• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
15-بَاب النَّهْيِ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ
۱۵- باب: شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا مال (مہنگا کرنے کے ارادے سے) نہ بیچے​

2175- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِبْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ >۔
* تخريج: انظر حدیث ( رقم : ۱۸۶۷، ۲۱۷۲) (صحیح)

۲۱۷۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا مال نہ بیچے''۱؎۔
وضاحت۱؎: مثلاً باہر والا غلہ شہر لائے اور اس کی نیت یہ ہو کہ آج کے نرخ سے بیچ ڈالے اس میں شہر والوں کو فائدہ ہو، ان کو غلہ کی ضرورت ہو لیکن ایک شہر والا اس کو کہے کہ تم اپنا مال ابھی نہ بیچو، مجھ کو دے دو، میں مہنگی قیمت سے بیچ دوں گا، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے منع کیا کیونکہ اس میں عام لوگوں کا نقصان ہے گو صرف ایک شخص کا فائدہ ہے، مگر یہ قاعدہ ہے کہ ایک شخص کے فائدہ کے لئے عام نقصان جائز نہیں ہو سکتا۔

2176- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّار، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < لا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ >۔
* تخريج: م/البیوع ۶ (۱۵۲۲)، ت/البیوع ۱۳ (۱۲۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۲۷۶۴)، وقد أخرجہ: د/البیوع ۴۵ (۳۴۳۶)، حم ۳/۳۰۷) (صحیح)

۲۱۷۶- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''شہری باہر سے آنے والے دیہاتی کا مال نہ بیچے، لوگوں کو چھوڑ دو، (خود بیچیں) اللہ تعالی بعض کو بعض سے روزی دیتا ہے''۔

2177- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ.
قُلْتُ لابْنِ عَبَّاسٍ: مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ؟ قَالَ: لا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا۔
* تخريج: خ/البیوع ۶۸ (۲۱۵۸)، ۷۱ (۲۱۶۳)، الإجارۃ ۱۴ (۲۲۷۴)، م/البیوع ۶ (۱۵۲۱)، د/البیوع ۴۷ (۳۴۳۹)، ن/البیوع ۱۶ (۴۵۰۴)، (تحفۃ الأشراف: ۵۷۰۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۶۸) (صحیح)

۲۱۷۷- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شہری کو دیہاتی کا مال بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ ﷺ کے قول: ''حَاضِرٌ لِبَادٍ'' کا کیا مفہوم ہے؟ تو انہوں نے کہا: بستی والا باہر والے کا دلال نہ بنے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
16- بَاب النَّهْيِ عَنْ تَلَقِّي الْجَلَبِ
۱۶- باب: بازار میں پہنچنے سے پہلے تاجروں سے جا کر ملنا اور ان سے سامان تجارت خریدنا منع ہے​

2178- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: <لاتَلَقَّوُا الأَجْلابَ، فَمَنْ تَلَقَّى مِنْهُ شَيْئًا فَاشْتَرَى، فَصَاحِبُهُ بِالْخِيَارِ، إِذَا أَتَى السُّوقَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۵۶۵)، وقد أخرجہ: خ/البیوع ۷۱ (۲۱۶۲)، م/البیوع ۵ (۱۵۱۹)، ن/البیوع ۱۶ (۴۵۰۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۸۴، ۴۰۳)، دي/البیوع ۳۲ (۲۶۰۸) (صحیح)

۲۱۷۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''باہر سے آنے والے سامان تجارت کو بازار میں پہنچنے سے پہلے نہ لیا کرو، اگر کوئی اس طرح خریداری کر لے، تو بازار میں آنے کے بعد صاحب مال کو اختیار ہو گا، چاہے تو اس بیع کو باقی رکھے اور چاہے تو فسخ (منسوخ) کر دے''۔

2179- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ تَلَقِّي الْجَلَبِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفۃ الأشراف: ۸۰۵۹)، وقد أخرجہ: خ/البیوع ۷۱ (۲۱۶۵)، م/البیوع ۵ (۱۵۱۸)، د/البیوع ۴۵ (۳۴۳۶)، ن/البیوع ۱۶ (۴۵۰۳)، حم (۲/۷، ۲۲، ۶۳، ۹۱) (صحیح)

