• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سیرتِ عائشہ (رضی اللہ عنہا)

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
روایت کے ساتھ درایت

لیکن محض روایت کی کثرت ، ان کی فضیلت اور مزیت کا باعث نہیں ہے، اصل چیز دقّت رسی اور نکتہ فہمی ہے اس مخصوص فضیلت میں حضرت عائشہؓ کے ساتھ صرف عبد اللہ بن عباس شریک ہیں جو روایت کی کثرت کے ساتھ تفقہ ، اجتہاد ، فکر اور قوّتِ استنباط میں بھی ممتاز تھے۔
روایت کی کثرت کے ساتھ اور قوّت استنباط کے علاوہ عائشہؓ کی روایتوں کی ایک خاص خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ جن احکام اور واقعات کو نقل کرتی ہیں ، اکثر ان کے علل و اسباب بھی بیان کرتی ہیں ، وہ خاص حکم جن مصلحتوں پر مبنی رہتا ہے ان کی تشریح کرتی ہیں ۔ صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ ، حضرت سعید خدریؓ اور حضرت عائشہ تینوں سے پہلو بہ پہلو روایتیں ہیں کہ جمعہ کے دن غسل کرنا چاہئے، اب تینوں بزرگوں کی روایتوں کے الفاظ کو پڑھو، اس سے حضرت عائشہؓ کی امتیازی حیثیت واضح ہو گی۔
سمعت رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) یقول ’’من جاء منکم الجمعۃ فلیغتسل‘‘
میں نے آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کو فر ما تے ہوئے سنا کہ جو جمعہ میں آئے وہ غسل کرے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں :
ان رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) قال ’’غسل یوم الجمعۃ واجب علی کل محتلم‘‘
آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ جمعہ کا غسل ہر بالغ پر فرض ہے۔
اسی مسئلہ کو حضرت عائشہؓ ان الفاظ میں بیان فرماتی ہیں :
قالت کان الناس ینتابون الجمعۃ من منازلھم والعوالی فیاتون فی الغبار یصیبھم الغبار والعرق فیخرج منھم العرق فاتی رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) انسان منھم و ھو عندی فقال النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) لو انکم تطہر تم لیومکم ھٰذا (کتاب الجمۃ)
۔’’لوگ اپنے اپنے گھروں سے اور مدینہ کے باہر کی آبادیوں سے جمعہ کے روز آتے تھے ،وہ غبار اور پسینہ میں شرابور ہوتے تھے، ان کے بد ن سے پسینہ نکلتا رہتا تھا ۔ ایک دفعہ ایک صاحب ان میں سے آپ کے پاس آئے اور آپ میرے پاس بیٹھے تھے، آپؐ نے فرمایا بہتر ہوتا، اگر تم اس دن غسل کر لیا کرتے۔‘‘
ابو داؤد کے سوا صحاح کی تمام کتابوں میں حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ آپؐ کو دست کا گوشت بہت پسند تھا، لیکن حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ دست کا گوشت آپ کو بہت پسند نہ تھا، بلکہ چونکہ گوشت کم میسر تھا اور دست کا گوشت جلد پک جاتا تھا ، اس لئے آپ اسی کو کھاتے تھے۔ (ترمذی)
احادیث میں مذکور ہے کہ آپؐ ہر سال ایک آدمی خیبر بھیجتے تھے، وہ پیداوار کو جا کر دیکھتا اور تخمینہ لگاتا تھا، دوسرے راوی اس واقعہ کو صرف اس قدر بیان کر کے رہ جاتے ہیں ، لیکن حضرت عائشہؓ جب اس روایت کو بیان کرتی ہیں ، تو فرماتی ہیں ۔
وانما کان امر النبی(صلی اللہ علیہ وسلم) بالخرص لکی یحصی الزکوہ قبل ان توکل التمرۃ وتفرق۔
آپ نے تخمینہ لگانے کا اس لئے حکم دیا کہ پھل کھانے اور اس کی تقسیم سے پہلے زکوٰۃ کا اندازہ کر لیا جائے۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
بار بار پوچھنا

