65- بَاب ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ ﷺ
۶۵- باب: نبی اکرم ﷺ کی وفات اور تدفین کا بیان
1627- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: قَالَتْ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَ امْرَأَتِهِ، ابْنَةِ خَارِجَ بِالْعَوَالِي، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: لَمْ يَمُتِ النَّبِيُّ ﷺ،إِنَّمَا هُوَ بَعْضُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ عِنْدَ الْوَحْيِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ، وَقَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَقَالَ: أَنْتَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ أَنْ يُمِيتَكَ مَرَّتَيْنِ، قَدْ، وَاللَّهِ! مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَعُمَرُ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَلا يَمُوتُ حَتَّى يَقْطَعَ أَيْدِيَ أُنَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، كَثِيرٍ، وَأَرْجُلَهُمْ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَمْ يَمُتْ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ،{وَمَاْ مُحَمَّدٌ إِلا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ، أَفَإِنْ مَاْتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَىْ أَعْقَاْبِكُمْ، وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَىْ عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللهَ شَيْئًا، وَسَيَجْزِيْ اللهُ الشَّاْكِرِيْنَ }.
قَالَ عُمَرُ: فَلَكَأَنِّي لَمْ أَقْرَأْها إِلا يَوْمَئِذٍ۔
* تخريج: خ/الجنائز ۳ (۱۲۴۱)، المغازي ۸۳ (۴۴۵۲)، ن/الجنائز ۱۱ (۱۸۴۲)، (تحفۃ الأشراف: ۶۶۳۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۱۷) (صحیح) (البانی صاحب کہتے ہیں کہ وحی کے جملہ کے علاوہ حدیث صحیح ہے)
۱۶۲۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اکرم ﷺ کی وفات ہو گئی تو اس وقت ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے ساتھ جو کہ خارجہ کی بیٹی تھیں عوالی مدینہ میں تھے، لوگ کہنے لگے کہ نبی اکرم ﷺ کا انتقال نہیں ہوا بلکہ وحی کے وقت جو حال آپ کا ہوا کرتا تھا ویسے ہی ہو گیا ہے، آخر ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے، آپ کا چہرہ مبارک کھولا اور آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا، اور کہا: آپ اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ معزز و محترم ہیں کہ آپ کو دو بار موت دے۱؎، قسم اللہ کی! رسول اللہ ﷺ وفات پا چکے ہیں، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ مسجد کے ایک گوشہ میں یہ کہہ رہے تھے کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ مرے نہیں ہیں، اور نہ آپ مریں گے، یہاں تک کہ بہت سے منافقوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے، آخر ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، منبر پر چڑھے اور کہا: جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے، مرا نہیں، اور جو کوئی محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد وفات پا گئے، (پھر یہ آیت پڑھی) {وَمَاْ مُحَمَّدٌ إِلا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ، أَفَإِنْ مَاْتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَىْ أَعْقَاْبِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَىْ عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللهَ شَيْئًا، وَسَيَجْزِيْ اللهُ الشَّاْكِرِيْنَ} [سورة آل عمران: ۱۴۴] (محمد صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول آئے، اگر آپ کا انتقال ہو جائے یا قتل کر دئیے جائیں، تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے، اور جو پھر جائے گا وہ اللہ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اللہ شکر کرنے والوں کو بدلہ دے گا)۔
عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اس دن سے پہلے کبھی اس آیت کو میں نے پڑھا ہی نہیں تھا۔