۲۱۷۹- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے باہر سے آنے والے سامان تجارت کو بازار میں پہنچنے سے پہلے آگے جا کر خرید لینے سے منع فرمایا ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: تلقي جلب کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ باہر والوں کو شہر کا بھاؤ معلوم نہیں ہوتا، تو یہ شہری تاجر پہلے سے جا کر ان سے مل کر ان کا مال سستے دام سے خرید لیتا ہے، جب وہ شہر میں آتے ہیں اور دام معلوم کرتے ہیں تو ان کو افسوس ہوتا ہے، یہ اس لئے منع ہوا کہ اس میں باہر والے تاجروں کا نقصان ہے، اور شہر والوں کا بھی، باہر والوں کا تو ظاہر ہے، شہر والوں کا نقصان اس سے طرح کہ شاید وہ شہر میں آتے تو سستا بیچتے، اب اس شہر والے نے ان باہر سے آنے والوں کا مال لے لیا، جس کو وہ آہستہ آہستہ مہنگا کرکے بیچے گا۔

2180 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَحَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ (ح) وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ تَلَقِّي الْبُيُوعِ۔
* تخريج: خ/البیوع ۶۴ (۲۱۴۹)، م/البیوع ۵ (۱۵۱۸)، ت/البیوع ۱۲ (۱۲۲۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۳۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۳۰) (صحیح)

۲۱۸۰- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مال بیچنے والوں سے بازار میں پہنچنے سے پہلے آگے جا کر ملنے سے منع فرمایا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
17- بَاب الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا
۱۷- باب: بیچنے اور خرید نے والے جب تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہو جائیں دونوں کو بیع فسخ کرنے کا اختیار ہے۱؎​

وضاحت۱؎: خریداری مکمل ہونے کے بعد طرفین کو بیع فسخ کرنے کا اختیار ہو گا، اس اختیار کو اختیار مجلس کہتے ہیں، یعنی جب تک بیچنے والے اور خریدنے والے خرید و فرو خت کے بعد اسی جگہ رہیں تو ہر ایک کو بیع کے فسخ (توڑنے) کا اختیار ہے۔ (الروضہ الندیہ)

2181- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا وَكَانَا جَمِيعًا، أَوْ يُخَيِّرَ أَحَدُهُمَا الآخَرَ، فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ، وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا، وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ >۔
* تخريج: خ/البیوع ۴۲ (۲۱۰۷)، ۴۳ (۲۱۰۹)، ۴۴ (۲۱۱۱)، ۴۵ (۲۱۱۲)، ۴۶ (۲۱۱۳)، م/البیوع ۱۰ (۱۵۳۱)، ن/البیوع ۸ (۴۴۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۸۲۷۲)، وقد أخرجہ: د/البیوع ۵۳ (۳۴۵۴)، ت/البیوع ۲۶ (۱۲۴۵)، حم (۲/ ۴، ۹، ۵۲، ۵۴، ۷۳، ۱۱۹، ۱۳۴، ۱۳۵، ۱۸۳) (صحیح)

۲۱۸۱- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب دو آدمی ایک مجلس میں خرید و فروخت کریں، تو دونوں میں سے ہر ایک کو بیع فسخ کرنے کا اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں، یا ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو اختیار نہ دے دے، پھر اگر ایک نے دوسرے کو اختیار دے د یا پھر بھی ان دونوں نے بیع پکی کر لی تو بیع واجب ہو گئی، اس طرح بیع ہو جانے کے بعد اگر وہ دونوں مجلس سے جدا ہو گئے تب بھی بیع لازم ہو گئی''۱؎۔
وضاحت۱؎: حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جدا ہونے سے بدن کا جدا ہونا مراد ہے، اور اس حدیث کے راوی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی یہی معنی سمجھا تھا، دوسری روایت میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی بیع کو پورا کرنا چاہتے تو عقد کے بعد چند قدم چلتے تاکہ بیع پکی ہو جائے، اور اگر تفرق اقوال مراد ہوتا یعنی ایجاب و قبول کا ہو جانا تو اس حدیث کا بیان کرنا ہی بیکار تھا، اس لئے جب تک ایجاب و قبول نہ ہوں بیع تمام ہی نہیں ہوئی، تو وہ کیونکرنافذ ہو گی۔

