• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
321- بَاب مَنْ رَوَى أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعَ عَشْرَةَ
۳۲۱- باب: شب قدر کے سترہویں رات میں ہونے کی روایت کا بیان​


1384- حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُاللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو- عَنْ زَيْدٍ -يَعْنِي ابْنَ أَبِي أُنَيْسَةَ- عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < اطْلُبُوهَا لَيْلَةَ سَبْعَ عَشْرَةَ مِنْ رَمَضَانَ وَلَيْلَةَ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَلَيْلَةَ ثَلاثٍ وَعِشْرِينَ > ثُمَّ سَكَتَ۔
* تخريج: تفردبہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۹۱۷۶) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’حکیم‘‘ میں کلام ہے، نیز ’’ابو اسحاق‘‘ مختلط ہو گئے تھے، اور یہ معلوم نہیں کہ ’’زید‘‘ نے ان سے اختلاط سے پہلے روایت کی ہے یا بعد میں)
۱۳۸۴- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ’’شب قدر کو رمضان کی سترہویں، اکیسویں اور تئیسویں رات میں تلاش کرو‘‘، پھر چپ ہو گئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
322- بَابٌ مَنْ رَوَى فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ
۳۲۲- باب: شب قدر کا رمضان کی آخری سات راتوں میں ہونے کی روایت کا بیان​

1385- حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي السَّبْعِ الأَوَاخِرِ >۔
* تخريج: م/الصیام ۴۰ (۱۱۶۵)، ن/الکبری/ الاعتکاف (۳۴۰۰)، (تحفۃ الأشراف:۷۲۳۰)، وقد أخرجہ: ط/الاعتکاف ۶(۱۱)، حم (۲/۳۷، ۶۲، ۷۴، ۱۱۳)، دي/الصوم ۵۶ (۱۸۲۴) (صحیح)

۱۳۸۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’شب قدر کو اخیر کی سات راتوں میں تلاش کرو‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
323-بَاب مَنْ قَالَ سَبْعٌ وَعِشْرُونَ
۳۲۳- باب: شب قدر ستائیسویں رات میں ہے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان​

1386- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ سَمِعَ مُطَرِّفًا، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ قَالَ: < [لَيْلَةُ الْقَدْرِ] لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۱۱۴۴۰) (صحیح)

۱۳۸۶- معاویہ بن ابی سفیان سے روایت ہے کہ رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ نے شب قدر کے متعلق فرمایا: ’’شب قدر ستائیسویں رات ہے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
324- بَاب مَنْ قَالَ هِيَ فِي كُلِّ رَمَضَانَ
۳۲۴- باب: شب قدر سارے رمضان میں ہے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان​

1387- حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ النَّسَائِيُّ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ ابْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ، فَقَالَ: < هِيَ فِي كُلِّ رَمَضَانَ >.
قَالَ أَبودَاود: رَوَاهُ سُفْيَانُ وَشُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ، لَمْ يَرْفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۷۰۶۵) (ضعیف) والصحیح موقوف
(اس کے راوی ’’أبو اسحاق‘‘ مختلط ہو گئے تھے اور یہ معلوم نہیں کہ ’’موسیٰ‘‘ نے ان سے اختلاط سے پہلے روایت کی ہے یا بعد میں)
۱۳۸۷- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے شب قدر کے متعلق پوچھا گیا اور میں (اس گفتگو کو) سن رہا تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ پورے رمضان میں کسی بھی رات ہو سکتی ہے‘‘۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں: سفیان اور شعبہ نے یہ حدیث ابو اسحاق کے واسطے سے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر موقوفًا روایت کی ہے اور ان دونوں نے اسے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً نہیں نقل کیا ہے۔
وضاحت۱؎: کثرت احادیث کی بناء پر شب قدر کے سلسلہ میں علماء میں زبردست اختلاف ہے، صحیح یہ ہے کہ وہ رمضان میں ہے، پھر راجح یہ ہے کہ وہ رمضان کے اخیر عشرہ میں ہے، پھر ظن غالب یہ ہے کہ وہ طاق راتوں میں ہے، پھر لائق اعتماد قول یہ ہے کہ یہ ستائیسویں رات میں ہے، واللہ اعلم بالصواب۔


* * * * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
قرآن کی تلاوت و ترتیل اور اسکے حزب (حصے) مقرر کرنے کے احکام و مسائل

{ أَبْوَاب قِرَائَةِ الْقُرْآنِ وَتَحْزِيبِهِ وَتَرْتِيلِهِ }

325- بَاب فِي كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ
۳۲۵- باب: قرآن کتنے دنوں میں ختم کیا جائے؟​

