286- بَاب مَنْ قَالَ: يُصَلِّي بِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةً ثُمَّ يُسَلِّمُ فَيَقُومُ الَّذِينَ خَلْفَهُ فَيُصَلُّونَ رَكْعَةً ثُمَّ يَجِيئُ الآخَرُونَ إِلَى مَقَامِ هَؤُلاءِ فَيُصَلُّونَ رَكْعَةً
۲۸۶- باب: ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ امام ہر جماعت کوا یک ایک رکعت پڑھائے پھر سلام پھیر دے، پھر جو لوگ امام کے پیچھے ہیں وہ کھڑے ہوں اوردوسری رکعت ادا کریں پھر دوسرے گروہ کے لوگ پہلے کی جگہ آکر دوسر ی رکعت ادا کریں
1244- حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: صَلَّى [بِنَا] رَسُولُ اللَّهِ ﷺ صَلاةَ الْخَوْفِ، فَقَامُوا صَفًّا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ، وَصَفٌّ مُسْتَقْبِلَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ رَكْعَةً، ثُمَّ جَاءَ الآخَرُونَ فَقَامُوا مَقَامَهُمْ،وَاسْتَقْبَلَ هَؤُلاءِ الْعَدُوَّ، فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ ﷺ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَامَ هَؤُلاءِ فَصَلَّوْا لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمُوا ثُمَّ ذَهَبُوا، فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ مُسْتَقْبِلِي الْعَدُوِّ، وَرَجَعَ أُولَئِكَ إِلَى مَقَامِهِمْ فَصَلَّوْا لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمُوا ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۰۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۷۵، ۳۷۶، ۴۰۹) (ضعیف)(’’ابوعبیدہ‘‘ کا اپنے والد ’’ابن مسعود رضی اللہ عنہ‘‘ سے سماع نہیں ہے)
۱۲۴۴- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے صلاۃِ خوف پڑھائی تو ایک صف رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اور دوسری صف دشمن کے مقابل کھڑی ہوئی، آپ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر دوسری جماعت آئی اور ان کی جگہ کھڑی ہوئی اور یہ جماعت دشمن کے سامنے چلی گئی، اب نبی اکرم ﷺ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا، پھر یہ جماعت کھڑی ہوئی، اس نے دوسری رکعت ادا کر کے سلام پھیرا اور جا کر ان کی جگہ کھڑی ہو گئی، جو دشمن کے سامنے تھے، اب وہ لوگ ان کی جگہ آ گئے اور انہوں نے اپنی دوسری رکعت ادا کی پھرسلام پھیرا۔
1245- حَدَّثَنَا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ -يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ- عَنْ شَرِيكٍ؛ عَنْ خُصَيْفٍ -بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ-، قَالَ: فَكَبَّرَ نَبِيُّ اللَّهِ ﷺ وَكَبَّرَ الصَّفَّانِ جَمِيعًا.
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۰۷) (ضعیف)
1245/م- قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ بِهَذَا الْمَعْنَى عَنْ خُصَيْفٍ، وَصَلَّى عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ هَكَذَا إِلا أَنَّ الطَّائِفَةَ الَّتِي صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ مَضَوْا إِلَى مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ، وَجَاءَ هَؤُلاءِ فَصَلَّوْا لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مَقَامِ أُولَئِكَ فَصَلَّوْا لأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً.
[قَالَ أَبودَاود]: حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ حَبِيبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُمْ غَزَوْا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، كَابُلَ فَصَلَّى بِنَا صَلاةَ الْخَوْفِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۰۷) (ضعیف)(عبد الصمد اور ان کے والد حبیب دونوں مجہول راوی ہیں)
۱۲۴۵- اس طریق سے بھی خصیف سے سابقہ سند سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے، اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے تکبیر (تحریمہ) کہی اور دونوں صف کے سارے لوگوں نے بھی۔
ابو داود کہتے ہیں: ثوری نے بھی خصیف سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے اور عبد الرحمن بن سمرہ نے اسی طرح یہ صلاۃ ادا کی، البتہ اتنا فرق ضرور تھا کہ وہ گروہ جس کے ساتھ آپ نے ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیر دیا ، اپنے ساتھیوں کی جگہ واپس چلا گیا اور ان لوگوں نے آکر خود سے ایک رکعت پوری کی۔ پھر وہ ان کی جگہ واپس چلے گئے اور اس گروہ نے آ کر اپنی باقی ماندہ رکعت خود سے ادا کی۔
۱۲۴۵/م- ابو داود کہتے ہیں: ہم سے یہ حدیث مسلم بن ابراہیم نے بیان کی، مسلم کہتے ہیں: ہم سے عبد الصمد بن حبیب نے بیان کی، عبد الصمد کہتے ہیں: میرے والد نے مجھے بتایا کہ لوگوں نے عبد الرحمن بن سمرہ کے ساتھ کابل کا جہاد کیا تو انہوں نے ہمیں صلاۃِ خوف پڑھائی۔