• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
صحیح الاسناد و حسن الاسناد :
کسی حدیث کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ صحیح الاسناد یا ضعیف الاسناد ہے، اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ صحیح اور حسن کے درجہ کی ہو، اس لئے کہ صحت حدیث میں شذوذ اور علت کی نفی بھی ضروری ہے، اور صحیح الاسناد اور حسن الاسناد میں سند کا اتصال اور راوی کی عدالت اور حفظ و ضبط کی بات ہے، ہاں اگر قابل اعتماد ناقدِ حدیث یہ دونوں صیغے استعمال کرے اور اس حدیث کی کوئی علت بھی نہ پائی جا رہی ہو تو بظاہر متن کی صحت بھی مقصود ہے۔

ضعیف
ضعیف: وہ حدیث ہے جس کے رواۃ کے اندر حسن کے رواۃ کی صفات میں سے کوئی صفت یا پوری صفات نہ پائی جائیں، حدیث کے ضعف کے اسباب مندرجہ ذیل ہیں:
۱- سند میں انقطاع جیسے: مرسل، معلق، معضل، منقطع، مدلس، مرسل خفی، معنعن، مؤنن۔
۲- راوی کی عدالت اور اس کے حفظ و ضبط میں طعن، راوی کی عدالت میں ہونے والے طعن میں راوی کا حدیث رسول میں کذاب ہونا یا لوگوں سے بات چیت میں جھوٹ بولنا یا فسق یا بدعت یا جہالت ہے، اور راوی کے حفظ و ضبط میں طعن میں راوی کا فاحش الغلط ہونا، یا کمزور حافظے کا ہونا، یا غفلت کا شکار ہونا یا اوہام کی کثرت، یا ثقات کی مخالفت۔
ضعیف کا حکم: ضعیف حدیث سے دلیل اور حجت پکڑنا جائزنہیں، نیز اس کی روایت اور اس کا تذکرہ بھی اس کے حکم کو بیان کئے بغیر جائزنہیں، فضائل میں بھی اس سے استدلال جائز نہیں کیونکہ کسی عمل کی فضیلت بھی ایک شرعی حکم ہے اور کسی بھی شرعی حکم کے ثبوت کے لئے اس کا صحیح یا حسن سند سے منقول ہونا ضروری ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مرسل: وہ حدیث ہے جس کی روایت تابعی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہو، مثلاً کہے: ’’قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)۔
مرسل کا حکم: مرسل ضعیف کی ایک قسم ہے، کیونکہ یہ نہیں معلوم کہ تابعی نے سند سے کسی صحابی ہی کو ساقط کیا ہے یا صحابی کے ساتھ ساتھ کسی تابعی کو بھی ساقط کیا ہے جس سے اس نے براہِ راست حدیث لی تھی (تابعی سے تابعی کی روایت بہت معروف ہے، بلکہ ایک سند میں کبھی کئی ایک تابعی ہوا کرتے ہیں) اور تابعی ضعیف بھی ہوتے ہیں، اب معلوم نہیں کہ جس تابعی کو ساقط کیا ہے وہ ثقہ بھی ہے یا نہیں، یعنی راوی کے مجہول ہونے کے سبب مرسل حدیث ضعیف ہوتی ہے، اور اگر کسی ذریعہ سے یہ طے ہو جائے کہ تابعی نے صحابی ہی کو ساقط کیا ہے تو صحابی کے مجہول ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اسی لئے سعید بن المسیب کی مرسل روایت قبول کی جاتی ہے، اسی طرح کسی اور مرسل سند سے یہ حدیث آجائے تو بھی وہ مرسل قبول کر لی جاتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
معلق: وہ حدیث ہے جس کی سند کے شروع سے ایک یا کئی ایک راوی مسلسل یا سبھی رواۃ ساقط ہوں، اور چونکہ ساقط شدہ رواۃ کی عدالت اور ضبط کا کچھ علم نہیں اس لئے معلق بھی ضعیف کے اقسام میں سے ہے، البتہ صحیح بخاری کی معلق روایات اگر معروف صیغوں کے ساتھ مذکور ہوں (جیسے قال ابن عباس: قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم) تو ایک حد تک ان سے استناد کیا جا سکتا ہے۔
معضل: وہ حدیث ہے جس کے سند کے درمیان سے دو یا دو سے زیادہ راوی مسلسل ساقط ہوں۔
