کلیم حیدر
ناظم خاص
- شمولیت
- فروری 14، 2011
- پیغامات
- 9,747
- ری ایکشن اسکور
- 26,385
- پوائنٹ
- 995
رخصتی
مدینہ گویا حضرت عائشہؓ کی سسرال تھی۔ انصار کی عورتیں دلہن کو لینے حضرت ابو بکرؓ کے گھر آئیں ۔ حضرت امّ رومانؓ نے بیٹی کو آواز دی ، وہ اس وقت سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھیں ۔ آواز سنتے ہی ماں کے پاس ہانپتی کانپتی دوڑی آئیں ۔ ماں بیٹی کا ہاتھ پکڑے دروازہ تک لائی، وہاں منھ دھلا کر بال سنوار دیئے ، پھر ان کو اس کمرے میں لے گئیں جہاں انصار کی عورتیں دلہن کے انتظار میں بیٹھیں تھیں ۔ دلہن جب اندر داخل ہوئی تو مہمانوں نے علی الخیر والبرکۃ و علیٰ خیر طائرٍ یعنی’’ تمہارا آنا بخیر و با برکت اور فال نیک ہو‘‘ کہہ کر استقبال کیا اور دلہن کو سنوارا۔ تھوڑی دیر کے بعد خود آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) بھی تشریف لائے۔ اس وقت آپؐ کی ضیافت لئے دودھ کے ایک پیالہ کے سوا کچھ نہ تھا۔ حضرت اسماءؓ بنت یزید حضرت عائشہؓ کی ایک سہیلی بیان کرتی ہیں کہ میں اس وقت موجود تھی کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پیالہ سے تھوڑا سا دودھ پی کر حضرت عائشہؓ کی طرف بڑھایا، وہ شرمانے لگیں ۔ میں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا عطیہ واپس نہ کرو۔انہوں نے شرماتے شرماتے لے لیا اور ذرا سا پی کر رکھ دیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ اپنی سہیلیوں کو دو۔ ہم نے عرض کی یا رسول اللہ اس وقت ہم کو خواہش نہیں ۔ فرمایا جھوٹ نہ بولو، آدمی کا ایک ایک جھوٹ لکھا جاتا ہے۔یہ رخصتی شوال 1ھ مطابق 623 ء میں ہوئی جب حضرت عائشہؓ نو برس کی تھیں ۔ ان بیانات سے اتنا ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ حضرت عائشہؓ کا نکاح ، مہر ، رخصتی غرض ہر رسم کس سادگی سے ادا کی گئی تھی، جس میں تکلّف ،دکھاوا اور فضول خرچی کا نام تک نہیں ۔حضرت عائشہؓ اپنے عزیزوں کے ساتھ بنو حارث بن خزرج کے محلّہ میں اتریں اور 8،7 مہینے تک یہیں اپنی ماں کے ساتھ رہیں ۔ اکثر مہاجرین کو مدینہ کی آب وہوا راس نہیں آئی اور بہت سارے لوگ بیمار پڑگئے۔ حضرت ابوبکرؓ سخت بخار میں مبتلا ہو گئے کم سن بیٹی اس وقت اپنے بزرگ باپ کی تیمار داری میں مصروف تھی ۔ حضرت عائشہؓ نے آ کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کیفیت عرض کی ۔ آپ نے دعا فرمائی، اس کے بعد وہ خود بیمار پڑیں اور اب باپ کی غمخواری کا موقع آیا۔ حضرت ابو بکرؓ بیٹی کے پاس جاتے اور حسرت سے منہ پر منہ رکھ دیتے ۔یہ اس شدّت کی بیماری تھی کہ حضرت عائشہؓ کے سر کے تمام بال گر گئے۔ صحت ہوئی تو حضرت ابو بکرؓ نے آ کر عرض کی یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) اب آپ اپنی بیوی کو اپنے گھر کیوں نہیں بلوا لیتے؟ آپؐ نے فرمایا کہ اس وقت میرے پاس مہر ادا کرنے کے لئے روپئے نہیں ہیں ۔ گزارش کی کہ میری دولت قبول ہو۔ چنانچہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضر ت ابو بکرؓ سے قرض لے کر حضرت عائشہؓ کے پاس بھجوا دئیے۔ اس واقعہ سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئیے جو مہر کو دنیا کا وہ قرض سمجھتے ہیں جس کی ادائیگی ضروری نہیں ۔ مہر عورت کا حق ہے اور اس کو ملنا چاہئے۔
حضرت عائشہؓ کے نکاح کی تقریب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے عرب کی بہت سے بیہودہ اور بری رسموں کی بندشیں ٹوٹیں جیسے منہ بولے بھائی کی لڑکی سے شادی نہ کرنا، شوال میں شادی نہ کرنا وغیرہ۔وَ فِی ذَالِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الَمُتَنَافِسُونْ(المطففین۔26)
ترجمہ: اور یہ وہ چیز ہے جس میں سبقت کرنے والے کو سبقت کرنا چاہئے۔