1388- حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالا: أَخْبَرَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لَهُ: < اقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ >، قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: < اقْرَأْ فِي عِشْرِينَ >، قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: < اقْرَأْ فِي خَمْسَ عَشْرَة >، قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: < اقْرَأْ فِي عَشْرٍ >، قَالَ: إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً، قَالَ: < اقْرَأْ فِي سَبْعٍ وَلا تَزِيدَنَّ عَلَى ذَلِكَ >.
قَالَ أَبودَاود: وَحَدِيثُ مُسْلِمٍ أَتَمُّ۔
* تخريج: خ/ فضائل القرآن ۳۴ (۵۰۵۳، ۵۰۵۴)، م/الصیام ۳۵ (۱۱۵۹)، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۶۲)، وقد أخرجہ: ت/القراء ات ۱۳ (۲۹۴۶)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۷۸(۱۳۴۶)، حم (۲/۱۶۳، ۱۹۹)، دي/فضائل القرآن ۳۲ (۳۵۱۴) (صحیح)

۱۳۸۸- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’قرآن مجید ایک مہینے میں پڑھا کرو‘‘، انہوں نے عرض کیا: مجھے اس سے زیادہ کی طا قت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تو بیس دن میں پڑھا کرو‘‘، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:’’ تو پندرہ دن میں پڑھا کرو‘‘، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تو دس دن میں پڑھا کرو‘‘، عرض کیا: مجھے اس سے بھی زیادہ طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’سات دن میں پڑھا کرو، اور اس پر ہرگز زیادتی نہ کرنا‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: مسلم (بن ابراہیم) کی روایت زیادہ کامل ہے۔

1389- حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < صُمْ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، وَاقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ >، فَنَاقَصَنِي وَنَاقَصْتُهُ، فَقَالَ: < صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا >، قَالَ عَطَائٌ: وَاخْتَلَفْنَا عَنْ أَبِي فَقَالَ بَعْضُنَا: سَبْعَةَ أَيَّامٍ، وَقَالَ بَعْضُنَا: خَمْسًا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۸۶۴۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۶۲، ۲۱۶) (صحیح)

۱۳۸۹- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ’’ہر مہینے میں تین دن صیام رکھا کرو اور قرآن ایک مہینے میں ختم کیا کرو‘‘، پھر میرے اور آپ کے درمیان کم و زیادہ کرنے کی بات ہوئی ۱؎ آخر کار آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اچھا تو ایک دن صیام رکھا کرو اور ایک دن افطار کیا کرو‘‘۔
عطا کہتے ہیں: ہم نے اپنے والد سے روایت میں اختلاف کیا ہے، ہم میں سے بعض نے سات دن اور بعض نے پانچ دن کی روایت کی ہے۔
وضاحت۱؎: یعنی نبی اکرم ﷺ ختم قرآن کی مدت بڑھانا اور صیام رکھنے کی مدت کم کرنا چاہتے تھے، جب کہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما ختم قرآن کی مدت کم اور صیام رکھنے کی مدت بڑھانا چا ہتے تھے، اور ایک نسخے میں ’’فناقضني وناقضته‘‘ ضاد معجمہ کے ساتھ ہے، یعنی آپ ﷺ میری بات کاٹتے تھے، اور میں اپنے بات پر اصرار کرتا تھا۔

1390- حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فِي كَمْ أَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ قَالَ: < فِي شَهْرٍ > قَالَ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ -يُرَدِّدُ الْكَلامَ أَبُو مُوسَى- وَتَنَاقَصَهُ حَتَّى قَالَ: < اقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ >، قَالَ: إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: < لا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَهُ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلاثٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۸۹۵۱) (صحیح)

۱۳۹۰- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں قرآن کتنے دنوں میں ختم کروں؟ فرمایا: ’’ایک ماہ میں‘‘، کہا: میں اس سے زیادہ کی قدرت رکھتا ہوں (ابو موسیٰ یعنی محمد بن مثنیٰ اس بات کو بار بار دہراتے رہے) آپ اُسے کم کرتے گئے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اسے سات دن میں ختم کیا کرو‘‘، کہا: میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، فرمایا: ’’وہ قرآن نہیں سمجھتا جو اسے تین دن سے کم میں پڑھے‘‘۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس سے معلوم ہواکہ تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنا صحیح نہیں، بہتر یہ ہے کہ سات دن میں ختم کیا جائے، نیز اس سے معلوم ہوا کہ رمضان میں شبینہ وغیرہ کا جو اہتمام کیا جاتا ہے وہ درست نہیں۔

