• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم غزوۂ اُحد

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ ان کے عزائم سرد پڑ گئے اور ان کی صفیں اتھل پتھل اور بد نظمی و انتشار کا شکار ہو گئیں۔ مگر آپ ﷺ کی شہادت کی یہی خبر اس حیثیت سے مفید ثابت ہوئی کہ اس کے بعد مشرکین کے پُرجوش حملوں میں کسی قدر کمی آ گئی۔ کیونکہ وہ محسوس کر رہے تھے کہ ان کا آخری مقصد پورا ہو چکا ہے۔ چنانچہ اب بہت سے مشرکین نے حملہ بند کر کے مسلمان شہداء کی لاشوں کا مُثلہ کرنا شروع کر دیا۔
رسول اللہ ﷺ کی پیہم معرکہ آرائی اور حالات پر قابو:
حضرت مُصعب بن عمیرؓ کی شہادت کے بعد رسول اللہ ﷺ نے جھنڈا حضرت علی بن ابی طالبؓ کو دیا۔ انہوں نے جم کر لڑائی کی۔ وہاں پر موجود باقی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی بے مثال جانبازی و سرفروشی کے ساتھ دفاع اور حملہ کیا۔ جس سے بالآخر اس بات کا امکان پیدا ہو گیا کہ رسول اللہ ﷺ مشرکین کی صفیں چیر کر نرغے میں آئے ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جانب راستہ بنائیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے قدم آگے بڑھایا اور صحابہ کرام کی جانب تشریف لائے۔ سب سے پہلے حضرت کعب بن مالک نے آپ ﷺ کو پہچانا۔ خوشی سے چیخ پڑے کہ مسلمانو! خوش ہو جاؤ۔ یہ ہیں رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ نے اشارہ فرمایا کہ خاموش رہو - تاکہ مشرکین کو آپ ﷺ کی موجودگی اور مقام موجودگی کا پتہ نہ لگ سکے - مگر ان کی آواز مسلمانوں کے کان تک پہنچ چکی تھی۔ چنانچہ مسلمان آپ کی پناہ میں آنا شروع ہو گئے۔ اور رفتہ رفتہ تقریباً تیس صحابہ جمع ہو گئے۔
جب اتنی تعداد جمع ہو گئی تو رسول اللہ ﷺ نے پہاڑ کی گھاٹی، یعنی کیمپ کی طرف ہٹنا شروع کیا مگر چونکہ اس واپسی کے معنی یہ تھے کہ مشرکین نے مسلمانوں کو نرغے میں لینے کی جو کارروائی کی تھی وہ بے نتیجہ رہ جائے۔ اس لیے مشرکین نے اس واپسی کو ناکام بنانے کے لیے اپنے تابڑ توڑ حملے جاری رکھے۔ مگر آپ ﷺ نے ان حملہ آوروں کا ہجوم چیر کر راستہ بنا ہی لیا۔ اور شیران اسلام کی شجاعت و شہ زوری کے سامنے ان کی ایک نہ چلی۔ چنانچہ اسی اثناء میں مشرکین کا ایک اڑیل شہسوار عثمان بن عبد اللہ بن مغیرہ یہ کہتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی جانب بڑھا کہ یا تو میں رہوں گا یا وہ رہے گا۔ ادھر رسول اللہ ﷺ بھی دو دو ہاتھ کرنے کے لیے ٹھہر گئے مگر مقابلے کی نوبت نہ آئی۔ کیونکہ اس کا گھوڑا ایک گڑھے میں گر گیا۔ اور اتنے میں حارث بن صمہ نے اس کے پاس پہنچ کر اسے للکارا۔ اور اس کے پاؤں پر اس زور کی تلوار ماری کہ وہیں بٹھا دیا، پھر اس کا کام تمام کر کے اس کا ہتھیار لے لیا۔ اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آگئے مگر اتنے میں مکی فوج کے ایک دوسرے سوار عبد اللہ بن جابر نے پلٹ کر حضرت حارثہ بن صمہ پر حملہ کر دیا اور ان کے کندھے پر تلوار مار کر زخمی کر دیا۔ مگر مسلمانوں نے لپک کر انہیں اٹھا لیا۔ اور اُدھر خطرات سے کھیلنے والے مرد مجاہد حضرت ابو دجانہؓ، جنہوں نے آج سرخ پٹی باندھ رکھی تھی، عبد اللہ بن جابر پر ٹوٹ پڑے اور اسے ایسی تلوار ماری کہ اس کا سر اڑ گیا۔
کرشمۂ قدرت دیکھئے کہ اسی خون ریز مار دھاڑ کے دوران مسلمانوں کو نیند کی چھپکیاں بھی آ رہی تھیں اور جیسا کہ قرآن نے بتلایا ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے امن و طمانیت تھی۔ ابو طلحہؓ کا بیان ہے کہ میں بھی ان لوگوں میں تھا جن پر اُحد کے روز نیند چھا رہی تھی، یہاں تک کہ میرے ہاتھ سے کئی بار تلوار گر گئی۔ حالت یہ تھی کہ وہ گرتی تھی اور میں پکڑتا تھا، پھر گرتی تھی اور پھر پکڑتا تھا۔ ( صحیح بخاری ۲/۵۸۲)
خلاصہ یہ کہ اس طرح کی جان بازی و جان سپاری کے ساتھ یہ دستہ منظم طور سے پیچھے ہٹتا ہوا پہاڑ کی گھاٹی میں واقع کیمپ تک جا پہنچا۔ اور بقیہ لشکر کے لیے بھی اس محفوظ مقام تک پہنچنے کا راستہ بنا دیا۔ چنانچہ باقی ماندہ لشکر بھی اب آپ ﷺ کے پاس آ گیا۔ اور حضرت خالد کی فوجی عبقریت رسول اللہ ﷺ کی فوجی عبقریت کے سامنے ناکام ہو گئی۔
