الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
یہ دشتِ ہجر، یہ وحشت یہ شام کے سائے
خدا یہ وقت تری آنکھ کو نہ دکھلائے
اسی کے نام سے لفظوں میں چاند اترے ہیں
وہ ایک شخص کہ دیکھوں تو آنکھ بھر آئے
امجد اسلام امجد
کسی آنکھ کو صدا دو ، کسی زلف کو پکارو
بڑی دھوپ پڑ رھی ھے کوئی سائباں نہیں ھے
انہی پتھروں پہ چل کے اگر آ سکو تو آؤ
میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ھے
کیا میں بھی پریشانیِ خاطر سے قریں تھا
آنکھیں تو کہیں تھیں دلِ غم دیدہ کہیں تھا
کس رات نظر کی ہے سوۓ چشمکِ انجم
آنکھوں کے تلے اپنے تو وہ ماہ جبیں تھا
نام آج کوئی یاں نہیں لیتا ہے انہوں کا
جن لوگوں کے کل ملک یہ سب زیرِ نگیں تھا
میر
کسی کی آنکھ سے سپنے چرا کر کچھ نہیں ملتا
منڈیروں سے چراغوں کو بجھا کر کچھ نہیں ملتا
یہ اچھا ھے کہ آپس کے بھرم نہ ٹوٹنے پایئں
کبھی بھی دوستوں کو آزما کر کچھ نہیں ملتا