1391- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَفْصٍ أَبُو عَبْدِالرَّحْمَنِ الْقَطَّانُ خَالُ عِيسَى بْنِ شَاذَانَ، أَخْبَرَنَا أَبُودَاوُدَ، أَخْبَرَنَا الْحَرِيشُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < اقْرَأِ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ >، قَالَ: إِنَّ بِي قُوَّةً، قَالَ: <اقْرَأْهُ فِي ثَلاثٍ>.
قَالَ أَبُو عَلِيٍّ: سَمِعْت أَبَا دَاود يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ -يَعْنِي ابْنَ حَنْبَلٍ- يَقُولُ: عِيسَى بْنُ شَاذَانَ كَيِّسٌ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۸۶۲۳) (حسن صحیح)

۱۳۹۱- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ’’قرآن ایک مہینے میں پڑھا کرو‘‘، انہوں نے کہا: مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:’’ تو تین دن میں پڑھا کرو‘‘ ۔
ابو علی کہتے ہیں : میں نے ابو داود کو کہتے سنا کہ احمد بن حنبل کہتے تھے: عیسیٰ بن شاذان سمجھدار آدمی ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
326-بَاب تَحْزِيبِ الْقُرْآنِ
۳۲۶- باب: قرآن کے حصے اور پارے مقرر کرنے کا بیان​


1392- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ؛ عَنِ ابْنِ الْهَادِ قَالَ: سَأَلَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، فَقَالَ [لِي]: فِي كَمْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ فَقُلْتُ: مَا أُحَزِّبُهُ، فَقَالَ لِي نَافِعٌ: لا تَقُلْ مَا أُحَزِّبُهُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < قَرَأْتُ جُزْئًا مِنَ الْقُرْآنِ >، قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ ذَكَرَهُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۱۱۵۳۲) (صحیح)

۱۳۹۲- ابن الہاد کہتے ہیں کہ مجھ سے نافع بن جبیر بن مطعم نے پوچھا: تم کتنے دنوں میں قرآن پڑھتے ہو؟ تو میں نے کہا: میں اس کے حصے نہیں کرتا، یہ سن کر مجھ سے نافع نے کہا: ایسا نہ کہو کہ میں اس کے حصے نہیں کرتا، اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے قرآن کا ایک حصہ پڑھا‘‘ ۱؎ ۔
ابن الہاد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے اسے مغیرہ بن شعبہ سے نقل کیا ہے۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے قرآن مجید کو تیس حصوں میں تقسیم کرنے اور اس کے تیس پارے بنا لینے کا جواز ثابت ہوا، اگرچہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قرآن کے اس طرح سے تیس پارے نہیں تھے، جس طرح اس وقت رائج ہیں۔

