299- بَاب مَنْ رَخَّصَ فِيهِمَا إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مُرْتَفِعَةً
۲۹۹- باب: ان لوگوں کی دلیل جنہوں نے سورج بلند ہو تو عصر کے بعد دو رکعت سنت پڑھنے کی اجازت دی ہے
1274- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الأَجْدَعِ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى عَنِ الصَّلاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ۔
* تخريج: ن/المواقیت ۳۶ (۵۷۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۱۰)، وقد أخرجہ: (۱/۸۰، ۸۱) (صحیح)
۱۲۷۴- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کے بعد صلاۃ پڑھنے سے منع فرمایا، سوائے اس کے کہ سورج بلند ہو۔
1275- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي فِي إِثْرِ كُلِّ صَلاةٍ مَكْتُوبَةٍ رَكْعَتَيْنِ إِلا الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ۔
* تخريج: تفردبہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۳۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۲۴) (ضعیف)(ابو اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
۱۲۷۵- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر فرض صلاۃ کے بعد دو رکعتیں پڑھتے سوائے فجر اور عصر کے۱؎ ۔
وضاحت۱: رسول اللہ ﷺ نے فجر اور عصر کے بعد مسجد میں کوئی صلاۃ سد باب کے لئے نہیں پڑھی، البتہ ظہر کے بعد کی سنت کی قضا آپ نے گھر میں کی ہے جیسا کہ حدیث گزر چکی ہے، علی رضی اللہ عنہ سے عصر کے بعد دو ر کعت پڑھنا ثابت ہے، حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عصر کے بعد صلاۃ سے منع کیا ہے، الا یہ کہ سورج اونچا ہو (یعنی زرد نہ ہوا ہو)۔
1276- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لاصَلاةَ بَعْدَ صَلاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَلا صَلاةَ بَعْدَ [صَلاةِ] الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ >۔
* تخريج: خ/المواقیت۳۰ (۵۸۱)، م/المسافرین ۵۱ (۸۲۶)، ت/الصلاۃ ۲۰ (۱۸۳)، ن/المواقیت ۳۲ (۵۶۳)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۴۷ (۱۲۵۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۴۹۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/ ۱۸، ۲۰، ۲۱، ۳۹)، دي/الصلاۃ ۱۴۲ (۱۴۷۳) (صحیح) ۱۲۷۶- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میرے پاس کئی پسندیدہ لوگوں نے گواہی دی ہے، جن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے اور میرے نزدیک عمر ان میں سب سے پسندیدہ شخص تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’فجر کے بعد سورج نکلنے سے پہلے کوئی صلاۃ نہیں، اور نہ عصر کے بعد سورج ڈوبنے سے پہلے کوئی صلاۃ ہے‘‘۔
1277- حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ أَبِي سَلامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: < جَوْفُ اللَّيْلِ الآخِرُ، فَصَلِّ مَا شِئْتَ فَإِنَّ الصَّلاةَ مَشْهُودَةٌ مَكْتُوبَةٌ، حَتَّى تُصَلِّيَ الصُّبْحَ، ثُمَّ أَقْصِرْ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَتَرْتَفِعَ قِيسَ رُمْحٍ، أَوْ رُمْحَيْنِ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، وَيُصَلِّي لَهَا الْكُفَّارُ، ثُمَّ صَلِّ مَا شِئْتَ، فَإِنَّ الصَّلاةَ مَشْهُودَةٌ مَكْتُوبَةٌ، حَتَّى يَعْدِلَ الرُّمْحُ ظِلَّهُ، ثُمَّ أَقْصِرْ فَإِنَّ جَهَنَّمَ تُسْجَرُ وَتُفْتَحُ أَبْوَابُهَا، فَإِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلِّ مَا شِئْتَ، فَإِنَّ الصَّلاةَ مَشْهُودَةٌ، حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ، ثُمَّ أَقْصِرْ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَيُصَلِّي لَهَا الْكُفَّارُ > وَقَصَّ حَدِيثًا طَوِيلا، قَالَ الْعَبَّاسُ: هَكَذَا حَدَّثَنِي أَبُو سَلامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ إِلا أَنْ أُخْطِئَ شَيْئًا لا أُرِيدُهُ، فَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ۔
* تخريج: ت/الدعوات ۱۱۹ (۳۵۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۷۵۸)، وقد أخرجہ: م/المسافرین ۵۲ (۸۳۲)، ن/المواقیت ۳۹ (۵۸۵)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۸۲ (۱۳۶۴) ، حم (۴/۱۱۱، ۱۱۴) (صحیح)
دون قوله: ’’جوف الليل‘‘ (جوف اللیل کا لفظ ثابت نہیں ہے)
