتْ قَلْبُهُ يَوْمَ تَمُوتُ الْقُلُوبُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۵۷، ومصباح الزجاجۃ: ۶۳۸) (موضوع)

(سند میں ''محمد بن المصفی'' اور ''بقیہ'' مدلس ہیں، اور دونوں کی روایت عنعنہ سے ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفۃ: ۵۲۱، ۵۱۳۶)
۱۷۸۲- ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص عیدین کی راتوں میں ثواب کی نیت سے اللہ کی عبادت کرے گا، تو اس کا دل نہیں مرے گا جس دن دل مردہ ہو جائیں گے''۔


* * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
{8- كِتَاب الزَّكَاةِ}

۸- کتاب: زکاۃ وصدقات کے احکام و مسائل

1- بَاب فَرْضِ الزَّكَاةِ
۱- باب: زکاۃ کی فرضیت کا بیان ۱؎​

وضاحت۱ ؎: صوم و صلاۃ کے احکام و مسائل کے بعد زکاۃ و صدقات کا بیان شروع ہوا، زکاۃ اسلام کا تیسرا بنیادی رکن ہے، اور صلاۃ ہی طرح فرض اور واجب ہے، زکاۃ سن ۲ ہجری میں فرض ہوئی اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم نے بیاسی (۸۲) جگہ اس کا ذکر صلاۃ کے ساتھ آیا ہے، زکاۃ اجتماعی کفالت اور معاشرہ کی خوشحالی کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے، اور اس کی تنظیم سے معاشرہ کے بہت سارے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔

1783- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: < إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ، فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ، تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ، فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ "۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۱ (۱۳۹۵)، ۱ ۴ (۱۴۵۸)، ۶۳ (۱۴۹۶)، المظالم ۱۰ (۲۴۴۸)، المغازي ۶۰ (۴۳۴۷) التوحید ۱ (۷۳۷۱،۷۳۷۲)، م/الإیمان ۷ (۱۹)، د/الزکاۃ ۴ (۱۵۸۴)، ت /الزکاۃ ۶ (۶۲۵)، البر ۶۸ (۲۰۱۴)، ن/ الزکاۃ ۱ (۲۴۳۷)، ۴۶ (۲۵۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۱۱)، حم ( ۱/۲۳۳)، دي/الزکاۃ۱ (۱۶۵۵) (صحیح)

۱۷۸۳- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی جانب بھیجا، اور فر مایا: ''تم اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے پاس پہنچو گے، تم انہیں اس بات کی دعوت دینا کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اس کا رسول ہوں، اگر وہ اسے مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالی نے ان پر رات و دن میں پانچ صلاۃ فرض کی ہیں، اگر وہ اسے مان لیں تو بتانا کہ اللہ تعالی نے ان کے مالوں میں ان پر زکاۃ فرض کی ہے، جو ان کے مال داروں سے لی جائے گی اور انہیں کے محتاجوں میں بانٹ دی جا ئیگی، اگر وہ اس کو مان لیں تو پھر ان کے عمدہ اور نفیس مال وصول کرنے سے بچے رہنا ۱؎ (بلکہ زکاۃ میں اوسط مال لینا)، اور مظلوم کی بد دعا سے بھی بچنا، اس لیے کہ اس کے اور اللہ تعالی کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ہے''۲؎۔
وضاحت۱؎: زکاۃ میں صاحب زکاۃ سے عمدہ مال لینا منع ہے، البتہ اگر وہ اپنی خوشی سے اللہ تعالی کی رضا کے لئے عمدہ جانور چن کر دے تو لے لیا جائے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غیر مسلم کو اسلام کی دعوت دی جائے، تو سب سے پہلے اس کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور محمد رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی دعوت دی جائے یعنی سب سے پہلے وہ ''لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ'' کی شہادت دے، جب وہ توحید و رسالت پر ایمان لا کر ''لا إلہ إلا اللہ محمد رسول اللہ'' کو اپنی زبان سے دہرائے تو یہ اس بات کا اعلان ہو گا کہ اس نے دین اسلام قبول کر لیا، ایمان نام ہے دل سے توحید و رسالت اور اس کے تقاضوں کے مطابق زندگی گزارنے کے اقرار اور زبان سے اس کے اعتراف اور عملی طور پر اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کا اس لیے توحید و رسالت کے بعد سب سے اہم اور بنیادی رکن اور اسلامی فریضہ یعنی صلاۃ پڑھنے کی دعوت دی جائے، اس کے بعد زکاۃ ادا کرنے کی جیسا کہ اس حدیث میں آیا ہے، چونکہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں صیام رمضان اور بیت اللہ کا حج ہے، اس لیے ان کی طرف دعوت دینے کا کام دوسرے احکام و مسائل سے پہلے ہو گا، ویسے اسلام لانے کے بعد ہر طرح کے چھوٹے بڑے دینی مسائل کا سیکھنا اور اس پر عمل کرنا اسلام کے مطابق زندگی گزارنا ہے، اوراللہ تعالیٰ کا ارشادہے: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِي السِّلْمِ كَآفَّةً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ} [سورة البقرة:۲۰۸] (ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے)
وضاحت۲؎: یعنی وہ فوراً مقبول ہوتی ہے ردّ نہیں ہوتی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
2- بَاب مَا جَاءَ فِي مَنْعِ الزَّكَاةِ
۲- باب: زکاۃ نہ دینے پر وارد وعید کا بیان​

