ساجد تاج
فعال رکن
- شمولیت
- مارچ 09، 2011
- پیغامات
- 7,174
- ری ایکشن اسکور
- 4,518
- پوائنٹ
- 604
اس چالباز دنیا کی تیزرفتاری سے ڈر لگتا ہے
اب کسی کی خوش گفتاری سے ڈر لگتا ہے
کیا سبق دیتے پھرتے ہو اپنے ہی دوستوں کو
ان خوشیوں کی امن تابکاری سے ڈر لگتا ہے
جو بوئے تھے کل ہم نے، برباد ہو گیا آج سب
اپنے ہی ہاتھ کی شجرکاری سے ڈر لگتا ہے
وہ سکون کہاں سے لائیں جو بیت گئے دن
ہر راہ پر بے خبر، مارا ماری سے ڈر لگتا ہے
ماں بیٹی کی عزت کو کس کی نظر لگی
زمانے کی رسم کارا کاری سے ڈر لگتا ہے
خنجر سے لگا گھاؤ سنبھل بھی جائے گا
قاتل نظروں کی دو دھاری سے ڈر لگتا ہے
ہم نے رزق حلال کی تمنا کی تھی مگر
زمین پر بیٹھے بے کاری سے ڈر لگتا ہے
ارمان اپنے سمیٹ کر، دریا میں ڈال دیئے
خوش ہوں اب مگر دنیاداری سے ڈر لگتا ہے
اب کسی کی خوش گفتاری سے ڈر لگتا ہے
کیا سبق دیتے پھرتے ہو اپنے ہی دوستوں کو
ان خوشیوں کی امن تابکاری سے ڈر لگتا ہے
جو بوئے تھے کل ہم نے، برباد ہو گیا آج سب
اپنے ہی ہاتھ کی شجرکاری سے ڈر لگتا ہے
وہ سکون کہاں سے لائیں جو بیت گئے دن
ہر راہ پر بے خبر، مارا ماری سے ڈر لگتا ہے
ماں بیٹی کی عزت کو کس کی نظر لگی
زمانے کی رسم کارا کاری سے ڈر لگتا ہے
خنجر سے لگا گھاؤ سنبھل بھی جائے گا
قاتل نظروں کی دو دھاری سے ڈر لگتا ہے
ہم نے رزق حلال کی تمنا کی تھی مگر
زمین پر بیٹھے بے کاری سے ڈر لگتا ہے
ارمان اپنے سمیٹ کر، دریا میں ڈال دیئے
خوش ہوں اب مگر دنیاداری سے ڈر لگتا ہے