1393- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا قُرَّانُ بْنُ تَمَّامٍ (ح) وَحَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ -هَذَا لَفْظُهُ- عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ فِي حَدِيثِهِ: أَوْسُ بْنُ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ، قَالَ: فَنَزَلَتِ الأَحْلافُ عَلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَأَنْزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَنِي مَالِكٍ فِي قُبَّةٍ لَهُ، قَالَ مُسَدَّدٌ: وَكَانَ فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنْ ثَقِيفٍ، قَالَ: كَانَ كُلَّ لَيْلَةٍ يَأْتِينَا بَعْدَ الْعِشَاءِ يُحَدِّثُنَا، و قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قَائِمًا عَلَى رِجْلَيْهِ حَتَّى يُرَاوِحُ بَيْنَ رِجْلَيْهِ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ، وَأَكْثَرُ مَا يُحَدِّثُنَا مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ قُرَيْشٍ، ثُمَّ يَقُولُ: <لا سَوَاءَ، كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ مُسْتَذَلِّينَ -قَالَ مُسَدَّدٌ: بِمَكَّةَ- فَلَمَّا خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ كَانَتْ سِجَالُ الْحَرْبِ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ: نُدَالُ عَلَيْهِمْ وَيُدَالُونَ عَلَيْنَا >، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةً أَبْطَأَ عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي كَانَ يَأْتِينَا فِيهِ، فَقُلْنَا:لَقَدْ أَبْطَأْتَ عَنَّا اللَّيْلَةَ، قَالَ: < إِنَّهُ طَرَأَ عَلَيَّ جُزْئِي مِنَ الْقُرْآنِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَجِيئَ حَتَّى أُتِمَّهُ >.
قَالَ أَوْسٌ: سَأَلْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ كَيْفَ يُحَزِّبُونَ الْقُرْآنَ؟ قَالُوا: ثَلاثٌ، وَخَمْسٌ، وَسَبْعٌ، وَتِسْعٌ، وَإِحْدَى عَشْرَةَ، وَثَلاثَ عَشْرَةَ، وَحِزْبُ الْمُفَصَّلِ وَحْدَهُ.
[قَالَ أَبودَاود]: وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ أَتَمُّ۔
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۷۸ (۱۳۴۵)، (تحفۃ الأشراف:۱۷۳۷) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’عثمان‘‘ لین الحدیث ہیں)
۱۳۹۳- اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ثقیف کے ایک وفد میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، وفد کے وہ لوگ جن سے معاہدہ ہوا تھا، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرے اور بنی مالک کا قیام رسول اللہ ﷺ نے اپنے خیمے میں کرایا، (مسدد کہتے ہیں: اوس بھی اس وفد میں شامل تھے، جو ثقیف کی جانب سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تھا) اوس کہتے ہیں: تو ہر رات آپ ﷺ عشاء کے بعد ہمارے پاس آتے اور ہم سے گفتگو کرتے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں اضافہ ہے کہ (آپ گفتگو) کھڑے کھڑے کرتے اور دیر تک کھڑے رہنے کی وجہ سے آپ کبھی ایک پیر پر اور کبھی دوسرے پیر پر بو جھ ڈالتے اور زیادہ تر ان واقعات کا تذکرہ کرتے، جو آپ ﷺ کو اپنی قوم قریش کی جانب سے پیش آئے تھے، پھر فرماتے: ’’ہم اور وہ برابر نہ تھے، ہم مکہ میں کمزور اور ناتواں تھے، پھر جب ہم نکل کر مدینہ آگئے تو جنگ کا ڈول ہمارے اور ان کے بیچ رہتا، کبھی ہم ان پر غالب آتے اور کبھی وہ ہم پر‘‘۔
ایک رات آپ ﷺ کو حسب معمول وقت پر آنے میں تاخیر ہو گئی تو ہم نے آپ سے پوچھا: آج رات آپ نے آنے میں تاخیر کر دی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’آج قرآن مجید کا میرا ایک حصہ تلاوت سے رہ گیا تھا، مجھے اسے پورا کئے بغیر آنا اچھا نہ لگا‘‘۔
اوس کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب سے پوچھا کہ وہ لوگ کیسے حصے مقرر کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلا حزب (حصہ) تین سورتوں کا، دوسرا حزب (حصہ) پانچ سورتوں کا، تیسرا سات سورتوں کا، چوتھا نو سورتوں کا، پانچواں گیارہ اور چھٹا تیرہ سورتوں کا اور ساتواں پورے مفصل کا ۱؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں: ابو سعید (عبد اللہ بن سعید الاشیخ) کی روایت کامل ہے۔
وضاحت۱؎: پہلا حزب: بقرہ، آل عمران اور نساء نامی سورتیں، دوسرا حزب: مائدہ، انعام، اعراف، انفال اور توبہ نامی سورتیں، تیسرا حزب: یونس، ھود، یوسف، رعد، ابراہیم، حجر اور نحل نامی سورتیں، چوتھا حزب: اسرائیل، کہف، مریم، طٰہٰ، انبیاء، حج، مومنون، نور اور فرقان نامی سورتیں، پانچواں حزب: شعراء، نمل، قصص، عنکبوت، روم، لقمان، الم تنزیل السجدۃ، احزاب، سبا، فاطر اور یٰسین نامی سورتیں، چھٹواں حزب: صافات، ص، زمر، مومن، حم سجدہ، شوریٰ، زخرف، دخان، جاثیہ، احقاف، محمد، فتح اور حجرات نامی سورتیں، ساتواں حزب: سورہ (ق) سے لے کر اخیر قرآن تک کی سورتیں۔

1394- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ [الضَّرِيرُ]، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَلاءِ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ -يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلاثٍ >۔
* تخريج: ت/القراء ات ۱۳ (۲۹۴۹)، ن الکبری/ فضائل القرآن (۸۰۶۷)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۷۸ (۱۳۴۷)، (تحفۃ الأشراف:۸۹۵۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۶۴، ۱۶۵، ۱۸۹، ۱۹۵)، دی/ فضائل القرآن ۳۲ (۳۵۱۴) (صحیح)

۱۳۹۴- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص قرآن کو تین دن سے کم میں پڑھتا ہے سمجھتا نہیں ہے‘‘۔

