• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَضْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل​

166- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: ضَمَّنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَيْهِ وَقَالَ: < اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ وَتَأْوِيلَ الْكِتَابِ >۔
* تخريج: خ/العلم ۱۷ (۷۵مختصرًا) فضائل الصحابۃ ۲۴ (۳۷۵۶)، الاعتصام (۷۲۷۰)، ت/المناقب ۴۳ (۳۸۲۴)، (تحفۃ الأشراف: ۶۰۴۹)، ن/الکبری (۸۱۷۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۶۶، ۲۶۹، ۳۵۹) (صحیح)

۱۶۶- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے سینہ سے لگایا، اور یہ دعا فرمائی: ''اے اللہ! اس کو میری سنت اور قرآن کی تفسیر کا علم عطاء فرما''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
12- بَاب فِي ذِكْرِ الْخَوَارِجِ
۱۲- باب: خوارج کا بیان۱؎​
وضاحت۱؎: خلافت راشدہ کا زمانہ تیس سال ہے، علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں خوارج کا ظہور ہوا، گمراہ فرقوں میں سے سب سے پہلے اس فرقہ کا اسلام میں ظہور ہوا، ۳۸ھ میں نہروان کے مقام پر علی رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کی، خلافت راشدہ کے دو سال باقی تھے، خوارج نو عمر اور غیر پختہ عقل کے لوگ تھے، پرفریب نعروں کا شکار ہو گئے، ان لوگوں نے جنگ صفین کے موقع پر تحکیم کے مسئلہ کو لے کر علی رضی اللہ عنہ کی جماعت سے خروج کیا، ان لوگوں نے عثمان اور علی رضی اللہ عنہما دونوں کی تکفیر کی، یہ لوگ کبیرہ گناہ کے مرتکب کو بھی کافر کہتے ہیں، اور امام اور حاکم کے خلاف خروج کو جائز کہتے ہیں۔
خوارج اپنی سمجھ کے مطابق قرآن کریم کی بڑی تعظیم کرتے، اور قرآن کی طرف رجوع کا مطالبہ کرتے تھے، لیکن شاہراہِ سنت اور جماعت المسلمین سے دور نکل گئے، وہ ایسی احادیث پر عمل نہیں کرتے جو ان کی عقل کے مطابق ان کے اپنے اعتقاد سے قرآن کی مخالف ہو، جیسے شادی شدہ زانی کا رجم یا چوری کی سزا کا نصاب وغیرہ وغیرہ، ان کی گمراہی یہاں تک بڑھی کہ انہوں نے عثمان اور علی اور ان کے مؤیدین اور حامی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تکفیر کی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔
اس گمراہ فرقے اور دوسرے بدعتی فرقوں کے اس تکفیری رجحان کی اساس اور بنیاد دو باطل مقدمات پر ہے:

(۱) ایک ان کا یہ اعتقاد کہ فلاں کام قرآن کے مخالف ہے،
(۲) اور دوسرا یہ کہ جس نے قرآن کی مخالفت کی وہ کافر ہو گیا،
چاہے وہ غلطی کرنے والا ہو، یا گناہ کرنے والا ہو اور قرآن کے اوامر و منہیات پر اس کا اعتقاد ہو۔
خوارج کا نام خوارج اس لئے پڑا کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ مسلمانوں کے مابین اختلاف کے وقت وہ ان کے خلاف خروج کریں گے، اور اس وجہ سے بھی ان کا یہ نام پڑا کہ انہوں نے مسلمان حکمرانوں کے خلاف خروج کیا، اور مسلمانوں کے خلاف عقائد رکھے اور ان کے خلاف تلوار اٹھائی، ان کے مختلف نام ہیں:
(۱) محکمہ: اس لئے کہ ان لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ اور مسلمانوں کی جماعت سے تحکیم کے مسئلے کی وجہ سے علیحدگی اختیار کی، اور یہ گمان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے قرآن کو چھوڑ کر لوگوں کو حکم بنایا اور ان کی تحکیم کو قبول کیا، ان کا نعرہ تھا کہ حکم صرف اللہ تعالیٰ ہے، اور علی رضی اللہ عنہ حکمین یعنی علی کی طرف سے ابو موسیٰ اشعری اور معاویہ رضی اللہ عنہ کے طرف سے عمرو بن العاص اور وہ سب لوگ جنہوں نے تحکیم کو قبول کیا یا اس پر اپنی رضا مندی کا اظہار کیا، سب کے سب کافر ہیں، یہ ان کے ابتدائی قدیم گروہ کا نام ہے۔
(۲) حروریہ: یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے عراق میں حروراء نامی مقام پر اکٹھا ہو کر علی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف خروج کیا۔
(۳) اہل نہروان: نہروان کی طرف ان کی نسبت اس واسطے ہے کہ اس مقام پر علی رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کی، ان کو حروریہ محکمہ بھی کہتے ہیں۔
(۴) شراۃ: یہ اس وجہ سے شراۃ کہے جاتے ہیں کہ ان کا زعم یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے میں انہوں نے اللہ کو راضی کرنے کی غرض سے اپنے آپ کو فروخت کر دیا ہے، اوائل خارجیوں کے گروہوں پر اس لقب کا اطلاق ہوا، عہد حاضر کا اباضی فرقہ جو خوارج کا ایک فرقہ ہے کے خیال میں اگر شرائط موجود ہوں تو ایسا ممکن ہے، اور یہ ان کے اپنے اعتقاد کے مطابق دین کا ایک طریقہ ہے۔
(۵) مارقہ: ان کو مارقہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ دین سے نکل جائیں گے۔
(۶) مکفرّہ: ان کا نام مکفرّہ بھی ہے اس لئے کہ یہ لوگ گناہ کبیرہ کے ارتکاب کی وجہ سے لوگوں کی تکفیر کرتے ہیں اور اپنے مخالف مسلمانوں کی بھی تکفیر کرتے ہیں، آج بھی اس طرح کے لوگ موجود ہیں جو اس طرح کے افکار و عقائد کی گرفت میں ہیں۔
(۷) سبئیہ: یہ سبئیہ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، اس لئے کہ یہ ابن سبأ یہودی کے فتنہ کے نتیجے میں پیدا ہوئے۔
(۸) ناصبہ: ان کو ناصبہ یا نواصب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس لئے کہ ان لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، آپ سے دشمنی کی، اور آپ سے بغض و نفرت کی، اس لئے ان کو ناصبی کہا گیا۔
خوارج کے بنیادی اصول و مبادی اور افکار و نظریات مختصراً یہ ہیں:

(۱) گناہِ کبیرہ کی وجہ سے یہ مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں، اور احکامِ شرعیہ، دار (یعنی دار الاسلام اور دار الکفر کا مسئلہ)، معاملات اور جنگ میں ان مسلمانوں کو کفار سے ملا دیتے ہیں۔
(۲) اعتقاد و عمل میں یا صرف اعتقاد یا عمل میں حکمرانوں کے خلاف خروج کرنا۔
(۳) مسلمانوں کے خلاف خروج اور ان کے ساتھ دار اور احکام میں کفار کا معاملہ کرتے ہیں، اور ان سے براءت کا اعلان کرتے ہیں، اور ان کو آزمائش میں ڈالتے ہیں، اور ان کے خون کوحلال سمجھتے ہیں۔
(۴) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سلسلے کے شرعی نصوص کو ائمہ اسلام سے لڑنے اور ان کے خلاف خروج کرنے اور مخالفین سے جنگ کرنے سے خاص کر دیتے ہیں۔
(۵) ان کی اکثریت جاہل قراء کی ہوتی ہے، اور ان میں اکثر دیہاتی ہوتے ہیں، رسول اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے: ''یہ نو عمر اور بیوقوف لوگ ہوں گے'' (گھٹیا سوچ رکھنے والے)۔
(۶) نیک لوگوں کی صفات و خصوصیات والی علامات ان کے اوپر ظاہر رہتی ہیں، یہ صوم و صلاۃ کے پابند ہوتے ہیں، سجدہ کے نشانات اور ظاہری ورع و تقویٰ اور زہد و اتقاء ان میں پایا جاتا ہے، دینی تشدد میں بھی ان کی شہرت ہوتی ہے، نبی کریم ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا: ''تم ان کے صوم و صلاۃ کے آگے اپنی عبادتوں کو حقیر سمجھو گے''۔
(۷) دینی تفقہ و بصیرت سے عاری اور شرعی علم سے کورے ہوتے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا: ''یہ قرآن پڑھتے ہیں لیکن یہ ان کے گلے کے نیچے نہیں اترتا''، (یعنی صرف تلاوت کرتے ہیں، ان میں تدبر اور اس کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے سے دور رہتے ہیں)۔
(۸) اس گروہ میں سے نہ تو کوئی صحابی تھا اور نہ ہی کوئی امامِ دین اور عالم و فقیہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ''تم میں سے (یعنی صحابہ میں سے) کوئی خارجی نہیں ہے''۔
(۹) جہالت اور دینی بصیرت سے دوری کے علی الرغم علماء کے سامنے کبر و غرور کا مظاہرہ کرنا اور اپنے کو ان سے بڑا عالم و فاضل سمجھنا اور اپنے کو ان سے اعلیٰ و افضل سمجھنا، حتی کہ یہ لوگ اس زعمِ باطل میں تھے کہ وہ علی، ابن عباس اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ علم والے تھے، اور حقیقت یہ ہے کہ کم عمر، جاہل اور کم علم سرداروں کے اِرد گرد یہ لوگ اکٹھا ہو گئے تھے۔
(۱۰) ان کے طریقہ استدلال میں خلل تھا، یہ وعید کی آیات کو تو مانتے تھے لیکن وعدہ والی آیات سے صرف نظر کرتے تھے، کفار و مشرکین کے بارے میں موجود آیات سے استدلال کرکے اپنے مخالف مسلمانوں پر فٹ کرتے تھے، جیسا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے بارے میں فرمایا: ''ان لوگوں نے کفار کے بارے میں نازل شدہ آیات کو لے کر اس کو مسلمانوں پر چسپاں کر دیا''۔
(۱۱) یہ سنت سے بیگانہ ہوتے ہیں، اور اکثر صرف قرآن پر انحصار کرتے ہیں۔
(۱۲) اپنے افکار و نظریات میں بڑی تیزی سے اس واسطے رد و بدل اور الٹ پھیر کرتے ہیں کہ ان کے پاس علم و بصیرت کی جگہ صرف جذبات ہی جذبات ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کے آپس میں اختلافات کافی رہتے ہیں، ان اختلافات کے ہوتے ہی علیحدگی اور باہم جنگ پر اتر آتے ہیں۔
(۱۳) احکام صادر کرنے میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور مخالفین کے بارے میں موقف اختیار کرنے میں بھی سرعت سے کام لیتے ہیں، اور ایسا اس واسطے ہوتا ہے کہ تحقیق و تثبت کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں، اور اپنے مخالف پر من مانی رائے زنی کرتے ہیں۔
(۱۴) لوگوں کے دلوں کے بارے میں احکام صادر کرتے ہیں، اور ان پر تہمت گھڑتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اوھام و ظنون اور الزامی چیزوں کا حکم فریق مخالف پر لاگو کر دیتے ہیں۔
(۱۵) جنگ و جدال میں، لوگوں سے معاملات میں اور لوگوں کے بارے میں فیصلہ صادر کرنے میں سختی اور شدت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
(۱۶) تنگ نظر، بے صبرے، نیز جلد نتائج حاصل کرنے کے شیدائی ہوتے ہیں۔
(۱۷) مسلمانوں کے خلاف جنگ کرتے اور ان کو قتل کرتے ہیں، اور بت پرستوں کو چھوڑ دیتے ہیں، جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے۔
خوارج اور شیعہ میں باہم مشترک عقائد و نظریات:

خوارج کے بعد امت میں انہیں کی طرح گمراہ اور بے راہ رَو فرقہ روافض اور شیعہ کا ہے، یہ دونوں فرقے اہم افکار و نظریات میں باہم متفق ہیں:
(۱) دونوں میں غلو اور انتہا پسندی پائی جاتی ہے، خوارج کے یہاں دین اور احکام میں تشدد اور مخالفین کے بارے میں شدید نقطہ نظر اور اس کے نتیجے میں تکفیر، خروج اور جنگ و جدال وغیرہ چیزوں میں غلو اور مبالغہ آمیزی ہے، اور شیعہ و روافض کا غلو شخصیت پرستی میں ہے، حتی کہ علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت کے سلسلے میں ان کے غلو اور تشدد پر خود علی رضی اللہ عنہ نے سخت موقف اختیار کیا۔
(۲) اسی طرح سے یہ دونوں فرقے جہالت، حماقت، اور تنگ نظری میں باہم متفق ہیں، اس کی سب سے بڑی دلیل خوارج کا صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں غلط نقطۂ نظر اور امام المسلمین اور جماعت المسلمین کے خلاف ناجائز خروج ہے، اور علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں غلو شیعوں کی جہالت کا مظہر ہے، جب کہ علی رضی اللہ عنہ نے شیعوں کے اس غلو سے کہ انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کو معبود بنا لیا تھا، اپنی براءت کا اعلان کیا تھا، بعض لوگوں کو اس جرم کے پاداش میں زندہ جلا دیا۔
(۳) دینی بصیرت کا فقدان اور شرعی علم سے نابلد ہونا، ان دونوں فرقوں کا مابہ الامتیاز ہے، خوارج اپنی علمی پسماندگی اور کمزوری کے علی الرغم علمی غرور کا شکار تھے، اور حصول علم میں اور اس میں رسوخ پیدا کرنے کے سلسلے میں کوتاہ ہمت تھے، رہ گئے شیعہ اور روافض تو اہل علم سے وہ علم حاصل نہیں کرتے اور نہ ائمۂ سنت و حدیث سے استفادہ کرتے ہیں، ان کے علمی مآخذ کی بنیاد جھوٹے اور کذاب رواۃ اور مؤلفین ہیں، اور دونوں فرقے علی العموم حدیث اور سنت کا اہتمام نہیں کرتے، صرف ان کے اپنے عقائد و نظریات کے موافق مواد سے ان کو مطلب ہوتا ہے۔
(۴) اسی طرح سنت سے دوری اور جماعت المسلمین اور مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج اور شورش و بغاوت میں یہ دونوں فرقے متحد ہیں، خوارج نے اعتقاد و عمل میں جماعت المسلمین سے علیحدگی اختیار کی اور مسلم حکمرانوں کے خلاف تلوار اٹھائی اور ان سے جنگ و جدال کیا، شیعوں نے بھی اعتقاد و عمل میں جماعت المسلمین سے علیحدگی اختیار کی، اور ائمہ کے خلاف مشروط بغاوت کا نظریہ اپنایا کہ جب ان کا وہمی مہدی خروج کرے گا تو وہ تلوار لے کر میدان میں آجائیں گے، بایں ہمہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والے ہر فتنے میں وہ آگے آگے رہتے ہیں۔
(۵) حدیث اور آثار سلف سے بے اعتنائی اور اس پر عمل نہ کرنے میں بھی دونوں فرقے یکساں رائے رکھتے ہیں، اور یہ احادیث صحیحہ یا اکثر احادیث پر اعتماد نہیں کرتے، اور آثار سلف سے دور رہتے ہیں، ہاں! اگر ان کے آراء و نظریات کی تائید کرنے والی احادیث ہوں تو اس کو قبول کر لیتے ہیں۔
(۶) دونوں فرقے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے سلسلے میں بڑا خراب عقیدہ رکھتے ہیں، خوارج علی، عثمان، معاویہ، ابو موسی اشعری اور عمرو ابن العاص رضی اللہ عنہم اور جنگ جمل اور صفین کے شرکاء یا ان کی اکثریت کی تکفیر کرتے ہیں، اور بعض سلف صالحین پر سبّ و شتم کرتے ہیں، رہ گئے روافض تو وہ سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو کافر کہتے ہیں، صرف چند صحابہ کو مسلمان سمجھتے ہیں، اور ائمہ دین اور سلف صالحین پر سب و شتم کرتے ہیں، اور سارے اہل سنت والجماعت کو برا بھلا کہتے ہیں۔
(۷) اسی طرح سے دونوں فرقے اپنے مخالف مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں، گرچہ تکفیر کے اصول و مبادی اور اسباب میں ہر فرقہ مختلف ہو، خوارج بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اس وجہ سے تکفیر کرتے ہیں کہ انہوں نے تحکیم قبول کی، یعنی قرآن کو چھوڑ کر انسانوں کو حکم مانا، یا اس کو تسلیم کیا، ایسے ہی انہوں نے کبیرہ گناہوں کے مرتکب کی بھی تکفیر کی، اور ہر وہ شخص جس نے ان کی مخالفت کی، اور ان کی صف میں شامل نہیں ہوا ان کی بھی تکفیر کی، درجہ کفر میں اختلاف ہے کہ یہ شرک والا کفر ہے، یا کفرانِ نعمت ہے، اور روافض و شیعہ نے سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تکفیر کی اور انہیں مرتد قرار دیا، صرف ایک مختصر تعداد جو سات صحابہ کی ہے انہیں کو مسلمان مانا، بقیہ سارے ائمہ اور عام مسلمانوں کو کافر قرار دیا۔
ان دونوں فرقوں میں بہت سارے اختلافات بھی پائے جاتے ہیں، چند اہم اختلافات درج ذیل ہیں:

