• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
291- بَاب رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ
۲۹۱- باب: فجر کی دو رکعت سنت کا بیان​


1254- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَطَائٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَمْ يَكُنْ عَلَى شَيْئٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مُعَاهَدَةً مِنْهُ عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ۔
* تخريج: خ/صلاۃ اللیل ۲۷ (۱۱۶۹)، م/السافرین ۱۴(۷۲۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۲۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۳، ۵۴، ۱۷۰) (صحیح)

۱۲۵۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی اور نفل کا اتنا خیال نہیں رکھتے تھے جتنا صبح سے پہلے کی دونوں کی رکعتوں کا رکھتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
292- بَاب فِي تَخْفِيفِهِمَا
۲۹۲- باب: فجر کی سنتوں کو ہلکی پڑھنے کا بیان​

1255- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُخَفِّفُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلاةِ الْفَجْرِ حَتَّى إِنِّي لأَقُولُ هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ۔
* تخريج: خ/التھجد ۲۸ (۱۱۷۱)، م/المسافرین ۱۴ (۷۲۴)، ن/الافتتاح ۴۰ (۹۴۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۱۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۰، ۴۹، ۱۰۰، ۱۶۵، ۱۸۳، ۱۸۶، ۲۳۵) (صحیح)

۱۲۵۵- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فجر سے پہلے کی دونوں رکعتیں ہلکی پڑھتے تھے، یہاں تک کہ میں کہتی: کیا آپ نے ان میں سورہ فاتحہ پڑھی ہے؟

1256- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَرَأَ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ: { قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ}، وَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ}۔
* تخريج: م/المسافرین ۱۴ (۷۲۶)، ن/الافتتاح ۳۹ (۹۴۶)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۰۲ (۱۱۴۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۴۳۸) (صحیح)

۱۲۵۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فجر کی دونوں رکعتوں میں {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} اور {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} پڑھی۔

1257- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْعَلاءِ، حَدَّثَنِي أَبُو زِيَادَةَ عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ زِيَادَةَ الْكِنْدِيُّ، عَنْ بِلالٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَيُؤْذِنَهُ بِصَلاةِ الْغَدَاةِ، فَشَغَلَتْ عَائِشَةُ رَضِي اللَّه عَنْهَا بِلالاً بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى فَضَحَهُ الصُّبْحُ، فَأَصْبَحَ جِدًّا، قَالَ: فَقَامَ بِلالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلاةِ، وَتَابَعَ أَذَانَهُ، فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَلَمَّا خَرَجَ صَلَّى بِالنَّاسِ، وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ شَغَلَتْهُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّى أَصْبَحَ جِدًّا، وَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ، فَقَالَ: < إِنِّي كُنْتُ رَكَعْتُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ > فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ أَصْبَحْتَ جِدًّا، قَالَ: < لَوْ أَصْبَحْتُ أَكْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ لَرَكَعْتُهُمَا وَأَحْسَنْتُهُمَا وَأَجْمَلْتُهُمَا >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۴۵)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۴) (صحیح)

۱۲۵۷- عبید اللہ بن زیادہ کندی کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تاکہ آپ کو صلاۃ فجر کی خبر دیں، تو ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں کسی بات میں مشغول کر لیا، وہ ان سے اس کے بارے میں پوچھ رہی تھیں، یہاں تک کہ صبح خوب نمودار اور پوری طرح روشن ہو گئی، پھر بلال اٹھے اور آپ کو صلاۃ کی اطلاع دی اور مسلسل دیتے رہے، لیکن رسول اللہ ﷺ نہیں نکلے، پھر جب نکلے تو لوگوں کو صلاۃ پڑھائی اور بلال نے آپ کو بتایا کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک معاملے میں کچھ پوچھ کر کے مجھے باتوں میں لگا لیا یہاں تک کہ صبح خوب نمودار ہو گئی، اور آپ نے نکلنے میں دیر کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں اس وقت فجر کی دو رکعتیں پڑھ رہا تھا‘‘، بلال نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو کافی صبح کر دی، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جتنی دیر میں نے کی، اگر اس سے بھی زیادہ دیر ہو جاتی تو بھی میں ان دونوں رکعتوں کو ادا کرتا اور انہیں اچھی طرح اور خوبصورتی سے ادا کرتا‘‘۔

1258- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ -يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ الْمَدَنِيَّ- عَنِ ابْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ سَيْلانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : <لاتَدَعُوهُمَا وَإِنْ طَرَدَتْكُمُ الْخَيْلُ >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۸۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۰۵) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’ابن سیلان ‘‘ لین الحدیث ہیں)
۱۲۵۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم ان دونوں رکعتوں کو مت چھوڑا کرو اگرچہ تمہیں گھوڑے روند ڈالیں ‘‘۔

