- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
5- بَاب الصِّنَاعَاتِ
۵- باب: پیشوں اور صنعتوں کا بیان
۵- باب: پیشوں اور صنعتوں کا بیان
2149- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ جَدِّهِ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي أُحَيْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلا رَاعِيَ غَنَمٍ > قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: < وَأَنَا كُنْتُ أَرْعَاهَا لأَهْلِ مَكَّةَ بِالْقَرَارِيطِ >، قَالَ سُوَيْدٌ: يَعْنِي كُلَّ شَاةٍ بِقِيرَاطٍ۔
* تخريج: خ/الإجارۃ ۲ (۲۲۶۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۰۸۳) (صحیح)
۲۱۴۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ نے جتنے بھی نبی بھیجے ہیں، سب نے بکریاں چرائی ہیں''، اس پر آپ کے صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے بھی؟ فرمایا: ''میں بھی چند قیراط۱؎ پر اہل مکہ کی بکریاں چرایا کرتا تھا''۲؎۔
سوید کہتے ہیں کہ ہر بکری پر ایک قیراط ملتا تھا۔
وضاحت۱؎: ایک قیراط دینار کا بیسواں حصہ ہوتا ہے۔
وضاحت۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محنت اور مزدوری کرنے میں کوئی ذلت نہیں، بلکہ حرام کا مال بیٹھ کر کھانا اور اڑانا انتہاء درجہ کی بے شرمی، و بے حیائی اور ذلت و خواری ہے، سرتاج انبیاء اشرف المخلوقات محمد رسول اللہ ﷺ نے مزدوری کی تو اور کسی کی کیا حقیقت ہے جو مزدوری کرنے کو ننگ و عار سمجھتا ہے، مسلمانان ہند کی ایک بڑی تعداد محنت اور مزدوری سے کتراتے ہیں، ایسی دنیا میں کوئی قوم نہیں، جب ہی تو وہ فاقوں مرتے ہیں، یا دو چار روپیہ کے لئے غیر مسلموں کی ملازمت کرتے ہیں، مگر اپنی محنت اور تجارت سے روٹی پیدا کرنا عار جانتے ہیں، اور بعض تو ایسے بے حیا ہیں کہ بھیک مانگتے ہیں، لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں مگر محنت اور تجارت کو عار جانتے ہیں، خاک پڑے ان کی عقل پر نیز حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جانور چرانا ایک حلال پیشہ ہے، اور غیر مسلموں کے یہاں مزدوری بھی کرنا جائز ہے کیونکہ مکہ والے اس وقت کافر ہی تھے۔
2150- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، وَالْحَجَّاجُ، وَالْهَيْثَمُ ابْنُ جَمِيلٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < كَانَ زَكَرِيَّا نَجَّارًا >۔
* تخريج: م/الفضائل ۴۵ (۲۳۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۶۵۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۹۶، ۴۰۵، ۴۸۵) (صحیح)
۲۱۵۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''زکریا علیہ السلام (یحییٰ علیہ السلام کے والد) بڑھئی تھے''۱؎۔
وضاحت۱؎: معلوم ہوا کہ بڑھئی کا پیشہ حلال ہے، اور رسولوں نے یہ پیشہ اختیار کیا ہے، اسی طرح سے ہر صنعت اور پیشہ جس میں رزق حلال ہو اچھا کام ہے، اور اسے اپنانے اور اس میدان میں آگے بڑھنے میں ہماری طاقت و قوت ہے۔
2151- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < إِنَّ أَصْحَابَ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ لَهُمْ : أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ >۔
* تخريج: خ/التوحید ۶۵ (۷۵۵۷)، ن/الزینۃ من المجتبیٰ ۵۹ (۵۳۶۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۵۷)، وقد أخرجہ: ۶/۷۰، ۸۰، ۲۲۳، ۲۴۶) (صحیح)
۲۱۵۱- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، اور ان سے کہا جائے گا جن کو تم نے بنایا ہے، ان میں جان ڈالو''۱؎۔
وضاحت۱؎: جان ڈالو، اور یہ ان سے نہ ہو سکے گا، بس اسی بات پر ان کو عذاب ہوتا رہے گا، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مصوری کا پیشہ ناجائز ہے، البتہ اگر بے جان چیزوں کی تصویر بنانی ہو جیسے مکانوں کی، درختوں کی، شہروں کی تو کوئی حرج نہیں ہے، اب علماء کا اختلاف ہے کہ کون سی تصویر مراد ہے؟ مجسم یعنی بت جو پتھر یا لکڑی یا لوہے وغیرہ سے بناتے ہیں، یا ہر طرح کی تصویر؟ گرچہ نقشی یا عکسی ہو؟ جس کو ہمارے زمانہ میں فوٹو کہتے ہیں، حدیث عام ہے اور ہر ایک تصویر کو شامل ہے، لیکن بعضوں نے صرف مجسم تصویر کو حرام کہا ہے۔
2152- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَكْذَبُ النَّاسِ الصَّبَّاغُونَ وَالصَّوَّاغُونَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۳۸، ومصباح الزجاجۃ: ۷۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۹۲، ۳۲۴، ۳۴۵) (موضوع) (سند میں فرقد سبخی غیر قوی، اور عمر بن ہارون کذاب ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۱۴۴)
۲۱۵۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹے رنگ ریز اور سنار ہوتے ہیں''۔