• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

علامات قيامت شيخ عريفى كى كتاب نهاية العالم سے ماخوذ

شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
128- مکہ میں بلند و بالا عمارات:


عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مکہ کی آبادی بہت کم اور مکانات قلیل تعداد میں تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی فرمائی کہ علاماتِ قیامت میں سے یہ بھی ہے کہ مکہ کی عمارات اس کے پہاڑوں سے بھی بلند ہوجائیں گی۔

غندر، عن شعبة، عن يعلى بن عطاء، عن أبيه، قال: كنت آخذا بلجام دابة عبد الله بن عمرو فقال: «كيف أنتم إذا هدمتم البيت , فلم تدعوا حجرا على حجر» , قالوا: ونحن على الإسلام؟ قال: «وأنتم على الإسلام» , قال: ثم ماذا؟ قال: «ثم يبنى أحسن ما كان , فإذا رأيت مكة قد بعجت كظائم ورأيت البناء يعلو رءوس الجبال فاعلم أن الأمر قد أظلك
یعلیٰ بن عطاء نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ " میں سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی سواری کی لگام تھامے ہوئے تھا کہ انہوں نے کہا : "اس وقت تم لوگوں کا کیا حال ہوگا جب تم بیت اللہ کو گرا دو گے اور اس کا ایک پتھر بھی دوسرے کے اوپر نہیں رہنے دو گے"۔ لوگوں نے سوال کیا: کیا ہم اس وقت بھی اسلام پر قائم ہوں گے؟ انہوں نے فرمایا:" جی ہاں! آپ لوگ اس وقت اسلام پر ہی ہوں گے"۔ سوال کرنے والے نے پوچھا: پھر اس کے بعد کیا ہوگا؟ سیدنا عبداللہ کہنے لگے: "پھر بیت اللہ کی تعمیر پہلے سے زیادہ احسن انداز میں کی جائے گی۔ جب آپ مکہ کو دیکھیں کہ اس کے پہاڑوں اور زمین کے نیچے سرنگیں کھودی جائیں اور زیرِ زمین پانی کے پائپ بچھا دیے جائیں اور مکہ کی عمارتیں پہاڑوں کی چوٹیوں سے اوپر نکل جائیں، اس وقت سمجھ لینا کہ معاملہ قریب آ پہنچا ہے۔"

المصنف لابن ابی شیبۃ:37232
وإسناده لابأس به وهو موقوف على عبدالله بن عمرو من قوله .

حدیث میں مذکور الفاظ بعجت كظائم سے مراد وہ سرنگیں ہیں جو پہاڑوں کو کھود کر مکہ شہر میں کثیر تعداد میں بنائی گئی ہیں اور زمین کے نیچے بڑے بڑے پائپ آبِ زم زم کے لیے بچھائے گئے ہیں۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
129-امت کے آخری لوگوں کا پہلوں پر لعنت کرنا:


آخری زمانے میں بدعات بہت ہو جائیں گی اور بعد میں آنے والے پہلے لوگوں سے نفرت کریں گے۔ بعض لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت اور بلند مقام کو بھول جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی جو مدح و ثناء بیان فرمائی ہے، اس سے غافل ہوجائیں گے یا تغافل سے کام لیں گے۔ یہی نہیں بلکہ بعد میں آنے والے بعض لوگ امت کے پہلے لوگوں پر لعنت کریں گے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ قَالَ: نَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ قَالَ: نَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلَكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَفْنَى هَذِهِ الْأُمَّةُ حَتَّى يَلْعَنَ آخِرُهَا أَوَّلَهَا»

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"یہ امت تب تک فنا نہیں ہوگی جب تک امت کے آخری لوگ، پہلوں پر لعنت نہ کریں۔"


المعجم الأوسط للطبراني:5241
في إسناده إسماعيل بن مهاجر وهو ضعيف

امت سے مراد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ہے جیسا کہ ظاہر ہے۔ واللہ اعلم۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
130-نئی سواریاں۔۔۔۔گاڑیاں:


