• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علامات قيامت شيخ عريفى كى كتاب نهاية العالم سے ماخوذ

شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ،‏‏‏‏ عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي صِدِّيقٍ النَّاجِيِّ ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ،‏‏‏‏ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ "يَكُونُ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيُّ،‏‏‏‏ إِنْ قُصِرَ فَسَبْعٌ وَإِلَّا فَتِسْعٌ،‏‏‏‏ فَتَنْعَمُ فِيهِ أُمَّتِي نِعْمَةً لَمْ يَنْعَمُوا مِثْلَهَا قَطُّ،‏‏‏‏ تُؤْتَى أُكُلَهَا وَلَا تَدَّخِرُ مِنْهُمْ شَيْئًا،‏‏‏‏ وَالْمَالُ يَوْمَئِذٍ كُدُوسٌ،‏‏‏‏ فَيَقُومُ الرَّجُلُ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ يَا مَهْدِيُّ أَعْطِنِي،‏‏‏‏ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ خُذْ"

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں مہدی ہوں گے، اگر وہ دنیا میں کم رہے تو بھی سات برس تک ضرور رہیں گے، ورنہ نو برس رہیں گے، ان کے زمانہ میں میری امت اس قدر خوش حال ہوگی کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی ہو گی، زمین کا یہ حال ہو گا کہ وہ اپنا سارا پھل اگا دے گی، اس میں سے کچھ بھی اٹھا نہ رکھے گی، اور ان کے زمانے میں مال کا ڈھیر لگا ہو گا، تو ایک شخص کھڑا ہو گا اور کہے گا: اے مہدی! مجھے کچھ دیں، وہ جواب دیں گے: لے لو (اس ڈھیر میں سے جتنا جی چاہے)“۔
سنن ابن ماجہ،الفتن،حدیث نمبر: 4083،سنن الترمذی،الفتن:2232
(حسن) (سند میں زید ا لعمی ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے)

قال الشيخ الألباني: حسن
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَاسِينُ ،‏‏‏‏ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِيهِ ،‏‏‏‏ عَنْ عَلِيٍّ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "الْمَهْدِيُّ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ،‏‏‏‏ يُصْلِحُهُ اللَّهُ فِي لَيْلَةٍ".

"علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہدی ہم اہل بیت میں سے ہو گا، اور اللہ تعالیٰ ایک ہی رات میں اس کی اصلاح فرما دے گا“۔

سنن ابن ماجہ،الفتن، حدیث نمبر: 4085، مسند احمد:645 ، وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : 2371

يُصْلِحُهُ اللَّهُ فِي لَيْلَةٍ غالباً اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے خلافت کے لیے تیار کردے گا۔ یعنی اسے اس کےلائق بنا دے گا، اسے توفیق عطا کرے گا، اسے الہام و رہنمائی نصیب فرمائے گا اور سے قیادت و حکمت کی ایسی صفات عطا فرمائے گا جو اس سے پہلے اس کے پاس نہ ہوں گی۔

اس کے ایک معنی یہ بھی بیان کیے گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک ہی رات میں یا رات کے کسی لمحے میں ان کے تمام معاملات سدھار دے گا اور ان کی شان بڑھا دے گا، وہ اس طرح کہ تمام اہل حل و عقد ایک ہی رات میں ان کی خلافت پر متفق ہوجائیں گے۔
(یہ تشریح ملا علی قاری رحمہ اللہ نے مرقاۃ المفاتیح (5-180) میں بیان کی ہے)

يُصْلِحُهُ اللَّهُ فِي لَيْلَةٍکے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں کہ وہ پہلے گناہگار ہوگا کہ اچانک ایک ہی رات میں اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نصیب فرما دے گا اور وہ لوگوں کی قیادت شروع کردے گا۔ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مطلب ہرگز نہیں، کیونکہ وہ لوگوں کی قیادت خالص شرعی علم کی بنیاد پر کرے گا، وہ ان کے فیصلے اور انہیں فتوے دے گا، ان کے جھگڑے نمٹائے گا اور میدانِ جنگ میں ان کی قیادت کرے گا۔ اور یہ تمام علوم ایک ہی رات میں صرف وحی الٰہی کے ذریعے ہی جمع ہوسکتے ہیں اور وحی الٰہی اللہ کے انبیاء کے لیے خاص ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ مہدی نبی نہیں ہوگا۔
لہٰذا اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کو شرح صدر نصیب فرمادے گا کہ احادیث میں جس مہدی کا ذکر آیا ہے اس سے مقصود وہ خود ہی ہیں نیز اللہ تعالیٰ انہیں قیادت کی اعلیٰ صفات عطا فرمائے گا۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ،‏‏‏‏ عَنْ زِيَادِ بْنِ بَيَانٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ،‏‏‏‏ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،‏‏‏‏ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ "الْمَهْدِيُّ مِنْ عِتْرَتِي مِنْ وَلَدِ فَاطِمَةَ"