1259- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ كَثِيرًا مِمَّا كَانَ يَقْرَأُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ بِــ{آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا} هَذِهِ الآيَةُ، قَالَ: هَذِهِ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى، وَفِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ بِــ{آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ}۔
* تخريج: م/المسافرین ۱۴(۷۲۷)، ن/الافتتاح ۳۸ (۹۴۵)، (تحفۃ الأشراف: ۵۶۶۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۳۰، ۲۳۱) (صحیح)

۱۲۵۹- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ فجر کی دونوں رکعتوں میں رسول اللہ ﷺ اکثر جس آیت کی تلاوت کرتے تھے وہ {آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا} ۱؎ والی آیت ہوتی، ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسے پہلی رکعت میں پڑھتے اور دوسری رکعت میں {آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ} ۲؎ پڑھتے۔
وضاحت۱؎: سورة البقرة: (۱۳۶)
وضاحت۲؎: سورة آل عمران: (۵۲)

1260- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ -يَعْنِي ابْنَ مُوسَى- عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ﷺ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ: {قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا} فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى، وَفِي الرَّكْعَةِ الأُخْرَى بِهَذِهِ الآيَةِ: {رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ} أَوْ: {إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلاتُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ} شَكَّ الدَّرَاوَرْدِيُّ۔
* تخريج: تفردبہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۲۶) (حسن)

۱۲۶۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فجر کی دونوں رکعتوں میں قرأت کرتے سنا، پہلی رکعت میں آپ {قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا} ۱؎ ۱ور دوسری رکعت میں {رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ} ۲؎ یا {إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلاتُسْأَلُ عَنْ أَصْحَابِ الْجَحِيمِ} ۳؎ پڑھ رہے تھے اس میں دراوردی کو شک ہوا ہے۔
وضاحت ۱؎: سورة آل عمران : (۸۴)
وضاحت ۲؎: سورة آل عمران : (۵۳)
وضاحت ٣؎: سورة البقرة: (۱۱۹)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
293- بَاب الاضْطِجَاعِ بَعْدَهَا
۲۹۳- باب: فجر کی سنت کے بعد لیٹنے کا بیان​


1261- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَبُو كَامِلٍ وَعُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَاحِدِ،حَدَّثَن َا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى يَمِينِهِ >، فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ: أَمَا يُجْزِءُ أَحَدَنَا مَمْشَاهُ إِلَى الْمَسْجِدِ حَتَّى يَضْطَجِعَ عَلَى يَمِينِهِ؟ قَالَ عُبَيْدُاللَّهِ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: لا، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَى نَفْسِهِ، قَالَ: فَقِيلَ لابْنِ عُمَرَ: هَلْ تُنْكِرُ شَيْئًا مِمَّا يَقُولُ؟ قَالَ: لا، وَلَكِنَّهُ اجْتَرَأَ وَجَبُنَّا، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَمَا ذَنْبِي إِنْ كُنْتُ حَفِظْتُ وَنَسَوْا.
* تخريج:ت/الصلاۃ ۱۹۵ (۴۲۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۴۳۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۱۵) (صحیح)

۱۲۶۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے جب کوئی فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھ لے تو اپنے دائیں کروٹ لیٹ جائے‘‘، اس پر ان سے مروان بن حکم نے کہا: کیا کسی کے لیے مسجد تک چل کر جانا کا فی نہیں کہ وہ دائیں کر وٹ لیٹے؟ عبیدا للہ کی روایت میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا :نہیں ،توپھر یہ خبر ابن عمررضی اللہ عنہما کو پہنچی تو انہوں نے کہا: ابوہریرہ نے (کثرت سے روایت کر کے ) خود پر زیادتی کی ہے( اگر ان سے اس میں سہو یا غلطی ہو تو اس کا باران پر ہوگا)، وہ کہتے ہیں: ابن عمرسے پو چھا گیا: جو ابوہریرہ کہتے ہیں، اس میں سے کسی بات سے آپ کو انکا ر ہے؟ تو ابن عمر نے جواب دیا: نہیں، البتہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (روایت کثر ت سے بیان کرنے میں) دلیر ہیں اور ہم کم ہمت ہیں، جب یہ بات ابوہریرہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا: اگر مجھے یا د ہے اور وہ لوگ بھول گئے ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ہے ؟ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ترمذی، ابن حبان (۲۴۵۹) اور عبدالحق اشبیلی وغیرہ نے اسے صحیح کہا ہے، بعض روایات سے نبی اکرم ﷺ کا فعل ثابت ہے، دونوں روایتوں میں تطبیق یوں ممکن ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم ﷺ کا قول وفعل دونوں نقل کیا ہے، جبکہ ابو صالح سمان راوی نے آپ سے قول نقل کیا ، اور اعمش نے ابو صالح سے امر (قول) یاد رکھا، اور ابن اسحاق نے فعل، اور ہر راوی نے جو بات یاد تھی روایت کی، اس طرح سے سبھوں نے صحیح نقل کیا ہے، اس طرح سے ابو ہریرہ سے امر والی روایت کے محفوظ رکھنے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے فعل نبوی کے محفوظ ہونے کی بات میں تطبیق ہو جائے گی، ابو ہریرہ کے بیان میں حدیث قولی کا مرفوع ہونا ثابت ہے، بعض اہل علم نے فعل رسول کو راجح قرار دیا ہے (ملاحظہ ہو: اعلام اہل العصر بأحکام رکعتی الفجر، للمحدث شمس الحق العظیم آبادی، وشیخ الاسلام ابن تیمیۃ وجہودہ فی الحدیث وعلومہ، للفریوائی، وصحیح ابی داود للألبانی ۴؍ ۴۲۹)