آخری زمانے کی تفصیلات اور اس کی بہت سے ایجادات کا ذکر مختلف احادیث میں موجود ہے یا ان کے بارے میں اشارہ ضرور سمجھا جا سکتا ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ قربِ قیامت میں مارکیٹیں بہت قریب ہو جائیں گی اور زمانہ قریب آجائے گا۔ اس ارشادِ نبوی سے بعض علماء نے یہ اخذ کیا ہے کہ اس میں ان جدید ترین اور مختلف قسم کی گاڑیوں کی طرف اشارہ ہے، جو ہمارے دور میں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ امام البانی رحمہ اللہ نے السلسلۃ الصحیحۃ میں اور کئی دیگر علماء نے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے۔

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ عِيسَى بْنَ هِلَالٍ الصَّدَفِيَّ، وَأَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يَقُولَانِ:سَمِعْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "سَيَكُونُ فِيآخِرِ أُمَّتِي رِجَالٌ يَرْكَبُونَ عَلَى سُرُوجٍ كَأَشْبَاهِ الرِّجَالِ، يَنْزِلُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ، نِسَاؤُهُمْ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ

امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں سیدنا عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما کی مرفوع روایت ذکر کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"میری امت کے آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو ایسے زینوں پر بیٹھیں گے جو سواریوں کی مانند ہوں گے، وہ مساجد کے دروازوں پر اتریں گے۔ ان کی عورتیں کپڑے پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی۔"

صحیح ابن حبان:5753، مسند احمد:7083،والسلسلۃ الصحیحۃ:2683


كَأَشْبَاهِ الرِّجَالِ رحال رحل کی جمع ہے اور اس کے معنی کجاوے کے ہیں۔ اس میں جدید سواریوں کی طرف اشارہ ہے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دیکھا تھا۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد آج کل کی گاڑیاں ہیں۔ واللہ اعلم
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
131-امام مہدی کا ظہور:


اگرچہ آخری زمانے میں شر و فساد کی کثرت ہوگی۔ ظلم بہت پھیل جائے گا۔ طاقتور کمزور کا حق کھا جائے گا۔ برے لوگوں کا معاشرے میں غلبہ اور کنٹرول ہوگا۔ مگر اس سب کے باوجود مسلمان ایک ایسی صبح جدید کے طلوع کے منتظر رہیں گے جو زمین پر پھیلے ہوئے ظلم و ستم کا خاتمہ کردے گی۔ اللہ تبارک تعالیٰ 'امام محمد بن عبداللہ حسنی، علوی، مہدی' کے ظہور کا فیصلہ فرمائے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ
  • مہدی کون ہوگا؟
  • اس کے ظہور کا سبب کیا ہوگا؟
  • وہ کہاں سے ظاہر ہوگا
  • کیا وہ اس وقت دنیا میں موجود ہے؟
  • اس کا کام کیا ہوگا؟
  • اس کے پیروکار کون ہوں گے؟
اس کے علاوہ بھی بہت سے ایسے سوالات ہیں جو لفظ 'مہدی' کے سنتے ہی ذہنِ انسانی میں پیدا ہونے لگتے ہیں۔ ان سوالات کے جوابات ہم ان شا اللہ قدرے وضاحت اور اختصار کے ساتھ ذکر کریں گے۔

نام و نسب
مہدی کا نام محمد بن عبداللہ حسنی علوی ہوگا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت سے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی اولاد میں سے ہوں گے۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،‏‏‏‏ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَهُمْ. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ. ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى،‏‏‏‏ عَنْ سُفْيَانَ. ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا زَائِدَةُ. ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى،‏‏‏‏ عَنْ فِطْرٍ،‏‏‏‏ الْمَعْنَى وَاحِدٌ كُلُّهُمْ،‏‏‏‏ عَنْ عَاصِمٍ،‏‏‏‏ عَنْ زِرٍّ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ "لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا يَوْمٌ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ زَائِدَةُ فِي حَدِيثِهِ لَطَوَّلَ اللَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ،‏‏‏‏ ثُمَّ اتَّفَقُوا:‏‏‏‏ حَتَّى يَبْعَثَ فِيهِ رَجُلًا مِنِّي أَوْ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي وَاسْمُ أَبِيهِ اسْمَ أَبِي

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر دنیا کا ایک دن بھی باقی ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو طویل کر دے گا، یہاں تک کہ اس میں ایک شخص کو مجھ سے یا میرے اہل بیت میں سےمبعوث کرے گا کہ اس کا نام میرے نام پر، اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام پر ہو گا۔

سنن أبي داود،كتاب المهدى، حدیث:4282، سنن ترمذی، الفتن، حدیث:2230


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ،‏‏‏‏ عَنْ زِيَادِ بْنِ بَيَانٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ،‏‏‏‏ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،‏‏‏‏ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ "الْمَهْدِيُّ مِنْ عِتْرَتِي مِنْ وَلَدِ فَاطِمَةَ"،‏‏‏‏ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ،‏‏‏‏ وَسَمِعْتُ أَبَا الْمَلِيحِ،‏‏‏‏ يُثْنِي عَلَى عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ وَيَذْكُرُ مِنْهُ صَلَاحًا.


ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”مہدی میری نسل سے فاطمہ کی اولاد میں سے ہوں گے“۔

سنن أبي داود،كتاب المهدى، حدیث:4284،سنن ابن ماجہ، الفتن، حدیث:4086
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
مہدی کے ظہور کا سبب:

آخری زمانے میں جب فساد بہت بڑھ جائے گا، برائیوں کی کثرت ہوجائے گی، ظلم پھیل جائے گا اور عدل مفقود ہوجائے گا تو ان حالات میں ایک نیک شخص ظاہر ہوگا جس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ اس امت کے حالات کی اصلاح فرمادے گا۔ اس شخص کو اہل سنت مہدی کے نام سے پہچانتے ہیں۔ اس کے پیروکار جمع ہوجائیں گے اور وہ بہت سے معرکوں میں مومنین کی قیادت کرے گا۔ وہ صرف مذہبی پیشوا ہی نہیں قائد اور حاکم بھی ہوگا۔

مہدی کی صفات:

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ تَمَّامِ بْنِ بَزِيعٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "الْمَهْدِيُّ مِنِّي أَجْلَى الْجَبْهَةِ أَقْنَى الْأَنْفِ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا يَمْلِكُ سَبْعَ سِنِينَ".



ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہدی میری اولاد میں سے کشادہ پیشانی، اونچی ناک والے ہوں گے، وہ روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، جیسے کہ وہ ظلم و جور سے بھر دی گئی ہے، ان کی حکومت سات سال تک رہے گی“۔

سنن أبي داود،كتاب المهدى، حدیث:4285، سنن ترمذی، الفتن، حدیث:2232

أَجْلَى الْجَبْهَةِ یعنی اس کے سر کے اگلے حصے کے بال کم ہوں گے یا اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی پیشانی کشادہ ہوگی۔

أَقْنَى الْأَنْفِ یعنی اس کی ناک لمبی اور پتلی ہوگی۔ اس کی ناک درمیان سے اونچی ہوگی، یعنی چپٹی ناک والا نہ ہوگا۔

اس کے عرصہ حکومت کے بارے میں تفصیل آگے آئے گی۔

اس کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی طرح ہوگا اور اس کے والد کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کے نام کی طرح ہوگا۔ یعنی اس کا نام محمد بن عبداللہ ہوگا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں سے ہوگا۔



 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
مہدی کے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی نسل سے ہونے کی حکمت:

سیدنا حسن رضی اللہ عنہما نے اپنے والدِ گرامی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حکومت سنبھالی تھی، لہذا اس وقت کے حالات میں مسلمانوں کے دو خلیفہ بن گئے تھے۔ عراق و حجاز وغیرہ میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اور شام اور اس کے قرب و جوار میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما۔

چھ ماہ کی حکمرانی کے بعد سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے بغیر کسی دنیوی معاوضے کے محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی اور سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دستبردار ہوگئے تاکہ مسلمانوں میں اتفاق و اتحاد پیدا ہوجائے ان سب کا حکمران ایک ہی شخص ہو اور ان کے درمیان خونریزی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نےان کے اس عمل میں برکت ڈالی اور انہیں اس کا اچھا بدلہ دیا۔ جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی چیز کو چھوڑ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو یا اس کی اولاد کو اس سے افضل چیز عطا کر دیتا ہے۔

المنار المنیف لابن القیم، ص:151
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
مہدی کی حکمرانی کی مدت:

مہدی سات برس تک مسلمانوں کے حکمران رہیں گے اور وہ اس دوران زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دیں گے جس طرح کہ وہ ظلم و زیادتی سے بھری ہوئی تھی۔
ان کے عہد میں امت بہت خوشحال ہوگی۔ زمین اپنی پیداوار بڑھا دے گی۔ آسمان سے خوب بارشیں ہونگی اور وہ لوگوں کو گنے بغیر مال دیں گے۔ اس سلسلے میں کچھ احادیث آگے بیان کی جائیں گی۔