منقطع: وہ حدیث ہے جس کے درمیان سند سے کوئی ایک راوی ساقط ہو، یہ سقوط ایک جگہ سے بھی ہو سکتا ہے اور کئی جگہوں سے بھی (ابن حجر)۔
نوٹ: مذکورہ تعریف حافظ ابن حجر کی ہے اس کے لحاظ سے معضل اور متعدد جگہوں سے ایک راوی کے سقوط والے منقطع میں فرق یہ ہے کہ معضل میں سقوط میں تسلسل ہوتا ہے اور منقطع میں تعددِ محل ضروری ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مدلس: تدلیس کے ساتھ روایت کی گئی حدیث یا خبر کو ’’مُدَلَّس‘‘ کہتے ہیں اور اس طرح کی روایت کرنے والے راوی کو ’’مُدَلِّسْ‘‘ کہتے ہیں۔
تدلیس اور اس کی اقسام
تدلیس: لغت میں خریدار سے سامان کے عیب کو چھپانے کا نام تدلیس ہے۔ اصطلاح حدیث میں سند کے عیب پر پردہ ڈالنا اور ظاہری سند کو اچھا بنا کر پیش کرنے کا نام تدلیس ہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں: ایک تدلیس الشیوخ اور دوسری تدلیس الاسناد۔
۱- تدلیس الشیوخ: راوی اپنے شیخ کے معروف و مشہور نام کے بجائے اس کا کوئی غیر معروف نام لے، جیسے: غیر معروف لقب، یا کنیت، یا نسبت استعمال کرے، تاکہ لوگ اس کی اصلیت کو نہ جان پائیں کیونکہ وہ ضعیف ہوتا ہے اور اس کے ضعف کو چھپانا ہی مقصود ہوتا ہے، اس کو ’’تدليس الشيوخ‘‘ کہتے ہیں۔
۲- تدلیس الاسناد: راوی ایسے شیخ سے روایت کرے جس سے اس کی ملاقات تو ہو اور اس سے روایت بھی لی ہو مگراس حدیث کو اس شیخ سے نہ سنا ہو، جس سے تدلیس کر رہا ہے یا ایسے راوی سے روایت کرے جس سے اس کی ملاقات ہے لیکن اس سے کچھ سنا نہیں ہے، اور روایت کو عن فلانیا قال فلان جیسے الفاظ سے روایت کرے کہ اس راوی سے سماع کا دھوکہ ہو۔
اس کی تین صورتیں ہیں:
(ا) تدلیس القطع: اسے تدلیس الحذف بھی کہتے ہیں اس کی شکل یہ ہے کہ راوی سند کو کاٹ دینے یا حذف کر دینے کی نیت سے روایت حدیث کے الفاظ کے درمیان سکوت اختیار کرلے۔
(ب) تدلیس العطف: اس میں راوی اپنے شیخ سے روایت میں تحدیث کی صراحت کرے اور اس پر کسی دوسرے شیخ کا عطف کرے، جس سے اس نے یہ حدیث نہیں سنی ہے۔
(ج) تدلیس التسویہ: راوی دو ثقہ کے درمیان موجود ضعیف راوی کو ساقط کر دے، ان میں سے ایک کی ملاقات دوسرے سے موجود ہے، اور یہ مدلس راوی اپنے ثقہ شیخ سے اور وہ دوسرے ثقہ راوی سے حدیث روایت کرے، اور روایت میں عن وغیرہ الفاظ استعمال کرے جس سے سند کے متصل ہونے کا وہم ہو، تاکہ پوری سند ثقات پر مشتمل ہو اور یہ تدلیس کی سب سے خراب قسم ہے۔
’’معنعن‘‘ اور ’’عنعنه‘‘: تدلیسی روایات میں مدلِّس راوی ’’أخبرنا‘‘ یا ’’أخبرني‘‘ یا ’’حدثنا‘‘ یا حدثني یا ’’سمعت‘‘ جیسے الفاظ استعمال نہیں کرتا تاکہ ’’کذاب‘‘ نہ قرار دے دیا جائے بلکہ وہ ’’عن‘‘ یا ’’أنَّ‘‘ یا ’’قال‘‘ جیسے الفاظ استعمال کرتا ہے، تو ’’عن‘‘ کے ذریعہ روایت کرنے کو ’’عنعنه‘‘ کہتے ہیں۔ اور ایسی روایت کو ’’معنعن‘‘ کہتے ہیں۔
مُؤنَّنْ: اور ’’أنّ‘‘ کے ذریعہ روایت کو ’’مؤنن‘‘ کہتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مرسل خفی: راوی ایسے آدمی سے روایت کرے جو اُس کے زمانہ میں موجود تو ہو مگر اس سے اس کی ملاقات اور روایت نہ ہو، اور ایسے الفاظ استعمال کرے جس سے سماع کا دھوکہ ہو جیسے ’’عن‘‘ اور ’’قال‘‘ (تدلیس التسویہ اور ارسال خفی میں یہی فرق ہے کہ تدلیس میں ملاقات اور روایت ہوتی ہے اور ارسال خفی میں صرف زمانہ ایک ہوتا ہے لقاء اور سماع نہیں ہوتا)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
۲- راویِ میں کسی نقص اور عیب کے سبب ضعیف حدیث کی مندرجہ ذیل قسمیں ہیں

