• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیرتِ عائشہ (رضی اللہ عنہا)

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
رخصتی
حضرت عائشہؓ اپنے عزیزوں کے ساتھ بنو حارث بن خزرج کے محلّہ میں اتریں اور 8،7 مہینے تک یہیں اپنی ماں کے ساتھ رہیں ۔ اکثر مہاجرین کو مدینہ کی آب وہوا راس نہیں آئی اور بہت سارے لوگ بیمار پڑگئے۔ حضرت ابوبکرؓ سخت بخار میں مبتلا ہو گئے کم سن بیٹی اس وقت اپنے بزرگ باپ کی تیمار داری میں مصروف تھی ۔ حضرت عائشہؓ نے آ کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کیفیت عرض کی ۔ آپ نے دعا فرمائی، اس کے بعد وہ خود بیمار پڑیں اور اب باپ کی غمخواری کا موقع آیا۔ حضرت ابو بکرؓ بیٹی کے پاس جاتے اور حسرت سے منہ پر منہ رکھ دیتے ۔یہ اس شدّت کی بیماری تھی کہ حضرت عائشہؓ کے سر کے تمام بال گر گئے۔ صحت ہوئی تو حضرت ابو بکرؓ نے آ کر عرض کی یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) اب آپ اپنی بیوی کو اپنے گھر کیوں نہیں بلوا لیتے؟ آپؐ نے فرمایا کہ اس وقت میرے پاس مہر ادا کرنے کے لئے روپئے نہیں ہیں ۔ گزارش کی کہ میری دولت قبول ہو۔ چنانچہ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے حضر ت ابو بکرؓ سے قرض لے کر حضرت عائشہؓ کے پاس بھجوا دئیے۔ اس واقعہ سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئیے جو مہر کو دنیا کا وہ قرض سمجھتے ہیں جس کی ادائیگی ضروری نہیں ۔ مہر عورت کا حق ہے اور اس کو ملنا چاہئے۔
مدینہ گویا حضرت عائشہؓ کی سسرال تھی۔ انصار کی عورتیں دلہن کو لینے حضرت ابو بکرؓ کے گھر آئیں ۔ حضرت امّ رومانؓ نے بیٹی کو آواز دی ، وہ اس وقت سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھیں ۔ آواز سنتے ہی ماں کے پاس ہانپتی کانپتی دوڑی آئیں ۔ ماں بیٹی کا ہاتھ پکڑے دروازہ تک لائی، وہاں منھ دھلا کر بال سنوار دیئے ، پھر ان کو اس کمرے میں لے گئیں جہاں انصار کی عورتیں دلہن کے انتظار میں بیٹھیں تھیں ۔ دلہن جب اندر داخل ہوئی تو مہمانوں نے علی الخیر والبرکۃ و علیٰ خیر طائرٍ یعنی’’ تمہارا آنا بخیر و با برکت اور فال نیک ہو‘‘ کہہ کر استقبال کیا اور دلہن کو سنوارا۔ تھوڑی دیر کے بعد خود آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) بھی تشریف لائے۔ اس وقت آپؐ کی ضیافت لئے دودھ کے ایک پیالہ کے سوا کچھ نہ تھا۔ حضرت اسماءؓ بنت یزید حضرت عائشہؓ کی ایک سہیلی بیان کرتی ہیں کہ میں اس وقت موجود تھی کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پیالہ سے تھوڑا سا دودھ پی کر حضرت عائشہؓ کی طرف بڑھایا، وہ شرمانے لگیں ۔ میں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کا عطیہ واپس نہ کرو۔انہوں نے شرماتے شرماتے لے لیا اور ذرا سا پی کر رکھ دیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ اپنی سہیلیوں کو دو۔ ہم نے عرض کی یا رسول اللہ اس وقت ہم کو خواہش نہیں ۔ فرمایا جھوٹ نہ بولو، آدمی کا ایک ایک جھوٹ لکھا جاتا ہے۔یہ رخصتی شوال 1ھ مطابق 623 ء میں ہوئی جب حضرت عائشہؓ نو برس کی تھیں ۔ ان بیانات سے اتنا ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ حضرت عائشہؓ کا نکاح ، مہر ، رخصتی غرض ہر رسم کس سادگی سے ادا کی گئی تھی، جس میں تکلّف ،دکھاوا اور فضول خرچی کا نام تک نہیں ۔
وَ فِی ذَالِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الَمُتَنَافِسُونْ(المطففین۔26)
ترجمہ: اور یہ وہ چیز ہے جس میں سبقت کرنے والے کو سبقت کرنا چاہئے۔
حضرت عائشہؓ کے نکاح کی تقریب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ سے عرب کی بہت سے بیہودہ اور بری رسموں کی بندشیں ٹوٹیں جیسے منہ بولے بھائی کی لڑکی سے شادی نہ کرنا، شوال میں شادی نہ کرنا وغیرہ۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
تعلیم و تربیت

