• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
45- بَاب مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الْمَشْيِ عَلَى الْقُبُورِ وَالْجُلُوسِ عَلَيْهَا
۴۵- باب: قبروں پر چلنے اور ان پر بیٹھنے کی ممانعت​

1566- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ تُحْرِقُهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ >۔
* تخريج: م/الجنائز ۳۳ (۹۷۱)، د/الجنائز ۷۷ (۳۲۲۸)، ن/الجنائز ۱۰۵ (۲۰۴۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۶۹۶)، وقد أخرجہ : حم (۲/۳۱۱، ۳۸۹، ۴۴۴، ۵۲۸) (صحیح)

۱۵۶۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم میں سے کسی کا آگ کے شعلہ پر جو اسے جلا دے بیٹھنا اس کے لئے قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ ممانعت اس لیے ہے کہ یہ تکریم انسانیت کے منافی ہے۔

1567- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لأَنْ أَمْشِيَ عَلَى جَمْرَةٍ أَوْ سَيْفٍ أَوْ أَخْصِفَ نَعْلِي بِرِجْلِي، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَمْشِيَ عَلَى قَبْرِ مُسْلِمٍ، وَمَا أُبَالِي أَوَسْطَ الْقُبُورِ قَضَيْتُ حَاجَتِي، أَوْ وَسْطَ السُّوقِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۹۶۴، ومصباح الزجاجۃ: ۵۶۱) (صحیح)
( الإرواء : ۶۳)
۱۵۶۷- عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اگر میں انگارے یا تلوار پہ چلوں، یا اپنا جوتا پاؤں میں سی لوں، یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر چلوں، اور میں کوئی فرق نہیں سمجھتا کہ میں قضاء حاجت کروں قبروں کے بیچ میں یا بازارکے بیچ میں''۔
وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ لوگوں سے شرم کی وجہ سے بازار میں آدمی کسی طرح پاخانہ نہیں کر سکتا، پس ایسا ہی مردوں سے بھی شرم کرنی چاہئے، اور قبرستان میں پاخانہ نہیں کرنا چاہئے، اور جو کوئی قبروں کے درمیان پاخانہ کرے وہ بازار کے اندر بھی پیشاب پاخانہ کرنے سے شرم نہیں کرے گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
47- بَاب مَا جَاءَ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ
۴۷- باب: قبروں کی زیارت کا بیان​

1569- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < زُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الآخِرَةَ >۔
* تخريج: م/الجنائز ۳۶ (۹۷۶)، د/الجنائز۸۱ (۳۲۳۴)، ن/الجنائز ۱۰۱ (۲۰۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۴۳۹)، وقد أخرجہ: حم (۷/۴۴۱) (صحیح)

۱۵۶۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قبروں کی زیارت کیا کرو، اس لئے کہ یہ تم کو آخرت کی یاد دلاتی ہیں''۔

1570- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، حَدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَاالتَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ رَخَّصَ فِي زِيَارَةِ الْقُبُورِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۲۶۶، ومصباح الزجاجۃ: ۵۶۲) (صحیح)
(ملاحظہ ہو: الأحکام : ۱۸۱)۔
۱۵۷۰- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کی اجازت دی ہے۔

1571- حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِالأَعْلَى،حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الأَجْدَعِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: <كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَزُورُوهَا، فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا، وَتُذَكِّرُ الآخِرَةَ >۔
*تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۵۶۲، ومصباح الزجاجۃ: ۵۶۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۵۲) (ضعیف)
(ایوب بن ہانی میں کلام ہے، لیکن '' فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا'' کے جملہ کے علاوہ دوسری احادیث سے یہ ثابت ہے)
۱۵۷۱- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے روک دیا تھا، تو اب ان کی زیارت کرو، اس لئے کہ یہ دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتی ہے، اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں''۱؎۔
وضاحت۱؎: پہلے نبی اکرم ﷺ نے شرک کا زمانہ قریب ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو قبروں کی زیارت سے منع فرما دیا تھا، جب ایمان خوب دلوں میں جم گیا اور شرک کا خوف نہ رہا، تو آپ نے اس کی اجازت دے دی، ترمذی کی روایت میں ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی اپنی ماں کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت اللہ تعالی نے دے دی اب یہ حکم عام ہے، عورت اور مرد دونوں کے لئے، یا صر ف مردوں کے لئے خاص ہے، نیز صحیح یہ ہے کہ عورتیں بھی قبروں کی زیارت کر سکتی ہیں، اس لئے کہ قبروں کی زیارت سے ان کو موت اور آخرت کی یاد اور دنیا سے بے رغبتی کے فوائد حاصل ہوں گے، البتہ زیارت میں مبالغہ کرنے والی عورتوں پر حدیث میں لعنت آئی ہے، اس لئے عورتوں کو محدود انداز سے زیارتِ قبور کی اجازت ہے، موجودہ زمانہ میں قبروں اور مشاہد کے ساتھ مسلمانوں نے اپنی جہالت کی وجہ سے جو سلوک کر رکھا ہے، اس میں قبروں کی زیارت کا اصل مقصد اور فائدہ ہی اوجھل ہو گیا ہے، اس لئے تمام مسلمانوں کو زیارتِ قبور کے شرعی آداب کو سیکھنا اور اس کا لحاظ رکھنا چاہئے، اور صحیح طور پر مسنون طریقے سے قبروں کی زیارت کرنی چاہئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
48- بَاب مَا جَاءَ فِي زِيَارَةِ قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ
۴۸- باب: کفار و مشرکین کی قبروں کی زیارت کا بیان​

1572- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: زَارَ النَّبِيُّ ﷺ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ، فَقَالَ: < اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يَأْذَنْ لِي، وَاسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي، فَزُورُوا الْقُبُورَ، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْمَوْتَ >۔
* تخريج: م/الجنائز ۳۶ (۹۷۶)، د/الجنائز۸۱ (۳۲۳۴)، ن/الجنائز ۱۰۱ (۲۰۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۴۳۹)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۴۱) (صحیح)

۱۵۷۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو آپ روئے، اور آپ کے گرد جو لوگ تھے انہیں بھی رلایا، اور فرمایا: ''میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ اپنی ماں کے لئے استغفار کروں، تو اللہ تعالی نے مجھے اس کی اجازت نہیں دی، اور میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت دے دی، لہٰذا تم قبروں کی زیارت کیا کرو اس لئے کہ وہ موت کو یاد دلاتی ہے''۔

