• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

صحیح مسلم

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : مَن عَمِلَ بِرًّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ أَسْلَمَ

جس نے جاہلیت میں کوئی نیک عمل کیا پھر وہ مسلمان ہو گیا


(70) عَن عُرْوَة بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَيْ رَسُوْلَ اللهِ ! أَ رَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَ تَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صَدَقَةٍ أَو عَتَاقَةٍ أَو صِلَةِ رَحِمٍ , أَ فِيْهَا أَجْرٌ ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ

عروہ بن زبیر سے روایت ہے اور انھیں سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انھوں (سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ یارسول اللہ ! آپ کیا سمجھتے ہیں کہ جو نیک کام میں نے جاہلیت کے زمانہ میں کیے تھے جیسے صدقہ یا غلام کا آزاد کرنا یا ناطہ ملانا، ان کا ثواب مجھے ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تو اسی نیکی پر اسلام لایا ہے جو کہ پہلے کر چکا ہے۔ (یعنی وہ نیکی قائم ہے، اب اس پر اسلام زیادہ ہوا)۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : التَّحْذيرُ مِنَ الْإِبْتِلاَئِ

آزمائش سے ڈرانا


(71) عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ أَحْصُوا لِي كَمْ يَلْفِظُ الإِسْلاَمَ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ! أَ تَخَافُ عَلَيْنَا وَ نَحْنُ مَا بَيْنَ السِّتِّ مِائَةٍ إِلَى السَّبْعِ مِائَةٍ ؟ قَالَ إِنَّكُمْ لاَ تَدْرُونَ لَعَلَّكُمْ أَنْ تُبْتَلَوْا قَالَ فَابْتُلِيْنَا حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ مِنَّا لاَ يُصَلِّي إِلاَّ سِرًّا

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ شمار کرو کہ کتنے آدمی اسلام کے قائل ہیں؟‘‘ پھر ہم نے کہا کہ یارسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر (دشمنوں کی وجہ سے کوئی آفت آنے سے) ڈرتے ہیں؟ اور بے شک ہم چھ سو آدمیوں سے لیکر سات سو تک ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ تم نہیں جانتے شاید مصیبت میں پڑ جاؤ۔‘‘ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر ایسا ہی ہوا کہ ہم مصیبت میں پڑ گئے ،یہاں تک کہ بعض ہم میں سے نماز بھی چپکے سے (چھپ کر) پڑھتے۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : بَدَأَ الإِسْلاَمُ غَرِيبًا وَ سَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ وَ هُوَ يَأْرِزُ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ

اسلام کی ابتدا غربت سے ہوئی (اور) عنقریب اسلام پہلی حالت میں لوٹ آئے گا
اور وہ دو مسجدوں (مکہ و مدینہ) میں سمٹ کر رہ جائے گا


(72) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ إِنَّ الإِسْلاَمَ بَدَأَ غَرِيبًا وَ سَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ وَ هُوَ يَأْرِزُ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ فِي جُحْرِهَا

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنھما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ اسلام غربت میں شروع ہوا اور پھر غریب ہو جائے گا جیسے کہ شروع ہوا تھا اور وہ سمٹ کر دونوں مسجدوں (مکہ و مدینہ) کے درمیان میں آجائے گا، جیسے کہ سانپ سمٹ کر اپنے سوراخ (بل) میں چلا جاتا ہے۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ: بَدْئُ الْوَحْيِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی ابتدا