وضاحت۱؎: یہ کہہ کر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کا رد کیا جو کہتے تھے کہ نبی کریم ﷺ پھر دنیا میں لوٹ کر آئیں گے، اور منافقوں کے ہاتھ پیر کاٹیں گے کیونکہ اگر ایسا ہو تو اس کے بعد پھر وفات ہو گی، اس طرح دو موتیں جمع ہو جائیں گی۔ اور بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اب آپ ﷺ کو کوئی تکلیف نہ ہو گی، ایک دنیا کی موت تھی جو ہر بشر کو لازم تھی وہ آپ کو بھی ہوئی نیز اس کے بعد پھر آپ کو راحت ہی راحت ہے۔ اور بعض نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ آپ کا نام اور آپ کا دین ہمیشہ قائم رہے گا، کبھی ختم ہونے والا نہیں، حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ میت کا بوسہ لینا جائز ہے، اور میت کو موت کے بعد ایک چادر سے ڈھانپ دینا چاہئے تاکہ لوگ اس کی صورت دیکھ کر گھبرائیں نہیں۔
1628- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِي ُّ، أَنْبَأَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَحْفِرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَعَثُوا إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَكَانَ يَضْرَحُ كَضَرِيحِ أَهْلِ مَكَّةَ، وَبَعَثُوا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ، وَكَانَ هُوَ الَّذِي يَحْفِرُ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَكَانَ يَلْحَدُ، فَبَعَثُوا إِلَيْهِمَا رَسُولَيْنِ، وَقَالُوا: اللَّهُمَّ! خِرْ لِرَسُولِكَ، فَوَجَدُوا أَبَاطَلْحَةَ. فَجِيئَ بِهِ، وَلَمْ يُوجَدْ أَبُو عُبَيْدَةَ، فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: فَلَمَّا فَرَغُوا مِنْ جِهَازِهِ يَوْمَ الثُّلاثَاءِ، وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ دَخَلَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَرْسَالا، يُصَلُّونَ عَلَيْهِ، حَتَّى إِذَا فَرَغُوا أَدْخَلُوا النِّسَاءَ، حَتَّى إِذَا فَرَغُوا أَدْخَلُوا الصِّبْيَانَ، وَلَمْ يَؤُمَّ النَّاسَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَحَدٌ، لَقَدِ اخْتَلَفَ الْمُسْلِمُونَ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يُحْفَرُ لَهُ، فَقَالَ قَائِلُونَ: يُدْفَنُ فِي مَسْجِدِهِ، وَقَالَ قَائِلُونَ: يُدْفَنُ مَعَ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ أَبُوبَكْرٍ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَا قُبِضَ نَبِيٌّ إِلا دُفِنَ حَيْثُ يُقْبَضُ >، قَالَ: فَرَفَعُوا فِرَاشَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ الَّذِي تُوُفِّيَ عَلَيْهِ، فَحَفَرُوا لَهُ، ثُمَّ دُفِنَ ﷺ وَسَطَ اللَّيْلِ مِنْ لَيْلَةِ الأَرْبِعَاءِ، وَنَزَلَ فِي حُفْرَتِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَالْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَقُثَمُ أَخُوهُ وَشُقْرَانُ مَوْلَى رَسُولِ للَّهِ ﷺ، وَقَالَ أَوْسُ بْنُ خَوْلِيٍّ، وَهُوَ أَبُو لَيْلَى، لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ وَحَظَّنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، قَالَ لَهُ عَلِيٌّ: انْزِلْ، وَكَانَ شُقْرَانُ، مَوْلاهُ، أَخَذَ قَطِيفَةً كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَلْبَسُهَا، فَدَفَنَهَا فِي الْقَبْرِ وَقَالَ: وَاللَّهِ! لا يَلْبَسُهَا أَحَدٌ بَعْدَكَ أَبَدًا، فَدُفِنَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۰۲۲، ومصباح الزجاجۃ: ۵۹۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۸، ۲۶۰، ۲۹۲) (ضعیف) (سند میں حسین بن عبد اللہ متروک ہے، لیکن شقاق اور لاحد کا قصہ ثابت ہے، اور ایسے ہی
''مَا قُبِضَ نَبِيٌّ إِلا دُفِنَ حَيْثُ يُقْبَضُ'' کا لفظ ثابت ہے، نیز ملاحظہ ہو: احکام الجنائز: ۱۳۷- ۱۳۸)
۱۶۲۸- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ ﷺ کے لئے قبر کھودنے کا ارادہ کیا، تو ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بلوا بھیجا، وہ مکہ والوں کی طرح صندوقی قبر کھودتے تھے، ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو بھی بلوا بھیجا، وہ مدینہ والوں کی طرح بغلی قبر کھودتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دونوں کے پاس قاصد بھیج دئیے اور دعا کی کہ اے اللہ! تو اپنے رسول کے لئے بہتر اختیار فرما، بالآخر ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ملے، اور ان کولایا لایا گیا، ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نہیں ملے، لہٰذا نبی اکرم ﷺ کے لئے بغلی قبر کھو دی گئی، عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب لوگ منگل کے دن آپ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو گئے، تو آپ اپنے گھر میں تخت پر رکھے گئے، اور لوگوں نے جماعت در جماعت اندر آنا شروع کیا، لوگ صلاۃ جنازہ پڑھتے جاتے تھے، جب سب مرد فارغ ہو گئے، تو عورتیں جانے لگیں جب عورتیں بھی فارغ ہو گئیں، تو بچے جانے لگے، اور آپ کے جنازے کی کسی نے امامت نہیں کی۔