عرب میں خود مردوں میں لکھنے پڑھنے کا رواج نہ تھا تو عورتوں میں کیا ہوتا ۔جب اسلام آیا تو قریش کے سارے قبیلہ میں صرف 17 آدمی لکھ پڑھ سکتے تھے۔ ان میں شفاء بنت عبد اللہ عدویہ صرف ایک عورت تھیں ۔ اسلام کی دنیوی برکتوں میں یہ واقعہ بھی کچھ کم اہم نہیں ہے کہ اسلام کی اشاعت کے ساتھ ساتھ لکھنے پڑھنے کا فن بھی ترقی کرتا جاتا تھا۔
آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی حضرت عائشہؓ سے اس کم سنی کی شادی میں بڑی مصلحت یہ تھی کہ لڑکپن سے ہی جو عین تعلیم و تربیت کا زمانہ ہے۔ آپؐ کی صحبت کا بھر پور فائدہ اٹھا کر وہ سارے جہاں کی عورتوں کے لئے نمونہ اور چراغِ راہ بنیں ۔اس لئے حضرت عائشہؓ کی تعلیم و تربیت کا اصلی زمانہ رخصتی کے بعد سے شروع ہوتا ہے۔ انہوں نے اسی زمانہ میں پڑھنا سیکھا۔ قرآن دیکھ کر پڑھتی تھیں ۔بہر حال پڑھنا لکھنا تو انسان کی ظاہری تعلیم ہے، حقیقی تعلیم و تربیت کا معیار اس سے بہت بلند ہے۔انسان کی تکمیل ، اخلاق کی پاکیزگی ، ضروریاتِ دین سے واقفیت ، شریعت سے آگہی ، کلامِ الٰہی کی سمجھ ، احکامِ نبوی کا علم بھی اعلیٰ تعلیم ہے۔ حضرت عائشہؓ اس تعلیم سے اچھی طرح واقف تھیں ۔ علوم دینیہ کے علاوہ تاریخ، ادب اور طب کا بھی بہت اچھا علم رکھتی تھیں ۔

علومِ دینیہ کی تعلیم کا کوئی وقت مخصوص نہ تھا۔ معلّمِ شریعتؐ خود گھر میں تھا اور ہر وقت اس کی صحبت میسر تھی۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کی تعلیم و ارشاد کی مجلسیں روزانہ مسجدِ نبویؐ میں ہوتی تھیں جو حجرۂ عائشہؓ سے بالکل لگی تھی، اس بناء پر آپؐ گھر سے باہر بھی لوگوں کو جو درس دیتے تھے وہ اس میں شریک رہتی تھیں ۔ اگر کبھی دوری کی وجہ سے کوئی بات سمجھ میں نہ آتی تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) جب زنانخا نہ میں تشریف لاتے دوبارہ پوچھ کر تشفّی کر لیتیں ۔کبھی اٹھ کر مسجد کے قریب چلی جاتیں ۔اس کے علاوہ آپ نے عورتوں کی درخواست پر ہفتہ میں ایک خاص دن انکی تعلیم و تلقین کے لئے متعیّن فرما دیا تھا۔

دن و رات اسلام کے بیسیوں مسئلے ان کے کان میں پڑتے تھے۔ ان کے علاوہ خود حضرت عائشہؓ کی عادت یہ تھی کہ ہر مسئلہ کو بے جھجھک آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سامنے پیش کر دیتی تھیں اور جب تک تسلّی نہ ہو لیتی صبر نہ کر تیں ۔ ایک دفعہ آپؐ نے بیان فرمایا ’’ مَنْ حُوسِبَ عُذِّبَ ‘‘ یعنی قیامت میں جس کا حساب ہوا اس پر عذاب ہو گیا، عرض کیا یا رسول اللہ ! خدا تو فرماتا ہے: فَسَوفَ یُحَاسَبُ حِسابًا یَّسِیراً (انشقاق) یعنی اس سے آسان حساب لیا جائیگا، آپ نے فرمایا یہ ’’اعمال کی پیشی ہے، لیکن جس کے اعمال میں پوچھ تاچھ شروع ہوئی وہ تو برباد ہی ہوا‘‘۔
دوران وعظ ایک دفعہ آپؐ نے فرمایا کہ ’’ قیامت میں لوگ ننگے اٹھیں گے‘‘ عرض کی یا رسول اللہ ! عورت و مرد ایک ساتھ ہو نگے تو کیا ایک دوسرے کی طرف نظریں نہ اٹھ جائیں گی‘‘ ارشاد ہوا کہ ’’ عائشہؓ ! وقت عجب نازک ہو گا ‘‘ یعنی کسی کو کسی کی خبر نہ ہو گی۔ ایک بار دریافت کیا کہ’’ یا رسو ل اللہ قیامت میں ایک دوسرے کو کوئی یا د بھی کرے گا ؟‘‘ آپ نے فرمایا ’’ تین موقعوں پر کوئی کسی کو یاد نہ کریگا۔ایک تو جب اعمال تو لے جا رہے ہو نگے اور دوسرے جب اعمال نامے بٹ رہے ہونگے ، تیسرے جب جہنم گرج گرج کرکہہ رہی ہو گی کہ میں تین قسم کے آدمیوں کے لئے مقرر ہوئی ہوں ‘‘۔
عبد اللہ بن جدعان مکہ کا ایک نیک مزاج اور رحم دل مشرک تھا۔ اسلام سے پہلے قریش کی باہمی خونریزی کو روکنے کے لئے اس نے تمام سردارِ قریش کو جمع کر کے ایک صلح کی مجلس قائم کی تھی جس میں خود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) بھی شریک تھے۔ حضرت عائشہؓ نے سوال کیا ’’ یا رسول اللہ ! عبد اللہ بن جدعان جاہلیت میں لوگوں سے مہربانی کے ساتھ پیش آتا تھا غریبوں کو کھانا کھلاتا تھا، کیا یہ عمل اس کو کچھ فائدہ دیگا‘‘؟ آپؐ نے جواب دیا ’’ نہیں عائشہؓ ! اس نے کسی دن یہ نہیں کہا کہ اللہ قیامت میں میری خطا معاف کرنا‘‘۔