حضرت عائشہؓ کی روایتوں میں غلطی کم ہونے کا ایک خاص سبب یہ بھی ہے کہ عام لوگ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) سے ایک دفعہ کوئی بات سن لیتے، یا کوئی واقعہ دیکھ لیتے تھے اس کی پھر اسی طرح روایت کر دیتے تھے۔ حضرت عائشہؓ کا اصول یہ تھا کہ جب تک وہ واقعہ کو اچھی طرح سمجھ نہیں لیتی تھیں ، اس کی روایت نہیں کرتی تھیں ، اگر آپؐ کی کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی تو آپؐ سے اس کو بار بار پوچھ کر تسکین کرتی تھیں ۔
وہ جس روایت کو آپؐ سے بلا واسطہ نہیں سنتی تھیں ، بلکہ دوسروں سے حاصل کرتی تھیں ان میں سخت احتیاط کرتی تھیں اور اچھی طرح جانچ لیتی تھیں ، تب اس پر اعتماد کرتی تھیں ۔ ایک دفعہ حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بن العاص نے ایک حدیث بیان کی، ایک سال کے بعد جب وہ پھر آئے تو ایک آدمی کو بھیجا کہ ان سے جا کر پھر وہی حدیث پوچھئے انہوں نے بے کم و کاست وہی حدیث بیان کی ، اس نے لوٹ کر حضرت عائشہؓ کے سامنے دہرائی، سن کر تعجب سے فرمایا کہ’’ خدا کی قسم ابن عمرؓ کو بات یا د رہی‘‘۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
روایتِ مخالفِ قرآن حجت نہیں