1573- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ الْبَخْتَرِيِّ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: يَارَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ، وَكَانَ وَكَانَ، فَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: < فِي النَّارِ > قَالَ فَكَأَنَّهُ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَأَيْنَ أَبُوكَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <حَيْثُمَا مَرَرْتَ بِقَبْرِ مُشْرِكٍ فَبَشِّرْهُ بِالنَّارِ > قَالَ: فَأَسْلَمَ الأَعْرَابِيُّ، بَعْدُ، وَقَالَ: لَقَدْ كَلَّفَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ تَعَبًا، مَامَرَرْتُ بِقَبْرِ كَافِرٍ إِلا بَشَّرْتُهُ بِالنَّارِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۸۰۳، ومصباح الزجاجۃ: ۵۶۴) (صحیح)
(ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۱۸)
۱۵۷۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی ( دیہاتی) نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اورکہا: اللہ کے رسول! میرے والد صلہ رحمی کیا کرتے تھے، اور اِس اِس طرح کے اچھے کام کیا کرتے تھے، تو اب وہ کہاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''وہ جہنم میں ہیں''، اس بات سے گویا وہ رنجیدہ ہوا، پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ کے والد کہاں ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم کسی مشرک کی قبر کے پاس سے گزرو، تو اس کو جہنم کی خوش خبری دو ''اس کے بعد وہ اعرابی (دیہاتی) مسلمان ہو گیا، اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ پر ایک ذمہ داری ڈال دی ہے، اب کسی بھی کافر کی قبر سے گزرتا ہوں تو اسے جہنم کی بشارت دیتا ہوں۱؎۔
وضاحت۱؎: گویا آپ نے یہ فرما کر کہ ہر ایک کافر کو جہنم کی بشارت دو، اس کا جواب دیا، جو اس نے پوچھا تھا کہ آپ کے والد کہاں ہیں یعنی میرے باپ بھی جہنم میں ہیں، اس امر پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ نبی کریم ﷺ کے والدین اور آپ کے چچا ابو طالب کفر پر مرے اس لیے یقینی طورپر یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ جنت میں ہوں گے، بلکہ صحیح حدیثوں میں ابو طالب کے سلسلے میں آیا ہے کہ ان پر بہت ہلکا عذاب ہے، جب بھی آگ کی دو جوتیاں ان کو پہنائی گئی ہیں، جس سے ان کا دماغ جوش مارتا ہے، معاذ اللہ! کفر اور شرک ایسی خراب چیز ہے کہ قریبی رشتہ داری بھی کچھ کام نہ آئی، اور اللہ تعالیٰ کا کارخانہ ایسی بے نیازی کا ہے کہ جو قاعدہ اس نے مقرر فرما دیا، اس میں بڑے اور چھوٹے سب برابر ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
49- بَاب مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ زِيَارَةِ النِّسَاءِ الْقُبُورَ
۴۹- باب: عورتوں کے لئے زیارتِ قبور منع ہے​

1574- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو بِشْرٍ، قَالا: حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ،(ح) وحَدَّثَنَا أَبُوكُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ،(ح) وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلانِيُّ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، وَقَبِيصَةُ كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ بَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زُوَّارَاتِ الْقُبُورِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۰۳، ومصباح الزجاجۃ: ۵۶۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۴۲،۴۴۳) (حسن)
(نیز ملاحظہ ہو: الإرواء)
۱۵۷۴- حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پرلعنت بھیجی ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ اور اس معنی کی دوسری احادیث سے یہ امر قوی ہوتا ہے کہ عورتوں کو قبروں کی زیارت کرنا منع ہے، اس حدیث میں زوّارات مبالغہ کا صیغہ ہے، اس لئے عام عورتوں کے لئے زیارتِ قبور کی اجازت اوپر کی (حدیث نمبر ۱۵۷۱) سے حاصل ہے، جس میں رسول اکرم ﷺ نے ممانعت کے بعد مسلمانوں کو زیارتِ قبور کا اِذن عام دیا ہے، تاکہ وہ اس سے عبرت و موعظت حاصل کریں، اور عورتیں بھی اس سے عبرت و موعظت کے حصول میں مردوں کی طرح محتاج اور حقدار ہیں۔ اس سلسلے میں متعدد احادیث بھی ہیں۔
۱- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عورتوں کو قبروں کی زیارت کی اجازت دی۔ (سنن الاثرم ومستدرک الحاکم)
۲- صحیح مسلم میں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! جب میں قبروں کی زیارت کروں تو کیا کہوں؟ ۔ آپ ﷺ نے یوں فرمایا: کہو ''السلام على أهل الديار من المؤمنين..'' ۔
۳- حاکم نے روایت کی ہے کہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا اپنے چچا حمزہ رضی اللہ عنہ کے قبر کی زیارت ہر جمعہ کو کیا کرتیں تھیں۔
۴- صحیح بخاری میں ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک عورت پر سے گزرے جو ایک قبر پر رو رہی تھی، لیکن آپ ﷺ نے اس پر قبر کی زیارت کی وجہ سے نکیر نہیں فرمائی۔
اجازت اور عدمِ اجازت میں یوں مطابقت ہو سکتی ہے کہ ان عورتوں کے لئے ممانعت ہے جو زیارت میں مبالغہ سے کام لیں، یا زیارت کے وقت نوحہ وغیرہ کریں، اور ان عورتوں کے لئے اجازت ہے جو خلاف شرع کام نہ کریں۔
قرطبی نے کہا کہ لعنت ان عورتوں سے خاص ہے جو بہت زیادہ زیارت کو جائیں، کیونکہ حدیث میں زوّارات القبور مبالغہ کا صیغہ منقول ہے، اور شاید اس کی وجہ یہ ہو گی کہ جب عورت اکثر زیارت کو جائے گی تو مرد کے کاموں اور ضرورتوں میں خلل واقع ہو گا۔

1575- حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زُوَّارَاتِ الْقُبُورِ۔
* تخريج:د/الجنائز ۸۲ (۳۲۳۶)، ت/الصلاۃ ۱۲۲ (۳۲۰)، ن/الجنائز۱۰۴ (۲۰۴۵)، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۷۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۲۹، ۳۲۴، ۳۳۷) (حسن)
(سابقہ حدیث سے یہ حسن ہے، لیکن ''زائرات'' کے لفظ کی روایت ضعیف ہے)
۱۵۷۵- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔

1576- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلانِيُّ أَبُو نَصْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَالِبٍ، حَدَّثَنَا أَبُوعَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ زُوَّارَاتِ الْقُبُورِ۔
* تخريج: ت/الجنائز ۶۲ ( ۱۰۵۶)، (تحفۃ الأشراف:۱۴۹۸۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۳۷، ۳۵۶) (حسن)
(شواہد و متابعات کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں ''محمد بن طالب'' مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۷۶۲)
۱۵۷۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے قبروں کی بہت زیادہ زیارت کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
50- بَاب مَا جَاءَ فِي اتِّبَاعِ النِّسَاءِ الْجَنَائِزَ
۵۰- باب: عورتوں کا جنازے کے ساتھ جانے کا بیان​

