• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
56- بَاب مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ عَزَّى مُصَابًا
۵۶- باب: غم زدہ کی تعزیت کرنے والے کا ثواب​

1601 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ أَبُوعُمَارَةَ، مَوْلَى الأَنْصَارِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: < مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُعَزِّي أَخَاهُ بِمُصِيبَةٍ إِلا كَسَاهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ مِنْ حُلَلِ الْكَرَامَةِ يَوْمَ الْقِيامَةِ >۔* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۷۲۸، ومصباح الزجاجۃ: ۵۸۰) (حسن) (ابو عمارہ قیس میں کلام ہے، اور عبد اللہ بن أبی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم عن أبیہ عن جدہ میں جد (دادا) محمد بن عمرو بن حزم ہیں، جن کو رویت حاصل ہے، لیکن صرف صحابہ کرام سے ہی سماع ہے، رسول اکرم ﷺ سے سماع نہیں ہے، لیکن انس رضی اللہ عنہ کے شاہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ۷۶۴، والصحیحہ: ۱۹۵، تراجع الألبانی: رقم: ۵۵)
۱۶۰۱- محمد بن عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جو کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو کسی مصیبت میں تسلی دے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عزت کا جوڑا پہنائے گا''۔

1602 - حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ عَزَّى مُصَابًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ >۔
* تخريج: ت/الجنائز ۷۲ (۱۰۷۳)،( تحفۃ الأشراف: ۹۱۶۶) (ضعیف)
(سند میں علی بن عاصم ضعیف ہے، ابن الجوزی نے اس حدیث کو الموضوعات میں داخل کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ۷۶۵)
۱۶۰۲- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو کسی مصیبت زدہ کو تسلی دے، تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا (جتنا مصیبت زدہ کو ملے گا)''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
57- بَاب مَا جَاءَ فِي ثَوَابِ مَنْ أُصِيبَ بِوَلَدِهِ
۵۷- باب: جس کا بچہ مر جائے اس کے ثواب کا بیان​

1603- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِبْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < لا يَمُوتُ لِرَجُلٍ ثَلاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَيَلِجَ النَّارَ إِلا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ >۔
* تخريج: خ/الجنائز ۶ (۱۲۵۱)، الأیمان والنذور۹ (۶۶۵۶)، م/البروالصلۃ ۴۷ (۲۶۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۱۳۳)، وقد أخرجہ: ت/الجنائز ۶۴ (۱۰۶۰)، ن/الجنائز ۲۵ (۱۸۷۶)، ط/الجنائز ۱۳ (۳۸)، حم (۲/۲۴۰، ۲۷۶، ۴۷۳، ۴۷۹) (صحیح)

۱۶۰۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص کے تین بچے انتقال کر جائیں، وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا مگر قسم پوری کرنے کے لئے‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اس وعدہ کو پورا کرنے کے لئے جو اللہ تعالی نے اس آیت میں کیا ہے، {وَإِن مِّنكُمْ إِلا وَارِدُهَا} (سورة مريم: ۷۱) یعنی کوئی تم میں سے ایسا نہیں ہے جس کا گزر جہنم سے نہ ہو، اور یہ وعدہ تب ہے کہ وہ ان بچوں کی موت پر صبر کرے۔

1604- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ ُثْمَانَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ شُفْعَةَ قَالَ: لَقِيَنِي عُتْبَةُ بْنُ عَبْدٍالسُّلَمِيُّ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ لَهُ ثَلاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ، لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، إِلا تَلَقَّوْهُ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ، مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۵۴، ومصباح الزجاجۃ: ۵۸۱)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۸۳، ۱۸۴) (حسن)
(لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، شرحبیل بن شفعہ مجہول ہیں)
۱۶۰۴- عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ’’جس مسلمان کے تین بچے (بلوغت سے پہلے) مر جائیں، تو وہ اس کو جنت کے آٹھوں دروازوں سے استقبال کریں گے، جس میں سے چاہے وہ داخل ہو‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی باپ کو اختیار ہو گا کہ جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس دروازہ سے چاہے اندر جائے، اس کے چھوٹے بچے جو بچپن میں مر گئے تھے اس کو اندر لے جائیں گے، اور اس دروازہ پر اپنے باپ سے ملیں گے، سبحان اللہ اولاد کا مرنا بھی مومن کے لئے کم نعمت نہیں ہے بلکہ اگر سچ پوچھو تو زندہ رہنے سے بہتر ہے، اس لئے کہ جوان ہو کر اعتبار نہیں کہ نیک، لائق یا بد اور نالائق ہوتے ہیں، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے بچے جنتی ہیں، نووی کہتے ہیں کہ معتبر اہل اسلام نے اس پر اجماع کیا ہے، اور بعض نے اس کے بارے میں توقف کیا ہے۔

1605 - حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يُتَوَفَّى لَهُمَا ثَلاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، إِلا أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَةِ اللَّهِ إِيَّاهُمْ >۔
* تخريج:خ/الجنائز ۶ (۱۲۴۸)، ۹۱ (۱۳۸۱)، ن/الجنائز ۲۵ (۱۸۷۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۶)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۵۲) (صحیح)

۱۶۰۵- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جس مسلمان مرد و عورت کے تین بچے (بلوغت سے پہلے) مر جائیں، تو اللہ تعالی ایسے والدین اور بچوں کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا‘‘۔

1606- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَميُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ قَدَّمَ ثَلاثَةً مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ كَانُوا لَهُ حِصْنًا حَصِينًا مِنَ النَّارِ>، فَقَالَ أَبُوذَرٍّ: قَدَّمْتُ اثْنَيْنِ، قَالَ: < وَاثْنَيْنِ > فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، سَيِّدُ الْقُرَّاءِ: قَدَّمْتُ وَاحِدًا قَالَ: < وَوَاحِدًا >۔
* تخريج: ت/الجنائز ۶۵ (۱۰۶۱)، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۷۵، ۴۲۹، ۴۵۱) (ضعیف)
(سند میں ابو محمد مجہول ہیں)
۱۶۰۶- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص نے تین نابالغ بچے آگے بھیجے، تو وہ اس کے لئے جہنم سے بچاؤ کا مضبوط قلعہ ہوں گے‘‘ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے دو بچے آگے بھیجے ہیں، آپ نے فرمایا: ’’اور دو بھی‘‘ ، پھر قاریوں کے سردار ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تو ایک ہی آگے بھیجا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اور ایک بھی‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
58- بَاب مَا جَاءَ فِيمَنْ أُصِيبَ بِسِقْطٍ
۵۸- باب: حمل ساقط ہو جانے والی عورت کا ثواب​

1607- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ، عَنْ يَزِيدَ ابْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ <لَسِقْطٌ أُقَدِّمُهُ بَيْنَ يَدَيَّ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ فَارِسٍ أُخَلِّفُهُ خَلْفِي >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۳۱، ومصباح الزجاجۃ: ۵۸۲) (ضعیف)
(یزید بن رومان کا سماع ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، اور یزید بن عبد الملک ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۴۳۰۷)
۱۶۰۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ناتمام بچہ۱؎ جسے میں آگے بھیجوں، میرے نزدیک اس سوار سے زیادہ محبوب ہے جسے میں پیچھے چھوڑ جاؤں''۔
وضاحت۱؎: عربی میں سقط اس ادھورے اور ناقص بچے کو کہتے ہیں جو مدت حمل تمام ہونے سے پہلے پیدا ہو اور اس کے اعضاء پورے نہ بنے ہوں، اکثر ایسا بچہ پیدا ہو کر اسی وقت یا دو تین دن کے بعد مر جاتا ہے۔

