• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
70- بَاب الرَّجُلَيْنِ يَؤُمُّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ كَيْفَ يَقُومَانِ؟
۷۰-باب: جب دو آدمیوں میں سے ایک امامت کرے تو دونوں کیسے کھڑے ہوں؟​


608- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ فَأَتَوْهُ بِسَمْنٍ وَتَمْرٍ، فَقَالَ: < رُدُّوا هَذَا فِي وِعَائِهِ، وَهَذَا فِي سِقَائِهِ، فَإِنِّي صَائِمٌ >، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ تَطَوُّعًا، فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا، قَالَ ثَابِتٌ: وَلا أَعْلَمُهُ إِلا قَالَ: أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ عَلَى بِسَاطٍ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۳۷۵)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۷۸ (۷۲۷)، م/المساجد ۴۸ (۱۴۹۹)، ن/الإمامۃ ۲۰ (۸۰۴)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۴۵ (۹۷۵)، حم (۳/۱۶۰، ۱۸۴، ۲۰۴، ۲۳۹، ۲۴۲، ۲۴۸) (صحیح)

۶۰۸- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امّ حرام رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو ان کے گھروالوں نے گھی اور کھجور پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے (کھجور کو) اس کی تھیلی میں اور اسے (گھی کو) اس کے بر تن میں لوٹا دو کیونکہ میں صوم سے ہوں‘‘، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں دو رکعت نفل صلاۃ پڑھائی تو امّ سلیم (انس کی والدہ) اور امّ حرام ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔
ثابت کہتے ہیں: میں تو یہی جانتا ہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہاکہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی داہنی طرف فرش پر کھڑا کیا۔

609- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَمَّهُ وَامْرَأَةً مِنْهُمْ، فَجَعَلَهُ عَنْ يَمِينِهِ وَالْمَرْأَةَ خَلْفَ ذَلِكَ۔
* تخريج: م/المساجد ۴۸ (۶۶۰)، ن/الإمامۃ ۲۰ (۸۰۴)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۴۴ (۹۷۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۹)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۹۴، ۲۵۸، ۲۶۱) (صحیح)

۶۰۹- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اور ان کے گھرکی ایک عورت کی امامت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (یعنی انس رضی اللہ عنہ کو) اپنے داہنی طرف کھڑا کیا، اور عورت کو پیچھے۔

610- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءِ؛ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنَ اللَّيْلِ، فَأَطْلَقَ الْقِرْبَةَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ أَوْكَأَ الْقِرْبَةَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلاةِ، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ كَمَا تَوَضَّأَ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي بِيَمِينِهِ فَأَدَارَنِي مِنْ وَرَائِهِ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ۔
* تخريج: م/المسافرین ۲۶ (۷۶۳)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۴۴ (۹۷۳)، (تحفۃ الأشراف: ۵۹۰۸)، وقد أخرجہ: خ/العلم ۴۱ (۱۱۷)، والأذان ۵۷ (۶۹۷)، ۵۹ (۶۹۹)، ۷۹ (۷۲۸)، واللباس ۷۱ (۵۹۱۹)، ن/الغسل ۲۹ (۴۴۳)، الإمامۃ ۲۲ (۸۰۷)، وقیام اللیل ۹ (۱۶۲۱)، حم (۱/۲۱۵، ۲۵۲، ۲۵۸، ۲۸۷، ۳۴۱، ۳۴۷، ۳۵۴، ۳۵۷، ۳۶۰، ۳۶۵)، دي/الصلاۃ ۴۳ (۱۲۹۰) (صحیح)

۶۱۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات بسر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو اٹھے، مشک کا منہ کھول کر وضو کیا پھر اس میں ڈاٹ لگا دی، پھر صلاۃ کے لئے کھڑے ہوئے، پھر میں بھی اٹھا اور اسی طرح وضو کیا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا تھا، پھر میں آکر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ نے اپنے داہنے ہاتھ سے مجھے پکڑا، اور اپنے پیچھے سے لا کر اپنی دا ہنی طرف کھڑا کر لیا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلاۃ پڑھی۔

611- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ؛ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ: فَأَخَذَ بِرَأْسِي، أَوْ بِذُؤَابَتِي، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ۔
* تخريج: خ/اللباس ۷۱ (۵۹۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۵۴۵۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۱۵، ۲۸۷) (صحیح)

۶۱۱- اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس واقعہ میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سر یا میری چوٹی پکڑی پھر مجھے اپنی داہنی جانب لا کھڑا کیا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
71- بَاب إِذَا كَانُوا ثَلاثَةً كَيْفَ يَقُومُونَ ؟
۷۱-باب: جب تین آدمی صلاۃ پڑھ رہے ہوں تو کس طرح کھڑے ہوں؟​


612- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ: <قُومُوا فَلأُصَلِّيَ لَكُمْ>، قَالَ أَنَسٌ: فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ، فَنَضَحْتُهُ بِمَائٍ، فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَائَهُ، وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۲۰ (۳۸۰)، والأذان ۷۸ (۷۲۷)، ۱۶۱ (۸۶۰)، ۱۶۴ (۸۷۱)، ۱۶۷ (۸۷۴)، م/المساجد ۴۸ (۶۵۸)، ت/الصلاۃ ۵۹ (۲۳۴)، ن/المساجد ۴۳ (۷۳۸)، والإمامۃ ۱۹ (۸۰۲)، ۶۲ (۸۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۷)، وقد أخرجہ: ط/قصر الصلاۃ ۹(۳۱)، حم (۳/۱۳۱، ۱۴۵، ۱۴۹، ۱۶۴)، دي/الصلاۃ ۶۱ (۱۳۲۴) (صحیح)

۶۱۲- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کی دادی ملیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا، جو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تیار کیا تھا، تو آپ نے اس میں سے کھایا پھر فرمایا :’’تم لوگ کھڑے ہو جاؤ تاکہ میں تمہیں صلاۃ پڑھاؤں‘‘۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں اپنی ایک چٹائی کی طرف بڑھا، جو عرصے سے پڑ ے پڑے کالی ہو گئی تھی تو اس پر میں نے پانی چھڑکا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے، میں نے اور ایک یتیم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھی اور بوڑھی عورت (ملیکہ) ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں تو آپ نے ہمیں دو رکعت صلاۃ پڑھائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس ہوئے۔

613- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَلْقَمَةُ وَالأَسْوَدُ عَلَى عَبْدِاللَّهِ وَقَدْ كُنَّا أَطَلْنَا الْقُعُودَ عَلَى بَابِهِ، فَخَرَجَتِ الْجَارِيَةُ فَاسْتَأْذَنَتْ لَهُمَا فَأَذِنَ لَهُمَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بَيْنِي وَبَيْنَهُ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَعَلَ۔
* تخريج: ن/المساجد ۲۷ (۷۲۰)، والإمامۃ ۱۸ (۸۰۰)، والتطبیق ۱ (۱۰۳۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۷۳)، وقد أخرجہ: م/المساجد ۵ (۱۱۹۱)، حم (۱/۴۲۴، ۴۵۱، ۴۵۵، ۴۵۹) (صحیح)

۶۱۳- اسود بن یزید نخعی سے روایت ہے کہ میں نے اور علقمہ بن قیس نخعی نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی اور ہم دیر تک آپ کے دروازے پر بیٹھے تھے، تو لونڈی نکلی اور اس نے جا کر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہمارے لئے اجازت مانگی، آپ نے ہم کو اجازت دی (اور ہم اندر گئے) پھر ابن مسعود میرے اور علقمہ کے درمیان میں کھڑے ہوئے اور صلاۃ پڑھائی پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے ۱؎ ۔
وضاحت۱؎ : جب تین آدمی جماعت سے صلاۃ پڑھ رہے ہوں توا مام آگے کھڑا ہو گا، اور دونوں مقتدی اس کے پیچھے کھڑے ہوں گے، اور یہ حکم کہ تین آدمی ہوں تو امام ان کے درمیان کھڑا ہو منسوخ ہے، ابن سیرین فرماتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ جگہ کی تنگی کی وجہ سے آگے بڑھنے کے بجائے درمیان میں کھڑے ہوئے تھے (دیکھئے عون المعبود، حدیث مذکور)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
72- بَاب الإِمَامِ يَنْحَرِفُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
۷۲-باب: سلام پھیرنے کے بعد امام کے (مقتدیوں کی طرف) مڑنے کا بیان​


614- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَكَانَ إِذَا انْصَرَفَ انْحَرَفَ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۵۱ (۲۱۹)، الإمامۃ ۵۴ (۸۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۲۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۷۵، ۲۷۹) (صحیح)

۶۱۴- یزید بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صلاۃ پڑھی، جب آپ صلاۃ سے فارغ ہوئے تو (مصلیوں کی طرف) مڑ گئے۔

615- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَحْبَبْنَا أَنْ نَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ فَيُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ صلی اللہ علیہ وسلم۔
* تخريج: م/المسافرین ۸ (۷۰۹)، ن/الإمامۃ ۳۴ (۸۲۳)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۵۵ (۱۰۰۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۹)، وقد أخرجہ: (۴/۲۹۰، ۳۰۴) (صحیح)

۶۱۵- براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صلاۃ پڑھتے تو ہماری یہ خواہش ہوتی کہ ہم آپ کی داہنی طرف رہیں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سلام پھیر نے کے بعد) اپنا رخ ہماری طرف کر لیں۱؎ ۔
وضاحت۱؎: بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر داہنی طرف مڑتے تھے، اس لئے لوگ آپ کے دائیں رہنا پسند کرتے تھے، بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم بائیں طرف بھی مڑتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
73- بَاب الإِمَامِ يَتَطَوَّعُ فِي مَكَانِهِ
۷۳-باب: امام اپنی جگہ پر نفل پڑھے اس کے حکم کا بیان​


616- حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا عَطَائٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < لا يُصَلِّ الإِمَامُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ حَتَّى يَتَحَوَّلَ >.
قَالَ أَبودَاود: عَطَائٌ الْخُرَاسَانِيُّ لَمْ يُدْرِكِ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ۔
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۲۰۳ (۱۴۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۱۷) (صحیح)

(شواہد سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ مؤلف کی سند میں دو علتیں ہیں: عطاء خراسانی اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع، اور عبدالعزیز قرشی مجہول ہیں)
۶۱۶- مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’امام اس جگہ پر (نفل) صلاۃ نہ پڑھے جہاں اس نے (فرض) صلاۃ پڑھی ہے، جب تک کہ وہاں سے ہٹ نہ جائے ‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: عطا ء خراسانی کی مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں ہے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
74- بَاب الإِمَامِ يُحْدِثُ بَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ آخِرِ الرَّكْعَةِ
۷۴-باب: آخری رکعت کے سجدے سے سر اٹھانے کے بعد امام کا وضو ٹوٹ جائے تو کیا حکم ہے؟​


617- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ وَبَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: <إِذَا قَضَى الإِمَامُ الصَّلاةَ وَقَعَدَ فَأَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ فَقَدْ تَمَّتْ صَلاتُهُ، وَمَنْ كَانَ خَلْفَهُ مِمَّنْ أَتَمَّ الصَّلاةَ>۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۸۸ (۴۰۸)، (تحفۃ الأشراف: ۸۶۱۰) (ضعیف)

(اس کے راوی ’’عبدالرحمن افریقی‘‘ ضعیف ہیں، نیز یہ حدیث اگلی صحیح حدیث کے مخالف ہے)
۶۱۷- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب امام صلاۃ پوری کر لے اور آخری قعدہ میں بیٹھ جائے، پھر بات کرنے (یعنی سلام پھیرنے) سے پہلے اس کا وضو ٹوٹ جائے تو اس کی اور اس کے پیچھے جنہوں نے صلاۃ مکمل کی، سب کی صلاۃ پوری ہو گئی‘‘ ۔

618- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِي اللَّه عَنْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < مِفْتَاحُ الصَّلاةِ الطُّهُورُ، وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ، وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ >۔
* تخريج: ت/الطھارۃ ۳ (۳)، ق/الطھارۃ ۳ (۲۷۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۲۶۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۲۳)، دي/الطھارۃ ۲۱ (۷۱۳) (حسن صحیح)

۶۱۸- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’صلاۃ کی کلید (کنجی) پاکی ہے، اور اس کی تحریم تکبیر ہے، اور اس کی تحلیل تسلیم ہے ‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی تکبیر تحریمہ کے ساتھ ہی صلاۃ کے منافی سارے کام حرام ہو جاتے ہیں، اور سلام پھیرنے کے ساتھ ہی وہ سارے کام جائز ہو جاتے ہیں جو صلاۃ میں ناجائز ہو گئے تھے، پس سلام ہی کے ذریعہ آدمی کی صلاۃ پوری ہو گی نہ کہ کسی اور چیز سے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
75- بَاب مَا يُؤْمَرُ بِهِ الْمَأْمُومُ مِنِ اتِّبَاعِ الإِمَامِ
۷۵-باب: مقتدیوں کو حکم ہے کہ وہ امام کی اتباع کریں​

619- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : <لاتُبَادِرُونِي بِرُكُوعٍ وَلا بِسُجُودٍ، فَإِنَّهُ مَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا رَكَعْتُ تُدْرِكُونِي بِهِ إِذَا رَفَعْتُ، إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ >۔
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۴۱ (۹۶۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۲۶)، وقد أخرجہ: حم(۴/۹۲، ۹۸)، دي/الطھارۃ ۷۲ (۷۸۲) (حسن صحیح)

۶۱۹- معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھ سے پہلے نہ رکوع کرو اور نہ سجدہ، کیونکہ میں تم سے جس قدر پہلے رکوع میں جاؤں گا اتنا تم مجھے پا لو گے، جب میں تم سے پہلے سر اٹھاؤں گا۱؎ کیونکہ میں موٹا ہو گیا ہوں‘‘۔
وضاحت ۱؎ : یعنی میرے سر اٹھانے تک تم رکوع ہی میں رہو، یہ عوض ہوںجائے گا اس مدت کا جو تم میرے بعد رکوع میں گئے تھے ۔

620- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ يَخْطُبُ النَّاسَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ -وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ- أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا رَفَعُوا رُئُوسَهُمْ مِنَ الرُّكُوعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَامُوا قِيَامًا، فَإِذَا رَأَوْهُ قَدْ سَجَدَ سَجَدُوا۔
* تخريج: خ/الأذان ۵۲ (۶۹۰)، ۹۱ (۷۴۷)، ۱۳۳ (۸۱۱)، م/الصلاۃ ۳۹ (۴۷۴)، ت/الصلاۃ ۹۳ (۲۸۱)، ن/الإمامۃ ۳۸ (۸۳۰)، حم (۴/۲۹۲، ۳۰۰، ۳۰۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۲) (صحیح)

۶۲۰- براء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے (اور وہ جھوٹے نہ تھے) کہ لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے سروں کو رکوع سے اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے، پھر جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیتے کہ آپ سجدے میں چلے گئے ہیں، تب سجدہ میں جاتے۔

621- حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَهَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ -الْمَعْنَى- قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا الْكُوفِيُّونَ أَبَانُ وَغَيْرُهُ عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَلا يَحْنُو أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَرَى النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۳۹ (۴۷۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۴) (صحیح)

۶۲۱- براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلاۃ پڑھتے تھے تو ہم میں سے کوئی شخص اس وقت تک اپنی پیٹھ نہیں جھکاتا جب تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (زمین پر اپنی پیشانی رکھتے ہوئے) نہ دیکھ لیتا ۔

622- حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ -يَعْنِي الْفَزَارِيَّ- عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَإِذَا رَكَعَ رَكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، لَمْ نَزَلْ قِيَامًا حَتَّى يَرَوْهُ قَدْ وَضَعَ جَبْهَتَهُ بِالأَرْضِ، ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
* تخريج: انظر ما قبله، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۳) (صحیح)

۶۲۲- براء بن عازب رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلاۃ پڑھتے تھے تو جب آپ رکوع کرتے تو وہ بھی رکوع کرتے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ’’سمع الله لمن حمده‘‘ کہتے تو ہم کھڑے رہتے یہاں تک کہ لوگ آپ کو اپنی پیشانی زمین پر رکھتے دیکھ لیتے، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سجدہ میں جاتے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
76- بَاب التشديد فِيمَنْ يَرْفَعُ قَبْلَ الإِمَامِ أويضع له
۷۶-باب: امام سے پہلے سر اٹھانے یا رکھنے پر وارد وعید کا بیان​


623- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < أَمَا يَخْشَى [أَوْ] أَلا يَخْشَى أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَالإِمَامُ سَاجِدٌ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ أَوْ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ >۔
* تخريج: خ/الأذان ۵۳ (۶۹۱)، م/الصلاۃ ۲۵ (۴۲۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۳۸۰)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۲۹۲ (۵۸۲)، ن/الإمامۃ ۳۸ (۸۲۹)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۴۱ (۹۶۱)، حم (۲/۲۶۰، ۲۷۱، ۴۲۵، ۴۵۴، ۴۵۶، ۴۶۹، ۴۷۲، ۵۰۴)، دي/الصلاۃ ۷۲ (۱۳۵۵) (صحیح)

۶۲۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے وہ شخص جو اپنا سر اٹھاتا ہے جب کہ امام سجدے میں ہو، کیا اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالی اس کا سر یا اس کی صورت گدھے کی بنا دے‘‘۔
راوی کو شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’أما يخشى ‘‘ فرمایا، یا ’’ألا يخشى‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
77- بَاب فِيمَنْ يَنْصَرِفُ قَبْلَ الإِمَامِ
۷۷-باب: امام سے پہلے اٹھ کر جانے کا بیان​


624- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ بُغَيْلٍ الْمُرْهِبِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم حَضَّهُمْ عَلَى الصَّلاةِ وَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلاةِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابو داود ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۱)، وقد أخرجہ: م/الصلاۃ ۲۵ (۴۲۷)، ن/السھو ۱۰۲ (۱۳۶۴)، حم (۳/۱۰۲، ۱۲۶، ۱۵۴، ۲۴۰)، دي/الصلاۃ ۷۲ (۱۳۵۶) (صحیح)

۶۲۴- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (یعنی مسلمانوں کو) صلاۃ کی ترغیب دلائی اور انہیں امام سے پہلے صلاۃ سے اٹھ کر جانے سے منع فرمایا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
78- بَاب جُمَّاعِ أَثْوَابِ مَا يُصَلَّى فِيهِ
۷۸-باب: کتنے کپڑوں میں صلاۃ پڑھنی درست ہے؟​


625- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم سُئِلَ عَنِ الصَّلاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : <أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ >۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۴ (۳۵۸)، م/الصلاۃ ۵۲ (۵۱۵)، ن/القبلہ ۱۴ (۷۶۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۲۳۱)، وقد أخرجہ: ق/إقامۃ الصلاۃ ۶۹ (۱۰۴۷)، ط/صلاۃ الجماعۃ ۹ (۳۰)، حم (۲/۲۳۰، ۲۳۹، ۲۸۵، ۳۴۵، ۴۹۵، ۴۹۸، ۴۹۹، ۵۰۱)، دي/الصلاۃ ۹۹ (۱۴۱۰) (صحیح)

۶۲۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں صلاۃ پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ’’کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں؟‘‘۔

626- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : < لا يُصَلِّ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ مِنْهُ شَيْئٌ >۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۵۲ (۵۱۶)، ن/القبلۃ ۱۸ (۷۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۶۷۸)، وقد أخرجہ: خ/الصلاۃ ۵ (۳۵۹)، حم (۲/۲۴۳)، دي/الصلاۃ ۹۹ (۱۴۱۱) (صحیح)

۶۲۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح صلاۃ نہ پڑھے کہ اس کے دونوں کندھوں پر اس میں سے کچھ نہ ہو‘‘ ۔

627- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى (ح) وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ -الْمَعْنَى- عَنْ هِشَامِ ابْنِ أَبِي عَبْدِاللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم : <إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ فَلْيُخَالِفْ بِطَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ>۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۵ (۳۶۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۲۵۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۵۵، ۲۶۶، ۴۲۷، ۵۲۰) (صحیح)

۶۲۷- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں صلاۃ پڑھے تو اس کے داہنے کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو داہنے کندھے پر ڈال لے‘‘۔

628- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفًا مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْهِ۔
* تخريج: م/الصلاۃ ۵۲ (۵۱۷)، ت/الصلاۃ ۱۴۲ (۳۳۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۸۲)، وقد أخرجہ: خ/الصلاۃ ۴ (۳۵۵)، ن/القبلۃ ۱۴(۷۶۵)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۶۹ (۱۰۴۹)، ط/صلاۃ الجماعۃ ۹ (۲۹)، حم (۴/ ۲۶، ۲۷) (صحیح)

۶۲۸- عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں صلاۃ پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ اسے اس طرح لپیٹے ہوئے تھے کہ اس کا دایاں کنارہ بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ دائیں کندھے پر تھا۔

629- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُلازِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ ابْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا تَرَى فِي الصَّلاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ؟ قَالَ: فَأَطْلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِزَارَهُ طَارَقَ بِهِ رِدَائَهُ فَاشْتَمَلَ بِهِمَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا نَبِيُّ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَلَمَّا أَنْ قَضَى الصَّلاةَ قَالَ: <أَوَكُلُّكُمْ يَجِدْ ثَوْبَيْنِ؟>۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۲۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۲) (صحیح)

۶۲۹- طلق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ایک کپڑے میں صلاۃ پڑھنے کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند کھولا، اور اپنی چادر اور تہبند کو ایک کر لیا پھر آپ نے انہیں لپیٹ لیا، پھر کھڑے ہوئے ، پھر آپ نے ہمیں صلاۃ پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃ پوری کر لی تو فرمایا: ’’ کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں؟‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
79- بَاب الرَّجُلِ يَعْقِدُ الثَّوْبَ فِي قَفَاهُ ثُمَّ يُصَلِّي
۷۹-باب: آدمی گردن کے پیچھے کپڑے باندھ کر صلاۃ پڑھے تو کیسا ہے؟​


630- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ الرِّجَالَ عَاقِدِي أُزُرِهِمْ فِي أَعْنَاقِهِمْ مِنْ ضِيقِ الأُزُرِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي الصَّلاةِ كَأَمْثَالِ الصِّبْيَانِ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، لا تَرْفَعْنَ رُئُوسَكُنَّ حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۶ (۳۶۲)، والأذان ۱۳۶ (۸۱۴)، والعمل في الصلاۃ ۱۴ (۱۲۱۵)، م/الصلاۃ ۲۹ (۴۴۱)، ن/القبلۃ ۱۶ (۷۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۸۱)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۳۱) (صحیح)

۶۳۰- سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ صلاۃ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اپنے تہبند تنگ ہونے کی وجہ سے گردنوں پر بچوں کی طرح باندھے ہوئے ہیں، تو ایک کہنے والے نے کہا: اے عورتوں کی جماعت! تم اپنے سر اس وقت تک نہ اٹھانا جب تک مرد نہ اٹھا لیں۔
 
Top