• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انٹرویو محترم محمد فیض الابرار

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
17۔خود كو بہادر سمجھتے ہیں ؟ کن چیزوں سے ڈرتے ہیں ؟(ابتسامہ)
سچ تو یہ ہے کہ میں بہادر نہیں ہوں وقت کے ساتھ یہ بہادری ختم ہوتی جا رہی ہے
کراچی کے قتل و غارتگری کے حالات نے ہمیں ایک عجیب سے نفسیاتی خوف و دہشت میں مبتلا کر رکھا ہے اور بالخصوص دین کا ایک طالب علم ہونے کے ناطے اور شاید اس لیے کہ تاریخ کا طالب علم ہوں تو کبھار کبھار اپنی تحقیق کے مطابق حقائق کو برسر منبر بھی بیان کر دیتا ہوں لیکن پھر بعد میں ڈرتے رہتے ہیں کہ کئی مرتبہ دھمکیاں بھی ملی اور اپنی تحریروں پر بھی کئی مرتبہ دھمکیاں ملی جیسا کہ اس تحریر تو ریکارڈ دھمکیاں ملی جو حیات سید نا یزید رحمہ اللہ کے نام سے میں نے ایک مضمون لکھا تھا
البتہ ایک مرتبہ میں اآزادکشمیر اپنے گاوں بھمبھر جا رہا تھا وہاں مغرب کے بعد گاڑیاں بند ہو جاتی ہیں اور میں کچھ تاخیر سے پہنچا تھا اور اس علاقے میں لگڑبگھے بہت زیادہ پائے جاتے ہیں اور ان کی ہنسی گو کہ انسانی ہنسی سے مشابہت رکھتی ہے لیکن رگوں میں خوف دوڑا دینے والی ہنسی ہوتی ہے اور جس سڑک پر میرا سفر تھا وہ تقریبا چار کلو میٹر طویل تھی اور دونوں اطراف زیادہ تر گھنے درخت تھے رات گیارہ بجے جب پہنچا تو کوئی یقین نہیں کر رہا تھا کہ میں اس علاقے سے گزر کر کس طرح پہنچا۔
اور اب ڈر لگتا ہے اپنے قلیل علم سے کہ اس پر مکمل طور پر عمل نہیں ہو رہا بس اب کسی اور چیز سے ڈر نہیں لگتا سوائے جوابدہی کےاحساس سے کہ کیا ہو گا
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
18۔ کسی کے ساتھ پہلی مُلاقات میں آپ سامنے والے میں کیا ملاحظہ کرتے ہیں ؟ علماء اور بڑی شخصیات سے بھی ملتے رہتے ہوں گے ، چند ایسی ملاقاتوں کا تذکرہ کریں جو آپ کے لیے یادگار ہوں ۔
وقت کے ساتھ یہ سب کچھ بدلتا رہا جامعہ ابی بکر کے ابتدائی زمانے میں تو جامعہ سے چھٹی کے بعد جب گھر پہنچتے تھے تو جیسے دین کے ساتھ تعلق برائے نام ہی رہ جاتا تھا اور جامعہ میں پھر مسلمان سے ہو جاتے تھے تو اس زمانے میں ظاہر بہت اچھا لگا کرتا تھا اور یہ ظاہر دنیاداری کی بنیاد پر ہوا کرتا تھا لیکن پھر ایک مرتبہ ایک حادثہ ہوا جس کے بعد سوچ بدلنا شروع ہوئی تو اب بھی ظاہر پر ہی توجہ جاتی ہے لیکن یہ ظاہر دینداری کی بنیاد پر ہے لیکن ایک بات کا جائزہ لیتا ہوں کہ اٹھنے بیٹھنے، بات چیت کے آداب کیا ہیں؟
علماء اور کبار شخصیات تو دنیاوی اور دینی دونوں اعتبارات سے ہی شامل ہیں دنیاوی اعتبار سے مدینہ منورہ کے پاکستان ہاوس میں حج کمیشن میں عارضی طور پر جاب کرتا تھا تو اس دوران میاں نواز شریف اور شہباز شریف اور ان کی فیملی کے ساتھ کچھ وقت گزرا ایک بات جو مجھے ان بھائیوں میں اچھی لگتی تھی ابھی بھی ہو گی والدین کا احترام میں اپنی مثال آپ ہیں ، قائم علی شاہ سندھ کے وزیر اعلی جب بھی مدینہ آتے تھے تو پاکستان ہاوس کے ایک ایک ملازم کا نام لے کر پوچھنا اور ذاتی طور پر ملازمین کی مدد کرنا، راجہ ظفر الحق ،اور ہاں ڈاکٹر عبدالقدیر حفظہ اللہ محسن پاکستان سے ملاقات مسجد نبوی میں ہوئی تھی آج تک یاد ہے بااخلاق اور منکسر المزاج ہیں