2182- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْوَضِيئِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا >۔
* تخريج: د/البیوع ۳۵ (۳۴۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۹۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۲۵) (صحیح)

۲۱۸۲- ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بائع اور مشتری (بیچنے اور خریدنے والے) جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں دونوں کو (بیع کے منسوخ کرنے کا) اختیار ہے''۔

2183- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالصَّمَدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ < الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا >۔
* تخريج: ن/البیوع ۸ (۴۴۸۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۰۰)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۲، ۱۷، ۲۱، ۲۲) (صحیح)
(حسن بصری نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے صرف حدیث عقیقہ سنی ہے، اس لئے سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)
۲۱۸۳- سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو (بیع منسوخ کرنے کا) اختیار ہے، جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
18- بَاب بَيْعِ الْخِيَارِ
۱۸- باب: اختیاری خریداری کا بیان​

2184 - حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيَّانِ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ رَجُلٍ مِنَ الأَعْرَابِ حِمْلَ خَبَطٍ، فَلَمَّا وَجَبَ الْبَيْعُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < اخْتَرْ > فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ: عَمْرَكَ اللَّهَ بَيِّعًا !۔
* تخريج: ت/البیوع ۲۷ (۱۲۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۲۸۳۴) (حسن)

۲۱۸۴- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک اعرابی (دیہاتی) سے ایک بوجھ چارا خریدا، پھر جب بیع مکمل ہو گئی، تو آپ نے اس سے فرمایا: ''تجھ کو اختیار ہے'' (بیع کو باقی رکھ یا منسوخ کر دے) تو دیہاتی نے کہا: اللہ آپ کی عمر دراز کرے میں بیع کو باقی رکھتا ہوں۱؎۔
وضاحت۱؎: ایسی صورت میں جب طرفین بیع کو اختیار کر لیں تو خیار مجلس باقی نہ رہے گا، جیسے اوپر کی حدیث میں گزرا۔

2185- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحٍ الْمَدِينِيِّ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّمَا الْبَيْعُ عَنْ تَرَاضٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۷۶، ومصباح الزجاجۃ: ۷۶۸) (صحیح)

۲۱۸۵- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بیع بیچنے والے اور خریدنے والے کی باہمی رضا مندی سے منعقد ہوتی ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
19- بَاب الْبَيِّعَانِ يَخْتَلِفَانِ
۱۹- باب: خرید نے والے اور بیچنے والے کے درمیان اختلاف ہو جائے تو وہ کیا کریں؟​

2186- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ بَاعَ مِنَ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ رَقِيقًا مِنْ رَقِيقِ الإِمَارَةِ، فَاخْتَلَفَا فِي الثَّمَنِ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: بِعْتُكَ بِعِشْرِينَ أَلْفًا، وَقَالَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ: إِنَّمَا اشْتَرَيْتُ مِنْكَ بِعَشْرَةِ آلافٍ، فَقَالَ عَبْدُاللَّهِ: إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: هَاتِهِ، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ، وَالْبَيْعُ قَائِمٌ بِعَيْنِهِ، فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ، أَوْ يَتَرَادَّانِ الْبَيْعَ > قَالَ: فَإِنِّي أَرَى أَنْ أَرُدَّ الْبَيْعَ، فَرَدَّهُ۔
* تخريج: د/البیوع ۷۴ (۳۵۱۲)، (تحفۃ الأشراف: ۹۳۵۸)، وقد أخرجہ: ت/البیوع ۴۳ (۱۲۷۰)، ن/البیوع ۸۰ (۴۶۵۲)، حم (۱/۴۶۶) (صحیح)
(نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ۱۳۲۲ والصحیحہ: ۷۸۹)
۲۱۸۶- عبد الرحمن سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کے ہاتھ حکومت کے غلاموں میں سے ایک غلام بیچا، پھر دونوں میں قیمت کے بارے میں اختلاف ہو گیا، ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ میں نے آپ سے اسے بیس ہزار میں بیچا ہے، اور اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اسے دس ہزار میں خریدا ہے، اس پر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر چاہیں تو میں ایک حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: بیان کریں، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ''جب بیچنے والے اور خریدنے والے اختلاف کریں اور ان میں کسی کے پاس گواہ نہ ہوں، اور بیچی ہوئی چیز بعینہٖ موجود ہو تو بیچنے والے ہی کی بات معتبر ہو گی، یا دونوں بیع فسخ کر دیں''، انہوں نے کہا: میں مناسب یہی سمجھتا ہوں کہ بیع فسخ کر دوں، چنانچہ انہوں نے بیع فسخ کر دی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
20- بَاب النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ وَعَنْ رِبْحِ مَا لَمْ يُضْمَنْ
۲۰- باب: جو چیز پاس میں نہ ہو اس کا بیچنا اور جس چیز کا ضامن نہ ہو اس میں نفع لینا منع ہے​