1608- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَبُو بَكْرٍ الْبَكَّائِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُوغَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْدَلٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهَا، عَنْ عَلِيٍّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ السِّقْطَ لَيُرَاغِمُ رَبَّهُ إِذَا أَدْخَلَ أَبَوَيْهِ النَّارَ، فَيُقَالُ: أَيُّهَا السِّقْطُ الْمُرَاغِمُ رَبَّهُ أَدْخِلْ أَبَوَيْكَ الْجَنَّةَ فَيَجُرُّهُمَا بِسَرَرِهِ حَتَّى يُدْخِلَهُمَا الْجَنَّةَ >۔
قَالَ أبُوْ عَلِي: يُرَاغِمُ رَبَّه، يُغَاضِبُ.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۳۲، ومصباح الزجاجۃ: ۵۸۳) (ضعیف)
(اس کی سند میں مندل بن علی ضعیف ہیں)
۱۶۰۸- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ساقط بچہ اپنے رب سے جھگڑا ۱؎ کرے گا، جب وہ اس کے والدین کو جہنم میں ڈالے گا، تو کہا جائے گا: رب سے جھگڑنے والے ساقط بچے! اپنے والدین کو جنت میں داخل کر، وہ ان دونوں کو اپنی ناف سے کھینچے گا یہاں تک کہ جنت میں لے جائے گا''۱؎ ۔
ابو علی کہتے ہیں: ''يُرَاغِمُ رَبَّه'' کے معنی (یغاضب) یعنی اپنے رب سے جھگڑا کرنے کے ہیں۔
وضاحت۱؎: جھگڑا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے باصرار سفارش کرے گا، اور اپنے والدین کو بخشوانے کی جی جان سے کوشش کرے گا یہاں تک کہ اس کی سفارش قبول کی جائے گی۔

1609- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! إِنَّ السِّقْطَ لَيَجُرُّ أُمَّهُ بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ، إِذَا احتَسَبَتْهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۳۰، ومصباح الزجاجۃ: ۵۸۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۴۱) (صحیح)
(لیکن شاہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند میں یحییٰ بن عبید اللہ بن موھب ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ۵۹۷)
۱۶۰۹- معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ساقط بچہ اپنی ماں کو اپنی ناف سے جنت میں کھینچے گا جب کہ وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
59- بَاب مَا جَاءَ فِي الطَّعَامِ يُبْعَثُ إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ
۵۹- باب: میت کے گھر والوں کے یہاں کھانا بھیجنے کا بیان​

1610- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ ابْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < اصْنَعُوا لآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا، فَقَدْ أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ، أَوْ أَمْرٌ يَشْغَلُهُمْ >۔
* تخريج: د/الجنائز۲۶ (۳۱۳۲)، ت/الجنائز ۲۱ (۹۹۸)، (تحفۃ الأشراف: ۵۲۱۷) (حسن)

۱۶۱۰- عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جعفر کی موت کی جب خبر آئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جعفر کے گھر والوں کے لئے کھانا تیار کرو، اس لئے کہ ان کے پاس ایسی خبر آئی ہے جس نے ان کو مشغول کر دیا ہے، یا ان کے پاس ایسا معاملہ آپڑا ہے جو ان کو مشغول کئے ہوئے ہے''۔

1611- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُاللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أُمِّ عِيسَى الْجَزَّارِ قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَوْنٍ ابْنَةُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ جَدَّتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: لَمَّا أُصِيبَ جَعْفَرٌ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِلَى أَهْلِهِ فَقَالَ: < إِنَّ آلَ جَعْفَرٍ قَدْ شُغِلُوا بِشَأْنِ مَيِّتِهِمْ، فَاصْنَعُوا لَهُمْ طَعَامًا >.
قَالَ عَبْدُاللَّهِ: فَمَا زَالَتْ سُنَّةً، حَتَّى كَانَ حَدِيثًا فَتُرِكَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۶،ومصباح الزجاجۃ: ۵۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۷۰)(حسن)
(سند میں ام عیسیٰ اور ام عون مجہول ہیں، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے)
۱۶۱۱- اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب جعفر رضی اللہ عنہ قتل کر دئیے گئے، تو رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں کے پاس آئے، اور فرمایا: ''جعفر کے گھر والے اپنی میت کے مسئلہ میں مشغول ہیں، لہٰذا تم لوگ ان کے لئے کھانا بناؤ''۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ طریقہ برابر چلا آ رہا تھا یہاں تک کہ اس میں بدعت آ داخل ہوئی، تو اسے چھوڑ دیا گیا۱؎۔

وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ میت والوں کو کھانا بھیجنا پہلے سنت تھا پھر لوگوں نے اس میں فخر و مباہات کے جذبہ سے تکلف شروع کیا اور بلا ضرورت انواع و اقسام کے کھانے پکا کر بھیجنے لگے، دوسرے یہ کہ میت والوں کے پاس ساری برادری اور کنبے والوں نے جمع ہونا شروع کیا، اور کھانا بھیجنے والوں کو ان سب لوگوں کے موافق کھانا بھیجنا پڑا۔ اس لئے یہ امر بدعت سمجھ کر ترک کر دیا گیا، چنانچہ امام احمد اور ابن ماجہ نے باسناد صحیح جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم میت والوں کے پاس جمع ہونا، اور میت کے دفن کے بعد کھانا بھیجنا دونوں کو نوحہ میں شمار کرتے تھے، اس پر بھی صحابی یا تابعی کا قول حدیث مرفوع کے مقابل نہیں ہو سکتا، اور محدثین نے میت والوں کے پاس کھانا بھیجنا مستحب رکھا ہے۔ واللہ اعلم۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
60- بَاب مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنِ الاجْتِمَاعِ إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ وَصَنْعَةِ الطَّعَامِ
۶۰- باب: میت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونا اور کھانا تیار کرنا منع ہے​

1612 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، (ح) وحَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، أَبُوالْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ الْبَجَلِيِّ قَالَ: كُنَّا نَرَى الاجْتِمَاعَ إِلَى أَهْلِ الْمَيِّتِ، وَصَنْعَةَ الطَّعَامِ مِنَ النِّيَاحَةِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۳۰، ومصباح الزجاجۃ: ۵۸۶)، حم (۲/۲۰۴) (صحیح)

۱۶۱۲- جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم میت کے گھر والوں کے پاس جمع ہونے اور ان کے لئے ان کے گھر کھانا تیار کرنے کو نوحہ سمجھتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
1613- حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنْذِرِالْهُذَيْلُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَوْتُ غُرْبَةٍ شَهَادَةٌ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۴۷، ومصباح الزجاجۃ: ۵۸۷) (ضعیف)

( ہذیل بن الحکم منکر الحدیث ہیں)
۱۶۱۳- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''پردیسی کی موت شہادت ہے''۔

1614- حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ مِمَّنْ وُلِدَ بِالْمَدِينَةِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ ﷺ فَقَالَ: < يَا لَيْتَهُ مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ > فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّاسِ: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: < إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ >۔
* تخريج: ن/الجنائز ۸ (۱۸۳۳)، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۵۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۷۷) (حسن)

(سند میں حُيَيُّ بن عبد اللہ المعافری ضعیف ہیں، اور ان کی احادیث منکر ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے)
۱۶۱۴- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مدینہ ہی میں پیدا ہونے والے ایک شخص کا مدینہ میں انتقال ہو گیا، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کی صلاۃ جنازہ پڑھائی اور فرمایا: ''کاش کہ اپنی جائے پیدائش کے علاوہ سرزمین میں انتقال کیا ہوتا''، ایک شخص نے پوچھا: کیوں اے اللہ کے رسول؟ تو آپ ﷺنے فرمایا: ''جب آدمی کا انتقال اپنی جائے پیدائش کے علاوہ مقام میں ہوتا ہے، تو اس کی پیدائش کے مقام سے لے کر موت کے مقام تک جنت میں اس کو جگہ دی جاتی ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جنت میں ادنی جنتی کو اس دنیا کے برابر جگہ ملے گی جیسے دوسری حدیث میں وارد ہے پھر اس حدیث کا مطلب کیا ہو گا۔ بعض نے کہا: یہاں جنت سے مراد قبر ہے، اس کی قبر میں اتنی وسعت ہو جائے گی۔ بعض نے کہا: یہ ثواب کا اندازہ ہے یعنی اتنا ثواب ملے گا جو پیدائش سے لے کر موت کے مقام تک سما جائے ۔ واللہ اعلم۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
62- بَاب مَا جَاءَ فِيمَنْ مَاتَ مَرِيضًا
۶۲- باب: بیماری کی حالت میں مرنے والے کے ثواب کا بیان
1615- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ،(ح) وحَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَطَاءٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ مَاتَ مَرِيضًا مَاتَ شَهِيدًا وَوُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَغُدِيَ وَرِيحَ عَلَيْهِ بِرِزْقِهِ مِنَ الْجَنَّةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۶۲۷، ومصباح الزجاجۃ: ۵۸۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۰۴) (ضعیف جدا)
(اس کی سند میں ابراہیم بن محمد سخت ضعیف ہیں، اور حدیث کو ابن الجوزی نے موضوعات میں ذکر کیا ہے)
۱۶۱۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو بیمار ہو کر مرا وہ شہید مرا، اور وہ قبر کے فتنہ سے بچایا جائے گا، صبح و شام جنت سے اس کو روزی ملے گی''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
63- بَاب فِي النَّهْيِ عَنْ كَسْرِ عِظَامِ الْمَيِّتِ
۶۳- باب: میت کی ہڈی توڑنے کی ممانعت کا بیان​