نکاح میں رضامندی شرط ہے لیکن کنواری لڑکیاں اپنے منھ سے آپ تو رضا مندی نہیں ظاہر کر سکتیں ۔ اس لئے دریافت کیا کہ ’’ یا رسول اللہ ! نکاح میں عورت سے اجازت لے لینا چاہیئے ‘‘ فرمایا، ’’ ہاں ‘‘ عرض کی کہ ’’ وہ شرم سے چپ رہتی ہے ‘‘ارشاد ہوا کہ’’ اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے‘‘۔
اسلام میں پڑوسیوں کے بڑے حقوق ہیں اور اس ادائے حق کا سب سے زیادہ موقع عورتوں کو ہاتھ آتا ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ دو پڑوسی ہوں تو کس کو ترجیح دی جائے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ نے ایک دفعہ یہ سوال پیش کیا۔ جواب ملا کہ ’’ جس کا دروازہ تمہارے گھر سے زیادہ قریب ہو‘‘۔ اسی طرح حضرت عائشہؓ کے بیسیوں سوالات اور مباحث احادیث میں مذکور ہیں جو در حقیقت ان کے روزآنہ تعلیم کے مختلف اسباق ہیں ۔

ان سوالات اور مباحث کے علاوہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) خود بھی حضرت عائشہؓ کی ایک ایک ادا اور ایک ایک حرکت کی نگرانی کرتے اور جہاں لغزش نظر آتی ، ہدایت و تعلیم فرماتے۔ ایک دفعہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمت میں چند یہودی آئے اور بجائے السلام علیک کے (تم پر سلامتی ہو ) زبان دبا کر السام علیک (تم کو موت آئے) کہا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اس کے جواب میں صرف وعلیکم (اور تم پر) فرمایا حضرت عائشہؓ سُن رہی تھیں وہ ضبط نہ کر سکیں ، بولیں ، علیکم السام واللّعنۃ ( تم پر موت اور لعنت) آپؐ نے فرمایا ’’ عائشہؓ نرمی چاہئے ، خدائے عزّو جلّ ہر بات میں نرمی پسند کرتا ہے‘‘۔
ایک دفعہ کسی نے حضرت عائشہؓ کی کوئی چیز چرائی۔ زنانہ رسم کے مطابق انہوں نے اس کو بد دعا دی ، ارشاد ہوا ’’ بد دعا دے کر اپنا ثواب اور اس کا گناہ کم نہ کرو‘‘۔ ایک بار وہ سفر میں آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کے ہمراہ ایک اونٹ پر سوار تھیں ۔ اونٹ کچھ تیزی کرنے لگا۔ عام عورتوں کی طرح ان کی زبان سے بھی لعنت کا کلمہ نکل گیا۔ آپؐ نے حکم دیا کہ اونٹ کو واپس کر دو ، ملعون چیز ہمارے ساتھ نہیں رہ سکتی۔یہ گویا تعلیم تھی کہ جانور تک کو بُرا نہیں کہنا چاہئے۔

عام طور سے لوگ اور خصوصاً عورتیں معمولی گناہوں کی پرواہ نہیں کرتیں ۔ آپؐ نے حضرت عائشہؓ کی طرف خطاب کر کے فرمایا ،عائشہ معمولی گناہوں سے بھی بچا کرو ، خدا کے ہاں ان کی بھی پرسش ہو گی۔ ایک دفعہ وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کسی عورت کا حال بیان کر رہی تھیں ۔دوران گفتگو میں بولیں کہ ’’ وہ پست قد ہے‘‘ آپ نے فوراً ٹوکا کہ ’’ عائشہؓ یہ بھی غیبت ہے ‘‘۔
حضرت صفیہؓ کسی قدر پست قد تھیں ۔ ایک دن انہوں نے کہا ’’ یا رسول اللہ ! بس کیجئے صفیہ تو اتنی ہیں ‘‘۔ آپ نے فرمایا ’’ تم نے ایسی بات کہی کہ اگر سمندر کے پانی میں بھی ملاؤ تو ملا سکتی ہو ‘‘ یعنی یہ غیبت ایسی تلخ بات ہے کہ سمندر کے پانی میں ملا دی جائے تو کل پانی بد مزہ ہو جائے ۔ عرض کیا ’’ یا رسول اللہ ! میں نے تو ایک شخص کی نسبت واقعہ بیان کیا‘‘ فرمایا کہ اگر مجھ کو اتنا اور اتنا بھی دیا جائے تو بھی یہ بیان نہ کر وں ‘‘ یعنی مجھ کو کسی قدر بھی لالچ دلائی جائے تو میں ایسی بات کسی کے متعلّق نہ کہوں ۔
ایک دفعہ کسی سائل نے سوال کیا۔ حضرت عائشہؓ نے اشارہ کیا تو لونڈی ذرا سی چیز لیکر دینے چلی۔ آپ نے فرمایا ’’ عائشہؓ گن گن کر نہ دیا کرو ورنہ خدا تم کو بھی گن گن کر دیگا ‘‘ دوسرے موقع پر فرمایا ’’ عائشہ ! چھوہارے کا ایک ٹکڑا بھی ہو تو وہی سائل کو دیکر جہنم کی آگ سے بچو۔‘‘
ایک موقع پر آپ نے یہ دعا مانگی ’’ خداوندا !مجھے مسکین زندہ رکھ، حالتِ مسکینی ہی میں موت دے اور مسکینوں ہی کے ساتھ قیامت میں اٹھا ‘‘۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کی یہ کیوں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ؟ فرمایا ’’ مسکین دولت مندوں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے ۔ اے عائشہؓ ! کسی مسکین کو خالی ہاتھ واپس نہ کرنا گو چھوہارے کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ مسکینوں سے محبت رکھو اور ان کو اپنے پاس جگہ دیا کرو ‘‘۔
ان مختلف اخلاقی نصیحتوں کے علاوہ نماز ، دعا اور دینیات کی اکثر باتیں آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) ان کو سکھایا کرتے تھے اور وہ نہایت شوق سے ان کو سیکھا کرتی تھیں اور ہر ایک حکم کی شدّت کے ساتھ پابندی کرتی تھیں ۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
خانہ داری

