198-بَاب مَنْ قَالَ يُتِمُّ عَلَى أَكْبَرِ ظَنِّهِ
۱۹۸- باب: غالب گمان کے مطابق رکعات پوری کرے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان
1028- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم، قَالَ: < إِذَا كُنْتَ فِي صَلاةٍ فَشَكَكْتَ فِي ثَلاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ وَأَكْبَرُ ظَنِّكَ عَلَى أَرْبَعٍ تَشَهَّدْتَ ثُمَّ سَجَدْتَ سَجْدَتَيْنِ وَأَنْتَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ تُسَلِّمَ، ثُمَّ تَشَهَّدْتَ أَيْضًا، ثُمَّ تُسَلِّمُ >.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ عَبْدُالْوَاحِدِ عَنْ خُصَيْفٍ وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَوَافَقَ عَبْدَالْوَاحِدِ أَيْضًا سُفْيَانُ وَشَرِيكٌ وَإِسْرَائِيلُ، وَاخْتَلَفُوا فِي الْكَلامِ فِي مَتْنِ الْحَدِيثِ وَلَمْ يُسْنِدُوهُ۔
* تخريج: ن الکبری / السہو ۱۲۶ (۶۰۵)، وانظر رقم : (۱۰۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۰۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۲۸، ۴۲۹ موقوفاً) (ضعیف) (ابوعبیدہ کا اپنے والد ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں ہے)
۱۰۲۸- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ’’جب تم صلاۃ میں رہو اور تمہیں تین یا چار میں شک ہو جائے اور تمہارا غالب گمان یہ ہو کہ چار رکعت ہی پڑھی ہے تو تشہد پڑھو، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرو، پھر تشہد پڑھو اور پھر سلام پھیر دو‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: اِسے عبد الواحد نے خصیف سے روایت کیا ہے اور مرفوع نہیں کیا ہے۔ نیز سفیان، شریک اور اسرائیل نے عبد الواحد کی موافقت کی ہے اور ان لوگوں نے متن حدیث میں اختلاف کیا ہے اور اسے مسند نہیں کیا ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: کیونکہ ابو عبیدہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا ہے۔
1029- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا عِيَاضٌ (ح) وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِلالِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَمْ يَدْرِ زَادَ أَمْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِذَا أَتَاهُ الشَّيْطَانُ فَقَالَ: إِنَّكَ قَدْ أَحْدَثْتَ، فَلْيَقُلْ: كَذَبْتَ، إِلا مَا وَجَدَ رِيحًا بِأَنْفِهِ أَوْ صَوْتًا بِأُذُنِهِ >، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبَانَ.
قَالَ أَبودَاود: وَقَالَ مَعْمَرٌ وَعَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ: عِيَاضُ بْنُ هِلالٍ، وَقَالَ الأَوْزَاعِيُّ: عِيَاضُ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۷۹ (۳۹۶)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۲۹ (۱۲۰۴)، (تحفۃ الأشراف: ۴۳۹۶)، وقد أخرجہ: م/المساجد ۱۹ (۵۷۱)، ن/السہو ۲۴ (۱۲۴۰)، ط/الصلاۃ ۱۶ (۶۲)، حم (۳/۱۲، ۳۷،۵۰، ۵۱، ۵۳، ۵۴)، دی/الصلاۃ ۱۷۴ (۱۵۳۶) (ضعیف) (ہلال بن عیاض مجہول راوی ہیں، مگر ابوہریرہ کی حدیث (۱۰۳۰) نیز دیگر صحیح احادیث سے اسے تقویت ہو رہی ہے)
۱۰۲۹- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص صلاۃ پڑھے اور یہ نہ جان سکے کہ زیادہ پڑھی ہے یا کم تو بیٹھ کر دو سجدے کر لے۱؎ پھر اگر اس کے پاس شیطان آئے اور اس سے کہے (یعنی دل میں وسوسہ ڈالے) کہ تو نے حدث کر لیا ہے تو اس سے کہے: تو جھوٹا ہے مگر یہ کہ وہ اپنی ناک سے بو سونگھ لے یا اپنے کان سے آواز سن لے۲؎‘‘۔
وضاحت۱؎: ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی اگلی حدیث دونوں مجمل ہیں، انہیں کی دیگر روایات سے یہ ثابت ہے کہ تلاش و تحری کرکے یقینی پہلو پر بنا کرے، یا ہر حال میں کم پر ہی بنا کرے باقی رکعت پوری کرکے سجدہ سہو کرے، خالی سجدہ سہو کافی نہیں ہے، بعض سلف نے کہا ہے: یہ اس کے لئے ہے جس کو ہمیشہ شک ہو جاتا ہے۔
وضاحت۲؎: یعنی اسے یقین ہو جائے کہ حدث ہو گیا ہے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
1030- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: < إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جَائَهُ الشَّيْطَانُ فَلَبَّسَ عَلَيْهِ حَتَّى لا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى، فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ >.
قَالَ أَبودَاود: وَكَذَا رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَمَعْمَرٌ وَاللَّيْثُ ۔
* تخريج: خ/الأذان ۴ (۶۰۸)، والعمل فی الصلاۃ ۱۸ (۱۲۲۲)، والسھو ۶ (۱۲۳۱)، ۷ (۱۲۳۲)، وبدء الخلق ۱۱ (۳۲۸۵)، م/الصلاۃ ۸ (۳۸۹)، والمساجد ۱۹ (۵۷۰)، ن/الأذان ۳۰ (۶۷۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۲۴۴)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۱۷۹ (۳۹۷)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۳۵ (۱۲۱۶)، ط/السہو ۱(۱)، حم (۲/۳۱۳، ۳۹۸، ۴۱۱، ۴۶۰، ۵۰۳، ۵۲۲، ۵۳۱) وتقدم برقم (۵۱۶) (صحیح)
۱۰۳۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص صلاۃ پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور اسے شبہے میں ڈال دیتا ہے، یہاں تک کہ اُسے یاد نہیں رہ جاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ لہٰذا جب تم میں سے کسی کو ایسا محسوس ہو تو وہ بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: اسی طرح اِسے ابن عیینہ، معمر اور لیث نے روایت کیا ہے۔
1031- حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ مُسْلِمٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ بِإِسْنَادِهِ، زَادَ: < وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ التَّسْلِيمِ > ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ (تحفۃ الأشراف: ۱۵۲۵۶) (حسن صحیح)
۱۰۳۱- اس طریق سے بھی محمد بن مسلم سے اسی سند سے یہی حدیث مروی ہے، اس میں یہ اضافہ ہے کہ وہ سلام سے پہلے بیٹھے (دو سجدے کرے)۔
1032- حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، أَخْبَرَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ: < فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ لِيُسَلِّمْ >۔
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۳۵ (۱۲۱۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۲۵۲) (حسن صحیح)
۱۰۳۲- اس طریق سے بھی محمد بن مسلم زہری سے اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ پھر وہ سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے پھر سلام پھیرے۔