موضوع ، متروک، منکر، شاذ، معلل یا معلول، مدرج، مقلوب، مضطرب، اور مصحف
موضوع: اگر راوی کاذب اور جھوٹا ہے اور اس نے اپنی طرف سے سند، یا متنِ حدیث وضع کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر دیا ہے تو اُس کی یہ گڑھی اور بنائی ہوئی حدیث ’’موضوع‘‘ کہلاتی ہے، اور یہ ضعیف کی سب سے بدتر قسم ہے، اس کے مرتکب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہنم کی وعید سنائی ہے۔
متروك: اگر راوی اپنی عام بول چال میں جھوٹا آدمی ہو اور اس کی روایت کردہ حدیث صرف اسی کے واسطے سے مروی ہو، اور وہ حدیث دین کے مُسَلَّمَاتَ کے خلاف ہو تو اس حدیث کو ’’متروک‘‘ کہتے ہیں، اس کا درجہ شناعت و قباحت میں موضوع کے بعد ہے۔
منكر (ومعروف): وہ حدیث ہے جس کے راوی کے اندر ازحد غفلت، وہم، ظاہری فسق و فجور جیسے برے صفات پائے جاتے ہوں، یا کسی طرح کا کوئی ضعیف راوی کسی ثقہ (عادل و ضابط) راوی کے برخلاف روایت کرے: تو ضعیف کی روایت ’’منکر‘‘ اور ثقہ کی روایت کو ’’معروف‘‘ کہا جاتا ہے۔
شاذ (ومحفوظ): شاذ بھی ضعیف کی ایک قسم ہے، یہ ایسے ثقہ کی روایت کو کہتے ہیں جس نے اپنے سے زیادہ ثقہ راوی کے خلاف روایت کی ہو یا ثقہ نے ثقات کی ایک جماعت کے برخلاف روایت کی ہو، تو کم ثقہ اور ثقہ کی روایت کو شاذ اور اعلیٰ درجے کے ثقہ یا ثقات کی روایت کو ’’محفوظ‘‘ کہا جاتا ہے، اور ظاہر بات ہے کہ تعارض کے وقت ’’محفوظ‘‘ کو ترجیح دی جائے گی۔
مُعَلَّلْْ (یا معلول): اگر راوی کے اندر نقص ’’وہم‘‘ ہو تو اس کی روایت کو معلل یا معلول کہتے ہیں، اور سبب کو’’علت‘‘ کہتے ہیں، مخفی علت صحتِ حدیث میں قادح ہوتی ہے، اور اس پر بڑے بڑے ماہر محدثین ہی مطلع ہو پاتے ہیں۔
مدرج: راوی کا اپنی طرف سے اسناد یا متن میں ایسا اضافہ جو بظاہر اس کے اوپر کے راوی کے کلام (سند میں) یا متنِ حدیث ہی سے معلوم ہو، راوی کسی وضاحت کے لئے ایسا کرتا ہے لیکن سامع اس کو اصل سند یا اصل متن میں سے سمجھ کر روایت کر دیتا ہے، ادراج کا علم اس روایت کے کسی اور سند سے مروی ہونے، یا خود راوی کی وضاحت سے ہوتا ہے (تعریف سے ظاہر ہے کہ ادراج سند اور متن دونوں میں ہوتا ہے)
مقلوب: سند یا متن میں الٹ پھیر کو کہتے ہیں جیسے کوئی ’’کعب بن مرّۃ‘‘ کو ’’مُرّہ بن کعب‘‘ کر دے، یا روایت میں موجود ابن عمر رضی اللہ عنہما کے شاگرد ’’سالم‘‘ کی جگہ دوسرے شاگرد ’’نافع‘‘ کا نام لے لے (یہ مقلوبِ سند ہے) یا جیسے مسلم کی مشہور حدیث: <لاَ تَعْلَمُ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِيْنُهُ> کو "لاَ تَعلَمُ يَمِيْنُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ" کر دیا ہے۔ (یہ مقلوبِ متن ہے)
مضطرب: کسی ایک ہی حدیث کا اس طرح مختلف شکلوں میں مروی ہونا کہ ان شکلوں کا آپس میں باہم سخت اختلاف ہو، اور ان کے درمیان جمع و توفیق اور تاویل ممکن نہ ہو، اور تمام روایات قوت میں ایک دوسرے کے برابرہوں، کسی کو دوسرے پر کسی صورت میں ترجیح ممکن نہ ہو، اگر کوئی شکل (روایت) قوت میں زیادہ ہو تو پھر اس حدیث کو مضطرب نہیں کہیں گے، راجح شکل پر عمل کریں گے، اسنادی قوت کے علاوہ ترجیح کے اور بھی اسباب و عوامل ہوتے ہیں ان کے لحاظ سے بھی روایت کو ترجیح دی جا سکے تو اس پر عمل کیا جائے گا۔
مُصَحَّفْْ: کسی لفظ کو (جو ثقات سے مروی ہو) کسی دوسرے لفظ سے بدل کر روایت کر دینا (یہ تبدیلی لفظی اور معنوی دونوں ہو سکتی ہے) جیسے ’’العوام بن مُراحم‘‘ بالراء المهملة کو العوام بن مُزاحم بالزاي المعجمة کر دینا، یا جیسے ’’احتجر في المسجد‘‘ (مسجد میں حجرہ بنایا) کو ’’احتجم في المسجد‘‘ (مسجد میں پچھنا لگایا) کر دینا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
۳- منسوب الیہ کے اعتبار سے حدیث کی قسمیں