(73) عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةَ فِي النَّوْمِ فَكَانَ لاَ يَرَى رُؤْيَا إِلاَّ جَائَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلاَئُ فَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَائٍ يَتَحَنَّثُ فِيهِ (وَ هُوَ التَّعَبُّدُ ) اللَّيَالِيَ أُوْلاَتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَ يَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَ هُوَ فِي غَارِ حِرَائٍ فَجَائَهُ الْمَلَكُ فَقَالَ اقْرَأْ قَالَ مَا أَنَا بِقَارِئٍ قَالَ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ قَالَ قُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ قَالَ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ أقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ { اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَق oخَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ oاقْرَأْ وَ رَبُّكَ الأَكْرَمُ o الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ o عَلَّمَ الإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ } فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ ثُمَّ قَالَ لِخَدِيجَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا أَيْ خَدِيجَةُ مَا لِي وَ أَخْبَرَهَا الْخَبَرَ قَالَ لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ كَلاَّ أَبْشِرْ فَوَاللَّهِ لاَ يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا وَاللَّهِ إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَ تَصْدُقُ الْحَدِيثَ وَ تَحْمِلُ الْكَلَّ وَ تَكْسِبُ الْمَعْدُومَ وَ تُقْرِي الضَّيْفَ وَ تُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَ رَقَةَ ابْنَ نَوْفَلِ ابْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى وَ هُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا أَخِي أَبِيهَا وَ كَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَ كَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ وَ يَكْتُبُ مِنَ الإِنْجِيلِ بِالْعَرَبِيَّةِ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ وَ كَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا أَيْ عَمِّ اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ قَالَ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ يَا ابْنَ أَخِي مَاذَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم خَبَرَ مَا رَآهُ فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ عَلَيْهِ السَّلاَمُِ يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَ وَ مُخْرِجِيَّ هُمْ ؟ قَالَ وَرَقَةُ نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلاَّ عُودِيَ وَ إِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا

عروہ بن زبیر سے روایت ہے اور انھیں ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے خبردی، انھوں نے کہا کہ پہلے پہل جو وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر شروع ہوئی، وہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب سچے ہونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی خواب دیکھتے تو وہ صبح کی روشنی کی طرح نمودار ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہائی کا شوق ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا میں اکیلے تشریف رکھتے، کئی کئی راتوں تک وہاں عبادت کیا کرتے اور گھر میں نہ آتے، اپنا توشہ ساتھ لے جاتے۔ پھر ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنھا کے پاس لوٹ کر آتے اور وہ اتنا ہی اور توشہ تیار کر دیتیں، یہاں تک کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کی توقع نہ تھی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی غار حرا میں تھے کہ فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ پڑھو! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ میں پڑھا ہوا نہیں۔ (آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)’’ اس فرشتے نے مجھے پکڑ کر دبوچا، اتنا کہ وہ تھک گیا یا میں تھک گیا، پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھ! میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں۔ اس نے پھر مجھے پکڑا اور دبوچا یہاں تک کہ تھک گیا، پھر چھوڑ دیا اور کہا کہ پڑھ! میں نے کہا میں پڑھا ہوا نہیں۔ اس نے پھر مجھے پکڑا اور دبوچا یہاں تک کہ تھک گیا، پھر چھوڑ دیا اور کہا کہ ’’ پڑھ! اپنے رب کے نام سے، جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا تو پڑھتا رہ، تیرا رب بڑے کرم والا ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا۔ جس نے انسان کو وہ سکھایا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھے اور گردن کے بیچ کا گوشت (ڈر اور خوف سے) پھڑک رہا تھا (چونکہ یہ وحی کا پہلا تجربہ و مرحلہ تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عادت نہ تھی، اس لیے ہیبت چھا گئی) یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنھا کے پاس پہنچے اور فرمایا:’’ مجھے (کپڑوں سے) ڈھانپ دو، ڈھانپ دو۔‘‘ انھوں ڈھانپ دیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈرجاتا رہا ۔ اس وقت ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا:’’ اے خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا۔‘‘ اور سب حال بیان کیا اور کہا کہ ’’مجھے اپنی جان کا خوف ہے۔‘‘ ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنھا نے کہا ہرگز نہیں آپ خوش رہیں۔ اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہ کرے گا یا کبھی رنجیدہ نہ کرے گا۔ اللہ کی قسم! آپ ناتے کو جوڑتے ہیں، سچ بولتے ہیں اور بوجھ اٹھاتے ہیں (یعنی عیال او راطفال اور یتیم اور مسکین کے ساتھ تعاون کرتے ہیں، ان کا بار اٹھاتے ہیں) اور نادار کے لیے کمائی کرتے ہیں اور مہمان کی خاطرداری کرتے ہیں اور سچی آفتوں (جیسے کوئی قرض دار یا مفلس ہو گیا یا اور کسی تباہی) میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ پھر ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل ابن اسد بن عبد العزیٰ کے پاس لے گئیں اور وہ ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنھا کے چچازاد بھائی تھے (کیونکہ ورقہ نوفل کے بیٹے تھے اور نوفل اسد کے بیٹے، اور ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنھا خویلد کی بیٹی تھیں اور خویلد اسد کے بیٹے تھے تو ورقہ اور خدیجہ کے کے باپ بھائی بھائی تھے) اور جاہلیت کے زمانہ میں وہ نصرانی ہو گئے تھے اور عربی لکھنا جانتے تھے، تو جتنا اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا انجیل کو عربی زبان میں لکھتے تھے اور بہت بوڑھے تھے، ان کی بینائی (بڑھاپے کی وجہ سے) جاتی رہی تھی۔ ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنھا نے ان سے کہا کہ اے چچا! (وہ چچا کے بیٹے تھے لیکن بزرگی کے لیے ان کو چچا کہا اور ایک روایت میں چچا کے بیٹے ہے) اپنے بھتیجے کی سنو۔ ورقہ نے کہا کہ اے میرے بھتیجے! تم نے کیا دیکھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کیفیت دیکھی تھی سب بیان کی تو ورقہ نے کہا کہ یہ تو وہ ناموس ہے جو موسیٰ علیہ السلام پر اتری تھی۔(ناموس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں) کاش !میں اس زمانہ میں جوان ہوتا، کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا جب تمہاری قوم تمہیں نکال دے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟‘‘ ورقہ نے کہا ہاں! جب کوئی شخص دنیا میں وہ لے کر آیا، جسے تم لائے ہو (یعنی شریعت اور دین) تو لوگ اس کے دشمن ہو گئے اور اگر میں اس دن کو پاؤں گا تو اچھی طرح تمہاری مدد کروں گا۔‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
(74) عَنْ يَحْيَى قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ قَالَ { يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ } فَقُلْتُ أَوِ اقْرَأْ فَقَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَيُّ الْقُرْآنِ أُنْزِلَ قَبْلُ قَالَ { يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ } فَقُلْتُ أَوِ اقْرَأْ قَالَ جَابِرٌ أُحَدِّثُكُمْ مَا حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ جَاوَرْتُ بِحِرَائٍ شَهْرًا فَلَمَّا قَضَيْتُ جَوَارِي نَزَلْتُ فَاسْتَبْطَنْتُ بَطْنَ الْوَادِي فَنُودِيتُ فَنَظَرْتُ أَمَامِي وَ خَلْفِي وَ عَنْ يَمِينِي وَ عَنْ شِمَالِي فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا ثُمَّ نُودِيتُ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا هُوَ عَلَى الْعَرْشِ فِي الْهَوَائِ يَعْنِي جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ فَأَخَذَتْنِي رَجْفَةٌ شَدِيدَةٌ فَأَتَيْتُ خَدِيجَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهَا فَقُلْتُ دَثِّرُونِي فَدَثَّرُونِي فَصَبُّوا عَلَيَّ مَائً فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ { يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ o قُمْ فَأَنْذِرْ o وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ o وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ }

یحییٰ کہتے ہیں کہ میں نے ابو سلمہ سے پوچھا کہ سب سے پہلے قرآن میں سے کیا اترا؟ انھوں نے کہا کہ {یٰٓـأَیُّھَا الْمدَثِّر} میں نے کہا کہ یا { اِقْرَأْ } (سب سے پہلے اتری؟) انھوں نے کہا کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما سے پوچھا کہ قرآن میں سب سے پہلے کیا اترا تو انھوں نے کہا کہ { یٰٓـأَیُّھَا الْمدَثِّر} میں نے کہا کہ یا {اِقْرَأْ} (سب سے پہلے اتری؟) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تم سے وہ حدیث بیان کرتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں (غار) حرا میں ایک مہینے تک رہا۔ جب میری رہنے کی مدت پوری ہو گئی تو میں اترا اور وادی کے اندر چلا۔ کسی نے مجھے آواز دی، میں نے سامنے اور پیچھے اور دائیں اور بائیں دیکھا، کوئی نظر نہ آیا۔ پھر مجھے کسی نے آواز دی، میں نے دیکھا مگر کسی کو نہ پایا۔ پھر کسی نے مجھے آواز دی تو میں نے سر اوپر پٹھاکر دیکھا تو وہ ہوا میں ایک تخت پر ہیں یعنی جبریل علیہ السلام ۔ مجھے یہ دیکھ کر سخت (ہیبت کے مارے) لرزہ طاری ہوگیا۔تب میں خدیجہ رضی اللہ عنھا کے پاس آیا اور میں نے کہا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو! انھوں نے کپڑا اوڑھا دیا اور پانی (ہیبت دور کرنے کے لیے) میرے اوپر ڈالا۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتاریں۔ ’’اے کپڑا اوڑھنے والے! کھڑا ہو جا اور آ گاہ کر دے اور اپنے رب ہی کی بڑائیاں بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھ …۔‘‘ (المدثر : ۱۔۴)۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : فِي كَثْرَةِ الْوَحْىِ وَ تَتَابُعِه