۱۲۷۷- عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! رات کے کس حصے میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’رات کے آخری حصے میں، اس وقت جتنی صلاۃ چاہو پڑھو، اس لئے کہ ان میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور فجر پڑھنے تک (ثواب) لکھے جاتے ہیں، اس کے بعد سورج نکلنے تک رک جاؤ یہاں تک کہ وہ ایک یا دو نیزے کے برابر بلند ہو جائے، اس لئے کہ سورج شیطان کی دو سینگوں کے درمیان نکلتا ہے اور کافر (سورج کے پجاری) اس وقت اس کی پوجا کرتے ہیں، پھر تم جتنی صلاۃ چاہو پڑھو، اس لئے کہ اس صلاۃ میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور (ثواب) لکھے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب نیزے کا سایہ اس کے برابر ہو جائے تو ٹھہر جاؤ، اس لئے کہ اس وقت جہنم دہکائی جاتی ہے اور اس کے دوازے کھول دیئے جاتے ہیں، پھر جب سورج ڈھل جائے تو تم جتنی صلاۃ چاہو پڑھو، اس لئے کہ اس وقت بھی فرشتے حاضر ہوتے ہیں، یہاں تک کہ تم عصر پڑھ لو تو سورج ڈوبنے تک ٹھہر جاؤ، اس لئے کہ وہ شیطان کی دو سینگوں کے بیچ ڈوبتا ہے، اور کافر اس کی پوجا کرتے ہیں‘‘، انہوں نے ایک لمبی حدیث بیان کی۔
عباس کہتے ہیں: ابو سلّام نے اسی طرح مجھ سے ابو امامہ کے واسطہ سے بیان کیا ہے، البتہ نادانستہ مجھ سے جو بھول ہو گئی ہو تو اس کے لئے میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع ہوتا ہوں۔
1278- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ يَسَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ قَالَ: رَآنِي ابْنُ عُمَرَ وَأَنَا أُصَلِّي بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ، فَقَالَ: يَا يَسَارُ! إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ خَرَجَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نُصَلِّي هَذِهِ الصَّلاةَ، فَقَالَ: < لِيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ، لا تُصَلُّوا بَعْدَ الْفَجْرِ إِلا سَجْدَتَيْنِ>۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۹۴ (۴۱۹)، ق/المقدمۃ ۱۸(۲۳۵)، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۷۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۳، ۵۷، ۱۰۴) (صحیح)
۱۲۷۸- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام یسار کہتے ہیں کہ مجھے ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فجر طلوع ہونے کے بعد صلاۃ پڑھتے دیکھا تو فرمایا: یسار! رسول اللہ ﷺ باہر نکل کر آئے، اور ہم یہ صلاۃ پڑھ رہے تھے، اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے موجود لوگ غیر حاضر لوگوں کو بتا دیں کہ فجر (طلوع) ہونے کے بعد فجرکی دوسنتوں کے علاوہ اور کوئی صلاۃ نہ پڑھو ‘‘۔
1279- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ وَمَسْرُوقٍ قَالا: نَشْهَدُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: مَا مِنْ يَوْمٍ يَأْتِي عَلَى النَّبِيِّ ﷺ إِلا صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ۔
* تخريج: خ/المواقیت ۳۳ (۵۹۳)، والحج ۷۴ (۱۶۳۳)، م/المسافرین ۵۴ (۸۳۵)، ن/المواقیت ۳۵ (۵۷۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۶، ۱۶۰۲۸)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۳۴، ۱۷۶)، دي/الصلاۃ ۱۴۳ (۱۴۷۴) (صحیح)
۱۲۷۹- اسود اور مسروق کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کوئی دن ایسا نہیں ہوتا تھا کہ نبی اکرم ﷺ عصر کے بعد دو رکعت نہ پڑھتے رہے ہوں۱؎ ۔
وضاحت : یہ وہی دو رکعتیں ہیں جن کا بیان حدیث نمبر (۱۲۷۳) میں گزرا، اس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے ان کا پڑھنا اپنا معمول بنا لیا تھا، یہ صرف آپ ﷺ کی خصوصیت تھی۔
1280- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ، عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْعَصْرِ، وَيَنْهَى عَنْهَا، وَيُوَاصِلُ، وَيَنْهَى عَنِ الْوِصَالِ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۷۹) (ضعیف)(ابن اسحاق مدلس ہیں اور یہاں عنعنہ سے روایت ہے)
۱۲۸۰- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام ذکوان سے روایت ہے کہ ام المومنین عائشہ نے ان سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ (خود تو) عصر کے بعد صلاۃ پڑھتے تھے اور ( دوسروں کو) اس سے منع فرماتے، اور پے در پے صیام بھی رکھتے تھے اور (دوسروں کو) مسلسل روزہ رکھنے سے منع فرماتے تھے۔