• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا یزید بن معاویہ رحمہ اللہ کی بیعت پررضامندی کا ثبوت مع تحقیق سند

سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

allahkabanda

مبتدی
شمولیت
مارچ 27، 2012
پیغامات
174
ری ایکشن اسکور
568
پوائنٹ
0
گراؤنڈ ریلیٹز کے پیش نظر اگر سیاسی مملکتی انتظامی معاملات کو عقائد کے معاملات کے مترادف قرار دینے سے گریز کیا جاتا ہے تو کم از کم میں تو نہیں سمجھتا کہ اس میں کوئی قباحت ہے!
سبحان اللہ!سبحان اللہ!سبحان اللہ!سبحان اللہ!سبحان اللہ!

یعنی فقہ الواقعہ کو فقہ القرآن و السنہ سے الگ کر دیا جائے تو آپ کے نزدیک نہ آسمان ٹلے نہ زمین ٹلے------------

يا أيها الذين آمنوا ادخلوا في السلم كافة ولا تتبعوا خطوات الشيطان ۚ إنه لكم عدو مبين ﴿٢٠٨﴾
ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کی تابعداری نہ کرو وه تمہارا کھلا دشمن ہے
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,792
پوائنٹ
722
أبو الحسن هلال بن إساف الكوفى۔ کیا یہ مدلس ہیں اور اس روایت میں ان کا سماع ثابت ھوا کہ نہیں۔
جزاک اللہ خیر
ھلال بن اساف الکوفی اپنے دور کا اورپنے معاصر لوگوں بلکہ اپنے علاقہ کے لوگوں کی بات نقل کررہے ہیں اوریہ مدلس ہرگزنہیں بلکہ کسی نے ان پر تدلیس کا الزام بھی نہیں لگایا ،اس لئے ان کی روایت حجت ہے سماع کی تصریح وہاں طلب کی جاتی ہے جہاں مدلس اپنے معاصرین سے معنعن یا قال فلاں وغیرہ جیسے صیغہ سے روایت کرے فافھم۔
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,528
پوائنٹ
304
قرون اولیٰ کے بہت سے مسلمانوں کو اہل فارس کی شکست برداشت نہیں ہوئی -اور نتیجہ کے طور پر بنو امیہ کو نشانہ بنا دیا گیا -ہمارے اکثر ؛مسلمان اہل بیت کی محبت میں اتنا آگے بڑہ جاتے ہیں کہ اگر ان کا بس چلے توحضرت عا اشہ رضی الله عنہ پر بھی سب و شتم کی بوچھاڑ کر دیں کہ انہوں نے حضرت علی رضی الله عنہ سے حضرت عثمان رضی الله عنہ کی قاتلوں کو فوری پکڑنے کا مطالبہ کیوں کیا یا ان کو اس کا کیا حق تھا ؟؟ یزید رحمہ اللہ پر سب و شتم تو ان کے لئے بہت آسان ہے-
 
شمولیت
اکتوبر 31، 2013
پیغامات
85
ری ایکشن اسکور
54
پوائنٹ
28
عبید اللہ بن زیاد کو گورنر کس نے مقرر کیا تھا؟اگر حضرت حسینؓ کو یزید کی مرضی کے برخلاف شہید کیا گیا تھا تو کیا یزید نے ذمہ داروں کا تعین کیا ؟انکو سزا دی؟انکو پوچھا کہ تم کو کس نے کہا تھا کہ اس عظیم ہستی کو شہید کرو؟
براہ کرم ان سوالات کے ضرور جوابات دیجئے گا۔اپنی مسلک کی آڑ میں اہل بیت سے دشمنی نہ رکھیں پلیز۔
خدا آپ کی دنیا اور دین بہتر کرے۔
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,528
پوائنٹ
304
عبید اللہ بن زیاد کو گورنر کس نے مقرر کیا تھا؟اگر حضرت حسینؓ کو یزید کی مرضی کے برخلاف شہید کیا گیا تھا تو کیا یزید نے ذمہ داروں کا تعین کیا ؟انکو سزا دی؟انکو پوچھا کہ تم کو کس نے کہا تھا کہ اس عظیم ہستی کو شہید کرو؟
براہ کرم ان سوالات کے ضرور جوابات دیجئے گا۔اپنی مسلک کی آڑ میں اہل بیت سے دشمنی نہ رکھیں پلیز۔
خدا آپ کی دنیا اور دین بہتر کرے۔
یزید نے سیاسی مصلحت کی بنا پر ابن زیاد اور اہل کوفہ کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا - بلکل اسی طرح جیسے حضرت علی رضی الله عنہ نے حضرت زبیر ، حضرت عااشہ اور حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ کے پرزور مطالبے کے باوجود حضرت عثمان رضی الله عنہ کے قاتلین کو سزا دینے میں اس وقت کی مصلحت کی بنا پر تاخیر کر دی تھی -

