• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

عقیدہ اہلسنت والجماعت

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
اللہ تعالیٰ کی بعض صفات ذاتیہ

ہم اس بات کا بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایسا چہرہ"وجہ" ہے جو کہ عظمت و شان سے متصف ہے۔فرمایا:
وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو ٱلْجَلَٰلِ وَٱلْإِكْرَامِ ﴿27﴾
ترجمہ: اور تمہارے پروردگار ہی کی ذات (بابرکات) جو صاحب جلال وعظمت ہے باقی رہے گی (سورۃ الرحمن،آیت27)
اور ہم اللہ تعالیٰ کے لیے ایسے ہاتھ بھی مانتے ہیں جو کہ جود و سخاء اور عظمت والے ہیں۔فرمایا:
بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنفِقُ كَيْفَ يَشَآءُ ۚ
ترجمہ: بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں وہ جس طرح (اور جتنا) چاہتا ہے خرچ کرتا ہے (سورۃ المائدہ،آیت 64)
نیز فرمایا:
وَمَا قَدَرُوا۟ ٱللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِۦ وَٱلْأَرْضُ جَمِيعًۭا قَبْضَتُهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ وَٱلسَّمَٰوَٰتُ مَطْوِيَّٰتٌۢ بِيَمِينِهِۦ ۚ سُبْحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ﴿67﴾
ترجمہ: اور انھوں نے الله کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے اور یہ زمین قیامت کے دن سب اسی کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئےہوں گے وی پاک اور برتر ہے اس سے جو وہ شریک ٹھرماتے ہیں (سورۃ الزمر،آیت 67)
ہم اللہ تعالیٰ کے لیے حقیقی طور پردو آنکھوں کے قائل ہیں،جس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی ہے:
وَٱصْنَعِ ٱلْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا
ترجمہ: اور ہمارے روبرو اور ہمارے حکم سے کشتی بنا (سورۃ ھود،آیت 37)
نیز رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد ہے:
حجابه النور لو كشفه لأحرقت سبحات وجهه ما انتهى إليه بصره من خلقه (صحیح مسلم)
"اس کا حجاب نور ہے اگر وہ اس کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کی کرنوں سے تاحد نگاہ ساری مخلوقات جل کر خاک ہو جائیں۔"
اہلسنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ کی دو آنکھیں ہیں۔اس کی تائید نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد سے ہوتی ہے جو دجال کے متعلق ہے فرمایا:
إنه أعور، وإن ربكم ليس بأعور (صحیح بخاری)
"بے شک وہ (دجال) یک چشم ہے اور تمہارا رب کانا نہیں۔"
اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی یہ شان ہے:
لَّا تُدْرِكُهُ ٱلْأَبْصَٰرُ وَهُوَ يُدْرِكُ ٱلْأَبْصَٰرَ ۖ وَهُوَ ٱللَّطِيفُ ٱلْخَبِيرُ ﴿103﴾
ترجمہ: (وہ ایسا ہے کہ) نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے اور وہ بھید جاننے والا خبردار ہے (سورۃ الانعام،آیت103)
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
اہل ایمان کے لیے اپنے رب کا دیدار

ہمارا ایمان ہے کہ صاحب ایمان قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے ،فرمایا:
وُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍۢ نَّاضِرَةٌ ﴿22﴾ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌۭ ﴿23﴾
ترجمہ: اس روز بہت سے چہرے رونق دار ہوں گے (اور) اپنے پروردگار کی طرف دیکھ رہے ہوں گے (سورۃ القیامہ،آیت 22-23)
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
اللہ تعالیٰ کی مثل ہونا ناممکن ہے

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اعلیٰ و اکمل صفات کی وجہ سے کائنات کی کوئی چیز اس جیسی نہیں۔فرمایا:
لَيْسَ كَمِثْلِهِۦ شَىْءٌۭ ۖ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْبَصِيرُ﴿١١﴾
ترجمہ: کوئی چیز اس کی مثل نہیں اور وہ سننے والا دیکھنے والا ہے (سورۃ الشوری،آیت11)
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
اللہ اونگھ،نیند،ظلم،غفلت ،عاجزی اور تھکاوٹ سے پاک ہے

