- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,589
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
صحیح الاسناد و حسن الاسناد :
کسی حدیث کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ صحیح الاسناد یا ضعیف الاسناد ہے، اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ صحیح اور حسن کے درجہ کی ہو، اس لئے کہ صحت حدیث میں شذوذ اور علت کی نفی بھی ضروری ہے، اور صحیح الاسناد اور حسن الاسناد میں سند کا اتصال اور راوی کی عدالت اور حفظ و ضبط کی بات ہے، ہاں اگر قابل اعتماد ناقدِ حدیث یہ دونوں صیغے استعمال کرے اور اس حدیث کی کوئی علت بھی نہ پائی جا رہی ہو تو بظاہر متن کی صحت بھی مقصود ہے۔
ضعیف
ضعیف: وہ حدیث ہے جس کے رواۃ کے اندر حسن کے رواۃ کی صفات میں سے کوئی صفت یا پوری صفات نہ پائی جائیں، حدیث کے ضعف کے اسباب مندرجہ ذیل ہیں:
۱- سند میں انقطاع جیسے: مرسل، معلق، معضل، منقطع، مدلس، مرسل خفی، معنعن، مؤنن۔
۲- راوی کی عدالت اور اس کے حفظ و ضبط میں طعن، راوی کی عدالت میں ہونے والے طعن میں راوی کا حدیث رسول میں کذاب ہونا یا لوگوں سے بات چیت میں جھوٹ بولنا یا فسق یا بدعت یا جہالت ہے، اور راوی کے حفظ و ضبط میں طعن میں راوی کا فاحش الغلط ہونا، یا کمزور حافظے کا ہونا، یا غفلت کا شکار ہونا یا اوہام کی کثرت، یا ثقات کی مخالفت۔
ضعیف کا حکم: ضعیف حدیث سے دلیل اور حجت پکڑنا جائزنہیں، نیز اس کی روایت اور اس کا تذکرہ بھی اس کے حکم کو بیان کئے بغیر جائزنہیں، فضائل میں بھی اس سے استدلال جائز نہیں کیونکہ کسی عمل کی فضیلت بھی ایک شرعی حکم ہے اور کسی بھی شرعی حکم کے ثبوت کے لئے اس کا صحیح یا حسن سند سے منقول ہونا ضروری ہے۔
کسی حدیث کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ صحیح الاسناد یا ضعیف الاسناد ہے، اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ صحیح اور حسن کے درجہ کی ہو، اس لئے کہ صحت حدیث میں شذوذ اور علت کی نفی بھی ضروری ہے، اور صحیح الاسناد اور حسن الاسناد میں سند کا اتصال اور راوی کی عدالت اور حفظ و ضبط کی بات ہے، ہاں اگر قابل اعتماد ناقدِ حدیث یہ دونوں صیغے استعمال کرے اور اس حدیث کی کوئی علت بھی نہ پائی جا رہی ہو تو بظاہر متن کی صحت بھی مقصود ہے۔
ضعیف
ضعیف: وہ حدیث ہے جس کے رواۃ کے اندر حسن کے رواۃ کی صفات میں سے کوئی صفت یا پوری صفات نہ پائی جائیں، حدیث کے ضعف کے اسباب مندرجہ ذیل ہیں:
۱- سند میں انقطاع جیسے: مرسل، معلق، معضل، منقطع، مدلس، مرسل خفی، معنعن، مؤنن۔
۲- راوی کی عدالت اور اس کے حفظ و ضبط میں طعن، راوی کی عدالت میں ہونے والے طعن میں راوی کا حدیث رسول میں کذاب ہونا یا لوگوں سے بات چیت میں جھوٹ بولنا یا فسق یا بدعت یا جہالت ہے، اور راوی کے حفظ و ضبط میں طعن میں راوی کا فاحش الغلط ہونا، یا کمزور حافظے کا ہونا، یا غفلت کا شکار ہونا یا اوہام کی کثرت، یا ثقات کی مخالفت۔
ضعیف کا حکم: ضعیف حدیث سے دلیل اور حجت پکڑنا جائزنہیں، نیز اس کی روایت اور اس کا تذکرہ بھی اس کے حکم کو بیان کئے بغیر جائزنہیں، فضائل میں بھی اس سے استدلال جائز نہیں کیونکہ کسی عمل کی فضیلت بھی ایک شرعی حکم ہے اور کسی بھی شرعی حکم کے ثبوت کے لئے اس کا صحیح یا حسن سند سے منقول ہونا ضروری ہے۔