ویسے اس وقت اکثر صحابہ کرام رضوان الله اجمعین بھی زندہ موجود تھے جن میں سے کچھ شام میں کچھ کوفہ میں اور کچھ مدینہ میں تھے -اگر یزید نے ابن زیاد کی خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا تو صحابہ کرام رضوان الله جمعین بھی تو خاموش رہے -

البتہ ابن کثیر کہتے ہیں - صحابی رسول صل الله علیہ وسلم حضرت زید بن ارقم رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ جب یزید کے پاس حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سرلایا گیا تو یزید اس کو دیکھ کر رونے لگا اور کہنے لگا الله کی ابن زیاد پر لعنت ہو- اگر اس کی حضرت حسین رضی الله عنہ سے رشتہ داری ہوتی تو وہ ہرگز ایسا نہ کرتا - ( البدایہ والنہایہ جلد ٨ صفہ ١٥٨ )
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,933
ری ایکشن اسکور
9,792
پوائنٹ
722
اس اعتراض کے کئی جوابات ہیں ۔

اولا:
تفصیل کے لئے انساب الاشراف کے محقق کا مقدمہ پڑھ لیں محقق نے اس کتاب کو ثابت کیا ہے۔

ثانیا:
یہ کتاب خود امام بلاذری رحمہ اللہ نے اپنے ہاتھ سے لکھی ہے اور انہیں کے ہاتھ کے لکھے ہوئے نسخہ سے اسے ناسخ نے نقل کیا ہے پھر بیچ میں کتاب کے راوی اورسند کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا دیکھے کتاب کے محقق کا مقدمہ ۔

ثالثا:
یہ ایک مشہور و معروف کتاب ہے مستند ائمہ ومحدثین نے اس پر اعتماد کیا ہے اور اسے بطور حجت روایات نقل کی ہیں ایسی مشہور اور معتبر کتاب کے ثبوت کے لئے ناسخ کتاب یا ناقلین کتاب پر بحث کی ضرورت ہی نہیں دیکھئے ۔

حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
لأن الكتاب المشهور الغني بشهرته عن اعتبار الإسناد منا إلى مصنفه: كسنن النسائي مثلا لا يحتاج في صحة نسبته إلى النسائي إلى اعتبار حال رجال الإسناد منا إلى مصنفه. [النكت على كتاب ابن الصلاح لابن حجر 1/ 271]

یہی وجہ ہے کہ حافظ ابن حجر نے انساب الاشراب کو ثابت مانا ہے اور اس سے نقل کردہ ایک روایت کی سند کو لاباس بہ کہا ہے چنانچہ :

حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
وروى البلاذري بإسناد لا بأس به أن حفص بن أبي العاص كان يحضر طعام عمر الحديث[الإصابة لابن حجر: 2/ 98]۔
یادرہے کہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ کہ مستدل روایت امام بلاذری کی کتاب أنساب الأشراف ہی میں ہے چنانچہ امام بلاذری نے کہا:
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الزَّاهِدُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ يُونُسَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ أَنَّ حَفْصَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيَّ كَانَ يُحْضِرُ طَعَامَ عُمَرَ فَلا يَأْكُلُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَا يَمْنَعُكَ مِنْ طَعَامِنَا؟ فَقَالَ: إِنَّ طَعَامَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔[أنساب الأشراف للبلاذري: 10/ 318]۔

عصرحاضر کے عظیم محدث علامہ البانی رحمہ اللہ نےنے بھی یہی بات کہی ہے ملاحظہ ہو:

السؤال
ما رأيك في أسانيد الكتب؟ هل يشترط فيها ما يشترط في رواية الأحاديث أم يتساهل فيها؟
الجواب
رأيي يختلف من كتاب إلى آخر: فإذا كان كتاباً مشهوراً متداوَلاً بين أيدي العلماء ووثقوا به، فلا يشترط. أما إذا كان غير ذلك فإنه يُشتَرط.