1577- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا۔
* تخريج: خ/الجنائز۲۹ (۱۲۷۸)، م/الجنائز۱۱ (۹۳۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۱۳۹)، وقد أخرجہ: د/الجنائز ۴۴ (۳۱۶۷)، حم (۶/۴۰۸) (صحیح)

۱۵۷۷- ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم عورتوں کو جنازے کے ساتھ جانے سے منع کر دیا گیا، لیکن ہمیں تاکیدی طور پر نہیں روکا گیا ۱؎۔
وضاحت۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے، یعنی جنازہ میں نہ جانا زیادہ بہتر ہے، جمہور علماء کا یہی قول ہے، اور بعضوں کے نزدیک یہ امر حرام ہے۔

1578- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ دِينَارٍ أَبِي عُمَرَ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَإِذَا نِسْوَةٌ جُلُوسٌ، قَالَ: < مَا يُجْلِسُكُنِّ > قُلْنَ: نَنْتَظِرُ الْجِنَازَةَ، قَالَ: < هَلْ تَغْسِلْنَ؟ > قُلْنَ: لا، قَالَ: < هَلْ تَحْمِلْنَ؟ > قُلْنَ: لا، قَالَ: < هَلْ تُدْلِينَ فِيمَنْ يُدْلِي؟ > قُلْنَ: لا، قَالَ: < فَارْجِعْنَ مَأْزُورَاتٍ، غَيْرَ مَأْجُورَاتٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۶۹، ومصباح الزجاجۃ : ۵۶۶) (ضعیف)
(اس کی سند میں ''دینار ابو عمر'' اور ''اسماعیل بن سلمان'' ضعیف ہیں، ابن الجوزی نے اس حدیث کو العلل المتناہیہ میں ذکر کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: ۱لضعیفہ: ۲۷۴۲)
۱۵۷۸- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نکلے اور کئی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے پوچھا: ''تم لوگ کیوں بیٹھی ہوئی ہو''؟ انہوں نے کہا: ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں، آپ نے پوچھا: ''کیا تم لوگ جنازے کو غسل دو گی''؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ''کیا اسے اٹھاؤ گی''؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ''کیا تم بھی ان لوگوں کے ساتھ جنازہ قبر میں اتارو گی جو اسے اتاریں گے''؟ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم لوگ گناہ گار ہو کر ثواب سے خالی ہاتھ (اپنے گھروں کو) واپس جاؤ''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
51- بَاب فِي النَّهْيِ عَنِ النِّيَاحَةِ
۵۱- باب: نوحہ (میت پر چِلا کر رونا) منع ہے​

1579- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ مَوْلَى الصَّهْبَاءِ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ {وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ } قَالَ: < النَّوْحُ >.
* تخريج: ت/تفسیر القرآن ۶۰ (۳۳۰۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۶۹)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۲۰) (حسن)

۱۵۷۹- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے آیت کریمہ: {وَلا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ} [سورة الممتنحة: ۱۲] (نیک باتوں میں تمہاری نافرمانی نہ کریں) کی تفسیر کے سلسلہ میں فرمایا: ’’اس سے مراد نوحہ ہے‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: نوحہ کہتے ہیں چلا چلا کر میت پر رونے، اور اس کے فضائل بیان کرنے کو، یہ جاہلیت کی رسم تھی، اور اب تک جاہلوں میں رائج ہے اس لئے نبی کریم ﷺ نے اس سے منع کیا، لیکن آہستہ سے رونا جو بے اختیاری اور رنج کی وجہ سے ہو وہ منع نہیں ہے، جیسا کہ آگے آئے گا۔

1580 - حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، مَوْلَى مُعَاوِيَةَ قَالَ: خَطَبَ مُعَاوِيَةُ بِحِمْصَ، فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى عَنِ النَّوْحِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۰۳، ومصباح الزجاجۃ: ۵۶۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۰۱) (صحیح)
(دوسری سندوں سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ’’عبد اللہ بن دینار‘‘ ضعیف اور حریز مجہول راوی ہیں)
۱۵۸۰- معاویہ رضی اللہ عنہ کے غلام حریز کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے حمص میں خطبہ دیا تو اپنے خطبہ میں یہ ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے نوحہ (چلّا کر رونے) سے منع فرما یا ہے۔

1581- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ مُعَانِقٍ أَوْ أَبِي مُعَانِقٍ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < النِّيَاحَةُ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَإِنَّ النَّائِحَةَ إِذَا مَاتَتْ وَلَمْ تَتُبْ قَطَعَ اللَّهُ لَهَا ثِيَابًا مِنْ قَطِرَانٍ، وَدِرْعًا مِنْ لَهَبِ النَّارِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۶۰، ومصباح الزجاجۃ: ۵۶۸)، وقد أخرجہ: م/الجنائز۱۰ (۹۲۴)، حم (۵/۳۴۲) (صحیح)

۱۵۸۱- ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’نوحہ (ماتم) کرنا جاہلیت کا کام ہے، اور اگر نوحہ (ماتم) کرنے والی عورت بغیر توبہ کے مر گئی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے تارکول (ڈامر) کے کپڑے، اور آگ کے شعلے کی قمیص بنائے گا‘‘۔

1582- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ الْيَمَامِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < النِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَإِنَّ النَّائِحَةَ إِنْ لَمْ تَتُبْ قَبْلَ أَنْ تَمُوتَ، فَإِنَّهَا تُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَيْهَا سَرَابِيلُ مِنْ قَطِرَانٍ، ثُمَّ يُعْلَى عَلَيْهَا بِدِرْعٍ مِنْ لَهَبِ النَّارِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۲۴۷، ومصباح الزجاجۃ: ۵۶۹) (صحیح)
(دوسری سند سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ’’عمر بن راشد‘‘ ضعیف راوی ہے، اور اس کی حدیث یحییٰ بن ابی کثیر سے مضطرب ہے)
۱۵۸۲- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میت پر نوحہ کرنا جاہلیت کا کام ہے، اگر نوحہ کرنے والی عورت توبہ کر نے سے پہلے مر جائے، تو وہ قیامت کے دن اس حال میں اٹھائی جائے گی کہ تارکول کی قمیص پہنے ہو گی، اور اس کو اوپر سے جہنم کی آگ کے شعلوں کی ایک قمیص پہنا دی جائے گی‘‘ ۱؎۔
وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ اس کو کھجلی کا عذاب دیا جائے گا، اور تارکول اس کے بدن پر مل کر جہنم کی آگ سے سینکیں گے تاکہ عذاب پر عذاب ہو ۔ معاذ اللہ۔