2187- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ مَاهَكَ يُحَدِّثُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي الْبَيْعَ وَلَيْسَ عِنْدِي، أَفَأَبِيعُهُ ؟ قَالَ: < لا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ >۔
* تخريج: د/البیوع ۷۰ (۳۵۰۳)، ت/البیوع ۱۹ (۱۲۳۲، ۱۲۳۳)، ن/البیوع ۵۸ (۴۶۱۷)، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۳۶)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۰۲، ۴۳۴) (صحیح)

۲۱۸۷- حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ایک آدمی مجھ سے ایک چیز خریدنا چاہتا ہے، اور وہ میرے پاس نہیں ہے، کیا میں اس کو بیچ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اس کو نہ بیچو''۔

2188 - حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، (ح) و حَدَّثَنَا أَبُوكُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، قَالا: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا يَحِلُّ بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ ، وَلا رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ >۔
* تخريج: د/البیوع ۷۰ (۳۵۰۴)، ت/البیوع ۱۹ (۱۲۳۴)، ن/البیوع ۵۸ (۴۶۱۵)، (تحفۃ الأشراف: ۸۶۶۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۷۴، ۱۷۸، ۲۰۵ )، دي/البیوع ۲۶ (۲۶۰۲) (حسن صحیح)

۲۱۸۸- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو چیز تمہارے پاس نہ ہو اس کا بیچنا جائز نہیں، اور نہ اس چیز کا نفع جائز ہے جس کے تم ضامن نہیں''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اگر وہ چیز برباد ہو جائے تو تمہارا کچھ نقصان نہ ہو، ایسی چیز کا نفع اٹھانا بھی جائز نہیں، یہ شرع کا ایک عام مسئلہ ہے کہ نفع ہمیشہ ضمانت کے ساتھ ملتا ہے، جو شخص کسی چیز کا ضامن ہو وہی اس کے نفع کا مستحق ہے، اور اس کی مثال یہ ہے کہ ابھی خریدار نے بیع پر قبضہ نہیں کیا اور وہ چیز خریدنے والے کی ضمانت میں داخل نہیں ہوئی، اب خریدنے والا اگر اس کو قبضے سے پہلے کسی اور کے ہاتھ بیچ ڈالے اور نفع کمائے، تو بیع جائز اور صحیح نہیں ہے۔

2189 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ؛ قَالَ: لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى مَكَّةَ، نَهَاهُ عَنْ شِفِّ مَا لَمْ يُضْمَنْ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۴۹) (صحیح)
(سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں، اور عطاء کی ملاقات عتاب رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۱۲۱۲)
۲۱۸۹ - عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو مکہ بھیجا، تو اس چیز کے نفع سے منع کیا جس کے وہ ضامن نہ ہوں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
21- بَاب إِذَا بَاعَ الْمُجِيزَانِ فَهُوَ لِلأَوَّلِ
۲۱- باب: جب دو بااختیار شخص کسی چیز کو بیچیں تو پہلے بیچنے والے کی بات معتبر ہو گی ۱؎
وضاحت۱؎: جیسے موکل اور وکیل دونوں نے علیحدہ علیحدہ کوئی سامان بیچا، یا دو شریکوں میں سے ہر ایک نے الگ الگ ایک مال کو بیچ دیا، اور ایک کی دوسرے کو خبر نہ تھی تو جس نے پہلے بیچا اس کا بیچنا معتبر اور قابل نفاذ ہو گا۔