حضرت عائشہؓ جس گھر میں رخصت ہو کر آئی تھیں وہ کوئی بلند اور عالیشان عمارت نہ تھی۔ بنی نجار کے محلہ میں مسجد نبویؐ کے چاروں طرف چھوٹے چھوٹے چند حجرے تھے۔ انھیں میں ایک حجرہ حضرت عائشہؓ کا گھر تھا۔یہ حجرہ مسجد کی پوربی جانب واقع تھا اوراس کا ایک دروازہ مسجد کے اندر پچھم رُخ واقع تھا کہ گویا مسجدِ نبویؐ اس کا صحن بن گئی تھی۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) اسی دروازہ سے ہو کر مسجد میں داخل ہوتے تھے۔

حجرہ کی لمبائی 7،6 ہاتھ سے زیادہ نہ تھی ۔ دیواریں مٹی کی تھیں اور کھجور کی پتیوں اور ٹہنیوں کا چھت تھا۔ اوپر سے کمبل ڈال دیا گیا تھا کہ بارش سے محفوظ رہے۔ بلندی اتنی تھی کہ آدمی کھڑا ہوتا تو ہاتھ چھت تک پہنچ جاتا اور دروازہ میں ایک پٹ کا کواڑ تھا لیکن وہ عمر بھر کبھی بند نہ ہوا۔ پردہ کے طور پر ایک کمبل پڑا رہتا تھا۔ حجرہ سے لگا ہوا ایک بالا خانہ تھا جس کو مشربہ کہتے تھے ۔
گھر کی کل کائنات ایک چار پائی، ایک چٹائی ، ایک بستر ، ایک تکیہ جس میں چھال بھری تھی ، آٹا اور کھجور رکھنے کے ایک دو مٹکے ، پانی کا ایک برتن اور پانی پینے کا ایک پیالہ سے زیادہ نہ تھی۔ آپؐ کا گھر گو نورِ الٰہی سے منور تھا لیکن راتوں کو چراغ جلانا بھی صاحبِ خانہ کی استطاعت سے باہر تھا۔ کہتی ہیں کہ 40،40 راتیں گزر جاتیں تھیں اور گھر میں چراغ نہ جلتا تھا۔
گھر میں کل دو آدمی تھے ۔حضرت عائشہؓ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ۔ کچھ دن کے بعد بریرہ نام کی ایک لونڈی کا بھی اضافہ ہو گیا تھا۔ جب تک حضرت عائشہؓ اور حضرت سودہؓ صرف دو بیویاں رہیں آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) ایک روز بیچ دیکر حضرت عائشہؓ کے حجرہ میں شب باش ہوتے تھے۔ اس کے بعد جب اور ازواج بھی اس شرف سے ممتاز ہوئیں ، تو حضرت سودہؓ نے اپنے بڑھاپے کے سبب اپنی باری حضرت عائشہؓ کو دے دی۔ اس بناء پر نو دن میں دو دن آپؐ حضرت عائشہؓ کے گھر میں رہتے ۔
گھر کے کاروبار کے لئے بہت زیادہ اہتمام اور انتظام کی ضرورت نہ تھی۔ کھانا پکنے کی بہت کم نوبت آتی تھی۔ خود حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ کبھی تین دن لگا تار ایسے نہیں گزرے کہ خاندانِ نبوت نے سیر ہو کر کھایا ہو۔ فرماتی تھیں گھر میں مہینہ مہینہ بھر آگ نہیں جلتی تھی۔ چھوہارے اور پانی پر گزارہ تھا۔ فتح خیبر کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ازواجِ مطہراتؓ کے سالانہ خرچ کے لئے کچھ رقم مقرر کر دیئے تھے، لیکن دریا دلی اور سخاوت کی وجہ سے سال بھر کے لئے یہ سامان کبھی کافی نہ ہوا۔