1616- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا >۔
* تخريج: د/الجنائز ۶۴ (۳۲۰۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۹۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/ ۵۸،۱۰۰، ۱۰۵، ۱۶۹، ۲۰۰، ۴۶۴) (صحیح)

۱۶۱۶- ام المو منین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مردے کی ہڈی کو توڑنا زندہ شخص کی ہڈی کے توڑنے کی طرح ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی گناہ میں دونوں برابر ہیں، طیبی کہتے ہیں: اس میں اشارہ ہے کہ میت کی توہین منع ہے جیسے زندہ کی، اور یہ بھی اشارہ ہے کہ میت کو تکلیف ہوتی ہے جیسے زندہ کو، مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مسلمان کو ایذا دینا مرنے کے بعد ایسا ہے جیسے زندگی میں اس کو ایذا دینا۔

1617- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ زِيَادٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أَمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: <كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِ عَظْمِ الْحَيِّ فِي الإِثْمِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۷۷) (ضعیف)
(سند میں عبد اللہ بن زیاد مجہول ہیں، لیکن ''فِي الإِثْمِ'' کے لفظ کے علاوہ بقیہ حدیث بطریق عائشہ رضی اللہ عنہا صحیح ہے، کما تقدم، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ۳/۲۱۵)
۱۶۱۷- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''مردہ کی ہڈی کے توڑنے کا گناہ زندہ شخص کی ہڈی کے توڑنے کی طرح ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
64- بَاب مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ
۶۴- باب: رسول اللہ ﷺ کی بیماری کا بیان​

1618- حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ: أَيْ أُمَّهْ! أَخْبِرِينِي عَنْ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، قَالَتِ: اشْتَكَى فَعَلَقَ يَنْفُثُ، فَجَعَلْنَا نُشَبِّهُ نَفْثَهُ بِنَفْثَةِ آكِلِ الزَّبِيبِ، وَكَانَ يَدُورُ عَلَى نِسَائِهِ، فَلَمَّا ثَقُلَ اسْتَأْذَنَهُنَّ أَنْ يَكُونَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ وَأَنْ يَدُرْنَ عَلَيْهِ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، وَرِجْلاهُ تَخُطَّانِ بِالأَرْضِ، أَحَدُهُمَا الْعَبَّاسُ، فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: أَتَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّهِ عَائِشَةُ هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ۔
* تخريج: خ/الأذان ۳۹ (۶۶۵)، ۴۶ (۶۷۹)، ۴۷ (۶۸۳)، ۵۱ (۶۸۷)، ۶۷ (۷۱۲)، ۶۸ (۷۱۳)، ۷۰ (۷۹۶)، المغازي ۸۳ (۴۴۴۲)، الاعتصام ۵ (۷۳۰۳)، م/الصلاۃ ۲۱ (۴۱۸)، ن/الإمامۃ ۴۰ (۸۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۰۹)، وقد أخرجہ: ط/قصرالصلاۃ ۲۴ (۸۳)، حم (۶/۳۴، ۹۶،۹۷، ۲۱۰، ۲۲۴، ۲۲۸، ۲۴۹، ۲۵۱)، دي الصلاۃ ۴۴ (۱۲۹۲) (صحیح)
(زبیب کے جملہ کے علاوہ بقیہ حدیث صحیح ہے)
۱۶۱۸- عبید اللہ بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اماں جان! مجھ سے رسول اکرم ﷺ کی بیماری کا حال بیان کیجئے تو انہوں نے بیان کیا: آپ ﷺ بیمار ہوئے تو (اپنے بدن پر) پھونکنا شروع کیا، ہم نے آپ کے پھونکنے کو انگور کھانے والے کے پھونکنے سے تشبیہ دی۱؎، آپ ﷺ اپنی بیویوں کا باری باری چکر لگایا کرتے تھے، لیکن جب آپ سخت بیمار ہوئے تو بیویوں سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہنے کی اجازت مانگی، اور یہ کہ بقیہ بیویاں آپ کے پاس آتی جاتی رہیں گی۔
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ میرے پاس دو آدمیوں کے سہارے سے آئے، اس حال میں کہ آپ کے پیر زمین پہ گھسٹ رہے تھے، ان دو میں سے ایک عباس رضی اللہ عنہ تھے۔
عبید اللہ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کی تو انہوں نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ دوسرا آدمی کون تھا، جن کا عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا؟ وہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔

وضاحت۱؎: یعنی انگور کھانے والا منہ سے بیج نکالنے کے لیے جس طرح پھونکتا ہے اس طرح آپ پھونک رہے تھے۔

1619- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَتَعَوَّذُ بِهَؤُلاءِ الْكَلِمَاتِ <أَذْهِبِ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لا شِفَاءَ إِلا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لا يُغَادِرُ سَقَمًا> فَلَمَّا ثَقُلَ النَّبِيُّ ﷺ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ أَخَذْتُ بِيَدِهِ فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ وَأَقُولُهَا، فَنَزَعَ يَدَهُ مِنْ يَدِي ثُمَّ قَالَ: <اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الأَعْلَى > قَالَتْ: فَكَانَ هَذَا آخِرَ مَا سَمِعْتُ مِنْ كَلامِهِ ﷺ۔
* تخريج: خ/المغازي ۸۴ (۴۴۳۷)، المرضی ۱۸(۵۶۷۵)، الدعوات ۲۹(۶۳۴۸)، م/الطب ۱۹ (۲۱۹۱)، ت/ الدعوات ۷۷ (۳۴۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۳۸)، وقد أخرجہ: ط/الجنائز ۱۶ (۴۶)، حم (۶/۴۴، ۴۵، ۱۰۹، ۱۲۷)، (یہ حدیث مکرر ہے دیکھئے: ۳۵۲۰) (صحیح)
(صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ''یعوذ'' کے لفظ سے ہے، اور وہی محفوظ ہے)۔
۱۶۱۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان کلمات کے ذریعہ حفاظت و عافیت کی دعا کرتے تھے ''أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لا شِفَاءَ إِلا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لا يُغَادِرُ سَقَمًا''(اے لوگوں کے رب بیماری دور کر دے، اور شفا دے، تو ہی شفا دینے والا ہے، شفا تو بس تیری ہی شفا ہے، تو ایسی شفا عنایت فرما کہ کوئی بیماری باقی نہ رہے) جب آپ ﷺ کی وہ بیماری سخت ہو گئی جس میں آپ کا انتقال ہوا، تو میں آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کے جسم پر پھیرتی تھی، اور یہ کلمات کہتی جاتی تھی، تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے نکال لیا، اور فرمایا: ''اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَأَلْحِقْنِي بِالرَّفِيقِ الأَعْلَى'' (اے اللہ! مجھے بخش دے، اور رفیق اعلیٰ سے ملا دے) یہی آخری کلمہ تھا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔

1620- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ>، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ مَرَضُهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: < مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ > فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ۔
* تخريج: خ/المغازي ۸۴ (۴۴۳۵، ۴۴۳۶)، تفسیر سورۃ النساء ۱۳ (۴۵۸۶)، م/فضائل الصحابۃ ۱۳ (۲۴۴۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۳۸)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۷۶، ۲۰۵، ۲۶۹) (صحیح)

۱۶۲۰- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''جو نبی بھی بیمار ہوا اسے دنیا یا آخرت میں رہنے کا اختیار دیا گیا'' جب آپ ﷺ اس مرض میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کا انتقال ہوا، تو آپ کو ہچکی آنے لگی، میں نے سنا آپ ﷺ کہہ رہے تھے: {مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ} [سورة النساء: ۶۹] (ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے احسان کیا، انبیاء، صدیقین، شہداء، اور صالحین میں سے) تو اس وقت میں نے جان لیا کہ آپ کو اختیار دیا گیا ہے۔

