• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
138- بَاب مَن اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ فَبَقِيَ مِنْ جَسَدِهِ لُمْعَةٌ لَمْ يُصِبْهَا الْمَائُ كَيْفَ يَصْنَعُ؟
۱۳۸- باب: غسل جنابت میں بدن کا کوئی حصہ خشک رہ جائے تو کیا کرے؟​

663- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الرَّحَبِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ اغْتَسَلَ مِنْ جَنَابَةٍ، فَرَأَى لُمْعَةً لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَقَالَ بِجُمَّتِهِ فَبَلَّهَا عَلَيْهَا.
قَالَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ : فَعَصَرَ شَعْرَهُ عَلَيْهَا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۰۲۸، ومصباح الزجاجۃ: ۲۵۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۴۳) (ضعیف)
(سند میں ابو علی الرحبی ''حسین بن قیس'' ہیں جن کی حدیثیں بہت زیادہ منکر ہیں)
۶۶۳- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے غسل جنابت کیا تو معمولی سی جگہ خشکی دیکھی، تو اپنے بالوں سے اس مقام کو تر کر دیا۔
اسحاق بن منصور نے اپنی حدیث میں کہا کہ آپ ﷺ نے اس پر اپنا بال نچوڑ دیا۔


664- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيدِاللَّهِ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَ: إِنِّي اغْتَسَلْتُ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَصَلَّيْتُ الْفَجْرَ، ثُمَّ أَصْبَحْتُ فَرَأَيْتُ قَدْرَ مَوْضِعِ الظُّفْرِ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لَوْ كُنْتَ مَسَحْتَ عَلَيْهِ بِيَدِكَ أَجْزَأَكَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۰۵، ومصباح الزجاجۃ: ۲۵۲) (ضعیف جدًا)
(سند میں سوید بن سعید صدوق ہیں، اندھے ہونے کے بعد دوسروں سے احادیث کی بہت زیادہ تلقین قبول کرنے لگے، حتی کہ ابن معین نے ان کو حلال الدم قرار دیا، نیز محمد بن عبید اللہ العرزمی ضعیف اور متروک ہیں)
۶۶۴- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا کہ میں نے غسل جنابت کیا، اور فجر کی صلاۃ پڑھی پھر جب صبح ہوئی تو میں نے دیکھا کہ بدن کے ایک حصہ میں ناخن کے برابر پانی نہیں پہنچا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اگر تم اس پر اپنا گیلا ہاتھ پھیر دیتے تو کافی ہوتا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
139- بَاب مَنْ تَوَضَّأَ فَتَرَكَ مَوْضِعًا لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ
۱۳۹- باب: وضو میں کوئی جگہ سوکھی چھوڑ دی تو کیا کرے؟​

665- حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ ﷺ وَقَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَكَ مَوْضِعَ الظُّفْرِ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ: <ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوئَكَ >۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۶۷ (۱۷۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۴۳، ۱۴۶) (صحیح)

۶۶۵- انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی وضو کرکے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے ناخن کی مقدار خشک جگہ چھوڑ دی تھی، جہاں پانی نہیں پہنچا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا: ''جاؤ دوبارہ اچھی طرح وضو کرو''۔

666- حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، (ح) وحَدَّثَنَا ابْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ. قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ؛ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ رَجُلا تَوَضَّأَ فَتَرَكَ مَوْضِعَ الظُّفْرِ عَلَى قَدَمِهِ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الْوُضُوءَ وَالصَّلاةَ، قَالَ، فَرَجَعَ۔
* تخريج: م/الطہارۃ ۱۰ (۲۴۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۴۲۱)، وقد أخرجہ: د/الطہارۃ ۶۷ (۱۷۳) حم (۱/۲۱، ۲۳) (صحیح)

۶۶۶- عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا، جس نے وضو کیا اور اپنے پاؤں پر ناخن برابر جگہ خشک چھوڑ دی، تو آپ نے اسے وضو اور صلاۃ دونوں کو دوہرانے کا حکم دیا، عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس نے دوبارہ وضو کیا، اور صلاۃ پڑھی۱؎۔
وضاحت۱؎: اس میں وضو دہرانے کا حکم تہدیداً کیا ورنہ سابقہ باب کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف اس مقام کا تر کر لینا کافی تھا، البتہ صلاۃ کا اعادہ ضروری ہو گا اس لئے کہ جب وضو کامل نہ ہوا تو گویا صلاۃ بغیر وضو کے پڑھی گئی، اور دوسری حدیث میں ہے کہ صلاۃ بغیر طہارت کے قبول نہیں ہوتی۔


* * * *
* * *
* *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207

{ 2- كِتَاب الصَّلاةِ }
۲- کتاب: صلاۃ کے احکام و مسائل


1- أَبْوَاب مَوَاقِيتِ الصَّلاةِ
۱- باب: اوقات صلاۃ کا بیان​

667- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالا: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الأَزْرَقُ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ،(ح) وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاةِ. فَقَالَ: "صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ" فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِلالا فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْيَوْمِ الثَّانِي، أَمَرَهُ فَأَذَّنَ الظُّهْرَ فَأَبْرَدَ بِهَا، وَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِي كَانَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَصَلَّى الْعِشَاءَ بَعْدَ مَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، وَصَلَّى الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا، ثُمَّ قَالَ: "أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلاةِ؟" فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: "وَقْتُ صَلاتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ".
* تخريج: م/المسا جد ۳۱ (۶۱۳)، ت/الصلا ۃ ۱ (۱۵۲)، ن/المو اقیت ۱۲ (۵۲۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۳۱)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۴۹) (صحیح)