اُبی بن خلف کا قتل:
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ گھاٹی میں تشریف لا چکے تو اُبی بن خلف یہ کہتا ہوا آیا کہ محمد کہاں ہے؟ یا تو میں رہوں گا یا وہ رہے گا۔ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کوئی اس پر حملہ کرے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے آنے دو۔ جب قریب آیا تو رسول اللہ ﷺ نے حارث بن صمہ سے ایک چھوٹا سا نیزہ لیا۔ اور لینے کے بعد جھٹکا دیا تو اس طرح لوگ ادھر ادھر اڑ گئے جیسے اُونٹ اپنے بدن کو جھٹکا دیتا ہے تو مکھیاں اُڑ جاتی ہیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ اس کے مد مقابل پہنچے۔ اس کی خود اور زِرہ کے درمیان حلق کے پاس تھوڑی سی جگہ کھُلی دکھائی پڑی۔ آپ ﷺ نے اسی پر ٹکا کر ایسا نیزہ مارا کہ وہ گھوڑے سے کئی بار لڑھک لڑھک گیا۔ جب قریش کے پاس گیا - درآں حالیکہ گردن میں کوئی بڑی خراش نہ تھی۔ البتہ خون بند تھا اور بہتا نہ تھا - تو کہنے لگا: مجھے واللہ! محمد نے قتل کر دیا۔ لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارا دل چلا گیا ہے۔ ورنہ تمہیں واللہ کوئی خاص چوٹ نہیں ہے۔ اس نے کہا: وہ مکے میں مجھ سے کہہ چکا تھا کہ میں تمہیں قتل کروں گا۔
(اس کا واقعہ یہ ہے کہ جب مکے میں ابی بن خلف کی ملاقات رسول اللہ ﷺ سے ہوتی تو وہ آپ سے کہتا: اے محمد! میرے پاس عود نامی ایک گھوڑا ہے۔ میں اسے روزانہ تین صاع (ساڑھے سات کلو) دانہ کھلاتا ہوں۔ اسی پر بیٹھ کر تمہیں قتل کروں گا۔ جواب میں رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: بلکہ ان شاء اللہ میں تمہیں قتل کروں گا۔) اس لیے اللہ کی قسم! اگر وہ مجھ پر تھوک دیتا تو بھی میری جان چلی جاتی۔ بالآخر اللہ کا یہ دشمن مکہ واپس ہوتے ہوئے مقام سرف پہنچ کر مر گیا۔ (ابن ہشام ۲/۸۴۔ زاد المعاد ۲/۹۷) ابو الاسود نے حضرت عروہ سے روایت کی ہے کہ یہ بیل کی طرح آواز نکالتا تھا اور کہتا تھا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو تکلیف مجھے ہے اگر وہ ذی المجاز کے سارے باشندوں کو ہوتی تو وہ سب کے سب مر جاتے۔(مستدرک حاکم ۲/۳۲۷)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حضرت طلحہؓ، نبی ﷺ کو اٹھاتے ہیں:
پہاڑ کی طرف نبی ﷺ کی واپسی کے دوران ایک چٹان پڑ گئی۔ آپ ﷺ نے اس پر چڑھنے کی کوشش کی مگر چڑھ نہ سکے۔ کیونکہ ایک تو آپ کا بدن بھاری ہو چکا تھا۔ دوسرے آپ ﷺ نے دوہری زِرہ پہن رکھی تھی۔ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت چوٹیں بھی آئی تھیں۔ لہٰذا حضرت طلحہؓ بن عبید اللہ نیچے بیٹھ گئے۔ اورآپ ﷺ کو سوار کر کے کھڑے ہو گئے۔ اس طرح آپ چٹان پر پہنچ گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ''طلحہ نے (جنت) واجب کر لی۔'' (ابن ہشام ۲/۸۶، ترمذی حدیث نمبر ۱۶۹۲ (جہاد) ۳۷۳۹ (مناقب) مسند احمد ۱/۱۶۵، حاکم نے (۳/۳۷۴ میں) اسے صحیح کہا ہے۔ اور ذہبی نے اس کی موافقت کی ہے)
مشرکین کا آخری حملہ:
جب رسول اللہ ﷺ گھاٹی کے اندر اپنی قیادت گاہ میں پہنچ گئے تو مشرکین نے مسلمانوں کو زک پہنچانے کی آخری کوشش کی۔ ابن اسحاق کا بیان ہے کہ اس اثناء میں کہ رسول اللہ ﷺ گھاٹی کے اندر تشریف فرما تھے۔ ابو سفیان اور خالد بن ولید کی قیادت میں مشرکین کا ایک دستہ چڑھ آیا، رسول اللہ ﷺ نے دُعا فرمائی کہ اے اللہ! یہ ہم سے اوپر نہ جانے پائیں۔ پھر حضرت عمرؓ بن خطاب اور مہاجرین کی ایک جماعت نے لڑ کر انہیں پہاڑ سے نیچے اتار دیا۔ (ابن ہشام ۲/۸۶)