1784- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَعْيَنَ، وَجَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، سَمِعَا شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ يُخْبِرُ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَا مِنْ أَحَدٍ لا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلا مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ حَتَّى يُطَوِّقَ عُنُقَهُ > ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ} الآيَةَ۔
* تخريج: ت/تفسیر القرآن (سورۃ آل عمران ) (۳۰۱۲)، ن/الزکاۃ ۲ (۲۴۴۳)، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۳۷)، وقد أخرجہ: حم ( ۱/۳۷۷) (صحیح)

۱۷۸۴- عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو کوئی اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا اس کا مال قیامت کے دن ایک گنجا سانپ بن کر آئے گا، اور اس کے گلے کا طوق بن جائے گا، پھر آپ ﷺ نے اس کے ثبوت کے لیے قرآن کی یہ آیت پڑھی: وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۔۔۔۔۔الآيَةَ یعنی اور جن لوگوں کو اللہ تعالی نے اپنے فضل سے (کچھ) مال دیا ہے، اور وہ اس میں بخیلی کرتے ہیں، (فرض زکاۃ ادا نہیں کرتے) تو اس بخیلی کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں بلکہ بری ہے، ان کے لئے جس (مال) میں انہوں نے بخیلی کی ہے، وہی قیامت کے دن ان (کے گلے) کا طوق ہوا چاہتا ہے، اور آسمانوں اور زمین کا وارث (آخر) اللہ تعالی ہی ہو گا، اور جو تم کرتے ہو (سخاوت یا بخیلی) اللہ تعالی کو اس کی خبر ہے (سورۃ آل عمران: ۱۸۰)۔

1785- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلا غَنَمٍ وَلا بَقَرٍ لايُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلاجَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ، تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، وَتَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا عَادَتْ عَلَيْهِ أُولاهَا، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ >۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۴۳ (۱۴۶۰)، الأیمان والنذور ۳ (۶۶۳۸)، م/الزکاۃ ۹ (۹۹۰)، ت/الزکاۃ۱ (۶۱۷)، ن/الزکاۃ ۲ (۲۴۴۲)، ۱۱ (۲۴۵۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۸۱)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۵۲، ۱۵۸) (صحیح)

۱۷۸۵- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو کوئی اونٹ، بکری اور گائے والا اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، تو اس کے جانور قیامت کے دن اس سے بہت بڑے اور موٹے بن کر آئیں گے جتنے وہ تھے، وہ اسے اپنی سینگوں سے ماریں گے اور کھروں سے روندیں گے، جب اخیر تک سب جانور ایسا کر چکیں گے تو پھر بار بار تمام جانور ایسا ہی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا''۔

1786- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلائِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <تَأْتِي الإِبِلُ الَّتِي لَمْ تُعْطِ الْحَقَّ مِنْهَا، تَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَخْفَافِهَا، وَتَأْتِي الْبَقَرُ وَالْغَنَمُ تَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَظْلافِهَا، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، وَيَأْتِي الْكَنْزُ شُجَاعًا أَقْرَعَ فَيَلْقَى صَاحِبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُهُ فَيَفِرُّ، فَيَقُولُ: مَا لِي وَلَكَ! فَيَقُولُ: أَنَا كَنْزُكَ، أَنَا كَنْزُكَ، فَيَتَقِيهِ بِيَدِهِ فَيَلْقَمُهَا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۰۴۱)، وقد أخرجہ: خ/الزکاۃ ۳ (۱۴۰۲)، الجہاد ۱۸۹ (۳۰۷۳)، تفسیر براء ۃ ۶ (۴۶۵۹)، الحیل ۳ (۹۶۵۸)، ن/الزکاہ ۶ (۲۴۵۰)، ط/الزکاۃ ۱۰ (۲۲)، حم (۲/۳۱۶، ۳۷۹، ۴۲۶) (صحیح)

۱۷۸۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جن اونٹوں کی زکا ۃ نہیں دی گئی وہ آئیں گے اور اپنے مالک کو اپنے پاؤں سے روندیں گے، اور گائیں اور بکریاں آئیں گی وہ اپنے مالک کو اپنے کھروں سے روندیں گی اور اسے سینگوں سے ماریں گی، اور اس کا خزانہ ایک گنجا سانپ بن کر آئے گا، اور اپنے مالک سے قیامت کے دن ملے گا، اس کا مالک اس سے دو بار بھاگے گا، پھر وہ اس کے سامنے آئے گا تو وہ بھاگے گا، اور کہے گا: آخر تو میرے پیچھے کیوں پڑا ہے؟ وہ کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں، آخر مالک اپنے ہاتھ کے ذریعہ اس سے اپنا بچاؤ کرے گا لیکن وہ اس کا ہاتھ ڈس لے گا'' ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: کیونکہ ہاتھ ہی سے زکاۃ نہیں دی گئی تو پہلے اسی عضو کو سزا دی جائے گی، خزانہ (کنز) سے مراد یہاں وہی مال ہے جس کی زکاۃ ادا نہیں کی گئی جیسے آگے آتا ہے۔
 
Top