صحابہؓ اپنی محبت سے تحفے اور ہدیے عموماً بھیجتے رہتے تھے۔ خاص کر جس دن حضرت عائشہؓ کے ہاں قیام کی باری ہوتی لوگ قصداً ہدیے بھیجا کرتے تھے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ آپؐ باہر سے تشریف لاتے اور دریافت فرماتے کہ عائشہؓ کچھ ہے ؟ جواب دیتیں کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کچھ نہیں ہے اور پھر گھر بھر روزہ ہوتا۔ کبھی بعض انصار دودھ بھیج دیا کرتے تھے اسی پر قناعت کر لیتے۔
اس عقل و شعور کے باوجود جو قدرت کی طرف سے ان کو عطاء ہوا تھا ۔ کم سنی کی غفلت اور بھول چوک سے وہ بری نہ تھیں ۔گھر میں آٹا گوندھ کر رکھتیں اور بے خبر سو جاتیں ۔ بکری آتی اور کھا جاتی۔ ایک دن کا واقعہ ہے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے آٹا پیسا اور اس کی ٹکیاں پکائیں اور آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کی تشریف آوری کا انتظار کر نے لگیں ۔ شب کا وقت تھا۔ آپؐ آئے تو نماز میں مشغول ہو گئے۔ ان کی آنکھ لگ گئی ۔ ایک پڑوسی کی بکری آئی اور سب کھا گئی ۔ دوسری بیویوں کے مقابلہ میں کھانا بھی اچھا نہیں پکاتی تھیں ۔

آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کا خانگی انتظام حضرت بلال کے سپرد تھا۔ وہی سال بھر کا غلّہ تقسیم کرتے تھے۔ ضرورت کے وقت باہر سے قرض لاتے تھے۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے جب وفات پائی ہے تو سارا عرب فتح ہو چکا تھا اور تمام صوبوں سے بیت المال میں خزانے لدے چلے آتے تھے ۔ تاہم جس دن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے وفات پائی اس دن حضرت عائشہؓ کے گھر میں ایک دن کے گزارے کا سامان بھی نہ تھا۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
معاشرتِ ازدواجی

عورت کے متعلّق لوگوں کے خیالات نہایت مختلف ہیں ۔مشرق میں عورت ایک ناپاک وجود ہے اور نیکی کی راہ کا ایک بڑا کانٹا ہے۔ دوسری طرف مغرب اس کو خدا سمجھتا ہے یا خدا کے برابر جانتا ہے اور کہتا ہے کہ ’’ جو عورت کی مرضی وہ خدا کی مرضی‘‘ ۔ اسلام کا صراط مستقیم نہ عورت کو خدا جانتا ہے نہ زندگی کی راہ کا کانٹا سمجھتا ہے۔ اس نے عورت کی بہترین تعریف یہ کی کہ وہ مرد کے لئے اس دنیا میں تسکین و تسلّی کی روح ہے۔
"اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے خود تمہارے جنس سے تمہاری بیویاں پیدا کیں کہ تم انکے پاس پہنچ کر تسلی پاؤ اور اسی نے تم دونوں کے درمیان لطف و محبت پیدا کیا‘‘۔ (سورہ روم)

آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) اور حضرت عائشہؓ کی خانگی زندگی میں عملاً ازدواجی تعلّقات کا کیا حال تھا وہ آنحضرتؐ کے اس قول سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’’تم میں اچھا وہ ہے جو اپنی بیوی کیلئے سب سے اچھا ہے اور میں اپنی بیویوں کیلئے تم سب سے اچھا ہوں ‘‘۔
اس کی عملی تصدیق اس سے ہوتی ہے کہ حضرت عائشہؓ کی ازدواجی زندگی نو برس تک قائم رہی، لیکن اس طویل مدّت میں واقعۂ ایلا کے سوا کوئی واقعہ باہمی غیر معمولی کشیدگی کا پیش نہیں آیا ۔ ہمیشہ لطف و محبت اور باہمی ہمدردی و خلوص کی معاشرت قائم رہی خصوصاً جب یہ تصور کیا جائے کہ خاندانِ نبوت کی دنیاوی زندگی کس تنگی اور فقر و فاقہ سے گزرتی تھی تو اس لطف و محبّت کی قدر اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
بیوی سے محبّت

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) حضرت عائشہ سے نہایت محبّت رکھتے تھے اور یہ تمام صحابہ کو معلوم تھا۔ چنانچہ لوگ قصداً اسی روز ہدیے اور تحفے بھیجتے تھے جس روز حضرت عائشہؓ کے ہاں قیام کی باری ہوتی اور ازواجِ مطہرات کو اس کا ملال ہوتا تھا لیکن کوئی ٹوکنے کی ہمت نہیں کرتا تھا۔ آخر سب نے مل کر حضرت فاطمہ کو آمادہ کیا۔وہ پیام لیکر رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی خدمت میں آئیں ۔ آپؐ نے فرمایا ’’ لخت جگر ! جس کو میں چاہوں اس کو تم نہیں چاہو گی؟ ‘‘سیدۂ عالمؓ کے لیے اتنا کافی تھا وہ واپس چلی آئیں ۔ ازواج نے پھر بھیجنا چاہا مگر وہ راضی نہ ہوئیں ۔ آخر لوگوں نے حضرت امّ سلمہؓ کو بیچ میں ڈالا۔ وہ نہایت سنجیدہ اور متین بیوی تھیں ، انہوں نے موقع پا کر سنجیدگی کے ساتھ درخواست پیش کی۔ آپؐ نے فرمایا : ’’ ام سلمہؓ مجھ کو عائشہؓ کے معاملہ میں دق نہ کرو کیونکہ عائشہؓ کے علاوہ کسی اور بیوی کے لحاف میں مجھ پر وحی نازل نہیں ہوئی۔‘‘