1395- حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ ﷺ : فِي كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ؟ قَالَ: فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ قَالَ: فِي شَهْرٍ، ثُمَّ قَالَ: فِي عِشْرِينَ، ثُمَّ قَالَ: فِي خَمْسَ عَشْرَةَ، ثُمَّ قَالَ: فِي عَشْرٍ، ثُمَّ قَالَ: فِي سَبْعٍ، لَمْ يَنْزِلْ مِنْ سَبْعٍ۔
* تخريج: ت/ القراء ات ۱۳ (۲۹۴۷)، ن الکبری/ فضائل القرآن (۸۰۶۸، ۸۰۶۹)، (تحفۃ الأشراف:۸۹۴۴) (صحیح)
(اِس روایت میں وارد لفظ ’’لم ینزل من سبع‘‘ شاذ ہے جو خود ان کی روایت (نمبر۱۳۹۱) کے برخلاف ہے جس میں ’’تین دن‘‘ بھی وارد ہوا ہے)۔
۱۳۹۵- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: قرآن کتنے دنوں میں پڑھا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’چالیس دن میں‘‘، پھر فرمایا: ’’ایک ماہ میں‘‘، پھر فرمایا: ’’بیس دن میں‘‘، پھر فرمایا: ’’پندرہ دن میں‘‘، پھر فرمایا: ’’دس دن میں‘‘، پھر فرمایا: ’’سات دن میں‘‘، آپ ﷺ سات سے نیچے نہیں اترے۔

1396- حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلْقَمَةَ وَالأَسْوَدِ قَالا: أَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي أَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ: أَهَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ وَنَثْرًا كَنَثْرِ الدَّقَلِ؟! لَكِنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَقْرَأُ النَّظَائِرَ: السُّورَتَيْنِ فِي رَكْعَةٍ (النَّجْمَ، وَالرَّحْمَنَ) فِي رَكْعَةٍ، وَ(اقْتَرَبَتْ، وَالْحَاقَّةَ) فِي رَكْعَةٍ، وَ(الطُّورَ، وَالذَّارِيَاتِ) فِي رَكْعَةٍ، وَ(إِذَا وَقَعَتْ، وَنُونَ) فِي رَكْعَةٍ، وَ(سَأَلَ سَائِلٌ، وَالنَّازِعَاتِ) فِي رَكْعَةٍ، وَ(وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ، وَعَبَسَ) فِي رَكْعَةٍ، وَ(الْمُدَّثِّرَ، وَالْمُزَّمِّلَ) فِي رَكْعَةٍ، وَ(هَلْ أَتَى، وَلا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ) فِي رَكْعَةٍ، وَ(عَمَّ يَتَسَائَلُونَ، وَالْمُرْسَلاتِ) فِي رَكْعَةٍ، وَ(الدُّخَانَ، وَإِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ) فِي رَكْعَةٍ.
قَالَ أَبودَاود: هَذَا تَأْلِيفُ ابْنِ مَسْعُودٍ رَحِمَهُ اللَّهُ۔
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف:۹۱۸۳)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۱۰۶ (۷۷۵)، وفضائل القرآن ۶ (۴۹۹۶)، ۲۸ (۵۰۴۳)، م/المسافرین ۴۹ (۷۲۲)، ت/الصلاۃ ۳۰۵ (الجمعۃ ۶۹) (۶۰۲)، ن/الافتتاح ۷۵ (۱۰۰۷)، حم (۱/۳۸۰، ۴۱۷، ۴۲۷، ۴۳۶، ۴۵۵) (صحیح)
(مگر سورتوں کی یہ فہرست ثابت نہیں ہے، اور مؤلف کے سوا کسی کے یہاں یہ فہرست ہے بھی نہیں)
۱۳۹۶- علقمہ اور اسود کہتے ہیں کہ ابن مسعودرضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میں ایک رکعت میں مفصل پڑھ لیتا ہوں، انہوں نے کہا: کیا تم اس طرح پڑھتے ہو جیسے شعر جلدی جلدی پڑھا جاتا ہے یا جیسے سوکھی کھجوریں درخت سے جھڑتی ہیں؟ لیکن نبی اکرم ﷺ دو ہم مثل سورتوں کو جیسے ’’نجماور رحمن‘‘ ایک رکعت میں، ’’اقتربت اور الحاقة‘‘ ایک رکعت میں،’’والطور اور الذاريات‘‘ ایک رکعت میں، ’’إذا وقعت اور نون‘‘ ایک رکعت میں،’’سأل سائل اور النازعات‘‘ ایک رکعت میں، ’’ويل للمطففين اور عبس‘‘ ایک رکعت میں، ’’المدثر اور المزمل‘‘ ایک رکعت میں، ’’هل أتى اور لا أقسم بيوم القيامة‘‘ ایک رکعت میں، ’’عم يتسائلون اور المرسلات‘‘ ایک رکعت میں، اور اسی طرح ’’الدخان اور إذا الشمس كورت‘‘ ایک رکعت میں ملا کر پڑھتے تھے۔
ابو داود کہتے ہیں: یہ ابن مسعود کی ترتیب ہے، اللہ ان پر رحم کرے۔