2190- حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَوْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: <أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلأَوَّلِ مِنْهُمَا >۔
* تخريج: د/النکاح ۲۲ (۲۰۸۸)، ت/النکاح ۲۰ (۱۱۱۰)، ن/البیوع ۹۴ (۴۶۸۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۸۲، ۹۹۱۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۸، ۱۱، ۱۲، ۱۸، ۲۲)، دي/النکاح ۱۵ (۲۲۳۹) (ضعیف)
(سند میں حسن بصری ہیں، جن کا سماع سمرۃ رضی اللہ عنہ سے صرف عقیقہ کی حدیث کا ہے، دوسری احادیث کا نہیں)
۲۱۹۰- عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ یا سمرۃ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص نے ایک چیز دو آدمیوں کے ہاتھ بیچی، تو جس کے ہاتھ پہلے بیچی اس کو وہ چیز ملے گی''۔

2191- حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا بَاعَ الْمُجِيزَانِ فَهُوَ لِلأَوَّلِ >۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۸۲، ۹۹۱۸) (ضعیف)
(سند میں حسن بصری ہیں جن کا سماع سمرۃ رضی اللہ عنہ سے صرف عقیقہ کی حدیث کا ہے، دوسری احادیث کا نہیں)
۲۱۹۱- سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب دو اختیار رکھنے والے ایک چیز کی بیع کریں تو جس نے پہلے بیع کی، اس کا اعتبار ہو گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
22- بَاب بَيْعِ الْعُرْبَانِ
۲۲- باب: بیعانہ کا حکم​

2192- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ۔
* تخريج: د/البیوع ۶۹ (۳۵۰۲)، (تحفۃ الأشراف:۸۸۲۰)، وقد أخرجہ: ط/البیوع ۱ (۱)، حم (۲/۱۸۳) (ضعیف)
(یہ بلاغات مالک میں سے ہے، عمر و بن شعیب سے روایت میں واسطہ کا ذکر نہیں ہے، اس لئے سند میں انقطاع کی وجہ سے یہ ضعیف ہے)
۲۱۹۲- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ''نبی اکرم ﷺ نے بیعانہ (عربان کی بیع) سے منع فرمایا ہے''۔

2193- حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّخَامِيّ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَبُو مُحَمَّدٍ كَاتِبُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الأَسْلَمِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ.
قَالَ أَبُو عَبْداللَّهِ: الْعُرْبَانُ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ دَابَّةً بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَيُعْطِيَهُ دِينَارَيْنِ عُرْبُونًا، فَيَقُولُ: إِنْ لَمْ أَشْتَرِ الدَّابَّةَ، فَالدِّينَارَانِ لَكَ.
وَقِيلَ: يَعْنِي: وَاللَّهُ أَعْلَمُ: أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الشَّيْئَ، فَيَدْفَعَ إِلَى الْبَائِعِ دِرْهَمًا أَوْ أَقَلَّ أَوْ أَكْثَرَ، وَيَقُولَ: إِنْ أَخَذْتُهُ وَإِلا فَالدِّرْهَمُ لَكَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۲۷)، وقد أخرجہ: ط/البیوع ۱ (۱) حم ( ۲/ ۱۸۳) (ضعیف)
(سند میں حبیب کاتب مالک اور عبد اللہ أسلمی دونوں ضعیف راوی ہیں)
۲۱۹۳- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (عربان کی بیع) سے منع فرمایا ہے۔
ابو عبد اللہ (ابن ماجہ) کہتے ہیں کہ عربان: یہ ہے کہ آدمی ایک جانور سو دینار میں خریدے، اور بیچنے والے کو اس میں سے دو دینار بطور بیعانہ دے دے، اور کہے: اگر میں نے جانور نہیں لیا تو یہ دونوں دینار تمہارے ہیں۔
بعض لوگوں نے کہا ہے واللہ اعلم: (عربان یہ ہے کہ) آدمی ایک چیز خریدے پھر بیچنے والے کو ایک درہم یا زیادہ یا کم دے، اور کہے اگر میں نے یہ چیز لے لی تو بہتر، ورنہ یہ درہم تمہارا ہے۔