1583- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ تُتْبَعَ جِنَازَةٌ مَعَهَا رَانَّةٌ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۴۰۵، ومصباح الزجاجۃ:۵۷۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۹۲) (حسن)
(لیث نے مجاہد سے روایت کرنے میں ابو یحییٰ القتات کی متابعت کی ہے، اس لئے یہ حدیث حسن ہے، تراجع الألبانی: رقم: ۵۲۸)
۱۵۸۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا ’’جس کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی عورت ہو‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: جب جنازے کے ساتھ جو اسلامی حقوق میں سے ہے نوحہ کرنے والی کی موجودگی کی وجہ سے جانا منع ہے، تو اب مجلس نکاح یا دعوت میں اگر ناچ گانا ہو جو خلاف شرع ہے جانا کیوں کر صحیح ہو گا ؟۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
52- بَاب مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْخُدُودِ وَشَقِّ الْجُيُوبِ
۵۲- باب: (نوحہ میں) منہ پیٹنا اور گریبان پھاڑنا منع ہے​

1584 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،(ح) وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُالرَّحْمَنِ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ،(ح) و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لَيْسَ مِنَّا مَنْ شَقَّ الْجُيُوبَ وَضَرَبَ الْخُدُودَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ >.
* تخريج: حدیث علی بن محمد ومحمد بن بشار قد أخرجہ: خ/الجنائز ۳۵ (۱۲۵۴)، ت/الجنائز ۲۲ (۹۹۹)، ن/الجنائز ۱۷ (۱۸۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۹۵۵۹)، وحدیث علی بن محمد وابو بکربن خلاّد قد أخرجہ: خ/المناقب ۸ (۳۵۱۹)، الجنائز ۳۸ (۱۲۹۷)، ۳۹ (۱۲۹۸)، م/الإیمان ۴۴ (۱۰۳)، ن/الجنائز ۱۷ (۱۸۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۹۵۶۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۸۶، ۴۳۲، ۴۴۲، ۴۶۵) (صحیح)

۱۵۸۴- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا: ’’جو شخص (نوحہ میں) گریبان پھاڑے، منہ پیٹے، اور جاہلیت کی پکار پکارے۱؎ ، وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘ ۲؎۔
وضاحت۱؎: جاہلیت کی پکار سے مراد نوحہ اور بین کرنا ہے، جیسے ہائے میرے شیر! ہائے میرے چاند! ہائے میرے بچوں کو یتیم کر جانے والے! عورتوں کے سہاگ اجاڑ دینے والے وغیرہ وغیرہ کہہ کر رونا۔
وضاحت۲؎: ہم میں سے نہ ہونے کا مطلب ہے کہ ہم مسلمانوں کے طریقے پر نہیں۔

1585- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْمُحَارِبِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَرَامَةَ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُوأُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، وَالْقَاسِمِ ،عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَعَنَ الْخَامِشَةَ وَجْهَهَا، وَالشَّاقَّةَ جَيْبَهَا، وَالدَّاعِيَةَ بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۲۲، ومصباح الزجاجۃ: ۵۷۱) (صحیح)

۱۵۸۵- ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس عورت پر لعنت کی جو اپنا (نوحہ میں) چہرہ نوچے، اپنا گریبان پھاڑے اور خرابی بربادی اور ہلاکت کے الفاظ پکارے ۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی یوں کہے: ہائے تباہ ہو گئی، ہلاک ہو گئی، برباد ہو گئی وغیرہ۔

1586- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَ يَذْكُرُ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ وَأَبِي بُرْدَةَ، قَالا: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِاللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ، فَأَفَاقَ، فَقَالَ لَهَا: أَوَ مَا عَلِمْتِ أَنِّي بَرِيئٌ مِمَّنْ بَرِءَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ؟ وَكَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < أَنَا بَرِيئٌ مِمَّنْ حَلَقَ وَسَلَقَ وَخَرَقَ >۔
* تخريج: م/الإیمان ۴۴ (۱۰۴)، ن/الجنائز۲۰ (۱۸۶۶)، (تحفۃ الأشراف:۹۰۲۰، ۹۰۸۱)، وقد أخرجہ: د/الجنائز۲۹ (۳۱۳۰)، حم (۴/۳۹۶، ۴۰۴، ۴۰۵، ۴۱۱، ۴۱۶) (صحیح)

۱۵۸۶- عبد الرحمن بن یزید اور ابو بردہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بیماری شدید ہو گئی، تو ان کی بیوی ام عبد اللہ چلّا چلّا کر رونے لگیں، جب ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انہوں نے بیوی سے کہا: کیا تم نہیں جانتی کہ میں اس شخص سے بری ہوں جس سے رسول اللہ ﷺ بری ہوئے، اور وہ اپنی بیوی سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں اس سے بری ہوں جو مصیبت کے وقت سر مڈائے، روئے چلائے اور کپڑے پھاڑے‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: جیسے جاہلوں کی عادت ہوتی ہے، بلکہ ہندوؤں کی رسم ہے کہ جب کوئی مر جاتا ہے تو اس کے غم میں سر بلکہ داڑھی مونچھ بھی منڈوا ڈالتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
53- بَاب مَا جَاءَ فِي الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ
۵۳- باب: میت پر رونے کا بیان​

1587- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ فِي جِنَازَةٍ، فَرَأَى عُمَرُ امْرَأَةً فَصَاحَ بِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: <دَعْهَا يَا عُمَرُ، فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ، وَالنَّفْسَ مُصَابَةٌ، وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ >.
* تخريج: ن/الجنائز ۱۶ (۱۸۶۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۴۷۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۱۰، ۲۷۳، ۳۳۳، ۴۰۸، ۴۴۴) (ضعیف)
(کیونکہ اس کی سند میں محمد بن عمرو بن عطاء اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، جیسا کہ بعد والی حدیث کی سند سے واضح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۳۶۰۳)
۱۵۸۷- ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک جنازہ میں تھے، عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو (روتے) دیکھا تو اس پر چلائے، یہ دیکھ کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’عمر! اسے چھوڑ دو، اس لئے کہ آنکھ رونے والی ہے، جان مصیبت میں ہے، اور (صدمہ کا) زمانہ قریب ہے‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اسے ابھی صدمہ پہنچا ہے اور ایسے وقت میں دل پر اثر بہت ہوتا ہے اور رونا بہت آتا ہے، آدمی مجبور ہو جاتا ہے خصوصاً عورتیں جن کا دل بہت کمزور ہوتا ہے، ظاہر یہ ہوتا ہے کہ یہ عورت آواز کے ساتھ روئی ہو گی، لیکن بلند آواز سے نہیں، تب بھی عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو منع کیا تاکہ نوحہ کا دروازہ بند کیا جا سکے جو منع ہے اور نبی کریم ﷺ خود اپنے بیٹے ابراہیم کی موت پر روئے اور فرمایا: ’’آنکھ آنسو بہاتی ہے ،اور دل رنج کرتا ہے، لیکن زبان سے ہم وہ نہیں کہتے جس سے ہمارا رب ناراض ہو‘‘ اور امام احمد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی صاحب زادی زینب وفات پا گئیں تو عورتیں رونے لگیں، عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان کو کوڑے سے مارنے لگے، نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے ان کو پیچھے ہٹا دیا، اور فرمایا: ’’عمرٹھہر جاؤ!‘‘ پھر فرمایا: ’’عورتو! تم شیطان کی آواز سے بچو …‘‘ اخیر حدیث تک۔