مہدی کا ظہور کہاں سے ہوگا؟

محمد بن عبداللہ حسنی علوی کا ظہور مشرق کی طرف سے ہوگا۔ وہ اپنے ظہور کے وقت اکیلے نہیں ہونگے بلکہ اللہ تعالیٰ اہل مشرق کے بہت سے لوگوں کے ساتھ ان کی مدد کرے گا، جو حاملینِ دینِ اسلام ہوں گے اور وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کریں گے،جیسا کہ ایک حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔

مہدی کےظہور کا وقت:

آخری زمانے میں جب لوگوں کے معاملات دگرگوں ہوجائیں گے،اس وقت خلیفوں کی اولاد میں سے تین افراد کعبہ اور اس کے خزانے پر قبضہ جمانے کے لیے آپس میں جنگ کریں گے۔ ان میں سے ہر ایک بیت اللہ پر قبضہ کا خواہاں ہوگا، مگر کوئی بھی کامیاب نہیں ہوسکے گا۔ عین اس وقت مہدی کا شہرِ مکہ میں ظہور ہوگا اور یہ بات لوگوں میں عام ہوجائے گی۔ کعبہ کے قریب مہدی کی بیعت کی جائے گی جس میں لوگ سمع و طاعت اور ان کی اتباع پر بیعت کریں گے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ،‏‏‏‏ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ،‏‏‏‏ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ،‏‏‏‏ عَنْ ثَوْبَانَ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "يَقْتَتِلُ عِنْدَ كَنْزِكُمْ ثَلَاثَةٌ،‏‏‏‏ كُلُّهُمُ ابْنُ خَلِيفَةٍ،‏‏‏‏ ثُمَّ لَا يَصِيرُ إِلَى وَاحِدٍ مِنْهُمْ،‏‏‏‏ ثُمَّ تَطْلُعُ الرَّايَاتُ السُّودُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ،‏‏‏‏ فَيَقْتُلُونَكُمْ قَتْلًا لَمْ يُقْتَلْهُ قَوْمٌ،‏‏‏‏ ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا لَا أَحْفَظُهُ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَبَايِعُوهُ،‏‏‏‏ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ،‏‏‏‏ فَإِنَّهُ خَلِيفَةُ اللَّهِ الْمَهْدِيُّ".

ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تمہارے(کعبہ کے) ایک خزانے کے پاس تین آدمی آپس میں لڑائی کریں گے، ان میں سے ہر ایک خلیفہ کا بیٹا ہو گا، لیکن ان میں سے کسی کو بھی وہ خزانہ میسر نہ ہو گا، پھر مشرق کی طرف سے کالے جھنڈے نمودار ہوں گے، اور وہ تم کو ایسا قتل کریں گے کہ اس سے پہلے کسی نے نہ کیا ہو گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اور بھی بیان فرمایا جسے میں یاد نہ رکھ سکا، اس کے بعد آپ نے فرمایا: ”لہٰذا جب تم اسے(مہدی کو) ظاہر ہوتے دیکھو تو جا کر اس سے بیعت کرو اگرچہ گھٹنوں کے بل برف پر گھسٹ کر جانا پڑے کیونکہ وہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہو گا“۔


سنن ابن ماجہ،كتاب الفتن،حدیث نمبر: 4084
مستدرک للحاکم:8432

وقال ابن کثیر (فی النھایۃ، ص:26): تفرد بہ ابن ماجہ وھذا اسناد قوی صحیح۔
قال البوصیری (فی زوائد:1442): ھذا اسناد صحیح، رجالہ ثقات
قال الحاکم: صحیح علی شرط الشیخین،التعلیق-من تلخیص الذہبی؛ علی شرط البخاری و مسلم


(زوائد ابن ماجہ میں علامہ بوصیری رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے، امام حاکم نے اسے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔شیخ عبدالعلیم بستوی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ امام ابن کثیر نے اس کی سند کو صحیح و قوی قرار دیا ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے تحقیق مشکوٰۃ اور الضعیفہ میں اسے ضعیف کہا ہےالبتہ پھر اس حدیث کے آخری جملے کو چھوڑ کر باقی کو صحیح المعانی قرار دیا ہے اور لفظ " خلیفۃ اللہ" میں پائی جانے والی نکارت ذکر کی ہے۔ الضعیفۃ،حدیث:85)