وضاحت۱؎: بیع عربون: یعنی بیع کے وقت خریدار کی طرف سے بیچنے والے کو دی جانے والی ایک مخصوص رقم جس سے بیچنے والا اپنے سامان کو خریدنے والے سے بیچنے کے بدلے لیتا ہے، اور اسے عرف عام میں بیعانہ کہتے ہیں، اس سے متعلق اس باب کی حدیث ضعیف ہے، علماء کے درمیان بیعانہ کی یہ شکل کہ اگر خریدار نے سامان نہیں خریدا تو بیعانہ کی دی ہوئی رقم بیچنے والے کی ہو جائے گی جس کو وہ خریدنے والے کو واپس نہیں کرے گا، مالک، شافعی اور ابو حنیفہ کے یہاں یہ ناجائز ہے، امام احمد اس بیع کی صحت کے قائل ہیں، ان کی دلیل عمررضی اللہ عنہ کی روایت ہے اور عبد اللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث ضعیف ہے، اور متفقہ طور پر صحیح قیاس کی دلیل کے اعتبارسے بھی یہ صحیح ہے کہ اگر خریدار سامان کو ناپسند کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ سامان کو واپس کر دے اور اس کے ساتھ کچھ دے دے، اس صورت پر قیاس کرتے ہوئے بیعانہ نہ واپس کرنے کی یہ صورت صحیح ہو گی، امام احمد کہتے ہیں کہ یہ بیعانہ اسی کے ہم معنی ہے۔ یہ واضح رہے کہ بیعانہ کی رقم بیچنے والے کو بلاعوض نہیں مل رہی ہے، اس لیے کہ یہاں پر فروخت شدہ چیز کے انتظار کے عوض میں یہ رقم رکھی گئی ہے، اور یہ سامان خریدار کے خریدنے تک ایسے ہی پڑا رہے گا، اور اس مدت میں دوسرے شخص سے بیع و فروخت کی بات نہ ہو سکے گی، مجمع الفقہ الإسلامی، مکہ مکرمہ نے محرم (۱۴۱۴) ہجری میں اس بیع کی بابت یہ قرار داد صادر کی ہے کہ اگر خریدنے والے نے بیچنے والے سے سامان نہیں خریدا تو بیعانہ کی رقم کا مالک بیچنے والا ہو جائے گا، مجلس نے اس بیع کے جواز کی بات اس صورت میں کہی ہے کہ انتظار کا زمانہ مقرر ہو، اور یہ کہ بیعانہ کی رقم بیع کے نافذ ہونے کی صورت میں قیمت کا ایک حصہ شمار ہو گی، اور اگر خریدنے والا سامان نہ خریدے تو یہ رقم بیچنے والے کا حق ہو گی۔ (ملاحظہ ہو: توضیح الأحکام من بلوغ المرام، تالیف شیخ عبد اللہ بن عبد الرحمن البسام، ۴/۲۹۳)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
23- بَاب النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ وَبَيْعِ الْغَرَرِ
۲۳- باب: بیع حصاۃ اور بیع غرر ممنوع ہے​

2194- حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ سَلَمَةَ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ وَعَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ۔
* تخريج: م/البیوع ۲ (۱۵۱۳)، د/البیوع ۲۵ (۳۳۷۶)، ت/البیوع ۱۷ (۱۲۳۰)، ن/البیوع ۲۵ (۴۵۲۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۷۹۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۵۰، ۳۷۶، ۴۳۶)، دي/البیوع ۲۰ (۲۵۹۶) (صحیح)

۲۱۹۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع غرر۱؎ اور بیع حصاۃ ۲؎ سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت۱؎: بیع غرر: معدوم و مجہول چیز کی بیع ہے یا ایسی چیز کی بیع ہے جسے خریدنے والے کے حوالہ کرنے پر بیچنے والے کو قدرت نہ ہو، جیسے بھاگے ہوئے غلام کی بیع، فضا میں اڑتے ہوئے پرندے کی بیع، یا مچھلی کی بیع جو پانی میں ہو، اور دودھ کی بیع جو جانورکے تھن میں ہو وغیرہ وغیرہ۔
وضاحت۲؎: بیع حصاۃ کی تین صورتیں ہیں، ایک یہ کہ بیچنے والا یہ کہے کہ میں یہ کنکری پھینکتا ہوں جس چیز پر یہ گرے اسے میں نے تمہارے ہاتھ بیچ دیا، یا جہاں تک یہ کنکری جائے اتنی دور کا سامان میں نے بیچ دیا، دوسرے یہ کہ بیچنے والا یہ شرط لگائے کہ جب تک میں کنکر ی پھینکوں تجھے اختیار ہے اس کے بعد اختیار نہ ہو گا، تیسرے یہ کہ خود کنکری پھینکنا ہی بیع قرار پائے مثلاً یوں کہے کہ جب میں اس کپڑے پر کنکری ماروں تو یہ اتنے میں بک جائے گا۔