حضرت عمرو بن العاص جب جنگ سلاسل سے واپس آئے تو دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ دنیا میں سب سے زیادہ کس کو محبوب رکھتے ہیں ارشاد ہوا کہ ’’ عائشہ کو ‘‘ عرض کی یا رسول اللہ! مردوں کی نسبت سوال ہے۔ فرمایا’’ عائشہؓ کے باپ کو‘‘ ۔ ایک دن حضرت عمرؓ نے حفصہؓ کو سمجھایا کہ ’’عائشہ کی ریس نہ کیا کرو وہ تو حضور کو محبوب ہے۔‘‘
ایک دفعہ ایک سفر میں حضرت عائشہؓ کی سواری کا اونٹ بدک گیا اور ان کو لیکر ایک طرف کو بھاگا آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) اس قدر بے قرار ہوئے کہ بے اختیار زبان مبارک سے نکل گیا ’’ہائے میری دلہن!‘‘۔
ایک دفعہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) باہر سے تشریف لائے۔ حضرت عائشہؓ کے سر میں درد تھا اس لئے کراہ رہی تھیں ۔ آپؐ نے فرمایا۔ ’’ آہ میرا سر‘‘ اُسی وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بیماری شروع ہوئی اور یہی آپ کا مرض الموت تھا۔ مرض الموت میں بار بار دریافت فرماتے تھے کہ آج کون سا دن ہے؟ لوگ سمجھ گئے کہ حضرت عائشہؓ کی باری کا انتظار ہے۔ چنانچہ آپؐ کو لوگ ان کے حجرے میں لے گئے اور آپؐ اپنی وفات تک وہیں مقیم رہے اور وہیں حضرت عائشہؓ کے زانوؤں پر سر رکھے ہوئے وفات پائی۔ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ الٰہی جو چیز میرے امکان میں ہے (یعنی بیویوں میں معاشرت اور لین دین کی برابری) میں اس عدل سے باز نہیں آتا لیکن جو میرے امکان سے باہر ہے (یعنی عائشہؓ کی قدرو محبت ) اس کو معاف کرنا۔‘‘

عام لوگ سمجھتے ہیں کہ آپؐ کو حضرت عائشہؓ سے محبت ان کی خوبصورتی کی بناء پرتھی۔ حالانکہ یہ قطعاً غلط ہے ۔ ازواجِ مطہرات میں حضرت زینبؓ ، حضرت جویریہؓ اور حضرت صفیّہؓ بھی حسین تھیں اور کم سن بھی تھیں ۔اصل یہ ہے کہ حضرت عائشہؓ مسائل کی سمجھ اور احکام کو یاد رکھنے میں تمام ازواج میں سب سے بہتر تھیں اس بناء پر شوہر کی نظر میں سب سے زیادہ محبوب تھیں ۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا:
’’مردوں میں تو بہت کامل گزرے لیکن مریم بنت عمران اور آسیہ زوجۂ فرعون کے سوا عورتوں میں کوئی کامل نہ ہوئی اور عائشہؓ کو عورتوں پر اسی طرح فضیلت ہے جس طرح ثرید کو تمام کھانوں پر‘‘(ثرید: ایک اعلی عربی غذا جو روٹی کو شوربے میں بھگو کر تیار کیا جاتا تھا)
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
شوہر سے محبّت

حضرت عائشہؓ کو بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے شدید محبّت تھی ۔ اس محبت کا کوئی اور دعویٰ کرتا تو ان کو ملال ہوتا تھا۔ کبھی راتوں کو حضرت عائشہؓ بیدار ہوتیں اور آپؐ کو پہلو میں نہ پاتیں تو بیقرار ہو جاتیں ۔ ایک دفعہ شب کو آنکھ کھلی تو آپؐ کو نہ پایا۔ راتوں کو گھروں میں چراغ نہیں جلتے تھے اسلئے اِدھر اُدھر ٹٹولنے لگیں ۔ آخر ایک جگہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کا قدمِ مبارک ملا، دیکھا تو آپ سجدہ میں ہیں ۔ ایک دفعہ اور یہی واقعہ پیش آیا تو شک سے خیال کیا کہ شاید آپؐ کسی اور بیوی کے ہاں تشریف لے گئے ہیں ۔اُٹھ کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگیں ۔ دیکھا تو آپ عبادت میں مصروف ہیں ۔ اپنے قصور پر نادم ہوئیں ۔ اور بے اختیار زبان سے نکل گیا ’’ میرے ماں باپ قربان ! میں کس خیال میں ہوں اور آپؐ کس عالم میں ہیں ‘‘۔

ایک شب کا واقعہ ہے کہ آنکھ کھلی تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کو نہ پایا آدھی رات گزر چکی تھی ۔ادھر اُدھر ڈھونڈا لیکن محبوبؐ کا جلوہ نظر نہیں آیا۔ آخر تلاش کرتی ہوئی قبرستان پہنچیں دیکھا تو آپؐ دعاء و استغفار میں مشغول ہیں ۔