1262- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا قَضَى صَلاتَهُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ نَظَرَ، فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي، وَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً أَيْقَظَنِي، وَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيُؤْذِنَهُ بِصَلاةِ الصُّبْحِ، فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلاةِ.
* تخريج: خ/التھجد ۲۴ (۱۱۶۱)، ۲۵ (۱۱۶۲)، ۲۶ (۱۱۶۸)، م/المسافرین ۱۷ (۷۴۳)، ت/الصلاۃ ۱۹۷ (۴۱۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۱۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۵)، وانظر ما یأتي برقم (۱۳۳۵) (صحیح)
(فجر کی سنتوں سے پہلے لیٹنے یا بات کرنے والی روایت شاذ ہے، صحیح روایت یہ ہے کہ فجر کی سنتوں کے بعد بات کرتے یا لیٹ جاتے، جیسا کہ صحیحین کی روایتوں میں ہے)
۱۲۶۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب آخری رات میں اپنی صلاۃ پوری کر چکتے تو اگر میں جاگ رہی ہوتی تو آپ مجھ سے گفتگو کرتے اور اگر سو رہی ہوتی تو مجھے جگا دیتے، اور دو رکعتیں پڑھتے پھر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ آپ کے پاس مؤذن آتا اور آپ کوصلاۃِ فجر کی خبر دیتا تو آپ دو ہلکی سی رکعتیں پڑھتے، پھرصلاۃ کے لئے نکل جاتے۔

1263- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ ابْنُ أَبِي عَتَّابٍ أَوْ غَيْرُهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَإِنْ كُنْتُ نَائِمَةً اضْطَجَعَ، وَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي۔
* تخريج: م/المسافرین ۱۷ (۷۴۳)، وفیہ ’’زیادہ بن سعد عن ابن أبي عتاب‘‘ بلا شک (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۰۷، ۱۷۷۳۲) (صحیح لغیرہ)
( حدیث نمبر۱۳۳۶ سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ایک راوی مجہول اور ایک مہبم ہے)
۱۲۶۳- ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب فجر کی دو رکعتیں پڑھ چکتے اور میں سو رہی ہوتی تو لیٹ جاتے اور اگر میں جاگ رہی ہوتی تو مجھ سے گفتگو کرتے۔

1264- حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى قَالا: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي مَكِينٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْفُضَلِ -رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ- عَنْ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ لِصَلاةِ الصُّبْحِ فَكَانَ لا يَمُرُّ بِرَجُلٍ إِلا نَادَاهُ بِالصَّلاةِ أَوْ حَرَّكَهُ بِرِجْلِهِ.
قَالَ زِيَادٌ: قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْفُضَيْلِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۰۳) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’ابو الفضل انصاری‘‘ مجہول ہیں)
۱۲۶۴- ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ فجر کے لئے نکلا، تو آپ جس آدمی کے پاس سے بھی گزرتے اُسے صلاۃ کے لئے آواز دیتے یا پیر سے جگاتے جاتے تھے۔
زیاد کی روایت میں ’’حدثنا أبو الفضل‘‘ کے بجائے ’’حدثنا أبو الفضيل‘‘ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
294-بَاب إِذَا أَدْرَكَ الإِمَامَ وَلَمْ يُصَلِّ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ
۲۹۴- باب: امام فجر پڑھا رہا ہو اور آدمی نے سنت نہ پڑھی ہو تواس وقت نہ پڑھے​