1397- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا مَسْعُودٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَنْ قَرَأَ الآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ >۔
* تخريج: خ/فضائل القرآن ۱۰ (۵۰۰۹)، م/المسافرین ۴۳ (۸۰۷)، ت/فضائل القرآن ۴ (۲۸۸۱)، ن/ الیوم واللیلۃ (۷۲۱)، ق/إقامۃ الصلاۃ ۱۸۳ (۱۳۶۹)، (تحفۃ الأشراف:۹۹۹۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۱۸، ۱۲۱، ۱۲۲)، دي/الصلاۃ ۱۷۰ (۱۵۲۸)، وفضائل القرآن ۱۴ (۳۴۳۱) (صحیح)

۱۳۹۷- عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ میں نے ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے تو آپ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’جس نے کسی رات میں سورہ بقرہ کے آخر کی دو آیتیں پڑھیں تو یہ اس کے لئے کافی ہوں گی‘‘۔

1398- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو أَنَّ أَبَا سَوِيَّةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ حُجَيْرَةَ يُخْبِرُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ، وَمَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ، وَمَنْ قَامَ بِأَلْفِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُقَنْطِرِينَ >.
قَالَ أَبودَاود: ابْنُ حُجَيْرَةَ الأَصْغَرُ عَبْدُاللَّهِ ابْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ۔
* تخريج: تفردبہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۸۸۷۴) (صحیح)

۱۳۹۸- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص دس آیتوں (کی تلاوت) کے ساتھ قیام اللیل کرے گا وہ غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا، جو سو آیتوں (کی تلاوت) کے ساتھ قیام کرے گا وہ عابدوں میں لکھا جائے گا، اور جو ایک ہزار آیتوں (کی تلاوت) کے ساتھ قیام کرے گا وہ بے انتہاء ثواب جمع کرنے والوں میں لکھا جائے گا‘‘۔
ابو داود کہتے ہیں: ابن حجیرہ الاصغر سے مراد عبد اللہ بن عبدالرحمن بن حجیرہ ہیں۔

1399- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، قَالا: أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلالٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: أَقْرِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ: < اقْرَأْ ثَلاثًا مِنْ ذَوَاتِ الرٓ > فَقَالَ: كَبُرَتْ سِنِّي وَاشْتَدَّ قَلْبِي وَغَلُظَ لِسَانِي، قَالَ: < فَاقْرَأْ ثَلاثًا مِنْ ذَوَاتِ حاميم > فَقَالَ: مِثْلَ مَقَالَتِهِ، فَقَالَ: <اقْرَأْ ثَلاثًا مِنَ الْمُسَبِّحَاتِ >، فَقَالَ: مِثْلَ مَقَالَتِهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْرِئْنِي سُورَةً جَامِعَةً، فَأَقْرَأَهُ النَّبِيُّ ﷺ : {إِذَا زُلْزِلَتِ الأَرْضُ} حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لا أَزِيدُ عَلَيْهَا أَبَدًا، ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < أَفْلَحَ الرُّوَيْجِلُ > مَرَّتَيْنِ۔
* تخريج: ن/عمل الیوم واللیلۃ ۲۰۴ (۹۵۰)، (تحفۃ الأشراف:۸۹۰۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۶۹) (ضعیف)
(اس میں عیسی بن ہلال صدفی ضعیف ہیں)
۱۳۹۹- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اورعرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے قرآن مجید پڑھائیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ان تین سورتوں کو پڑھو جن کے شروع میں’’الر‘‘ ہے‘‘ ۱؎ ، اس نے کہا: میں عمر رسیدہ ہو چکا ہوں، میرا دل سخت اور زبان موٹی ہو گئی ہے (اس لئے اس قدر نہیں پڑھ سکتا)، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر’’حم‘‘والی تینوں سورتیں پڑھا کرو‘‘، اس شخص نے پھر وہی پہلی بات دہرائی، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تو ’’مسبحات‘‘ میں سے تین سورتیں پڑھا کرو‘‘، اس شخص نے پھر پہلی بات دہرا دی اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے ایک جامع سورہ سکھا دیجئے، رسول اللہ ﷺ نے اس کو {إِذَاْ زُلْزِلَتِ الأَرْضُ} سکھائی، جب آپ ﷺ اس سے فارغ ہوئے تو اس شخص نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو رسول برحق بنا کر بھیجا، میں کبھی اس پر زیادہ نہیں کروں گا، جب آدمی واپس چلا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے دو مر تبہ فرمایا: ’’أفلح الرويجل‘‘ (بوڑھا کامیاب ہو گیا)۔
وضاحت۱؎ : یعنی سورہ یونس، سورہ ہود اور سورہ یوسف۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
327- بَاب فِي عَدَدِ الآيِ
۳۲۷-باب: سورہ تبارک الذی کی آیات کا شمار​