فنِ حدیث میں حضرت عائشہؓ کا سب سے پہلا اصول یہ معلوم ہوتا ہے کہ روایت کلام الہی کے مخالف نہ ہو۔
اس اصول کی بناء پر انہوں نے متعدد روایتوں کی صحت سے انکار کیا ہے اور ان کی اصل حقیقت اور مفہوم کو اپنے علم کے مطابق ظاہر کیا ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اور بعض صحابہ کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:
ان المیت لیعذب ببکاء اہلہٖ علیہ ۔
’’مردہ پر اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب ہوتا ہے۔‘‘
حضرت عائشہؓ کے سامنے جب یہ روایت بیان کی گئی تو اس کے تسلیم کرنے سے انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ کبھی نہیں فرمایا، واقعہ یہ ہے کہ ایک دن آپؐ ایک یہودیہ کے جنازہ پر گزرے، اس کے رشتہ دار اس پر واویلا کر رہے تھے، آپؐ نے فرمایا،’’یہ روتے ہیں اور اس پر عذاب ہو رہا ہے‘‘۔
رونا دوسروں کا فعل ہے جس کا عذاب یہ رونے والے خود اٹھائیں گے ، مردہ اس کا ذمہ دار کیوں ہو ، ہر شخص اپنے فعل کا جواب دہ ہے اس بناء پر عائشہ نے اس کے بعد کہا قرآن تم کو کافی ہے، خدا فرماتا ہے:
وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزرَ اُخریٰ۔
’’اور کوئی کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھاتا‘‘ (بنی اسرائیل۔2)
راوی کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمرؓ نے جب حضرت عائشہؓ کے اس بیان اور استدلال کو سنا تو کچھ جواب نہ دے سکے۔
غزوہ بدر میں جو کفار مارے گئے تھے، آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے ان کے مدفن پر کھڑے ہو کر فرمایا:
فھل وجدتم ما وعد ربّکم حقاً (اعراف۔5)
’’خدا نے تم سے جو وعدہ کیا تھا تم نے اس کو سچا پایا۔‘‘
صحابہؓ نے (ایک روایت میں ہے کہ صرف حضرت عمرؓ نے ) عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ عالیہ و سلم آپؐ مردوں کو پکارتے ہیں ، حضرت ابنِ عمرؓ غالباً حضرت عمرؓ سے اور انس بن مالک ابو طلحہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے اس کے جواب میں فرمایا۔
ماانتم باسمع منھم و لاکن لا یجیبون
’’تم ان سے زیادہ نہیں سنتے ، لیکن وہ جواب نہیں دے سکتے۔‘‘
حضرت عائشہؓ سے جب یہ روایت بیان کی گئی ، تو انہوں نے کہا کہ آپؐ نے یہ نہیں کہا بلکہ یہ ارشاد فرمایا:
انھم لیعلمون الان ان ما کنت اقول لھم حق
’’وہ اس وقت یقیناً جانتے ہیں کہ میں ان سے جو کچھ کہتا تھا وہ سچ تھا۔‘‘
اس کے بعد عائشہؓ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی۔
اِنِّکَ لَا تُسمِعُ المَوتٰی (نمل ۔2)
’’اے پیغمبر! تو مردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتا۔‘‘
وَمَا اَنتَ بِمُسمِعِ مَن فِی القُبُورِ (فاطر۔3)
’’اور آپ ان لوگوں کو جو قبروں میں ہیں نہیں سنا سکتے۔‘‘
لوگوں نے حضرت عائشہؓ سے آ کر بیان کیا کہ ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ بد شگونی تین چیزوں میں ہے ، عورت میں ، گھوڑے میں ، گھر میں ، حضرت عائشہؓ نے کہا یہ صحیح نہیں ، ابو ہریرہؓ نے آدھی بات سنی اور آدھی نہیں سنی، آپؐ پہلا فقرہ کہہ چکے تھے کہ ابو ہریرہؓ پہونچے، آپ نے یہ فرمایا کہ’’ یہود کہتے ہیں کہ بد شگونی تین چیزوں میں ہے ، عورت میں ، گھوڑے میں ، گھر میں ۔‘‘
حضرت ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے دو بار خدائے عزوجل کو دیکھا ، مسروق تابعی نے حضرت عائشہؓ سے جا کر پوچھا ’’مادرِ من! کیا محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) نے خدا کو دیکھا تھا۔‘‘ حضرت عائشہؓ نے کہا تم ایسی بات بولے جس کو سن کر میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے ، جو تم سے یہ کہے کہ محمدؐ نے خدا کو دیکھا وہ جھوٹ کہتا ہے، پھر یہ آیت پڑھی:
لَا تُدرِکُہ الاَبصَارُ وَھُوَ یُدرِکُ الاَبصَارَ وَھُوَ اللَّطِیفُ الخَبِیر (انعام ۔13)
’’نگاہیں اس کو نہیں پا سکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے کہ وہ ذات لطیف ہے اور دانا ہے۔‘‘
اس کے بعد یہ دوسری آیت پڑھی:
وَمَا کَانَ لِبَشَرِ اَن یُّکلِّمَہُ اللہُ اِلّا وَحیاً اَو مِن وَّرَاءِ حِجَابِ۔
’’اور کسی بشر میں یہ طاقت نہیں کہ وہ اس سے باتیں کر سکے مگر وحی کے ذریعہ یا پردہ کے پیچھے۔‘‘
بعض اور حدیثوں سے بھی حضرت عائشہؓ کی تائید ہوتی ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ وہ نور ہے، میں اس کو کیونکر دیکھ سکتا ہوں ۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
متعہ یعنی ایک مدّت معین تک کے لئے نکاح ، جاہلیت اور آغاز اسلام میں7ھ تک جائز تھا، خیبر میں اس کی حرمت کا اعلان کیا گیا، اس کے بعد روایتوں میں کسی قدر اختلاف ہے، حضرت ابن عباسؓ اور بعض لوگ اس کے جواز کے قائل تھے، لیکن جمہور صحابہ اس کی حرمت کے قائل ہیں اور اپنے دعویٰ کی توثیق میں حدیثیں پیش کرتے ہیں ۔ حضرت عائشہؓ سے جب ان کے ایک شاگرد نے جوازِ متعہ کی روایت کی نسبت پوچھا تو انہوں نے اس کا جواب حدیثوں سے نہیں دیا ، بلکہ فر ما یا میرے تمہارے درمیان خدا کی کتاب ہے، پھر یہ آیت پڑھی:
وَالَّذِینَ ھُم لِفُرُوجِھِم حَافِظُونَ اِلَّا عَلٰی اَزوَاجِہِم او مَامَلَکَت اَیمَانَھُم فَاِنَّھُم غَیرَ مَلُومِینَ (مومنون۔1)
’’جو لوگ کہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ، مگر اپنی بیویوں کے ساتھ یا اپنی باندیوں کے ساتھ ان پر کوئی ملامت نہیں ۔‘‘
اس لئے ان دو صورتوں کے علاوہ کوئی اور صورت جائز نہیں اور ظاہر ہے ممتوعہ عورت نہ بیوی ہے اور نہ باندی، اس لئے وہ جائز نہیں ۔
۶۔ حضرت ابو ہریرہؓ نے روایت کی کہ ناجائز لڑکا تینوں میں (ماں باپ اور بچّہ) بدتر ہے۔ حضرت عائشہؓ نے سنا تو فرمایا یہ صحیح نہیں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص منافق تھا ، آپؐ کو بُرا بھلا کہا کرتا تھا، لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! اس کے علاوہ وہ ولد الزنا بھی ہے، آپؐ نے فرمایا کہ وہ تینوں میں بد تر ہے، یعنی اپنے ماں باپ سے زیادہ بُرا ہے، یہ ایک خاص واقعہ ، عام نہ تھا، خدا فرماتا ہے:۔
وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزرَ اُخریٰ (بنی اسرائیل۔2)
’’اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا،یعنی قصور تو ماں باپ کا ہے بچہ کا کیا گناہ؟‘‘
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
مغز سخن تک پہنچنا

