پلٹ آؤ
کہ خوابوں کی زمینوں پر
کسی دنیا کا شہزادہ
کئی قرنوں
کئی صدیوں سے تیری یاد کی چھاؤں میں بیٹھا ہے
اسے اذنِ حضوری دو
کہ اس کی منجمدبرخاب آنکھوں میں
خوشی کی تتلیاں اتریں
پلٹ آؤ
کہ اب بھی شہر کی گلیاں
تمہارے پاؤں کی حدت پہ مرتی
بس تمہیں آواز دیتی ہیں
دیئے
ہر آنے والے سے تمہارا پوچھتے ہیں
اور دروازے
تمہاری آہٹوں سے گم
مگر تم!
دوریوں کے شہر سے بھی دور بیٹھے ہو
جہاں آواز بھی جانے سے ڈرتی ہے
پلٹ آؤ۔