• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

غوثِ اعظم کون ہے ؟

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ سوره یوسف ٣٩

اے قید خانہ کے رفیقو کیا کئی جدا جدا معبود بہتر ہیں یا اکیلا الله جو زبردست ہے؟؟
سمجھو !!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
 
شمولیت
جون 20، 2014
پیغامات
670
ری ایکشن اسکور
54
پوائنٹ
93
پہلی یہ جو کام تصوریر میں دیکھائے گئے ہیں یہ غیر شرعی ضرور ہیں حرام کے درجہ میں تو ہیں مگر عبادت نہیں۔اور رہ گئی پکارنے کی بات تو اگر پکارنا عبادت ہے تو اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والوں رسول اللہ کو ایسے مت پکارو جیسے ایک دوسرے کو پکارتے ہو تو اگر ترجمہ آپ کے مطابق کیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ رسول اللہ کی عبادت ایسے مت کرو جیسے ایک دوسرے کی کرتی ہو
 
شمولیت
جون 20، 2014
پیغامات
670
ری ایکشن اسکور
54
پوائنٹ
93
اور جناب عامر یونس صاح ب آپ نے مولوی اسماعیل صاحب کو ابھی تک مشرک نہیں کہا؟؟
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,076
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,069
لیکن کیا کبھی آپ نے ابو بکر کو صدیق اکبر
عمر کو فاروق ا عظم
اور عثمان کو غنی کہے یا لکھنے پر اعتراض کیا ہے ؟؟؟
پہلے یہ بتاو کیا آپ ان چاروں کو جنتی مانتے ہیں
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ
سورہ نمل آیت 38
سلیمان نے کہا کہ اے دربار والو! کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر ہمارے پاس آئیں ملکہ کا تخت میرے پاس لے آئے
کہا جارہا ہے مافوق الاسباب طریقے سے مدد مانگنا عبادت میں شامل ہے تو کیا اس آیت مبارکہ میں حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے درباریوں کی عبادت کر رہے ہیں نعوذباللہ کہ ایک مافوق الاسباب مدد مانگ رہیں کہ ملکہ بلقیس کا تخت جو کہ سباء کی سرزمین پر ہے اسے اپنے دربار میں ملکہ بلقیس کے مسلمان ہوکر حاضر ہونے سے پہلے پیش کرنے کے لئے اپنے درباریوں سے مافوق الاسباب مدد مانگ رہے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
تخت لانے کا کہنا مافوق الاسباب مدد مانگنے کے مترادف ہے؟ جن الفاظ میں دورِ حاضر کے مشرکین مافوق الاسباب مدد مانگتے ہیں غیراللہ سے، کیا سلمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کا تخت لانے کی بات کر رہے بعینہ مافوق الاسباب مدد طلب کی ہے، کیا آپ اس پر غوروفکر کرنا پسند کریں گے؟
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
میرے بھائی میں انکو ان ناموں سے جانتا ہو -

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ

لیکن یہاں تو آپ کی پوسٹ میں صدیق اکبر لکھا ہوا ہے اس کو میں کیا کہوں چالاکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,865
ری ایکشن اسکور
41,088
پوائنٹ
1,155
قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَيُّكُمْ يَأْتِينِي بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِي مُسْلِمِينَ
سورہ نمل آیت 38
سلیمان نے کہا کہ اے دربار والو! کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر ہمارے پاس آئیں ملکہ کا تخت میرے پاس لے آئے
کہا جارہا ہے مافوق الاسباب طریقے سے مدد مانگنا عبادت میں شامل ہے تو کیا اس آیت مبارکہ میں حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے درباریوں کی عبادت کر رہے ہیں نعوذباللہ کہ ایک مافوق الاسباب مدد مانگ رہیں کہ ملکہ بلقیس کا تخت جو کہ سباء کی سرزمین پر ہے اسے اپنے دربار میں ملکہ بلقیس کے مسلمان ہوکر حاضر ہونے سے پہلے پیش کرنے کے لئے اپنے درباریوں سے مافوق الاسباب مدد مانگ رہے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
نیز پہلے بھی آپ سے "بریلویت کا اللہ تعالیٰ سے اختلاف" والے تھریڈ میں اِس پوائنٹ پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ کی تفسیر کا یہ اقتباس پیش کیا تھا جس میں اس واقعے کی معتدلانہ وضاحت موجود ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
"یہ کون شخص تھا جس نے یہ کہا؟ یہ کتاب کون سی تھی؟ اور یہ علم کیا تھا، جس کے زور پر یہ دعویٰ کیا گیا؟ اس میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ ان تینوں کی پوری حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ یہاں قرآن کریم کے الفاظ سے جو معلوم ہوتا ہے وہ اتنا ہی ہے کہ وہ کوئی انسان ہی تھا، جس کے پاس کتاب الہی کا علم تھا۔ اللہ تعالیٰ نے کرامت اور اعجاز کے طور پر اسے یہ قدرت دے دی کہ پلک چھپکتے میں وہ تخت لے آیا ۔ کرامت اور معجزہ نام ہی ایسے کاموں کا ہے جو ظاہری اسباب اور امور عادیہ کے یکسر خلاف ہوں۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و مشیت سے ہی ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ اس لیے نہ شخصی قوت قابل تعجب ہے اور نہ اس علم کے سراغ لگانے کی ضرورت، جس کا ذکر یہاں ہے۔ کیونکہ یہ تو اس شخص کا تعارف ہے جس کے ذریعے یہ کام ظاہری طور پر انجام پایا، ورنہ حقیقت میں تو یہ مشیت الہی ہی کی کارفرمائی ہے جو چشم زدن میں، جو چاہے، کر سکتی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام بھی اس حقیقت سے آگاہ تھے، اس لئےجب انہوں نے دیکھا کہ تخت موجود ہے تو اسے فضل ربی سے تعبیر کیا"