[الهدى والنور 85/ 13]

رابعا:
خود حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ نے بھی کئی جگہ اس کتاب کو ثابت مانا ہے اور اس سے استدلال کیا ہے بلکہ خطبہ سے پہلے سلام کرنے سے متعلق اسی کتاب کی ایک روایت کودلیل بناکر کہا ہے کہ خطبہ سے پہلے سلام کرنا ثابت ہے ملاحظہ ہو درج ذیل ویڈیو دیکھیں:

خامسا:
اس روایت کے ثابت ہونے کی ایک زبردست دلیل یہ بھی ہے کہ یہ روایت اسی صحیح سند کے ساتھ تاریخ طبری میں بھی موجود ہے چنانچہ:

امام ابن جرير الطبري رحمه الله (المتوفى310)نے کہا:
حدثنا محمد بن عمار الرازي قال حدثنا سعيد بن سليمان قال حدثنا عباد بن العوام قال حدثنا حصين ۔۔۔قال حصين فحدثني هلال بن يساف أن ابن زياد أمر بأخذ ما بين واقصة إلى طريق الشأم إلى طريق البصرة فلا يدعون أحدا يلج ولا أحدا يخرج فأقبل الحسين ولا يشعر بشيء حتى لقي الأعراب فسألهم فقالوا لا والله ما ندري غير أنا لا نستطيع أن نلج ولا نخرج قال فانطلق يسير نحو طريق الشأم نحو يزيد فلقيته الخيول بكربلاء فنزل يناشدهم الله والإسلام قال وكان بعث إليه عمر بن سعد وشمر بن ذي الجوشن وحصين بن نميم فناشدهم الحسين الله والإسلام أن يسيروه إلى أمير المؤمنين فيضع يده في يده
ہلال بن یساف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ : عبیداللہ بن زیاد نے حکم دیا کہ واقصہ اورشام وبصرہ کے بیچ پہرہ لگادیا جائے اورکسی کو بھی آنے جانے سے روک دیا جائے، چنانچہ حسین رضی اللہ عنہ ان باتوں سے بے خبر آگے بڑھے یہاں تک بعض اعرابیوں سے آپ کی ملاقات ہوئی تو آپ نے سے پوچھ تاچھ کی تو انہوں نے کہا : نہیں اللہ کی قسم ہمیں کچھ نہیں معلوم سوائے اس کی کہ ہم نہ وہاں جاسکتے ہیں اورنہ وہاں سے نکل سکتے ہیں۔پھرحسین رضی اللہ عنہ شام کے راستہ پر یزیدبن معاویہ کی طرف چل پڑے ، ، پھر راستہ میں گھوڑسواروں نے انہیں کربلا کے مقام پر روک لیا اوروہ رک گئے ، اورانہیں اللہ اوراسلام کا واسطہ دینے لگے ،عبیداللہ بن زیاد نے عمربن سعدبن بی وقاص ، شمربن ذی الجوشن اورحصین بن نمیرکو ان کی جانب بھیجاتھا حسین رضی اللہ عنہ نے ان سے اللہ اوراسلام کا واسطہ دے کرکہا : وہ انہیں امیرالمؤمنین یزیدبن معاویہ کے پاس لے چلیں تاکہ وہ یزید کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیں[تاريخ الأمم والرسل والملوك- الطبري 3/ 299 واسنادہ صحیح]۔



یہ سند بالکل صحیح ہے امام طبری کے استاذ ’’محمد بن عمار الرازي‘‘ یہ ’’ أبو جعفر، محمد بن عمار بن الحارث، الوازعي، الرازي‘‘ ہیں ۔ یہ ثقہ ہیں چنانچہ:

امام ابن أبي حاتم رحمه الله (المتوفى327)نے کہا:
كتبت عنه وهو صدوق ثقة [الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 8/ 43]۔

اس کے اوپر پوری سند وہی ہے جو انساب الاشراب للبلاذری میں ہے ۔ اور ان راویوں کی توثیق اس تھریڈ کی پہلی پوسٹ میں پیش کی جاچکی ہے۔

فائدہ:
ابن جریر طبری کی روایت میں یزید کے ساتھ ’’امیر المؤمنین‘‘ کے الفاظ بھی ہیں۔معلوم ہواکہ حسین رضی اللہ عنہ یزیدبن معاویہ رحمہ اللہ کو امیرالمؤمنین تسلیم کرتے تھے اور ان کی بیعت کرنے پر راضی بلکہ اس کے خواہش مند تھے ۔ والحمدللہ۔

صحیح تاریخ الطبری کے محققین نے بھی اس روایت کے رواۃ کو ثقہ قرار دیا ہے اور اسے صحیح تاریخ الطبری میں نقل کیا ہے۔

دکتور شیبانی نے بھی طبری کی اس روایت کی سند کو صحیح قرار دیا ہے دیکھئے مواقف المعارضہ ص 342 ۔
 
سٹیٹس
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
Top