(۱) آل بیت اور ان کے تقدس کے سلسلے میں شیعوں نے غلو کا عقیدہ اختیار کیا، تو اوائل خارجیوں نے ان سے بغض کیا، اور ان کے خلاف دشمنی کا جھنڈا لہرایا، اسی لئے ان کو ناصبی کہا جاتا ہے۔
(۲) شیعہ اور روافض روایت حدیث اور دینی مآخذ و مصادر میں جھوٹ پر اعتماد کرتے ہیں، اور اپنے مخالفین بلکہ خود اپنے اوپر جھوٹ گھڑتے ہیں، جبکہ خوارج دین و عقیدہ اور روایت حدیث میں جھوٹ نہیں بولتے اور نہ اپنے مخالفین پر جھوٹ گھڑتے ہیں، اس لئے کہ جھوٹ ان کے نزدیک ایسا گناہ کبیرہ ہے، جس سے آدمی کافر ہو جاتا ہے، لیکن دین سے جہالت اور علم سے دوری نے ان کو خواہشات نفس کی پیروی پر مجبور کیا۔
(۳) خوارج اپنے عقائد و اعمال، اقوال اور اپنے نقطۂ نظر کا برملا اعلان کرتے ہیں، جبکہ شیعہ اور روافض تقیہ اور نفاق کو دین سمجھ کر اپناتے ہیں، اور تقیہ اور نفاق کا یہ معاملہ اس وقت تک رہے گا جب تک کہ وہ مسلم معاشرے میں مغلوب رہیں گے اور ان کی حکومت اور ریاست نہیں قائم ہو گی۔
(۴) خوارج اکثر حالات میں اپنے مخالفین سے جنگ کو اپنے اوپر لازم قرار دیتے ہیں، جبکہ اکثر و بیشتر شیعہ و روافض صرف اپنے کسی مزعومہ امام کے ساتھ جنگ کے قائل ہیں، اور اپنے ان معصوموں کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کہتے ہیں جو صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کے لئے خاص ہیں، یعنی علم غیب، کائنات میں تصرف، بندوں اور ان کے دلوں پر قدرت، من دون اللہ شریعت سازی وغیرہ وغیرہ، اور ان تمام غلط عقائد کے ساتھ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والے ہر فتنہ میں آگے آگے رہتے ہیں۔
(۵) خوارج کی اکثریت گنواروں اور دیہاتیوں پر مشتمل رہی ہے، جن کی طبیعت میں سختی اور تشدد اور بد مزاجی پائی جاتی تھی، جبکہ شیعوں کی اکثریت عجمیوں سے تھی اور یہ عامی اور بے شعور لوگ تھے۔
(۶) شیعوں کے مزاج اور فطرت میں اپنے دشمنوں یعنی اہل سنت کے خلاف خفیہ مکر و فریب، خیانت و غداری کوٹ کوٹ کر بھری ہے، اس کے برعکس خوارج میں اعلان اور صراحت ملتی ہے، وہ اپنے دشمنوں سے کھلم کھلا براءت کا اعلان کرتے ہیں، اور سختی و تشدد کے ساتھ اپنے اصول و مبادی اور دوسروں کے بارے میں اپنے نقطۂ نظر کا اعلان کرتے ہیں۔
(۷) خوارج کسی کی اطاعت نہیں کرتے، ان کو کسی دائرۂ انتظام میں لانا بہت مشکل بات ہے، جبکہ شیعہ اور روافض اندھی اطاعت والے لوگ ہیں، ہر نعرہ باز کی اتباع کرنے والے ہیں، اور جس نے بھی آل بیت سے محبت اور ان کی تائید کا نعرہ لگایا اس کے ساتھ چل پڑتے ہیں، چاہے یہ نعرہ لگانے والے زندیق اور فاجر ہی کیوں نہ ہوں، یہی وجہ ہے کہ ان کی صف میں دجالوں، جھوٹوں، جھوٹے نبیوں اور فسق و فجور والوں کی کثرت رہی ہے۔
(۸) خوارج بغیر تفقہ اور بصیرت کے ظاہری نصوص پر عمل کرتے ہیں، اور مفہومِ مخالف کی دلالت کو غیر معتبر مانتے ہیں، ان کے یہاں استدلال کے قواعد نہیں ہیں، دلائل کے درمیان جمع و توفیق کے بھی یہ قائل نہیں، اور نہ علماء کے فہم کا ہی ان کے یہاں کوئی اعتبار ہے، یہی وجہ ہے کہ وعید اور خوف کے نصوص پر وہ عمل کرتے ہیں، اور وعدوں اور امیدوں والے نصوص کتاب و سنت سے صرف نظر کرتے ہیں، شیعہ و روافض ان کے بالکل برعکس نصوص کتاب و سنت کی تاویل کرتے ہیں، اور لغوی اور شرعی دلالت کو بھی نہیں مانتے، بلکہ ان نصوص کی حسب خواہش تاویل و تفسیر کرتے ہیں جس میں ان کا طریقہ باطنی اور اشاراتی ہوتا ہے، اور اپنے لیڈروں کی اندھی تقلید کرتے اور ان کو معصوم سمجھتے ہیں۔
(۹) خوارج میں نہ تو زنادقہ پائے جاتے ہیں، اور نہ ہی ان میں نفاق پایا جاتا ہے، لیکن روافض اور شیعہ میں اور ان کی صفوں کے اندر زنادقہ اور منافقین کی کثرت ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ باطنی اور الحادی مذاہب ان سے نکلے اور نبوت اور مہدویت کے دعویداروں کی ان میں کثرت وبہتات ہوئی، تاریخی واقعات میں غور کرنے والوں کو یہ بات ملے گی کہ اکثر خبیث اور مہلک مذاہب والے رفض و تشیّع کے عقائد کو اپناتے ہیں۔
(۱۰) خوارج کے دینی مآخذ شیعوں کے دینی مآخذ سے بہتر ہیں، خوارج قرآن کی اتباع اپنی سمجھ سے چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو، کے مطابق عمل کرتے ہیں، لیکن روافض اپنے معصوم ائمہ ہی سے اخذ کرتے ہیں، اور اپنے ان ائمہ وغیرہ بلکہ رسول اکرم ﷺ پر جھوٹ گھڑتے ہیں، پھر ان جھوٹی باتوں کی تصدیق کرتے ہیں۔
(۱۱) شیعہ اور روافض کے اصول و مبادی، عبادات اور اکثر احکام کی بنیاد بدعات و محدثات اور شرکیات پر ہے، لیکن خوارج کے یہاں مشرکانہ بدعتیں یا عبادت والی بدعتیں، قبر پرستی اور تصوف بہت کم ہے۔
(۱۲) شیعہ اور روافض تاریخ اسلام کے اس طویل عہد میں امت اسلامیہ کے لئے سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے اور ان کے خلاف سازش کرنے والا فرقہ مانا جاتا ہے، جو اللہ تعالیٰ اس کے دین اور اس کے رسول کے سنت اور اہل ایمان کے خلاف معاندانہ رویہ میں سب سے بڑھ چڑھ کر ہے، اس لئے کہ خروج کے اعتقاد اور اس پر عمل کرنے کے اعتبار سے اور مسلمانوں کی تکفیر کے اعتبار سے یہ بھی خوارج کے حکم میں ہیں، بلکہ خوارج سے بڑھ کر اور خاص کر کے اپنے باطل اصول ومبادی جیسے: امامت، عصمت، تقیہ، رفض، اور نفاق وغیرہ وغیرہ یہ چیزیں اپنی شناعت میں خوارج کے عقائد پر اضافہ ہیں، اہل علم نے ان دونوں فرقوں کے بارے میں دلائل کی روشنی میں اور تاریخی حوالے سے بڑا علمی مواد فراہم کیا ہے، اس سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی کتابوں بالخصوص فتاویٰ اور منہاج السنۃ قابل ذکرہیں۔
ہم نے ان معلومات کو ڈاکٹر ناصر بن عبدالکریم العقل استاذ جامعۃ الامام محمد بن سعود کے رسالہ ''الخوارج'' سے اخذ کیا ہے۔

167- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ -وَذَكَرَ الْخَوَارِجَ- فَقَالَ: فِيهِمْ رَجُلٌ مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مَوْدُونُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ، وَلَوْلا أَنْ تَبْطَرُوا لَحَدَّثْتُكُمْ بِمَا وَعَدَاللَّهُ الَّذِينَ يَقْتُلُونَهُمْ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ ﷺ، قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُحَمَّدٍ ﷺ؟ قَالَ: إِي، وَرَبِّ الْكَعْبَةِ -ثَلاثَ مَرَّاتٍ-۔
* تخريج: م/الزکاۃ ۴۸ (۱۰۶۶)، د/السنۃ ۳۱ (۴۷۶۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۳۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/ ۱۳، ۶۵،۸۳، ۹۵، ۱۱۳، ۱۲۲ ۱۴۴ ۱۴۵) (صحیح)

۱۶۷- عَبِیدہ فرماتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کا ذکر کیا، اور ذکر کرتے ہوئے کہا: ان میں ایک آدمی ناقص ہاتھ کا ہے۱؎ ، اور اگر مجھے ڈر نہ ہو تا کہ تم خوشی سے اترانے لگو گے تو میں تمہیں ضرور بتاتا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبان سے ان کے قاتلین کے لئے کس ثواب اور انعام و اکرام کا وعدہ فرمایا ہے، میں نے کہا: کیا آپ نے یہ بات محمد ﷺ سے سنی ہے؟ کہا: ہاں، کعبہ کے رب کی قسم! (ضرور سنی ہے )، اسے تین مرتبہ کہا۔
وضاحت۱؎: راوی کوشک ہے کہ ''مُخْدَجُ الْيَدِ، أَوْ مَوْدُنُ الْيَدِ، أَوْ مَثْدُونُ الْيَدِ'' میں سے کون سا لفظ استعمال کیا ہے، جب کہ ان سب کے معنی تقریباً برابر ہیں، یعنی ناقص ہاتھ ۔

168- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ قَالا: حَدَّثَنَا أَبُوبَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الأَسْنَانِ، سُفَهَائُ الأَحْلامِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ النَّاسِ، يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ، لا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَمَنْ لَقِيَهُمْ فَلْيَقْتُلْهُمْ، فَإِنَّ قَتْلَهُمْ أَجْرٌ عِنْدَاللَّهِ لِمَنْ قَتَلَهُمْ >۔
* تخريج: ت/الفتن ۲۴ (۲۱۸۸)، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۱۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۸۱، ۱۱۳) (صحیح)

۱۶۸- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اخیر زمانہ۱؎ میں کچھ نوعمر، بے وقوف اور کم عقل لوگ ظہور پذیر ہوں گے، لوگوں کی سب سے اچھی (دین کی) باتوں کو کہیں گے، قرآن پڑھیں گے، لیکن ان کے حلق سے نہ اترے گا، وہ اسلام سے ویسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، تو جو انہیں پائے قتل کر دے، اس لئے کہ ان کا قتل قاتل کے لئے اللہ تعالی کے نزدیک باعث اجرو ثواب ہے''۲؎ ۔
وضاحت۱؎: اخیر زمانہ سے مراد خلافت راشدہ کا آخری زمانہ ہے اس لئے کہ خوارج کا ظہور اسی وقت ہوا، اور نہروان کا واقعہ علی رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ۳۳ھ میں ہوا، اس وقت خلافت راشدہ کو اٹھائیس برس گزرے تھے، خلافت کے تیس سال کی مدت مکمل ہونے میں صرف دو سال باقی تھے۔
وضاحت۲؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ لوگ نوعمر اور نو جوان ہوں گے، کم عمری کی وجہ سے سوج بوجھ میں پختگی نہ ہو گی، بظاہر وہ اچھی باتیں کریں گے، اور ان کی باتیں موافق شرع معلوم ہوں گی، مگر حقیقت میں خلاف شرع ہوں گی۔

169- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قُلْتُ لأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَذْكُرُ فِي الْحَرُورِيَّةِ شَيْئًا؟ فَقَالَ: سَمِعْتُهُ يَذْكُرُ قَوْمًا يَتَعَبَّدُونَ: < يَحْقِرُ أَحَدُكُمْ صَلاتَهُ مَعَ صَلاتِهِمْ، وَصَوْمَهُ مَعَ صَوْمِهِمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، أَخَذَ سَهْمَهُ فَنَظَرَ فِي نَصْلِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَنَظَرَ فِي رِصَافِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَنَظَرَ فِي قِدْحِهِ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا فَنَظَرَ فِي الْقُذَذِ فَتَمَارَى هَلْ يَرَى شَيْئًا أَمْ لا >۔
* تخريج: خ/الأنبیاء ۶(۳۳۴۴)، المناقب ۲۵ (۳۶۱۰)، المغازي ۶۲ (۴۳۵۱)، تفسیر التوبہ ۱۰ (۴۶۶۷)، فضائل القرآن ۳۶ (۵۰۵۸)، الأدب ۹۵ (۶۱۶۳)، الاستتابۃ ۷ (۶۹۳۳)، التوحید ۲۳ (۷۴۳۲)، م/الزکاۃ ۴۷ (۱۰۶۴)، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۲۱)، وقد أخرجہ: د/السنۃ ۳۱ (۴۷۶۴)، ن/الزکاۃ ۷۹ (۲۵۷۹)، التحریم ۲۲ (۴۱۰۶)، ط/القرآن ۴ (۱۰)، حم (۳/ ۵۶، ۶۰، ۶۵، ۶۸، ۷۲، ۷۳) (صحیح)

۱۶۹- ابو سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو حروریہ۱؎ (خوارج) کے بارے میں کچھ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک ایسی قوم کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے جو بڑی عبادت گزار ہو گی، اس کی صلاۃ کے مقابلہ میں تم میں کا ہر ایک شخص اپنی صلاۃ کو کمتر اور حقیر سمجھے گا ۲؎، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکارکے جسم سے نکل جاتا ہے کہ تیر انداز اپنا تیر لے کر اس کا پھل دیکھتا ہے، تو اسے (خون وغیرہ) کچھ بھی نظر نہیں آتا، پھر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو بھی کچھ نظرنہیں آتا، پھر اپنے تیر کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر وہ تیر کے پر کو دیکھتا ہے تو شک میں مبتلا ہوتا ہے کہ آیا اسے کچھ اثر دکھایا نہیں۔
وضاحت۱؎: ''حروریہ'': حروراء کی طرف نسبت ہے جو کوفہ کے قریب ایک بستی کا نام ہے اس سے مراد خوارج ہیں، انہیں حروریہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اسی بستی سے خروج کیا تھا۔
وضاحت۲؎: ظاہری عبادت و ریاضت اگر عقیدہ اسلام سے الگ ہو کر کی جا رہی ہے تو وہ بیکار محض ہے، یہ بھی پتہ چلا کہ بدعت کی نحوست سے صوم و صلاۃ جیسی اہم عبادتیں بھی مقبول نہیں ہوتیں، تیر شکار سے پار نکل جانے میں جس قدر سرعت رکھتا ہے، اہل بدعت خصوصاً خوارج دین سے خارج ہونے میں سریع تر ہیں۔

170- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِنَّ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي، أَوْ سَيَكُونُ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي، قَوْماً يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ، لا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لا يَعُودُونَ فِيهِ، هُمْ شِرَارُ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ>.
قَالَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَافِعِ بْنِ عَمْرٍو، أَخِي الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، فَقَالَ: وَأَنَا أَيْضًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: م/الزکاۃ ۴۷ (۱۰۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۹۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۵،۵/۳۱، ۶۱)، دي/الجہاد ۴۰ (۲۴۳۹) (صحیح)

۱۷۰- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میرے بعد میری امت میں سے کچھ لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے، لیکن وہ ان کی حلق سے نہ اترے گا، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے، پھر وہ دین کی طرف واپس لوٹ کر نہ آئیں گے، انسانوں اور حیوانوں میں بدترین لوگ ہیں'' ۱؎ ۔
عبد اللہ بن صامت کہتے ہیں: میں نے اس کا ذکر حکم بن عمرو الغفاری کے بھائی رافع بن عمرو رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے کہا: میں نے بھی اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔
وضاحت۱؎ : ''خلق '' سے مراد لوگ، اور '' خلیقۃ'' سے چوپائے اور جانور ہیں، اس حدیث سے پتہ چلا کہ اہل بدعت جانوروں سے بھی بدتر ہیں، کیونکہ خوارج اہل بدعت ہی کا ایک فرقہ ہے۔

171- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لَيَقْرَأَنَّ الْقُرْآنَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي، يَمْرُقُونَ مِنَ الإِسْلامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۲۵، ومصباح الزجاجۃ: ۶۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۵۶) (صحیح)
(سند میں سماک ضعیف ہیں، اوران کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے، لیکن یہ حدیث دوسرے شواہد سے صحیح ہے، الصحیحہ: ۲۲۲۱)
۱۷۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میری امت کے کچھ لوگ قرآن تو ضرور پڑھیں گے، مگر وہ اسلام سے نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جنہوں نے اہل بدعت کی تکفیر میں توقف کیا ہے، اس لئے کہ نبی ﷺ نے ان کو اپنی امت میں شمار فرمایا، معلوم ہوا کہ وہ امت سے خارج نہیں، اگرچہ فاسق ہوں، اور اکثر سلف کا یہی مذہب ہے، چنانچہ خطابی رحمہ اللہ نے کہا کہ علماء اسلام کا اس بات پر اجماع ہے کہ خوارج باوجود گمراہی کے مسلمانوں کے فرقوں میں سے ہیں، اور ان سے نکاح کرنا جائز ہے، ان کا ذبیحہ حلال ہے، اور ان کی گواہی مقبول ہے، اور علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا وہ کافر ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ''وہ کفر سے بھاگے ہیں''، یعنی وہ کافر نہیں ہیں، پھر پوچھا گیا: کیا وہ منافق ہیں؟ فرمایا: ''وہ اللہ کو صبح و شام یاد کرتے ہیں''، پھر پوچھا گیا: وہ کون ہیں؟ فرمایا: ''وہ ایک ایسی قوم ہے جو فتنے کا شکار ہو گئی جس سے وہ اندھے اور بہرے ہو گئے''۔

172- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِالْجِعْرَانَةِ وَهُوَ يَقْسِمُ التِّبْرَ وَالْغَنَائِمَ، وَهُوَ فِي حِجْرِ بِلالٍ، فَقَالَ رَجُلٌ: اعْدِلْ يَا مُحَمَّدُ! فَإِنَّكَ لَمْ تَعْدِلْ، فَقَالَ: <وَيْلَكَ! وَمَنْ يَعْدِلُ بَعْدِي إِذَا لَمْ أَعْدِلْ؟>، فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ! حَتَّى أَضْرِبَ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: « إِنَّ هَذَا فِي أَصْحَابٍ، أَوْ أُصَيْحَابٍ لَهُ، يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۷۷۲، ومصباح الزجاجۃ: ۶۵)، وقد أخرجہ: خ/فرض الخمس ۱۵ (۳۱۳۸)، م/الزکاۃ ۴۷ (۱۰۶۳)، حم (۳/۳۵۳) (صحیح)

۱۷۲- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مقام جعرانہ میں تشریف فرما تھے، اور آپ بلال رضی اللہ عنہ کی گود میں سے سونا، چاندی اور اموال غنیمت (لوگوں میں) تقسیم فرمارہے تھے، تو ایک شخص نے کہا: اے محمد! عدل و انصاف کیجیے، آپ نے عدل سے کام نہیں لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تیرا بُرا ہو، اگر میں عدل و انصاف نہ کروں گا تو میرے بعد کون عدل کرے گا؟''، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجیے، میں اس منافق کی گردن اڑا دوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس کے اور بھی ساتھی ہیں جو قرآن کو پڑھتے ہیں، لیکن وہ ان کی حلق سے نیچے نہیں اترتا ہے، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: ''جعرا نہ'': مکہ سے آٹھ نو میل پر ایک مقام کا نام ہے، جہاں پر نبی اکرم ﷺ نے غزوہ حنین کے غنائم تقسیم کئے تھے، اس وقت جس شخص نے اعتراض کیا تھا وہ ذوالخویصرہ تھا، آپ ﷺ نے ازراہ مصلحت اس کی گردن مارنے کی اجازت نہ دی، ایسا نہ ہو کہ کہیں مشرکین میں یہ مشہور ہو جائے کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کرتے ہیں۔

173- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الْخَوَارِجُ كِلابُ النَّارِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۶۹، ومصباح الزجاجۃ: ۶۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۵۵) (صحیح)
(اعمش کا سماع ابن أبی أوفی سے ثابت نہیں ہے، اس لئے سند میں انقطاع ہے، لیکن دوسرے طرق اور شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے،ملاحظہ ہو: المشکاۃ: ۳۵۵۴)
۱۷۳- ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''خوارج جہنم کے کتے ہیں''۔

174- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ،حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <يَنْشَأُ نَشْئٌ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ قُطِعَ>، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < كُلَّمَا خَرَجَ قَرْنٌ قُطِعَ > أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ مَرَّةً، < حَتَّى يَخْرُجَ فِي عِرَاضِهِمُ الدَّجَّالُ >۔
* تخريج: تفر د بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۷۵۸، ومصباح الزجاجۃ: ۶۷ ) (حسن)

۱۷۴- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ایک ایسی قوم پیدا ہو گی جو قرآن پڑھے گی لیکن قرآن اس کے حلق سے نیچے نہ اترے گا، جب بھی ان کا کوئی گروہ پیدا ہو گا ختم کر دیا جائے گا''، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے بیسیوں بار رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''جب بھی ان کا کوئی گروہ نکلے گا ختم کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ انہیں میں سے دجال نکلے گا''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: ختم کر دیا جائے گا، یعنی اس کا مستحق ہو گا کہ اس کا خاتمہ اور صفایا کر دیا جائے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اہل بدعت ہی سے دجال کا خروج ہو گا۔

175- حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < يَخْرُجُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ، أَوْ فِي هَذِهِ الأُمَّةِ، يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ، لا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، أَوْ حُلُوقَهُمْ، سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ، إِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ، أَوْ إِذَا لَقِيتُمُوهُمْ، فَاقْتُلُوهُمْ >۔
* تخريج: د/السنۃ ۳۱ (۴۷۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۳۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۹۷) (صحیح)