۶۶۷- بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے آپ سے صلاۃ کے اوقات کے متعلق سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: ''آنے والے دو دن ہمارے ساتھ صلاۃ پڑھو، چنانچہ (پہلے دن) جب سورج ڈھل گیا تو آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر ان کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی۱؎، پھر ان کو حکم دیا، انہوں نے صلاۃ عصر کی اقامت کہی، اس وقت سورج بلند، صاف اور چمکدار تھا۲؎، پھر جب سورج ڈوب گیا تو ان کو حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، پھر جب شفق۳؎ غائب ہو گئی تو انہیں حکم دیا، انہوں نے عشاء کی اقامت کہی، پھر جب صبح صادق طلوع ہوئی تو انہیں حکم دیا، تو انہوں نے فجر کی اقامت کہی، جب دوسرا دن ہوا تو آپ نے ان کو حکم دیا، تو انہوں نے ظہر کی اذان دی، اور ٹھنڈا کیا اس کو اور خوب ٹھنڈا کیا (یعنی تاخیر کی)، پھر عصر کی صلاۃ اس وقت پڑھائی جب کہ سورج بلند تھا، پہلے روز کے مقابلے میں دیر کی، پھر مغرب کی صلاۃ شفق کے غائب ہونے سے پہلے پڑھائی، اور عشاء کی صلاۃ تہائی رات گزر جانے کے بعد پڑھائی اور فجر کی صلاۃ اجالے میں پڑھائی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ''صلاۃ کے اوقات کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟''، اس آدمی نے کہا: اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تمہاری صلاۃ کا وقت ان اوقات کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا''۔
وضاحت۱؎: پہلے روز سورج ڈھلتے ہی ظہر کی اذان دلوائی اور آپ ﷺ نے ظہر کی صلاۃ پڑھی اس سے معلوم ہوا کہ ظہر کا اول وقت زوال یعنی سورج ڈھلنے سے شروع ہوتا ہے۔
وضاحت۲؎: یعنی ابھی اس میں زردی نہیں آئی تھی
وضاحت۳؎: شفق اس سرخی کو کہتے ہیں جو سورج ڈوب جانے کے بعد مغرب (پچھم) میں باقی رہتی ہے، اور عشاء سے ذرا پہلے تک برقرار رہتی ہے۔

668- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ،عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عَلَى مَيَاثِرِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِيزِ، فِي إِمَارَتِهِ عَلَى الْمَدِينَةِ، وَمَعَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، فَأَخَّرَ عُمَرُ الْعَصْرَ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ نَزَلَ فَصَلَّى إِمَامَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ! قَالَ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: <نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَمَّنِي، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ>، يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ۔
* تخريج:خ/المواقیت ۲ (۵۲۱)، بدء الخلق ۶ (۳۲۲۱)، المغازي ۱۲ (۴۰۰۷)، م/المساجد ۳۱ (۶۱۰)، د/الصلاۃ ۲ (۳۹۴)، ن/المواقیت ۱ (۴۹۵)، (تحفۃ الأشراف: ۹۹۷۷)، وقد أخرجہ: ط/وقوت الصلاۃ ۱ (۱)، حم (۴/۱۲۰) (صحیح)

۶۶۸- ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ وہ عمر بن عبد العزیز کے گدوں پہ بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت عمر بن عبد العزیز مدینہ منورہ کے امیر تھے، اور ان کے ساتھ عروہ بن زبیر بھی تھے، عمر بن عبد العزیز نے عصر کی صلاۃ میں کچھ دیر کر دی تو ان سے عروہ نے کہا: سنیے! جبرائیل آئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی امامت فرمائی، تو ان سے عمر بن عبد العزیز نے کہا: عروہ! جو کچھ کہہ رہے ہو سوچ سمجھ کر کہو؟! اس پرعروہ نے کہا کہ میں نے بشیر بن ابی مسعود کو کہتے سنا کہ میں نے اپنے والد ابی مسعود رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جبرائیل تشریف لائے، اور انہوں نے میری امامت کی تو میں نے ان کے ساتھ صلاۃ پڑھی ، پھر میں نے ان کے ساتھ صلاۃ پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ صلاۃ پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ صلاۃ پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ صلاۃ پڑھی۔۔۔ وہ اپنی انگلیوں سے پانچوں صلاتوں کو شمار کر رہے تھے۔
وضاحت۱؎: تو عروہ نے حدیث کی سند بیان کرکے عمر بن عبد العزیز کی تسلی کر دی، اور دوسری روایت میں ہے کہ عروہ نے ایک اور حدیث بھی ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی جو آگے مذکور ہو گی، عروہ کا مقصد یہ تھا کہ صلاۃ کے اوقات مقرر ہیں اور جبرائیل نے اللہ کے حکم سے نبی اکرم ﷺ کو ان کی تعلیم دی تھی اور آپ ﷺ اپنے اوقات میں صلاۃ ادا فرماتے تھے، پس صلاۃ میں تاخیر کرنا جائز ٹھہرا، ایک روایت میں ہے کہ اس روز سے عمر بن عبد العزیز نے کبھی صلاۃ میں دیر نہیں کی، اس سے عروہ کا مقصد یہ تھا کہ صلاۃ کے اوقات کی تحدید کے لئے جبرئیل نازل ہوئے، اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو عملی طور پر سکھایا، اس لئے اس سلسلہ میں کوتاہی مناسب نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
2- بَاب وَقْتِ صَلاةِ الْفَجْرِ
۲- باب: صلاۃ فجرکا وقت​

669- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنَّ نِسَائُ الْمُؤْمِنَاتِ يُصَلِّينَ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ صَلاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ يَرْجِعْنَ إِلَى أَهْلِهِنَّ فَلا يَعْرِفُهُنَّ أَحَدٌ، تَعْنِي مِنَ الْغَلَسِ۔
* تخريج: م/المساجد ۴۰ (۶۴۵)، ن/المواقیت ۲۴ (۵۴۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۴۴۲)، وقد أخرجہ: خ/الصلاۃ ۱۳ (۳۷۲)، المواقیت ۲۷ (۵۷۸)، الأذان ۱۶۳ (۷۶۷)، ۱۶۵ (۸۷۲)، د/الصلاۃ ۸ (۴۲۳)، ت/الصلاۃ ۲ (۱۵۳)، ط/وقوت الصلاۃ ۱ (۴)، حم (۶/۳۳، ۳۶، ۱۷۹، ۲۴۸، ۲۵۹)، دي/الصلاۃ ۲۰ (۱۲۵۲) (صحیح)

۶۶۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مسلمان عورتیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صبح کی صلاۃ پڑھتیں، پھر اپنے گھروں کو واپس لوٹتیں، لیکن انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا، یعنی رات کے آخری حصہ کی تاریکی کے سبب۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ فجر کی صلاۃ اندھیرے میں پڑھنی چاہئے، اور یہی نبی ﷺ کا دائمی طریقہ تھا۔

670- حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ، وَالأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا}، قَالَ: <تَشْهَدُهُ مَلائِكَةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ>۔
* تخريج: حدیث عبد اللہ بن مسعود تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۳۵)، وحدیث أبي ہریرۃ أخرجہ: ت/الصلاۃ ۴۷ (۲۱۵)، التفسیر ۱۸ (۳۱۳۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۳۳۲)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۳۱ (۶۴۸)، م/المساجد ۴۲ (۶۴۹)، حم (۲/۲۳۳) (صحیح)

۶۷۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے اس آیت کریمہ: {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا} [سورة الإسراء: ۷۸] کی تفسیر میں فرمایا: ''اس میں رات اور دن کے فرشتے حاضر رہتے ہیں''۱؎۔
وضاحت۱؎: تو رات اور دن دونوں کے فرشتے فجر اور عصر کے وقت، جمع ہو جاتے ہیں اور یہ مضمون دوسری حدیث میں مزید صراحت سے آیا ہے۔

671- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا نَهِيكُ بْنُ يَرِيمَ الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا مُغِيثُ بْنُ سُمَيٍّ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ الصُّبْحَ بِغَلَسٍ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَقْبَلْتُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الصَّلاةُ؟ قَالَ: هَذِهِ صَلاتُنَا كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَلَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أَسْفَرَ بِهَا عُثْمَانُ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۴۶۱، ومصباح الزجاجۃ: ۲۵۳) (صحیح)
(نیزملاحظہ ہو: الإرواء: ۱ / ۲۷۹)
۶۷۱- مغیث بن سمی کہتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ صبح کی صلاۃ غلس (آخر رات کی تاریکی) میں پڑھی، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوا، اور ان سے کہا: یہ کیسی صلاۃ ہے؟ انہوں نے کہا: یہ وہ صلاۃ ہے جو ہم رسول اللہ ﷺ، اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ پڑھتے تھے، لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ کو نیزہ مار کر زخمی کر دیا گیا تو عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے اسفار (اجالے) میں پڑھنا شروع کر دیا۱؎۔
وضاحت۱؎: عثمان رضی اللہ عنہ کو اسفار (اجالے) میں فجر پڑھتے دیکھ کر بعض تابعین کو یہ گمان پیدا ہو گیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ یہی تھا کہ وہ اسفار میں فجر کی صلاۃ پڑھا کرتے جیسے ابراہیم نخعی سے منقول ہے حالانکہ اسفار میں پڑھنے کا باعث جان کا ڈر تھا ورنہ اصلی وقت اس صلاۃ کا وہی تھا جو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ منہ اندھیرے نبی اکرم ﷺ اور شیخین (ابو بکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ عنہما) ایسا ہی کرتے رہے۔

672- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، سَمِعَ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ (وَجَدُّهُ بَدْرِيٌّ) يُخْبِرُ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < أَصْبِحُوا بِالصُّبْحِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلأَجْرِ، أَوْ لأَجْرِكُمْ >۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۸ (۴۲۴)، ت/الصلاۃ ۳ (۱۵۴)، ن/المواقیت ۲۶ (۵۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۸۲) وقد أخرجہ: حم (۳/۴۶۰، ۴۶۵، ۴/۱۴۰، ۱۴۲، ۵/۴۲۹)، دي/الصلاۃ ۲۱ (۱۲۵۳) (حسن صحیح)

۶۷۲- رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''صبح کو اچھی طرح روشن کر لیا کرو، اس میں تم کو زیادہ ثواب ہے'' ۔
وضاحت۱؎: یعنی اتنا اجالا ہو جانے دو کہ طلوع فجر میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے، یا یہ حکم ان چاندنی راتوں میں ہے جن میں طلوع فجر واضح نہیں ہوتا، شاہ ولی اللہ دہلوی (حجۃ اللہ البالغہ) میں لکھتے ہیں کہ یہ خطاب ان لوگوں کو ہے جنہیں جماعت میں کم لوگوں کی حاضری کا خدشہ ہو، یا ایسی بڑی مسجدوں کے لوگوں کو ہے جس میں کمزور اور بچے سبھی جمع ہوتے ہوں، یا اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ فجر کی صلاۃ خوب لمبی پڑھو، تاکہ ختم ہوتے ہوتے خوب اجالا ہو جائے، جیسا کہ ابو برزہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ فجر کی صلاۃ پڑھ کر لوٹتے تو آدمی اپنے ہم نشیں کو پہچان لیتا اس طرح اس میں اور غلس والی روایتوں میں کوئی تضاد و تعارض نہیں رہ جاتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
3- بَاب وَقْتِ صَلاةِ الظُّهْرِ
۳- باب: صلاۃ ظہر کا وقت​

673- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ۔
* تخريج: م/المساجد ۳۳ (۶۱۸)، د/الصلاۃ ۴ (۸۰۶)، ن/الافتتاح ۶۰ (۹۸۱)، (تحفۃ الأشراف: ۲۱۷۹)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۰۶) (صحیح)

۶۷۳- جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ظہر اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا۔

674- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ سَيَّارِ ابْنِ سَلامَةَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ؛ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ صَلاةَ الْهَجِيرِ الَّتِي تَدْعُونَهَا الظُّهْرَ، إِذَا دَحَضَتِ الشَّمْسُ۔
* تخريج: خ/المواقیت ۱۱ (۵۴۱)، ۱۳ (۵۴۷)، ۲۳ (۵۶۸)، ۳۸ (۵۹۸)، م/المساجد ۴۰ (۶۴۷)، د/الصلاۃ ۴ (۳۹۸)، ن/المواقیت ۱ (۴۹۶)، ۱۶ (۵۲۶)، ۲۰ (۵۳۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۰۵)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۴ (۱۵۵)، حم (۴/۴۲۰، ۴۲۱، ۴۲۳، ۴۲۴، ۴۲۵)، دي/الصلاۃ ۶۶ (۱۳۳۸) (صحیح)

۶۷۴- ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ دوپہر کی صلاۃ جس کو تم ظہر کہتے ہو اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا۔

675- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَرَّ الرَّمْضَاءِ، فَلَمْ يُشْكِنَا.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۱۲)، وقد أخرجہ: م/المساجد ۳۳ (۶۱۹)، ن/المواقیت ۲ (۴۹۸) حم (۵/۱۰۸، ۱۱۰) (صحیح)

۶۷۵- خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے ریت کی گرمی کی شکایت کی، تو آپ نے ہماری شکایت کو نظر انداز کر دیا۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی صلاۃ کی تاخیر گوارا نہ کی، اور ظہر کی صلاۃ تاخیر سے پڑھنے کی اجازت نہیں دی جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں صراحت ہے۔

[ز] 675/ أ- قَالَ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ نَحْوَهُ۔
۶۷۵/أ - اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے ۔

676- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جَبِيْرَةَ، عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى النَّبِيِّ ﷺ حَرّالرَّمْضَائِ فَلَمْ يُشْكِنَا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۵۴۵، ومصباح الزجاجۃ: ۲۵۴) (صحیح)
(اس سند میں مالک الطائی غیر معروف ہیں، اور معاویہ بن ہشام صدوق ہیں، وہم کا شکار ہو جاتے ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)
۶۷۶- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے ریت کی گرمی کی شکایت کی، تو آپ نے اسے نظرانداز کر دیا۱؎۔
وضاحت۱؎: اس کا مطلب یہ ہوا کہ زوال (سورج ڈھلنے) کے بعد تھوڑی سی دیر کریں نہ کہ ایک مثل کے بعد پڑھیں، ایک مثل کے بعد تو ظہر کا وقت ہی نہیں رہتا، اور ٹھنڈک سے یہ مراد ہے کہ دوپہر کی دھوپ میں ذرا نرمی آجائے بالکل ٹھنڈک تو شام تک بھی نہیں ہوتی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
4- بَابُ الإبرَادِ بِالظّهرِ فِىْ شِدَّةِ الَحَرِّ
۴- باب: سخت گرمی ہو تو ظہر کو ٹھنڈا کرکے (یعنی تاخیرسے) پڑھنے کا بیان​

677 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاةِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ>۔
* تخريج: تقرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۸۶۲)، وقد أخرجہ: خ/الموا قیت ۹ (۵۳۳)، م/المساجد ۳۲ (۶۱۵)، د/الصلا ۃ ۴ (۴۰۲)، ت/الصلاۃ ۵ (۱۵۷)، ن/المواقیت ۵ (۵۰۱)، ط/وقوت الصلاۃ ۷ (۲۸)، حم (۲/۲۲۹، ۲۳۸، ۲۵۶، ۲۶۶، ۳۴۸، ۳۷۷، ۳۹۳، ۴۰۰، ۴۱۱، ۴۶۲)، دي/الرقاق ۱۱۹ (۲۸۸۷) (صحیح)