1587/أ- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ ابْنِ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَزْرَقِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، بِنَحْوِهِ۔
* تخريج: انظر ماقبلہ (ضعیف)
(اس کی سند میں سلمہ بن أزرق مجہول الحال ہیں)
۱۵۸۷/أ- اس سند سے بھی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی معنی کی حدیث آئی ہے۔

1588- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: كَانَ ابْنٌ لِبَعْضِ بَنَاتِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَقْضِي، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا < أَنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْئٍ عِنْدَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ > فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ، فَأَقْسَمَتْ عَلَيْهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَقُمْتُ مَعَهُ وَمَعَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأُبَيُّ ابْنُ كَعْبٍ، وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، فَلَمَّا دَخَلْنَا نَاوَلُوا الصَّبِيَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَرُوحُهُ تَقَلْقَلُ فِي صَدْرِهِ، قَالَ حَسِبْتُهُ قَالَ: كَأَنَّهَا شَنَّةٌ قَالَ فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: <الرَّحْمَةُ الَّتِي جَعَلَهَا اللَّهُ فِي بَنِي آدَمَ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ >۔
* تخريج: خ/الجنائز ۳۲ (۱۲۸۴)، المرضی ۹ (۵۶۵۵)، القدر ۴ (۶۶۰۲)، الأیمان والنذور ۹ (۶۶۵۵)، التوحید ۲ (۷۳۷۷)، ۲۵ (۷۴۴۸)، م/الجنائز ۶ (۹۲۳)، د/الجنائز ۲۸ (۳۱۲۵)، ن/الجنائز ۲۲ (۱۸۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۹۸)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۰۴، ۲۰۶،۲۰۷) (صحیح)

۱۵۸۸- اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کی کسی بیٹی کا ایک لڑکا مرنے کے قریب تھا، انہوں نے آپ ﷺ کو بلا بھیجا تو آپ ﷺ نے انہیں جواب میں کہلا بھیجا: ’’جو لے لیا وہ اللہ ہی کا ہے، اور جو دیدیا وہ بھی اللہ ہی کا ہے، اور اس کے پاس ہر چیز کا ایک مقرر وقت ہے، انہیں چاہئے کہ صبر کریں اور ثواب کی امید رکھیں‘‘ لڑکی نے آپ ﷺ کو دوبارہ بلا بھیجا، اور قسم دلائی کہ آپ ﷺ ضرور تشریف لائیں، رسول اللہ ﷺ اٹھے، آپ کے ساتھ میں بھی اٹھا، آپ کے ساتھ معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم بھی تھے، جب ہم گھر میں داخل ہوئے تو لوگ بچے کو لے آئے، اور نبی اکرم ﷺ کو دے دیا، بچے کی جان اس کے سینے میں اتھل پتھل ہو رہی تھی، (راوی نے کہا کہ میں گمان کرتا ہوں یہ بھی کہا:) گویا وہ پرانی مشک ہے (اور اس میں پانی ہل رہا ہے) یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ رو پڑے، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ اللہ تعالی کی رحمت ہے جو اللہ تعالی نے انسان میں رکھی ہے، اور اللہ تعالی اپنے رحم دل بندوں ہی پر رحم کرتا ہے‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ رونا اور رنج کرنا خلاف شرع نہیں ہے بلکہ یہ دل کے نرم اور مزاج کے معتدل ہونے کی نشانی ہے، اور جس کسی کو ایسے موقعوں پر رنج بھی نہ ہو اس کا دل اعتدال سے باہر ہے اور وہ سخت دل ہے، اور یہ کچھ تعریف کی بات نہیں ہے کہ فلاں بزرگ اپنے بیٹے کے مرنے سے ہنسنے لگے، واضح رہے کہ عمدہ اور افضل نبی کریم ﷺ کا طریقہ ہے۔

1589- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: لَمَّا تُوُفِّيَ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إِبْرَاهِيمُ بَكَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ لَهُ الْمُعَزِّي: إِمَّا أَبُو بَكْرٍ وَإِمَّا عُمَرُ: أَنْتَ أَحَقُّ مَنْ عَظَّمَ اللَّهُ حَقَّهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < تَدْمَعُ الْعَيْنُ، وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلا نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ لَوْلا أَنَّهُ وَعْدٌ صَادِقٌ وَمَوْعُودٌ جَامِعٌ وَأَنَّ الآخِرَ تَابِعٌ لِلأَوَّلِ لَوَجَدْنَا عَلَيْكَ يَا إِبْرَاهِيمُ أَفْضَلَ مِمَّا وَجَدْنَا وَإِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۷۲، ومصباح الزجاجۃ: ۵۷۲) (حسن)
(شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں کلام ہے ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۱۷۳۲)
۱۵۸۹- اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کے صاحب زادے ابراہیم کا انتقال ہو گیا، تو رسول اللہ ﷺ رو پڑے، آپ سے تعزیت کرنے والے نے (وہ یا تو ابو بکر تھے یا عمر رضی اللہ عنہما) کہا: آپ سب سے زیادہ اللہ کے حق کو بڑا جاننے والے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’آنکھ روتی ہے، دل غمگین ہوتا ہے، اور ہم کوئی ایسی بات نہیں کہتے جس سے اللہ تعالی ناخوش ہو، اور اگر قیامت کا وعدہ سچا نہ ہوتا، اور اس وعدہ میں سب جمع ہونے والے نہ ہوتے، اور بعد میں مرنے والا پہلے مرنے والے کے پیچھے نہ ہوتا، تو اے ابراہیم! ہم اس رنج سے زیادہ تم پر رنج کرتے، ہم تیری جدائی سے رنجیدہ ہیں‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: ابراہیم ماریہ قبطیہ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ آنکھ سے آنسوؤں کا نکلنا اور غمزدہ ہونا صبر کے منافی نہیں بلکہ یہ رحم دلی کی نشانی ہے البتہ نوحہ اور شکوہ کرنا صبر کے منافی اور حرام ہے۔