1400- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُشَمِيِّ؛ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < سُورَةٌ مِنَ الْقُرْآنِ ثَلاثُونَ آيَةً تَشْفَعُ لِصَاحِبِهَا حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ {تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ} >۔
* تخريج: ت/فضائل القرآن ۹ (۲۸۹۱)، ن الکبری /التفسیر (۱۱۶۱۲)، الیوم واللیلۃ (۷۱۰)، ق/الأدب ۵۲ (۳۷۸۶)، (تحفۃ الأشراف:۱۳۵۵۰)، وقد أخرجہ: دي/فضائل القرآن ۲۳ (۳۴۵۲) (حسن)
۱۴۰۰- ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’قرآن کی ایک سورہ جو تیس آیتوں والی ہے اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہو جائے اور وہ {تبارك الذي بيده الملك} ہے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
328- بَاب تَفْرِيعِ أَبْوَابِ السُّجُودِ وَكَمْ سَجْدَةً فِي الْقُرْآنِ؟
۳۲۸- باب: سجدئہ تلاوت کا بیان اور یہ کہ قرآن کریم میں کتنے سجدے ہیں؟​


1401- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحِيمِ بْنِ الْبَرْقِيِّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ الْعُتَقِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُنَيْنٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ كُلالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَقْرَأَهُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَجْدَةً فِي الْقُرْآنِ: مِنْهَا ثَلاثٌ فِي الْمُفَصَّلِ وَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَانِ.
قَالَ أَبودَاود: رُوِيَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً وَإِسْنَادُهُ وَاهٍ۔
* تخريج: ق/إقامۃ الصلاۃ ۷۱ (۱۰۵۷)، (تحفۃ الأشراف:۱۰۷۳۵) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’حارث‘‘ لین الحدیث ، اور عبد اللہ مجہول ہیں)
۱۴۰۱- عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو قرآن مجید میں (۱۵) سجدے۱؎ پڑھائے: ان میں سے تین مفصل میں۲؎ اور دو سورہ ’’الحج‘‘ میں۳؎ ۔
ابو داود کہتے ہیں : ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے گیارہ سجدے نقل کئے ہیں، لیکن اس کی سند کمزور ہے۔
وضاحت۱؎: امام احمد اور جمہور اہل حدیث کے یہاں قرآن مجید میں پندرہ سجدے تلاوت کے ہیں، امام مالک کے نزدیک صرف گیارہ سجدے ہیں، مفصل اورسورہ ص میں ان کے نزدیک سجدہ نہیں ہے، امام شافعی کے نزدیک کل چودہ سجدے ہیں، سورہ ص میں ان کے نزدیک بھی سجدہ نہیں، اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک بھی کل چودہ سجدے ہیں، وہ سورہ حج میں ایک ہی سجدہ مانتے ہیں، سجدہ تلاوت جمہور کے نزدیک سنت ہے لیکن امام ابو حنیفہ اسے واجب کہتے ہیں، ائمہ اربعہ اور اکثر علماء کے نزدیک اس میں وضو شرط ہے، امام ابن تیمیہ کے نزدیک شرط نہیں ہے۔
وضاحت۲؎ : سورہ نجم، سورہ انشقت اور اقرأ میں۔
وضاحت۳؎: یہ کل پانچ سجدے ہوئے اور دس ان کے علاوہ باقی سورتوں:اعراف، رعد، نحل، بنی اسرائیل، مریم، فرقان، نمل، الم تنزیل السجدہ، ص اور فصلت میں، اس طرح کل پندرہ سجدے ہوئے۔