بعض مسائل کی نسبت صحابہ میں جو اختلاف روایت ہے وہ کسی قدر اختلاف فہم پر مبنی ہے، حضرت عائشہؓ کو اس فہم و ذکا کے عطیّہ الٰہی سے بھی بہت حظِ وافر ملا تھا اور انہوں نے اس دولتِ عظمیٰ سے فنِ حدیث میں بہت فائدہ اٹھایا۔
حضرت ابوہریرہؓ کی روایت سے ایک قصہ مذکور ہے کہ ایک عورت نے ایک بلّی باندھ دی تھی اور اس کو کچھ کھانے پینے کو نہیں دیتی تھی، بلی اسی حالت میں بھوک پیاس سے مر گئی اور اس کو اس بناء پر عذاب ہوا ، حضرت ابوہریرہ ایک دفعہ حضرت عائشہؓ سے ملنے گئے، انہوں نے کہا تم ہی ہو جو ایک بلّی کے بدلے ایک عورت کے عذاب کی روایت بیان کرتے ہو ، حضرت ابو ہریرہؓ نے کہا ’’میں نے آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنا ہے‘‘ فرمایا ’’خدا کی نظر میں ایک مومن کی ذات اس سے بہت بلند ہے کہ ایک بلّی کے باعث اس پر عذاب کرے، وہ عورت اس گناہ کے علاوہ کافر بھی تھی، اے ابو ہریرہؓ !جب آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) سے کوئی بات روایت کرو تو دیکھ لو کہ کیا کہتے ہو۔‘‘
اسلام میں حکم یہ ہے کہ مطلقہ عورت عدّت کے دن شوہر کے گھر میں گزارے اس حکم کے خلاف فاطمہؓ نام کی ایک صحابیہ اپنا واقعہ بیان کرتی ہیں کہ مجھ کو آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے عدت کے زمانہ میں شوہر کے گھر سے منتقل ہونے کی اجازت دے دی تھی، انہوں نے مختلف اوقات میں متعدد صحابہ کے سامنے اپنے واقعہ کو بطور استدلال کے پیش کیا۔ بعض نے قبول کیا اور اکثر نے اس کو ماننے سے انکار کیا، اتفاق سے مروان کی امارت مدینہ میں اسی قسم کا ایک مقدمہ پیش ہوا، فریق نے فاطمہؓ کے قول سے استدلال کیا، حضرت عائشہؓ کو معلوم ہوا تو انہوں نے فاطمہؓ پر سخت نقطہ چینی کی اور فرمایا کہ فاطمہؓ کے لئے بھلائی نہیں ہے کہ وہ اپنے اس واقعہ کو بیان کرے آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے عدّت کی حالت میں ان کو شوہر کے گھر سے منتقل ہونے کی بیشک اجازت دی لیکن سبب یہ تھا کہ ان کے شوہر کا گھر ایک غیر محفوظ اور خوفناک مقام میں تھا۔

حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ ’’مجھے خدا کی راہ میں ایک کوڑا بھی ملے تو مجھ کو ناجائز بچہ کے آزاد کرنے کے مقابلہ میں پسند ہے‘‘۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ناجائز لڑکے اگر غلامی کی حالت میں ہوں تو انکو آزاد کرنا کوئی ثواب کا کام نہیں ۔ حضرت عائشہؓ کو یہ روایت معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا ’’خدا ابوہریرہؓ پر رحم کرے ، اچھی طرح سنا نہیں تو اچھی طرح کہا بھی نہیں ، واقعہ یہ ہے کہ جب یہ آیت اتری :
فَلَا اِقتَحَمَ العَقَبَۃَ وَمَا اَدرَاکَ مَاالعَقَبَۃَ فَکُّ رَقَبَۃ (بلد )
’’وہ گھاٹی میں گھسا نہیں ،معلوم ہے کہ گھاٹی کیا چیز ہے کسی کو آزاد کرنا۔‘‘
کسی نے کہا یا رسول اللہ(صلی اللہ علیہ وسلم) ہم غریبوں کے پاس لونڈی غلام کہاں ؟ کسی کسی کے پاس کوئی ایک حبشن ہے جو گھر کا کام کاج کرتی ہے ، اس کو ناجائز طریقے کی اجازت دی جائے اس سے جو بچہ ہو اس کو آزاد کر دیا جائے ، ارشاد ہوا کہ ’’مجھ کو خدا کی راہ میں کوئی کوڑا بھی ملے تو مجھ کو اس سے پسند ہے کہ میں اس بُری بات کی اجازت دوں اور پھر اس سے بچہ پیدا ہو، اس کو کہوں کہ آزاد کر دو۔‘‘
ابو داؤد کے سوا بقیہ تمام صحاح میں یہ حدیث مذکور ہے کہ آپؐ کو بکری کے دست کا گوشت بہت پسند تھا، حضرت عائشہؓ نے فرمایا، دست کا گوشت فی نفسہٖ پسند نہ تھا بلکہ بات یہ تھی کہ گوشت روز نہیں ملتا تھا، دست کا گوشت پکنے میں جلد گل جاتا ہے اس لئے آپؐ اس کو پسند کرتے تھے۔

حضرت عمرؓ اور متعدد صحابہ سے مروی ہے کہ صبح اور عصر کی نمازوں کے بعد کسی قسم کی کوئی نماز نہیں پڑھنی چاہئے، حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں ’’خدا عمرؓ پر رحم کرے ان کو وہم ہوا، آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ فرمایا کہ آفتاب کے غروب اور طلوع کے وقت کو تاک کر نماز نہیں پڑھنی چاہئے، فقہاء نے ان اوقات میں نماز کی ممانعت کی یہ علّت بیان کی ہے کہ یہ آفتاب پرستی کے اوقات ہیں ،اس لئے اشتباہ اور آفتاب پرستوں کی مماثلت سے احتراز کرنا چاہئے، اگر یہ تعلیل صحیح ہے تو حضرت عائشہؓ کی روایت زیادہ قریب صواب ، صحیح اور انسب ہے اور معلوم ہوتا ہے جو انہوں نے ممانعت کیا اصل مقصد کو سمجھ لیا تھا۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
ذاتی واقفیت

یہ امر مسلّم ہے کہ محرم اسرار سے محرم اسرار دوست کی بنسبت بیوی بہت کچھ زیادہ جان سکتی ہے ، آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) ہمہ تن مثال اور اسوہ تھے، اس لئے گویا آپؐ کا ہر فعل قانون تھا، اس بناء پر آپؐ کی بیویوں کو اس کے متعلق جس قدر ذاتی واقفیت کے ذرائع حاصل تھے، دوسروں کے لئے نا ممکن تھے۔متعدد مسائل ایسے ہیں ، جن میں صحابہ نے اپنے اجتہاد یا کسی روایت کی بناء پر کوئی مسئلہ بیان کیا اور حضرت عائشہ نے اپنی ذاتی واقفیت کی بناء پر اس کو رد کر دیا اور آج تک ان مسائل میں حضرت عائشہؓ ہی کا قول مستند ہے۔
حضرت ابن عمروؓ فتویٰ دیتے تھے کہ عورت کو نہاتے وقت چوٹی کھول کر بالوں کا بھگونا ضروری ہے حضرت عائشہؓ نے سنا تو فرمایا وہ عورتوں کو یہی کیوں نہیں کہہ دیتے کہ وہ اپنے چوٹی منڈوا ڈالیں ، میں آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کے سامنے نہاتی تھی اور بال نہیں کھولتی تھی۔

حضرت ابن عمرؓ کہتے تھے کہ تقبیل یعنی عورت کا بوسہ لینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، حضرت عائشہؓ کو معلوم ہوا تو فرمایا ’’ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) تقبیل کے بعد تازہ وضو نہیں کرتے تھے ‘‘یہ کہ کر مسکرائیں ۔
(۲) حضرت ابوہریرہؓ کی نسبت معلوم ہوا کہ وہ کہتے ہیں کہ نماز میں مرد کے سامنے سے عورت یا گدھا یا کتّا گزر جائے ، تو مرد کی نماز ٹوٹ جاتی ہے، حضرت عائشہؓ کو یہ سن کر غصہ آیا اور فرمایا کہ تم نے ہم عورتوں کو گدھے اور کتّے کے برابر کر دیا، میں آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کے سامنے پاؤں پھیلائے سوتی رہتی (حجرہ میں جگہ نہ تھی) آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نماز میں مصروف ہوتے، جب آپؐ سجدے میں جاتے ہاتھ سے ٹھوکر دیتے میں پاؤں سمیٹ لیتی اور جب آپ کھڑے ہوتے تو پھر پاؤں پھیلا دیتی، کبھی ضرورت ہوتی ، تو بدن چرا کر سامنے سے نکل جاتی۔

حضرت ابو درداءؓ نے ایک دن وعظ میں یہ مسئلہ بیان کیا کہ اگر صبح ہو جائے اور وتر قضا ہو گئی ہو تو پھر وتر نہ پڑھے۔ حضرت عائشہؓ نے سنا تو فرمایا، ابو درداءؓ نے صحیح نہیں کہا صبح ہو جاتی تب بھی آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) وتر پڑھ لیتے تھے۔

بعض لوگوں نے بیان کیا کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کو یمنی چادر میں کفنایا گیا ، حضرت عائشہؓ نے سنا تو کہا اتنا صحیح ہے کہ لوگ اس غرض سے چادر لائے تھے، لیکن آپؐ کو اس میں کفنایا نہیں گیا۔
حضرت ابو ہریرہؓ نے ایک دن وعظ میں بیان کیا کہ اگر روزے کے دنوں میں کسی کو صبح کو نہانے کی ضرورت پیش آئے تو اس دن وہ روزہ نہ رکھے ۔ لوگوں نے جا کر حضرت عائشہ (اور حضرت ام سلمہؓ ) سے اس کی تصدیق چاہی ، فرمایا کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کا طرز عمل اس کے خلاف تھا، لوگوں نے حضرت ابو ہریرہؓ کو جا کر ٹوکا، آخر ان کو اپنے پہلے فتوے سے رجوع کرنا پڑا۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
قوّت حفظ

حفظ کی قوت قدرت کا ایک گراں مایہ عطیہ ہے ، حضرت عائشہؓ اس عطیہ سے بدرجۂ اتم سرفراز تھیں ، گزر چکا ہے کہ لڑکپن میں کھیلتے کھلتے بھی اگر کوئی آیت ان کے کانوں میں پڑ گئی، تو یاد رہ گئی، احادیث کا دار و مدار زیادہ تر اسی قوت پر ہے ، عہد نبوت کے روز مرہ کے واقعات کو یاد رکھنا اور ان کو ہر وقت ٹھیک ٹھیک بیان کرنا آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) کے ارشادات کو انہیں الفاظ میں بیان کرنا ایک محدث کا سب سے بڑا فرض ہے، ام المومنین نے اپنے معاصرین پر جو نکتہ چینیاں کی ہیں ، ان میں قوتِ حفظ کے فرقِ مراتب کو بھی دخل ہے۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
فقہ و قیاس