۱۷۵- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''آخری زمانہ (خلافت راشدہ کے اخیر) میں یا اس امت میں سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو قرآن پڑھے گی لیکن وہ ان کے نرخرے یا حلق سے نیچے نہ اترے گا، ان کی نشانی سر منڈانا ہے، جب تم انہیں دیکھو یا ان سے ملو تو انہیں قتل کر دو''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا نشان سر منڈانا ہے، اور اس سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ بال منڈانا مکروہ ہے، لیکن یہ صحیح نہیں، بعض اوقات سر منڈانا عبادت ہے، جیسا کہ حج اور عمرہ میں، اور پیدائش کے ساتویں روز بچے کا سر منڈانا سنت ہے۔

176- حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ يَقُولُ: شَرُّ قَتْلَى قُتِلُوا تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَائِ، وَخَيْرُ قَتِيلٍ مَنْ قَتَلُوا، كِلابُ أَهْلِ النَّارِ، قَدْ كَانَ هَؤُلائِ مُسْلِمِينَ فَصَارُوا كُفَّارًا، قُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ! هَذَا شَيْئٌ تَقُولُهُ؟ قَالَ: بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: ت/تفسیر القرآن ۴ (۳۰۰۰)، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۳۵)، وقد أخرجہ: حم (۵/ ۲۵۳،۲۵۶)
(حسن صحیح)

۱۷۶- ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ''یہ خوارج سب سے بد ترین مقتول ہیں جو آسمان کے سایہ تلے قتل کیے گئے، اور سب سے بہتر مقتول وہ ہیں جن کو جہنم کے کتوں (خوارج) نے قتل کر دیا، یہ خوارج مسلمان تھے، پھر کافر ہوگئے''۱؎ ۔
ابو غالب کہتے ہیں کہ میں نے ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ یہ بات خود اپنی جانب سے کہہ رہے ہیں؟ تو ابوا مامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، بلکہ اسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔

وضاحت۱؎: یعنی اس قتل و غارت گری میں زمانہ جاہلیت کے کفار کی طرح ہو گئے، جب کہ دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: ''لا تَرْجِعُوْا بَعْدِيْ كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَاْبَ بَعْضٍ'': (اے مسلمانو! میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو)، زمانہ جاہلیت میں عربوں میں قبائلی نظام کے تحت چھوٹے چھوٹے مسائل کے تحت آئے دن آپس میں خونریزی اور قتل و غارت گری کے واقعات پیش آتے تھے، انسانی جان کی کوئی قیمت نہ تھی، اسلام نے انسانی جانوں کا بڑا احترام کیا ،اور بلا کسی واقعی سبب کے خونریزی کو بہت بڑا گناہ اور جرم قرار دیا، اب نو مسلم معاشرہ ایک نظم و ضبط میں بندھ گیا تھا، جرائم پر حدود قصاص اور دیت کا ایک مستقل نظام تھا، اس لئے نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو عہد جاہلیت کے غلط طریقے پر اس حدیث میں تنبیہ فرمائی، اور ایسے اسلوب میں خطاب کیا کہ حقیقی معنوں میں لوگ ہنگامہ آرائی اور قتل و غارت گری اور خونریزی سے اپنے آپ کو دور رکھیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی آپ ﷺ نے اس طرح تربیت فرمائی تھی کہ دوبارہ وہ عہد جاہلیت کے کاموں سے اپنے آپ کو دور رکھنے میں غایت درجہ کا لحاظ رکھتے تھے ، تاکہ ان کے اعمال اکارت اور بے کار نہ جائیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
13- بَاب فِيمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ
۱۳- باب: جہمیہ کا انکار صفات باری تعالی۱؎​
وضاحت۱؎: ''جہمیہ'' ایک گمراہ فرقہ ہے جو جہم بن صفوان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، اور رؤیت باری تعالیٰ اور اثبات صفات الہیہ وغیرہ بہت سے اصولی مسائل میں وہ اہل سنت کے خلاف عقیدہ رکھتا ہے، یہ بدعتی فرقہ اللہ تعالی کی صفات کا انکار کرتا ہے، اور قرآن کو اللہ کا کلا م نہ مان کر اسے مخلوق مانتا ہے، جب کہ امت کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ اللہ رب العزت اور اس کے انبیاء و رسل اور نبی آخر الزماں ﷺ سے اللہ تعالی کے جو اسماء و صفات ثابت ہیں، ان پر ایمان لایا جائے، اور وہ سب اللہ تعالی کے لئے جیسا کہ اس کے لائق ہے ثابت کیے جائیں، اور اس سلسلے میں کسی مخلوق سے اس کی تشبیہ نہ دی جائے، اور نہ کسی مخلوق سے اس کی مثال دی جائے، نہ اس کے ثابت شدہ معنی میں کوئی باطل تاویل اور ناروا تحریف کی جائے، اور نہ اللہ رب العزت کی ذات کو ان اچھے معانی سے الگ کیا جائے، اس لئے اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: {لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْئٌ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ} [سورة الشورى: ۱۱]: (اللہ کے ہم مثل کوئی چیز نہیں ہے، اور وہ سمیع (سننے والا) اور بصیر (دیکھنے والا) ہے)، اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالی نے اپنے سے ہر مثال اور تشبیہ کو الگ قرار دیا ہے، اور ساتھ ہی اپنے لئے سمیع اور بصیر کی صفت بیان کی ہے، یہ اور اس طرح کی بے شمار آیات و احادیث کی روشنی میں سلف صالحین کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کے لئے تمام ثابت ناموں اور خوبیوں پر کامل ایمان لایا جائے، اسی طرح سے سلف کا دلائل کی بناء پر اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ تبارک وتعالی متکلم ہے، جب وہ چاہتا ہے بولتا ہے، اور قرآن مجید اللہ تبارک وتعالی کا کلام مبارک ہے جس کو اس نے اپنے نبی محمد ﷺ پر نازل کیا، جس طرح سے کہ پچھلے انبیاء کے پاس کتابیں بھیجیں، پس ہم کلام اللہ کو اس کی صفت مانتے ہیں، اور اس سلسلہ میں جہمیہ نے قرآن کے مخلوق ہونے کا جو عقیدہ گھڑا اس کو باطل سمجھتے ہیں، بلکہ ائمہ دین نے خوارج، شیعہ، قدریہ اور مرجئہ کو گمراہ اسلامی فرقوں کی اصل بتایا ہے، اور جہمیہ کو اصل دین اسلام ہی سے خارج کر دیا ہے، نسأل الله السلامة والعافية.

177- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَوَكِيعٌ، (ح) وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ ابْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا خَالِي يَعْلَى، وَوَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، قَالَ: <إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ، لا تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لا تُغْلَبُوا عَلَى صَلاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا >، ثُمَّ قَرَأَ: {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ}۔
* تخريج:خ/المواقیت ۱۶ (۵۵۴)، وتفسیر ق ۲ (۴۸۵۱)، والتوحید ۲۴ (۷۴۳۴)، م/المساجد ۳۷ (۶۳۳)، د/السنۃ ۲۰ (۴۷۲۹)، ت/صفۃ الجنۃ ۱۶ (۲۵۵۱)، ن/الکبری/الصلاۃ ۵۷ (۴۶۰)، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۲۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۶۰، ۳۶۲، ۳۶۵) (صحیح)

۱۷۷- جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، آپ نے چودہویں کے چاند کی طرف دیکھا، اور فرمایا: ''عنقریب تم لوگ اپنے رب کو دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو کہ اس کے دیکھنے میں تمہیں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہو رہی ہے، لہٰذا اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے صلاۃ سے پیچھے نہ رہو تو ایسا کرو''۔
پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی: {وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ} [سورة ق: ۳۹] ''اپنے رب کی تسبیح و تحمید بیان کیجئے سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے''۱؎ ۔

وضاحت۱؎: اس حدیث سے اہل ایمان کے لئے جنت میں اللہ تعالی کی رویت ثابت ہوتی ہے، نیز اللہ رب العزت کے لئے علو اور بلندی کی صفت کہ وہ سب سے اوپر آسمان کے اوپر ہے، نیز اس حدیث سے فجر اور عصر کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، آیت کریمہ میں تسبیح سے مراد صلاۃ (نماز) ہے۔

178- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟ >، قَالُوا: لا، قَالَ: < فَكَذَلِكَ، لا تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۴۸۰)، وقد أخرجہ: خ/الاذان ۱۲۹ (۸۰۶)، الرقاق ۵۲ (۶۵۷۳)، التوحید ۲۴ (۴۷۳۷)، م/الإیمان ۸۱ (۱۸۳) الزھد ۱ (۲۹۶۸)، د/السنۃ ۲۰ (۴۷۲۹)، ت/صفۃ الجنۃ ۱۶ (۲۵۵۴)، دي/الرقاق ۸۱ (۲۸۴۳) (صحیح)

۱۷۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کیا تم چودہویں رات کے چاند کے دیکھنے میں کوئی دقت اور پریشانی محسوس کرتے ہو؟''، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اسی طرح تم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھنے میں کوئی دقت اور پریشانی محسوس نہ کروگے''۔

179- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلائِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَرَى رَبَّنَا؟ قَالَ: < تَضَامُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ فِي غَيْرِ سَحَابٍ؟ »، قُلْنَا: لا، قَالَ: <فَتَضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فِي غَيْرِ سَحَابٍ؟ >، قَالُوا: لا، قَالَ: < إِنَّكُمْ لاتَضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ إِلا كَمَا تَضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۱۹)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۶) (صحیح)

۱۷۹- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''کیا تم ٹھیک دوپہر میں سورج دیکھنے میں کوئی دقت اور پریشانی محسوس کرتے ہو جبکہ کوئی بدلی نہ ہو؟''، ہم نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''کیا تم چودہویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی رکاوٹ محسوس کرتے ہو جبکہ کوئی بدلی نہ ہو؟''، ہم نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''سورج و چاند کو دیکھنے کی طرح تم اپنے رب کے دیدار میں بھی ایک دوسرے سے مزاحمت نہیں کروگے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے بھی اللہ تعالی کے لئے صفت علو اور مومنین کے لئے اس کی رؤیت ثابت ہوتی ہے، اور اس میں جہمیہ اور معتزلہ دونوں کا ردو ابطال ہوا، جو اہل ایمان کے لئے اللہ تعالی کی رؤیت نیز اللہ تعالی کے لئے علو اور بلندی کی صفت کے منکر ہیں۔

180- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَائٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ؛ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَنَرَى اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ وَمَا آيَةُ ذَلِكَ فِي خَلْقِهِ؟ قَالَ: « يَا أَبَا رَزِينٍ! أَلَيْسَ كُلُّكُمْ يَرَى الْقَمَرَ مُخْلِيًا بِهِ؟ »، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: < فَاللَّهُ أَعْظَمُ، وَذَلِكَ آيَةٌ فِي خَلْقِهِ >۔
* تخريج: د/السنۃ ۲۰ (۴۷۳۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۷۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۱، ۱۲) (حسن)
(وکیع بن حدس مقبول عند المتابعہ ہیں، او ران کی متابعت موجود ہے، ملاحظہ ہو: السنۃ لابن أبی عاصم (۴۶۸)، شیخ الاسلام ابن تیمیۃ وجھودہ فی الحدیث وعلومہ (۳۸) للدکتور عبد الرحمن الفریوائی)
۱۸۰- ابو رزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم اللہ تعالی کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ اور اس کی اس کے مخلوق میں کیا نشانی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ابو رزین! کیا تم میں کا ہر ایک چاند کو اکیلا بلا کسی روک ٹوک کے نہیں دیکھ لیتا ہے؟''، میں نے کہا: کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ اس سے زیادہ عظیم ہے، اور اس کی مخلوق میں یہ (چاند) اس کے دیدار کی ایک نشانی ہے''۔

181- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَائٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < ضَحِكَ رَبُّنَا مِنْ قُنُوطِ عِبَادِهِ وَقُرْبِ غِيَرِهِ >، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَوَ يَضْحَكُ الرَّبُّ؟ قَالَ: < نَعَمْ >، قُلْتُ: لَنْ نَعْدَمَ مِنْ رَبٍّ يَضْحَكُ خَيْرًا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۸۰، ومصباح الزجاجۃ: ۶۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۱،۱۲) (حسن)
(ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۲۸۱۰)
۱۸۱- ابو رزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ہمارا رب اپنے بندوں کے مایوس ہونے سے ہنستا ہے جب کہ اللہ کی طرف سے ان کی حالت بدلنے کا وقت قریب ہوتا ہے''، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا رب ہنستا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں''، تو میں نے عرض کیا: تب تو ہم ایسے رب کے خیر سے ہرگز محروم نہ رہیں گے جو ہنستا ہے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے اللہ تعالی کی صفت ضحک کا اثبات ہوتا ہے، اور اس کا ہنسنا ایسا ہے جیسا اس کی شان کے لائق ہے۔

182- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَائٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقَهُ؟ قَالَ: < كَانَ فِي عَمَائٍ، مَا تَحْتَهُ هَوَائٌ، وَمَا فَوْقَهُ هَوَائٌ، وَمَا ثَمَّ خَلْقٌ، عَرْشُهُ عَلَى الْمَائِ >۔
* تخريج: ت/تفسیر القرآن ۱۲ (۳۱۰۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۷۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۱، ۱۲) (ضعیف)
(حدیث کی سند میں مذکور راوی وکیع بن حدس مجہول الحال ہیں، نیزملاحظہ ہو: ظلال الجنۃ: ۶۱۲)
۱۸۲- ابو رزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا رب اپنی مخلوق کے پیدا کرنے سے پہلے کہاں تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا:'' بادل میں تھا، نہ تو اس کے نیچے ہوا تھی نہ اوپر ہوا تھی، اور نہ ہی وہاں کوئی مخلوق تھی، (پھر پانی پیدا کیا) اور اس کا عرش پانی پہ تھا''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: حدیث میں ''عماء'' کا لفظ آیا ہے جس کے معنی اگر بالمد ہو تو سحاب رقیق (بدلی) کے ہوتے ہیں، اور بالقصرہو تو اس کے معنی لاشیء کے ہوتے ہیں، بعض اہل لغت نے ''العماء'' بالقصر کے معنی ایسے امر کے کئے ہیں جو عقل اور ادراک سے ماوراء ہو، حدیث سے اللہ تعالی کے لئے صفت فوقیت و علو ثابت ہوئی، کیفیت مجہول ہے۔

183- حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ عَرَضَ لَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ! كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَذْكُرُ فِي النَّجْوَى؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: <يُدْنَى الْمُؤْمِنُ مِنْ رَبِّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَضَعَ عَلَيْهِ كَنَفَهُ، ثُمَّ يُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ، فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُ؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ! أَعْرِفُ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ مِنْهُ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَبْلُغَ قَالَ: إِنِّي سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ، قَالَ: ثُمَّ يُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ، أَوْ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ، قَالَ: وَأَمَّا الْكَافِرُ -أَوِ الْمُنَافِقُ- فَيُنَادَى عَلَى رُؤُوْسِ الأَشْهَادِ -قَالَ خَالِدٌ: فِي <الأَشْهَادِ> شَيْئٌ مِنِ انْقِطَاعٍ-: {هَؤُلاء الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ، أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ} [سورة هود: 18] »۔
* تخريج: خ/ المظالم ۲ (۲۴۴۱)، التفسیر ۴ (۴۶۸۵)، الأدب ۷۰ (۶۰۷۰)، التوحید ۳۶ (۷۵۱۴)، م/التوبۃ ۸ (۲۷۶۸)، ن/الکبری (۱۱۲۴۲)، (تحفۃ الأشراف: ۷۰۹۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۷۴، ۱۰۵) (صحیح)

۱۸۳- صفوان بن محرز مازنی کہتے ہیں: اس اثناء میں کہ ہم عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ تھے، اور وہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے، اچانک ایک شخص سامنے آیا، اور اس نے کہا: ابن عمر! آپ نے نبی اکرم ﷺ سے نجویٰ (یعنی اللہ کا اپنے بندے سے قیامت کے دن سرگوشی کرنے) کے بارے میں کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ''مومن اپنے رب سے قیامت کے دن قریب کیا جائے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا، (تاکہ اس سرگوشی سے دوسرے باخبر نہ ہو سکیں)، پھر اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا، اور فرمائے گا: کیا تم (اس گناہ کو) جانتے ہو؟ وہ بندہ کہے گا: اے رب! میں جانتا ہوں، یہاں تک کہ جب مومن اپنے جملہ گناہوں کا اقرار کر لے گا تو اللہ تعالی فرمائے گا: میں نے دنیا میں ان گناہوں کی پردہ پوشی کی اور آج میں ان کو بخشتا ہوں''، آپ ﷺ نے فرمایا: ''پھر اسے اس کی نیکیوں کا صحیفہ یا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا''، آپ ﷺ نے فرمایا: ''رہے کافر و منافق تو ان کو حاضرین کے سامنے پکارا جائے گا (راوی خالد کہتے ہیں کہ الأشهاد میں کچھ انقطاع ہے): یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا، سن لو! اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر (سورۃ ہود: ۱۸) ''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یہ حدیث جہمیہ وغیرہ کی تردید کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کے حروف و اصوات پر مشتمل ہونے کے منکر ہیں۔

184- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ ابْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ الرَّقَاشِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < بَيْنَا أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي نَعِيمِهِمْ إِذْ سَطَعَ لَهُمْ نُورٌ، فَرَفَعُوا رُؤُوسَهُمْ، فَإِذَا الرَّبُّ قَدْ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِهِمْ، فَقَالَ: السَّلامُ عَلَيْكُمْ، يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! »، قَالَ: «وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ: {سَلامٌ قَوْلا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ}»، قَالَ: «فَيَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَلا يَلْتَفِتُونَ إِلَى شَيْئٍ مِنَ النَّعِيمِ مَا دَامُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ حَتَّى يَحْتَجِبَ عَنْهُمْ وَيَبْقَى نُورُهُ وَبَرَكَتُهُ عَلَيْهِمْ فِي دِيَارِهِمْ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۰۶۷، ومصباح الزجاجۃ: ۶۹) (ضعیف)
(ابوعاصم العبادانی منکر الحدیث اور الفضل بن عیسیٰ بن ابان الرقاشی ضعیف ہیں، نیزملاحظہ ہو: المشکاۃ: ۵۶۶۴)
۱۸۴- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''اس درمیان کہ اہل جنت اپنی نعمتوں میں ہوں گے، اچانک ان پر ایک نور چمکے گا، وہ اپنے سر اوپر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ ان کا رب ان کے اوپر سے جھانک رہا ہے، اور فرما رہا ہے: ''اے جنت والو!تم پر سلام ہو''، اور یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول: {سَلامٌ قَوْلا مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ} [سورة يس: ۵۸] کا ''رحيم (مہربان) رب کی طرف سے (اہل جنت کو) سلام کہا جائے گا''، آپ ﷺ نے فرمایا: ''جب تک باری تعالیٰ کے دیدار کی نعمت ان کو ملتی رہے گی وہ کسی بھی دوسری نعمت کی طرف مطلقاً نظر نہیں اٹھائیں گے، پھر وہ ان سے چھپ جائے گا، لیکن ان کے گھروں میں ہمیشہ کے لیے اس کا نور اور برکت باقی رہ جائے گی''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث میں کئی طرح سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ جہت علو میں ہے، نیز کلام اللہ کا حروف و اصوات پر مشتمل ہونا، اور قابل سماع ہونا بھی ثابت ہوا کہ جنتی جنت میں اللہ تعالی کو دیکھیں گے، جہمیہ اللہ رب العزت کی رؤیت کے منکر ہیں، ان کا مذہب باطل ہے۔

185- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ عَدِيِّ ابْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلا سَيُكَلِّمُهُ رَبُّهُ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تَرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ مِنْ عَنْ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلا يَرَى إِلا شَيْئًا قَدَّمَهُ، ثُمَّ يَنْظُرُ مِنْ عَنْ أَيْسَرَ مِنْهُ فَلا يَرَى إِلا شَيْئًا قَدَّمَهُ، ثُمَّ يَنْظُرُ أَمَامَهُ فَتَسْتَقْبِلُهُ النَّارُ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَّقِيَ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَلْيَفْعَلْ >۔
* تخريج: خ/الزکاۃ ۹ (۱۴۱۳)، ۱۰ (۱۴۱۷)، المناقب ۲۵ (۳۵۹۵)، الأدب ۳۴ (۶۰۲۳)، الرقاق ۴۹ (۶۵۳۹)، ۵۱ (۶۵۶۳) التوحید ۳۶ (۷۵۱۲)، م/الزکاۃ ۲۰ (۱۰۱۶)، ت/صفۃ القیامۃ ۱(۲۴۱۵)، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۵۲)، وقد أخرجہ: ن/الزکاۃ ۶۳ (۲۵۵۴)، حم (۴/۲۵۶، ۲۵۸، ۲۵۹، ۳۷۷) (صحیح)

۱۸۵- عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم میں سے ہر شخص سے اللہ تعالی (قیامت کے دن) بغیر کسی ترجمان کے ہم کلام ہو گا۱؎، بندہ اپنی دائیں جانب نگاہ ڈالے گا تو اپنے ان اعمال کے سوا جن کو اپنے آگے بھیج چکا تھا کچھ بھی نہ دیکھے گا، پھر بائیں جانب نگاہ ڈالے گا تو اپنے ان اعمال کے سوا جن کوآگے بھیج چکا تھا کچھ بھی نہ دیکھے گا، پھر اپنے آگے دیکھے گا تو جہنم اس کے سامنے ہو گی پس جو جہنم سے بچ سکتا ہو چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کو اللہ کی راہ میں دے کر تو اس کو ضرور ایسا کرنا چاہئے''۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ جب جنت میں لوگ داخل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ اور ان کے درمیان کوئی حجاب (پردہ) نہ ہو گا، اس کی طرف نظر کرنے سے صرف اس ذاتِ مقدس کی عظمت و کبریائی اور جلال و ہیبت ہی مانع ہو گا، پھر جب اللہ عز وجل ان پر اپنی رافت اور رحمت اور فضل و امتنان کا اظہار کرے گا تو وہ رکاوٹ دور ہو جائے گی، اور اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی رؤیت کا شرف حاصل کر لیں گے۔

186- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِالصَّمَدِ، عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِالصَّمَدِ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < جَنَّتَانِ مِنْ فِضَّةٍ، آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَجَنَّتَانِ مِنْ ذَهَبٍ، آنِيَتُهُمَا وَمَا فِيهِمَا، وَمَا بَيْنَ الْقَوْمِ وَبَيْنَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَى رَبِّهِمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلا رِدَاءُ الْكِبْرِيَاءِ عَلَى وَجْهِهِ فِي جَنَّةِ عَدْنٍ >۔
* تخريج: خ/تفسیر الرحمن ۱ (۴۸۷۸)، التوحید ۲۴ (۷۴۴۴)، م/الإیمان ۸۰ (۱۸۰)، ت/صفۃ الجنۃ ۳ (۲۵۲۸)، ن/الکبری (۷۷۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۳۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۱۱، ۴۱۶)، دي/الرقاق ۱۰۱ (۲۸۲۵) (صحیح)

۱۸۶- ابو موسی (عبد اللہ بن قیس) اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ساری چیزیں چاندی کی ہیں، اور دو جنتیں ایسی ہیں کہ ان کے برتن اور ان کی ساری چیزیں سونے کی ہیں، جنت عدن میں لوگوں کے اور ان کے رب کے دیدار کے درمیان صرف اس کے چہرے پہ پڑی کبریائی کی چادر ہو گی جو دیدار سے مانع ہو گی''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث کا مقصد بھی یہ ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ کی رؤیت میں رکاوٹ اس کی عظمت و کبریائی اور اس کی ہیبت اور اس کا جلال ہو گا، جس کے سبب کسی کو اس کی طرف نظر اٹھانے کی ہمت نہ ہو گی، لیکن جب اس کی رحمت و رأفت اور اس کے فضل و کرم کا ظہور ہو گا تو یہ رکاوٹ دور ہو جائے گی، اور اہل ایمان اس کی رؤیت کی نعمت سے سرفراز ہو جائیں گے، اس حدیث میں فرقۂ جہمیہ کا بڑا واضح اور بلیغ رد ہے جو رؤیت باری تعالیٰ کے منکر ہیں۔

187- حَدَّثَنَا عَبْدُالْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: تَلا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ هَذِهِ الآيَةَ: {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} [سورة يونس: ۲۶]، وَقَالَ: <إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، نَادَى مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! إِنَّ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ مَوْعِدًا يُرِيدُ أَنْ يُنْجِزَكُمُوهُ، فَيَقُولُونَ: وَمَا هُوَ؟ أَلَمْ يُثَقِّلِ اللَّهُ مَوَازِينَنَا، وَيُبَيِّضْ وُجُوهَنَا، وَيُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ، وَيُنْجِنَا مِنَ النَّارِ؟ قَالَ فَيَكْشِفُ الْحِجَابَ فَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، فَوَاللَّهِ، مَا أَعَطَاهُمُ اللَّهُ شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ -يَعْنِي إِلَيْهِ- وَلا أَقَرَّ لأَعْيُنِهِمْ>۔
* تخريج: م/الإیمان ۸۰ (۱۸۱)، ت/صفۃ الجنۃ ۵۲ (۲۵۵۲)، تفسیر القرآن ۱۱ (۳۱۰۵)، ن/ الکبری (۷۷۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۶۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۳۲، ۳۳۳، ۶/ ۱۵) (صحیح)

۱۸۷- صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت: {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ} [سورة يونس: ۲۶] (جن لوگوں نے نیکی کی ان کے لئے نیکی ہے اور اس سے زیادہ بھی ہے) کی تلاوت فرمائی، اور اس کی تفسیر میں فرمایا: ''جب جنت والے جنت میں اور جہنم والے جہنم میں داخل ہو جائیں گے تو منادی پکارے گا: جنت والو! اللہ کے پاس تمہارا ایک وعدہ ہے وہ اسے پورا کرنا چاہتا ہے، جنتی کہیں گے: وہ کیا وعدہ ہے؟ کیا اللہ نے ہمارے نیک اعمال کو وزنی نہیں کیا؟ ہمارے چہروں کو روشن اور تابناک نہیں کیا؟ ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا؟ اور ہمیں جہنم سے نجات نہیں دی؟''، آپ ﷺ نے فرمایا: ''پھر اللہ تعالیٰ اپنے چہرے سے پردہ ہٹا دے گا، لوگ اس کا دیدار کریں گے، اللہ کی قسم! اللہ کے عطیات میں سے کوئی بھی چیز ان کے نزدیک اس کے دیدار سے زیادہ محبوب اور ان کی نگاہ کو ٹھنڈی کرنے والی نہ ہو گی'' ۔

188- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ الأَصْوَاتَ، لَقَدْ جَائَتِ الْمُجَادِلَةُ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ وَأَنَا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، تَشْكُو زَوْجَهَا، وَمَا أَسْمَعُ مَا تَقُولُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا} [سورة المجادلة: 1]۔
* تخريج: خ/التوحید ۹ (۷۳۸۵)، (تعلیقاً)، ن/ الطلاق ۳۳ (۳۴۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۳۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/ ۴۶)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ۲۰۶۳) (صحیح)

۱۸۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس کی سماعت تمام آوازوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے، نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک عورت آئی اور اپنے شوہر کی شکایت کرنے لگی، میں گھر کے ایک گوشہ میں تھی اور اس کی باتوں کو سن نہیں پا رہی تھی کہ اللہ تعالی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی: {قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا} [سورة المجادلة: ۱]: (بیشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے بارے میں آپ سے جھگڑ رہی تھی)۱؎ ۔
وضاحت۱ ؎: یہ آیت اوس بن صامت کی بیوی خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کے حق میں نازل ہوئی، ایک بار ان کے شوہر نے ان کو بلایا تو انہوں نے عذر کیا، اس پر اوس رضی اللہ عنہ نے خفا ہو کر کہا: تم میرے اوپر ایسی ہو جیسی میری ماں کی پیٹھ، اسے شرعی اصطلاح (زبان) میں ظہار کہتے ہیں، پھر وہ نادم ہوئے، ظہار وایلاء جاہلیت کا طلاق تھا، غرض خولہ کے شوہر نے کہا کہ تم مجھ پر حرام ہو، تو وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اس وقت ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کا سر مبارک دھو رہی تھیں، خولہ نے کہا: اللہ کے رسول میرے شوہر اوس بن صامت نے جب مجھ سے شادی کی تھی تو میں جوان اور مالدار تھی، پھر جب انہوں نے میرا مال کھا لیا، اور میری جوانی مٹ گئی، اور میرے عزیز و اقارب چھوٹ گئے، اور میں بوڑھی ہو گئی تو مجھ سے ظہار کیا، اور وہ اب اپنے اس اقدام پر نادم ہیں، تو کیا اب کوئی صورت ایسی ہے کہ میں اور وہ مل جائیں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''تم اس پر حرام ہو گئی''، پھر انہوں نے کہا کہ میں اپنے اللہ کے سامنے اپنے فقر و فاقہ اور تنہائی کو رکھتی ہوں، ایک مدت دراز تک میں ان کے پاس رہی اور ان سے میرے بچے ہیں جن سے مجھے پیار ہے، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ''تم اس پر حرام ہو، اور مجھے تمہارے بارے میں کوئی حکم نہیں ہوا''، پھر خولہ نے بار بار نبی اکرم ﷺ سے اپنے احوال و مشکلات کا اظہار کیا، اور جب نبی اکرم ﷺ فرماتے کہ تم اس پر حرام ہو گئی تو وہ فریادیں کرتیں اور کہتیں کہ میں اللہ کے سامنے اپنے فقر و فاقہ اور شدت حال کو رکھتی ہوں، میرے چھوٹے بچے ہیں، اگر میں ان کو شوہر کے سپرد کر دوں تو وہ برباد ہوں گے، اور اگر اپنے پاس رکھوں تو بھوکے مریں گے، اور بار بار آسمان کی طرف اپنا سر اٹھاتی تھیں کہ یا اللہ میں تجھ سے فریاد کرتی ہوں، یا اللہ تو اپنا کوئی حکم اپنے نبی ﷺ کی زبان پر اتار دے کہ جس سے میری مصیبت دور ہو، اسلام میں ظہار کا یہ پہلا واقعہ تھا، اور دوسری طرف ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا سر دھونے میں مشغول تھیں، تو خولہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے سنا کہ اللہ کے نبی میرے لئے کچھ غور کریں، اللہ مجھے آپ پر فدا کرے، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ذرا تم خاموش رہو، رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک دیکھتی نہیں ہو، نبی اکرم ﷺ کی حالت یہ ہوتی تھی کہ جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو آپ پر اونگھ طاری ہو جاتی، پھر جب وحی اتر چکی تو آپ ﷺنے فرمایا: ''خولہ نے اپنے شوہر کا شکوہ کیا''، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: {قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا} [سورة المجادلة: ۱] (بیشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے بارے میں آپ سے جھگڑ رہی تھی)۔

اس قصہ سے بڑے عمدہ فوائد معلوم ہوئے:
(۱) آیت کا شان نزول کہ یہ آیت حکم ظہار پر مشتمل ہے، اور اس کی تفصیل اپنے مقام پر آئے گی، ان شاء اللہ تعالی۔
(۲) صحابہ رضی اللہ عنہم کی عادت تھی کہ جب کوئی حادثہ پیش آتا تو وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے، اور یہی حکم ہے ساری امت کے لئے کہ مشکلات و مسائل میں کتاب و سنت کی طرف رجوع کریں، اگرچہ نبی اکرم ﷺ دنیا سے تشریف لے جا چکے ہیں مگر آپ کی سنت (احادیث شریفہ) اور کتاب (قرآن مجید) ہمارے درمیان ہے، اور دنیا میں یہی دونوں چیزیں اہل اسلام کے لیے ترکہ اور میراث ہیں، فمن أخذه أخذ بحظ وافر۔
(۳) انبیاء کی بشریت اور مجبوری کہ وہ بھی تمام امور میں اللہ کے حکم کے منتظر رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے خولہ رضی اللہ عنہا کو کچھ جواب نہ دیا جب تک کہ رب السماوات نے حکم نہ اتارا۔
(۴) سابقہ شرائع پر ہمارے لئے عمل واجب ہے جب تک کہ اس کے نسخ کا علم ہم تک نہ پہنچے، اور اسی کے موافق نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم ان پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو گئی، پھر جب اللہ تعالی نے اس کا نسخ اتارا تو آپ ﷺ نے ناسخ کے موافق حکم دیا۔
(۵) صراحت کے ساتھ اور محسوس اشارے کے ساتھ اللہ تعالی کے لئے علو اور فوقیت کا ثبوت کہ خولہ رضی اللہ عنہا بار بار اپنا سر آسمان کی طرف اٹھاتی تھیں اور کہتی تھیں کہ میں اللہ تعالی سے اپنی حالت بیان کرتی ہوں، اور نبی اکرم ﷺ نے ان کے اس امر کی تقریر و تصویب فرمائی اور کوئی اعتراض نہ کیا، اور اللہ تعالی کے لئے کوئی جانب و جہت خاص نہ ہو، اور رسول اکرم ﷺ کے سامنے کوئی اللہ تعالی کے لئے جہت کو خاص کرے اور آپ ﷺ اس پر خاموش رہیں، اور اللہ تعالی کی معرفت میں جو اسلام کی اساس اور ایمان کی بنیاد ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جہالت اور بد عقیدگی کو گوارہ کریں یہ محال بات ہے، اور اس سے بھی محال اور بعید یہ ہے کہ اللہ تعالی اس علو اور فوقیت کے عقیدہ کو ناپسند کرے، اور اس پر تنبیہ نہ کر کے ظہار کے بارے میں اپنے احکام اتارے اور صحیح عقیدہ کی تعلیم نہ دے، خلاصہ یہ ہے کہ اس قصے میں اللہ تعالیٰ کے لیے علو اور بلندی کی بات پورے طورپر واضح ہے، اور سلف صالحین اور ائمہ اسلام کے یہاں یہ مسئلہ اجماعی ہے۔
(۶) اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صحابہ و صحابیات کو رسول اکرم ﷺ سے کتنی محبت تھی، اور وہ کس ادب و احترام کے ساتھ آپ سے مخاطب ہوتے تھے، اور بات بات میں اپنے آپ کو رسول اکرم ﷺ پر فدا کرتے تھے، اور یہی نسبت ضروری ہے ہر مسلمان کو آپ کی سنت شریفہ سے کہ دل وجان سے اس پر عمل کرے۔
(۷) اس آیت سے اللہ تعالی کے لئے سمع و بصر (سننے اور دیکھنے) کی صفات ثابت ہوئیں، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: {إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ} [سورة المجادلة: ۱] (یقینا اللہ تعالیٰ سننے اور دیکھنے والا ہے) اور فرمایا: {قَالَ لا تَخَافَا إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَى} [سورة طه: ۴۶] (اللہ نے (موسیٰ و ہارون) سے کہا تم بالکل نہ ڈرو میں تمہارے ساتھ ہوں، اور سنتا اور دیکھتا رہوں گا)۔
اور ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے ۔ جب بلندی پر چڑھتے تو اللہ اکبر کہتے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اپنی جانوں پر نرمی کرو، اس لئے کہ تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکارتے، بلکہ سمیع و بصیر (سننے والے دیکھنے والے) کو پکارتے ہو''۔

189- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ بِيَدِهِ قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ الْخَلْقَ: رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي>۔
* تخريج: ت/الدعوات ۱۰۰ (۳۵۴۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۱۳۹)، وقد أخرجہ: خ/بدء الخلق ۱ (۳۱۹۴)، م/التوبۃ ۴ (۲۷۵۱)، حم (۲/۴۳۳)، (یہ حدیث مکرر ہے دیکھئے : ۴۲۹۵) (حسن صحیح)

۱۸۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مخلوقات کے پیدا کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالی نے اپنے ہاتھ سے اپنے ذمہ لکھ لیا کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھی ہوئی ہے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: قرآن و حدیث میں اللہ تعالی کے پیر، ہاتھ اور انگلیوں کا ذکر ہے، اس سلسلے میں سلف صالحین کا مسلک یہ ہے کہ اللہ تعالی کے پیر بھی ہیں، ہاتھ بھی ہیں، انگلیاں بھی ہیں، ان کے ہونے پر ہمارا کامل ایمان اور یقین بھی ہے، لیکن وہ کیسے ہیں؟ ان کی کیفیت کیا ہے؟ ہمیں معلوم نہیں اور نہ ہمیں ان کی کیفیت سے کوئی غرض ہے، بس اتنی سی بات کافی ہے کہ اس کی عظمت و جلالت کے مطابق اس کی انگلیاں ہوں گی، نہ تو اسے کسی مخلوق کے ساتھ تشبیہ اور تمثیل دی جا سکتی ہے، اور نہ اللہ کے ہاتھ پاؤں اور اس کی انگلیوں کے لئے جو الفاظ مستعمل ہوئے ہیں انہیں اپنے اصلی اور حقیقی معنی سے ہٹایا جا سکتا ہے، اللہ تعالی کی انگلیوں سے مراد اللہ کی رحمتیں ہیں، ایسا کہنا مناسب نہیں، بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ ید (ہاتھ) کف (ہتھیلی) اور انامل (انگلیاں) جس معنی کے لئے موضوع ہیں بعینہ وہی معنی مراد لینا چاہئے، اس حدیث میں بھی صفات کے منکر فرقہ جہمیہ کا رد و ابطال ہے جو اللہ تعالی کے لئے ید (ہاتھ) رحمت اور غضب کی صفات کا انکار کرتے ہیں جب کہ اس حدیث میں یہ صفات اللہ تعالی کے لئے ثابت ہیں۔

190- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ قَالا: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الأَنْصَارِيُّ اْلحِزَامِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللَّهِ يَقُولُ: لَمَّا قُتِلَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ يَوْمَ أُحُدٍ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: < يَا جَابِرُ! أَلا أُخْبِرُكَ مَا قَالَ اللَّهُ لأَبِيكَ؟ >، -وَقَالَ يَحْيَى فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَ: < يَا جَابِرُ! مَا لِي أَرَاكَ مُنْكَسِرًا؟ >-، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! اسْتُشْهِدَ أَبِي وَتَرَكَ عِيَالا وَدَيْنًا، قَالَ: < أَفَلا أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِيَ اللَّهُ بِهِ أَبَاكَ؟ >، قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: <مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا قَطُّ إِلا مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ، وَكَلَّمَ أَبَاكَ كِفَاحًا، فَقَالَ: يَا عَبْدِي! تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ، قَالَ: يَا رَبِّ! تُحْيِينِي فَأُقْتَلُ فِيكَ ثَانِيَةً، فَقَالَ الرَّبُّ سُبْحَانَهُ: إِنَّهُ سَبَقَ مِنِّي أَنَّهُمْ إِلَيْهَا لا يَرْجِعُونَ، قَالَ: يَا رَبِّ! فَأَبْلِغْ مَنْ وَرَائِي »، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: {وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَائٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ} [سورة آل عمران: ۱۶۹]۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۲۸۷، ومصباح الزجاجۃ: ۷۰)، وقد أخرجہ: ت/تفسیر القرآن ۴ (۳۰۱۰) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے : ۲۸۰۰) (حسن)
(ملاحظہ ہو: السنۃ لابن أبی عاصم: ۶۱۵ ، ۶۱۶)
۱۹۰- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن عمرو بن حرام غزوۂ احد کے دن قتل کر دئیے گئے تو رسول اللہ ﷺ مجھ سے ملے اور فرمایا: ''جابر! کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ اللہ تعالی نے تمہارے والد سے کیا کہا ہے؟''، (اور یحییٰ بن حبیب راوی نے اپنی حدیث میں کہا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ''جابر! میں تمہیں کیوں شکستہ دل دیکھتا ہوں؟)، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے والد اللہ کی راہ میں قتل کر دئیے گئے، اور اہل و عیال اور قرض چھوڑ گئے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''کیا میں تمہیں اس چیز کی بشارت نہ دوں جسے اللہ تعالی نے تمہارے والد سے ملاقات کے وقت کہا؟''، جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی نے کبھی بھی کسی سے بغیر حجاب کے کلام نہیں کیا، لیکن تمہارے والد سے بغیر حجاب کے کلام کیا، اور فرمایا: میرے بندے! مجھ سے آرزو کر میں تجھے عطا کروں گا، اس پر انہوں نے کہا: میرے رب! میری آرزو یہ ہے کہ تو مجھے زندہ کر دے، اور میں تیری راہ میں دوبارہ قتل کیا جاؤں، تو اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا: یہ بات تو پہلے ہی ہماری جانب سے لکھی جا چکی ہے کہ لوگ دنیا میں دوبارہ واپس نہیں لوٹائے جائیں گے۱؎، انہوں نے کہا: میرے رب! ان لوگوں کو جو دنیا میں ہیں میرے احوال کی خبر دے دے''، انہوں نے کہا: اس وقت اللہ تعالی نے آیت کریمہ نازل فرمائی: {وَلاتَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ} [سورة آل عمران: 169]: (جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے تم ان کو مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس روزی پاتے ہیں)۲؎ ۔
وضاحت۱؎: اور جب شہیدوں کو دوبارہ دنیا میں نہیں لوٹایا جاتا تو دوسرے کس کو لوٹنے کی اجازت ہو گی، پتہ چلا کہ جو لوگ انتقال کر گئے وہ دوبارہ دنیا میں نہیں آئیں گے۔
وضاحت۲؎: اس سے پتہ چلا کہ جو لوگ شہید ہو گئے ان کی زندگی دنیاوی زندگی نہیں ہے، اور نہ وہ دنیا میں زندہ ہیں۔

191- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ اللَّهَ يَضْحَكُ إِلَى رَجُلَيْنِ يَقْتُلُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ، كِلاهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، يُقَاتِلُ هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ، ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَى قَاتِلِهِ، فَيُسْلِمُ، فَيُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُسْتَشْهَدُ >۔
* تخريج: م/الإمارۃ ۳۵ (۱۸۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۶۶۳)، قد أخرجہ: خ/الجہاد ۲۸ (۲۸۲۶)، ن/الجہاد ۳۷ (۳۱۶۷)، ۳۸ (۳۱۶۸)، ط/الجہاد ۱۴ (۲۸)، حم (۲/۳۱۸، ۴۶۴) (صحیح)

۱۹۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی ان دو افراد کے حال پر ہنستا ہے جن میں کا ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے، اور دونوں جنت میں داخل ہوتے ہیں، ایک اللہ تعالی کی راہ میں قتال کرتا ہے اور شہید کر دیا جاتا ہے، پھر اس کے قاتل کو اللہ تعالیٰ توبہ کی توفیق دیتا ہے، اور وہ اسلام قبول کر لیتا ہے، پھر اللہ کی راہ میں لڑائی کرتا ہے اور شہید کر دیا جاتا ہے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے اہل سنت نے اللہ تعالی کے لئے صفت ضحک (ہنسنے) پر استدلال کیا ہے، اور یہ صفت رضا اور خوشی پر دلالت کرتی ہے، اور اللہ تعالی کی دوسری صفات کی طرح اس پر بھی ہم ایمان رکھتے ہیں، جیسا کہ اس ذات باری تعالی کے لئے لائق و سزاوار ہے، اور اس کو ہم مخلوقات سے کسی طرح کی مشابہت نہیں دیتے، اور نہ اس صفت کے معنی کو معطل کرتے ہیں، اور نہ اس کا انکار کرتے ہیں۔

192- حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < يَقْبِضُ اللَّهُ الأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ مُلُوكُ الأَرْضِ >۔
* تخريج: خ/تفسیر سورۃ الزمر ۳ (۴۸۱۲)، التوحید ۶ (۷۳۸۲)، م/صفۃ القیامۃ ۱(۲۷۸۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۳۲۲)، وقد أخرجہ: حم (۲ /۳۷۴)، دي/الرقاق ۸۰ (۲۸۴۱) (صحیح)

۱۹۲- سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی قیامت کے دن زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا، اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا: اصل بادشاہ میں ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں؟''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے اللہ تعالی کے لئے ''ید'' و ''قبض'' و ''طی'' کا اثبات ہوتا ہے، اہل سنت اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے دو ہاتھ ہیں جو قبض و بسط و انفاق جیسی صفات رکھتے ہیں، اس کے دونوں ہاتھ یمین ہیں، اور اس کے ہاتھ ایسے ہیں جیسے اس کی شان کے لائق ہیں۔

193 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمِيرَةَ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ قَالَ: كُنْتُ بِالْبَطْحَائِ فِي عِصَابَةٍ، وَفِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَمَرَّتْ بِهِ سَحَابَةٌ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا فَقَالَ: < مَا تُسَمُّونَ هَذِهِ؟ >، قَالُوا: السَّحَابُ، قَالَ: < وَالْمُزْنُ >، قَالُوا: وَالْمُزْنُ، قَالَ: <وَالْعَنَانُ>، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالُوا: وَالْعَنَانُ، قَالَ: <كَمْ تَرَوْنَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ السَّمَائِ؟>، قَالُوا: لا نَدْرِي، قَالَ: < فَإِنَّ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا إِمَّا وَاحِدًا أَوِ اثْنَيْنِ أَوْ ثَلاثًا وَسَبْعِينَ سَنَةً، وَالسَّمَاءُ فَوْقَهَا كَذَلِكَ -حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ- ثُمَّ فَوْقَ السَّمَائِ السَّابِعَةِ، بَحْرٌ، بَيْنَ أَعْلاهُ وَأَسْفَلِهِ كَمَا بَيْنَ سَمَائٍ إِلَى سَمَائٍ، ثُمَّ فَوْقَ ذَلِكَ ثَمَانِيَةُ أَوْعَالٍ، بَيْنَ أَظْلافِهِنَّ وَرُكَبِهِنَّ كَمَا بَيْنَ سَمَاءِِ إِلَى سَمَاءِِ، ثُمَّ عَلَى ظُهُورِهِنَّ الْعَرْشُ، بَيْنَ أَعْلاهُ وَأَسْفَلِهِ كَمَا بَيْنَ سَمَاءِِ إِلَى سَمَاءِِ، ثُمَّ اللَّهُ فَوْقَ ذَلِكَ، تَبَارَكَ وَتَعَالَى >۔
* تخريج: د/السنۃ ۱۹ (۴۷۲۳)، ت/تفسیر القرآن ۶۷ (۳۳۲۰)، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/ ۲۰۶، ۲۰۷) (ضعیف)
(حدیث کی سند میں مذکور راوی ''الولید بن أبی ثور الہمدانی'' ضعیف ہیں، ''عبد اللہ بن عمیرہ'' لین الحدیث ، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۱۲۴۷)
۱۹۳- عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک جماعت کے ہمراہ مقام بطحاء میں تھا، اور ان میں رسول اکرم ﷺ بھی موجود تھے کہ بادل کا ایک ٹکڑا گزرا، آپ ﷺ نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا: ''تم لوگ اس کو کیا کہتے ہو؟''، لوگوں نے کہا: سحاب، آپ ﷺ نے فرمایا: ''مزن بھی؟''، انہوں نے کہا: ہاں، مزن بھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ''عنان بھی؟''، لوگوں نے کہا: عنان بھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم اپنے اور آسمان کے درمیان کتنا فاصلہ جانتے ہو؟''، لوگوں نے کہا: ہم نہیں جانتے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تمہارے اور اس کے درمیان اکہتّر (۷۱)، بہتّر (۷۲)، یا تہتّر (۷۳) سال کی مسافت ہے، پھر اس کے اوپر آسمان کی بھی اتنی ہی مسافت ہے''، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اسی طرح سات آسمان شمار کیے، پھر فرمایا: ''ساتویں آسمان پر ایک سمندر ہے، اس کے نچلے اور اوپری حصہ کے درمیان اتنی ہی مسافت ہے جتنی کہ دو آسمانوں کے درمیان میں ہے، پھر اس کے اوپر آٹھ فرشتے پہاڑی بکروں کی طرح ہیں، ان کی کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی کہ دو آسمانوں کے درمیان ہے، پھر ان کی پیٹھ پر عرش ہیں، اس کے نچلے اور اوپری حصہ کے درمیان اتنی مسافت ہے جتنی کہ دو آسمانوں کے درمیان میں ہے، پھر اس کے اوپر اللہ تعالی ہے جو بڑی برکت والا، بلند تر ہے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اگرچہ اس حدیث کی سند میں کلام ہے، لیکن اس حدیث سے مصنف نے اللہ تعالی کے لئے صفت علو ثابت کیا ہے، جب کہ یہ صفت کتاب و سنت کے بے شمار دلائل سے ثابت ہے اور ائمہ اسلام کا اس پر اجماع ہے، اس میں تاویل کی قطعاً گنجائش نہیں، یہاں پر علو سے مراد علو معنوی نہیں بلکہ حسی اور حقیقی علو ہے، اور یہ امر فطرت انسانی کے عین موافق ہے، لیکن معتزلہ و جہمیہ کی عقلیں ماری گئی ہیں کہ وہ اس کی تاویل کرتے اور اس کا انکار کرتے ہیں، اور جس بات کو رسول اکرم ﷺ نے عقلاً، حساً، لفظاً اور معناً بیان فرمادیا ہے اس میں شک کرتے ہیں، ائمہ دین نے اس مسئلہ میں مستقل کتابیں تصنیف فرمائیں ہیں، جیسے ''كتاب العلو للعلي الغفار'' للامام الذہبی۔

194- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < إِذَا قَضَى اللَّهُ أَمْرًا فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ كَأَنَّهُ سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ، فَـ: {إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ، قَالُوا الْحَقَّ، وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ} [سورة سبأ: ۲۳]، فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ بَعْضُهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ، فَيَسْمَعُ الْكَلِمَةَ، فَيُلْقِيهَا إِلَى مَنْ تَحْتَهُ، فَرُبَّمَا أَدْرَكَهُ الشِّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا إِلَى الَّذِي تَحْتَهُ، فَيُلْقِيهَا عَلَى لِسَانِ الْكَاهِنِ أَوِ السَّاحِرِ، فَرُبَّمَا لَمْ يُدْرَكْ حَتَّى يُلْقِيَهَا، فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ، فَتَصْدُقُ تِلْكَ الْكَلِمَةُ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ >۔
* تخريج: خ/تفسیر سورۃ الحجر ۱ (۴۸۰۰) التوحید ۳۲ (۷۴۸۱)، د/الحروف والقراء ات ۱ (۳۹۸۹)، ت/التفسیر ۳۵ (۳۲۲۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۲۴۹) (صحیح)

۱۹۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب اللہ تعالی آسمان میں کوئی فیصلہ صادر فرماتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان کی تابعداری میں بطور عاجزی اپنے بازو بچھا دیتے ہیں، جس کی آواز کی کیفیت چکنے پتھر پر زنجیر مارنے کی سی ہوتی ہے، پس جب ان کے دلوں سے خوف دور کر دیا جاتا ہے تو وہ باہم ایک دوسرے سے کہتے ہیں: تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ جواب دیتے ہیں: اس نے حق فرمایا، اور وہ بلند ذات والا اور بڑائی والا ہے''، آپ ﷺ نے فرمایا: ''چوری سے باتیں سننے والے (شیاطین) جو اوپر تلے رہتے ہیں اس کو سنتے ہیں، اوپر والا کوئی ایک بات سن لیتا ہے تو وہ اپنے نیچے والے کو پہنچا دیتا ہے، بسا اوقات اس کو شعلہ اس سے پہلے ہی پا لیتا ہے کہ وہ اپنے نیچے والے تک پہنچائے، اور وہ کاہن (نجومی) یا ساحر (جادوگر) کی زبان پر ڈال دے، اور بسا اوقات وہ شعلہ اس تک نہیں پہنچتا یہاں تک کہ وہ نیچے والے تک پہنچا دیتا ہے، پھر وہ اس میں سو جھوٹ ملاتا ہے تو وہی ایک بات سچ ہوتی ہے جو آسمان سے سنی گئی تھی''۱؎ ۔
وضاحت۱ ؎: اس حدیث سے بھی واضح ہوا کہ اللہ تعالی بلندی پر ہے، اس کے احکام اوپر ہی سے نازل ہوتے ہیں، پس أحکم الحاکمین اوپر ہی ہے، اور نیچے والے فرشتے اوپر کے درجہ والوں سے پوچھتے ہیں: کیا حکم ہوا؟ وہ ان کو جواب دیتے ہیں کہ جو حکم اللہ تعالی کا ہے وہ حق ہے، اس حدیث سے اللہ تعالی کی بڑی عظمت اور ہیبت واضح ہوتی ہے، اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے باوجود قرب، نورانیت اور معصومیت کے اس قدر اللہ تعالی سے لرزاں وترساں ہیں تو ہم کو بد رجہا اس سے زیادہ ڈرنا چاہئے۔

195- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ فَقَالَ: < إِنَّ اللَّهَ لايَنَامُ، وَلا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّهَارِ، وَعَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ، حِجَابُهُ النُّورُ، لَوْ كَشَفَهُ لأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ >۔
* تخريج: م/الإیمان ۷۹ (۱۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۴۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۹۵، ۴۰۰، ۴۰۵) (صحیح)

۱۹۵- ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور پانچ باتیں بیان فرمائیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ سوتا نہیں اور اس کے لئے مناسب بھی نہیں کہ سوئے، میزان کو اوپر نیچے کرتا ہے، رات کا عمل دن کے عمل سے پہلے اور دن کا عمل رات کے عمل سے پہلے اس تک پہنچا دیا جاتا ہے، اس کا حجاب نور ہے، اگر اس کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کی تجلیات ان ساری مخلوقات کو جہاں تک اس کی نظر پہنچے جلا دیں''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے اللہ تعالی کے لئے صفت ''نور'' اور ''وجہ'' (چہرہ) ثابت ہوا، لیکن اس کی کیفیت مجہول اور غیر معلوم ہے، اہل سنت یہی کہتے ہیں کہ رب عز وجل کے لئے صفت وجہ (چہرہ) ہے، مگر ایسا کہ جیسا اس کی شان کے لائق ہے، ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہوا کہ اللہ تعالی کی تجلیات کی کوئی تاب نہیں لا سکتا۔

196- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ اللَّهَ لا يَنَامُ، وَلا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، حِجَابُهُ النُّورُ، لَوْ كَشَفَهَا لأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْهِهِ كُلَّ شَيْئٍ أَدْرَكَهُ بَصَرُهُ >، ثُمَّ قَرَأَ أَبُو عُبَيْدَةَ: {أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ } [سورة النمل: ۸]۔
* تخريج: انظر ماقبلہ (صحیح)

۱۹۶- ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بیشک اللہ تعالی سوتا نہیں اور اس کے لئے مناسب بھی نہیں کہ سوئے، میزان کو جھکاتا اور بلند کرتا ہے، اس کا حجاب نور ہے، اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کی تجلیاں ان تمام چیزوں کو جلا دیں جہاں تک اس کی نظر جائے''، پھر ابو عبیدہ نے آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی: {أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [سورة النمل: ۸] (کہ بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے وہ جو اس کے آس پاس ہے اور اللہ پاک جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے)۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس آیت میں ''نار'' سے نور طور مراد ہے، اور ابو عبیدہ نے یہ آیت اس لئے پڑھی کہ ''نار'' اور ''نور'' دونوں ایک دوسرے کی جگہ مستعمل ہوتے ہیں۔

197 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ: < يَمِينُ اللَّهِ مَلأَى، لا يَغِيضُهَا شَيْئٌ، سَحَّاءُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، وَبِيَدِهِ الأُخْرَى الْمِيزَانُ، يَرْفَعُ الْقِسْطَ وَيَخْفِضُ »، قَالَ: « أَرَأَيْتَ مَا أَنْفَقَ مُنْذُ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ؟ فَإنَّهُ لَمْ يَنْقُصْ مِمَّا فِي يَدَيْهِ شَيْئًا >۔
* تخريج: ت/تفسیر القرآن ۴ (۳۰۴۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۸۶۳)، وقد أخرجہ: خ/تفسیر ھود ۲ (۴۶۸۴)، التوحید ۱۹ (۴۷۱۱)، م/الزکاۃ ۱۱ (۹۹۳)، حم (۲/۵۰۰) (صحیح)

۱۹۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرما یا:''اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، رات دن خرچ کرتا رہتا ہے پھر بھی اس میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے، اس کے دوسرے ہاتھ میں میزان ہے، وہ اسے پست و بالا کرتا ہے''، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ''ذرا غور کرو کہ آسمان و زمین کی تخلیق (پیدائش) سے لے کر اس نے اب تک کتنا خرچ کیا ہو گا؟ لیکن جو کچھ اس کے دونوں ہاتھ میں ہے اس میں سے کچھ بھی نہ گھٹا'' ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: رات دن کی سخاوت کے باوجود اللہ عز وجل کے خزانے سے کچھ بھی کمی نہیں ہوئی، اسی کے پاس سارے خزانے ہیں، اس نے کسی کو نہیں سونپے، آسمان و زمین والوں کا رزق اللہ تبارک وتعالی کے ہاتھ میں ہے، وہی سب کو رزق دیتا ہے، حلال ہو یا حرام، اہل سنت کا یہی مذہب ہے۔

198- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: < يَأْخُذُ الْجَبَّارُ سَمَاوَاتِهِ وَأَرْضَهُ بِيَدِهِ -وَقَبَضَ بِيَدِهِ فَجَعَلَ يَقْبِضُهَا وَيَبْسُطُهَا-، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْجَبَّارُ! أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟ >، قَالَ: وَيَتَمَيَّلُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ؛ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ شَيْئٍ مِنْهُ، حَتَّى إِنِّي أَقُولُ: أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ؟.
* تخريج: م/صفات المنافقین ۱ (۲۷۸۸)، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۱۵)، وقد أخرجہ: خ/التوحید ۱۹(۷۴۱۲)، د/السنۃ ۲۱ (۴۷۳۲)، ن/الکبری ۱۸ (۷۶۸۹)، حم (۲/۷۲)، دي/الرقاق ۸۰ (۲۸۴۱)(صحیح)

۱۹۸- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: ''جبار (اللہ تعالیٰ) آسمانوں اور زمین کو اپنے ہاتھ میں لے لے گا (آپ ﷺ نے اپنی مٹھی بند کی اور پھر اسے بار بار بند کرنے اور کھولنے لگے) اور فرمائے گا: میں جبار ہوں، کہاں ہیں جبار اور کہاں ہیں تکبر (گھمنڈ) کرنے والے؟''، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ دائیں اور بائیں جھکنے لگے یہاں تک کہ میں نے منبر کو دیکھا کہ نیچے سے ہلتا تھا، مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ وہ کہیں رسول اللہ ﷺ کو لے کر گر نہ پڑے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے صاف ثابت ہوا کہ صفات باری تعالی میں لفظ ''ید'' (ہاتھ) سے حقیقی ید ہی مراد ہے، اس کی تاویل قدرت و طاقت اور اقتدار سے کرنا گمراہی ہے۔

199- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِاللَّهِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَنِي النَّوَّاسُ ابْنُ سَمْعَانَ الْكِلابِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَا مِنْ قَلْبٍ إِلا بَيْنَ إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الرَّحْمَنِ، إِنْ شَاءَ أَقَامَهُ وَإِنْ شَاءَ أَزَاغَهُ >، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < يَا مُثَبِّتَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قُلُوبَنَا عَلَى دِينِكَ >، قَالَ: < وَالْمِيزَانُ بِيَدِ الرَّحْمَنِ يَرْفَعُ أَقْوَامًا وَيَخْفِضُ آخَرِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۱۵، ومصباح الزجاجۃ: ۷۱)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۸۲) (صحیح)