ایک سفر میں حضرت عائشہ اور حضرت حفصہؓ دونوں آپؐ کے ساتھ تھیں ۔ رات کو بلا ناغہ آپؐ حضرت عائشہ کی محمل میں تشریف لاتے اور جب تک قافلہ چلا کرتا باتیں کیا کرتے ۔ ایک دن حضرت حفصہؓ نے کہا لاؤ ہم دونوں اپنا اپنا اونٹ بدل لیں ۔ رات ہوئی تو حسب معمول آپ حضرت عائشہؓ کی محمل میں تشریف لائے دیکھا تو حضرت حفصہؓ تھیں ۔آپؐ سلام کر کے بیٹھ گئے۔ حضرت عائشہؓ تشریف آوری کی منتظر تھیں ۔ جب قافلہ نے پڑاؤ ڈالا تو حضرت عائشہ سے ضبط نہ ہو سکا ، محمل سے اتر پڑیں ، دونوں پاؤں گھاس پر رکھ دیئے اور بولیں ’’ خداوندا ! میں ان کو تو کچھ نہیں کہہ سکتی تو کوئی بچھو یا سانپ بھیج جو مجھ کو آ کر ڈس لے ‘‘۔ دیکھو اس فقرہ میں کس قدر نسوانی خصوصیات کی جھلک ہے۔
جنگ موتہ میں حضرت جعفر طیارؓ کی شہادت کی خبر آئی تو آپؐ کو سخت ملال ہوا۔ اسلام میں نوحہ منع ہے۔ ایک صاحب نے آ کر اطلاع دی کہ حضرت جعفرؓ کے ہاں عورتیں نوحہ کر رہی ہیں ۔ آپؐ نے فرمایا منع کر دو۔ وہ گئے اور واپس آئے کہ نہیں مانتیں ۔ آپؐ نے فرمایا ان کے منھ میں خاک ڈال دو۔ وہ پھر گئے اور واپس آ کر کچھ کہنے لگے۔ حضرت عائشہؓ دروازہ کی دراڑ سے دیکھ رہی تھیں اور بے قرار ہو رہی تھیں کہ نہ یہ صاحب جو آپؐ کہتے ہیں وہ کرتے ہیں نہ آپؐ کی جان چھوڑ کر جاتے ہیں ۔ آپؐ اکثر حضرت عائشہؓ کے زانو پرسر رکھے سو جاتے ۔ آپ ایک دفعہ اسی طرح آرام فرما رہے تھے کہ ایک خاص سبب سے حضرت ابو بکرؓ غصّہ میں اندر تشریف لائے اور بیٹی کو پہلو میں کونچا دیا۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ میں صرف اس خیال سے نہیں ہلی کہ آپ کی نیند میں خلل ہو گا۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
بیوی کی مدارات

آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زندگی انسانی معاشرت کے لئے نمونہ تھی۔ اس بناء پر صرف اس تعلیم کے لئے کہ شوہر کو اپنی بیوی کی خوشنودی کی کس طرح کوشش کرنی چاہئے۔ آپؐ کبھی کبھی ان کے ساتھ غیر معمولی محبت کے ساتھ پیش آتے تھے ۔ حضرت عائشہؓ نے ایک انصاری لڑکی کی پرورش کی تھی۔ اس کی شادی ہونے لگی تو اس تقریب کو معمولی سادگی کے ساتھ انجام دینے لگیں ۔ آپؐ باہر سے تشریف لائے تو فرمایا۔ ’’ عائشہؓ گیت اور راگ تو ہے نہیں ۔‘‘

ایک دفعہ عید کا دن تھا۔ حبشی عید کی خوشی میں نیزے ہلا ہلا کر پہلوانی کے کرتب دکھا رہے تھے ۔ حضرت عائشہ نے یہ تماشا دیکھنا چاہا۔ آپؐ آگے اور وہ پیچھے کھڑی ہو گئیں اور جب تک وہ خود تھک کر نہ ہٹ گئیں آپؐ برابر اوٹ کئے کھڑے رہے۔ایک دفعہ حضرت عائشہؓ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) سے بڑھ بڑھ کر بول رہی تھیں ۔ اتفاق سے حضرت ابو بکرؓ آ گئے۔ انہوں نے یہ گستاخی دیکھی تو اس قدر برہم ہوئے کہ بیٹی کو مارنے کے لئے ہاتھ اُٹھایا۔ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) فوراً آڑے آ گئے۔جب حضرت ابو بکرؓ چلے گئے تو فرمایا کہو میں نے تم کو کیسا بچایا۔
ایک دفعہ ایک لونڈی کو لئے ہوئے آپ حضرت عائشہ کے پاس تشریف لائے پھر پوچھا کہ تم اس کو پہچانتی ہو؟عرض کی نہیں ، یا رسول اللہ ! فرمایا کہ فلاں شخص کی لونڈی ہے تم اس کا گانا سننا چاہتی ہو۔ انہوں نے اپنی مرضی ظاہر کی تو وہ تھوڑی دیر تک گاتی رہی۔ آپ نے گانا سن کر فرمایا۔ اس کے نتھنوں میں شیطان باجا بجاتا ہے۔ یعنی اس قسم کے گانے کو آپؐ نے بذاتِ خود مکروہ سمجھا۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
دل بہلانا