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مہدی میری نسل سے فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے“۔
سنن أبي داود،كتاب المهدى، حدیث نمبر: 4284
سنن ابن ماجہ،كتاب الفتن،حدیث نمبر: 4086
صحیح

مِنْ عِتْرَتِي
یعنی میرے اہل بیت میں سے اور میری اولاد میں سے ہوگا۔

مِنْ وَلَدِ فَاطِمَةَ یعنی وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نسل سے ہوگا۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

فَيَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ أَمِيرُهُمْ تَعَالَ صَلِّ لَنَا فَيَقُولُ لَا إِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ تَكْرِمَةَ اللَّهِ هَذِهِ الْأُمَّةَ.

"سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام آسمان سے نازل ہوں گے تومسلمانوں کے امیر (امام مہدی) ان سے کہیں گے کہ تشریف لائیے اور نماز کی امامت کروائیے۔ وہ معذرت کریں گے اور فرمائیں گے: اس امت کی امامت اس امت کے لوگوں ہی کو زیبا ہے۔ یہ اس امت پر اللہ کا احسان اور فضل ہے۔"

صحیح مسلم، الایمان: 395(156)
مسند احمد:14720

اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ دجال امام مہدی کے زمانے میں ظاہر ہوگا، پھر جب عیسیٰ علیہ السلام اسے قتل کرنے کے لیے نازل ہوں گے تو امام مہدی ہی مسلمانوں کے قائد ہوں گے، چنانچہ خود سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور بقیہ تمام مومن بھی امام مہدی کی امامت میں نماز ادا کریں گے۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يَنْزِلُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ فَيَقُولُ أَمِيرُهُمُ الْمَهْدِيُّ تَعَالَ صَلِّ بِنَا فَيَقُولُ لا إِنَّ بَعْضَهُمْ أَمِيرُ بَعْضٍ تَكْرِمَةُ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام آسمان سے نازل ہوں گے تومسلمانوں کے امیر امام مہدی ان سے کہیں گے کہ تشریف لائیے اور نماز پڑھائیں۔ وہ کہیں گے: نہیں تم ہی ایک دوسرے کے امام و امیر بن سکتے ہو، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس امت کی عزت و آبرو ہے۔

مُسْنَدِ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ، وسلسلۃ الصحیحۃ:2236،
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،‏‏‏‏ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَهُمْ. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ. ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى،‏‏‏‏ عَنْ سُفْيَانَ. ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ. ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى،‏‏‏‏ عَنْ فِطْرٍ،‏‏‏‏ الْمَعْنَى وَاحِدٌ كُلُّهُمْ،‏‏‏‏ عَنْ عَاصِمٍ،‏‏‏‏ عَنْ زِرٍّ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ "لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ زَائِدَةُ فِي حَدِيثِهِ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ،‏‏‏‏ ثُمَّ اتَّفَقُوا:‏‏‏‏ حَتَّى يَبْعَثَ فِيهِ رَجُلًا مِنِّي أَوْ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمَ أَبِي

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دنیا کا ایک دن بھی باقی ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو طویل کر دے گا، یہاں تک کہ اس میں ایک شخص کو مجھ سے یا میرے اہل بیت میں سےمبعوث کرے گا کہ اس کا نام میرے نام پر، اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہو گا۔

سنن أبي داود،كتاب المهدى، حدیث:4282، سنن ترمذی، الفتن، حدیث:2230

اس کا نام 'محمد بن عبداللہ' ہوگا۔ اس حدیث میں شیعہ کے موقف کا واضح رد ہے جن کا دعویٰ ہے کہ مہدی کا نام محمد بن حسن عسکری ہوگا۔ 'يَبْعَثَ' کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کرے گا۔

اس حدیث کے ایک دوسرے راوی 'فطر' کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے:

"لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدَّهْرِ إِلَّا يَوْمٌ لَبَعَثَ اللَّهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يَمْلَؤُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دنیا کا ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تو بھی اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کھڑا بھیجے گا وہ اسے عدل و انصاف سے اس طرح بھر دے گا جیسے وہ پہلے ظلم و جور سے بھری ہوئی تھی“۔
سنن أبي داود،كتاب المهدى، حدیث:4283

اور ایک روایت کے الفاظ اس طرح ہیں:

لَا تَذْهَبُ أَوْ لَا تَنْقَضِي الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي
دنیا نہیں جائے گی یا ختم نہیں ہو گی جب تک عربوں کا حکمران ایک ایسا شخص ہو جائے جو میرے اہل بیت میں سے ہو گا اس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا“
سنن أبي داود،كتاب المهدى، حدیث:4282

حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ کے معنی ہیں کہ وہ عام مسلمانوں کا بادشاہ ہوگا چاہے وہ عرب ہوں یا عجم۔ یہاں خصوصا عربوں کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کی حکومت کا آغاز عربوں سے ہوگا۔ وہ مکہ اور مدینہ میں ظاہر ہوگا۔ وہاں کے عرب اس کی اتباع کریں اور پھر دیگر تمام مسلمان بھی اس کی اتباع کرلیں گے۔

ایک اعتبار سے ہر ایسے مسلم کو عربی کہا جاسکتا ہے جو قرآن کی تلاوت کرتا اور عربی زبان جانتا ہو۔
(مرقاۃ المفاتیح:5-179)
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَلِيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي

سیدنا زر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک شخص والی نہ بن جائے جو میرا ہم نام ہوگا۔

مسند احمد:3571
إسناده حسن. عاصم -وهو ابن أبي النجود-، روى له البخاري ومسلم مقروناً، وهو صدوق حسن الحديث، وبقية رجاله ثقات رجال الشيخين. زِر: هو ابن حبيش.
وأخرجه الترمذي (2231)


یہ تمام احادیث محمد بن عبداللہ مہدی کے بارے میں بہت واضح دلیل ہیں۔ ان میں اس کے نام اور صفات کا ذکر موجود ہے۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
وہ احادیث جن کے مہدی کے بارے میں ہونے کا احتمال ہے:


سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

يُوشِکُ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَنْ لَا يُجْبٰی إِلَيْهِمْ قَفِيزٌ وَلَا دِرْهَمٌ قُلْنَا مِنْ أَيْنَ ذَاکَ قَالَ مِنْ قِبَلِ الْعَجَمِ يَمْنَعُونَ ذَاکَ

"عنقریب اہل عراق کو غلہ اور نقدی آنا بند ہوجائیں۔، ہم نےپوچھا: یہ کیسے ہو گا؟ کہا: یہ پابندی عجم کی طرف سے ہوگی!وہ انہیں ان سے محروم کردیں گے۔''


قَفِيزٌ اہل عراق کے ماپنے کا پیمانہ ہے جیسے کہ ہمارے کلو اور ٹن ہیں۔

دِرْهَمٌ چاندی کا وہ سکہ جو زمانہ قدیم سے رائج تھا۔

مِنْ قِبَلِ الْعَجَمِ عجم کے لفظ کا اطلاق ان لوگوں پر ہوتا ہے جو غیرعربی ہوں خواہ وہ عربی بولتے ہوں یا نہ بولتے ہوں۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يُوشِکُ أَهْلُ الشَّأْمِ أَنْ لَا يُجْبٰی إِلَيْهِمْ دِينَارٌ وَلَا مُدْيٌ قُلْنَا مِنْ أَيْنَ ذَاکَ قَالَ مِنْ قِبَلِ الرُّومِ
"قریب ہے کہ شام والوں کے پاس دینار اور غلہ آنا بن ہوجائیں۔ ہم نے سوال کیا: یہ کیسے ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ رومیوں کی جانب سے ہوگا۔"

دِينَارٌ سونے کا ایک سکہ۔

مُدْيٌ اہل شام کے ناپنے کا پیمانہ ہے،

پھر تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


يَکُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَلِيفَةٌ يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا لَا يَعُدُّهٗ عَدَدًا
" میری امت کے آخر میں ایک خلیفہ ہوگا ، جولوگوں کو دونوں ہاتھ بھر بھر کر مال دے گا ، اور اس کو شمار نہیں کرے گا"

حدیث کے راوی سعید کہتے ہیں کہ میں نے ابو نضرہ اور ابو العلاء سے پوچھا: کیا اس سے عمر بن عبد العزیز مراد ہیں ؟ ان دونوں نے کہا: نہیں۔

صحیح مسلم،كتاب الفتن وأشراط الساعة،حدیث:7315(2913)

سابقہ احادیث کی روشنی میں یہ خلیفہ مہدی ہی ہیں جن میں ان کا نام لے کر وضاحت کی گئی ہے۔ چونکہ ان کے عہد میں اموال غنیمت اور فتوحات کی کثرت ہوگی۔ وہ بےپناہ سخی بھی ہوں گے اور لوگوں پر ہر قسم کی بھلائیاں نچھاور کریں گے۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ عَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى مَنَامِهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَنَعْتَ شَيْئًا فِى مَنَامِكَ لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ. فَقَالَ« الْعَجَبُ إِنَّ نَاسًا مِنْ أُمَّتِى يَؤُمُّونَ بِالْبَيْتِ بِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ لَجَأَ بِالْبَيْتِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ ». فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الطَّرِيقَ قَدْ يَجْمَعُ النَّاسَ. قَالَ « نَعَمْ فِيهِمُ الْمُسْتَبْصِرُ وَالْمَجْبُورُ وَابْنُ السَّبِيلِ يَهْلِكُونَ مَهْلَكًا وَاحِدًا وَيَصْدُرُونَ مَصَادِرَ شَتَّى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ ».