1590- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ أَنَّهُ قِيلَ لَهَا: قُتِلَ أَخُوكِ، فَقَالَتْ: رَحِمَهُ اللَّهُ وَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، قَالُوا: قُتِلَ زَوْجُكِ، قَالَتْ وَا حُزْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ لِلزَّوْجِ مِنَ الْمَرْأَةِ لَشُعْبَةً مَا هِيَ لِشَيْئٍ >۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۲۲ومصباح الزجاجۃ: ۵۷۳) (ضعیف)
(اس کی سند میں عبد اللہ بن عمرالعمری ضعیف ہیں)
۱۵۹۰- حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان سے کہا گیا: آپ کا بھائی قتل کر دیا گیا ہے تو انہوں نے کہا: اللہ تعالی اس پر رحم کرے، إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (ہم اللہ کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں) لوگوں نے بتایا: آپ کے شوہر قتل کر دئیے گئے، یہ سنتے ہی انہوں نے کہا: ہائے غم، رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’بیوی کو شوہر سے ایک ایسا قلبی لگاؤ ہوتا ہے جو دوسرے کسی سے نہیں ہوتا‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: اس لئے کہ بھائی کی موت کی خبر سن کر صرف انا للہ وانا الیہ راجعون کہا، اور شوہر کی موت کی خبر سن کر رونے پیٹنے لگیں اور ہائے شوہر، وائے شوہرکہنے لگیں، حقیقت یہ ہے کہ عورت کو جتنا اپنے شوہر سے لگاؤ ہوتا ہے، بھائی بہن پر اس کا آدھا بھی نہیں ہوتا۔

1591- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ نَافِع، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَرَّ بِنِسَاءِ عَبْدِالأَشْهَلِ يَبْكِينَ هَلْكَاهُنَّ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لَكِنَّ حَمْزَةَ لا بَوَاكِيَ لَهُ > فَجَاءَ نِسَاءُ الأَنْصَارِ يَبْكِينَ حَمْزَةَ، فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: < وَيْحَهُنَّ مَا انْقَلَبْنَ بَعْدُ؟ مُرُوهُنَّ فَلْيَنْقَلِبْنَ، وَلايَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۴۹۱، ومصباح الزجاجۃ: ۵۷۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۰، ۸۴،۹۲) (حسن صحیح)
(اسامہ بن زید ضعیف الحفظ ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)
۱۵۹۱- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (قبیلہ)عبد الاشہل کی عورتوں کے پاس سے گزرے، وہ غزوۂ احد کے شہداء پر رو رہی تھیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’لیکن حمزہ پر کوئی بھی رونے والا نہیں‘‘ ، یہ سن کر انصار کی عورتیں آئیں، اور حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے لگیں، رسول اللہ ﷺ نیند سے بیدار ہوئے، تو فرمایا: ’’ان عورتوں کا برا ہو، ابھی تک یہ سب عورتیں واپس نہیں گئیں؟ ان سے کہو کہ لوٹ جائیں اور آج کے بعد کسی بھی مرنے والے پر نہ روئیں‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: حمزہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے چچا تھے جو احد کی لڑائی میں شہید ہوئے۔ ان کی عورتیں ابھی مسلمان ہو کر مدینہ میں نہیں آئی تھیں اس لیے ان پر رونے والا کوئی نہ تھا، یہ آپ ﷺ نے افسوس سے فرمایا، یا حمزہ رضی اللہ عنہ کی خوش نصیبی بیان کی کہ ان کا کوئی رونے والا نہیں، انصار کی عورتیں یہ سمجھیں کہ نبی کریم ﷺ کا مطلب یہ ہے کہ اگر حمزہ کی عورتیں یہاں ہوتیں تو وہ بھی روتیں، اس خیال سے انہوں نے نبی کریم ﷺ کی خوشی کے لئے رونا شروع کیا، لیکن جب آپ جاگے تو ان کو نکلوا دیا اور اس روز سے پکار کر رونے کی ممانعت کر دی۔

1592- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْمَرَاثِي۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۵۳، ومصباح الزجاجۃ: ۱۵۷۵) (ضعیف)
(اس کی سند میں ابراہیم الہجری ضعیف ہیں)۔
۱۵۹۲- عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے مردوں پر مرثیہ خوانی سے منع فرمایا ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: جاہلیت میں دستور تھا کہ جب کوئی مر جاتا تو اس کے عزیز و اقارب اس کی موت پر مرثیہ کہتے یعنی منظوم کلام جس میں اس کے فضائل بیان کرتے اور رنج و غم کی باتیں کرتے، اسلام میں اس کی ممانعت ہوئی، لیکن جاہل اس سے باز نہیں آئے، اب تک مرثیے کہتے، مرثیے سناتے اور سنتے ہیں انا للہ وإنا إلیہ راجعون۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
54- بَاب مَا جَاءَ فِي الْمَيِّتِ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ
۵۴- باب: میت پر نوحہ خوانی سے اس کو عذاب ہوتا ہے​

1593- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَاذَانُ،(ح) وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ،(ح) وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالصَّمَدِ وَوَهْبُ ابْنُ جَرِيرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ >۔
* تخريج: خ/الجنائز ۳۳ (۱۲۹۲)، م/الجنائز ۹ (۹۲۷)، ن/الجنائز ۱۵ (۱۸۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۵۳۶)، وقد أخرجہ: ت/الجنائز ۲۴ (۱۰۰۲)، حم (۱/۲۶، ۳۶، ۴۷، ۵۰، ۵۱، ۵۴) (صحیح)

۱۵۹۳- عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’میت پر نوحہ کرنے کی وجہ سے اسے عذاب دیا جاتا ہے‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: میت پر آواز کے ساتھ رونے کو نوحہ کہتے ہیں۔ یہ عذاب اس شخص پر ہو گا جو اپنے ورثاء کو اس کی وصیت کر کے مرا ہو یا اس کا عمل بھی زندگی میں ایسا ہی رہا ہو اور اس کی پیروی میں اس کے گھر والے بھی اس پر نوحہ کر رہے ہوں۔

1594- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ؛ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: <الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ، إِذَ ا قَالُوا: وَا عَضُدَاهُ، وَا كَاسِيَاهُ، وَا نَاصِرَاهُ، وَا جَبَلاهُ، وَنَحْوَ هَذَا، يُتَعْتَعُ وَيُقَالُ: أَنْتَ كَذَلِكَ أَنْتَ كَذَلِكَ؟> قَالَ أَسِيدٌ: فَقُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: { وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى}، قَالَ: وَيْحَكَ! أُحَدِّثُكَ أَنَّ أَبَا مُوسَى حَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَتَرَى أَنَّ أَبَا مُوسَى كَذَبَ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ ؟ أَوْ تَرَى أَنِّي كَذَبْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى؟۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۹۰۳۱، ومصباح الزجاجۃ: ۵۷۶)، وقد أخرجہ: ت/الجنائز ۲۴ (۱۰۰۳)، حم (۴/ ۴۱۴) (حسن)