نوٹ: آپ کی طرف سے مافوق الاسباب مدد طلب کرنے کی نفی کے نظریے کے بیان پر یہی پوائنٹ بار بار دھرایا جاتا ہے، میں مزید اس موضوع پر اس واقعے کی تحقیق کروں گا، کیونکہ آپ کے پاس یہی ایک پوائنٹ ہے جس پر آپ عوام کو مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنا من مانی مفہوم نکالتے ہیں۔ تحقیق سے مزید بات کھل کر سامنے آئے گی۔ ان شاءاللہ
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,076
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,069
نیز پہلے بھی آپ سے "بریلویت کا اللہ تعالیٰ سے اختلاف" والے تھریڈ میں اِس پوائنٹ پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ کی تفسیر کا یہ اقتباس پیش کیا تھا جس میں اس واقعے کی معتدلانہ وضاحت موجود ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
"یہ کون شخص تھا جس نے یہ کہا؟ یہ کتاب کون سی تھی؟ اور یہ علم کیا تھا، جس کے زور پر یہ دعویٰ کیا گیا؟ اس میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ ان تینوں کی پوری حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ یہاں قرآن کریم کے الفاظ سے جو معلوم ہوتا ہے وہ اتنا ہی ہے کہ وہ کوئی انسان ہی تھا، جس کے پاس کتاب الہی کا علم تھا۔ اللہ تعالیٰ نے کرامت اور اعجاز کے طور پر اسے یہ قدرت دے دی کہ پلک چھپکتے میں وہ تخت لے آیا ۔ کرامت اور معجزہ نام ہی ایسے کاموں کا ہے جو ظاہری اسباب اور امور عادیہ کے یکسر خلاف ہوں۔ اور وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و مشیت سے ہی ظہور پذیر ہوتے ہیں۔ اس لیے نہ شخصی قوت قابل تعجب ہے اور نہ اس علم کے سراغ لگانے کی ضرورت، جس کا ذکر یہاں ہے۔ کیونکہ یہ تو اس شخص کا تعارف ہے جس کے ذریعے یہ کام ظاہری طور پر انجام پایا، ورنہ حقیقت میں تو یہ مشیت الہی ہی کی کارفرمائی ہے جو چشم زدن میں، جو چاہے، کر سکتی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام بھی اس حقیقت سے آگاہ تھے، اس لئےجب انہوں نے دیکھا کہ تخت موجود ہے تو اسے فضل ربی سے تعبیر کیا"

نوٹ: آپ کی طرف سے مافوق الاسباب مدد طلب کرنے کی نفی کے نظریے کے بیان پر یہی پوائنٹ بار بار دھرایا جاتا ہے، میں مزید اس موضوع پر اس واقعے کی تحقیق کروں گا، کیونکہ آپ کے پاس یہی ایک پوائنٹ ہے جس پر آپ عوام کو مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنا من مانی مفہوم نکالتے ہیں۔ تحقیق سے مزید بات کھل کر سامنے آئے گی۔ ان شاءاللہ
اس سلسے میں @اسحاق سلفی بھائی سے بھی وضاحت پونچھ لیتے ہیں
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,076
ری ایکشن اسکور
6,746
پوائنٹ
1,069
پہلی یہ جو کام تصوریر میں دیکھائے گئے ہیں یہ غیر شرعی ضرور ہیں حرام کے درجہ میں تو ہیں مگر عبادت نہیں۔اور رہ گئی پکارنے کی بات تو اگر پکارنا عبادت ہے تو اللہ نے ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والوں رسول اللہ کو ایسے مت پکارو جیسے ایک دوسرے کو پکارتے ہو تو اگر ترجمہ آپ کے مطابق کیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ رسول اللہ کی عبادت ایسے مت کرو جیسے ایک دوسرے کی کرتی ہو

شرک اکبر کی پہلی قسم - شرکِ دُعاء

http://forum.mohaddis.com/threads/شرک-اکبر-کی-پہلی-قسم-شرک-دعا.20819/
 
Top