1621 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتِ: اجْتَمَعْنَ نِسَاءُ النَّبِيِّ ﷺ، فَلَمْ تُغَادِرْ مِنْهُنَّ امْرَأَةٌ، فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ كَأَنَّ مِشْيَتَهَا مِشْيَةُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: < مَرْحَبًا بِابْنَتِي > ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ شِمَالِهِ ثُمَّ إِنَّهُ أَسَرَّ إِلَيْهَا حَدِيثًا، فَبَكَتْ فَاطِمَةُ، ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّهَا، فَضَحِكَتْ أَيْضًا، فَقُلْتُ لَهَا: مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: مَا كُنْتُ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ فَرَحًا أَقْرَبَ مِنْ حُزْنٍ، فَقُلْتُ لَهَا حِينَ بَكَتْ: أَخَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِحَدِيثٍ دُونَنَا ثُمَّ تَبْكِينَ؟ وَسَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ، فَقَالَتْ: مَا كُنْتُ لأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، حَتَّى إِذَا قُبِضَ سَأَلْتُهَا عَمَّا قَالَ، فَقَالَتْ: إِنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُنِي أَنَّ جِبْرَائِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً، وَأَنَّهُ عَارَضَهُ بِهِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ، وَلا أُرَانِي إِلا قَدْ حَضَرَ أَجَلِي، وَأَنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لُحُوقًا بِي، وَنِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ ، فَبَكَيْتُ . ثُمَّ إِنَّهُ سَارَّنِي فَقَالَ: أَلا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ نِسَاءِ هَذِهِ الأُمَّةِ؟ > فَضَحِكْتُ لِذَلِكَ۔
* تخريج: خ/المناقب ۲۵ (۳۶۲۳)، م/فضائل الصحابۃ ۱۵ (۲۴۵۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۱۵)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۸۲) (صحیح)

۱۶۲۱- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی بیویاں اکٹھا ہوئیں اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہی، اتنے میں فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں، ان کی چال رسول اللہ ﷺ کی چال کی طرح تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ''میری بیٹی! خوش آمدید''، پھر انہیں اپنے بائیں طرف بٹھایا، اور چپکے سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں، پھر چپکے سے آپ ﷺ نے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے ان سے پوچھا کہ تم کیوں روئیں؟ تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے راز کو فاش نہیں کرنا چاہتی، میں نے کہا: آج جیسی خوشی جو غم سے قریب تر ہو میں نے کبھی نہیں دیکھی، جب فاطمہ روئیں تو میں نے ان سے کہا: رسول اللہ ﷺ نے کوئی خاص بات تم سے فرمائی ہے، جو ہم سے نہیں کہی کہ تم رو رہی ہو، اور میں نے پوچھا: آخر آپ ﷺ نے کیا فرمایا؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کا راز فاش کرنے والی نہیں، رسول اللہ ﷺ کے انتقال کے بعد میں نے ان سے پھر پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ پہلے آپ ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ جبرئیل مجھ سے ہر سال ایک بار قرآن کا دور کراتے تھے اب کی سال دو بار دورکرایا، تو میں سمجھتا ہوں کہ میری موت کا وقت قریب آگیا ہے، اور تم میرے رشتہ داروں میں سب سے پہلے مجھ سے ملو گی، اور میں تمہارے لئے کیا ہی اچھا پیش رو ہوں''، یہ سن کر میں روئی پھر آپ ﷺ نے آہستہ سے مجھ سے فرمایا: ''کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم مومنوں کی عورتوں کی یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو گی، یہ سن کر میں ہنسی''۱؎۔
وضاحت۱؎: دوسری روایت میں یوں ہے کہ جب آپ نے فرمایا: میری وفات ہونے والی ہے تو میں روئی، آپ نے پھر فرمایا: تم سب سے پہلے مجھے ملو گی تو میں ہنسی۔

1622- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: خ/المرضی ۲ (۵۶۴۶)، م/البروالصلۃ ۱۴ (۲۵۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۰۹)، وقد أخرجہ: ت/الزہد ۵۶ (۲۳۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۸۱) (صحیح)

۱۶۲۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کسی پر مرض الموت کی تکلیف اتنی سخت نہیں دیکھی جتنی کہ رسول اللہ ﷺ پر دیکھی۱؎۔
وضاحت۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ سکرات کی شدت اور موت کی سختی بری چیز نہیں ہے، بلکہ اس سے درجے بلند ہوتے ہیں۔

1623- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَهُوَ يَمُوتُ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ، فَيُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ ثُمَّ يَقُولُ: < اللَّهُمَّ! أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ >۔
* تخريج: ت/الجنائز ۸ (۹۷۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۵۶)، وقد أخرجہ: حم (۶/۶۴، ۷۰، ۷۷، ۱۵۱) (ضعیف)
(سند میں موسی بن سر جس مستور ہیں)
۱۶۲۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو موت کے وقت دیکھا، آپ ﷺ کے پاس پانی کا ایک پیالہ تھا، آپ اپنا ہاتھ پیالہ میں داخل کرتے، اور پانی اپنے منہ پر ملتے، پھر فرماتے: ''اے اللہ! موت کی سختیوں میں میری مدد فرما''۔

1624- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، كَشْفُ السِّتَارَةِ يَوْمَ الاثْنَيْنِ، فَنَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ وَالنَّاسُ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فِي الصَّلاةِ، فَأَرَادَ أَنْ يَتَحَرَّكَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ اثْبُتْ، وَأَلْقَى السِّجْفَ، وَمَاتَ مِنْ آخِرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۲۱ (۴۱۹)، ت/الشمائل ۵۳ (۳۸۵)، ن/الجنائز ۷ (۱۸۳۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۱۰،۱۶۳، ۱۹۶، ۱۹۷) (صحیح)

۱۶۲۴- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا آخری دیدار مجھے دوشنبہ کے دن ہوا، آپ نے (اپنے حجرہ کا) پردہ اٹھایا، میں نے آپ کا چہرہ مبارک دیکھا، تو گویا مصحف کا ایک ورق تھا، لوگ اس وقت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صلاۃ پڑھ رہے تھے، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنی جگہ سے ہٹنے کا ارادہ کیا، لیکن آپ ﷺ نے ان کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر رہو، اور پردہ گرا دیا، پھر اسی دن کی شام کو آپ کا انتقال ہو گیا ''۱؎۔
وضاحت۱؎: ہر چند صلاۃ میں التفات کرنا (یعنی ادھر اُدھردیکھنا) منع ہے، لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نبی اکرم ﷺ سے اس قدر محبت تھی کہ صلاۃ کی حالت میں بے اختیاری کی وجہ سے آپ کے دیدار میں محو ہو گئے، دوسری روایت میں یوں ہے کہ قریب تھا کہ ہم فتنہ میں پڑ جائیں، یعنی صلاۃ بھول جائیں آپ کے دیدار کی خوشی میں، سبحان اللہ، ایمان صحابہ ہی کا ایمان تھا کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں ایسے غرق تھے جیسے حدیث شریف میں وارد ہے کہ کوئی مومن نہیں ہوتا جب تک نبی کریم ﷺ کی محبت ماں باپ اور تمام اعزہ و اقارب سے زیادہ نہ ہو، افسوس اس زمانہ میں ایسے کامل الایمان لوگ کہاں ہیں؟ اب تو دنیا کے حقیر فائدہ کے لئے اور ادنی ادنی امیروں اور نوابوں کو خوش کرنے کے لئے سنت نبوی سے اعراض اور تغافل کرتے ہیں۔

1625- حدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ سَفِينَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَقُولُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ: < الصَّلاةَ، وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ > فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى مَا يَفِيضُ بِهَا لِسَانُهُ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۱۵۴، ومصباح الزجاجۃ: ۵۹۰)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۹۰، ۳۱۱، ۳۱۵، ۳۲۱) (صحیح)