۶۷۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب گرمی سخت ہو جائے تو صلاۃ کو ٹھنڈے میں پڑھا کرو، اس لئے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: ظہر کو جلدی نہ پڑھنے اور باقی صلاۃ کو اول وقت میں پڑھنے کی افضلیت کے سلسلہ میں جو روایتیں آئی ہیں، وہ باہم معارض نہیں ہیں کیونکہ اوّل وقت میں پڑھنے والی روایتیں عام یا مطلق ہیں، اور ظہرکو ٹھنڈا کر کے ادا کرنے والی روایت مخصوص اور مقید ہے، اور عام و خاص میں کوئی تعارض نہیں ہوتا، نہ ہی مطلق و مقید میں کوئی تعارض ہوتا ہے، رہی خباب رضی اللہ عنہ والی روایت جو صحیح مسلم میں آئی ہے، اور جس کے الفاظ یہ ہیں:''شَكَوْنَا إِلَى النَّبِيِّ ﷺ حَرّالرَّمْضَاءِ فَلَمْ يُشْكِنَا'' (ہم نے رسول اللہ ﷺ سے دھوپ کی تیزی کی شکایت کی لیکن آپ نے ہماری شکایت نہ مانی) تو ابراد سے قدر زائد کے مطالبہ پر محمول کی جائے گی، کیونکہ ابراد یہ ہے کہ ظہر کی صلاۃ کو اس قدر مؤخر کیا جائے کہ دیواروں کا اتنا سایہ ہو جائے جس میں چل کر لوگ مسجد آسکیں، اور گرمی کی شدت کم ہو جائے، اور ابراد سے زائد تاخیر یہ ہے کہ رمضاء کی گرمی زائل ہو جائے، اور یہ کبھی کبھی خروج وقت کو مستلزم ہو سکتا ہے، اسی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام کے اس مطالبہ کو قبول نہیں کیا، نیز بہت سے علماء نے اس حدیث کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ جب شدت کی گرمی ہو تو ظہر میں دیر کرنا مستحب ہے، اور اس حدیث کی شرح میں مولانا وحید الزماں حیدر آبادی فرماتے ہیں: حدیث کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ جب گرمی کی شدت ہو تو اس کو صلاۃ سے ٹھنڈا کرو، اس لئے کہ گرمی کی شدت جہنم کی بھانپ سے ہے، اور جہنم کی بھانپ بجھانے کے لئے صلاۃ سے بہتر کوئی عمل نہیں ہے، اور اس مطلب پر یہ تعلیل صحیح ہو جائے گی، اور یہ حدیث اگلے باب کی حدیثوں کے خلاف نہ رہے گی۔

678- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ>۔
* تخريج: م/المساجد ۳۲ (۶۱۵)، د/الصلاۃ ۴ (۴۰۲)، ت/الصلاۃ ۵ (۱۵۷)، ن/المواقیت ۵ (۵۰۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۲۲۶) (صحیح)

۶۷۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب گرمی سخت ہو جائے تو ظہر کو ٹھنڈا کر لیا کرو، اس لئے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: جہنم جاڑے کے دنوں میں اندر کی طرف سانس لیتی ہے اور گرمی کے دنوں میں سانس کو باہر نکالتی ہے جیسے دوسری حدیث میں وارد ہے، بعض لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ گرمی کا تعلق سورج نکلنے سے ہے لیکن یہ علت صحیح نہیں ہے، کیونکہ اونچے مقام پر گرمی نہیں ہوتی جب کہ سورج اس سے قریب ہوتا ہے، اور اصل وجہ گرمی اور جاڑے کی یہ ہے کہ زمین گرم ہو کر اپنی سانس یعنی بخارات باہر نکالتی ہے، اس سے گرمی معلوم ہوتی ہے اور کوئی مانع اس سے نہیں ہے کہ جہنم کا ایک ٹکڑا زمین کے اندر ہو، اور جیالوجی (علم الأرض) سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے اندر ہزار فٹ پر ایسی حرارت ہے کہ اگر وہاں حیوان پہنچیں تو فوراً مر جائیں، اور اس سے بھی زیادہ نیچے ایسی گرمی ہے کہ لوہا، تانبہ اور شیشہ پگھلا ہوا رہتا ہے، اللہ تعالی ہم کو جہنم سے بچائے، آمین، نیز جمہور نے اسے حقیقت پر محمول کیا ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ یہ بطور تشبیہ و تقریب کہا گیا ہے یعنی یہ گویا جہنم کی آگ کی طرح ہے، اس لئے اس کی ضرر رسانیوں سے بچو، اور احتیاط کرو، اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی اکرم ﷺ مغرب جلدی پڑھتے تھے، بعض روایتوں میں شفق ڈوبنے تک مغرب کو مؤخر کرنے کا جو ذکر ملتا ہے وہ بیان جواز کے لئے ہے۔

679- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ>۔
* تخريج: خ/المواقیت ۹ (۵۳۸)، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۰۶)، وقد أخرجہ: حم (۳/۵۲، ۵۳، ۵۹) (صحیح)

۶۷۹- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ظہر ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لئے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے''۔

680- حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ بَيَانٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ؛ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ صَلاةَ الظُّهْرِ بِالْهَاجِرَةِ، فَقَالَ لَنَا: <أَبْرِدُوا بِالصَّلاةِ فَإِنَّ شِدَّ ةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۲۶، ومصباح الزجاجۃ: ۲۵۵)، و قد أخرجہ: حم (۴/ ۲۵۰)
(صحیح)

۷۸۰- مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ظہر کی صلاۃ دوپہر میں پڑھتے تھے، تو آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ''صلاۃ ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لئے کہ گرمی کی شدت جہنم کی لپٹ سے ہے''۔

681- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَبْرِدُوا بِالظُّهْرِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۰۴۴، ومصباح الزجاجۃ: ۲۵۶) (صحیح)

۶۸۱- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ظہر ٹھنڈی کر کے پڑھو''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
5- بَاب وَقْتِ صَلاةِ الْعَصْرِ
۵- باب: صلاۃ عصر کا وقت​

682- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ۔
* تخريج: م/المساجد ۳۴ (۶۲۱)، د/ الصلاۃ ۵ (۴۰۴)، ن/المواقیت ۷ (۵۰۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۲۲)، وقد أخرجہ: خ/المواقیت ۱۳ (۵۵۰)، الاعتصام ۱۶ (۷۳۲۹)، ط/وقوت الصلاۃ ۱ (۱۱)، حم (۳/۲۲۳)، دي /الصلاۃ ۱۵ (۱۲۴۴) (صحیح)

۶۸۲- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عصر اس وقت پڑھا کرتے تھے جب سورج اونچا اور زندہ ہوتا تھا، چنانچہ (صلاۃ پڑھ کر) کوئی شخص عوالی۱؎ میں جاتا تو سورج بلند ہی ہوتا تھا۔
وضاحت۱؎: مدینہ کے جنوب مغرب میں جو بستیاں تھیں انہیں عوالی کہا جاتا تھا، ان میں سے بعض مدینہ سے دو میل بعض تین میل اور بعض آٹھ میل کی دوری پر تھیں۔

683- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ،عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: صَلَّى النَّبِيُّ ﷺ الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِي، لَمْ يُظْهِرْهَا الْفَيْئُ بَعْدُ۔
* تخريج: خ/المواقیت ۱ (۵۲۲)، ۱۳ (۵۴۶)، الخمس ۴ (۳۱۰۳)، م/المساجد ۳۱ (۶۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۴۴۰)، وقد أخرجہ: د/الصلاۃ ۵ (۴۰۷)، ت/الصلاۃ ۶ (۱۵۹)، ن/المواقیت ۸ (۵۰۶)، ط/ وقوت الصلاۃ ۱ (۲)، حم ۶/۳۷، ۸۵، ۱۹۹، ۲۷۸) (صحیح)

۶۸۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عصر کی صلاۃ پڑھی اور دھوپ میرے کمرے میں باقی رہی، ابھی تک سایہ دیواروں پر چڑھا نہیں تھا۱؎۔
وضاحت۱؎: سائے کا کمرہ کے اندر ہونا دلالت کرتا ہے کہ عصر کا وقت ہوتے ہی صلاۃ پڑھ لی گئی تھی، اگر دیر کی جاتی تو سایہ کمرے میں نہ رہتا بلکہ دیواروں پر چڑھ جاتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
6- بَاب الْمُحَافَظَةِ عَلَى صَلاةِ الْعَصْرِ
۶- باب: صلاۃِ عصرکی محافظت​

684- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ ابْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: <مَلأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا، كَمَا شَغَلُونَا عَنِ الصَّلاةِ الْوُسْطَى>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۱۱۰۰۹۳)، وقد أخرجہ: خ/ الجہاد ۹۸ (۲۹۳۱)، المغازي ۲۹ (۴۱۱۱)، تفسیرالبقرہ (۴۵۳۳)، الدعوات ۵ (۶۳۹۶)، م/المساجد ۳۵ (۶۲۷)، ۳۶ (۶۲۷)، د/الصلاۃ ۵ (۴۰۹)، ت/تفسیر البقرۃ (۲۹۸۴)، ن/الصلاۃ ۱۵ (۴۷۴)، حم۱/۸۱، ۸۲، ۱۱۳، ۱۲۲، ۱۲۶، ۱۳۵، ۱۳۷، ۱۴۴، ۱۴۶، ۱۵۰، ۱۵۱، ۱۵۲، ۱۵۳، ۱۵۴)، دي/الصلاۃ ۲۸ (۱۲۶۸) (حسن صحیح)

۶۸۴- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ خندق کے دن فرمایا: ''اللہ ان کافروں کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے، جیسے کہ ان لوگوں نے ہمیں صلاۃ وسطیٰ (عصر کی صلاۃ) کی ادائیگی سے باز رکھا''۔
وضاحت۱؎: تو معلوم ہوا کہ عصر کی صلاۃ بھی صلاۃ ہے، اور قرآن شریف میں ہرفریضہء صلاۃ پر محافظت کرنے کا حکم دیا خصوصاً صلاۃ وسطی پر، تو عصر کی محافظت کی زیادہ تاکید نکلی، اور صلاۃ وسطی میں علماء کا اختلاف ہے، لیکن احادیث صحیحہ سے یہی ثابت ہے کہ وہ عصر کی صلاۃ ہے، اور یہی مختار ہے، واللہ اعلم۔

685- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ،عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < إِنَّ الَّذِي تَفُوتُهُ صَلاةُ الْعَصْرِ، فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلُهُ وَمَالُهُ >۔
* تخريج: م/المساجد ۳۵ (۶۲۶)، ن/الصلاۃ ۱۷(۴۷۹)، (تحفۃ الأشراف:۶۸۲۹) وقد أخرجہ: خ/المواقیت ۱۴ (۵۵۲)، د/الصلاۃ ۵ (۴۱۴)، ت/الصلاۃ ۱۶ (۱۶۰)، ط/وقوت الصلاۃ ۵ (۲۱)، حم (۲/۸، ۱۳، ۲۷، ۴۸، ۵۴، ۶۴، ۷۵، ۷۶، ۱۰۲،۱۳۴، ۱۴۵، ۱۴۷)، دي/الصلاۃ ۲۷ (۱۲۶۷) (صحیح)