مغازی اموی کا بیان ہے کہ مشرکین پہاڑ پر چڑھ آئے تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعدؓ سے فرمایا: ان کے حوصلے پست کرو، یعنی انہیں پیچھے دھکیل دو۔ انہوں نے کہا: میں تنہا ان کے حوصلے کیسے پست کروں؟ اس پر آپ ﷺ نے تین بار یہی بات دہرائی۔ بالآخر حضرت سعدؓ نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا۔ اور ایک شخص کو مارا تو وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ حضرت سعدؓ کہتے ہیں کہ میں نے پھر اپنا تیر لیا، اسے پہچانتا تھا۔ اور اس سے دوسرے کو مارا تو اس کا بھی کام تمام ہو گیا اس کے بعد پھر تیر لیا۔ اسے پہچانتا تھا اور اس سے ایک تیسرے کو مارا تو اس کی بھی جان جاتی رہی۔ اس کے بعد مشرکین نیچے اُتر گئے۔ میں نے کہا یہ مبارک تیر ہے۔ پھر میں نے اسے اپنے ترکش میں رکھ لیا۔ یہ تیر زندگی بھر حضرت سعدؓ کے پاس رہا۔ اور ان کے بعد ان کی اولاد کے پاس رہا۔ (زاد المعاد ۲/۹۵)
شہداء کا مُثلہ:
یہ آخری حملہ تھا جو مشرکین نے نبی ﷺ کے خلاف کیا تھا، چونکہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انجام کا صحیح علم نہ تھا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ﷺ کی شہادت کا تقریباً یقین تھا، اس لیے انہوں نے اپنے کیمپ کی طرف پلٹ کر مکہ واپسی کی تیاری شروع کر دی۔ کچھ مشرکین مرد اور عورتیں مسلمان شہداء کے مثلہ میں مشغول ہو گئے۔ یعنی شہیدوں کی شرمگاہیں اور
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کان، ناک وغیرہ کاٹ لیے۔ پیٹ چیر دیے۔ ہند بنت عتبہ نے حضرت حمزہؓ کا کلیجہ چاک کر دیا اور مُنہ میں ڈال کر چبایا اور نگلنا چاہا لیکن نگل نہ سکی تو تھوک دیا۔ اور کٹے ہوئے کانوں اور ناکوں کا پازیب اور ہار بنایا۔ (ابن ہشام ۲/۹۰ 2 البدایۃ والنہایۃ ۴/۱۷)
آخرتک جنگ لڑنے کے لیے مسلمانوں کی مستعدی:
پھر اس آخری وقت میں دو ایسے واقعات پیش آئے جن سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جانباز و سرفروش مسلمان اخیر تک جنگ لڑنے کے لیے کس قدر مستعد تھے۔ اور اللہ کی راہ میں جان دینے کا کیسا ولولہ خیز جذبہ رکھتے تھے۔
حضرت کعب بن مالکؓ کا بیا ن ہے کہ میں ان مسلمانوں میں تھا جو گھاٹی سے باہر آئے تھے۔ میں نے دیکھا کہ مشرکین کے ہاتھوں مسلمان شہداء کا مُثلہ کیا جا رہا ہے تو رک گیا۔ پھر آگے بڑھا، کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مشرک جو بھاری بھرکم زِرہ میں ملبوس تھا شہیدوں کے درمیان سے گزر رہا ہے۔ اور کہتا جا رہا ہے کہ کٹی ہوئی بکریوں کی طرح ڈھیر ہو گئے۔ اور ایک مسلمان اس کی راہ تک رہا ہے۔ وہ بھی زِرہ پہنے ہوئے ہے۔ میں چند قدم اور بڑھ کر اس کے پیچھے ہو لیا۔ پھر کھڑے ہو کر آنکھوں ہی آنکھوں میں مسلم اور کافر کو تولنے لگا۔ محسوس ہوا کہ کافر اپنے ڈیل ڈول اور ساز و سامان دونوں لحاظ سے بہتر ہے۔ اب میں دونوں کا انتظار کرنے لگا۔ بالآخر دونوں میں ٹکر ہو گئی اور مسلمان نے کافر کو ایسی تلوار ماری کہ وہ پاؤں تک کاٹتی چلی گئی۔ مشرک دو ٹکڑے ہو کر گرا، پھر مسلمان نے اپنا چہرا کھولا اور کہا: او کعب! کیسی رہی؟ میں ابو دجانہ ہوں۔ (صحیح بخاری ۱/۴۰۳، ۵۸۱)
خاتمۂ جنگ پر کچھ مومن عورتیں میدانِ جہاد میں پہنچیں۔ چنانچہ حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عائشہ بنت ابی بکرؓ اور امِ سُلیم کو دیکھا کہ پنڈلی کے پازیب تک کپڑے چڑھائے پیٹھ پر مشک لاد لاد کر لا رہی تھیں۔ اور قوم کے منہ میں انڈیل رہی تھیں۔ 3 حضرت عمرؓ کا بیان ہے کہ احد کے روز حضرت اُم سلیطؓ ہمارے لیے مشک بھر بھر کر لا رہی تھیں۔ (ایضاً ۱/۴۰۳)
ان ہی عورتوں میں حضرت امِ ایمن بھی تھیں۔ انہوں نے جب شکست خوردہ مسلمانوں کو دیکھا کہ مدینے میں گھسنا چاہتے ہیں تو ان کے چہروں پر مٹی پھینکنے لگیں اور کہنے لگیں: یہ سوت کاتنے کا تکلا لو اور ہمیں تلوار دو۔ (سُوت کاتنا عرب عورتوں کا خاص کام تھا۔ اس لیے سُوت کاتنے کا تکلا، یعنی پھر کی عورتوں کا ویسا ہی مخصوص سامان تھا جیسے ہمارے ملک میں چوڑی۔ اس موقعے پر مذکورہ محاورہ کا ٹھیک وہی مطلب ہے۔ جو ہماری زبان کے اس کا محاروے کا ہے کہ ''چوڑی لو۔ اورتلوار دو'') اس کے بعد تیزی سے میدان جنگ پہنچیں اور زخمیوں کو پانی پلانے لگیں۔ ان پر حِبان بن عرقہ نے تیر چلایا، وہ گر پڑیں۔ اور پردہ کھل گیا۔ اس پر اللہ کے اس دشمن نے بھر پور قہقہہ لگایا۔ رسول اللہ ﷺ پر یہ بات گراں گزری۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اور آپ ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو ایک بے ریش تیر دے کر فرمایا: اسے چلاؤ۔ حضرت سعدؓ نے چلایا تو وہ تیر حِبان کے حلق پر لگا۔ اور وہ چت گرا۔ اور اس کا پردہ کھل گیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ اس طرح ہنسے کہ جڑ کے دانت دکھائی دینے لگے۔ اور فرمایا: سعد نے اُمِ ایمن کا بدلہ چکا لیا۔ اللہ ان کی دعا قبول کرے۔ (السیرۃ الحلبیہ ۲/۲۲)