۱۵۹۴- ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’مردے کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، جب لوگ کہتے ہیں: وَا عَضُدَاهُ، وَا كَاسِيَاهُ، وَا نَاصِرَاهُ، وَا جَبَلاهُ (ہائے میرے بازو، ہائے میرے کپڑے پہنانے والے، ہائے میری مدد کرنے والے، ہائے پہاڑ جیسے قوی و طاقتور) اور اس طرح کے دوسرے کلمات، تو اسے ڈانٹ کر کہا جاتا ہے: کیا تو ایسا ہی تھا؟ کیا تو ایسا ہی تھا؟‘‘۔
اسید کہتے ہیں کہ میں نے کہا: سبحان اللہ، اللہ تعالی تویہ فرماتا ہے: {وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى}[سورة فاطر: ۱۸ وسورة الإنعام: ۱۶۴] (کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا) تو انہوں (موسیٰ) نے کہا: تمہارے اوپر افسوس ہے، میں تم سے بیان کرتا ہوں کہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے رسول اکرم ﷺ کی یہ حدیث بیان فرمائی، تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ پر جھوٹ باندھا ہے؟ یا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ پر جھوٹ باندھا ہے؟۱؎۔

وضاحت۱؎: یعنی جب یہ حدیث صحیح ہے تو اس پر کسی طرح اعتراض نہیں ہو سکتا، اگرچہ بظاہر تمہارے نزدیک قرآن کے خلاف ہو کیونکہ نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ قرآن کو جانتے تھے البتہ اگر حدیث کے راوی ضعیف ہوں تو یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ راویوں نے غلطی کی ہو۔

1595- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّمَا كَانَتْ يَهُودِيَّةٌ مَاتَتْ، فَسَمِعَهُمُ النَّبِيُّ ﷺ يَبْكُونَ عَلَيْهَا، قَالَ: < إِنَّ أَهْلَهَا يَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا تُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۲۵۹)، وقد أخرجہ: خ/الجنائز ۳۲ (۱۲۸۹)، م/الجنائز۹ (۹۳۲)، ت/الجنائز ۲۵ (۱۰۰۴)، ن/الجنائز۱۵(۱۸۵۷)، ط/الجنائز۱۲ (۳۷)، حم (۶/۱۰۷، ۲۵۵) (صحیح)

۱۵۹۵- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت کا انتقال ہو گیا، تو نبی اکرم ﷺ نے یہودیوں کو اس پر روتے ہوئے سنا، تو فرمایا: ’’اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں جب کہ اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: بعض لوگوں نے اس سے یہ سمجھا کہ میت پر رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے حالانکہ آپ ﷺ کا یہ مطلب نہ تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
55- بَاب مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْمُصِيبَةِ
۵۵- باب: مصیبت پر صبر کرنے کا ثواب​

1596- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَالصَّدْمَةِ الأُولَى >۔
* تخريج: ت/الجنائز ۱۳ (۹۸۸)، (تحفۃ الأشراف: ۸۴۸)، وقد أخرجہ: خ/الجنائز ۳۱ (۱۲۸۳)، ۴۲ (۱۳۰۲)، الأحکام ۱۱ (۷۱۵۴)، م/الجنائز ۸ (۹۲۶)، د/الجنائز ۲۷ (۳۱۲۴)، ن/الجنائز ۲۲ (۱۸۷۰)، حم (۳/۱۳۰، ۱۴۳، ۲۱۷) (صحیح)

۱۵۹۶- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''صبر تو وہ ہے جو مصیبت کے اول وقت میں ہو''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی جب رنج و غم کی خبر پہنچے تو اسی وقت صبر کرے اور ''انا للہ وانا الیہ راجعون'' کہے، اور زیادہ رونا پیٹنا نہ کرے، اسی کا نام صبر ہے، اور یہی تعریف کے قابل ہے اس کا اجر ملے گا، لیکن اس وقت خوب روئے اور پیٹے اور بعد میں صبر کرے تو کچھ فائدہ نہیں ہے، رونے پیٹنے کے بعد تو سب کو صبر آجاتا ہے، اس حدیث کا قصہ دوسری روایت میں یوں مذکور ہے کہ ایک عورت قبر کے پاس رو رہی تھی، نبی کریم ﷺ اس پر سے گزرے تو فرمایا: ''صبر کرو'' وہ کہنے لگی چلو ہٹو تم کو میرا درد کیا معلوم ہے اس نے آپ ﷺ کو پہچانا نہیں، پھر لوگوں نے اس سے کہا کہ وہ تو نبی کریم ﷺ تھے، تب وہ دوڑ کر آپ کے پاس آئی، اس وقت آپ نے یہ حدیث فرمائی۔

1597- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ،حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عَجْلانَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: ابْنَ آدَمَ! إِنْ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الأُولَى، لَمْ أَرْضَ لَكَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۱۱، ومصباح الزجاجۃ: ۵۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۵۸) (حسن)
(شواہد کی بنا پر حسن ہے)
۱۵۹۷- ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے آدمی! اگر تم مصیبت پڑتے ہی صبر کرو، اور ثواب کی نیت رکھو، تو میں جنت سے کم ثواب پر تمہارے لئے راضی نہیں ہوں گا ''۱؎۔
وضاحت۱ ؎: صبر کا اسلام میں بڑا مقام ہے، اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت صبر کے بغیر نہیں ہو سکتی، اللہ تعالیٰ کے اوامر و احکام کو بجا لانا، اور نواہی و ممنوعات سے دور رہنا، اور اللہ کی جانب سے مقدر مصائب و مشکلات (جن کو اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزمانے کے لئے اتارا ہے) پر صبرکرنے کا نام عبادت ہے۔
شریعت میں صبر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی زبان سے شکوہ شکایت نہ کرے، اور دل کو اس کی نفرت و جلن سے روکے، اور اعضاء و جوارح کے ذریعہ سے اظہارِ غم پر قابو پائے۔
اوامر و نواہی پر صبر واجب ہے، اور مصائب پر بھی صبر واجب ہے، اس لئے کہ اس میں اللہ کی قضا و قدر پر ناراضگی و ناخوشی سے اجتناب اور دوری ہے، جب کہ مصائب و مشکلات پر راضی رہنا مستحب کام ہے، واجب اور ضروری نہیں، اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر جو اس کا فعل و فیصلہ ہے اس پر راضی ہونا اس کی حکمت پر راضی ہونا ہے، اللہ نے بندے کو جو عطا کر دیا ہے اس مقسوم پر راضی رہنا واجب ہے، اور قضا و قدر پر ناراض ہونا حرام اور کمالِ توحید کے منافی ہے۔
اللہ کے کئے ہوئے فیصلے یعنی مصائب و ابتلاءات پر راضی ہونا اسے قبول کر لینا مستحب ہے، بندہ پر یہ واجب نہیں ہے کہ وہ بیماری پر راضی و خوش ہو، یا اولاد کی موت پر راضی ہو، یا مال و دولت کے ضائع ہو جانے پر راضی ہو، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کا ایک خاص رتبہ ہے، اللہ کے نیک بندے اس پر بھی راضی رہتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ اللہ کے فیصلے اور قضا و قدر جو اللہ کے افعال ہیں اس پر راضی ہونا واجب ہے، اور اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کے نتیجہ میں جو ابتلاء و آزمائش، غم، بیماری، فقیری اور خوف کی صورت میں آتی ہیں، ان پر راضی ہونا مستحب ہے، واجب نہیں۔