۱۶۲۵- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے اس مرض میں کہ جس میں آپ کا انتقال ہو گیا، فرما رہے تھے: ''الصَّلاةَ، وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ'' (صلاۃ کا، اور لونڈیوں اور غلاموں کا خیال رکھنا) آپ برابر یہی جملہ کہتے رہے، یہاں تک کہ آپ کی زبان مبارک رکنے لگی۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کو صلاۃ کا بڑا خیال تھا کیونکہ صلاۃ توحید باری تعالیٰ کے بعد اسلام کا سب سے اہم اور بنیادی رکن ہے، اسی لئے وفات کے وقت بھی آپ نے اس کے لئے وصیت فرمائی، مطلب یہ تھا کہ صلاۃ کی محافظت کرو، وقت پر پڑھو، شرائط اور ارکان کے ساتھ ادا کرو، دوسرا اہم مسئلہ لونڈی اور غلام کا تھا، آپ کی وصیت کا مقصد یہ تھا کہ لوگ لونڈیوں اورغلاموں کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں اور ان پر ظلم نہ کریں۔
جو لوگ غلامی کی وجہ سے اسلام پر تنقید کرتے ہیں ان کو یہ خبر نہیں ہوئی کہ درحقیقت غلامی کیا ہے گویا فرزندی میں لینا ہے اور اپنی اولاد کی طرح ایک بے وارث شخص کی پرورش کرنا ہے، اس میں عقلاً کون سی قباحت ہے؟ بلکہ قیدیوں کے گزارے کے لئے اس سے بہتر دوسری کوئی صورت عقل ہی میں نہیں آتی، البتہ اس زمانہ میں بعض جاہل لوگ لونڈیوں اور غلاموں کے ساتھ جو وحشیانہ سلوک کرتے تھے تو یہ بری بات ہے، مگر دین اسلام پر یہ تنقید صحیح نہیں ہے کیونکہ اسلام نے تو ایسے برتاؤ سے منع کیا ہے، اور ان کے ساتھ بار بار نیک سلوک کرنے کی وصیت کی ہے یہاں تک نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک اسی پر بے قابو ہو گئی، اور آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی ﷺ۔

1626- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ قَالَ: ذَكَرُوا عِنْدَ عَائِشَةَ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ وَصِيًّا، فَقَالَتْ: مَتَى أَوْصَى إِلَيْهِ؟ فَلَقَدْ كُنْتُ مُسْنِدَتَهُ إِلَى صَدْرِي،أَوْ إِلَى حَجْرِي، فَدَعَا بِطَسْتٍ، فَلَقَدِ انْخَنَثَ فِي حِجْرِي فَمَاتَ، وَمَا شَعَرْتُ بِهِ، فَمَتَى أَوْصَى ﷺ ؟.
* تخريج: خ/الوصایا ۱ (۲۷۴۱)، المغازي ۸۳ (۴۴۵۹)، م/الوصیۃ ۵ (۱۶۳۶)، ت/الشمائل ۵۳ (۳۸۶)، ن/الطہارۃ ۲۹ (۳۳)، الوصایا ۲ (۳۶۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۷۰)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۲، ۳۲) (صحیح

۱۶۲۶- اسود کہتے ہیں کہ لوگوں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے وصی تھے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ نے ان کو کب وصیت کی؟ میں تو آپ کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے تھی، یا گود میں لئے ہوئے تھی، آپ ﷺ نے طشت منگوایا، پھر آپ میری گود میں لڑھک گئے، اور وفات پا گئے، مجھے محسوس تک نہ ہوا، پھر آپ نے وصیت کب کی؟۔
وضاحت۱؎: شیعہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے وفات کے وقت اپنا جانشین وصی اور قائم مقام علی رضی اللہ عنہ کو بنایا تھا، اور آپ کو ایسی ایسی باتیں بتائیں جو راز کی تھیں، اور کسی دوسرے کو یہ باتیں نہیں بتائی تھیں، یہ سب شیعوں کا افتراء اور بہتان ہے، اس سے ان کا مقصد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت پر لعن طعن کرنا ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے بھتیجے اور داماد تھے، اور آپ کے زیر تربیت پلے بڑھے تھے، لیکن خلافتِ نبوت کو قرابت سے کچھ تعلق نہیں ہے، اگر قرابت خلافت کا سبب ہوتی تو آپ کے چچا عباس رضی اللہ عنہ علی رضی اللہ عنہ پر مقدم تھے، اور خود علی رضی اللہ عنہ سے صحیح سند سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے اس امر سے انکار فرمایا کہ نبی کریم ﷺ خلافت کی وصیت میرے لئے کرتے تو میں ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کو کبھی آپ ﷺ کے منبر پر نہ بیٹھنے دیتا بلکہ ان سے جنگ کرتا، یہ واضح رہے کہ نبی اکرم ﷺ کا انتقال اچانک نہیں ہوا بلکہ کئی روز تک آپ بیمار رہے، موذن آپ کے پاس آتا رہا، اور آپ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی امامت کا حکم دیتے رہے، پھر جب آپ کی وفات ہوئی تو ہم نے دنیا کی حکومت کے لئے بھی اسی شخص کو اختیار کیا جس کو نبی کریم ﷺ نے ہمارے دین کے لئے اختیار کیا تھا، اور ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو کوئی مجھ کو ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دے تو میں اسے مفتری کی طرح کوڑے ماروں گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
65- بَاب ذِكْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ ﷺ
۶۵- باب: نبی اکرم ﷺ کی وفات اور تدفین کا بیان​

1627- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: قَالَتْ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَأَبُو بَكْرٍ عِنْدَ امْرَأَتِهِ، ابْنَةِ خَارِجَ بِالْعَوَالِي، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: لَمْ يَمُتِ النَّبِيُّ ﷺ،إِنَّمَا هُوَ بَعْضُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ عِنْدَ الْوَحْيِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ، وَقَبَّلَ بَيْنَ عَيْنَيْهِ وَقَالَ: أَنْتَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ أَنْ يُمِيتَكَ مَرَّتَيْنِ، قَدْ، وَاللَّهِ! مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَعُمَرُ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، وَلا يَمُوتُ حَتَّى يَقْطَعَ أَيْدِيَ أُنَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، كَثِيرٍ، وَأَرْجُلَهُمْ، فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: مَنْ كَانَ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَمْ يَمُتْ، وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ،{وَمَاْ مُحَمَّدٌ إِلا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ، أَفَإِنْ مَاْتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَىْ أَعْقَاْبِكُمْ، وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَىْ عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللهَ شَيْئًا، وَسَيَجْزِيْ اللهُ الشَّاْكِرِيْنَ }.
قَالَ عُمَرُ: فَلَكَأَنِّي لَمْ أَقْرَأْها إِلا يَوْمَئِذٍ۔
* تخريج: خ/الجنائز ۳ (۱۲۴۱)، المغازي ۸۳ (۴۴۵۲)، ن/الجنائز ۱۱ (۱۸۴۲)، (تحفۃ الأشراف: ۶۶۳۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۱۷) (صحیح)
(البانی صاحب کہتے ہیں کہ وحی کے جملہ کے علاوہ حدیث صحیح ہے)
۱۶۲۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اکرم ﷺ کی وفات ہو گئی تو اس وقت ابو بکر رضی اللہ عنہ اپنی بیوی کے ساتھ جو کہ خارجہ کی بیٹی تھیں عوالی مدینہ میں تھے، لوگ کہنے لگے کہ نبی اکرم ﷺ کا انتقال نہیں ہوا بلکہ وحی کے وقت جو حال آپ کا ہوا کرتا تھا ویسے ہی ہو گیا ہے، آخر ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے، آپ کا چہرہ مبارک کھولا اور آپ کی پیشانی کا بوسہ لیا، اور کہا: آپ اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ معزز و محترم ہیں کہ آپ کو دو بار موت دے۱؎، قسم اللہ کی! رسول اللہ ﷺ وفات پا چکے ہیں، اس وقت عمر رضی اللہ عنہ مسجد کے ایک گوشہ میں یہ کہہ رہے تھے کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ مرے نہیں ہیں، اور نہ آپ مریں گے، یہاں تک کہ بہت سے منافقوں کے ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے، آخر ابو بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، منبر پر چڑھے اور کہا: جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ زندہ ہے، مرا نہیں، اور جو کوئی محمد کی عبادت کرتا تھا تو محمد وفات پا گئے، (پھر یہ آیت پڑھی) {وَمَاْ مُحَمَّدٌ إِلا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ، أَفَإِنْ مَاْتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَىْ أَعْقَاْبِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَىْ عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللهَ شَيْئًا، وَسَيَجْزِيْ اللهُ الشَّاْكِرِيْنَ} [سورة آل عمران: ۱۴۴] (محمد صرف ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول آئے، اگر آپ کا انتقال ہو جائے یا قتل کر دئیے جائیں، تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے، اور جو پھر جائے گا وہ اللہ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گا، اور اللہ شکر کرنے والوں کو بدلہ دے گا)۔
عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اس دن سے پہلے کبھی اس آیت کو میں نے پڑھا ہی نہیں تھا۔