۱۹۹- نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ''ہر شخص کا دل اللہ تعالی کی دونوں انگلیوں کے درمیان ہے، اگر وہ چاہے تو اسے حق پر قائم رکھے اور چاہے تو اسے حق سے منحرف کر دے''، اور رسول اللہ ﷺ دعا فرماتے تھے: ''اے دلوں کے ثابت رکھنے والے! تو ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت رکھ''، آپ ﷺ نے کہا: ''اور ترازو رحمن کے ہاتھ میں ہے، کچھ لوگوں کو بلند کرتا ہے اور کچھ کو پست، قیامت تک (ایسے ہی کرتا رہے گا)''۔

200- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ اللَّهَ لَيَضْحَكُ إِلَى ثَلاثَةٍ: لِلصَّفِّ فِي الصَّلاةِ، وَلِلرَّجُلِ يُصَلِّي فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، وَلِلرَّجُلِ يُقَاتِلُ -أُرَاهُ قَالَ: خَلْفَ الْكَتِيبَةِ- >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۹۳، ومصباح الزجاجۃ: ۷۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۸۰) (ضعیف)
(سند میں عبد اللہ بن اسماعیل مجہول اور مجالد ضعیف ہیں، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۲۱۰۳)
۲۰۰- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بیشک اللہ تعالی تین طرح کے لوگوں کو دیکھ کر ہنستا ہے: ایک صلاۃ میں مصلیوں کی صف، دوسرا وہ شخص جو رات کے درمیانی حصہ میں اٹھ کرصلاۃ پڑھتا ہے، تیسرا وہ شخص جو جہاد کرتا ہے''۔
راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ''لشکر کے پیچھے''، یعنی ان کے بھاگ جانے کے بعد۔

201- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ رَجَاءِِ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ -يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيَّ-، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى النَّاسِ فِي الْمَوْسِمِ، فَيَقُولُ: < أَلا رَجُلٌ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ، فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلامَ رَبِّي >۔
* تخريج: د/السنۃ ۲۲(۴۷۳۴)، ت/فضائل القرآن ۲۴ (۲۹۲۵)، (تحفۃ الأشراف: ۲۲۴۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۲۲، ۳۹۰)، دي/فضائل القرآن ۵ (۳۳۹۷) (صحیح)

۲۰۱- جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حج کے دنوں میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے اور فرماتے: ''کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو مجھے اپنی قوم میں لے جائے؟ اس لیے کہ قریش نے مجھے اپنے رب کے کلام کی تبلیغ سے روک دیا ہے'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: حدیث سے ثابت ہوا کہ قرآن اللہ تعالی کا کلام ہے، ناکہ جبریل کا، کلام اللہ کو مخلوق کا کلام کہنا گمراہوں کا کام ہے۔

202- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَزِيرُ بْنُ صَبِيحٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ حَلْبَسٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ} [سورة الرحمن: ۲۹]، قَالَ: <مِنْ شَأْنِهِ أَنْ يَغْفِرَ ذَنْبًا، وَيُفَرِّجَ كَرْبًا، وَيَرْفَعَ قَوْمًا، وَيَخْفِضَ آخَرِينَ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۰۵، ومصباح الزجاجۃ: ۷۳) (حسن)
(بخاری نے تعلیقاً تفسیر سورہ الرحمن میں ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے، صحیح بخاری مع فتح الباری: ۸/۶۲۰)
۲۰۲- ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اللہ تعالی کے فرمان: {كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ} [سورة الرحمن: ۲۹]: ''وہ ذات باری تعالی ہر روز ایک نئی شان میں ہے'' کے سلسلے میں بیان فرمایا: ''اس کی شان میں سے یہ ہے کہ وہ کسی کے گناہ کو بخش دیتا ہے، کسی کی مصیبت کو دور کرتا ہے، کسی قوم کو بلند اور کسی کو پست کرتا ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
14- بَاب مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً أَوْ سَيِّئَةً
۱۴- باب: (دین میں) اچھے یا برے طریقہ کے موجد کا انجام​

203- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْمَلِكِ ابْنُ عُمَيْرٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَمِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا، لا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ، لا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا >۔
* تخريج: م/الزکاۃ ۲۰ (۱۰۱۷)، العلم ۶ (۲۶۷۳)، ن/الزکاۃ ۶۴ (۲۵۵۵)، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۳۲)، وقد أخرجہ: ت/العلم ۱۵ (۲۶۷۵)، حم (۴/۳۵۷، ۳۵۸، ۳۵۹، ۳۶۲)، دي/المقدمۃ ۴۴ (۵۲۹) (صحیح)

۲۰۳- جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے کوئی اچھا طریقہ ایجاد کیا اور اس پر لوگوں نے عمل کیا تو اسے اس کے (عمل) کا اجر و ثواب ملے گا، اور اس پر جو لوگ عمل کریں ان کے اجر کے برابر بھی اسے اجر ملتا رہے گا، اس سے ان عمل کرنے والوں کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی، اور جس نے کوئی برا طریقہ ایجاد کیا اس پر اور لوگوں نے عمل کیا تو اس کے اوپر اس کا گناہ ہو گا، اور اس پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی اسی پر ہو گا، اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہوگی''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یہ حدیث یہاں مختصر ہے، پوری حدیث صحیح مسلم کتاب الزکاۃ میں ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ''من سن في الإسلام'' کے معنی یہ نہیں کہ دین میں نئی نئی بدعتیں نکالی جائیں، اور ان کا نام بدعت حسنہ رکھ دیا جائے، شریعت میں کوئی بدعت سنت حسنہ نہیں ہوتی، حدیث کا معنی یہ ہے کہ جو چیز اصول اسلام سے ثابت ہو، اور کسی وجہ سے اس کی طرف لوگوں کی توجہ نہ ہو، اور کوئی شخص اس کو جاری کرے تو جو لوگ اس کو دیکھ کر اس سنت پر عمل کریں گے ان کے ثواب میں کمی کیے بغیر ان کے برابر اس کو ثواب ملے گا، کیونکہ حدیث میں مذکور ہے کہ ایک شخص ایک تھیلا بھر کر امداد میں سامان لایا، جن کو دیکھ کر دوسرے لوگوں کو بھی رغبت ہوئی، اور وہ بھی زیادہ سے زیادہ امداد لے کر آئے، تب آپ ﷺ نے یہ فرمایا۔

204 - حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ بْنُ عَبْدِالصَّمَدِ بْنِ عَبْدِالْوَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيْرِيْنَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَحَثَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَجُلٌ: عِنْدِي كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَمَا بَقِيَ فِي الْمَجْلِسِ رَجُلٌ إِلا تَصَدَّقَ عَلَيْهِ بِمَا قَلَّ أَوْ كَثُرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنِ اسْتَنَّ خَيْرًا فَاسْتُنَّ بِهِ كَانَ لَهُ أَجْرُهُ كَامِلاً، وَمِنْ أُجُورِ مَنِ اسْتَنَّ بِهِ وَلا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنِ اسْتَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً، فَاسْتُنَّ بِهِ، فَعَلَيْهِ وِزْرُهُ كَامِلاً، وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِي اسْتَنَّ بِهِ، وَلا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۴۴۳، ومصباح الزجاجۃ: ۷۴)، حم (۲/۵۲۰) (صحیح)

۲۰۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس پر صدقہ و خیرات کرنے کی ترغیب دلائی، ایک صحابی نے کہا: میرے پاس اتنا اتنا مال ہے، راوی کہتے ہیں: اس مجلس میں جو بھی تھا اس نے تھوڑا یا زیادہ ضرور اس پر صدقہ کیا، تو اس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص نے کوئی اچھی سنت جاری کی اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے اس کے عمل کا پورا ثواب ملے گا، اور ان لوگوں کا ثواب بھی اس کو ملے گا جو اس سنت پر چلے، ان کے ثوابوں میں کوئی کمی بھی نہ کی جائے گی، اور جس نے کوئی غلط طریقہ جاری کیا، اور لوگوں نے اس پر عمل کیا، تو اس پر اس کا پورا گناہ ہو گا، اور ان لوگوں کا گناہ بھی اس پر ہو گا جنہوں نے اس غلط طریقہ پر عمل کیا، اور اس سے عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کچھ بھی کمی نہ ہو گی'' ۔

205- حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: < أَيُّمَا دَاعٍ دَعَا إِلَى ضَلالةٍ فَاتُّبِعَ، فَإِنَّ لَهُ مِثْلَ أَوْزَارِ مَنِ اتَّبَعَهُ وَلا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا، وَأَيُّمَا دَاعٍ دَعَا إِلَى هُدًى فَاتُّبِعَ، فَإِنَّ لَهُ مِثْلَ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ، وَلا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۱، ومصباح الزجاجۃ: ۷۵)، وقد أخرجہ: ت/تفسیر القرآن ۳۸ (۳۲۲۸)، دي/المقدمۃ ۴۴ (۵۳۰) (صحیح)
(اس سند میں سعد بن سنان ضعیف ہیں، لیکن اگلی حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)
۲۰۵- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' جس نے لوگوں کو کسی گمراہی کی طرف بلایا، اور لوگ اس کے پیچھے ہولئے تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ہو گا جتنا اس کی پیروی کرنے والوں کو ہو گا، اور اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی، اور جس نے ہدایت کی طرف بلایا اور لوگ اس کے ساتھ ہو گئے، تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس کی پیروی کرنے والے کو اور اس سے اس کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: شرک و بدعت، شرع میں حرام و ناجائز چیزیں اور فسق و فجور کی ساری باتیں گمراہی میں داخل ہیں کہ اس کی طرف دعوت دینے والے پر اس کے متبعین کا بھی عذاب ہو گا، اور خود وہ اپنے گناہوں کی سزا بھی پائے گا، اور ہدایت میں توحید و اتباع سنت اور ساری سنن و واجبات و فرائض داخل ہیں، اس کی طرف دعوت دینے والے کو ان باتوں کے ماننے والوں کا ثواب ملے گا، اور خود اس کے اپنے اعمال حسنہ کا ثواب، اس لئے داعی الی اللہ کے لئے جہاں یہ اور اس طرح کی حدیث میں فضیلت ہے وہاں علمائے سوء اور دعاۃ باطل کے لئے سخت تنبیہ بھی۔

206- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنِ اتَّبَعَهُ، لا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلالَةٍ فَعَلَيْهِ مِنَ الإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنِ اتَّبَعَهُ، لا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۰۳۹)، وقد أخرجہ: م/العلم ۶ (۲۶۷۴)، د/السنۃ ۷ (۴۶۰۹)، ت/العلم ۱۵ (۲۶۷۵)، دي/المقدمۃ ۴۴ (۲۶۷۴)، حم (۲/۳۹۷) (صحیح)

۲۰۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو کسی ہدایت کی طرف بلائے تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس شخص کو ملے گا جس نے اس کی اتباع کی، اور اس سے ان کے ثواب میں کوئی کمی نہ ہو گی، اور جو کسی گمراہی کی طرف بلائے تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ہو گا جتنا اس کی اتباع کرنے والوں کو ہو گا، اور اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی''۔

207- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا إسْمَاعِيْلُ أبو إِسْرَائِيلَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ لَهُ أَجْرُهُ وَمِثْلُ أُجُورِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهُ وَمِثْلُ أَوْزَارِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۰۰، ومصباح الزجاجۃ: ۷۶) (حسن صحیح)
(سند میں اسماعیل بن خلیفہ ابو اسرائیل الملائی ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، انہیں شواہد میں سے جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی صحیح مسلم کی حدیث ہے، ملاحظہ ہو: ۴/۲۰۵۹)
۲۰۷- ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص نے کوئی اچھی سنت جاری کی اور اس کے بعد لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے اس کا اجر ملے گا، اور عمل کر نے والوں کے برابر بھی اجر ملے گا، اور عمل کرنے والوں کے ثواب سے کچھ بھی کمی نہ ہو گی، اور جس نے کوئی غلط طریقہ جاری کیا، اور اس کے بعد اس پر لوگوں نے عمل کیا تو اس پر اس کا گناہ ہو گا، اور عمل کرنے والوں کے مثل بھی گناہ ہو گا، اس سے عمل کرنے والوں کے گناہوں میں کچھ بھی کمی نہ ہو گی''۔

208- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَا مِنْ دَاعٍ يَدْعُو إِلَى شَيْئٍ إِلا وُقِفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لازِمًا لِدَعْوَتِهِ، مَا دَعَا إِلَيْهِ، وَإِنْ دَعَا رَجُلٌ رَجُلا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۲۱، ومصباح الزجاجۃ: ۷۷) (ضعیف)
(سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف راوی ہیں)
۲۰۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو کوئی بھی کسی چیز کی طرف بلاتا ہے، قیامت کے دن اس حال میں کھڑا کیا جائے گا کہ وہ اپنی دعوت کو لازم پکڑے ہو گا، چاہے کسی ایک شخص نے ایک ہی شخص کو بلایا ہو''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
15- بَاب مَنْ أَحْيَا سُنَّةً قَدْ أُمِيتَتْ
۱۵- باب: مردہ سنت کو زندہ کرنے والے کا ثواب​

209- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي فَعَمِلَ بِهَا النَّاسُ، كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً فَعُمِلَ بِهَا، كَانَ عَلَيْهِ أَوْزَارُ مَنْ عَمِلَ بِهَا لا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِ مَنْ عَمِلَ بِهَا شَيْئًا>۔
* تخريج: ت/العلم ۱۶ (۲۶۷۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۷۷۶) (صحیح)
(اس حدیث کی سند میں کثیر بن عبد اللہ بن عمرو بن عوف المزنی سخت ضعیف راوی ہے، اس لئے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن یہ متن ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے، کما تقدم (۲۰۷) اس لئے البانی صاحب نے اس کے متن کی تصحیح کر دی ہے، ملاحظہ ہو: السنۃ لابن أبی عاصم: ۴۲)
۲۰۹- عوف مزنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے میری سنتوں میں سے کسی سنت کو زندہ کیا، اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے اتنا ثواب ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ملے گا، اور اس سے عمل کرنے والوں کے ثواب میں سے کچھ بھی کمی نہ ہو گی، اور جس کسی نے کوئی بدعت ایجاد کی اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ہو گا، اور اس پر عمل کرنے والوں کے گناہوں میں سے کچھ بھی کمی نہ ہو گی''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: بدعت ایجاد کرنے والوں اور اس کی تبلیغ و ترویج کرنے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہئے، جتنے لوگ ان کے بہکانے سے راہِ حق سے گمراہ ہوں گے ان کا وبال ان ہی کے سر ہو گا، والعیاذ باللہ ۔

210- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي قَدْ أُمِيتَتْ بَعْدِي، فَإِنَّ لَهُ مِنَ الأَجْرِ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنَ النَّاسِ، لا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِ النَّاسِ شَيْئًا، وَمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً لا يَرْضَاهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فَإِنَّ عَلَيْهِ مِثْلَ إِثْمِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنَ النَّاسِ، لا يَنْقُصُ مِنْ آثَامِ النَّاسِ شَيْئًا >.
* تخريج: انظر ما قبلہ (صحیح)
(سند میں کثیر بن عبد اللہ ضعیف راوی ہیں، لیکن کثرت طرق سے یہ صحیح ہے کما تقدم)
۲۱۰- عوف مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہو ئے سنا: ''جس شخص نے میری سنتوں میں سے کسی ایسی سنت کو زندہ کیا جو میرے بعد مردہ ہو چکی تھی تو اسے اتنا ثواب ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ملے گا، اور ان کے ثوابوں میں کچھ کمی نہ ہو گی، اور جس نے کو ئی ایسی بدعت ایجاد کی جسے اللہ اور اس کے رسول پسند نہیں کرتے ہیں تو اسے اتنا گناہ ہو گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ہو گا، اس سے ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہ ہو گی''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: مردہ یعنی متروک سنتوں کو زندہ کرنے کا ثواب بہت ہے، اس حدیث میں مردہ سنتوں کے زندہ کرنے والوں کے لئے بشارت ہے، ساتھ ہی بدعات کو رواج دینے والوں اور ان پر عمل کرنے والوں کو جو وبال ہو گا اس کا بھی بیان ہے، اللہ تعالی ہم سب کو بدعتوں اور بدعتیوں سے محفوظ رکھے، آمین۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
16- بَاب فَضْلِ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ
۱۶- باب: قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کے فضائل و مناقب​

211- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِالرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «-قَالَ شُعْبَةُ: خَيْرُكُمْ، وَقَالَ سُفْيَانُ: أَفْضَلُكُمْ- مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ >۔
* تخريج: خ/فضائل القرآن ۲۱ (۵۰۲۷)، د/الصلاۃ ۳۴۹ (۱۴۵۲)، ت/فضائل القرآن ۱۵ (۲۹۰۷)، (تحفۃ الأشراف: ۹۸۱۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/ ۵۷، ۵۸، ۶۹)، دي/فضائل القرآن ۲ (۳۳۴۱) (صحیح)

۲۱۱- عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''(شعبہ کہتے ہیں:) تم میں سب سے بہتر (کہا)، (اور سفیان نے کہا:) تم میں سب سے افضل (کہا) وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یعنی کلام اللہ چونکہ سب کلاموں سے افضل ہے، اس لئے اس کا سیکھنے والا اور سکھانے والا بھی افضل ہے۔

212- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِالرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <أَفْضَلُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ >۔
* تخريج: انظر ماقبلہ (صحیح)

۲۱۲- عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم میں سب سے افضل وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے''۔

213- حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ نَبْهَانَ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < خِيَارُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ >، قَالَ: وَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا، أُقْرِءُ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۴۴، ومصباح الزجاجۃ: ۷۸)،وقد أخرجہ: دي/فضائل القرآن ۲ (۳۳۸۲) (حسن صحیح)
(اس حدیث کی سند میں مذکور راوی ''الحارث بن نبہان'' ضعیف ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو الصحیحہ: ۱۱۷۲)
۲۱۳- سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرآن سیکھیں اور سکھائیں''۔
عاصم۱؎ کہتے ہیں: مصعب نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے میری اس جگہ پر بٹھایا تاکہ میں قرآن پڑھاؤں۔

وضاحت۱؎: عاصم بن بہدلہ: یہ عاصم بن ابی النجود ہیں، جو امام القراء ہیں، اور ان کی قراءت معتمد اور حجت مانی گئی ہے، اس وقت عاصم کی قراءت ہی عام اور مشہور قراءت ہے۔

214- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الأُتْرُجَّةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَرِيحُهَا طَيِّبٌ، وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ التَّمْرَةِ، طَعْمُهَا طَيِّبٌ وَلا رِيحَ لَهَا، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الرَّيْحَانَةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ، طَعْمُهَا مُرٌّ وَلا رِيحَ لَهَا >۔
* تخريج: خ/فضائل القرآن ۱۷ (۵۰۲۰)، ۳۶ (۵۰۵۹)، الأطعمۃ ۳۰ (۵۴۲۷)، التوحید ۵۷ (۷۵۶۰)، م/المسافرین ۳۷ (۷۹۷)، د/الأدب ۱۹ (۴۸۳۰)، ت/الأمثال ۴ (۲۸۶۵)، ن/الإیمان ۳۲ (۵۰۴۱)، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۸۱)، وقد أخرجہ: حم (۴/ ۳۹۷ ، ۴۰۴، ۴۰۸)، دي/فضائل القرآن ۸ (۳۳۶۶) (صحیح)