اور دینی شخصیات کی بات ہے تو پاکستان کی حد تک میاں فضل حق کو اپنے گھر آتے جاتے دیکھا بہت چھوٹا تھا نانا ابو رحمہ اللہ سے ملنے آیا کرتے تھے اور بھی کئی نام ہیں ایک علاقے کے ایک علمی مرکز کی مسوولیت کے دوران حافظ سعید صاحب، ذکی الرحمن لکھوی، سیف اللہ قصوری اور سیف اللہ رحمہ اللہ بھائی حافظ عبدالواحد کشمیری حفظہ اللہ سے ملاقاتیں رہی بلکہ آخر الذکر کے ساتھ تو کشمیر میں طویل عرصے کام بھی کیا اور چونکہ شعبہ تعلیم کے ساتھ تعلق رہا تو پروفیسر ظفر اقبال اور قاری محمد یعقوب شیخ کی تعریفیں تو آج بھی بے اختیار کرنے کو دل چاہتا ہے قاری محمد یعقوب شیخ کے ساتھ تو جامعہ اسلامیہ میں معاصرت بھی رہی میرا آخری سال تھا اور ان کا پہلا سال۔ اللہ انہیں اپنی امان اور عافیت میں رکھے آمین
اور حقیقی طور تو کبار سے ملاقاتیں سعودی عرب میں ہوئی شیخ ابن باز رحمہ اللہ ، شیخ محمد صالح العثیمین رحمہ اللہ گاہ بگاہ استفادہ کرتا رہا اور ان علماء کے اخلاق اور علم نے دین کی طرف بدلنے میں مدد دی بالخصوص شیخ العثیمین رحمہ اللہ میری معلومات کی حد تک تو جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کے بعد دنیائے علم کی دوسری ہستی ہے جس کو علوم اسلامیہ کے ہر فن، ہر مجال میں علمی جہود پائی جاتی ہیں آپ جس فن کا بھی نام لیں اس میں شیخ رحمہ اللہ کی تصنیف یا تالیف یا محاضرات مل جائیں گے اور منکسر المزاجی تو اللہ اکبر کبیرا میرا رواں رواں ان کے لہیے دعاگو ہے اور مدینہ میں شیخ حماد انصاری رحمہ اللہ اور شیخ عبدالمحسن العباد، شیخ عمر فلاتہ، شیخ شنقیطی وغیرہم سے استفادہ آج بھی ذہن میں ترو تازہ ہیں یوں لگتا ہے جیسے کل کی ہی تو بات ہے
اور واقعات شروع کروں گا تو یہ سطور کم محسوس ہوں گی کیونکہ ان صدیقین، شہداء اور صالحین سے ملاقاتیں مجھے ہمیشہ حسن اولئک رفیقا کی امید دلاتی رہتی ہیں میں ان سب سے اللہ کے لیے محبت کرتا ہوں اور ہم سب کو کرنی چاہیے البتہ جتنا استفادہ کرنا چاہیے تھا وہ نہیں کر سکے آج تک تشنگی ہے
یہ بطور مثال ہی چند کا ذکر کیا ہے ورنہ ایک طویل فہرست ہے
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
19۔ بعض طالب علموں میں علماء عصر پر تنقید کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے ، اس حوالے سے کچھ کہنا چاہیں گے ۔؟