وحی کا کثرت سے اور لگا تار نازل ہونا


(75) عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّوَجَلَّ تَابَعَ الْوَحْيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ وَ أَكْثَرُ مَا كَانَ الْوَحْيُ يَوْمَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بے شک اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے قبل پے درپے وحی اتاری حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور سب سے زیادہ وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دن نازل ہوئی۔
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : اَلإِسْرَائُ بِرَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِلَى السَّمَاوَاتِ وَ فَرْضُ الصَّلَوَاتِ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا (یعنی معراج) اور نمازوں کا فرض ہونا

(76) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ أُتِيتُ بِالْبُرَاقِ وَ هُوَ دَابَّةٌ أَبْيَضُ طَوِيلٌ فَوْقَ الْحِمَارِ وَ دُونَ الْبَغْلِ يَضَعُ حَافِرَهُ عِنْدَ مُنْتَهَى طَرْفِهِ قَالَ فَرَكِبْتُهُ حَتَّى أَتَيْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ قَالَ فَرَبَطْتُهُ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي يَرْبِطُ بِهِ الأَنْبِيَائُ قَالَ ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّيْتُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَائَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ بِإِنَائٍ مِنْ خَمْرٍ وَ إِنَائٍ مِنْ لَبَنٍ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ اخْتَرْتَ الْفِطْرَةَ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَائِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قِيلَ وَ مَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ مُحَمَّدٌ قِيلَ وَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَرَحَّبَ بِي وَ دَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَائِ الثَّانِيَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَ مَنْ مَعَكَ قَالَ مُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم قِيلَ وَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِابْنَيِ الْخَالَةِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَ يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا فَرَحَّبَا وَ دَعَوَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عَرَجَ بِي إِلَى السَّمَائِ الثَّالِثَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَ مَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ مُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم قِيلَ وَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِيُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ إِذَا هُوَ قَدْ أُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ فَرَحَّبَ وَ دَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَائِ الرَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قِيلَ مَنْ هَذَا ؟ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَ مَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ مُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ وَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِيسَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَرَحَّبَ وَ دَعَا لِي بِخَيْرٍ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَ رَفَعْنَاهُ مَكَانًا عَلِيًّا } ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَائِ الْخَامِسَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ قِيلَ مَنْ هَذَا ؟ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَ مَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ مُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم قِيلَ وَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِهَارُونَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَرَحَّبَ وَ دَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عَرَجَ بِنَا إِلَى السَّمَائِ السَّادِسَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ قِيلَ مَنْ هَذَا ؟ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَ مَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ مُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم قِيلَ وَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَرَحَّبَ وَ دَعَا لِي بِخَيْرٍ ثُمَّ عَرَجَ إِلَى السَّمَائِ السَّابِعَةِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ فَقِيلَ مَنْ هَذَا ؟ قَالَ جِبْرِيلُ قِيلَ وَ مَنْ مَعَكَ ؟ قَالَ مُحَمَّدٌ صلی اللہ علیہ وسلم قِيلَ وَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ ؟ قَالَ قَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ مُسْنِدًا ظَهْرَهُ إِلَى الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ وَ إِذَا هُوَ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ لاَ يَعُودُونَ إِلَيْهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِي إِلَى السِّدْرَةِ الْمُنْتَهَى وَ إِذَا وَرَقُهَا كَآذَانِ الْفِيَلَةِ وَ إِذَا ثَمَرُهَا كَالْقِلاَلِ قَالَ فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ مَا غَشِيَ تَغَيَّرَتْ فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَنْعَتَهَا مِنْ حُسْنِهَا فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ مَا أَوْحَى فَفَرَضَ عَلَيَّ خَمْسِينَ صَلاَةً فِي كُلِّ يَوْمٍ وَ لَيْلَةٍ فَنَزَلْتُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقَالَ مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ ؟ قُلْتُ خَمْسِينَ صَلاَةً قَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لاَ يُطِيقُونَ ذَلِكَ فَإِنِّي قَدْ بَلَوْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَ خَبَرْتُهُمْ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى رَبِّي فَقُلْتُ يَا رَبِّ خَفِّفْ عَلَى أُمَّتِي فَحَطَّ عَنِّي خَمْسًا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقُلْتُ حَطَّ عَنِّي خَمْسًا قَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ لاَ يُطِيقُونَ ذَلِكَ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ قَالَ فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَيْنَ رَبِّي تَبَارَكَ وَ تَعَالَى وَ بَيْنَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ حَتَّى قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّهُنَّ خَمْسُ صَلَوَاتٍ كُلَّ يَوْمٍ وَ لَيْلَةٍ لِكُلِّ صَلاَةٍ عَشْرٌ فَذَلِكَ خَمْسُونَ صَلاَةً وَ مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا وَ مَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ شَيْئًا فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ سَيِّئَةً وَاحِدَةً قَالَ فَنَزَلْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ التَّخْفِيفَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقُلْتُ قَدْ رَجَعْتُ إِلَى رَبِّي حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے سامنے ایک سفید براق لایا گیا اور وہ ایک جانور ہے سفید رنگ کا، لمبا، گدھے سے اونچا اور خچر سے چھوٹا، اپنے سم وہاں رکھتا ہے جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے (تو ایک لمحہ میں آسمان تک جا سکتا ہے)۔‘‘ فرمایا: ’’میں اس پر سوار ہوا اور بیت المقدس تک آیا۔‘‘ فرمایا:’’ وہاں میں نے اس جانور کو اس حلقہ سے باندھ دیا، جس سے اور پیغمبر اپنے اپنے جانوروں کو باندھا کرتے تھے (یہ حلقہ مسجد کے دروازے پر ہے اور باندھ دینے سے یہ معلوم ہوا کہ انسان کو اپنی چیزوں کی احتیاط اور حفاظت ضروری ہے اور یہ توکل کے خلاف نہیں) پھر میں مسجد کے اندر گیا اور دو رکعت نماز پڑھی پھر باہر نکلا تو جبریل علیہ السلام دو برتن لے کر آئے، ایک میں شراب اور دوسرے میں دودھ تھا۔ میں نے دودھ پسند کیا تو جبریل نے کہا، آپ نے فطرت کو پسند کیا۔ پھرجبریل علیہ السلام مجھے آسمان پر لے کر گئے، (جب وہاں پہنچے) تو فرشتوں سے دروازہ کھولنے کے لیے کہا، انھوں نے پوچھا کون ہے؟ جبریل نے کہا کہ جبریل ہے۔ انھوں نے کہا کہ تمہارے ساتھ دوسرا کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا کہ کیا وہ بلائے گئے تھے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ ہاں بلائے گئے ہیں۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھولا گیا اور میں نے آدم علیہ السلام کو دیکھا تو انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے بہتری کی دعا کی۔ پھر جبریل علیہ السلام ہمارے ساتھ دوسرے آسمان پر چڑھے اور دروازہ کھلوایا۔ فرشتوں نے پوچھا کہ کون ہے؟ انھوں نے کہا کہ جبریل۔ فرشتوں نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ دوسرا کون شخص ہے؟ انھوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے کہا کہ ان کو بلانے کا حکم ہوا تھا؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ ہاں حکم ہوا ہے۔ پھر دروازہ کھلا تو میں نے دونوں خالہ زاد بھائیوں کو دیکھا یعنی عیسیٰ بن مریم اور یحییٰ بن زکریا علیہما السلام کو۔ ان دونوں نے مرحبا کہا اور میرے لیے بہتری کی دعا کی۔ پھر جبریل علیہ السلام ہمارے ساتھ تیسرے آسمان پر چڑھے اور دروازہ کھلوایا، تو فرشتوں نے کہا کہ کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ جبریل۔ فرشتوں نے کہا کہ تمہارے ساتھ دوسرا کو ن ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے کہا کہ کیا ان کو بلانے کے لیے پیغام گیا تھا؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ ہاں پیغام گیا تھا۔ پھر دروازہ کھلا تو میں نے یوسف علیہ السلام کو دیکھا۔ اللہ نے حسن (خوبصورتی) کا آدھا حصہ ان کو دیا تھا۔ انھوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور نیک دعا کی۔ پھر جبریل علیہ السلام ہمیں لے کر چوتھے آسمان پر چڑھے اور دروازہ کھلوایا تو فرشتوں نے پوچھا کہ کون ہے ؟جبریل علیہ السلام نے کہا کہ جبریل۔ انھوں نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ دوسرا کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے کہا کہ کہ وہ بلوائے گئے ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ ہاں بلوائے گئے ہیں۔ پھر دروازہ کھلا تو میں نے ادریس علیہ السلام کو دیکھا۔ انھوں نے مرحبا کہا اور مجھے اچھی دعا دی۔ اللہ جل جلالہ نے فرمایا ہے کہ ’’ہم نے ادریس کو اونچی جگہ پر اٹھا لیا‘‘ (تو اونچی جگہ سے یہی چوتھا آسمان مراد ہے)۔ پھر جبریل علیہ السلام ہمارے ساتھ پانچویں آسمان پر چڑھے اور انھوں نے دروازہ کھلوایا۔ فرشتوں نے پوچھا کہ کون؟ کہا کہ جبریل۔ فرشتوں نے پوچھا کہ تمہارے سا تھ کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے کہا کہ کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ ہاں بلوائے گئے ہیں۔ پھر دروازہ کھلا تو میں نے ہارون علیہ السلام کو دیکھا۔ انھوں نے مرحبا کہا اور مجھے نیک دعا دی۔ پھر جبریل علیہ السلام ہمارے ساتھ چھٹے آسمان پر پہنچے اور دروازہ کھلوایا۔ فرشتوں نے پوچھا کہ کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ جبریل۔ فرشتوں نے پوچھا کہ تمہارے ساتھ اور کون ہے؟ انھوں نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے کہا کہ اللہ نے ان کو لے کر آنے کے لیے پیغام بھیجا تھا؟ جبریل علیہ السلام نے کہا، ہاں! بھیجا تھا۔ پھر دروازہ کھلا تو میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، انھوں نے مرحبا کہا اور مجھے اچھی دعا دی۔ پھر جبریل علیہ السلام ہمارے ساتھ ساتویں آسمان پر چڑھے اور دروازہ کھلوایا۔ فرشتوں نے پوچھا کہ کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ جبریل ہوں۔ پوچھا کہ تمہارے ساتھ اور کون ہے؟ جبریل علیہ السلام نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ فرشتوں نے پوچھا کہ کیا وہ بلوائے گئے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ ہاں بلوائے گئے ہیں۔ پھر دروازہ کھلا تو میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ بیت المعمور سے اپنی پیٹھ کی ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھنا گناہ نہیں) اور اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے جاتے ہیں کہ پھر کبھی ان کی باری نہیں آئے گی۔ پھر جبریل علیہ السلام مجھے سدرۃ المنتہیٰ کے پاس لے گئے۔ اس کے پتے اتنے بڑے تھے جیسے ہاتھی کے کان اور اس کے پھل قلال حجرجیسے۔ (ایک بڑا گھڑا جس میں دو مشک یا زیادہ پانی آتا ہے) پھر جب اس درخت کو اللہ تعالیٰ کے حکم نے ڈھانکا تو اس کا حال ایسا ہو گیا کہ کوئی مخلوق اس کی خوبصورتی بیان نہیں کر سکتی۔ پھر اللہ جل جلالہ نے میرے دل میں القاء کیا جو کچھ القاء کیا اور پچاس نمازیں رات اور دن میں مجھ پر فرض کیں۔ جب میں وہاں سے اترا اور موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا تو انھوں نے پوچھا کہ تمہارے پروردگار نے تمہاری امت پر کیا فرض کیا؟ میں نے کہا کہ پچاس نمازیں فرض کی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پھر اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جاؤ اور تخفیف چاہو، کیونکہ تمہاری امت کو اتنی طاقت نہ ہو گی اور میں نے بنی اسرائیل کو آزمایا اور ان کا امتحان لیا ہے۔ میں اپنے پروردگار کے پاس لوٹ گیا اور عرض کی کہ اے پروردگار! میری امت پر تخفیف کر۔ اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں گھٹا دیں۔ میں لوٹ کر موسی ٰعلیہ السلام کے پاس آیا اور کہا کہ پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے مجھے معاف کر دیں۔ انھوں نے کہا تمہاری امت کو اتنی طاقت نہ ہوگی ، تم پھر اپنے رب کے پاس جاؤ اور تخفیف کراؤ۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں اسی طرح برابر اپنے پروردگار اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان آتا جاتا رہا، یہاں تک کہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا کہ اے محمد ! ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں، اور ہر ایک نماز میں دس نمازوں کا ثواب ہے تو وہی پچاس نمازیں ہوئیں۔ (سبحان اللہ! مالک کی اپنے بندوں پر کیسی عنایت ہے کہ پڑھیں تو پانچ نمازیں اور ثواب پچاس نمازوں کا ملے) اور جو کوئی شخص نیک کام کرنے کی نیت کرے اور پھر اس کو نہ کرسکے، تو اس کو ایک نیکی کا ثواب ملے گا اور جو کرے تو اس کو دس نیکیوں کا اور جو شخص برائی کرنے کی نیت کرے اور پھر اس کو نہ کرے، تو کچھ نہ لکھا جائے گا اور اگر کر لے تو ایک ہی برائی لکھی جائے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں اترا اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انھوں نے کہا کہ پھر اپنے رب کے پاس جاؤ اور تخفیف چاہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں اپنے رب کے پاس بار بارگیا ،یہاں تک کہ میں اس سے شرما گیا ہوں۔ (یعنی اب جانے سے شرماتا ہوں)۔‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : ذِكْرُ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم الأَنْبِيَائَ عليهِمُ السَّلاَمُ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انبیاء کرام علیہم السلام کا تذکرہ کرنا