1402- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ أَنَّ مِشْرَحَ بْنَ هَاعَانَ أَبَا الْمُصْعَبِ حَدَّثَهُ أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ: [يَا رَسُوْلَ اللهِ،] أَفِي سُورَةِ الْحَجِّ سَجْدَتَانِ قَالَ: < نَعَمْ، وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْهُمَا فَلا يَقْرَأْهُمَا >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۲۸۹ (الجمعۃ ۵۴) (۵۷۸)، (تحفۃ الأشراف:۹۹۶۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۵۱، ۱۵۵) (حسن)
(’’مشرح‘‘ کے بارے میں کلام ہے، لیکن دوسری خالد بن حمدان کی مرسل حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن کے درجہ کوپہنچی) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ۵؍ ۱۴۶)
۱۴۰۲- عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا سورہ حج میں دو سجدے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں اور جو یہ دونوں سجدے نہ کرے وہ انہیں نہ پڑھے‘‘۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
329- بَاب مَنْ لَمْ يَرَ السُّجُودَ فِي الْمُفَصَّلِ
۳۲۹- باب: مفصل میں سجدہ نہ ہونے کے قائلین کی دلیل کا بیان​

1403- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: رَأَيْتُهُ بِمَكَّةَ، حَدَّثَنَا أَبُوقُدَامَةَ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَمْ يَسْجُدْ فِي شَيْئٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ مُنْذُ تَحَوَّلَ إِلَى الْمَدِينَةِ۔
* تخريج: تفرد بہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف:۶۲۱۶) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’ابو قدامہ حارث بن عبید‘‘ اور ’’مطر وراق‘‘ حافظہ کے بہت کمزور راوی ہیں)
۱۴۰۳- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مکہ سے مدینہ آجانے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مفصل (سورتوں) میں سے کسی سورہ میں سجدہ نہیں کیا۱؎ ۔
وضاحت۱؎ : یہ حدیث امام مالک کی دلیل ہے، لیکن یہ ضعیف ہے، جیسا کہ تخریج سے واضح ہے، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث (۱۴۰۷) جو آگے آرہی ہے کے معارض ہے، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ متاخر الاسلام ہیں، انہوں نے ساتویں ہجری میں اسلام قبول کیا ہے، نیز ان کی حدیث صحیحین میں ہے۔

1404- حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ النَّجْمَ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا ۔
* تخريج: خ/سجود القرآن ۶ (۱۰۷۲)، م/المساجد ۲۰ (۵۷۷)، ت الجمعۃ ۵۲ (۵۷۶)، ن/الافتتاح ۵۰ (۹۶۱)، (تحفۃ الأشراف:۳۷۳۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۸۳، ۱۸۶)، دي/الصلاۃ ۱۶۴ (۱۵۱۳) (صحیح)

۱۴۰۴- زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سورہ نجم پڑھ کر سنائی تو آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔

1405- حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، بِمَعْنَاهُ .
قَالَ أَبودَاود: كَانَ زَيْدٌ الإِمَامَ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف:۳۷۰۷) (صحیح)

۱۴۰۵- اس سند سے بھی زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً آئی ہے۔
ابو داود کہتے ہیں: زید امام تھے لیکن انہوں نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
330-بَاب مَنْ رَأَى فِيهَا السُّجُودَ
۳۳۰- باب: سورہ والنجم میں سجدہ ہے اس کے قائلین کی دلیل کا بیان​

1406- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَرَأَ سُورَةَ النَّجْمِ فَسَجَدَ فِيهَا، وَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلا سَجَدَ، فَأَخَذَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ كَفًّا مِنْ حَصًى أَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَى وَجْهِهِ، وَقَالَ: يَكْفِينِي هَذَا، قَالَ عَبْدُاللَّهِ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ قُتِلَ كَافِرًا۔
* تخريج: خ/سجود القرآن ۱ (۱۰۷۲)، ۴ (۱۰۷۳)، ومناقب الأنصار ۲۹ (۳۸۵۳)، والمغازي ۸ (۳۹۷۲)، وتفسیر النجم ۴ (۴۸۶۲)، م/المساجد۲۰ (۵۷۶)، ن/الافتتاح ۴۹ (۹۶۰)، (تحفۃ الأشراف:۹۱۸۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۸۸، ۴۰۱، ۴۴۳، ۴۶۲) دي /الصلاۃ ۱۶۰ (۱۵۰۶) (صحیح)

۱۴۰۶- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سورہ نجم پڑھی اور اس میں سجدہ کیا اور لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہ رہا جس نے سجدہ نہ کیا ہو، البتہ ایک شخص نے تھوڑی سی ریت یا مٹی مٹھی میں لی اور اسے اپنے منہ (یعنی پیشانی) تک اٹھایا اور کہنے لگا: میرے لئے اتنا ہی کافی ہے۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس کے بعد اسے دیکھا کہ وہ حالت کفر میں قتل کیا گیا۔
 
Top