علماء پر تنقید اب ایک فیشن بن گئی ہے میں اس کے حق میں نہیں ہوں اور اس امر کا اہتمام کیا جائے کہ عامۃ الناس کے درمیان تو یہ باتیں بالکل بھی نہیں ہونی چاہیے اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہمارے علماء معصوم عن الخطا ہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان پر تنقید شروع کر دی جائے اور المیہ تو یہ ہے کہ تنقید کرنے کے آداب سے ناواقف لوگ ہی سب سے بڑھ کر تنقید کرتے ہیں اور معذرت کے ساتھ اس میں کچھ ہاتھ ہمارے کچھ علماء کا بھی ہے جنہوں نے اسماء الرجال اور جرح و تعدیل کے قواعد کو عصر حاضر کے علماء پر منطبق کرنا شروع کر دیا تھا اور یہ کلام بدقسمتی سے عام لوگوں اور طالب علموں کی سماعت تک بھی پہنچ گیا پھر اس کے بعد تو سب ہی امام فی جرح و تعدیل بن جاتے ہیں اور اس طرح تبصرہ کیا جاتا ہے جیسے خود غلطیوں سے مبرا ہوں
اس کا سب سے بڑا نقصان تو یہ ہوتا ہے عام لوگوں کے اذہان میں علماء کا احترام ختم ہو جاتا ہے پھر ان کی باتیں بھی قابل غور نہیں رہتی
میں خود بھی اس کا شکار رہا ہوں لیکن اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ احساس آ تا جا رہا ہے کہ ہمیں اس امر کا مکلف ہی نہیں کیا گیا کہ تنقید کرتے پھریں بلکہ ہمیں تو حسنات کی طرف دیکھنا چاہیے اور اخطاء اور سیئات کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے حساب کتاب جس کا کام ہے وہاں یہ کام رائی برابر دانہ بھی زیادتی نہیں ہو گی۔
البتہ علماء کے مابین باہمی مجالس میں علمی طور پر کسی شخصیت کا تجزیہ کیا جائے اور وہ بھی مثبت انداز میں تو کوئی حرج نہیں تاکہ جن خامیوں کے ارتکاب کیا گیا ہے اس سے بچا جا سکے لیکن عامۃ الناس تک یہ باتیں کسی بھی طور نہیں پہنچنی چاہیے
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
20۔اِس پُرفتن دور میں دُنیا کے مجموعی حالات کو دیکھ کر آپ کیا سوچتے ہیں؟
اس پر فتن دور میں دنیا کے احوال تو ہم سے پکار پکار کر یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اپنی اصل کی طرف لوٹنا چاہیے اور ہماری اصلاح بھی انہی امور میں ہے جس میں ہمارے اسلاف کی اصلاح تھی کیونکہ یہود اور آباء الیہود اپنی ذریت کے ہمراہ عالم اسلام پر چہار اطراف سے یلغار کر چکا ہے اور وہ اپنے تئیں اسے حتمی معرکہ آرائی کی طرف ہی لے جا رہے ہیں اور کچھ قرائن و شواہد اس طرف اشارہ بھی کر ہے ہیں بالخصوص شام اور عراق کے حالات اور پھر عظیم اسرائیل کا ھدف حاصل کرنے کے حوالے سے ہمیں کتاب و سنت کے ساتھ تمسک و اعتصام اور زیادہ مضبوطی کے ساتھ کرنا چاہیے کیوں کہ احادیث میں بھی ہے کہ تمسک و اعتصام قرآن مجید کے ساتھ ہونا چاہیے جیسا کہ الکتاب حبل اللہ المتین ۔۔ یا حبل اللہ المدود من السماء الی الارض ۔۔ یا قرآن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ طرفہ بید اللہ و طرفہ بایدیکم فتمسکوا بہ الخ اور ترکت فیکم امرین ۔۔۔ الخ