۶۸۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص کی صلاۃِ عصر فوت ہو جائے، گویا اس کے اہل و عیال اور مال و اسباب سب لٹ گئے۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی سخت نقصان میں پڑا، اس حدیث میں صلاۃ عصر کی بڑی تاکید آئی ہے چونکہ یہ وقت بازار اور کاروبار کا ہوتا ہے، اس وجہ سے بعض لوگوں سے غفلت ہو جاتی ہے اور صلاۃ قضاء ہو جاتی ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کا نفع حاصل ہو، صلاۃ قضاء پڑھ لیں گے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ نفع صلاۃ کی منفعت کے مقابل بالکل بے حقیقت ہے، اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ کسی کے عزیز و قریب، بیوی، بچے، کنبے والے سب مارے جائیں، مال و اسباب سب لٹ جائے اور روپیہ اسے کوئی فائدہ نہ پہنچا سکے، ایسے فائدے پر ہزار لعنت جس کے ساتھ آدمی کو اتنا بڑا نقصان اٹھانا پڑے، بہرحال عصر کی صلاۃ کا بڑا خیال رکھنا چاہئے جس طرح ہو سکے دنیا کے تمام کاروبار پر اس کو مقدم رکھنا چاہئے، اور یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ عصر کی صلاۃ کچھ مشکل نہیں ہر جگہ اور ہر مقام میں اس کو پڑھ سکتے ہیں، پانی نہ ملے تو تیمم ہی سے سہی، جماعت نہ ملے تو اکیلے سہی، مسجد نہ ملے تو بازار یا دکان ہی میں سہی، سنت نہ پڑھ سکے تو فرض ہی سہی، غرض چار رکعتیں فرض کی جیسے بھی ہو سکے وقت میں ادا کر لے اس سے تاخیر نہ کرے۔

686- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ،(ح) وحَدَّثَنَا يَحْيَى ابْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ: حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ النَّبِيَّ ﷺ عَنْ صَلاةِ الْعَصْرِ، حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: < حَبَسُونَا عَنْ صَلاةِ الْوُسْطَى، مَلأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا >۔
* تخريج: م/المساجد ۳۶ (۶۲۸)، ت/تفسیر القرآن سورۃ البقرۃ ۳ (۲۹۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۹۵۴۹) وقد أخرجہ: حم (۱/۳۹۲، ۴۰۳، ۴۵۶) (صحیح)

۶۸۶- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکوں نے نبی اکرم ﷺ کو عصر کی صلاۃ سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''ان لوگوں نے ہمیں عصر کی صلاۃ سے روکے رکھا، اللہ تعالی ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
7- بَاب وَقْتِ صَلاةِ الْمَغْرِبِ
۷- باب: صلاۃ مغرب کا وقت​

687- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ: كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيَنْظُرُ إِلَى مَوَاقِعِ نَبْلِهِ.
* تخريج: خ/المواقیت ۱۸ (۵۵۹)، م/المساجد ۳۸ (۶۳۷)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۷۲)، وقد أخرجہ: د/الصلا ۃ ۶ (۴۱۶)، ن/المواقیت ۱۳ (۵۲۱)، حم (۳/۳۷۰، ۴/۱۴۱ ) (صحیح)

۶۸۷- رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مغرب کی صلاۃ پڑھتے، پھر ہم میں سے کوئی شخص صلاۃ پڑھ کر واپس ہوتا، اور وہ اپنے تیر گرنے کے مقام کو دیکھ لیتا۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی سورج ڈوبتے ہی صلاۃ پڑھ لیا کرتے تھے، بلاوجہ احتیاط کے نام پر تاخیر نہیں کرتے تھے، اس پر تمام فقہاء کا اتفاق ہے۔

[ز] 687/أ - حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، نَحْوَهُ۔
۶۸۷/أ- اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔

688- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ ﷺ الْمَغْرِبَ إِذَا تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ۔
* تخريج: خ/المواقیت ۱۸ (۵۶۱)، م/المساجد ۳۸ (۶۳۶)، د/الصلاۃ ۶ (۴۱۷)، ت/الصلاۃ ۸ (۱۶۴)، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۳۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/ ۱۵، ۵۴)، دي/الصلاۃ ۱۶ (۱۲۴۵) (صحیح)

۶۸۸- سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مغرب اس وقت پڑھتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا۔

689- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <لا تَزَالُ أُمَّتِي عَلَى الْفِطْرَةِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى تَشْتَبِكَ النُّجُومُ>.
قَالَ أَبُو عَبْداللَّهِ بْن مَاجَةَ: سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَقُولُ: اضْطَرَبَ النَّاسُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ بِبَغْدَادَ، فَذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ الأَعْيَنُ إِلَى الْعَوَّامِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، فَأَخْرَجَ إِلَيْنَا أَصْلَ أَبِيهِ، فَإِذَا الْحَدِيثُ فِيهِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۲۵، ومصباح الزجاجۃ: ۲۵۷)، وقد أخرجہ: د/الصلاۃ ۶ (۴۱۸) حم (۴/۱۴۷،۵/۴۱۷، ۴۲۲)، دي/الصلاۃ ۱۷(۱۲۴۶) (صحیح)

۶۸۹- عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میری امت ہمیشہ فطرت (دین اسلام) پر رہے گی، جب تک وہ مغرب کی صلاۃ میں اتنی تاخیر نہ کرے گی کہ تارے گھنے ہو جائیں''۔
ابوعبد اللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن یحییٰ کو کہتے سنا: اس حدیث کے بارے میں اہل بغداد نے اختلاف کیا، چنانچہ میں اور ابو بکر الاعین عوام بن عباد بن عوام کے پاس گئے، تو انہوں نے اپنے والد کا اصل نسخہ نکالا تو اس میں یہ حدیث موجود تھی۔