وضاحت۱؎: یہ کہہ کر ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کا رد کیا جو کہتے تھے کہ نبی کریم ﷺ پھر دنیا میں لوٹ کر آئیں گے، اور منافقوں کے ہاتھ پیر کاٹیں گے کیونکہ اگر ایسا ہو تو اس کے بعد پھر وفات ہو گی، اس طرح دو موتیں جمع ہو جائیں گی۔ اور بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اب آپ ﷺ کو کوئی تکلیف نہ ہو گی، ایک دنیا کی موت تھی جو ہر بشر کو لازم تھی وہ آپ کو بھی ہوئی نیز اس کے بعد پھر آپ کو راحت ہی راحت ہے۔ اور بعض نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ آپ کا نام اور آپ کا دین ہمیشہ قائم رہے گا، کبھی ختم ہونے والا نہیں، حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ میت کا بوسہ لینا جائز ہے، اور میت کو موت کے بعد ایک چادر سے ڈھانپ دینا چاہئے تاکہ لوگ اس کی صورت دیکھ کر گھبرائیں نہیں۔

1628- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِي ُّ، أَنْبَأَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَحْفِرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَعَثُوا إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَكَانَ يَضْرَحُ كَضَرِيحِ أَهْلِ مَكَّةَ، وَبَعَثُوا إِلَى أَبِي طَلْحَةَ، وَكَانَ هُوَ الَّذِي يَحْفِرُ لأَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَكَانَ يَلْحَدُ، فَبَعَثُوا إِلَيْهِمَا رَسُولَيْنِ، وَقَالُوا: اللَّهُمَّ! خِرْ لِرَسُولِكَ، فَوَجَدُوا أَبَاطَلْحَةَ. فَجِيئَ بِهِ، وَلَمْ يُوجَدْ أَبُو عُبَيْدَةَ، فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: فَلَمَّا فَرَغُوا مِنْ جِهَازِهِ يَوْمَ الثُّلاثَاءِ، وُضِعَ عَلَى سَرِيرِهِ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ دَخَلَ النَّاسُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَرْسَالا، يُصَلُّونَ عَلَيْهِ، حَتَّى إِذَا فَرَغُوا أَدْخَلُوا النِّسَاءَ، حَتَّى إِذَا فَرَغُوا أَدْخَلُوا الصِّبْيَانَ، وَلَمْ يَؤُمَّ النَّاسَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَحَدٌ، لَقَدِ اخْتَلَفَ الْمُسْلِمُونَ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يُحْفَرُ لَهُ، فَقَالَ قَائِلُونَ: يُدْفَنُ فِي مَسْجِدِهِ، وَقَالَ قَائِلُونَ: يُدْفَنُ مَعَ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ أَبُوبَكْرٍ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَا قُبِضَ نَبِيٌّ إِلا دُفِنَ حَيْثُ يُقْبَضُ >، قَالَ: فَرَفَعُوا فِرَاشَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ الَّذِي تُوُفِّيَ عَلَيْهِ، فَحَفَرُوا لَهُ، ثُمَّ دُفِنَ ﷺ وَسَطَ اللَّيْلِ مِنْ لَيْلَةِ الأَرْبِعَاءِ، وَنَزَلَ فِي حُفْرَتِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَالْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَقُثَمُ أَخُوهُ وَشُقْرَانُ مَوْلَى رَسُولِ للَّهِ ﷺ، وَقَالَ أَوْسُ بْنُ خَوْلِيٍّ، وَهُوَ أَبُو لَيْلَى، لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ وَحَظَّنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، قَالَ لَهُ عَلِيٌّ: انْزِلْ، وَكَانَ شُقْرَانُ، مَوْلاهُ، أَخَذَ قَطِيفَةً كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَلْبَسُهَا، فَدَفَنَهَا فِي الْقَبْرِ وَقَالَ: وَاللَّهِ! لا يَلْبَسُهَا أَحَدٌ بَعْدَكَ أَبَدًا، فَدُفِنَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۰۲۲، ومصباح الزجاجۃ: ۵۹۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۸، ۲۶۰، ۲۹۲) (ضعیف)
(سند میں حسین بن عبد اللہ متروک ہے، لیکن شقاق اور لاحد کا قصہ ثابت ہے، اور ایسے ہی ''مَا قُبِضَ نَبِيٌّ إِلا دُفِنَ حَيْثُ يُقْبَضُ'' کا لفظ ثابت ہے، نیز ملاحظہ ہو: احکام الجنائز: ۱۳۷- ۱۳۸)
۱۶۲۸- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ ﷺ کے لئے قبر کھودنے کا ارادہ کیا، تو ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بلوا بھیجا، وہ مکہ والوں کی طرح صندوقی قبر کھودتے تھے، ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو بھی بلوا بھیجا، وہ مدینہ والوں کی طرح بغلی قبر کھودتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دونوں کے پاس قاصد بھیج دئیے اور دعا کی کہ اے اللہ! تو اپنے رسول کے لئے بہتر اختیار فرما، بالآخر ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ملے، اور ان کولایا لایا گیا، ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نہیں ملے، لہٰذا نبی اکرم ﷺ کے لئے بغلی قبر کھو دی گئی، عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب لوگ منگل کے دن آپ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہو گئے، تو آپ اپنے گھر میں تخت پر رکھے گئے، اور لوگوں نے جماعت در جماعت اندر آنا شروع کیا، لوگ صلاۃ جنازہ پڑھتے جاتے تھے، جب سب مرد فارغ ہو گئے، تو عورتیں جانے لگیں جب عورتیں بھی فارغ ہو گئیں، تو بچے جانے لگے، اور آپ کے جنازے کی کسی نے امامت نہیں کی۔
پھر لوگوں نے اختلاف کیا کہ آپ کی قبر کہاں کھودی جا ئے، بعض نے کہا کہ آپ کو مسجد میں دفن کیا جائے، بعض نے کہا کہ آپ کو آپ کے ساتھیوں کے پاس مقبرہ بقیع میں دفن کیا جائے، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فر ماتے سنا ہے: ''جس نبی کا بھی انتقال ہوا اسے وہیں دفن کیا گیا جہاں پہ اس کا انتقال ہوا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ حدیث سن کر آپ ﷺ کا بستر اٹھایا جس پر آپ کا انتقال ہوا تھا، لوگوں نے آپ کے لئے قبر کھودی، پھر آپ کو بدھ کی آدھی رات میں دفن کیا گیا، آپ کی قبر میں علی بن ابی طالب، فضل بن عباس، ان کے بھائی قثم بن عباس، اور رسول اللہ ﷺ کے غلام شقران رضی اللہ عنہم اترے۔
ابولیلیٰ اوس بن خولہ رضی اللہ عنہ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم اور اپنی اس صحبت کی قسم دیتا ہوں جو ہم کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاصل ہے، (مجھ کو بھی قبر میں اترنے دیں) تو علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اتر جاؤ، اور شقران جو آپ کے غلام تھے، نے ایک چادر لی جس کو آپ اوڑھا کرتے تھے، اسے بھی آپ کے ساتھ قبر میں دفن کر دیا اور کہا: قسم اللہ کی!، اس چادر کو آپ کے بعد کوئی نہ اوڑھے، چنانچہ اسے بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔


1629- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ أَبُو الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ كَرْبِ الْمَوْتِ مَا وَجَدَ، قَالَتْ فَاطِمَةُ: وَا كَرْبَ أَبَتَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا كَرْبَ عَلَى أَبِيكِ بَعْدَ الْيَوْمِ، إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ مِنْ أَبِيكِ مَا لَيْسَ بِتَارِكٍ مِنْهُ أَحَدًا، الْمُوَافَاةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۰، ومصباح الزجاجۃ: ۵۹۲)، وقد أخرجہ: خ/المغازي ۸۳ (۴۴۴۸)، حم (۳/۱۴۱) (حسن صحیح)
(سند میں عبد اللہ بن الزبیر مقبول ہیں، اور مسند احمد میں مبارک بن فضالہ نے ان کی متابعت کی ہے، اصل حدیث صحیح البخاری میں ہے، صحیح البخاری میں : ''إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ...'' کا جملہ نہیں ہے، نیز ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۱۷۳۸)
۱۶۲۹- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے موت کی سختی محسوس کی تو فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ہائے میرے والد کی سخت تکلیف۱؎، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''آج کے بعد تیرے والد پر کبھی سختی نہ ہو گی، اور تیرے والد پر وہ وقت آیا ہے جو سب پر آنے والا ہے، اب قیامت کے دن ملاقات ہو گی ''۲؎۔
وضاحت۱؎: فاطمہ رضی اللہ عنہا کے یہ الفاظ نوحہ میں داخل نہیں ہیں کیونکہ یہ الفاظ اس وقت کے ہیں جب آپ ابھی زندہ تھے، اور جان کنی کے عالم میں تھے جیسا کہ اس سے پہلے کی روایت سے ظاہر ہے، اور بعض لوگوں نے کہا کہ میت میں جو خوبیاں فی الواقع موجود رہی ہوں ان کو بیان کرنا نوحہ نہیں ہے، بلکہ نوحہ میت میں ایسی خوبیاں ذکر کرنے کا نام ہے جو اس میں نہ رہی ہوں۔
وضاحت۲؎: حالانکہ ملاقات مرنے کے بعد ہی عالم برزخ میں ہو جاتی ہے جیسا کہ دوسری حدیثوں سے ثابت ہے، پھر اس کا کیا مطلب ہو گا؟ یہاں یہ اشکال ہوتا ہے، اور ممکن ہے کہ ملاقات سے دنیا کی طرح ہر وقت کی یکجائی اور سکونت مراد ہو اور یہ قیامت کے بعد ہی جنت میں ہو گی جیسے دوسری روایت میں ہے کہ ایک بار نبی کریم ﷺ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مکان میں تشریف لے گئے، علی رضی اللہ عنہ کو سوتا پایا، ارشاد ہوا کہ یہ سونے والا، اور میں اور تو جنت میں ایک مکان میں ہوں گے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علی رضی اللہ عنہ کا درجہ آخرت میں بہت بلند ہو گا کیونکہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک مکان میں رہیں گے، اور ظاہر ہے نبی کریم ﷺ کا مقام جنت الفردوس میں سب سے بلند ہو گا، واللہ اعلم۔

1630- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَتْ لِي فَاطِمَةُ: يَا أَنَسُ! كَيْفَ سَخَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا التُّرَابَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ؟.
وَحَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ فَاطِمَةَ قَالَتْ حِينَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: وَا أَبَتَاهُ، إِلَى جِبْرَائِيلَ أَنْعَاهُ، وَا أَبَتَاهُ، مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ، وَا أَبَتَاهُ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ، وَا أَبَتَاهُ، أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ، قَالَ حَمَّادٌ: فَرَأَيْتُ ثَابِتًا، حِينَ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، بَكَى حَتَّى رَأَيْتُ أَضْلاعَهُ تَخْتَلِفُ۔
* تخريج: خ/المغازي ۸۳ (۴۴۴۸)، (تحفۃ الأشراف: ۳۰۲)، وقد أخرجہ: دي/المقدمۃ ۱۴ (۸۸) (صحیح)

۱۶۳۰- انس بن ما لک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے انس! تمہارے دل کو کیسے گوارا ہوا کہ تم رسول اللہ ﷺ پر مٹی ڈالو؟۔
انس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوئی، تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہائے میرے والد، میں جبرئیل کو ان کے مرنے کی خبر دیتی ہوں، ہائے میرے والد، اپنے رب کے کتنے نزدیک ہو گئے، ہائے میرے والد، جنت الفردوس میں ان کا ٹھکانہ ہے، ہائے میرے والد، اپنے رب کا بلانا قبول کیا۔
حماد نے کہا: میں نے ثابت کو دیکھا کہ اس حدیث کو بیان کر نے کے بعد روئے یہاں تک کہ ان کی پسلیاں اوپر نیچے ہونے لگیں۔

وضاحت۱؎: نبی اکرم ﷺ کی وفات کے چھ ماہ بعد آپ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کا انتقال آپ کی پیش گوئی کے مطابق ہو گیا، اور چہیتی بیٹی اپنے باپ سے جا ملیں، اب کوئی یہ نہ سمجھے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جو یہ کلمات سخت رنج کی حالت میں فرمائے یہ نیاحت میں داخل ہیں جب کہ وہ منع ہے واضح رہے کہ نیاحت وہ ہے جو چلا کر بلند آواز سے ہو، نہ وہ جو آہستہ سے کہا جائے، اور اگر یہ نیاحت ہوتی تو فاطمہ رضی اللہ عنہا اسے ہر گز نہ کرتیں۔

1631- حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي دَخَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ، أَضَاءَ مِنْهَا كُلُّ شَيْئٍ، فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، أَظْلَمَ مِنْهَا كُلُّ شَيْئٍ، وَمَا نَفَضْنَا عَنِ النَّبِيِّ ﷺ الأَيْدِيَ حَتَّى أَنْكَرْنَا قُلُوبَنَا۔
* تخريج: ت/المناقب ۱ (۳۶۱۸)، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۸)، وقد أخرجہ: دي/المقدمۃ ۱۴ (۸۹) (صحیح)

۱۶۳۱- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ ﷺ مدینہ میں داخل ہوئے اس دن مدینہ کی ہر چیز روشن ہو گئی، اور جس وقت آپ کا انتقال ہوا ہر چیز پر اندھیرا چھا گیا، اور ہم لوگوں نے ابھی آپ کے کفن دفن سے ہاتھ بھی نہیں جھاڑا تھا کہ ہم نے اپنے دلوں کو بدلہ ہوا پایا۔

1632- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا نَتَّقِي الْكَلامَ وَالانْبِسَاطَ إِلَى نِسَائِنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مَخَافَةَ أَنْ يُنْزَلَ فِينَا الْقُرْآنُ فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ تَكَلَّمْنَا۔
* تخريج: خ/النکاح ۸۰ (۵۱۸۷)، (تحفۃ الأشراف: ۷۱۵۶) (صحیح)

۱۶۳۲- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اپنی عورتوں سے باتیں کرنے اور ان سے بہت زیادہ بے تکلف ہونے سے پرہیز کرتے تھے کہ ہمارے سلسلے میں کہیں قرآن نہ اتر جائے، جب رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوا تو ہم باتیں کرنے لگے۔

1633- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ بْنُ عَطَائٍ الْعِجْلِيُّ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ؛ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَإِنَّمَا وَجْهُنَا وَاحِدٌ، فَلَمَّا قُبِضَ نَظَرْنَا هَكَذَا وَهَكَذَا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱، ومصباح الزجاجۃ: ۵۹۳) (ضعیف)
(اس کی سند میں حسن بصری مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کی ہے، نیز اس سند مین حسن بصری اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے)
۱۶۳۳- ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، تو ہم سب ایک رخ تھے، لیکن جب آپ کا انتقال ہو گیا تو پھر ہم ادھر ادھر دیکھنے لگے۔