گھاٹی میں قراریابی کے بعد:
جب رسول اللہ ﷺ نے گھاٹی کے اندر اپنی قیام گاہ میں ذرا قرار پا لیا تو حضرت علی بن ابی طالبؓ مہر اس سے اپنی ڈھال میں پانی بھر لائے - کہا جاتا ہے مہر اس پتھر میں بنا ہوا وہ گڑھا ہوتا ہے جس میں زیادہ سا پانی آ سکتا ہو۔ اور کہا جاتا ہے کہ یہ احد میں ایک چشمے کا نام تھا۔ بہرحال حضرت علیؓ نے وہ پانی نبی ﷺ کی خدمت میں پینے کے لیے پیش کیا۔ آپ ﷺ نے قدرے ناگوار بو محسوس کی اس لیے اسے پیا تو نہیں۔ البتہ اس سے چہرے کا خون دھو لیا اور سر پر بھی ڈال لیا۔ اس حالت میں آپ ﷺ فرما رہے تھے: اس شخص پر اللہ کا غضب ہو جس نے اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کو خون آلود کیا۔ (ابن ہشام ۲/۸۵)
حضرت سَہلؓ فرماتے ہیں: مجھے معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا زخم کس نے دھویا؟ پانی کس نے بہایا؟ اور علاج کس چیز سے کیا گیا؟ آپ ﷺ کی لختِ جگر حضرت فاطمہؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زخم دھو رہی تھیں۔ اور حضرت علیؓ ڈھال سے پانی بہا رہے تھے۔ جب حضرت فاطمہؓ نے دیکھا کہ پانی کے سبب خون بڑھتا ہی جا رہا ہے تو چٹائی کا ایک ٹکڑا لیا۔ اور اسے جلا کر چپکا دیا، جس سے خون رک گیا۔ (صحیح بخاری ۲/۵۸۴)
ادھر محمد بن مسلمہؓ شیریں اور خوش ذائقہ پانی لائے۔ نبی ﷺ نے نوش فرمایا: اور دعائے خیر دی۔ (السیرۃ الحلبیہ ۲/۳۰) زخم کے اثر سے نبی ﷺ نے ظہر کی نماز بیٹھے بیٹھے پڑھی۔ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھ ہی کر نماز ادا کی ۔(ابن ہشام ۲/۸۷)
ابو سفیان کی شماتت اور حضرت عمرؓ سے دو دو باتیں:
مشرکین نے واپسی کی تیاری مکمل کرلی تو ابو سفیان جبل اُحد پر نمودار ہوا۔ اور بآواز بلند بولا: کیا تم میں محمد ہیں؟ لوگوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے پھر کہا: کیا تم میں ابو قحافہ کے بیٹے (ابو بکر) ہیں؟ لوگوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے پھر سوال کیا: کیا تم میں عمر بن خطاب ہیں؟ لوگوں نے اب کی مرتبہ بھی جواب نہ دیا - کیونکہ نبی ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کا جواب دینے سے منع فرما دیا تھا۔ ابو سفیان نے ان تین کے سوا کسی اور کے بارے میں نہ پوچھا۔ کیونکہ اسے اور اس کی قوم کو معلوم تھا کہ اسلام کا قیام ان ہی تینوں کے ذریعے ہے۔ بہرحال
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
جب کوئی جواب نہ ملا تو اس نے کہا: چلو ان تینوں سے فرصت ہوئی۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ بے قابو ہو گئے۔ اور بولے: او اللہ کے دشمن! جن کا تو نے نام لیا ہے وہ سب زندہ ہیں۔ اور ابھی اللہ نے تیری رسوائی کا سامان باقی رکھا ہے۔ اس کے بعد ابو سفیان نے کہا: تمہارے مقتولین کا مُثلہ ہوا ہے۔ لیکن میں نے نہ اس کا حکم دیا تھا اور نہ اس کا برا ہی منایا ہے۔ پھر نعرہ لگایا: اُعلُ ھُبَل۔ ھبل بلند ہو۔
نبی ﷺ نے فرمایا: تم لوگ جواب کیوں نہیں دیتے۔ صحابہ نے عرض کیا: کیا جواب دیں؟ آپ نے فرمایا: کہو: اللہ أعلی وأجل ''اللہ اعلیٰ اور برتر ہے۔''
پھر ابو سفیان نے نعرہ لگایا: لنا عزی ولا عزی لکم۔ ''ہمارے لیے عُزیٰ ہے۔ اور تمہارے لیے عُزیٰ نہیں۔''
نبی ﷺ نے فرمایا: جواب کیوں نہیں دیتے؟ صحابہ نے دریافت کیا: کیا جواب دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو: اللہ مولانا ولا مولی لکم۔ ''اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہارا کوئی مولیٰ نہیں۔''