1265- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي الصُّبْحَ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ، ثُمَّ دَخَلَ مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي الصَّلاةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: < يَا فُلانُ! أَيَّتُهُمَا صَلاتُكَ: الَّتِي صَلَّيْتَ وَحْدَكَ، أَوِ الَّتِي صَلَّيْتَ مَعَنَا؟ >۔
* تخريج: م/المسافرین ۹ (۷۱۲)، ن/الإمامۃ ۶۱ (۸۶۹)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۰۳ (۱۱۵۲)، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۱۹)، وقد أخرجہ: حم (۵/۸۲) (صحیح)

۱۲۶۵- عبد اللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اورنبی اکرم ﷺ فجر پڑھا رہے تھے تو اس نے دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ ﷺ کے ساتھ صلاۃ میں شریک ہو گیا، جب آپ صلاۃ سے فارغ ہو کر پلٹے تو فرمایا: ’’اے فلاں! تمہاری کون سی صلاۃ تھی؟ آیا وہ جو تو نے تنہا پڑھی یا وہ جو ہمارے ساتھ پڑھی؟‘‘ ۱؎۔
وضاحت۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ جماعت کھڑی ہونے کے بعد اگر کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہئے کہ وہ امام کو جس حالت میں بھی پائے اس کے ساتھ جماعت میں شریک ہو جائے اور اس وقت سنت نہ پڑھے خواہ وہ فجر ہی کی سنت کیوں نہ ہو، اور سنت کی دو رکعت فرض کی صلاۃ کے بعد پڑھ لے۔

1266- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ (ح) وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ (ح) وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ (ح) وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ (ح) وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ؛ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاةُ فَلا صَلاةَ إِلاالْمَكْتُوبَةَ>۔
* تخريج: م/المسافرین ۹ (۷۱۰)، ت/الصلاۃ ۱۹۶ (۴۲۱)، ن/الإمامۃ ۶۰ (۸۶۶)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۰۳ (۱۱۵۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۲۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۳۱، ۳۵۲، ۴۵۵، ۵۱۷، ۵۳۱)، دي /الصلاۃ ۱۴۹ (۱۴۸۸،۱۴۹۱) (صحیح)

۱۲۶۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب صلاۃ کھڑی ہو جائے تو سوائے فرض کے کوئی صلاۃ نہیں‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
295- بَاب مَنْ فَاتَتْهُ مَتَى يَقْضِيهَا
۲۹۵- باب: جس کی فجرکی سنتیں چھوٹ گئی ہوں تو ان کو کب پڑھے؟​

1267- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ رَجُلا يُصَلِّي بَعْدَ صَلاةِ الصُّبْحِ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < صَلاةُ الصُّبْحِ رَكْعَتَانِ > فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنِّي لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَهُمَا فَصَلَّيْتُهُمَا الآنَ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۹۷ (۴۲۲)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۰۴(۱۱۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۰۲)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۴۷) (صحیح)

۱۲۶۷- قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو صلاۃِ فجر ختم ہو جانے کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’فجر دو ہی رکعت ہے‘‘، اس شخص نے جواب دیا: میں نے پہلے کی دونوں رکعتیں نہیں پڑھی تھیں، وہ اب پڑھی ہیں، اس پر رسول اللہ ﷺ خاموش رہے۔

1268- حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ.قَالَ أَبودَاود: وَرَوَى عَبْدُ رَبِّهِ وَيَحْيَى [ابْنَا] سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثَ مُرْسَلا أَنَّ جَدَّهُمْ زَيَّدًا صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ ﷺ [بِهَذِهِ الْقِصَّةِ] ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۰۲) (صحیح)
(پچھلی حدیثوں سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے، لیکن ’’زید‘‘ کی بجائے، صحیح نام ’’قیس‘‘ ہے)
۱۲۶۸- اس طریق سے بھی یہ حدیث سعد بن سعید سے اسی سند سے مروی ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: سعید کے دونوں بیٹے عبد ربہ اور یحییٰ نے یہ حدیث مرسلا ًروایت کی ہے کہ ان کے داد ا زید نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ صلاۃ پڑھی تھی اور انہیں کے ساتھ یہ واقعہ ہوا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
296-بَاب الأَرْبَعِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَبَعْدَهَا
۲۹۶- باب: ظہر سے پہلے اور اس کے بعد کی چار رکعت سنت کا بیان​

1269- حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنِ النُّعْمَانِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ ﷺ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَنْ حَافَظَ عَلَى أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعٍ بَعْدَهَا حَرُمَ عَلَى النَّارِ >.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ الْعَلاءُ بْنُ الْحَارِثِ وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى عَنْ مَكْحُولٍ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ۔
* تخريج: ن/قیام اللیل ۵۷ (۱۸۱۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۶۳)، وقد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۱ ۲۰ (۴۲۷)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۰۸ (۱۱۶۰)، حم (۶/۳۲۶) (صحیح)