2195- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَطَائٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۹۶۷)، ومصباح الزجاجۃ: ۷۷۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۰۲) (صحیح)
(سند میں ایوب بن عتبہ ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
۲۱۹۵- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع غرر سے منع کیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
24- بَاب النَّهْيِ عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الأَنْعَامِ وَضُرُوعِهَا وَضَرْبَةِ الْغَائِصِ
۲۴- باب: جانوروں کے پیٹ اور تھن میں جو ہو اس کی بیع یا غوطہ خور کے غوطہ کی بیع ممنوع ہے​

2196 - حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جَهْضَمُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْيَمَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الأَنْعَامِ حَتَّى تَضَعَ، وَعَمَّا فِي ضُرُوعِهَا إِلا بِكَيْلٍ، وَعَنْ شِرَاءِ الْعَبْدِ وَهُوَ آبِقٌ، وَعَنْ شِرَاءِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ، وَعَنْ شِرَاءِ الصَّدَقَاتِ حَتَّى تُقْبَضَ، وَعَنْ ضَرْبَةِ الْغَائِصِ۔
* تخريج: ت/السیر ۱۴ (۱۵۶۳) مختصراً، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۲) (ضعیف)
(سند میں محمد بن ابراہیم باہلی مجہول راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ۱۲۹۳)
۲۱۹۶- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جانوروں کے پیٹ میں جو ہو اس کے خریدنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ جن دے، اور جو ان کے تھنوں میں ہے اس کے خریدنے سے بھی منع فرمایا ہے الا یہ کہ اسے دوھ کر اور ناپ کر خریدا جائے، اسی طرح بھاگے ہوئے غلام کو خریدنے سے، اور غنیمت (لوٹ) کا مال خریدنے سے بھی منع فرمایا یہاں تک کہ وہ تقسیم کر دیا جائے اور صدقات کو خریدنے سے (منع کیا) یہاں تک کہ وہ قبضے میں آجائے، اور غوطہ خور کے غوطہ کو خریدنے سے (منع کیا)۱؎۔
وضاحت۱؎: غوطہ خور کے غوطہ کو خرید نے کی صورت یہ ہے کہ غوطہ خور خریدنے والے سے کہے کہ میں غوطہ لگا رہا ہوں اس بار جو کچھ میں نکالوں گا وہ اتنی قیمت میں تیرا ہو گا یہ تمام بیعیں اس لئے ناجائز ہیں کہ ان سب میں غرر (دھوکا) اور جہالت ہے۔

2197- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ۔
* تخريج: ن/البیوع ۶۶ (۴۶۲۹)، (تحفۃ الأشراف:۷۰۶۲)، وقد أخرجہ: خ/البیوع ۶۱ (۲۱۴۳)، السلم ۷ (۲۲۵۶)، مناقب الأنصار ۲۶ (۳۸۴۳)، م/البیوع ۳ (۱۵۱۳)، د/البیوع ۲۵ (۳۳۸۰)، ت/البیوع ۱۶ (۱۲۲۹)، /البیوع ۲۶ (۶۲)، حم (۱/۵۶، ۶۳، ۱۰۸، ۱۴۰، ۱۵۵) (صحیح)

۲۱۹۷- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حمل کے حمل کو بیچنے سے منع فرمایا ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: حمل کے حمل کو بیچنے کی صورت یہ ہے کہ کوئی کہے کہ میں تم سے اس حاملہ اونٹنی کے پیٹ کے بچہ کے بچہ کو اتنی قیمت میں بیچتا ہوں تویہ بیع جائز نہیں کیونکہ یہ معدوم و مجہول کی بیع ہے۔
 
Top