ہمارا اعتقاد ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی کامل حیات اور مکمل قیومت کی وجہ سے یہ شان رکھتا ہے کہ:
لَا تَأْخُذُهُۥ سِنَةٌۭ وَلَا نَوْمٌۭ ۚ
ترجمہ: نہ اسے اونگھ آ سکتی ہے نہ نیند (سورۃ البقرۃ،آیت255)
اور ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے کمال عدل و انصاف کی وجہ سے کسی پر ظلم نہیں کرتا۔اور وہ اپنی مکمل نگہبانی اور کامل احاطے کی بدولت اپنے بندوں کے اعمال و احوال سے ایک پل بھی غافل نہیں ہوتا۔اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کمال علم و قدرت کی وجہ سے آسمانوں اور زمین کی کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی۔فرمایا:
إِنَّمَآ أَمْرُهُۥٓ إِذَآ أَرَادَ شَيْـًٔا أَن يَقُولَ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ ﴿82﴾
ترجمہ: اس کی تو یہ شان ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اتنا ہی فرما دیتا ہے کہ ہو سو وہ ہو جاتی ہے (سورۃ یس،آیت 82)
اور اس کی کامل طاقت و قوت کی وجہ سے نہ اس کو کوئی تھکاوٹ لاحق ہوتی ہے اور نہ ہی معذوری اور عاجزی۔ارشاد ہے:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ وَمَا مَسَّنَا مِن لُّغُوبٍۢ ﴿38﴾
ترجمہ: اور بے شک ہم نےآسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اورجو کچھ ان کے درمیان میں ہے چھ دن میں اور ہمیں کچھ بھی تکان نہ ہوئی (سورۃ ق،آیت 38)
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
کیف و تمثیل کے بغیر صفات الہی کا اثبات

ہم اللہ تعالیٰ کے ان تمام اسماء حسنی اور اعلیٰ صفات پر ایمان رکھتے ہیں جن کا خود اس نے یا اس کے رسول ﷺ نے اثبات فرمایا ہے۔لیکن ہم اسے دو بڑی غلطیوں تمثیل اور تکییف سے مبرا مانتے ہیں:
تمثیل
تمثیل یہ ہے کہ کوئی مماثلت کرنے والا اپنے دل یازبان سے یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات بعینہ مخلوق کی صفات کی طرح ہے۔
تکییف
تکییف یہ ہے کہ دل یا زبا سے یہ کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات ایسی ایسی ہے (یعنی کیفیت بیان کرنا)
اور ہم ہر اس چیز کے انکار و نفی پر یقین و ایمان رکھتے ہیں جس کی خود اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق نفی کی ہے،یا اس کے رسول ﷺ نے اسے اس سے منزہ و مبرا قرار دیا ہے اور ہمارا اس بات پر بھی یقین ہے کہ یہ نفی اس کی ضد کے کامل اثبات کا تقاضا کرتی ہے ۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سکوت پرخاموشی اختیار کرنا

ہم ہر اس چیز سے خاموشی اختیار کرتے ہیں جس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سکوت فرمایا ہے۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
اس راستے پر چلنا ضروری ہے اس لیے کہ

ہم یقین رکھتے ہیں کہ اس راستے پر چلنا فرض اور ضروری ہے ،کیونکہ جس کا اللہ نے بذات خود اپنے لیے اثبات کیا ہے ،یا اپنی ذات سے اس کی نفی کی ہے ،ایک ایسی خبر ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے خود اپنے متعلق واضح کیا ہے اور وہ اپنے متعلق سب سے زیادہ جاننے والا اور سب سے زیادہ راست گو اور بہترین کلام کرنے والا ہے اور بندے اس کی ذات کا ادراک و احاطہ نہیں کر سکتے۔
اور رسول اللہ ﷺ نے جس چیز کا اللہ تعالیٰ کے لیے اثبات کیا ہے ،یا جس چیز کی اللہ تعالیٰ سے نفی فرمائی ہے وہ ایسی خبر ہے جس کی اللہ تعالیٰ کے متعلق اطلاع خود آنحضرت ﷺ نے دی ہے۔
جبکہ آپ اپنے رب کو سب سے زیادہ جاننے والے مخلوق کو سب سے زیادہ نصیحت کرنے والے ،سب سے زیادہ سچے اور سب سے زیادہ فصاحت و بلاغت والے ہیں۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کے کلام کا حسن بیان

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا کلام علم و صدق اور وضاحت و بیان کے اعتبار سے کامل ترین ہے۔پس اس کو مسترد کرنے میں کوئی عذراور اس کے قبول کرنے میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہیے۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
فصل دوم
اسماء و صفات الہی اور سلف صالحین

ہم نے اللہ تعالیٰ کی صفات کے متعلق اجمالی یا تفصیلی ،اثبات یا نفی کی صورت میں جو کچھ ذکر کیا ہے ،اس کو کتاب و سنت کی روشنی میں پیش کیا اور ہم نے اس میں اسلاف امت اور ان کے بعد آنے والے آئمہ حق و ہدایت کے نقش قدم کی پیروی کی ہے۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
کتاب و سنت کے نصوص کے ظاہری معنی کی اہمیت

ہمارے نزدیک کتاب و سنت کے نصوص کو ان کے ظاہری معانی اور اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق حقائق پر محمول کرنا واجب ہے۔
 
Top