پھر لوگوں نے اختلاف کیا کہ آپ کی قبر کہاں کھودی جا ئے، بعض نے کہا کہ آپ کو مسجد میں دفن کیا جائے، بعض نے کہا کہ آپ کو آپ کے ساتھیوں کے پاس مقبرہ بقیع میں دفن کیا جائے، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فر ماتے سنا ہے: ''جس نبی کا بھی انتقال ہوا اسے وہیں دفن کیا گیا جہاں پہ اس کا انتقال ہوا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ حدیث سن کر آپ ﷺ کا بستر اٹھایا جس پر آپ کا انتقال ہوا تھا، لوگوں نے آپ کے لئے قبر کھودی، پھر آپ کو بدھ کی آدھی رات میں دفن کیا گیا، آپ کی قبر میں علی بن ابی طالب، فضل بن عباس، ان کے بھائی قثم بن عباس، اور رسول اللہ ﷺ کے غلام شقران رضی اللہ عنہم اترے۔
ابولیلیٰ اوس بن خولہ رضی اللہ عنہ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم اور اپنی اس صحبت کی قسم دیتا ہوں جو ہم کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاصل ہے، (مجھ کو بھی قبر میں اترنے دیں) تو علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اتر جاؤ، اور شقران جو آپ کے غلام تھے، نے ایک چادر لی جس کو آپ اوڑھا کرتے تھے، اسے بھی آپ کے ساتھ قبر میں دفن کر دیا اور کہا: قسم اللہ کی!، اس چادر کو آپ کے بعد کوئی نہ اوڑھے، چنانچہ اسے بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔
1629- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ أَبُو الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ كَرْبِ الْمَوْتِ مَا وَجَدَ، قَالَتْ فَاطِمَةُ: وَا كَرْبَ أَبَتَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا كَرْبَ عَلَى أَبِيكِ بَعْدَ الْيَوْمِ، إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ مِنْ أَبِيكِ مَا لَيْسَ بِتَارِكٍ مِنْهُ أَحَدًا، الْمُوَافَاةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۰، ومصباح الزجاجۃ: ۵۹۲)، وقد أخرجہ: خ/المغازي ۸۳ (۴۴۴۸)، حم (۳/۱۴۱) (حسن صحیح) (سند میں عبد اللہ بن الزبیر مقبول ہیں، اور مسند احمد میں مبارک بن فضالہ نے ان کی متابعت کی ہے، اصل حدیث صحیح البخاری میں ہے، صحیح البخاری میں :
''إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ...'' کا جملہ نہیں ہے، نیز ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۱۷۳۸)
۱۶۲۹- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے موت کی سختی محسوس کی تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ہائے میرے والد کی سخت تکلیف۱؎، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''آج کے بعد تیرے والد پر کبھی سختی نہ ہو گی، اور تیرے والد پر وہ وقت آیا ہے جو سب پر آنے والا ہے، اب قیامت کے دن ملاقات ہو گی ''۲؎۔
وضاحت۱؎: فاطمہ رضی اللہ عنہا کے یہ الفاظ نوحہ میں داخل نہیں ہیں کیونکہ یہ الفاظ اس وقت کے ہیں جب آپ ابھی زندہ تھے، اور جان کنی کے عالم میں تھے جیسا کہ اس سے پہلے کی روایت سے ظاہر ہے، اور بعض لوگوں نے کہا کہ میت میں جو خوبیاں فی الواقع موجود رہی ہوں ان کو بیان کرنا نوحہ نہیں ہے، بلکہ نوحہ میت میں ایسی خوبیاں ذکر کرنے کا نام ہے جو اس میں نہ رہی ہوں۔
وضاحت۲؎: حالانکہ ملاقات مرنے کے بعد ہی عالم برزخ میں ہو جاتی ہے جیسا کہ دوسری حدیثوں سے ثابت ہے، پھر اس کا کیا مطلب ہو گا؟ یہاں یہ اشکال ہوتا ہے، اور ممکن ہے کہ ملاقات سے دنیا کی طرح ہر وقت کی یکجائی اور سکونت مراد ہو اور یہ قیامت کے بعد ہی جنت میں ہو گی جیسے دوسری روایت میں ہے کہ ایک بار نبی کریم ﷺ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مکان میں تشریف لے گئے، علی رضی اللہ عنہ کو سوتا پایا، ارشاد ہوا کہ یہ سونے والا، اور میں اور تو جنت میں ایک مکان میں ہوں گے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علی رضی اللہ عنہ کا درجہ آخرت میں بہت بلند ہو گا کیونکہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک مکان میں رہیں گے، اور ظاہر ہے نبی کریم ﷺ کا مقام جنت الفردوس میں سب سے بلند ہو گا، واللہ اعلم۔
1630- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَتْ لِي فَاطِمَةُ: يَا أَنَسُ! كَيْفَ سَخَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا التُّرَابَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ؟.
وَحَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ فَاطِمَةَ قَالَتْ حِينَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: وَا أَبَتَاهُ، إِلَى جِبْرَائِيلَ أَنْعَاهُ، وَا أَبَتَاهُ، مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ، وَا أَبَتَاهُ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ، وَا أَبَتَاهُ، أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ، قَالَ حَمَّادٌ: فَرَأَيْتُ ثَابِتًا، حِينَ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، بَكَى حَتَّى رَأَيْتُ أَضْلاعَهُ تَخْتَلِفُ۔
* تخريج: خ/المغازي ۸۳ (۴۴۴۸)، (تحفۃ الأشراف: ۳۰۲)، وقد أخرجہ: دي/المقدمۃ ۱۴ (۸۸) (صحیح)
۱۶۳۰- انس بن ما لک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے انس! تمہارے دل کو کیسے گوارا ہوا کہ تم رسول اللہ ﷺ پر مٹی ڈالو؟۔
انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوئی، تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہائے میرے والد، میں جبرئیل کو ان کے مرنے کی خبر دیتی ہوں، ہائے میرے والد، اپنے رب کے کتنے نزدیک ہو گئے، ہائے میرے والد، جنت الفردوس میں ان کا ٹھکانہ ہے، ہائے میرے والد، اپنے رب کا بلانا قبول کیا۔
حماد نے کہا: میں نے ثابت کو دیکھا کہ اس حدیث کو بیان کر نے کے بعد روئے یہاں تک کہ ان کی پسلیاں اوپر نیچے ہونے لگیں۔
وضاحت۱؎: نبی اکرم ﷺ کی وفات کے چھ ماہ بعد آپ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال آپ کی پیش گوئی کے مطابق ہو گیا، اور چہیتی بیٹی اپنے باپ سے جا ملیں، اب کوئی یہ نہ سمجھے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جو یہ کلمات سخت رنج کی حالت میں فرمائے یہ نیاحت میں داخل ہیں جب کہ وہ منع ہے واضح رہے کہ نیاحت وہ ہے جو چلا کر بلند آواز سے ہو، نہ وہ جو آہستہ سے کہا جائے، اور اگر یہ نیاحت ہوتی تو فاطمہ رضی اللہ عنہا اسے ہر گز نہ کرتیں۔
1631- حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ، أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْئٍ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْئٍ، وَمَا نَفَضْنَا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ الأَيْدِيَ حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا۔
* تخريج: ت/المناقب ۱ (۳۶۱۸)، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۸)، وقد أخرجہ: دي/المقدمۃ ۱۴ (۸۹) (صحیح)
۱۶۳۱- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ ﷺ مدینہ میں داخل ہوئے اس دن مدینہ کی ہر چیز روشن ہو گئی، اور جس وقت آپ کا انتقال ہوا ہر چیز پر اندھیرا چھا گیا، اور ہم لوگوں نے ابھی آپ کے کفن دفن سے ہاتھ بھی نہیں جھاڑا تھا کہ ہم نے اپنے دلوں کو بدلہ ہوا پایا۔
1632- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا نَتَّقِي الْكَلامَ وَالانْبِسَاطَ إِلَى نِسَائِنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مَخَافَةَ أَنْ يُنْزَلَ فِينَا الْقُرْآنُ فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ تَكَلَّمْنَا۔
* تخريج: خ/النکاح ۸۰ (۵۱۸۷)، (تحفۃ الأشراف: ۷۱۵۶) (صحیح)
۱۶۳۲- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اپنی عورتوں سے باتیں کرنے اور ان سے بہت زیادہ بے تکلف ہونے سے پرہیز کرتے تھے کہ ہمارے سلسلے میں کہیں قرآن نہ اتر جائے، جب رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوا تو ہم باتیں کرنے لگے۔
1633- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ بْنُ عَطَائٍ الْعِجْلِيُّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ؛ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَإِنَّمَا وَجْهُنَا وَاحِدٌ، فَلَمَّا قُبِضَ نَظَرْنَا هَكَذَا وَهَكَذَا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱، ومصباح الزجاجۃ: ۵۹۳) (ضعیف) (اس کی سند میں حسن بصری مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، نیز اس سند مین حسن بصری اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے)
۱۶۳۳- ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، تو ہم سب ایک رخ تھے، لیکن جب آپ کا انتقال ہو گیا تو پھر ہم ادھر ادھر دیکھنے لگے۔