علمی حیثیت سے کتاب و سنت در حقیقت بمنزلۂ دلائل کے ہیں ، اور فقہ اُن دلائل کے نتائج نکالنے کا نام ہے، قرآن اور حدیث کی سرخیوں کے تحت میں جو واقعات لکھے گئے ہیں اور فتاویٰ و ارشادات کے تحت میں جو واقعات آئیں گے ، ان سے روشن ہو گا کہ علم فقہ میں ام المومنین حضرت عائشہؓ کا کیا پایہ تھا اور اُن کے فقہ اور قیاس کے کیا اصول تھے۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
قرآن مجید

حضرت عائشہؓ کے استنباط کا اصول یہ تھا کہ وہ سب سے پہلے قرآن مجید پر نظر کرتی تھیں ، اگر اس میں نا کامی ہوتی تو احادیث کی طرف رجوع کرتیں ، پھر قیاس عقلی کا درجہ ، علم حدیث میں گزر چکا ہے کہ ایک صاحب نے متعہ کی نسبت انکی رائے پوچھی تو انہوں نے حسبِ ذیل آیت اس کی حرمت کی سند میں پیش کی۔
وَالَّذِینَ ھُم لِفُرُوجِھِم حٰفِظُونَ اِلَّا عَلٰی اَزواجِھِم اَو مَا مَلَکَت اَیمَانُھُم فَاِنَّھُم غَیرَ مَلُومیِن (مومنون۔1)
’’اور جو لوگ اپنی عصمت کی حفاظت کرتے ہیں ، لیکن اپنی بیویوں کے ساتھ یا اپنی باندیوں کے ساتھ ، ان پر کوئی ملامت نہیں ۔‘‘
ممتوعہ نہ بیوی ہے، نہ باندی ہے، اس لئے متعہ جائز نہیں ۔
قرآن مجید میں ہے کہ طلاق کے بعد عورت کو تین ’’قروئ‘‘ تک انتظار کرنا چاہئے یعنی عدّت کا زمانہ تین قروء ہے، قروء کے معنی میں اختلاف ہے، حضرت عائشہؓ کی بھتیجی کو ان کے شوہر نے طلاق دی، تین طہر گزر کر جب نیا مہینہ آیا، تو انہوں نے شوہر کے گھر سے اُن کو بلوا لیا، اس پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ قرآن کے خلاف ہے اور ثلاثۃ قروء کی آیت سے استدلال کیا، ام المومنین نے کہا، ثلاثۃ قروء صحیح ہے ، لیکن جانتے ہو کہ قروء کیا ہے، قروء سے مراد طہر ہے، امام مالکؒ اپنے شیوخ سے نقل کرتے ہیں ، کہ مدینہ منورہ کے تمام فقہاء نے حضرت عائشہؓ کی پیروی کی ہے۔
 

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
حدیث

قرآن مجید کے بعد حدیث کا درجہ ہے، مسئلہ یہ پیش ہوا کہ اگر شوہر اپنی بیوی کو طلاق لے لینے کا اختیار عطا کر دے اور بیوی اس اختیار کو واپس کر کے اپنے شوہر ہی کو قبول کر لے تو کیا بیوی پر کوئی طلاق پڑے گی، حضرت علیؓ اور حضرت زیدؓ کے نزدیک ایک طلاق واقع ہو جائے گی، حضرت عائشہؓ کے نزدیک اس صورت میں ایک بھی طلاق واقع نہ ہو گی،اس ثبوت میں انہوں نے تخییر کا واقعہ پیش کیا کہ آنحضرت(صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی بیویوں کو اختیار دیا کہ خواہ دنیا قبول کریں یا کاشانۂ نبوت میں رہ کر فقر و فاقہ پسند کریں ، سب نے دوسری صورت پسند کی، کیا اس سے ازواج مطہرات پر ایک طلاق واقع ہو گئی؟
 
Top