ہمارے کاندھوں پر بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو صرف قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے پر لگا دیں اور اس حوالے سے ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ بے مثال کام کر کے گئے ہیں اور اب ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظہا اللہ وغیرہ جیسے لوگوں کے لیے دعا بھی کی جائے اور جو جس حیثیت سے اس میں حصہ لے سکتا ہے وہ حصہ لے کیونکہ ان فتن کی لپیٹ میں صرف خطا کار ہی نہیں آئیں گے بلکہ ۔۔۔ اس سے آگے کچھ لکھتے ہوئے ہی خوف آتا ہے اللہ ہم سب کو اپنی امان و عافیت میں رکھے آمین
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
21-محدث فورم کے وہ کون سے اراكين ہیں ، جن کی تحاریر سے آپ متاثر ہوئے يا علمی فائدہ محسوس ہوا ؟
بہت سے ساتھی ہیں نعیم یونس بھائی ہیں عامر یونس بھائی ہیں ارسلان بھائی ہیں جن کی ہر پوسٹ ہمیں علمی فائدہ دیتی ہے اور بالخصوص شیخ انس کے علمی نکات اورابو الحسن علوی بھائی اور خضر حیات بھائی کی علمی گفتگو ۔اور ایک بہن کا نام مجھے ابھی یاد آیا غالبا نسرین فاطمہ جو حیدرآباد سے ہیں ان کے انٹرویو سے مجھ بہت فائدہ ہوا تھا اور اس کے علاوہ موقع کی مناسبت سے اس کے علاوہ بہت سے ساتھیوں کی تحریروں سے مستفید ہوا
اور کچھ امور میں محمد علی جواد بھائی اور ٹی کے ایچ وغیرہ کے کچھ سوالات جن کا تعلق ہماری تاریخ سے ہوتا ہے مجھے سوچنے اور سمجھنے کے نئے زاویے مل جاتے ہیں
میرے ابی جی رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ سیکھنے والی سوچ اور فکر ہونی چاہیے بندہ ہر چیز سے کچھ سیکھ سکتا اور حاصل کر سکتا ہے
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
22۔مستقبل میں ایسا کیا کرنا چاہتے ہیں ، جو ابھی تک نہیں کیا؟ہمیں بھی اس سے آگاہ کیجئے ہوسکتا ہے آپ کو محدث فورم سے کوئی ہمنوا مل جائے ؟
ایک ایسا ادارہ قائم کیا جائے جس میں :
قرآن مجید کی تعلیمات کو عام کرنے کا اہتمام کیا جائے جس میں قدیم و جدید علوم کو کتاب و سنت کی روشنی میں تحقیقی انداز اختیار کیا جائے اور اس مجال میں ذوق کے مطابق طالب علموں کو تحریر یا تقریر کے میدان میں تیار کیا جائے
ہمارے مدارس کے طالب علم جو اپنے محدود وسائل کی بناء پر جدید عصری علوم نہیں سیکھ سکتے انہیں ضروری عصری علوم سکھائے جائیں
جس میں علوم اسلامیہ کے حوالے سے تحقیقی کام کرنے والوں کو تمام سہولیات بہم پہنچائی جائیں اور بالخصوص دو موضوعات کے حوالے سے جن کا تذکرہ میں نے سابقہ سطور میں کیا ہے یعنی اقتصاد اور سیاست وغیرہ پر کام کرنے والوں کی بطور خاص حوصلہ افزائی کی جائے
اور مجھے امید ہے اللہ تعالی کے فضل و کرم سے کہ یہ صرف خواب ہی نہیں رہیں گے بلکہ ان کی تعبیر جلد ہی دیکھنے کو مل جائے گی ان شاء اللہ العزیز
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
23۔دین اسلام کی ترقی و سربلندی کے لیے ، مسلمانوں میں کس چیز کی ضرورت محسوس کرتے ہیں؟؟
اس کا مختصر جواب تو وہی ہے جو امام مالک رحمہ اللہ نے تجویز کیا تھا:
