سفر میں راہ کے آشوب سے نہ ڈر جانا
پڑے جو آک کا دریا تو پار کر جانا
یہ اک اشارہ ہے آفات ناگہانی کا
کسی جگہ سے پرندوںکا کوچ کر جانا
یہ انتقام ہے دشتِ بلا سے بادل کا
سمندروںسے برستے ہوئے گزر جانا
ہر اک نفس پہ گزرتا ہے یہ گماںجیسے
چراغ لے کے ہواؤں سے جنگ پر جانا
عجب ہیں رزم کہ زندگی کے یہ انداز
اس نے وار کیا ، جس نے بے سپر جانا
ہم اپنے عشق کی اب اور کیا شہادت دیں
ہمیںہمارے رقیبوں نے معتبر جانا
زمانہ بیت گیا ترکِ عشق کو تشنہ
مگر گیا نہ ہمارا اِھر اُدھر جانا