۲۱۴- ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: '' قرآن پڑھنے والے مومن کی مثال سنترے کی سی ہے کہ اس کا مزہ بھی اچھا ہے اور بو بھی اچھی ہے، اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال کھجور کی سی ہے کہ اس کا مزہ اچھا ہے لیکن کوئی بو نہیں ہے، اور قرآن پڑھنے والے منافق کی مثال ریحانہ (خوشبو دار گھاس وغیرہ) کی سی ہے کہ اس کی بو اچھی ہے لیکن مزہ کڑوا ہے، اور قرآن نہ پڑھنے والے منافق کی مثال تھوہڑ (اندرائن) جیسی ہے کہ اس کا مزہ کڑوا ہے، اور اس میں کوئی خو شبو بھی نہیں''۔

215- حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ ابْنُ بُدَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِنَّ لِلَّهِ أَهْلِينَ مِنَ النَّاسِ >، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَنْ هُمْ؟ قَالَ: < هُمْ أَهْلُ الْقُرْآنِ، أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۴۱، ومصباح الزجاجۃ: ۷۹)، وقد أخرجہ: ن/الکبری ۲۶ (۸۰۳۱)، حم (۳ /۱۲۷، ۱۲۸، ۲۴۲)، دي/فضائل القرآن ۱ (۳۳۲۹) (صحیح)

۲۱۵- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''لوگوں میں سے کچھ اللہ والے ہیں''، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''وہ قرآن پڑھنے پڑھانے والے ہیں، جو اللہ والے اور اس کے نزدیک خاص لوگ ہیں''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: قرآن والے یعنی خشوع و خضوع اور آداب کے ساتھ اس کی تلاوت کرنے والے، اور اس کے وعدہ اور وعید پر ایمان لانے والے، اور اس کے احکام پر چلنے والے اللہ تعالی کے خاص لوگ ہیں۔

216- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي عُمَرَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيِّ ابْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَحَفِظَهُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ وَشَفَّعَهُ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، كُلُّهُمْ قَدِ اسْتَوْجَبُوا النَّارَ >۔
* تخريج: ت/فضائل القرآن ۱۳ (۲۹۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۴۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۴۸، ۱۴۹) (ضعیف جدًا)
(سند میں ابو عمر حفص بن سلیمان متروک، اور کثیر بن زاذان مجہول راوی ہیں)
۲۱۶- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے قرآن پڑھا اور اسے یاد کیا، اللہ تعالی اسے جنت میں داخل کرے گا، اور اس کے اہل خانہ میں سے دس ایسے افراد کے سلسلے میں اس کی شفاعت قبول کرے گا جن پر جہنم واجب ہو چکی ہو گی''۔

217- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِاللَّهِ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِالْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَائٍ -مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ-، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَاقْرَئُوهُ وَارْقُدُوا، فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ وَمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَامَ بِهِ، كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا يَفُوحُ رِيحُهُ كُلَّ مَكَانٍ، وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَرَقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ، كَمَثَلِ جِرَابٍ أُوكِيَ عَلَى مِسْكٍ >۔
* تخريج: ت/فضائل القرآن ۲ (۲۸۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۲۴۲) (ضعیف)
(حدیث کی ترمذی نے تحسین کی ہے، لیکن عطاء مولی أبی احمد ضعیف ہے، اس لئے یہ اس سند سے ضعیف ہے)
۲۱۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قرآن سیکھو اور اس کی تلاوت کرو، تب سوؤ کیونکہ قرآن اور اس کے سیکھنے والے اور رات کو قیام (صلاۃ تہجد) میں قرآن پڑھنے والے کی مثال خوشبو بھری ہوئی تھیلی کی ہے جس کی خوشبو ہر طرف پھیل رہی ہو،اور اس شخص کی مثال جس نے قرآن سیکھا، مگر رات کو پڑھا نہیں ایسی خوشبو بھری تھیلی کی ہے جس کا منہ بندھا ہوا ہے''۔

218- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَبِي الطُّفَيْلِ أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِالْحَارِثِ لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعُسْفَانَ، وَكَانَ عُمَرُ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى مَكَّةَ، فَقَالَ عُمَرُ: مَنِ اسْتَخْلَفْتَ عَلَى أَهْلِ الْوَادِي؟ قَالَ: اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْهِمُ ابْنَ أَبْزَى، قَالَ: وَمَنِ ابْنُ أَبْزَى؟ قَالَ: رَجُلٌ مِنْ مَوَالِينَا، قَالَ عُمَرُ: فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًى؟ قَالَ: إِنَّهُ قَارِئٌ لِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ، قَاضٍ قَالَ عُمَرُ: أَمَا إِنَّ نَبِيَّكُمْ ﷺ قَالَ : < إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ >۔
* تخريج: م/المسا فرین ۴۷ (۸۱۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۴۷۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/ ۳۵)، دي/فضائل القرآن ۹ (۳۳۶۸) (صحیح)

۲۱۸- عامر بن واثلہ ابو الطفیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نافع بن عبد الحارث کی ملاقات عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے مقام عسفان میں ہوئی، عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ان کو مکہ کا عامل بنا رکھا تھا، عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم کس کو اہل وادی (مکہ) پراپنا نائب بنا کرکے آئے ہو؟ نافع نے کہا: میں نے ان پر اپنا نائب ابن ابزیٰ کو مقرر کیا ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ابن ابزیٰ کون ہے؟ نافع نے کہا: ہمارے غلاموں میں سے ایک ہیں۱؎ ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے ان پہ ایک غلام کو اپنا نائب مقرر کر دیا؟ نافع نے عرض کیا: ابن ابزی کتاب اللہ (قرآن) کا قاری، مسائل میراث کا عالم اور قاضی ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر بات یوں ہے تو تمہارے نبی ﷺ نے فرمایا ہے: ''اللہ تعالی اس کتاب (قرآن) کے ذریعہ بہت سی قوموں کو سر بلند، اور بہت سی قوموں کو پست کرتا ہے''۔
وضاحت۱؎: مولیٰ کے معنی رفیق، دوست، آزاد غلام، حلیف، عزیز اور قریب کے ہیں، اور ظاہر یہ ہے کہ یہاں آزاد غلام مراد ہے، اس لئے عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر تعجب کیا۔

219- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ غَالِبٍ الْعَبَّادَانِيُّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْبَحْرَانِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ؛ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < يَا أَبَا ذَرٍّ ! لأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ مِائَةَ رَكْعَةٍ، وَلأَنْ تَغْدُوَ فَتَعَلَّمَ بَابًا مِنَ الْعِلْمِ، عُمِلَ بِهِ أَوْ لَمْ يُعْمَلْ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تُصَلِّيَ أَلْفَ رَكْعَةٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۱۸، ومصباح الزجاجۃ:۸۰) (ضعیف)
(یہ سند ضعیف ہے،اس لئے کہ اس میں عبد اللہ بن زیاد مجہول اور علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں)
۲۱۹- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ''ابو ذر! اگر تم صبح کو قرآن کی ایک آیت بھی سیکھ لو تو تمہارے لئے سو رکعت پڑھنے سے بہتر ہے، اور اگر تم صبح علم کا ایک باب سیکھو خواہ اس پر عمل کیا جائے یا نہ کیا جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ تم ایک ہزار رکعت پڑھو''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ تفقہ قرأت سے افضل ہے، اور وہ دونوں ادائے نوافل سے افضل ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
17- بَاب فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَالْحَثِّ عَلَى طَلَبِ الْعِلْمِ
۱۷- باب: علماء کے فضائل و مناقب اور طلب علم کی ترغیب و تشویق​

220 - حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۳۱۱، ومصباح الزجاجۃ: ۸۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۳۴) (صحیح)
(ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۱۱۹۴ - ۱۱۹۵)
۲۲۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی جس کی بھلائی چاہتا ہے اسے دین میں فہم و بصیر ت عنایت کر دیتا ہے'' ۔

221- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ جَنَاحٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: < الْخَيْرُ عَادَةٌ، وَالشَّرُّ لَجَاجَةٌ، وَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۵۳، ومصباح الزجاجۃ: ۸۲) (حسن)
(نیز ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۶۵۱)
۲۲۱- معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''خیر (بھلائی) انسان کی فطری عادت ہے، اور شر (برائی) نفس کی خصومت ہے، اللہ تعالی جس کی بھلائی چاہتا ہے اسے دین میں بصیرت و تفقہ عطاء کرتا ہے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ خیر اور بھلائی کی عادت ڈالے، اور شر و فساد سے اپنے آپ کو طاقت بھر دور رکھے، اور فقہ سے مراد کتاب و سنت کا فہم ہے، اختلافی مسائل میں دلائل کے ساتھ متعارض احادیث میں تطبیق دے، اور دلائل کی بناء پر راجح اور مرجوح کو الگ الگ کرے، اور سنت رسول اللہ ﷺ کو آرائے رجال، اور قیل و قال پر مقدم رکھے، اور مسئلہ میں دلائل شرعیہ کا تابع رہے، اور کتاب و سنت پر مکمل طور پر عمل کرے، محدثین سے مروی ہے ''فقه الرجل بصيرته بالحديث'' یعنی آدمی کی فقہ یہ ہے کہ حدیث میں بصیرت حاصل کرے، اور متعارف فقہ میں سے ہر مسئلہ کو کتاب و سنت پر پیش کرے، جو دین کے موافق ہو اسے قبول کرے، اور جو دین کے خلاف ہو اس کو دو ر کرے، یہی دین کا طریقہ ہے، لیکن سنت سے نابلد اور دینی بصیرت سے غافل لوگوں پر یہ بہت شاق گزرتا ہے۔

222- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ جَنَاحٍ، أَبُو سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ >۔
* تخريج:ت/العلم ۱۹ (۲۶۸۱)، (تحفۃ الأشراف: ۶۳۹۵) (موضوع)
(سند میں روح بن جناح متہم بالوضع ہے، ابو سعید نقاش کہتے ہیں کہ یہ مجاہد سے موضوع احادیث روایت کرتا ہے، ملاحظہ ہو: المشکاۃ: ۲۱۷)
۲۲۲- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''شیطان پر ایک فقیہ (عالم) ہزار عابد سے بھاری ہے''۔

223 - حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَاءِ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ! أَتَيْتُكَ مِنَ الْمَدِينَةِ، مَدِينَةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَدِّثُ بِهِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: فَمَا جَائَ بِكَ تِجَارَةٌ؟ قَالَ: لا قَالَ: وَلا جَائَ بِكَ غَيْرُهُ؟ قَالَ: لا قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمَلائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، حَتَّى الْحِيتَانِ فِي الْمَاءِ، وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ الْكَوَاكِبِ، إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الأَنْبِيَاءِ، إِنَّ الأَنْبِيَاءِ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا وَلا دِرْهَمًا، إِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَهُ أَخَذَ بِحَظٍّ وَافِرٍ >۔
* تخريج: د/العلم ۹۷ (۳۶۴۱)، ت/العلم ۱۹ (۲۶۸۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۵۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۹۶)، دي/ المقدمۃ ۳۲ (۳۵۴) (صحیح)

۲۲۳- کثیر بن قیس کہتے ہیں کہ میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس دمشق کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اے ابو الدرداء! میں رسول اللہ ﷺ کے شہر مدینہ سے ایک حدیث کے لئے آیا ہوں، مجھے یہ خبر ملی ہے کہ ۱؎ آپ نبی اکرم ﷺ سے وہ حدیث روایت کرتے ہیں؟ ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا: آپ کی آمد کا سبب تجارت تو نہیں؟ اس آدمی نے کہا: نہیں، کہا: کوئی اور مقصد تو نہیں؟ اس آدمی نے کہا: نہیں، ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص علم دین کی تلاش میں کوئی راستہ چلے اللہ تعالی اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے، اور فرشتے طالب علم سے خوش ہو کر اس کے لئے اپنے بازو بچھا دیتے ہیں، آسمان و زمین کی ساری مخلوق یہاں تک کہ مچھلیاں بھی پانی میں طالب علم کے لئے مغفرت کی دعا کرتی ہیں، اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت سارے ستاروں پر، بیشک علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں، اور انبیاء نے کسی کو دینار و درہم کا وارث نہیں بنایا بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے، لہٰذا جس نے اس علم کو حاصل کیا، اس نے (علم نبوی اور وراثت نبوی سے) پورا پورا حصہ لیا''۔
وضاحت۱؎: یہ حدیث علم حدیث اور محدثین کی فضیلت پر زبردست دلیل ہے اس کے علاوہ اس سے مندرجہ باتیں اور معلوم ہوئیں:
۱- علماء سلف حدیث کی طلب میں دور دراز کے اسفار کرتے تھے۔
۲- ایک حدیث کا حصول اس لائق ہے کہ دور دراز کا سفر کیا جائے۔
۳- علم کی طلب میں اخلاص شرط ہے۔
۴- دنیوی غرض کو طلب علم کے ساتھ نہ ملایا جائے۔
۵- خلوص نیت کے ساتھ علم شرعی کی طلب سے جنت کا راستہ آسان ہو جاتا ہے۔
۶- فرشتے اس کی خاطر داری کرتے ہیں۔
۷- ساری مخلوق اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہے۔
۸- طالب علم کو عابد پر فضیلت حاصل ہے۔
۹- علماء حدیث نبی اکرم ﷺ کے حقیقی وارث ہیں۔

224- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ شِنْظِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، وَوَاضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهِ كَمُقَلِّدِ الْخَنَازِيرِ الْجَوْهَرَ وَاللُّؤْلُؤَ وَالذَّهَبَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۷۰، ومصباح الزجاجۃ: ۸۳) (ضعیف جدًا)
(اس کی سند میں حفص بن سلیمان البزار ضعیف بلکہ متروک الحدیث راوی ہے، اس لئے اس سند سے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن پہلا ٹکڑا: ''طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ'' طرق و شواہد کی بناء پر صحیح ہے، اور دوسرا ٹکڑا: ''وَوَاضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهِ كَمُقَلِّدِ الْخَنَازِيرِ الْجَوْهَرَ وَاللُّؤْلُؤَ وَالذَّهَبَ'' ضعیف ہے کیونکہ اس کا راوی حفص ہے، ملاحظہ ہو: المشکاۃ: ۲۱۸ ا لضعیفہ: ۲۱۶)
۲۲۴- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''علم دین حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے، اور نا اہلوں و ناقدروں کو علم سکھانے والا سور کے گلے میں جواہر، موتی اور سونے کا ہار پہنانے والے کی طرح ہے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ ہر مسلمان پر دین کے وہ مسائل سیکھنا فرض ہے جو ضروری ہیں، مثلا عقیدہ، صلاۃ، صوم کے مسائل یا اس سے مراد یہ ہے کہ جس مسلمان کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو ضروری ہے کہ اس کے بارے میں علماء سے پوچھے، ورنہ طلب علم فرض کفایہ ہے، اگر کچھ لوگ اس کو حاصل کر لیں تو باقی افراد عند اللہ ماخوذ نہ ہوں گے، اور اگر سبھی علم دین سیکھنا چھوڑدیں تو سب گنہگار ہوں گے، امام بیہقی اپنی کتاب ''المدخل إلی السنن'' میں کہتے ہیں کہ شاید اس سے مراد یہ ہے کہ وہ علم سیکھنا فرض ہے جس کا جہل کسی بالغ کو درست نہیں، یا وہ علم مراد ہے جس کی ضرورت اس مسلمان کو ہو مثلاً تاجرکو خرید و فروخت کے احکام و مسائل کی، اور غازی کو جہاد کے احکام و مسائل کی یا یہ کہ ہر مسلمان پر علم حاصل کرنا فرض عین ہے، مگر جب کچھ لوگ جن کے علم سے سب کو کفایت ہو تحصیل علم میں مشغول ہوں تو باقی لوگ ترک طلب کے سبب ماخوذ نہ ہوں گے، پھر ابن مبارک کا یہ قول نقل کیا کہ ان سے اس حدیث کی تفسیر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اس سے مراد یہ ہے کہ جب کسی مسلمان کو کسی مسئلہ کی ضرورت پڑے تو کسی عالم سے پوچھ لینا ضروری ہے تاکہ اس کا علم حاصل ہو، اور اس کی طرف اشارہ آیت: {فَاسْأَلُوْا أَهْلَ الذِّكْرِ میں ہے۔

225- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ،عَنِ الأَعْمَشِ،عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ إِلا حَفَّتْهُمُ الْمَلائِكَةُ وَنَزَلَتْ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَغَشِيَتْهُمُ الرَّحْمَةُ وَذَكَرَهُمُ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ >۔
* تخريج: م/الذکروالدعاء والتوبہ ۱۱ (۲۶۹۹)، د/الصلاۃ ۳۴۹ (۱۴۵۵)، العلم ۱ (۳۶۴۳)، الادب ۶۸ (۴۹۴۶) (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۱۰)، وقد أخرجہ: ت/الحدود ۳ (۱۴۲۶)، القراء ات ۱۲ (۲۹۴۶)، حم (۲/۲۵۲)، دي/ المقدمۃ ۳۲ (۳۵۶) (صحیح)

۲۲۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی پریشانیوں میں سے کسی پریشانی کو دور کر دیا، اللہ تعالی اس کی قیامت کی پریشانیوں میں سے بعض پریشانیاں دور فرما دے گا، اور جس شخص نے کسی مسلمان کے عیب کو چھپایا اللہ تعالی دنیا و آخرت میں اس کے عیب کو چھپائے گا، اور جس شخص نے کسی تنگ دست پر آسانی کی، اللہ تعالی دنیا و آخرت میں اس پر آسانی کرے گا، اور اللہ تعالی اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرتا رہتا ہے، اور جو شخص علم دین حاصل کرنے کے لئے کوئی راستہ چلے تو اللہ تعالی اس کے لئے جنت کے راستہ کو آسان کر دیتا ہے، اور جب بھی اللہ تعالی کے کسی گھر میں کچھ لوگ اکٹھا ہو کر قرآن کریم پڑھتے ہیں یا ایک دوسرے کو پڑھاتے ہیں، تو فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، اور ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، انہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ تعالی ان کا ذکر اپنے مقرب فرشتوں میں کرتا ہے، اور جس کے عمل نے اسے پیچھے کر دیا، تو آخرت میں اس کا نسب اسے آگے نہیں کر سکتا''۔

622- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ ؟ قُلْتُ: أُنْبِطُ الْعِلْمَ، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَا مِنْ خَارِجٍ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ إِلا وَضَعَتْ لَهُ الْمَلائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا، رِضًا بِمَا يَصْنَعُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۵۵، ومصباح الزجاجۃ: ۸۴)، حم (۴/۴۲۰)
(حسن صحیح)

۲۲۶- زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: کس لئے آئے ہو؟ میں نے کہا:علم حاصل کرنے کے لئے، صفوان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ''جو شخص اپنے گھر سے علم حاصل کرنے کے لئے نکلتا ہے تو فرشتے اس کے اس عمل سے خوش ہو کر اس کے لئے اپنے بازو بچھا دیتے ہیں''۔

227- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ صَخْرٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ: < يَقُولُ مَنْ جَاءَ مَسْجِدِي هَذَا، لَمْ يَأْتِهِ إِلا لِخَيْرٍ يَتَعَلَّمُهُ أَوْ يُعَلِّمُهُ، فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ جَاءَ لِغَيْرِ ذَلِكَ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلَى مَتَاعِ غَيْرِهِ > ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۵۶، ومصباح الزجاجۃ: ۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۵۰، ۴۱۸، ۵۲۶) (صحیح)

۲۲۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص میری اس مسجد میں صرف خیر (علم دین) سیکھنے یا سکھانے کے لیے آئے تو وہ اللہ تعالی کے راستہ میں جہاد کرنے والے کے درجہ میں ہے، اور جو اس کے علاوہ کسی اور مقصد کے لئے آئے تو وہ اس شخص کے درجہ میں ہے جس کی نظر دوسروں کی متاع پر لگی ہوتی ہے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: مسجد نبوی میں علم دین حاصل کرنے کی غرض سے جانے والا مجاہد کے درجہ میں ہے، اور اسی وجہ سے دوسری مساجد اور دینی درسگاہوں میں علم دین حاصل کرنے والا بھی فضیلت کا مستحق ہے۔

228- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي عَاتِكَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ، وَقَبْضُهُ أَنْ يُرْفَعَ > -وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الإِبْهَامَ هَكَذَا، ثُمَّ قَالَ-: <الْعَالِمُ والْمُتَعَلِّمُ شَرِيكَانِ فِي الأَجْرِ، وَلا خَيْرَ فِي سَائِرِ النَّاسِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۱۸، ومصباح الزجاجۃ: ۸۶)، وقد أخرجہ: دي/المقدمۃ ۲۶ (۲۴۶) (ضعیف)
(اس کی سند میں علی بن یزید الہانی سخت ضعیف راوی ہے، اور عثمان بن أبی عاتکہ کی علی بن یزید سے روایت میں ضعف ہے، اور قاسم بن عبد الرحمن الدمشقی بھی متکلم فیہ راوی ہیں، خلاصہ یہ کہ یہ سند ضعیف ہے، بلکہ علماء کے نزدیک یہ سند ضعف میں مشہور ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ۲/۱۴۳)
۲۲۸- ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم اس علم دین کو اس کے قبض کیے جانے سے پہلے حاصل کر لو، اور اس کا قبض کیا جانا یہ ہے کہ اسے اٹھا لیا جائے''، پھر آپ نے بیچ والی اور شہادت کی انگلی دونوں کو ملایا، اور فرمایا: ''عالم اور متعلم (سیکھنے اور سکھانے والے) دونوں ثواب میں شریک ہیں، اور باقی لوگوں میں کوئی خیر نہیں ہے''۔

229- حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ بَعْضِ حُجَرِهِ، فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا هُوَ بِحَلْقَتَيْنِ: إِحْدَاهُمَا يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ، وَالأُخْرَى يَتَعَلَّمُونَ وَيُعَلِّمُونَ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < كُلٌّ عَلَى خَيْرٍ، هَؤُلاءِ يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ وَيَدْعُونَ اللَّهَ، فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ وَإِنْ شَائَ مَنَعَهُمْ، وَهَؤُلاءِ يَتَعَلَّمُونَ ويُعَلّمُون، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا > فَجَلَسَ مَعَهُمْ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۶۹، ومصباح الزجاجۃ: ۸۷)، وقد أخرجہ: دي/المقدمۃ ۳۲ (۲۶۱) (ضعیف)
(اس کی سند میں داود، بکر بن خنیس اور عبد الرحمن بن زیاد افریقی تینوں ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۱۱)
۲۲۹- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن اپنے کسی کمرے سے نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے، آپ نے اس میں دو حلقے دیکھے، ایک تلاوت قرآن اور ذکر و دعاء میں مشغول تھا، اور دوسرا تعلیم و تعلم میں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''دونوں حلقے نیکی کے کام میں ہیں، یہ لوگ قرآن پڑھ رہے ہیں، اور اللہ سے دعا کر رہے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انہیں دے اور چاہے تو نہ دے، اور یہ لوگ علم سیکھنے اور سکھانے میں مشغول ہیں، اور میں تو صرف معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں، پھر انہیں کے ساتھ بیٹھ گئے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
18- بَاب مَنْ بَلَّغَ عِلْمًا
۱۸- باب: علم دین کے مبلغ کے مناقب و فضائل​

230 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، أَبِي هُبَيْرَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَبَلَّغَهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرُ فَقِيهٍ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ >.
زَادَ فِيهِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ < ثَلاثٌ لا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ: إِخْلاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَالنُّصْحُ لأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ، وَلُزُومُ جَمَاعَتِهِمْ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۷۲۲، ومصباح الزجاجۃ: ۸۸)، وقد أخرجہ: د/العلم ۱۰ (۳۶۶۰)، ت/العلم ۷ (۲۶۵۶)، حم (۱/۴۳۷، ۵/ ۱۸۳)، دي/المقدمۃ ۲۴ (۲۳۵) (صحیح)
(اس کی سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ، بلکہ متواتر ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۴۰۳، ودراسة حديث: ''نَضَّرَ اللهُ امْرَأً...'' رواية ودراية للشيخ عبدالمحسن العباد)
۲۳۰- زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ اس شخص کو تر و تازہ رکھے جس نے میری کوئی حدیث سنی اور اسے دوسروں تک پہنچایا، اس لئے کہ بعض علم رکھنے والے خود فقیہ نہیں ہوتے ہیں، اور بعض علم کو اپنے سے زیادہ فقیہ تک پہنچاتے ہیں۔
علی بن محمد نے اپنی روایت میں اتنا مزید کہا: تین چیزیں ہیں کہ ان میں کسی مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا،ہر نیک کام محض اللہ کی رضا کے لیے کرنا، مسلمانوں کے اماموں اور سرداروں کی خیرخواہی چاہنا، مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ہمیشہ رہنا، ان سے جدا نہ ہونا۱؎۔
وضاحت۱؎: حدیث سے علم دین اور اس کی تبلیغ کی فضیلت معلوم ہوئی، نیز معلوم ہوا کہ اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہو گا، قرآن و حدیث کی تعلیم و تبلیغ کی ترغیب کے ساتھ ساتھ اس میں بشارت ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانہ کے بعد بھی بہت سارے لوگ دین میں تفقہ و بصیرت حاصل کریں گے، اور مشکل مسائل کا حل قرآن و حدیث سے تلاش کیا کریں گے، اور یہ محدثین کا گروہ ہے، ان کے لئے نبی اکرم ﷺ نے دعائے خیر فرمائی، اور یہ معاملہ قیامت تک جاری رہے گا، اور اس میں ان لوگوں کی تردید بھی ہے جو اجتہاد کے دروازہ کو بغیر کسی شرعی دلیل کے بند کہتے ہیں۔

231- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِالسَّلامِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِال ْخَيْفِ مِنْ مِنًى، فَقَالَ: < نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِي فَبَلَّغَهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرُ فَقِيهٍ ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ >.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۹۸، ومصباح الزجاجۃ: ۸۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۳۷، ۳/۲۲۵، ۵/۸۰، ۸۲)، دي/ المقدمۃ ۲۴، (۲۳۴) (یہ حدیث مکرر ہے ملاحظہ ہو: نمبر ۳۰۵۶) (صحیح)
(اس کی سند میں عبد السلام بن أبی الجنوب ضعیف ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، کما تقدم)
۲۳۱- جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ منیٰ کی مسجد خیف میں خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ اس شخص کو تر و تازہ رکھے جس نے میری حدیث سنی اور اسے دوسروں تک پہنچا دیا، اس لئے کہ بہت سے علم دین رکھنے والے فقیہ نہیں ہوتے ہیں، اور بہت سے وہ ہیں جو علم کو اپنے سے زیادہ فقیہ تک پہنچاتے ہیں''۔

231/أ - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا خَالِي، يَعْلَى (ح) وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِنَحْوِهِ۔
۲۳۱/أ- اس سند سے بھی جبیربن مطعم رضی اللہ عنہ سے اسی کے ہم معنی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔

232 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ أنَّ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَبَلَّغَهُ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَحْفَظُ مِنْ سَامِعٍ >۔
* تخريج: ت/العلم ۷ (۲۶۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۹۳۶۱) وقد أخرجہ: حم (۱/۴۳۶) (صحیح)

۲۳۲- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی اس شخص کو تر و تازہ رکھے جس نے میری کوئی حدیث سنی اور اسے دوسروں تک پہنچا دیا، اس لئے کہ بہت سے وہ لوگ جنہیں حدیث پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والوں سے زیادہ ادراک رکھنے والے ہوتے ہیں''۔

233- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، أَمْلاهُ عَلَيْنَا، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ابْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ رَجُلٍ آخَرَ هُوَ أَفْضَلُ فِي نَفْسِي مِنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ؛ قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ: < لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَإِنَّهُ رُبَّ مُبَلَّغٍ يَبْلُغُهُ، أَوْعَى لَهُ مِنْ سَامِعٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۹۱)، وقد أخرجہ: خ/الأضاحي ۵ (۵۵۵۰)، م/القسامۃ ۹ (۱۶۷۹)، حم (۵/۳۷، ۳۹، ۴۵، ۹۴)، دي/المناسک ۷۲ (۱۹۵۷) (صحیح)

۲۳۳- ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یوم النحر (دسویں ذی الحجہ ) کو خطبہ دیا اور فرمایا: ''یہ باتیں حاضرین مجلس ان لوگوں تک پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں، اس لئے کہ بہت سے لوگ جنہیں کوئی بات پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والے سے زیادہ اس بارے میں ہوشمند اور باشعور ہوتے ہیں''۔

234- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ (ح) وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَلا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۹۳، ومصباح الزجاجۃ: ۹۰) وقد أخرجہ: حم (۴/۳۱،۳۲) (صحیح)
(اس کی سند حسن ہے، لیکن شواہد کی بناء پر صحیح ہے)۔
۲۳۴- معاویہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''سنو! حاضرین یہ باتیں ان تک پہنچا دیں جو یہاں نہیں ہیں''۔

235- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، حَدَّثَنِي قُدَامَةُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُصَيْنِ التَّمِيمِيِّ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ يَسَارٍ، مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لِيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۹۹ (۱۲۷۸)، ت/الصلاۃ ۱۹۲ (۴۱۹)، (تحفۃ الأشراف:۸۵۷۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/ ۱۰۴) (صحیح)

۲۳۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم میں سے جو لوگ حاضر ہیں انہیں چاہئے کہ جو لوگ یہاں حاضر نہیں ہیں، ان تک (جو کچھ انہوں نے سنا ہے) پہنچا دیں''۔

236- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ،حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْماَعِيلَ الْحَلَبِيُّ، عَنْ مُعَانِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ عَبْدِالْوَهَّابِ بْنِ بُخْتٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَوَعَاهَا، ثُمَّ بَلَّغَهاَ عَنِّي، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ غَيْرُ فَقِيهٍ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۷۶، ومصباح الزجاجۃ: ۹۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۲۷، ۳/۲۲۵، ۴/۸۰، ۸۲، ۵/۱۸۳) (صحیح)
(اس کی سند میں محمد بن ابراہیم الدمشقی منکر الحدیث ہیں، لیکن اصل حدیث شواہد کی بناء پر صحیح ہے، بلکہ متواتر ہے، ملاحظہ ہو: دراسة حديث: ''نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً...'' للشيخ عبدالمحسن العباد
۲۳۶- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی اس شخص کو تر و تازہ رکھے جس نے میری حدیث سنی، اور اسے محفوظ رکھا، پھر میری جانب سے اسے اوروں کو پہنچا دیا، اس لیے کہ بہت سے علم دین رکھنے والے فقیہ نہیں ہوتے ہیں، اور بہت سے علم دین رکھنے والے اپنے سے زیادہ فقیہ تک پہنچاتے ہیں''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
19- بَاب مَنْ كَانَ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ
۱۹- باب: خیر کی کنجی والی شخصیت کا بیان​

237- حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِيحَ لِلْخَيْرِ، مَغَالِيقَ لِلشَّرِّ، وَإِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِيحَ لِلشَّرِّ، مَغَالِيقَ لِلْخَيْرِ، فَطُوبَى لِمَنْ جَعَلَ اللَّهُ مَفَاتِيحَ الْخَيْرِ عَلَى يَدَيْهِ، وَوَيْلٌ لِمَنْ جَعَلَ اللَّهُ مَفَاتِيحَ الشَّرِّ عَلَى يَدَيْهِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۵۰، ومصباح الزجاجۃ: ۹۲) (حسن)
(حدیث کی سند میں مذکور راوی ''محمد بن أبی حمید'' ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۱۳۳۲)۔
۲۳۷- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ''بعض لوگ خیر کی کنجی اور برائی کے قفل ہوتے ہیں۱؎ اور بعض لوگ برائی کی کنجی اور خیر کے قفل ہوتے ہیں، تو اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس کے ہاتھ میں اللہ تعالی نے خیر کی کنجیاں رکھ دیں ہیں، اور اس شخص کے لئے ہلاکت ہے جس کے ہاتھ میں اللہ تعالی نے شر کی کنجیاں رکھ دی ہیں''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یعنی خیر (اچھائی) کو پھیلاتے، اور برائی کو روکتے ہیں، اللہ تعالی ان کے ہاتھ سے خیر کے دروازے کھلواتا ہے، گویا کہ اس نے خیر کی کنجی ان کو دے رکھی ہے جیسے محد ثین، ائمہ دین، صلحاء و اتقیاء ان کی صحبت لوگوں کو نیک بناتی ہے، شر و فساد اور بدعات و سئیات سے روکتی ہے، برخلاف فساق و فجار، مفسدین و مبتدعین کے ان کی صحبت سے محض شر پیدا ہوتا ہے، أعاذنا الله منهم.

238- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ أَبُو جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < إِنَّ هَذَا الْخَيْرَ خَزَائِنُ، وَلِتِلْكَ الْخَزَائِنِ مَفَاتِيحُ، فَطُوبَى لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ، مِغْلاقًا لِلشَّرِّ، وَوَيْلٌ لِعَبْدٍ جَعَلَهُ اللَّهُ مِفْتَاحًا لَلشَّرِّ، مِغْلاقًا لِلْخَيْرِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۷۰۱، ومصباح الزجاجۃ: ۹۳) (حسن)
(تراجع الألبانی: رقم: ۱۰۴، شواہد کی بناء پر یہ حدیث بھی حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں ''عبد الرحمن بن زید بن اسلم'' ضعیف ہیں)
۲۳۸- سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''یہ خیر خزانے ہیں، اور ان خزانوں کی کنجیاں بھی ہیں، اس بندے کے لئے خوشخبری ہے جس کو اللہ تعالی نے خیر کی کنجی، اور شر کا قفل بنا دیا ہو، اور اس بندے کے لئے ہلاکت ہے جس کو اللہ تعالی نے شر کی کنجی، اور خیر کا قفل بنایا ہو''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
20- بَاب ثَوَابِ مُعَلِّمِ النَّاسَ الْخَيْرَ
۲۰- باب: لوگوں کو خیر و بھلائی سکھانے والے کا ثواب​

239- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءِِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ؛ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < إِنَّهُ لَيَسْتَغْفِرُ لِلْعَالِمِ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِي الأَرْضِ، حَتَّى الْحِيتَانِ فِي الْبَحْرِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۱۰۹۵۲)، وقد أخرجہ: دي/ المقدمۃ ۳۲ (۳۵۵) (صحیح)

۲۳۹- ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''عالم کے لئے آسمان و زمین کی تمام مخلوق مغفرت طلب کرتی ہے، یہاں تک کہ سمندر میں مچھلیاں بھی'' ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عالم باعمل کی بڑی فضیلت ہے۔

240- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < مَنْ عَلَّمَ عِلْمًا، فَلَهُ أَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهِ لا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْعَامِلِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۰۴، ومصباح الزجاجۃ: ۹۴) (حسن)
(یحییٰ بن ایوب نے سہل بن معاذ کو نہیں پایا، امام مزی نے ابن وہب عن یحییٰ بن ایوب عن زبان بن فائد عن سہل بن معاذ بن انس عن أبیہ کی سند ذکر کی ہے، حافظ ابن حجر نے سہل بن معاذ کے بارے میں فرمایا کہ ''لا بأس به إلا في روايات زبان عنه''، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: باب نمبر: ۱۴، حدیث نمبر: ۲۰۳- ۲۰۷)۔
۲۴۰- معاذ بن انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جس نے کسی کو علم دین سکھایا، تو اس کو اتنا ثواب ملے گا جتنا کہ اس شخص کو جو اس پر عمل کرے، اور عمل کرنے والے کے ثواب سے کوئی کمی نہ ہو گی''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث میں بڑی فضیلت ہے ان علماء کی جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (یعنی بھلی باتوں کا حکم دینا اور بری باتوں سے روکنے) کی تعلیم دیتے ہیں، یا درس و تدریس سے علوم دینیہ پھیلاتے ہیں، یا تقریر و تحریر سے علوم قرآن و حدیث نشرکرتے ہیں۔

241- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِالرَّحِيمِ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنيْسَةَ، عَنْ زيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < خَيْرُ مَا يُخَلِّفُ الرَّجُلُ مِنْ بَعْدِهِ ثَلاثٌ: وَلَدٌ صَالِحٌ يَدْعُو لَهُ، وَصَدَقَةٌ تَجْرِي يَبْلُغُهُ أَجْرُهَا، وَعِلْمٌ يُعْمَلُ بِهِ مِنْ بَعْدِهِ >.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۱۲۹۷، ومصباح الزجاجۃ: ۹۵) (صحیح)

۲۴۱- ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''آدمی اپنی موت کے بعد جو چیزیں دنیا میں چھوڑ جاتا ہے ان میں سے بہترین چیزیں تین ہیں: نیک اور صالح اولاد جو اس کے لئے دعائے خیر کرتی رہے، صدقہ جاریہ جس سے نفع جاری رہے، اس کا ثواب اسے پہنچتا رہے گا، اور ایسا علم کہ اس کے بعد اس پر عمل کیا جاتا رہے''۔

[ز] 241 /أ- قَالَ أَبُو الْحَسَنِ: وَحَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرَّهَاوِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، يَعْنِي أَبَاهُ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ (مصباح الزجاجة، تحت رقم: ۴۹).
۲۴۱/أ- اس سند سے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ سے سنا پھر انہوں نے اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔

242- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مَرْزُوقُ بْنُ أَبِي الْهُذَيْلِ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِاللَّهِ الأَغَرُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنَّ مِمَّا يَلْحَقُ الْمُؤْمِنَ مِنْ عَمَلِهِ وَحَسَنَاتِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ، عِلْمًا عَلَّمَهُ وَنَشَرَهُ، وَوَلَدًا صَالِحًا تَرَكَهُ، وَمُصْحَفًا وَرَّثَهُ، أَوْ مَسْجِدًا بَنَاهُ أَوْ بَيْتًا لابْنِ السَّبِيلِ بَنَاهُ، أَوْ نَهْرًا أَجْرَاهُ أَوْ صَدَقَةً أَخْرَجَهَا مِنْ مَالِهِ فِي صِحَّتِهِ وَحَيَاتِهِ، يَلْحَقُهُ مِنْ بَعْدِ مَوْتِهِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۴۷۴، ومصباح الزجاجۃ: ۹۶)، وقد أخرجہ: د/الوصایا ۱۴ (۲۸۸۰)، حم (۲/۳۷۲)، دي/المقدمۃ ۴۶ (۵۷۸) (حسن)

۲۴۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: ''مومن کو اس کے اعمال اور نیکیوں میں سے اس کے مرنے کے بعد جن چیزوں کا ثواب پہنچتا رہتا ہے وہ یہ ہیں: علم جو اس نے سکھایا اور پھیلایا، نیک اور صالح اولاد جو چھوڑ گیا، وراثت میں قرآن مجید چھوڑ گیا، کوئی مسجد بنا گیا، یا مسافروں کے لئے کوئی مسافر خانہ بنوا دیا ہو، یا کوئی نہر جاری کر گیا، یا زندگی اور صحت و تندرستی کی حالت میں اپنے مال سے کوئی صدقہ نکالا ہو، تو اس کا ثواب اس کے مرنے کے بعد بھی اسے ملتا رہے گا''۔

243- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ: قَالَ: < أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ أَنْ يَتَعَلَّمَ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ عِلْمًا، ثُمَّ يُعَلِّمَهُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ >۔
* تخريج: تفر د بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۶۰، ومصباح الزجاجۃ: ۹۷) (ضعیف)
(اس سند میں اسحاق بن ابراہیم ضعیف ہیں، اور حسن بصری کا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ۶/۲۹)
۲۴۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''سب سے بہتر اور افضل صدقہ یہ ہے کہ کوئی مسلمان علم دین سیکھے، پھر اسے اپنے مسلمان بھائی کو سکھائے''۔
 
Top