حدیث کی تشریح:

كُلُّهُمُ ابْنُ خَلِيفَةٍ یعنی وہ تین اشخاص جو جنگ کریں گےاور ہر ایک کے پیروکار بھی اس کے ہمراہ ہوں گے۔ ان میں سے ہر شخص کا باپ بادشاہ ہوگا اور وہ اپنے والد کی طرح حکومت حاصل کرنے کا خواہشمند ہوگا۔

كَنْزِكُمْ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد کعبہ کا خزانہ ہے جو سونے اور خزانوں کی شکل میں ہے اور بیان کیا جاتا ہے کہ وہ کعبہ کے نیچے مدفون ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد حکومت اور خلافت ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد دریائے فرات کا خزانہ ہے، یعنی سونے کا وہ پہاڑ جو دریائے فرات میں ظاہر ہوگا۔
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
ایک سوال اور اس کا جواب:

ان دونوں باتوں میں تطبیق کیسے ہوگی کہ مہدی مکہ میں ظاہر ہوگا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیاہ جھنڈے مشرق خراسان سے آئیں گے؟ اس میں کیا حکمت ہے کہ مہدی کے جھنڈے سیاہ رنگ کے ہوں گے؟

جواب: امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وَيُؤَيِّدُهُ بِنَاسٍ من أهل المشرق ينصرونه ويقيمون سلطانه ويشدون أركانه وتكون راياتهم سوداء أَيْضًا وَهُوَ زِيٌّ عَلَيْهِ الْوَقَارُ لِأَنَّ رَايَةَ اللِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ سَوْدَاءَ يُقَالُ لَهَا الْعُقَابُ

مہدی کی تائید کے لیے مشرق سے کچھ لوگ آئیں گے جو اس کی مدد کریں گے، اس کی سلطنت قائم کریں گے اور اس کے ہاتھ مضبوط کریں گے۔ ان کے جھنڈوں کا رنگ کالا ہوگا۔ کیونکہ اس رنگ میں رعب و وقار پایا جاتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا بھی میدانِ جنگ میں سیاہ ہوا کرتا تھا جسے "عقاب" کہا جاتا تھا۔
(النھایۃ فی الفتن والملاحم، ص:55)

أَخْبَرَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثَنَا أَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَخْرُجُ فِي آخِرِ أُمَّتِي الْمَهْدِيُّيَسْقِيهِ اللَّهُ الْغَيْثَ، وَتُخْرِجُ الْأَرْضُ نَبَاتَهَا، وَيُعْطِي الْمَالَ صِحَاحًا، وَتَكْثُرُ الْمَاشِيَةُ وَتَعْظُمُ الْأُمَّةُ، يَعِيشُ سَبْعًا أَوْ ثَمَانِيًا» يَعْنِي حِجَجًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»

سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"میری امت کے آخری زمانے میں مہدی کا ظہور ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس کے دور میں خوب بارشیں برسائے گا۔ زمین خوب اپنی پیداوار نکالے گی۔ وہ لوگوں میں برابری کی بنیاد پر مال تقسیم کرے گا۔ مال مویشی کی کثرت ہوجائے گی اور امتِ اسلام عظیم امت بن جائے گی۔ وہ سات یا آٹھ برس زندہ رہے گا۔"


مستدرک للحاکم:8673
التعليق - من تلخيص الذهبي: صحيح

علامہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ظہورِ مہدی کا معاملہ مشہور و معروف ہے اور اس سے متعلق روایات مستفیض بلکہ متواتر ہیں جو ایک دوسرے کی تائید اور تقویت کا باعث ہیں۔ بہت سے اہل علم نے ان کے تواتر کا ذکر کیا ہے۔ ان روایات کا تواتر معنوی ہے اس لیے کہ ان کی سند کے طرق بہت زیادہ ہیں۔ اور یہ مختلف اسناد سے، مختلف رواۃ سے اور بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متنوع الفاظ کے ساتھ مروی ہیں۔ واقعی یہ روایات اس بات پر دلالت کناں ہیں کہ مہدی کا ظہور شرعی دلائل سے ثابت ہے اور اس کا آنا برحق ہے۔ اس کا نام محمد بن عبداللہ علوی حسنی ہوگا اور وہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہما کی اولاد سے ہوگا۔ آخری زمانے میں اس امام کی تشریف آوری امت کے لیے باعث رحمت ہوگی۔ وہ جب آئے گا تو عدل و انصاف قائم کرے گا اور ظلم و جور کا سدِ باب کرے گا۔ اللہ تعالیٰ مہدی کے ذریعے اس امت کو عدل، ہدایت، توفیق اور لوگوں کی رہنمائی کی نعمتوں سے نوازے گا۔
(الرد علی من کذب بالاحادیث الصحیحۃ الواردۃ فی المہدی، ص:157-159)
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
مہدی کے بارے میں وارد احادیث:

مہدی کے ظہور کے بارے میں بہت سی صحیح احادیث موجود ہیں اور یہ احادیث دو قسم کی ہیں:

پہلی قسم:
وہ احادیث جن میں مہدی کا ذکر پوری وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔

دوسری قسم:
ان احادیث کی ہے جن میں مہدی کی صرف صفات بیان کی گئی ہیں۔

ہم یہاں ان میں سے بعض احادیث کو ذکر کریں گے۔ یہ احادیث آخری زمانے میں مہدی کے ظہور اور انہیں علاماتِ قیامت میں سے ایک علامت ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔

مہدی کے بارے میں وارد جملہ احادیث کی تعداد پچاس(50) ہے۔ جن میں سے کچھ صحیح ہیں، کچھ حسن اور باقی ایسی ضعیف کہ جن کا ضعف شواہد و متابعات کے باعث بڑی حد تک کم ہوجاتا ہے۔ اس موضوع پر وارد آثارِ صحابہ کی تعداد اٹھائیس ہے۔
علامہ سفارینی، نواب صدیق حسن خان اور حافظ آبری رحمہم اللہ نے ذکر کیا ہے کہ مہدی کے بارے میں احادیث تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ ذیل میں کچھ احادیث بیان کی جارہی ہیں:


سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«يَخْرُجُ فِي آخِرِ أُمَّتِي الْمَهْدِيُّيَسْقِيهِ اللَّهُ الْغَيْثَ، وَتُخْرِجُ الْأَرْضُ نَبَاتَهَا، وَيُعْطِي الْمَالَ صِحَاحًا، وَتَكْثُرُ الْمَاشِيَةُ وَتَعْظُمُ الْأُمَّةُ، يَعِيشُ سَبْعًا أَوْ ثَمَانِيًا»

"میری امت کے آخری زمانے میں مہدی کا ظہور ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس کے دور میں خوب بارشیں برسائے گا۔ زمین خوب اپنی پیداوار نکالے گی۔ وہ لوگوں میں برابری کی بنیاد پر مال تقسیم کرے گا۔ مال مویشی کی کثرت ہوجائے گی اور امتِ اسلام عظیم امت بن جائے گی۔ وہ سات یا آٹھ برس زندہ رہے گا۔"

مستدرک للحاکم:8673
التعليق - من تلخيص الذهبي: صحيح
 
شمولیت
دسمبر 02، 2012
پیغامات
477
ری ایکشن اسکور
45
پوائنٹ
86
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُبَشِّرُكُمْ بِالْمَهْدِيِّ يُبْعَثُ فِي أُمَّتِي عَلَى اخْتِلَافٍ مِنَ النَّاسِ وَزَلَازِلَ، فَيَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا، كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا، يَرْضَى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَسَاكِنُ الْأَرْضِ، يَقْسِمُ الْمَالَ صِحَاحًا " فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: مَا صِحَاحًا؟ قَالَ: " بِالسَّوِيَّةِ بَيْنَ النَّاسِ
" قَالَ: " وَيَمْلَأُ اللهُ قُلُوبَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِنًى، وَيَسَعُهُمْ عَدْلُهُ، حَتَّى يَأْمُرَ مُنَادِيًا فَيُنَادِي فَيَقُولُ: مَنْ لَهُ فِي مَالٍ حَاجَةٌ؟ فَمَا يَقُومُ مِنَ النَّاسِ إِلَّا رَجُلٌ فَيَقُولُ أنا، فيقول: ائْتِ السَّدَّانَ - يَعْنِي الْخَازِنَ - فَقُلْ لَهُ: إِنَّ الْمَهْدِيَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُعْطِيَنِي مَالًا، فَيَقُولُ لَهُ: احْثِ حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ فِي حِجْرِهِ وَأَبْرَزَهُ نَدِمَ، فَيَقُولُ: كُنْتُ أَجْشَعَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ نَفْسًا، أَوَعَجَزَ عَنِّي مَا وَسِعَهُمْ؟ قَالَ: فَيَرُدُّهُ فَلَا يَقْبَلُ مِنْهُ، فَيُقَالُ لَهُ: إِنَّا لَا نَأْخُذُ شَيْئًا أَعْطَيْنَاهُ، فَيَكُونُ كَذَلِكَ سَبْعَ سِنِينَ - أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ، أَوْ تِسْعَ سِنِينَ - ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْعَيْشِ بَعْدَهُ - أَوْ قَالَ: ثُمَّ لَا خَيْرَ فِي الْحَيَاةِ بَعْدَهُ

سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میں تمہیں مہدی کی آمد کی خوشخبری دیتا ہوں۔ اس کا ظہور اس وقت ہوگا جب لوگوں میں اختلاف بہت زیادہ ہوجائے گا اور زلزلے کثرت سے آئیں گے۔ وہ زمین کو اس طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ قبل ازیں ظلم و زیادتی سے بھری ہوئی تھی۔ آسمان کے رہنے والے اور زمین کے باسی سب اس سے راضی ہوں گے۔ وہ لوگوں میں برابری کی بنیاد پر مال تقسیم کرے گا۔ ایک شخص نے سوال کیا:
يَقْسِمُ الْمَالَ صِحَاحًا کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مال دینے میں سب لوگوں سے ایک جیسا سلوک کرے گا۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ امت محمد کے دلوں کو غنا سے بھر دے گا۔ نوبت یہاں تک آ پہنچے گی کہ مہدی ایک منادی کو حکم دے گا اور وہ اعلان کرے گا کہ لوگو! جس کسی کو مال چاہیے ہم دینے کے لیے تیار ہیں، مگر اس پیشکش کو کوئی قبول نہیں کرے گا۔ صرف ایک شخص اٹھے گا۔ مہدی اس سے کہے گا: خزانچی کے پاس جاؤ اور اس سے کہو: مہدی تمہیں حکم دیتا ہے کہ مجھے مال دو۔ خزانچی اس سے کہے گا: اپنے دونوں ہاتھوں سے جتنا مال اٹھا سکتے ہو، اٹھا کو۔ جب وہ شخص مال اپنی جھولی میں ڈال کر باندھ لے گا تو پشیمان ہوگا اور سوچے گا: افسوس! میں ہی امت محمدیہ میں سب سے زیادہ لالچی انسان ہوں۔ جو چیز ان کے لیے کافی ہوگئی میرا اس سے گزارا کیوں نہ ہوسکا؟ یہ سوچ کر وہ مال واپس کرنا چاہے گا لیکن خزانچی اسے لینے سے انکار کردے گا۔ اس سے کہا جائے گا: ہم ایک بار جو کسی کو دے دیتے ہیں، وہ واپس نہیں لیتے۔ تم یہ مال لے جاؤ۔ یہ صورتِ حال سات، آٹھ، یا نو برس تک جاری رہے گی، پھر مہدی فوت ہوجائے گا اور اس کے جانے کے بعد لوگوں کی زندگی میں کوئی بھلائی باقی نہ رہے گی۔"


مسند احمد:11326،وانظر مجمع الزوائد:7-180

إسناده ضعيف لجهالة حال العلاء بن بشر: وهو المُزني، فقد انفرد بالرواية عنه المُعلى بن زياد: وهو القُرْوسي، ولم يوثر توثيقه إلا عن ابن حبان، وبقية رجاله ثقات رجال الصحيح. جعفر: هو ابن سليمان الضبعي، وأبو الصديق الناجي: هو بكر بن عمرو.
وقد سلف نحوه مختصراً بإسناد صحيح برقم (١١٣١٣) . وانظر (١١١٣٠،قال الالبانی فی الصحیحۃ:ورجاله ثقات رجال مسلم؛ غير العلاء بن بشير، وهو مجهول؛ كما في "التقريب ". لكن قد توبع على بعضه عند الحاكم (٤/٥٥٨)


احْثِ کے معنی ہیں کہ گنے بغیر اور حساب کیے بغیر اپنے دونوں ہاتھوں سے جتنا لے سکتے ہو لے لو۔
 
Top