1634- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ بِنْتِ أَبِي أُمَيَّةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ،أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، إِذَا قَامَ الْمُصَلِّي يُصَلِّي لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِهِمْ مَوْضِعَ قَدَمَيْهِ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَكَانَ النَّاسُ إِذَا قَامَ أَحَدُهُمْ يُصَلِّي لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِهِمْ مَوْضِعَ جَبِينِهِ، فَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ، وَكَانَ عُمَرُ، فَكَانَ النَّاسُ إِذَا قَامَ أَحَدُهُمْ يُصَلِّي لَمْ يَعْدُ بَصَرُ أَحَدِهِمْ مَوْضِعَ الْقِبْلَةِ، وَكَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَكَانَتِ الْفِتْنَةُ، فَتَلَفَّتَ النَّاسُ يَمِينًا وَشِمَالا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۱۳، ومصباح الزجاجۃ: ۵۹۴) (ضعیف)
(اس کی سند میں موسیٰ بن عبد اللہ مجہول ہیں)
۱۶۳۴- ام المومنین ام سلمہ بنت ابی امیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں لوگوں کا حال یہ تھا کہ جب مصلّی صلاۃ پڑھنے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ اس کے قدموں کی جگہ سے آگے نہ بڑھتی، پھر جب رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی، تو لوگوں کا حال یہ ہوا کہ جب کوئی ان میں سے صلاۃ پڑھتا تو اس کی نگاہ پیشانی رکھنے کے مقا م سے آگے نہ بڑھتی، پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو لوگوں کا حال یہ تھا کہ ان میں سے کوئی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا تو اس کی نگاہ قبلہ کے سوا کسی اور طرف نہ جاتی تھی، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور مسلمانوں میں فتنہ برپا ہوا تو لوگوں نے دائیں بائیں مڑنا شروع کر دیا۔

1635- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلالُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ؛ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ، بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ لِعُمَرَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أُمِّ أَيْمَنَ نَزُورُهَا كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَزُورُهَا، قَالَ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهَا بَكَتْ، فَقَالا لَهَا: مَا يُبْكِيكِ؟ فَمَا عِنْدَاللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ، قَالَتْ: إِنِّي لأَعْلَمُ أَنَّ مَا عِنْدَاللَّهِ خَيْرٌ لِرَسُولِهِ، وَلَكِنْ أَبْكِي أَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّمَاءِ، قَالَ، فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ، فَجَعَلا يَبْكِيَانِ مَعَهَا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۰۲، ومصباح الزجاجۃ: ۵۹۵) (صحیح)

۱۶۳۵- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو بکررضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: چلئے، ہم ام ایمن (برکہ) رضی اللہ عنہا سے ملنے چلیں، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ ان سے ملنے جا یا کرتے تھے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب ہم ام ایمن رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے، تو وہ رونے لگیں، ان دونوں نے ان سے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہی ہیں؟ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس کے رسول کے لئے بہتر ہے، انہوں نے کہا: میں جا نتی ہوں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس کے رسول کے لئے بہتر ہے، لیکن میں اس لئے رو رہی ہوں کہ آسمان سے وحی کا سلسلہ بند ہو گیا، انس رضی اللہ عنہ نے کہا: تو ام ایمن رضی اللہ عنہا نے ان دونوں کو بھی رلا دیا، وہ دونوں بھی ان کے ساتھ رونے لگے۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں نبی کریم ﷺ کے طرز عمل سے ذرہ برابر بھی انحراف کرنا گوارا نہ کیا یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ جن لوگوں سے ملنے جاتے ابو بکر رضی اللہ عنہ بھی ان سے ملنے گئے، پس ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت گویا زمانہ نبوت کی تصویر تھی اور یہی وجہ تھی کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فدک اور بنو نضیر وغیرہ سے حاصل مال کو فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طلب پر ان کے حوالہ نہیں کیا بلکہ جس طرح نبی کریم ﷺ ان اموال کو خرچ کرتے تھے اسی طرح خرچ کرتے رہے، اور ذرہ برابر آپ ﷺ کے طریقِ کار کو بدلنا گوارا نہ کیا، اصل بات یہ ہے، نہ وہ جو شیعہ بکتے پھرتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے -معاذ اللہ- طمع و لالچ سے ایسا کیا، اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تکلیف پہنچائی، یہ سب لغو اور بیہودہ الزام ہے، ابو بکر رضی اللہ عنہ دنیا کی ایک بڑی حکومت کے سربراہ تھے، خود انہوں نے نبی کریم ﷺ پر اپنا سارا مال نچھاور کر دیا، اور آپ کی محبت میں جان کو خطرے میں ڈالنے سے بھی دریغ نہ کیا، کیا ایسے شخص کے بارے میں یہ گمان کیا جا سکتا ہے کہ وہ کھجور کے چند درختوں کو ناحق لے لے گا اور نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی کو ناراض کرے گا؟۔

1636- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلاةِ فِيهِ، فَإِنَّ صَلاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ تُعْرَضُ صَلاتُنَا عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ؟ يَعْنِي بَلِيتَ، قَالَ: < إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الأَنْبِيَاءِ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۰۷ (۱۰۴۷)، ۳۶۱ (۱۵۳۱)، ن/الجمعۃ ۵ (۱۳۷۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۶)، وقد أخرجہ: حم ( ۴/۸)، دي/الصلاۃ ۲۰۶ (۱۶۱۳) (صحیح)

۱۶۳۶- اوس بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تمہا رے دنوں میں سب سے افضل جمعہ کا دن ہے، اسی دن آدم پیدا ہوئے، اسی دن صور پھونکا جائے گا، اور اسی دن لوگ بیہوش ہوں گے، لہٰذا اس دن کثرت سے میرے اوپر درود (صلاۃ و سلام) بھیجا کرو، اس لئے کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے، تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا؟ جب کہ آپ بوسیدہ ہو چکے ہوں گے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اگرچہ مرنے کے بعد روح سب کی قائم رہتی ہے اور روح سب باتوں کو دیکھ اور سن سکتی ہے، لیکن انبیاء و رسل علیہم الصلاۃ والسلام میں اوروں کی بہ نسبت ایک خصوصیت یہ ہے کہ ان کا جسم محفوظ رہتا ہے، گلتا اور سڑتا نہیں، اور رسول اسی دنیاوی جسم کے ساتھ اپنی قبروں میں برزخی زندگی کے ساتھ زندہ ہیں، دوسری حدیث میں ہے کہ جب کوئی میری قبر کے پاس مجھ پر صلاۃ (درود) بھیجے گا تومیں خود سن لوں گا اور جو دور سے بھیجے گا تو فرشتے مجھ کو پہنچا دیں گے، ان حدیثوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی قبر شریف میں برزخی زندگی کے ساتھ زندہ ہیں، اور قبر کے پاس پڑھے جانے والے درود اور سلام کو خود سنتے ہیں، اس پر تمام ائمہ اہل حدیث کا اتفاق ہے۔

1637- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <أَكْثِرُوا الصَّلاةَ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَإِنَّهُ مَشْهُودٌ تَشْهَدُهُ الْمَلائِكَةُ، وَإِنَّ أَحَدًا لَنْ يُصَلِّيَ عَلَيَّ إِلا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلاتُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا>، قَالَ قُلْتُ: وَبَعْدَ الْمَوْتِ؟ قَالَ: < وَبَعْدَ الْمَوْتِ، إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الأَنْبِيَاءِ، فَنَبِيُّ اللَّهِ حَيٌّ يُرْزَقُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۴۷، ومصباح الزجاجۃ: ۵۹۶) (حسن)

(سند میں زید بن ایمن اور عبادہ کے درمیان نیز عبادہ اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، لیکن اکثر متن حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۱/ ۳۵، تراجع الألبانی: رقم: ۵۶۰)
۱۶۳۷- ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم لو گ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت سے درود بھیجو، اس لئے کہ جمعہ کے دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور جو کوئی مجھ پر درود بھیجے گا اس کا درود مجھ پر اس کے فارغ ہوتے ہی پیش کیا جائے گا، میں نے عرض کیا: کیا مرنے کے بعد بھی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں، مرنے کے بعد بھی، بیشک اللہ تعالی نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کا جسم کھائے، اللہ کے نبی زندہ ہیں ان کو روزی ملتی ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی جنت کے کھانے ان کو کھلائے جاتے ہیں جو روحانی ہیں، یہاں زندگی سے دنیوی زندگی مراد نہیں ہے ۔ اس لئے کہ دنیاوی زندگی قبر کے اندر قائم نہیں رہ سکتی، یہ برزخی زندگی ہے جس میں اور دنیاوی زندگی میں فرق ہے، مگر ہر حال میں نبی کریم ﷺ اپنی قبر شریف کے پاس درود و سلام سنتے ہیں، بلکہ یہ برزخی زندگی بہت باتوں میں دنیاوی زندگی سے زیادہ قوی اور بہتر ہے، صلی اللہ علیہ وسلم وآلہ واصحابہ وبارک وسلم تسلیما کثیراً۔



* * *​
 
Top