(77) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَمَرَرْنَا بِوَادٍ فَقَالَ أَيُّ وَادٍ هَذَا ؟ فَقَالُوا وَادِي الأَزْرَقِ فَقَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَذَكَرَ مِنْ لَوْنِهِ وَ شَعَرِهِ شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ دَاوُدُ وَاضِعًا إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ لَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي قَالَ ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ فَقَالَ أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ ؟ قَالُوا هَرْشَى أَوْ لَفْتٌ فَقَالَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَائَ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ خِطَامُ نَاقَتِهِ لِيفٌ خُلْبَةٌ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان چل رہے تھے کہ ایک وادی پر سے گزرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا :’’ یہ کون سی وادی ہے؟‘‘ لوگوں نے کہا کہ وادی ازرق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں، (پھر موسیٰ علیہ السلام کا رنگ اور بالوں کا حال بیان کیا جو (راوی حدیث) داؤد بن ابی ہند کو یاد نہ رہا) جو انگلیاں اپنے کانوں میں رکھے ہوئے، بلند آواز سے تلبیہ پکارتے ہوئے اس وادی میں سے جا رہے ہیں۔‘‘ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم پھر چلے یہاں تک کہ ایک ٹیلے پر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ یہ کون سا ٹیلاہے؟ لوگوں نے کہا کہ ’’ہرشٰی‘‘ کا یا ’’لفت ‘‘ کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ گویا کہ میں یونس علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ صوف کا ایک جبہ پہنے ہوئے ایک سرخ اونٹنی پر سوار ہیں اور ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کے چھال کی ہے، وہ اس وادی میں لبیک کہتے ہوئے جا رہے ہیں۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
(78) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم حِينَ أُسْرِيَ بِي لَقِيتُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم فَإِذَا رَجُلٌ حَسِبْتُهُ قَالَ مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأْسِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوئَةَ قَالَ وَ لَقِيتُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم فَإِذَا رَيْعَةٌ أَحْمَرُ كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ يَعْنِي حَمَّامًا قَالَ وَ رَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَ أَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ قَالَ فَأُتِيتُ بِإِنَائَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ وَ فِي الآخَرِ خَمْرٌ فَقِيلَ لِي خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ فَقَالَ هُدِيتَ الْفِطْرَةَ أَوْ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جب مجھے معراج کرائی گئی ،تو میں موسیٰ علیہ السلام سے ملا۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی صورت بیان کی۔ میں خیال کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا (یہ شک راوی ہے) کہ ’’وہ لمبے، چھریرے بدن والے، سیاہ بالوں والے جیسے شنوء ۃ کے لوگ ہوتے تھے اور فرمایا:’’ میں عیسیٰ علیہ السلام سے ملا۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی صورت بیان کی کہ وہ درمیانہ قد والے، سرخ رنگت والے جیسے کہ ابھی کوئی حمام سے نکلا ہو (یعنی ایسے تروتازہ اور خوش رنگ) تھے۔‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، تو میں ان کی اولاد میں سب سے زیادہ ان سے مشابہ ہوں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے۔ ایک میں دودھ تھا اور ایک میں شراب اور مجھ سے کہا گیا کہ جس کو چاہو پسند کر لو۔میں نے دودھ کا برتن لے لیا اور دودھ پیا تو اس (فرشتے نے جو یہ دونوں برتن لے کر آیا تھا) کہا کہ تم کو فطرت (ہدایت) کی راہ ملی یا تم فطرت (ہدایت) کو پہنچ گئے اور اگر تم شراب کو اختیار کرتے تو تمہاری امت گمراہ ہو جاتی۔ ‘‘
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
بَابٌ : فِي ذِكرِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم الْمَسِيْحَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَ الدَّجَّالَ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مسیح عیسیٰ علیہ السلام اور دجال کا تذکرہ فرمانا