حدیث یا خبر کسی ذات یا شخص سے منسوب ہوتی ہے یعنی ہر حدیث اور خبر کا ایک مصدر ہوتا ہے اس کو منسوب الیہ کہتے ہیں، اس اعتبارسے حدیث کی مندرجہ ذیل قسمیں ہیں:
حدیث قدسی، حدیث مرفوع، موقوف، مقطوع، اور یہ اقسام صحیح ضعیف دونوں میں مشترک ہیں۔
حدیث قدسی: وہ حدیث ہے جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف کریں، جیسے آپ کا یہ فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
مرفوع: وہ حدیث جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہو، قولی ہو یا فعلی یا تقریری، احادیث کا بیشترحصہ حدیث مرفوع ہی پر مشتمل ہے، جیسے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے‘‘۔
موقوف: وہ خبر جو کسی صحابی کی طرف منسوب ہو، قولی ہو یا فعلی یا تقریری جیسے: ’’عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عورتوں کی مہروں میں غلو نہ کرو‘‘ (اس کو اثر بھی کہتے ہیں)۔
مقطوع: وہ خبرجس کی نسبت تابعی یا تبع تابعی کی طرف ہو، جیسے حسن بصری کا فرمان ہے ’’بدعتی کے پیچھے نمازپڑھ سکتے ہو اس کی بدعت کا وبال اسی کے اوپر ہو گا‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
۴- حدیث کی مشترک قسمیں