۱۲۶۹- ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں اور بعد کی چار رکعتوں کی پابندی کرے گا، اس پر جہنم کی آگ حرام ہو جائے گی‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے علاء بن حارث اور سلیما ن بن مو سی نے مکحول سے اسی سند سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔

1270- حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مِنْجَابَ، عَنْ قَرْثَعٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: < أَرْبَعٌ قَبْلَ الظُّهْرِ لَيْسَ فِيهِنَّ تَسْلِيمٌ تُفْتَحُ لَهُنَّ أَبْوَابُ السَّمَاءِ >.
قَالَ أَبودَاود: بَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ قَالَ: لَوْ حَدَّثْتُ عَنْ عُبَيْدَةَ بِشَيْئٍ لَحَدَّثْتُ عَنْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
قَالَ أَبودَاود: عُبَيْدَةُ ضَعِيفٌ.
قَالَ أَبودَاود: ابْنُ مِنْجَابٍ هُوَ سَهْمٌ۔
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۰۵ (۱۱۵۷)، ت/ الشمائل (۲۹۳، ۲۴۹۴)، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۸۵)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۱۶، ۴۱۷، ۴۲۰) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’عبیدہ بن متعب‘‘ ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: تراجع الألباني 125).
۱۲۷۰- ابو ایوب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ظہر کے پہلے کی چار رکعتیں، جن کے درمیان سلام نہیں ہے، ایسی ہیں کہ ان کے واسطے آسمان کے در وازے کھول دیئے جاتے ہیں‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن سعید قطان کی یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے کہا: اگر میں عبیدہ سے کچھ روایت کرتا تو ان سے یہی حدیث روایت کرتا۔
ابو داود کہتے ہیں: لیکن عبیدہ ضعیف ہیں، اور ابن منجاب کا نام سہم ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
297- بَاب الصَّلاةِ قَبْلَ الْعَصْرِ
۲۹۷- باب: عصر کے پہلے نفل پڑھنے کا بیان​

1271- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنِي جَدِّي أَبُو الْمُثَنَّى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً صَلَّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۲ ۲۰ (۴۳۰)، (تحفۃ الأشراف: ۷۴۵۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۱۷) (حسن)

۱۲۷۱- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالی اس شخص پر رحم فرمائے جس نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں‘‘۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یہ عام نفل صلاۃ میں سے ہے، اس کا شمار سنن رواتب میں نہیں۔

1272- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ؛ عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلام أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۴۰) (حسن)
(لكن بلفظ: ’’أربع ركعات‘‘ كما عند الترمذي في الصلاة 202)

۱۲۷۲- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عصر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: ترمذی کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ عصر سے پہلے چار رکعتیں نفل پڑھتے تھے، لیکن تشہد کے ذریعہ فصل کرتے تھے اور سلام ایک ہی ہوتا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
298-بَاب الصَّلاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ
۲۹۸- باب: عصر کے بعد نفل پڑھنے کا بیان​

1273- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالُوا: اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَقُلْ: إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّكِ تُصَلِّينَهُمَا، وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى عَنْهُمَا، فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا فَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ، فَقَالَتْ: سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا، فَرَدُّونِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَنْهَى عَنْهُمَا، ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا، أَمَّا حِينَ صَلاَّهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَصَلَّاهُمَا، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ، فَقُلْتُ: قُومِي بِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ: تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَسْمَعُكَ تَنْهَى عَنْ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ، وَأَرَاكَ تُصَلِّيهِمَا، فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ، قَالَتْ: فَفَعَلَتِ الْجَارِيَةُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ، فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: < يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ، سَأَلْتِ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالإِسْلامِ مِنْ قَوْمِهِمْ، فَشَغَلُونِي عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَهُمَا هَاتَانِ >۔
* تخريج: خ/السھو ۸ (۱۲۳۳)، المغازي ۶۹ (۴۳۷۰)، م/المسافرین ۵۴ (۸۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۷۱، ۱۸۲۰۷)، وقد أخرجہ: ن/المواقیت ۳۵ (۵۸۰)، حم (۶/۳۰۹)، دي/الصلاۃ ۱۴۳ (۱۴۷۶) (صحیح)

