• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

قیامت کی نشانیاں :

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,073
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,069

10462876_521165834677373_6165470033426964946_n.jpg


علامات قیامت :


حدیث نمبر: 85 صحیح بخاری
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "يُقْبَضُ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرُ الْجَهْلُ وَالْفِتَنُ، وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْهَرْجُ ؟ فَقَالَ: هَكَذَا بِيَدِهِ، فَحَرَّفَهَا كَأَنَّه يُرِيدُ الْقَتْلَ".

ہم سے مکی ابن ابراہیم نے بیان کیا، انہیں حنظلہ نے سالم سے خبر دی، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (ایک وقت ایسا آئے گا کہ جب) علم اٹھا لیا جائے گا۔ جہالت اور فتنے پھیل جائیں گے اور ہرج بڑھ جائے گا۔ آپ سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! ہرج سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو حرکت دے کر فرمایا اس طرح، گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے قتل مراد لیا۔
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,073
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,069
10492449_521159784677978_931071292793363832_n.jpg


علامات قیامت

حدیث نمبر:81 صحیح بخاری
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا لَا يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ، أَنْ يَقِلَّ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا، وَتَكْثُرَ النِّسَاءُ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ".

ہم سے مسدد نے بیان کیا ان سے یحییٰ نے شعبہ سے نقل کیا، وہ قتادہ سے اور قتادہ انس سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی نہیں بیان کرے گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ علامات قیامت میں سے یہ ہے کہ علم (دین) کم ہو جائے گا۔ جہل ظاہر ہو جائے گا۔ زنا بکثرت ہو گا۔ عورتیں بڑھ جائیں گی اور مرد کم ہو جائیں گے۔ حتیٰ کہ 50 عورتوں کا نگراں صرف ایک مرد رہ جائے گا۔
 
شمولیت
جولائی 06، 2014
پیغامات
164
ری ایکشن اسکور
55
پوائنٹ
75
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے ابو الغیث نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ قحطان کا ایک شخص ( بادشاہ بن کر ) نکلے گا اور لوگوں کو اپنے ڈنڈے سے ہانکے گا ۔

صحیح بخاری:7117
 
شمولیت
جولائی 06، 2014
پیغامات
164
ری ایکشن اسکور
55
پوائنٹ
75
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کوشعیب نے خبر دی ، کہا ہم سے ابوالزنادنے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی

جب تک دو عظیم جماعتیں جنگ نہ کریں گی ۔ ان دونوں جماعتوں کے درمیان بڑی خونریزی ہو گی ۔ حالانکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا
اور یہاں تک کہ بہت سے جھوٹے دجال بھیجے جائیں گے ۔ تقریباً تیس دجال ۔ ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے
اور یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے گا
اور زلزلوں کی کثرت ہو گی
اور زمانہ قریب ہو جائے گا
اور فتنے ظاہر ہو جائیں گے
اور ہرج بڑھ جائے گا اور ہرج سے مراد قتل ہے
اور یہاں تک کہ تمہارے پاس مال کی کثرت ہو جائے گی بلکہ بہہ پڑے گا اور یہاں تک کہ صاحب مال کو اس کا فکر دامن گیر ہو گا کہ اس کا صدقہ قبول کون کرے
اور یہاں تک کہ وہ پیش کرے گا لیکن جس کے سامنے پیش کرے گا وہ کہے گا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے
اور یہاں تک کہ لوگ بڑی بڑی عمارتوں پر آپس میں فخر کریں گے ۔ ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر عمارات بنائیں گے
اور یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے کی قبر سے گزرے گا اور کہے گا کہ کاش میں بھی اسی جگہ ہوتا
اور یہاں تک کہ سورج مغرب سے نکلے گا ۔ پس جب وہ اس طرح طلوع ہو گا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لے آئیں گے لیکن یہ وہ وقت ہو گا جب کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے اپنے ایمان کے ساتھ اچھے کام نہ کئے ہوں
اور قیامت اچانک اس طرح قائم ہو جائے گی کہ دو آدمیوں نے اپنے درمیان کپڑا پھیلا رکھا ہو گا اور اسے ابھی بیچ نہ پائے ہوں گے نہ لپیٹ پائے ہوں گے
اور قیامت اس طرح برپا ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ نکال کر واپس ہوا ہو گا کہ اسے کھا بھی نہ پایا ہو گا
اور قیامت اس طرح قائم ہو جائے گی کہ وہ اپنے حوض کو درست کر رہا ہو گا اور اس میں سے پانی بھی نہ پیا ہو گا
اور قیامت اس طرح قائم ہو جائے گی کہ اس نے اپنا لقمہ منہ کی طرف اٹھایا ہو گا اور ابھی اسے کھایا بھی نہ ہو گا ۔

صحیح بخاری - 7121
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,073
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,069
10351902_673495882718684_5725707413259160363_n.jpg


رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

رات اور دن اس وقت تک باقی رہیں گے (یعنی قیامت نہیں آئے گی) یہاں تک کہ جہجاہ نامی ایک غلام بادشاہت کرے گا


صحيح الجامع (الألباني) : 7684 ، ،
ترمذي : 2228)
( مسند أحمد : 16/156 ، ،)
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,073
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,069
10612885_579210415524317_629894728615611854_n.jpg



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قیامت کی نشانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"""" مساجد میں خوب تزئین وآرائش ہوگی """

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے اونچی اونچی مسجدیں بنا نے کا حکم نہیں دیا گیا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ تم مسجدوں کو اسی طرح آراستہ کرو گے جس طرح یہودونصاری نے (اپنے اپنے معبودوں کو) آراستہ کیا ہے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas:
I was not commanded to build high mosques. Ibn Abbas said: You will certainly adorn them as the Jews and Christians did.


سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 445

معلوم ہوا کہ قیامت کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ مساجد کو خوب مزین کیا جائے گا اور پھر اس پر فخر وتکبر کا بھی مظاہرہ کیا جائے گا۔ یہ نشانی بھی عرصہ دراز سے ظاہر ہو چکی ہے۔ سب سے پہلے خلیفہ ولید بن عبدالملک نے اپنی ذاتی خواہش سے مسجد نبوی میں آرائش وزیبائش کا کام کرایا تھا، اس کے بعد تاحال اس کام میں شدت آتی جا رہی ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ مساجد میں تزئین وآرائش کا کام خلاف سنت اور ناجائز ہے۔ اہل علم نے اسکا سبب یہ بیان کیا کہ مساجد میں بیل بوٹوں اور آرائش کے کام کے باعث نمازی کی توجہ اللہ پاک سے ہٹ جاتی ہے، اس لیے اس سے روک دیا گیا ہے۔ نیز عہد رسالت مآب اور عہد خلافت راشدہ میں مالی فروانی کے باوجود کہیں بھی مساجد میں نقش و نگار کروانے کے آثار نہیں ملتے۔
 
Top