وضاحت۱؎: شرح السنہ میں ہے کہ اہل علم (صحابہ اور تابعین) نے اختیار کیا ہے کہ مغرب کی صلاۃ جلدی پڑھی جائے، اور جس حدیث میں نبی اکرم ﷺ سے مغرب کی تاخیر منقول ہے وہ بیان جواز کے لئے ہے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
8- بَاب وَقْتِ صَلاةِ الْعِشَائِ
۸- باب: صلاۃ عشاء کا وقت​

690- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ>۔
* تخريج: م/الطہارۃ ۱۵ (۲۵۲)، د/الطہارۃ ۲۵ (۴۶)، ن/المواقیت ۱۹ (۵۳۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۶۷۳)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۱۰ (۱۶۷)، حم (۲/۲۴۵)، دي/الصلاۃ ۱۹ (۱۲۵۰) (صحیح)

۶۹۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اگر اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا، تو میں انہیں عشاء کی صلاۃ میں دیر کرنے کا حکم دیتا''۔

691- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لأَخَّرْتُ صَلاةَ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفِ اللَّيْلِ >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۰ (۱۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۸۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۴۵، ۲۵۰، ۴۳۳) (صحیح)

۶۹۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اگر اس بات کا ڈر نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈال دوں گا، تو میں عشاء کی صلاۃ تہائی یا آدھی رات تک موخر کرتا''۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ راوی کا شک ہے اور دوسری حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ عشاء کی تاخیر تہائی رات تک بہتر ہے، گو دوسری روایات کے مطابق عشاء کا وقت آدھی رات تک ہے۔

692- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، هَلِ اتَّخَذَ النَّبِيُّ ﷺ خَاتَمًا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخَّرَ لَيْلَةً صَلاةَ الْعِشَاءِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: <إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلاةَ>، قَالَ أَنَسٌ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ۔
* تخريج: ن/الموا قیت ۲۰(۵۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۶۳۵)، وقد أخرجہ: خ/الموا قیت ۲۵ (۵۷۲)، اللباس ۴۸ (۵۸۶۹)، م/المساجد ۳۹ (۶۴۰)، حم۳/۱۸۲، ۱۸۹، ۲۰۰، ۲۶۷) (صحیح)

۶۹۲- حُمید کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا نبی اکرم ﷺ نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں، ایک رات آپ نے عشاء کی صلاۃ آدھی رات کے قریب مؤخر کی، جب آپ صلاۃ سے فارغ ہوئے تو ہماری جانب متوجہ ہو کر فرمایا: ''اور لوگ صلاۃ پڑھ کرسو گئے، اور تم لوگ برابر صلاۃ ہی میں رہے جب تک صلاۃ کا انتظار کرتے رہے''، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں''۱؎۔

[ز] 692/أ- قال القطان: حَدَّثَنَا أبُوحَاِتم: حَدَّثَنَا الأنٔصَا رِ ي: حَدَّثَنَا حُمَیدٌ، بنحوهِ.
(یہ سند مشہور حسن سلمان کے نسخہ میں موجود نہیں ہے، بلکہ یہ علی بن حسن عبد الحمید کے نسخہ میں صفحہ نمبر ۳۳۳ پر موجود ہے)
۶۹۲/أ- اس سند سے بھی اوپر والی حدیث کے مثل مروی ہے۔
وضاحت۱؎: صلاۃ کا انتظار کرنا اتنا بڑا ثواب ہے کہ جو کوئی صلاۃ کا انتظار کر رہا ہو گویا وہ صلاۃ ہی میں ہے، اور علماء کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ عشاء میں تاخیر کرنا افضل ہے یا عشاء جلدی پڑھنا، جو لوگ تاخیر کو افضل جانتے ہیں، وہ ان حدیثوں سے استدلال کرتے ہیں، اور جو لوگ جلدی پڑھنا افضل جانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کی ہمیشہ عادت یہی تھی کہ عشاء اول وقت پڑھتے اور آپ ﷺ نے تاخیر کسی ضرورت کی وجہ سے شاذ و نادر کی ہے، اور روایات میں تطابق اس طرح سے ہو سکتا ہے کہ اگر سارے مقتدی جاگنے پر راضی ہوں، اور تاخیر میں ان کو تکلیف نہ ہو تو تاخیر افضل ہے، ورنہ اول وقت میں پڑھ لینا افضل ہے، واللہ اعلم۔

693- حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ابْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ صَلاةَ الْمَغْرِبِ، ثُمَّ لَمْ يَخْرُجْ حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ، فَخَرَجَ، فَصَلَّى بِهِمْ ثُمَّ قَالَ: < إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا، وَأَنْتُمْ لَمْ تَزَالُوا فِي صَلاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلاةَ، وَلَوْلا الضَّعِيفُ وَالسَّقِيمُ أَحْبَبْتُ أَنْ أُؤَخِّرَ هَذِهِ الصَّلاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۷ (۴۲۲)، ن/المواقیت ۲۰ (۵۳۹)، (تحفۃ الأشراف: ۴۳۱۴) (صحیح)

۶۹۳- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں مغرب کی صلاۃ پڑھائی، پھر آدھی رات تک (حجرہ سے) باہر نہ آئے، پھر نکلے اور لوگوں کو عشاء کی صلاۃ پڑھائی اور فرمایا: ''اور لوگ صلاۃ پڑھ کر سو گئے، اور تم برابر صلاۃ ہی میں رہے جب تک صلاۃ کا انتظار کرتے رہے''، اگر مجھے کمزوروں اور بیماروں کا خیال نہ ہوتا تو میں اس صلاۃ کو آدھی رات تک مؤخر کرنا پسند کرتا''۔
 
Top