• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

متفرق اشعار

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
اس چالباز دنیا کی تیزرفتاری سے ڈر لگتا ہے
اب کسی کی خوش گفتاری سے ڈر لگتا ہے
کیا سبق دیتے پھرتے ہو اپنے ہی دوستوں کو
ان خوشیوں کی امن تابکاری سے ڈر لگتا ہے
جو بوئے تھے کل ہم نے، برباد ہو گیا آج سب
اپنے ہی ہاتھ کی شجرکاری سے ڈر لگتا ہے
وہ سکون کہاں سے لائیں جو بیت گئے دن
ہر راہ پر بے خبر، مارا ماری سے ڈر لگتا ہے
ماں بیٹی کی عزت کو کس کی نظر لگی
زمانے کی رسم کارا کاری سے ڈر لگتا ہے
خنجر سے لگا گھاؤ سنبھل بھی جائے گا
قاتل نظروں کی دو دھاری سے ڈر لگتا ہے
ہم نے رزق حلال کی تمنا کی تھی مگر
زمین پر بیٹھے بے کاری سے ڈر لگتا ہے
ارمان اپنے سمیٹ کر، دریا میں ڈال دیئے
خوش ہوں اب مگر دنیاداری سے ڈر لگتا ہے
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
گھر لوٹ کر پہنچے تو ایسا لگا
کچھ اپنا اپنا مگر بیگانہ سا لگا
سب بدل گئے، کوئی اپنا نہ رہا
ممتا کا پیار تھا، جو اپنا سا لگا
ماں کو اپنے لئے، وہاں تڑپتے پایا
وہی مجھے وہاں، اپنا شناسا لگا
گھر کے درو دیوار، اور میرا بچپن
گررا تھا جہاں، کچھ انجانا سا لگا
ماں کو اب کہاں، ہوش تھا وہاں
بس ایک گود کا وہ سہارا سا لگا
مجھ کو لگایا گلے، ماتھا جو چوما
تڑپ اٹھا میں، خود دیوانہ سا لگا
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
اپنے اپنے غم کو دیکھو گلے لگائے پھرتے ہیں
اچھا نہ ہوجائے زخم، کھار جمائے پھرتے ہیں
ہمارے لئے تو کچھ کہنا بھی کیسا جرم ہوگیا
وہ تو زمانے بھر میں شور مچائے پھرتے ہیں
کبھی ان سے سہمے سہمے سے رہتے تھے
اب ہمیں دیکھ کر وہ چہرہ چھپائے پھرتے ہیں
دنیا کے باد و باراں نے کچھ نہ کہنے دیا ہمیں
وہی بات ہم اپنی زبان میں دبائے پھرتے ہیں
ارمان دل میں جانے کیا کیا پوشیدہ کر رکھا ہے
چھپ چھپ کر ہم بھی آنسو بہائے پھرتے ہیں
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
میں نے کل اک جھلک زندگی کو دیکھا
وہ میری راہ میں گنگنا رہی تھی
میں نے اسے ڈھونڈا ادھر ادھر
آنکھ مچولی کھیلتی ہوئی وہ مسکرا رہی تھی
اک عرصے بعد آیا تھا میرے دل کو قرار
وہ تھپکی دے کر مجھے سلا رہی تھی
ہم دونوں کیوں تھے خفا ایک دوسرے سے
میں اسکو، وہ مجھ کا بتا رہی تھی
میں نے کہا تو نے مجھے یہ درد کیوں دیا؟
بولی میں زندگی ہوں، تجھے جینا سیکھا رہی تھی
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
کہانی درد کی میں زندگی سے کیا کہتا
یہ درد اس نے دیا ہے اسی سے کیا کہتا
گلا تو مجھ کو بھی کرنا ہے پیاس کا لیکن
جو خود ہی سوکھ گئی اس ندی سے کیا کہتا
میرے عزیز ہی مجھ کو نہ سمجھ پائے کبھی
میں اپنا حال کسی اجنبی سے کیا کہتا
اندھیری رات نے مجھ کو بہت ستایا ہے
بھلا یہ بات میں اب روشنی سے کیا کہتا
تمام شہر میں جھوٹ کا راز تھا محسن
میں اپنے غم کی حقیقت کسی سے کیا کہتا
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
نہ گلا ہے کوئی حالات سے نہ شکایتیں تیری ذات سے
خود ہی سارے ورق جدا ہوئے میری زندگی کی کتاب سے
تجھے چاہا تھا تجھے پا لیاتجھے پا کہ بھی کھو دیا
مجھے خواہشوں کی تھی آرزو میری زندگی میں عذاب تھے
میری وحشتوں کی راہ میں فقط محفلوں کے سراب تھے
کٹی عمر جن کی تلاش میں میرے رت جگوں کے وہی خواب تھے
یوں بھٹک بھٹک کے تمام عمرکبھی اثر ہی نہ ہوا
جنھیں کھو دیا تمام عمر وہ سپنے بے حساب تھے
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
یہ جو زندگی کی کتاب ہے
یہ کتاب بھی کیا کتاب ہے
کہیں اک حسین سا خواب ہے
کہیں جان لیوا عذاب ہے
کہیں آنسوؤں کی ہے داستان
کہیں مسکراہٹوں کا بیان ہے
کئی چہرے اس میں چھپے ہوئے
اک عجیب سا یہ نقاب ہے
کہیں کھو دیا کہیں پا لیا
کہیں رو لیا کہیں گا لیا
کہیں چھین لیتی ہے ہر خوشی
کہیں مہرباں بے حساب ہے
کہیں برکتوں کی ہیں بارشیں
کہیں تشنگی بے حساب ہے
یہ جو زندگی کی کتاب ہے
یہ کتاب بھی کیا کتاب ہے
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
کہو کرے گا حفاظت مری خدا مرا
رہوں جو حق پر مخالف کریں گے کیا میرا
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
جس سے بھی وفا کی وہی بے وفا نکلی
اب تو وفا والے بھی بے وفا نظر آتے ہیں
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,518
پوائنٹ
604
جدھر دیکھوں بس تو ہی تو
اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو
 
Top