اس کے بعد ابو سفیان نے کہا: کتنا اچھا کارنامہ رہا۔ آج کا دن جنگ بدر کے دن کا بدلہ ہے اور لڑائی ڈول ہے۔ (یعنی کبھی ایک فریق غالب آتا ہے اور کبھی دوسرا، جیسے ڈول کبھی کوئی کھینچتا ہے کبھی کوئی)
حضرت عمرؓ نے جواب میں کہا: برابر نہیں۔ ہمارے مقتولین جنت میں ہیں۔ اور تمہارے مقتولین جہنم میں۔
اس کے بعد ابو سفیان نے کہا: عمر! میرے قریب آؤ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جاؤ۔ دیکھو کیا کہتا ہے؟ وہ قریب آئے تو ابو سفیان نے کہا: عمر! میں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کیا ہم نے محمد کو قتل کر دیا ہے؟ حضرت عمرؓ نے کہا: واللہ! نہیں۔ بلکہ اس وقت وہ تمہاری باتیں سن رہے ہیں۔ ابو سفیان نے کہا: تم میرے نزدیک ابن قمئہ سے زیادہ سچے اور راست باز ہو۔ (ابن ہشام ۲/۹۳، ۹۴ زاد المعاد ۲/۹۴ صحیح بخاری ۲/۵۷۹)
بدر میں ایک اور جنگ لڑنے کا عہد و پیمان:
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ ابو سفیان اور اس کے رُفقاء واپس ہونے لگے تو ابو سفیان نے کہا: آئندہ سال بدر میں پھر لڑنے کا وعدہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی سے فرمایا: کہہ دو ٹھیک ہے۔ اب یہ بات ہمارے اور تمہارے درمیان طے رہی۔ (ابن ہشام ۲/۹۴)
مشرکین کے موقف کی تحقیق:
اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی بن ابی طالبؓ کو روانہ کیا۔ اور فرمایا: قوم (مشرکین) کے پیچھے پیچھے جاؤ۔ اور دیکھو وہ کیا کر رہے ہیں؟ اور ان کا ارادہ کیا ہے؟ اگر انہوں نے گھوڑے پہلو میں رکھے ہوں اور اونٹوں پر سوارہوں تو ان کا ارادہ مکہ کا ہے۔ اور اگر گھوڑوں پر سوار ہوں، اور اونٹ ہانک کر لے جائیں تو مدینے کا
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ارادہ ہے۔ پھر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر انہوں نے مدینے کا ارادہ کیا تو میں مدینے جا کر ان سے دو دو ہاتھ کروں گا۔ حضرت علیؓ کا بیان ہے کہ اس کے بعد میں ان کے پیچھے نکلا تو دیکھا کہ انہوں نے گھوڑے پہلو میں کر رکھے ہیں۔ اونٹوں پر سوار ہیں۔ اور مکے کا رُخ ہے۔ ( ابن ہشام ۲/۹۴ حافظ ابن حجر نے فتح الباری (۷/۳۴۷) میں لکھا ہے کہ مشرکین کے عزائم کا پتہ لگانے کے لیے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ تشریف لے گئے تھے)
شہیدوں اور زخمیوں کی خبر گیری:
قریش کی واپسی کے بعد مسلمان اپنے شہیدوں اور زخمیوں کی کھوج خبر لینے کے لیے فارغ ہو گئے۔ حضرت زیدبن ثابتؓ کا بیان ہے کہ احد کے روز رسول اللہ ﷺ نے مجھے بھیجا کہ میں سعد بن الربیع کو تلاش کروں اور فرمایا کہ اگر وہ دکھائی پڑ جائیں تو انہیں میرا سلام کہنا۔ اور یہ کہنا کہ رسول اللہ ﷺ دریافت کر رہے ہیں کہ تم اپنے آپ کو کیسا پا رہے ہو؟ حضرت زیدؓ کہتے ہیں کہ میں مقتولین کے درمیان چکر لگاتے ہوئے ان کے پاس پہنچا تو ان کی آخری سانس آ جا رہی تھی۔ انہیں نیزے، تلوار اور تیر کے ستر سے زیادہ زخم آئے تھے۔ میں نے کہا: اے سعد! اللہ کے رسول آپ کو سلام کہتے ہیں اور دریافت فرما رہے ہیں کہ مجھے بتاؤ اپنے آپ کو کیسا پا رہے ہو؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو سلام۔ آپ سے عرض کرو کہ یا رسول اللہ! جنت کی خوشبو پا رہا ہوں۔ اور میری قوم انصار سے کہو کہ اگر تم میں سے ایک آنکھ بھی ہلتی رہی، اور دشمن رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گیا تو تمہارے لیے اللہ کے نزدیک کوئی عذر نہ ہو گا۔ اور اسی وقت ان کی روح پرواز کر گئی۔ (زاد المعاد ۲/۹۶)
لوگوں نے زخمیوں میں اُصیرم کو بھی پایا۔ جن کا نام عمرو بن ثابت تھا۔ ان میں تھوڑی سی رمق باقی تھی۔ اس سے قبل انہیں اسلام کی دعوت دی جاتی تھی مگر وہ قبول نہیں کرتے تھے۔ اس لیے لوگوں نے (حیرت سے) کہا: یہ اصیرم کیسے آیا ہے؟ اسے تو ہم نے اس حالت میں چھوڑا تھا کہ وہ اس دین کا انکاری تھا۔ چنانچہ ان سے پوچھا گیا کہ تمہیں یہاں کیا چیز لے آئی؟ قوم کی حمایت کا جوش؟ یا اسلام کی رغبت؟ انہوں نے کہا: اسلام کی رغبت۔ درحقیقت میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا۔ اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی حمایت میں شریک جنگ ہوا۔ یہاں تک کہ اب اس حالت سے دوچار ہوں جو آپ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ اور اسی وقت ان کا انتقال ہو گیا۔ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ جنتیوں میں سے ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ حالانکہ اس نے اللہ کے لیے ایک وقت کی بھی نماز نہیں پڑھی تھی۔ (ایضا ۲/۹۴، ابن ہشام ۲/۹۰) (کیونکہ اسلام لانے کے بعد ابھی کسی نماز کا وقت آیا ہی نہ تھا کہ شہید ہو گئے)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ان ہی زخمیوں میں قُزمان بھی ملا۔ اس نے جنگ میں خوب خوب داد شجاعت دی تھی۔ اور تنہا سات یا آٹھ مشرکین کو تہ تیغ کیا تھا۔ وہ جب ملا تو زخموں سے چور تھا، لوگ اسے اٹھا کر بنو ظفر کے محلے میں لے گئے۔ اور مسلمانوں نے خوشخبری سنائی۔ کہنے لگا: واللہ! میری جنگ تو محض اپنی قوم کے ناموس کے لیے تھی۔ اور اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں لڑائی ہی نہ کرتا۔ اس کے بعد جب اس کے زخموں نے شدت اختیار کی تو اس نے اپنے آپ کو ذبح کر کے خود کشی کر لی۔ ادھر رسول اللہ ﷺ سے اس کا جب بھی ذکر کیا جاتا تھا تو فرماتے تھے کہ وہ جہنمی ہے۔ (زادا لمعاد ۲/۹۷، ۹۸۔ ابن ہشام ۲/۸۸) (اور اس واقعے نے آپ ﷺ کی پیشین گوئی پر مہر تصدیق ثبت کر دی) حقیقت یہ ہے کہ اِعلاءِ کلمۃُ اللہ کے بجائے وطنیت یا کسی بھی دوسری راہ میں لڑنے والوں کا انجام یہی ہے۔ چاہے وہ اسلام کے جھنڈے تلے بلکہ رسول اور صحابہ کے لشکر ہی میں شریک ہو کر کیوں نہ لڑ رہے ہوں۔
اس کے بالکل برعکس مقتولین میں بنو ثعلبہ کا ایک یہودی تھا۔ اس نے اس وقت جبکہ جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے، اپنی قوم سے کہا: اے جماعت یہود! اللہ کی قسم تم جانتے ہو کہ محمد کی مدد تم پر فرض ہے۔ یہود نے کہا: مگر آج سَبت (سنیچر) کا دن ہے۔ اس نے کہا: تمہارے لیے کوئی سبت نہیں، پھر اس نے اپنی تلوار لی۔ ساز و سامان اٹھایا۔ اور بولا: اگر میں مارا جاؤں تو میرا مال محمد (ﷺ) کے لیے ہے۔ وہ اس میں جو چاہیں گے کریں گے۔ اس کے بعد میدانِ جنگ میں گیا اور لڑتے بھِڑتے مارا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مُخیریق بہترین یہودی تھا۔ (ابن ہشام ۲/۸۸، ۸۹)
شہداء کی جمع و تدفین:
اس موقعے پر رسول اللہ ﷺ نے خود بھی شہداء کا معائنہ فرمایا۔ اور فرمایا کہ میں ان لوگوں کے حق میں گواہ رہوں گا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی کیا جاتا ہے۔ اسے اللہ قیامت کے روز اس حالت میں اٹھائے گا کہ اس کے زخم سے خون بہہ رہا ہو گا۔ رنگ تو خون ہی کا ہو گا لیکن خوشبو مشک کی خوشبو ہو گی۔ (ایضاً ۲/۹۸)
کچھ صحابہؓ نے اپنے شہداء کو مدینہ منتقل کر لیا تھا۔ آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ اپنے شہیدوں کو واپس لا کر ان کی شہادت گاہوں میں دفن کریں، نیز شہداء کے ہتھیار اور پوستین کے لباس اتار لیے جائیں، پھر انہیں غسل دیئے بغیر جس حالت میں ہوں اسی حالت میں دفن کر دیا جائے۔ آپ ﷺ دو دو تین تین شہیدوں کو ایک ہی قبر میں دفن فرما رہے تھے۔ اور دو دو آدمیوں کو ایک ہی کپڑے میں اکٹھا لپیٹ دیتے تھے۔ اور دریافت فرماتے تھے کہ ان میں سے کس کو قرآن زیادہ یاد ہے۔ لوگ جس کی طرف اشارہ کرتے اسے لحد میں آگے کرتے اور فرماتے کہ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
میں قیامت کے روز ان لوگوں کے بارے میں گواہی دوں گا (صحیح بخاری مع فتح الباری ۳/۲۴۸ حدیث نمبر ۱۳۴۳، ۱۳۴۶، ۱۳۴۷، ۱۳۴۸، ۱۳۵۳، ۴۰۷۹) عبد اللہ بن عمرو بن حرام اور عمرو بن جموحؓ ایک ہی قبر میں دفن کیے گئے، کیونکہ ان دونوں میں دوستی تھی۔ (صحیح بخاری ۲/۵۸۴ زاد المعاد ۲/۹۸)
حضرت حنظلہؓ کی لاش غائب تھی۔ تلاش کے بعد ایک جگہ اس حالت میں ملی کہ زمین سے اوپر تھی اور اس سے پانی ٹپک رہا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بتلایا کہ فرشتے انہیں غسل دے رہے ہیں۔ پھر فرمایا: ان کی بیوی سے پوچھو کیا معاملہ ہے؟ ان کی بیوی سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے واقعہ بتلایا۔ یہیں سے حضرت حنظلہ کا نام غَسیل الملائکہ۔ (فرشتوں کے غسل دیے ہوئے) پڑ گیا۔ (زاد المعاد ۲/۹۴)
رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا حضرت حمزہ کا حال دیکھا تو سخت غمگین ہوئے۔ آپ کی پھوپھی حضرت صفیہؓ تشریف لائیں، وہ بھی اپنے بھائی حضرت حمزہؓ کو دیکھنا چاہتی تھیں۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے ان کے صاحبزادے حضرت زبیرؓ سے کہا کہ انہیں واپس لے جائیں۔ وہ اپنے بھائی کا حال دیکھ نہ لیں مگر حضرت صفیہؓ نے کہا: آخر ایسا کیوں؟ مجھے معلوم ہو چکا ہے کہ میرے بھائی کا مثلہ کیا گیا ہے۔ لیکن یہ اللہ کی راہ میں ہے اس لیے جو کچھ ہوا ہم اس پر پوری طرح راضی ہیں۔ میں ثواب سمجھتے ہوئے ان شاء اللہ ضرور صبر کروں گی۔ اس کے بعد وہ حضرت حمزہؓ کے پاس آئیں۔ انہیں دیکھا۔ ان کے لیے دعا کی۔ إنا للہ پڑھی اور اللہ سے مغفرت مانگی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ انہیں حضرت عبد اللہ بن جحشؓ کے ساتھ دفن کر دیا جائے۔ وہ حضرت حمزہؓ کے بھانجے بھی تھے اور رضاعی بھائی بھی۔
حضرت ابن مسعودؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت حمزہؓ بن عبد المطلب پر جس طرح روئے اس سے بڑھ کر روتے ہوئے ہم نے آپ کو کبھی نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ نے انہیں قبلے کی طرف رکھا۔ پھر ان کے جنازے پر کھڑے ہوئے اور اس طرح روئے کہ آواز بلند ہو گئی۔ (یہ ابن شاذان کی روایت ہے۔ دیکھئے: مختصر السیرۃ للشیخ عبدا للہ ص ۲۵۵)
درحقیقت شہداء کا منظر تھا ہی بڑا دلدوز اور زہرہ گزار۔ چنانچہ حضرت خباب بن ارتؓ کا بیان ہے کہ حضرت حمزہؓ کے لیے ایک سیاہ دھاریوں والی چادر کے سوا کوئی کفن نہ مل سکا۔ یہ چادر سر پر ڈالی جاتی تو پاؤں کھُل جاتے۔ اور پاؤں پر ڈالی جاتی تو سر کھُل جاتا۔ بالآخر چادر سے سر ڈھک دیا گیا اور پاؤں پر اذخر (یہ بالکل موج کے ہم شکل ایک خوشبودار گھاس ہوتی ہے۔ بہت سے مقامات پر چائے میں ڈال کر پکائی جاتی ہے۔ عرب میں اس کا پودا ہاتھ ڈیڑھ ہاتھ سے لمبا نہیں ہوتا۔ جبکہ ہندوستان میں ایک میٹر سے بھی لمبا ہوتا ہے) گھاس ڈال دی گئی۔ (مسند احمد، مشکوٰۃ ۱/۱۴۰)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کا بیان ہے کہ مُصعب بن عُمیرؓ کی شہادت واقع ہوئی - اور وہ مجھ سے بہتر تھے - تو انہیں ایک چادر کے اندر کفنایا گیا۔ حالت یہ تھی کہ اگر ان کا سر ڈھانکا جاتا تو پاؤں کھل جاتے۔ اور پاؤں ڈھانکے جاتے تو سر کھل جاتا تھا۔ ان کی یہی کیفیت حضرت خبابؓ نے بھی بیان کی ہے اور اتنا مزید اضافہ فرمایا ہے کہ (اس کیفیت کو دیکھ کر) نبی ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ چادر سے ان کا سر ڈھانک دو اور پاؤں پر اِذخر ڈال دو۔ (صحیح بخاری ۲/۵۷۹،۵۸۴ مع فتح الباری ۳/۱۷۰ حدیث نمبر ۱۲۷۶، ۳۸۹۷، ۳۹۱۳، ۳۹۱۴، ۴۰۴۷، ۴۰۸۲، ۶۴۳۲، ۶۴۴۸)
رسول اللہ ﷺ اللہ عزوجل کی حمد و ثنا کرتے اور اس سے دعا فرماتے ہیں:
امام احمد کی روایت ہے کہ احد کے روز جب مشرکین واپس چلے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: برابر ہو جاؤ۔ ذرا میں اپنے رب عزوجل کی ثناء کروں۔ اس حکم پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ ﷺ کے پیچھے صفیں باندھ لیں۔ اور آپ ﷺ نے یوں فرمایا:
''اے اللہ! تیرے ہی لیے ساری حمد ہے۔ اے اللہ! جس چیز کو تو کشادہ کر دے اسے کوئی تنگ نہیں کر سکتا۔ اور جس چیز کو تو تنگ کر دے اسے کوئی کشادہ نہیں کر سکتا۔ جس شخص کو تو گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ اور جس شخص کو تو ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔ جس چیز کو تو روک دے اسے کوئی دے نہیں سکتا۔ اور جو چیز تو دے دے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ جس چیز کو تو دور کر دے اسے کوئی قریب نہیں کر سکتا۔ اور جس چیز کو تو قریب کر دے اسے کوئی دور نہیں کر سکتا۔ اے اللہ! ہمارے اوپر اپنی برکتیں رحمتیں اور فضل و رزق پھیلا دے۔