1634- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ،أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، إِذَا قَامَ الْمُصَلِّي يُصَلِّي لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِهِمْ مَوْضِعَ قَدَمَيْهِ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَكَانَ النَّاسُ إِذَا قَامَ أَحَدُهُمْ يُصَلِّي لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِهِمْ مَوْضِعَ جَبِينِهِ، فَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ عُمَرُ، فَكَانَ النَّاسُ إِذَا قَامَ أَحَدُهُمْ يُصَلِّي لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِهِمْ مَوْضِعَ الْقِبْلَةِ، وَكَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَكَانَتِ الْفِتْنَةُ، فَتَلَفَّتَ النَّاسُ يَمِينًا وَشِمَالا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۱۳، ومصباح الزجاجۃ: ۵۹۴) (ضعیف) (اس کی سند میں موسیٰ بن عبد اللہ مجہول ہیں)
۱۶۳۴- ام المومنین ام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں لوگوں کا حال یہ تھا کہ جب مصلّی صلاۃ پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ اس کے قدموں کی جگہ سے آگے نہ بڑھتی، پھر جب رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی، تو لوگوں کا حال یہ ہوا کہ جب کوئی ان میں سے صلاۃ پڑھتا تو اس کی نگاہ پیشانی رکھنے کے مقا م سے آگے نہ بڑھتی، پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو لوگوں کا حال یہ تھا کہ ان میں سے کوئی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ قبلہ کے سوا کسی اور طرف نہ جاتی تھی، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور مسلمانوں میں فتنہ برپا ہوا تو لوگوں نے دائیں بائیں مڑنا شروع کر دیا۔
1635- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلالُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ؛ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ، بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ لِعُمَرَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ نَزُورُهَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَزُورُهَا، قَالَ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ، فَقَالا لَهَا: مَا يُبْكِيكِ؟ فَمَا عِنْدَاللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ، قَالَتْ: إِنِّي لأَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَاللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ، وَلَكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ، قَالَ، فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ، فَجَعَلا يَبْكِيَانِ مَعَهَا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۰۲، ومصباح الزجاجۃ: ۵۹۵) (صحیح)
۱۶۳۵- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو بکررضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: چلئے، ہم ام ایمن (برکہ) رضی اللہ عنہا سے ملنے چلیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ ان سے ملنے جا یا کرتے تھے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم ام ایمن رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے، تو وہ رونے لگیں، ان دونوں نے ان سے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہی ہیں؟ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسول کے لئے بہتر ہے، انہوں نے کہا: میں جا نتی ہوں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس کے رسول کے لئے بہتر ہے، لیکن میں اس لئے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی کا سلسلہ بند ہو گیا، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: تو ام ایمن رضی اللہ عنہا نے ان دونوں کو بھی رلا دیا، وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں نبی کریم ﷺ کے طرز عمل سے ذرہ برابر بھی انحراف کرنا گوارا نہ کیا یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ جن لوگوں سے ملنے جاتے ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی ان سے ملنے گئے، پس ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت گویا زمانہ نبوت کی تصویر تھی اور یہی وجہ تھی کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فدک اور بنو نضیر وغیرہ سے حاصل مال کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طلب پر ان کے حوالہ نہیں کیا بلکہ جس طرح نبی کریم ﷺ ان اموال کو خرچ کرتے تھے اسی طرح خرچ کرتے رہے، اور ذرہ برابر آپ ﷺ کے طریقِ کار کو بدلنا گوارا نہ کیا، اصل بات یہ ہے، نہ وہ جو شیعہ بکتے پھرتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے -معاذ اللہ- طمع و لالچ سے ایسا کیا، اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تکلیف پہنچائی، یہ سب لغو اور بیہودہ الزام ہے، ابو بکر رضی اللہ عنہ دنیا کی ایک بڑی حکومت کے سربراہ تھے، خود انہوں نے نبی کریم ﷺ پر اپنا سارا مال نچھاور کر دیا، اور آپ کی محبت میں جان کو خطرے میں ڈالنے سے بھی دریغ نہ کیا، کیا ایسے شخص کے بارے میں یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ وہ کھجور کے چند درختوں کو ناحق لے لے گا اور نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی کو ناراض کرے گا؟۔