لن یصلح آخر ھذہ الامۃ الا بما صلح بہ اولھا
یعنی امت کی اصلاح اسی منھج کے اختیار کرنے میں ہے جو صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین نے اختیار کیا تھا
اور میرے نزدیک وہ راستہ صرف اور صرف ایک تھا جسے میں اور آپ اسوۃ حسنہ کے نام سے جانتے ہیں
واضح رہے کہ اسوۃ حسنہ صرف چند امور کی اطاعت کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے اگر میں یہ کہوں کہ اس کتاب کا مطالعہ بہت مفید رہے گا https://www.dropbox.com/s/05puubpmge1h636/چند-تصویریں-سیرت-کے-الپم-سے.pdf?dl=0

اور تفصیلی جواب تو وقت کا محتاج ہے لیکن گھوم پھر کر بات جہاں سے شروع ہو گی اور جہاں بھی ختم ہو گی اس کا محور امام مالک کا یہی مقولہ ہی ہے
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
24۔آپ کی نظر میں نوجوان طبقے کے لیے كون سی ضروری چیزیں ہیں جن کا خیال رکھ کر ایک مثالی مسلمان بن سکتا ہے ؟
http://magazine.mohaddis.com/shumara/229-june-2013/2568-luqman-nojawano-naseehaten
میرا خیال ہے اس تحریر کے بعد میرے پاس کچھ کہنے کو باقی نہیں رہتا وگرنہ لکھنے کو بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
25۔دین اسلام کے بیش بہا موضوعات میں سے وہ کون سا ایسا موضوع ہے ، جس کی محفل آپ کو بہت پسند آتی ہے ؟
میری دلچسپی کے تین موضوعات سے بہت زیادہ ہے
نمبر ایک کلمات قرآن مجید کے مفاہیم پر تحقیقی مشتملات
نمبر دو سیرت طیبہ پر تحقیقی کتب جن میں انطباقی پہلو کو اجاگر کیا گیا ہو جیسا کہ ریاض الصالحین اور زاد المعاد وغیرہ
نمبر تین تاریخ مسلمانان عالم بالخصوص تاریخ بنو امیہ
اور اس کے علاوہ علمی نشست کوئی بھی ہو حتی الامکان مستفید ہونے کی کوشش کرتا ہوں
 

محمد فیض الابرار

سینئر رکن
شمولیت
جنوری 25، 2012
پیغامات
3,039
ری ایکشن اسکور
1,234
پوائنٹ
402
26۔ مسلکی اختلافات کےبارے میں آپ کا نقطہ نظر کیا ہے ؟
تقابل مسالک پر میری دلچسپی بہت کم ہے شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ میں پیدائشی اہلحدیث ہوں البتہ میرے والد اور دادا ابو رحمہم اللہ کٹر بریلوی تھے اور ابی جی رحمہ اللہ کی زبانی اہلحدیث ہونے کی جو داستان سنی یقین نہیں آتا کہ کوئی مسلکانہ اختلاف پر اتنی شدت بھی دکھا سکتا ہے کہ جان دینا اور جان لینا معمولی بات سمجھا جائے ۔ ابی جی رحمہ اللہ کے سوالات اور دادا ابو رحمہ اللہ کی ماریں ، اور اس حوالے سے خاندان میں وہ انتہا پسندانہ نفرتیں دیکھیں کہ اب مسلکی اختلافات پر بحث مباحثہ کرنے سے بچتا ہوں ۔ البتہ دین کا طالب علم ہونے کے ناطے اور منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت کا بوجھ کبھی کبھار اٹھانے کا موقع ملتا ہے تو مہذبانہ انداز میں بدعات اور خرفات پر رد کرنا سے دریغ نہیں کرتا۔
