ساجد تاج
فعال رکن
- شمولیت
- مارچ 09، 2011
- پیغامات
- 7,174
- ری ایکشن اسکور
- 4,518
- پوائنٹ
- 604
بَابٌ : جَزَآئُ الْمُؤْمِنِ بِحَسَنَاتِهِ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَتَعْجِيلُ
حَسَنَاتِ الْكَافِرِ فِي الدُّنْيَا
مومن کو اس کی نیکیوں کا بدلا دنیا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے اور کافر کی نیکیوں کا بدلا
اس کو دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے
(60) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّ اللَّهَ لاَ يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً يُعْطِى بِهَا فِي الدُّنْيَا وَ يُجْزَى بِهَا فِي الآخِرَةِ وَ أَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ بِهَا لِلَّهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الآخِرَةِ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُجْزَى بِهَا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ کسی مومن پر ایک نیکی کے لیے بھی ظلم نہ کرے گا، اس کا بدلا دنیا میں دے گا اور آخرت میں بھی د ے گا اور کافر کو اس کی نیکیوں کا بدلا دنیا میں دیا جاتا ہے یہاں تک کہ جب آخرت ہو گی تو اس کے پاس کوئی نیکی نہ رہے گی جس کا کہ اسے بدلا دیا جائے۔ ‘‘
حَسَنَاتِ الْكَافِرِ فِي الدُّنْيَا
مومن کو اس کی نیکیوں کا بدلا دنیا اور آخرت دونوں میں ملتا ہے اور کافر کی نیکیوں کا بدلا
اس کو دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے
(60) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّ اللَّهَ لاَ يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً يُعْطِى بِهَا فِي الدُّنْيَا وَ يُجْزَى بِهَا فِي الآخِرَةِ وَ أَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ بِهَا لِلَّهِ فِي الدُّنْيَا حَتَّى إِذَا أَفْضَى إِلَى الآخِرَةِ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُجْزَى بِهَا
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ کسی مومن پر ایک نیکی کے لیے بھی ظلم نہ کرے گا، اس کا بدلا دنیا میں دے گا اور آخرت میں بھی د ے گا اور کافر کو اس کی نیکیوں کا بدلا دنیا میں دیا جاتا ہے یہاں تک کہ جب آخرت ہو گی تو اس کے پاس کوئی نیکی نہ رہے گی جس کا کہ اسے بدلا دیا جائے۔ ‘‘