1598- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُالْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَفْزَعُ إِلَى مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ، مِنْ قَوْلِهِ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ! عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي، فَأْجُرْنِي فِيهَا، وَعَوِّضْنِي مِنْهَا إِلا آجَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهَا، وَعَاضَهُ خَيْرًا مِنْهَا > قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ ذَكَرْتُ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقُلْتُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ! عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي هَذِهِ، فَأْجُرْنِي عَلَيْهَا، فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ: وَعِضْنِي خَيْرًا مِنْهَا، قُلْتُ: فِي نَفْسِي أُعَاضُ خَيْرًا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ؟ ثُمَّ قُلْتُهَا فَعَاضَنِي اللَّهُ مُحَمَّدً ا ﷺ،وَآجَرَنِي فِي مُصِيبَتِي۔
* تخريج: ت/الدعوات ۸۴ (۳۵۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۷) (صحیح)
(سند میں عبد الملک بن قدامہ ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے)
۱۵۹۸- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا: انہوں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: ''جس مسلمان کو کوئی مصیبت پیش آئے، تو وہ گھبرا کر اللہ کے فرمان کے مطابق یہ دعا پڑھے: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ! عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي، فَأْجُرْنِي فِيهَا، وَعَوِّضْنِي مِنْهَا (ہم اللہ ہی کی ملک ہیں اور اسی کی جانب لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! میں نے تجھی سے اپنی مصیبت کا ثواب طلب کیا، تو مجھے اس میں اجر دے، اور مجھے اس کا بدلہ دے) جب یہ دعا پڑھے گا تو اللہ تعالی اس کا اجر دے گا، اور اس سے بہتر اس کا بدلہ عنایت کرے گا''۔
ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب (میرے شوہر) ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، تو مجھے وہ حدیث یاد آئی، جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سن کر مجھ سے بیان کی تھی، چنانہ میں نے کہا: ''إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ! عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي هَذِهِ، فَأْجُرْنِي عَلَيْهَا'' اور جب ''وَعِضْنِي خَيْرًا مِنْهَا'' (مجھے اس سے بہتر بدلا دے) کہنے کا ارادہ کیا تو دل میں سوچا: کیا مجھے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر بدلہ دیا جا سکتا ہے؟، پھر میں نے یہ جملہ کہا، تو اللہ تعالی نے مجھے محمد ﷺ کو ان کے بدلہ میں دے دیا اور میری مصیبت کا بہترین اجر مجھے عنایت فرمایا۔


1599- حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السُّكَيْنِ، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَابًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ، أَوْ كَشَفَ سِتْرًا، فَإِذَا النَّاسُ يُصَلُّونَ وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ، فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا رَأَى مِنْ حُسْنِ حَالِهِمْ، رَجَاءَ أَنْ يَخْلُفَهُ اللَّهُ فِيهِمْ بِالَّذِي رَآهُمْ، فَقَالَ: < يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّمَا أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ، أَوْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ فَلْيَتَعَزَّ بِمُصِيبَتِهِ بِي، عَنِ الْمُصِيبَةِ الَّتِي تُصِيبُهُ بِغَيْرِي، فَإِنَّ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِي لَنْ يُصَابَ بِمُصِيبَةٍ بَعْدِي أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنْ مُصِيبَتِي >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۷۴، ومصباح الزجاجۃ: ۵۷۸) (صحیح)

(سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الصحیحہ : ۱۱۰۶)
۱۵۹۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (مرض الموت میں) ایک دروازہ کھولا جو آپ کے اور لوگوں کے درمیان تھا، یا پردہ ہٹایا تو دیکھا کہ لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صلاۃ پڑھ رہے ہیں، آپ ﷺ نے ان کو اچھی حالت میں دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا، اور امید کی کہ اللہ تعالی اس عمل کو ان کے درمیان آپ کے انتقال کے بعد بھی باقی رکھے گا، اور فرمایا: ''اے لوگو! لوگوں میں سے یا مومنوں میں سے جو کوئی کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے، تو وہ میری وفات کی مصیبت کو یاد کرکے صبر کرے، اس لئے کہ میری امت میں سے کسی کو میرے بعد ایسی مصیبت نہ ہو گی جو میری وفات کی مصیبت سے اس پر زیادہ سخت ہو''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس لئے کہ مومن وہی ہے جس کو نبی کریم ﷺ کی محبت اولاد اور والدین اور سارے رشتہ داروں سے زیادہ ہو، پس جب وہ نبی کریم ﷺ کی موت کو یاد کرے گا تو ہر طرح کے رشتہ داروں اور دوست و احباب کی موت اس کے سامنے بے حقیقت ہو گی۔

1600- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهَا قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < مَنْ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ، فَذَكَرَ مُصِيبَتَهُ، فَأَحْدَثَ اسْتِرْجَاعًا، وَإِنْ تَقَادَمَ عَهْدُهَا، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِنَ الأَجْرِ مِثْلَهُ يَوْمَ أُصِيبَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۱۴، ومصباح الزجاجۃ: ۵۷۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۰۱) (ضعیف جدا)
(سند میں ہشام بن زیاد متروک اور ان کی والدہ مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۴۵۵۱)
۱۶۰۰- حسین بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جسے کوئی مصیبت پیش آئی ہو، پھر وہ اسے یاد کرکے نئے سرے سے إنا لله وإنا إليه راجعون کہے، اگرچہ مصیبت کا زمانہ پرانا ہو گیا ہو، تو اللہ تعالی اس کے لئے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا اس دن لکھا تھا جس دن اس کو یہ مصیبت پیش آئی تھی''۱؎۔
وضاحت۱؎: مثلاً نبی کریم ﷺ کی وفات کی مصیبت یاد کرکے ہم اس وقت انا للہ وانا الیہ راجعون کہیں تو وہی ثواب ہم کو ملے گا جو صحابہ کو نبی کریم ﷺ کی وفات کے وقت ملا تھا، بعض لوگوں نے کہا کہ حدیث خاص ہے اس مصیبت سے جو خود اسی شخص پر گزر چکی ہو۔ واللہ اعلم۔
 
Top