اے اللہ! میں تجھ سے برقرار رہنے والی نعمت کا سوال کرتا ہوں۔ جو نہ ٹلے اور نہ ختم ہو۔ اے اللہ! میں تجھ سے فقر کے دن مدد کا اور خوف کے دن امن کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ! جو کچھ تونے ہمیں دیا ہے اس کے شر سے اور جو کچھ نہیں دیا ہے اس کے بھی شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ! ہمارے نزدیک ایمان کو محبوب کر دے۔ اور اسے ہمارے دلوں میں خوشنما بنا دے۔ اور کفر، فسق اور نافرمانی کو ناگوار بنا دے اور ہمیں ہدایت یافتہ لوگوں میں کر دے۔ اے اللہ! ہمیں مسلمان رکھتے ہوئے وفات دے اور مسلمان ہی رکھتے ہوئے زندہ رکھ۔ اور رسوائی اور فتنے سے دوچار کیے بغیر صالحین میں شامل فرما۔ اے اللہ! تو ان کا فروں کو مار اور ان پر سختی اور عذاب کر جو تیرے پیغمبروں کو جھٹلاتے اور تیری راہ سے روکتے ہیں۔ اے اللہ! ان کافروں کو بھی مار جنہیں کتاب دی گئی۔ یا الٰہ الحق! '' (بخاری، الادب المفرد، مسند احمد ۳/۳۲۴)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مدینے کو واپسی اور محبت و جاں سپاری کے نادر واقعات:
شہداء کی تدفین اور اللہ عزوجل کی ثناء و دعا سے فارغ ہو کر رسول اللہ ﷺ نے مدینے کا رخ فرمایا۔ جس طرح دوران کارزار اہلِ ایمان صحابہ سے محبت و جاں سپاری کے نادر واقعات کا ظہور ہوا تھا اسی طرح اثناء راہ میں اہل ایمان صحابیات سے صدق و جاں سپاری کے عجیب عجیب واقعات ظہور میں آئے۔
چنانچہ راستے میں آنحضور ﷺ کی ملاقات حضرت حَمنہ بنت جحشؓ سے ہوئی۔ انہیں ان کے بھائی عبد اللہ بن جحشؓ کی شہادت کی خبر دی گئی۔ انہوں نے انا للہ پڑھی اور دعائے مغفرت کی۔ پھر ان کے ماموں حضرت حمزہ بن عبد المطلب کی شہادت کی خبر دی گئی۔ انہوں نے پھر انا للہ پڑھی اور دعائے مغفرت کی۔ اس کے بعد ان کے شوہر حضرت مصعب بن عمیرؓ کی شہادت کی خبر دی گئی تو تڑپ کر چیخ اٹھیں۔ اور دھاڑ مار کر رونے لگیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "عورت کا شوہر اس کے یہاں ایک خصوصی درجہ رکھتا ہے۔'' (ابن ہشام ۲/۹۸)
اسی طرح آپ کا گزر بنو دینار کی ایک خاتون کے پاس سے ہوا۔ جس کے شوہر، بھائی، اور والد تینوں خلعتِ شہادت سے سرفراز ہو چکے تھے۔ جب انہیں ان لوگوں کی شہادت کی خبر دی گئی تو کہنے لگیں کہ رسول اللہ ﷺ کا کیا ہوا؟ لوگوں نے کہا: ام فلاں! حضور صلی اللہ علیہ وسلم بخیر ہیں۔ اور بحمد للہ جیسا تم چاہتی ویسے ہی ہیں۔ خاتون نے کہا: ذرا مجھے دکھلا دو۔ میں بھی آپ ﷺ کا وجود مبارک دیکھ لوں۔ لوگوں نے انہیں اشارے سے بتلایا۔ جب ان کی نظر آپ ﷺ پر پڑی تو بے ساختہ پکار اٹھیں:کل مصیبۃ بعدک جلل'' آپ کے بعد ہر مصیبت ہیچ ہے۔'' (ایضا ۲/۹۹)
اثناء راہ ہی میں حضرت سعد بن معاذؓ کی والدہ آپ کے پاس دوڑتی ہوئی آئیں۔ اس وقت حضرت سعد بن معاذ رسول اللہ ﷺ کے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے تھے۔ کہنے لگے: یا رسول اللہ ﷺ میری والدہ ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: انہیں مرحبا ہو۔ اس کے بعد ان کے استقبال کے لیے رک گئے۔ جب وہ قریب آ گئیں تو آپ ﷺ نے ان کے صاحبزادے عمرو بن معاذ کی شہادت پر کلمات تعزیت کہتے ہوئے انہیں تسلی دی اور صبر کی تلقین فرمائی۔ کہنے لگیں: جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہ سلامت دیکھ لیا تو میرے لیے ہر مصیبت ہیچ ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے شہداء اُحد کے لیے دعا فرمائی۔ اور فرمایا: اے اُمِ سعد! تم خوش ہو جاؤ۔ اور شہداء کے گھروالوں کو خوش خبری سنا دو کہ ان کے شہداء سب کے سب ایک ساتھ جنت میں ہیں اور اپنے گھروالوں کے بارے میں ان سب کی شفاعت قبول کر لی گئی ہے۔
کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! ان کے پسماندگان کے لیے بھی دعا فرما دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! ان کے دلوں کا غم دور کر۔ ان کی مصیبت کا بدل عطا فرما۔ اور باقی ماندگان کی بہترین دیکھ بھال فرما۔ (السیرۃ الحلبیہ ۲/ ۴۷)
 
Top