مسند: وہ مرفوع حدیث ہے جس کی سند متصل ہو، اس کی سند کے اندر کسی طرح کا انقطاع نہ ہو (عام مرفوع حدیث: منقطع اور معضل بھی ہو سکتی ہے)۔
متصل: وہ حدیث یا خبر ہے جس کی سند متصل ہو، اس کی سند کے اندر کسی قسم کا انقطاع نہ ہو، خواہ مرفوع ہو یا موقوف یا مقطوع۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
۵- عام اصطلاحات

متابعات: سند کے کسی طبقہ میں واقع کسی راوی کے ساتھ کوئی اور بھی راوی اس حدیث کی روایت میں شریک ہو لیکن صحابی ایک ہی ہو تو دوسرے راوی کو یا اس کی روایت کو ’’مُتابِع‘‘ اور پہلے راوی کو یا اس کی روایت کو مُتَابَع‘‘ کہتے ہیں، اور اس عمل کو متابعت کہتے ہیں جس کی جمع ’’متابعات‘‘ ہے۔
شواہد: ایک صحابی کی روایت دوسرے صحابی سے بھی آئے تو اُس کو شاہد کہتے ہیں، بلکہ ہر ایک دوسرے کی حدیث کی شاہد ہے، اس کی جمع شواہد ہے۔
لین الحدیث: اس کتاب میں کسی ضعیف حدیث کے اسباب ضعف میں اس راوی کے متعلق لکھا گیا ہے جس کے بارے میں حافظ ابن حجرنے ’’مقبول‘‘ لکھا ہے، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر اس راوی کا کوئی اور متابِع ہو گا تو اس کی روایت قبول کی جائے گی ورنہ رد کر دی جائے گی، اور اس روایت میں اس کا کوئی متابِع نہیں ہے، اس لئے اس کی یہ روایت ضعیف ہے۔
اختلاط (اور مختلط): کسی ثقہ عادل ضابط راوی کے حفظ و ضبط میں کسی حادثہ یا بڑھاپا کے سبب کمزوری واقع ہو جائے تو اس کو اختلاط کہتے ہیں اور راوی کو مختلط کہتے ہیں، مختلط کی روایت کو قبول کرنے کے سلسلے میں مندرجہ ذیل تفصیل ہے:
اس مختلط راوی سے روایت کر نے والے نے اختلاط طاری ہونے سے پہلے اس سے روایت لی ہے یا بعد میں؟ یا پہلے اور بعد دونوں حالتوں میں؟ تو جس نے اختلاط سے پہلے روایت لی ہے (اور وہ خود بھی ثقہ ہے) تو اس کی روایت مقبول ہو گی، اور دونوں حالتوں یا اختلاط کے بعد روایت لینے والے کی روایت قبول نہیں کی جائے گی۔
مجہول اور جہالت: کسی بھی راوی کی روایت اس کی ثقاہت (عدالت اور قوتِ حافظہ) کی بنیاد پر قبول کی جاتی ہے، اور جب کسی راوی کی ثقاہت معلوم ہی نہ ہو تو اس کی روایت کس بنیاد پر قبول کی جائے؟ اسی لئے مجہول راوی کی روایت قبول نہیں کی جاتی۔