کبھی کبھی دل بہلانے کو آپؐ کہانی بھی کہا کرتے تھے ۔ ایک دفعہ دورانِ گفتگو خرافہ کا نام آیا۔پوچھا خرافہ کو جانتی ہو کون تھا؟ قبیلۂ عذرہ کا ایک آدمی تھا۔ اس کو جن اٹھا کر لے گئے۔ وہاں اس نے جو بڑے بڑے عجائبات دیکھے تھے واپس آ کر ان کو لوگوں سے بیان کرتا تھا۔ اس بناء پر جب کوئی عجیب بات اب لوگ سنتے ہیں تو کہتے ہیں یہ تو خرافہ کی بات ہے ( ہماری زبان میں اسی کی جمع خرافات مستعمل ہے۔)

ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے کہانی کہنی شروع کی اور آپ صبر کے ساتھ دیر تک کہانی سنتے رہے۔ لیکن عین اس وقت جب آپ اسی قسم کی لطف و محبّت کی باتوں میں مشغول ہوتے جیسے ہی اذان کی آواز آتی اور آپ فوراً اٹھ کھڑے ہوتے ۔ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ پھر ایسا معلوم ہوتا جیسے آپؐ ہمکو پہچانتے ہی نہیں ۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
ساتھ کھانا

آپؐ اکثر حضرت عائشہؓ کے ساتھ ایک دسترخوان بلکہ ایک ہی برتن میں کھانا کھاتے تھے۔ ایک دفعہ ایک ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ حضرت عمرؓ گزرے۔ آپؐ نے ان کو بھی بلایا اور تینوں نے ایک ساتھ کھایا (اس وقت تک پردہ کا حکم نہیں آیا تھا)۔ کھانے میں بھی محبت کا یہ عالم تھا کہ آپؐ وہی ہڈی چوستے جس کو حضرت عائشہؓ چوستی تھیں ، پیالہ میں وہیں پر منھ رکھ کر پیتے تھے جہاں حضرت عائشہؓ منھ لگاتی تھیں ۔ ایک دفعہ دونوں ساتھ کھانے میں مصروف تھے کہ حضرت سودہؓ شکایت لیکر پہنچیں کہ عمر مجھ کو ضرورت سے بھی باہر نکلنے میں ٹوکتے ہیں ۔ راتوں کو گھر میں چراغ نہیں جلتا تھا اس لئے کبھی کبھی دونوں کا ہاتھ ایک ہی بوٹی پر پڑ جاتا تھا۔

ایک دفعہ ایک ایرانی پڑوسی نے آپؐ کی دعوت کی۔ آپ نے فرمایا عائشہؓ بھی ہوں گی۔ اس نے کہا نہیں ۔ ارشاد ہوا تو میں قبول نہیں کرتا ۔ میزبان دوبارہ آیا اور پھر یہی سوال و جواب ہوا اور وہ واپس چلا گیا۔تیسری دفعہ پھر آیا ۔ آپؐ نے پھر فرمایا ، عائشہؓ کی بھی دعوت ہے؟ عرض کی ’’جی ہاں ‘‘ اس کے بعد آپؐ اور حضرت عائشہؓ اُس کے گھر گئے۔ آپؐ کے تنہا دعوت قبول نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس روز خانہ نبویؐ میں فاقہ تھا۔ آپؐ نے مروت اور اخلاق سے دور سمجھا کہ گھر میں بیوی کو بھوکا چھوڑ کر خود کھانا کھا لیں ۔ پڑوسی نے اس لئے دو دفعہ انکار کیا کہ اس کے یہاں سامان ایک ہی آدمی کے مطابق تھا۔ تیسری دفعہ کچھ اور سامان کر کے حاضر ہوا۔اس لئے بے تکلف دوستوں سے انکارِ دعوت یا کسی اور مہمان کے بڑھانے کے لئے اصرار کرنا جائز ہے۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
ہم سفری

سفر میں تمام ازواج تو ساتھ نہیں رہ سکتی تھیں اور کسی کو خاص طور پر ترجیح دینا بھی خلافِ انصاف تھا اس بناء پر آپؐ سفر کے وقت قرعہ ڈالتے تھے۔جن کا نام آتا وہ سفر میں ساتھ ہوتیں ۔ حضرت عائشہؓ بھی متعدد سفروں میں آپ کے ساتھ رہی ہیں ۔ جنگ بنی المصطلق میں ساتھ ہونا تو یقینی طور پر ثابت ہے۔ اس سفر میں 2 عجیب واقعے پیش آئے اور دونوں میں خدائے پاک نے حضرت عائشہؓ کو امتیاز شرف کی لازوال دولت بخشی ۔ پہلے واقعہ کا نتیجہ حکمِ تیمم کا نزول ہے اور دوسرے واقعہ میں معصوم اور پاکباز عورتوں کی برأت کا قانون ہے (تفصیل آگے آتی ہے) حدیبیہ کے سفر میں بھی حضرت عائشہؓ ہمراہ تھیں اور حجۃ الوداع میں تو اکثر ازواج ساتھ تھیں جن میں یہ بھی تھیں ۔
 
Top