(79) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَوْمًا بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ أَلاَ إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ قَالَ وَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم أُرَانِي اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ عِنْدَ الْكَعْبَةِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ كَأَحْسَنِ مَا تَرَى مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ تَضْرِبُ لِمَّتُهُ بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ رَجِلُ الشَّعْرِ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَائً وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلَيْنِ وَ هُوَ بَيْنَهُمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلاَمُ وَ رَأَيْتُ وَرَائَهُ رَجُلاً جَعْدًا قَطِطًا أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى كَأَشْبَهِ مَنْ رَأَيْتُ مِنَ النَّاسِ بِابْنِ قَطَنٍ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن لوگوں کے درمیان مسیح دجال کا ذکر کیا تو فرمایا: ’’ اللہ جل جلالہ کانا نہیں ہے اور مسیح دجال داہنی آنکھ سے کانا ہے۔ اس کی کانی آنکھ ایسی ہے جیسے پھولا ہوا انگور۔ (پس یہی ایک کھلی نشانی ہے اس بات کی کہ وہ مردود اپنے خدائی دعوے میں جھوٹا ہے)۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ ایک رات خواب میں میں نے اپنے آپ کو کعبہ کے پاس دیکھا کہ ایک گندمی رنگ کا شخص جیسے کوئی بہت اچھا گندمی رنگ کا شخص ہوتا ہے، اس کے بال کندھوں تک تھے اور بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی، سر میں سے پانی ٹپک رہا تھا اور وہ اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے خانہ کعبہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ کون شخص ہے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ مریم کے بیٹے مسیح ہیں اور ان کے پیچھے میں نے ایک اور شخص کو دیکھا جو کہ سخت گھونگھر یالے بالوں والا، داہنی آنکھ کا کانا تھا۔ میں نے جو لوگ دیکھے ان سب میں ابن قطن اس سے زیادہ مشابہ ہے، وہ بھی اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے طواف کر رہا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ مسیح دجال ہے۔ ‘‘
 
Top