جہالت دو طرح کی ہوتی ہے: جہالتِ عین اور جہالتِ حال، جہالت عین کا مطلب ہے کہ سرے سے راوی کی شخصیت کا اس سے زیادہ اتہ پتہ نہیں کہ اس سے ایک آدمی نے روایت لی ہے اور کسی امامِ جرح و تعدیل نے اس کی ثقاہت کا ذکر نہ کیا ہو، اور جب شخصیت مجہول ہے تو ثقاہت کا کیسے پتہ چلے، ایسے راوی کوصرف ’’مجہول‘‘ یا مجہول العین کہتے ہیں۔
اور جہالتِ حال کا مطلب یہ ہے کہ دو آدمیوں کے اس سے روایت لے لینے کی وجہ سے اس کی شخصیت تو معلوم ہوئی مگر ثقاہت کے بارے میں کسی امام جرح و تعدیل نے کچھ ذکرنہیں کیا ہے ایسے راوی کو مجہول الحال یا مستورکہتے ہیں۔
مبہم: ایسے راوی کو کہتے ہیں جس کا نام معلوم نہ ہو، اس سے روایت کرنے والا ’’عن رجل‘‘ یا عن امرأۃ ‘‘یا ’عن أبیہ‘‘ یا ’’عن أمہ‘‘ یا ’’جدہ‘‘ یا ’’عن عمہ‘‘ یا ’’جدتہ‘‘ یا ’’عن صاحب لہ‘‘ وغیرہ جیسے مبہم ناموں سے اس کا ذکر کرتا ہے تو جب نام ہی نہیں معلوم تو اس کی ثقاہت کا کیا اتہ پتہ، ہاں کسی خارجی ذریعہ سے اس کا نام اور ثقاہت معلوم ہو جائے تو اس کی روایت قبول کر لی جاتی ہے۔
ناسخ و منسوخ: ناسخ کے لغوی معنی زائل کرنے والا اور منسوخ کے لغوی معنی زائل کیا ہوا ہے۔
اصطلاح میں ناسخ اس حدیث کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ شارع نے پہلے حکم کو ختم کر دیا ہو۔ اور منسوخ وہ حدیث ہے جس میں پہلے حکم کو اس ناسخ حدیث نے ختم کر دیا ہو۔

(مرتبہ: أحمد مجتبی بن نذیر عالم السلفی)

* * * * *
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سنن ابی داود میں استعمال ہونے والے رموز و علامات


خ صحیح البخاری

م صحیح مسلم

ت سنن الترمذی

ن سنن النسائی

ق سنن ابن ماجہ

حم مسند احمد

ط موطا امام مالک

دی سنن الدارمی

الصحیحۃ سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ، للالبانی

الضعیفۃ سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ، للالبانی

تفرد بہ ابو داود یعنی یہ حدیث صرف سنن ابی داود میں ہے اور صحاح ستہ کے بقیہ مؤلفین کے یہاں نہیں ہے

انظر ما قبلہ اس سے پہلے کی حدیث ملاحظہ ہو

انظر حدیث رقم (۔۔۔۔) حدیث نمبر (۔۔۔۔) ملاحظہ ہو​

* تخريج: خ/الاعتکاف ۵ (۲۰۳۲) (خ) سے مراد صحیح البخاری، (الاعتکاف) یعنی صحیح البخاری کی کتاب الاعتکاف، (۵) یعنی باب نمبر، (۲۰۳۲) یعنی حدیث نمبر
* * * * *
 
Top