۱۲۷۳- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عباس، عبد الرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ تینوں نے انہیں ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا اور کہا: ان سے ہم سب کا سلام کہنا اور عصر کے بعد دو رکعت نفل کے بارے میں پوچھنا اور کہنا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ یہ دو رکعتیں پڑھتی ہیں، حالاں کہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے منع فرمایا ہے، چنانچہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور انہیں ان لوگوں کا پیغام پہنچا دیا، آپ نے کہا: ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھو! میں ان لوگوں کے پاس آیا اور ان کی بات انہیں بتا دی، تو ان سب نے مجھے ام المومنین ام سلمہ کے پاس اسی پیغام کے ساتھ بھیجا، جس کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تھا، تو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا، پھر دیکھا کہ آپ انہیں پڑھ رہے ہیں، ایک روز آپ نے عصر پڑھی پھر میرے پاس آئے، اس وقت میرے پاس انصار کے قبیلہ بنی حرام کی کچھ عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے یہ دونوں رکعتیں پڑھنا شروع کیں تو میں نے ایک لڑکی کو آپ کے پاس بھیجا اور اس سے کہا کہ تو جا کر آپ کے بغل میں کھڑی ہوجا اور آپ سے کہہ: اللہ کے رسول! ام سلمہ کہہ رہی ہیں: میں نے تو آپ کو ان دونوں رکعتوں کو پڑھنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور اب آپ ہی انہیں پڑھ رہے ہیں، اگر آپ ہاتھ سے اشارہ کریں تو پیچھے ہٹ جانا، اس لڑکی نے ایسا ہی کیا، آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا، تو وہ پیچھے ہٹ گئی، جب آپ صلاۃ سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: ’’اے ابو امیہ کی بیٹی! تم نے مجھ سے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے کے بارے میں پوچھا ہے، دراصل میرے پاس عبد القیس کے چند لوگ اپنی قوم کے اسلام کی خبر لے کر آئے تو ان لوگوں نے مجھے باتوں میں مشغول کر لیا اور میں ظہر کے بعد یہ دونوں رکعتیں نہیں پڑھ سکا، یہ وہی دونوں رکعتیں ہیں‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
299- بَاب مَنْ رَخَّصَ فِيهِمَا إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مُرْتَفِعَةً
۲۹۹- باب: ان لوگوں کی دلیل جنہوں نے سورج بلند ہو تو عصر کے بعد دو رکعت سنت پڑھنے کی اجازت دی ہے​


1274- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الأَجْدَعِ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى عَنِ الصَّلاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ۔
* تخريج: ن/المواقیت ۳۶ (۵۷۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۱۰)، وقد أخرجہ: (۱/۸۰، ۸۱) (صحیح)

۱۲۷۴- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کے بعد صلاۃ پڑھنے سے منع فرمایا، سوائے اس کے کہ سورج بلند ہو۔

1275- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي فِي إِثْرِ كُلِّ صَلاةٍ مَكْتُوبَةٍ رَكْعَتَيْنِ إِلا الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ۔
* تخريج: تفردبہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۳۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۲۴) (ضعیف)
(ابو اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
۱۲۷۵- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر فرض صلاۃ کے بعد دو رکعتیں پڑھتے سوائے فجر اور عصر کے۱؎ ۔
وضاحت۱: رسول اللہ ﷺ نے فجر اور عصر کے بعد مسجد میں کوئی صلاۃ سد باب کے لئے نہیں پڑھی، البتہ ظہر کے بعد کی سنت کی قضا آپ نے گھر میں کی ہے جیسا کہ حدیث گزر چکی ہے، علی رضی اللہ عنہ سے عصر کے بعد دو ر کعت پڑھنا ثابت ہے، حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عصر کے بعد صلاۃ سے منع کیا ہے، الا یہ کہ سورج اونچا ہو (یعنی زرد نہ ہوا ہو)۔

1276- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لاصَلاةَ بَعْدَ صَلاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلا صَلاةَ بَعْدَ [صَلاةِ] الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ >۔
* تخريج: خ/المواقیت۳۰ (۵۸۱)، م/المسافرین ۵۱ (۸۲۶)، ت/الصلاۃ ۲۰ (۱۸۳)، ن/المواقیت ۳۲ (۵۶۳)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۴۷ (۱۲۵۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۴۹۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/ ۱۸، ۲۰، ۲۱، ۳۹)، دي/الصلاۃ ۱۴۲ (۱۴۷۳) (صحیح)
۱۲۷۶- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے پاس کئی پسندیدہ لوگوں نے گواہی دی ہے، جن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے اور میرے نزدیک عمر ان میں سب سے پسندیدہ شخص تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے کوئی صلاۃ نہیں، اور نہ عصر کے بعد سورج ڈوبنے سے پہلے کوئی صلاۃ ہے‘‘۔