1636- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلاةِ فِيهِ، فَإِنَّ صَلاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ تُعْرَضُ صَلاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ؟ يَعْنِي بَلِيتَ، قَالَ: < إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الأَنْبِيَاءِ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۰۷ (۱۰۴۷)، ۳۶۱ (۱۵۳۱)، ن/الجمعۃ ۵ (۱۳۷۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۶)، وقد أخرجہ: حم ( ۴/۸)، دي/الصلاۃ ۲۰۶ (۱۶۱۳) (صحیح)
۱۶۳۶- اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تمہا رے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا ہوئے، اسی دن صور پھونکا جائے گا، اور اسی دن لوگ بیہوش ہوں گے، لہٰذا اس دن کثرت سے میرے اوپر درود (صلاۃ و سلام) بھیجا کرو، اس لئے کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے، تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا؟ جب کہ آپ بوسیدہ ہو چکے ہوں گے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اگرچہ مرنے کے بعد روح سب کی قائم رہتی ہے اور روح سب باتوں کو دیکھ اور سن سکتی ہے، لیکن انبیاء و رسل علیہم الصلاۃ والسلام میں اوروں کی بہ نسبت ایک خصوصیت یہ ہے کہ ان کا جسم محفوظ رہتا ہے، گلتا اور سڑتا نہیں، اور رسول اسی دنیاوی جسم کے ساتھ اپنی قبروں میں برزخی زندگی کے ساتھ زندہ ہیں، دوسری حدیث میں ہے کہ جب کوئی میری قبر کے پاس مجھ پر صلاۃ (درود) بھیجے گا تومیں خود سن لوں گا اور جو دور سے بھیجے گا تو فرشتے مجھ کو پہنچا دیں گے، ان حدیثوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی قبر شریف میں برزخی زندگی کے ساتھ زندہ ہیں، اور قبر کے پاس پڑھے جانے والے درود اور سلام کو خود سنتے ہیں، اس پر تمام ائمہ اہل حدیث کا اتفاق ہے۔
1637- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <أَكْثِرُوا الصَّلاةَ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَإِنَّهُ مَشْهُودٌ تَشْهَدُهُ الْمَلائِكَةُ، وَإِنَّ أَحَدًا لَنْ يُصَلِّيَ عَلَيَّ إِلا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلاتُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا>، قَالَ قُلْتُ: وَبَعْدَ الْمَوْتِ؟ قَالَ: < وَبَعْدَ الْمَوْتِ، إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الأَنْبِيَاءِ، فَنَبِيُّ اللَّهِ حَيٌّ يُرْزَقُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۴۷، ومصباح الزجاجۃ: ۵۹۶) (حسن)
(سند میں زید بن ایمن اور عبادہ کے درمیان نیز عبادہ اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن اکثر متن حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۱/ ۳۵، تراجع الألبانی: رقم: ۵۶۰)
۱۶۳۷- ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم لو گ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو، اس لئے کہ جمعہ کے دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو کوئی مجھ پر درود بھیجے گا اس کا درود مجھ پر اس کے فارغ ہوتے ہی پیش کیا جائے گا، میں نے عرض کیا: کیا مرنے کے بعد بھی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں، مرنے کے بعد بھی، بیشک اللہ تعالی نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے، اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی جنت کے کھانے ان کو کھلائے جاتے ہیں جو روحانی ہیں، یہاں زندگی سے دنیوی زندگی مراد نہیں ہے ۔ اس لئے کہ دنیاوی زندگی قبر کے اندر قائم نہیں رہ سکتی، یہ برزخی زندگی ہے جس میں اور دنیاوی زندگی میں فرق ہے، مگر ہر حال میں نبی کریم ﷺ اپنی قبر شریف کے پاس درود و سلام سنتے ہیں، بلکہ یہ برزخی زندگی بہت باتوں میں دنیاوی زندگی سے زیادہ قوی اور بہتر ہے، صلی اللہ علیہ وسلم وآلہ واصحابہ وبارک وسلم تسلیما کثیراً۔
* * *