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ایک رات نیندسے گھبرا کر اٹھ بیٹھے،میں نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ آج نیند سے خلاف معمول اٹھ بیٹھے ہیں! ،آپﷺنے فرمایا:" میں نے آج ایک عجیب چیز دیکھی ہے ، میری امت کے کچھ لوگ قریش کے ایک آدمی (کو پکڑنے) کے لیے بیت اللہ کا ارادہ کریں گے ، جس نے بیت اللہ میں پناہ لی ہوئی ہوگی ، یہاں تک کہ جب وہ میدان میں پہنچیں گے تو ان کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا "، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺّ! راستہ میں تو سب لوگ جمع ہوتے ہیں ، آپﷺنے فرمایا:"ہاں! ان میں بااختیار ، مجبور اور مسافر بھی ہوں گے ، وہ سب ایک ساتھ ہلاک ہوجائیں گے ، پھر اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں کے اعتبار سے ان کو الگ الگ اٹھائے گا۔"

صحیح مسلم، الفتن،حدیث:7244(2884)

الْمُسْتَبْصِرُ ایسا شخص جو اپنے سفر کے مقصد کو اچھی طرح جانتا اور پہچانتا ہو۔

الْمَجْبُورُ ایسا شخص جسے اس کی مرضی کے بغیر زبردستی مجبور کیا گیا ہو۔

مقصود کلام یہ ہے کہ اس لشکر کے تمام افراد کو بیک وقت ہلاک کردیا جائے گا اور یہ سب ایک ساتھ زمین میں دھنسا دیے جائیں گے۔ ہاں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے مقامات و احوال مختلف ہوں گے۔ ان میں سے کچھ لوگ اپنے اعمال اور اپنی نیتوں کے مطابق جنت میں جائیں گے اور کچھ جہنم رسید ہوں گے۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يُخْبِرُ أَبَا قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "يُبَايَعُ لِرَجُلٍ مَا بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ، وَلَنْ يَسْتَحِلَّ الْبَيْتَ إِلَّا أَهْلُهُ، فَإِذَا اسْتَحَلُّوهُ فَلَا تَسْأَلْ عَنْ هَلَكَةِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَأْتِي الْحَبَشَةُ فَيُخَرِّبُونَهُ خَرَابًا لَا يَعْمُرُ بَعْدَهُ أَبَدًا، وَهُمُ الَّذِينَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَهُ "

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ایک شخص(اس شخص سے مراد امام مہدی ہیں) کی حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کی جائے گی۔ اس گھر کی حرمت کو اس کے رہنے والے ہی پامال کریں گے۔ اور جب ایسا ہوگا تو پھر عربوں کی ہلاکت اور بربادی کے بارے میں پوچھا نہ جائے گا۔ پھر حبشہ سے ایک لشکر آئے گا جو کعبہ کو تباہ و برباد کردے گا۔ اس تباہی کے بعد پھر اللہ کا یہ گھر کبھی آباد نہ ہوسکے گا۔ یہی لوگ اس کا خزانہ بھی نکال کر لے جائیں گے۔"

مسند احمد:7910
إسناده صحيح، رجاله ثقات رجال الشيخين غيرَ سعيد بن سمعان، فقد روى له البخاري في "القراءة خلف الإِمام" وأصحابُ السنن غيرَ ابن ماجه، وهو ثقة. ابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة بن الحارث
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كَيْفَ بِكُمْ إِذَا نَزَلَ فِيكُمْ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَوَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ؟ "
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"تم اس وقت کس حال میں ہوگے جب تم میں ابن مریم نازل ہوں گے اور تمہارا امام تمہی میں سے ہوگا۔"

مسند احمد:8431

إسناده صحيح على شرط الشيخين. ابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة، ونافع مولى أبي قتادة: هو نافع بن عباس المدني.
یہاں امام سے مراد مہدی محمد بن عبداللہ ہیں اور اس سلسلے میں واضح دلیل سیدنا جابر رضی اللہ کی وہ حدیث ہے جو نمبر 5 کے تحت بیان کی جاچکی ہے۔
 
Top