1277- حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي سَلامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: < جَوْفُ اللَّيْلِ الآخِرُ، فَصَلِّ مَا شِئْتَ فَإِنَّ الصَّلاةَ مَشْهُودَةٌ مَكْتُوبَةٌ، حَتَّى تُصَلِّيَ الصُّبْحَ، ثُمَّ أَقْصِرْ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَتَرْتَفِعَ قِيسَ رُمْحٍ، أَوْ رُمْحَيْنِ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، وَيُصَلِّي لَهَا الْكُفَّارُ، ثُمَّ صَلِّ مَا شِئْتَ، فَإِنَّ الصَّلاةَ مَشْهُودَةٌ مَكْتُوبَةٌ، حَتَّى يَعْدِلَ الرُّمْحُ ظِلَّهُ، ثُمَّ أَقْصِرْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ تُسْجَرُ وَتُفْتَحُ أَبْوَابُهَا، فَإِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلِّ مَا شِئْتَ، فَإِنَّ الصَّلاةَ مَشْهُودَةٌ، حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ أَقْصِرْ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَيُصَلِّي لَهَا الْكُفَّارُ > وَقَصَّ حَدِيثًا طَوِيلا، قَالَ الْعَبَّاسُ: هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ إِلا أَنْ أُخْطِئَ شَيْئًا لا أُرِيدُهُ، فَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ۔
* تخريج: ت/الدعوات ۱۱۹ (۳۵۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۷۵۸)، وقد أخرجہ: م/المسافرین ۵۲ (۸۳۲)، ن/المواقیت ۳۹ (۵۸۵)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۸۲ (۱۳۶۴) ، حم (۴/۱۱۱، ۱۱۴) (صحیح)
دون قوله: ’’جوف الليل‘‘ (جوف اللیل
کا لفظ ثابت نہیں ہے)
۱۲۷۷- عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! رات کے کس حصے میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’رات کے آخری حصے میں، اس وقت جتنی صلاۃ چاہو پڑھو، اس لئے کہ ان میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور فجر پڑھنے تک (ثواب) لکھے جاتے ہیں، اس کے بعد سورج نکلنے تک رک جاؤ یہاں تک کہ وہ ایک یا دو نیزے کے برابر بلند ہو جائے، اس لئے کہ سورج شیطان کی دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے اور کافر (سورج کے پجاری) اس وقت اس کی پوجا کرتے ہیں، پھر تم جتنی صلاۃ چاہو پڑھو، اس لئے کہ اس صلاۃ میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور (ثواب) لکھے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب نیزے کا سایہ اس کے برابر ہو جائے تو ٹھہر جاؤ، اس لئے کہ اس وقت جہنم دہکائی جاتی ہے اور اس کے دوازے کھول دیئے جاتے ہیں، پھر جب سورج ڈھل جائے تو تم جتنی صلاۃ چاہو پڑھو، اس لئے کہ اس وقت بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر پڑھ لو تو سورج ڈوبنے تک ٹھہر جاؤ، اس لئے کہ وہ شیطان کی دو سینگوں کے بیچ ڈوبتا ہے، اور کافر اس کی پوجا کرتے ہیں‘‘، انہوں نے ایک لمبی حدیث بیان کی۔
عباس کہتے ہیں: ابو سلّام نے اسی طرح مجھ سے ابو امامہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے، البتہ نادانستہ مجھ سے جو بھول ہو گئی ہو تو اس کے لئے میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع ہوتا ہوں۔

1278- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ يَسَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ قَالَ: رَآنِي ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أُصَلِّي بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، فَقَالَ: يَا يَسَارُ! إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ خَرَجَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نُصَلِّي هَذِهِ الصَّلاةَ، فَقَالَ: < لِيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ، لا تُصَلُّوا بَعْدَ الْفَجْرِ إِلا سَجْدَتَيْنِ>۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۹۴ (۴۱۹)، ق/المقدمۃ ۱۸(۲۳۵)، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۷۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۳، ۵۷، ۱۰۴) (صحیح)

۱۲۷۸- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام یسار کہتے ہیں کہ مجھے ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فجر طلوع ہونے کے بعد صلاۃ پڑھتے دیکھا تو فرمایا: یسار! رسول اللہ ﷺ باہر نکل کر آئے، اور ہم یہ صلاۃ پڑھ رہے تھے، اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے موجود لوگ غیر حاضر لوگوں کو بتا دیں کہ فجر (طلوع) ہونے کے بعد فجرکی دوسنتوں کے علاوہ اور کوئی صلاۃ نہ پڑھو ‘‘۔

1279- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ وَمَسْرُوقٍ قَالا: نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: مَا مِنْ يَوْمٍ يَأْتِي عَلَى النَّبِيِّ ﷺ إِلا صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ۔
* تخريج: خ/المواقیت ۳۳ (۵۹۳)، والحج ۷۴ (۱۶۳۳)، م/المسافرین ۵۴ (۸۳۵)، ن/المواقیت ۳۵ (۵۷۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۶، ۱۶۰۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۳۴، ۱۷۶)، دي/الصلاۃ ۱۴۳ (۱۴۷۴) (صحیح)

۱۲۷۹- اسود اور مسروق کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کوئی دن ایسا نہیں ہوتا تھا کہ نبی اکرم ﷺ عصر کے بعد دو رکعت نہ پڑھتے رہے ہوں۱؎ ۔
وضاحت : یہ وہی دو رکعتیں ہیں جن کا بیان حدیث نمبر (۱۲۷۳) میں گزرا، اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے ان کا پڑھنا اپنا معمول بنا لیا تھا، یہ صرف آپ ﷺ کی خصوصیت تھی۔

1280- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ، وَيَنْهَى عَنْهَا، وَيُوَاصِلُ، وَيَنْهَى عَنِ الْوِصَالِ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۷۹) (ضعیف)
(ابن اسحاق مدلس ہیں اور یہاں عنعنہ سے روایت ہے)
۱۲۸۰- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ذکوان سے روایت ہے کہ ام المومنین عائشہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ (خود تو) عصر کے بعد صلاۃ پڑھتے تھے اور ( دوسروں کو) اس سے منع فرماتے، اور پے در پے صیام بھی رکھتے تھے اور (دوسروں کو) مسلسل روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
300- بَاب الصَّلاةِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ
۳۰۰- باب: مغرب سے پہلے سنت پڑھنے کا بیان​

1281- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْحُسَيْنِ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ الْمُزَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ > ، ثُمَّ قَالَ: < صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ لِمَنْ شَاءَ > خَشْيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً۔
* تخريج: خ/التہجد ۳۵ (۱۱۸۳)، والاعتصام ۲۷ (۷۳۶۸)، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۶۰)، وقد أخرجہ: حم (۵/۵۵) (صحیح)
۱۲۸۱- عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو‘‘، پھر فرمایا: ’’مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھو جس کا جی چا ہے‘‘، یہ اس اندیشے سے فرمایا کہ لوگ اس کو (راتب) سنت نہ بنا لیں ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مغرب سے پہلے دورکعت نفل پڑھنا مسنون ہے ، یہی راجح اور قوی قول ہے۔

1282- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحِيمِ الْبَزَّازُ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: صَلَّيْتُ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: قُلْتُ لأَنَسٍ: أَرَآكُمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ؟ قَالَ: نَعَمْ، رَآنَا فَلَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا۔
* تخريج: م/المسافرین ۵۵ (۸۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۷۶) (صحیح)

۱۲۸۲- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مغرب سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں۔
مختار بن فلفل کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے آپ کو یہ صلاۃ پڑھتے دیکھا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ نے ہم کو دیکھا تو نہ اس کا حکم دیا اور نہ اس سے منع کیا۔

1283- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاةٌ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلاةٌ لِمَنْ شَاءَ >۔
* تخريج: خ/الأذان ۱۴ (۶۲۴)، ۱۶ (۶۲۷)، م/المسافرین ۵۶ (۸۳۸)، ت/الصلاۃ ۲۲ (۱۸۵)، ن/الأذان ۳۹ (۶۸۲)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۱۰ (۱۱۶۲)، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۵۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۸۶، ۵/۵۴، ۵۶، ۵۷)، دي/الصلاۃ ۱۴۵(۱۴۸۰) (صحیح)

۱۲۸۳- عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ہر دو اذانوں کے درمیان صلاۃ ہے، ہر دو اذانوں۱؎ کے درمیان صلاۃ ہے، اس شخص کے لئے جو چاہے‘‘۔
وضاحت۱؎: دونوں اذانوں سے مراد اذان اور اقامت ہے۔

1284- حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي شُعَيْبٍ ؛ عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ، فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّيهِمَا، وَرَخَّصَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ.
قَالَ أَبودَاود: سَمِعْت يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ: هُوَ شُعَيْبٌ -يَعْنِي وَهِمَ شُعْبَةُ فِي اسْمِهِ-.
* تخريج: تفردبہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۷۱۰۴) (ضعیف)
(صحیحین میں وارد پچھلی حدیث کا معارضہ شعیب یا ابو شعیب جیسے مختلف فیہ راوی کی حدیث سے نہیں کیا جا سکتا)
۱۲۸۴- طاؤس کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مغرب کے پہلے دو رکعت سنت پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں یہ صلاۃ پڑھتے کسی کو نہیں دیکھا، البتہ آپ نے عصرکے بعد دو رکعت پڑھنے کی رخصت دی۔
ابو داود کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن معین کو کہتے سنا ہے کہ (ابو شعیب کے بجائے) وہ شعیب ہے یعنی شعبہ کو ان کے نام میں وہم ہو گیا ہے۔
 
Top