میرے ابی جی رحمہ اللہ نے ایک نصیحت کی تھی کہ بیٹا جی خطبہ جمعہ میں سادہ قرآن یعنی صرف متن والا قرآن لے کر اس کا ترجمہ لوگوں کو پڑھانا شروع کر دو اور پھر اعجاز قرآن دیکھنا اور اس پر جب عمل اختیار کیا تو یقین کریں میں جہاں جمعہ پڑھاتا ہوں وہاں آدھے سے زیادہ نمازی شاید دو تہائی کہوں تو زیادہ مناسب ہے غیر اہلحدیث ااتے ہیں اور اس کی وجہ وہ یہی بیان کرتے ہیں کہ آپ قرآن مجید پر عمل کرنے کے طریقے جس انداز میں بتاتے ہیں اس میں ہمارے لیے بہت آسانی ہے ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں قرآن سمجھ میں آ رہا ہے ۔ حالانکہ میں خطیب نہیں ہوں جمعہ کے خطبے کو بھی کلاس روم بنا لیتا ہوں اور سادہ سے انداز میں اپنی باتیں کہہ دیتا ہوں ۔
اور اس حوالے سے اہم ترین بات کہ دیگر مسالک کے لوگوں کو کسی طریقہ سے قریب آنے دیا جائے ہم اس میں کامیاب ہو گئے تو سمجھ لیں مکمل کامیابی ۔ مثال کے طور پر میں جس جگہ جمعہ پڑھاتا ہوں شروع میں ایک مسئلہ بہت زیادہ اٹھتا تھا اور ابھی بھی کبھی کبھار اٹھ جاتا ہے کہ نماز کے دوران صف سیدھی کرنے کے لیے پاوں سے پاوں ملانا اب ہوتا یہ ہے کہ زیادہ تر نمازی پاوں نہیں ملاتے کیونکہ اہلحدیث نہیں ہیں اور یہ اہتمام صرف اہلحدیثوں میں پایا جاتا ہے اور جب کچھ ساتھیوں میں شروع میں اس امر میں سختی شروع کی تو ان نمازیوں نے آنا چھوڑ دیا ان میں سے کچھ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ یہ وجہ بنی ہے ہمارے نہ آنے کی تو پھر میں نے مسجد کے مستقل اہلحدیث نمازیوں کے ساتھ کچھ نشستیں کی کہ اللہ کے بندوں انہیں آنے دو پاوں نہیں ملاتے تو نہ ملائیں کم از کم قرآن و حدیث سن تو رہے ہیں اور الحمدللہ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مسجد کا ہال ، صحن اور چھت بھی نمازیوں سے بھر گئی اور اب ایسا ہے کہ بہت سے لوگ نماز حنفی طریقے سے ہی پڑھتے ہیں لیکن نذر نیاز، عید میلاد، شب برات وغیرہ جیسی بدعات ترک کر چکے ہیں اور ان میں سے تین چار تو باقاعدہ اہل حدیث ہو گئے ہیں اور ان شاء اللہ یہ سلسلہ مزید آگے چلتا رہے گا
تو ہمیں مسلکی اختلافات پر شدت آمیز رویے نہیں اختیار کرنے چاہیے کیا ضروری ہے کہ عین 10 ربیع الاول کے دن اہلحدیث مسجد کے سامنے سیرت النبی کانفرنس کی جائے اور سارے خطیب عید میلاد النبی اور مخالف مسالک کی ایسی تیسی پھیریں (معذرت ) میں نے خود کراچی میں اپنے گھر کے پاس یہ ہوتے دیکھا اگلے سال عید میلاد النبی سابقہ سال سے زیادہ اہتمام سے منایا گیا ۔ میرا خیال ہے رد ضرور کیا جائے لیکن حکمت اور تدبر سے نہ کہ ایسے انداز میں جو برائی کو مزید پھیلانے کا سبب بنے۔
اور سچ تو یہ ہے کہ موقع مناسبت کے اعتبار سے حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے کہیں جارحانہ اور کہیں حکمت آمیز
میں علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کراچی کیمپس میں کچھ ذمہ داریاں انجام دیتا ہوں تو اگر وہاں میں یہ کٹر اور انتہا پسندانہ رویے دکھاتا تو شاید نہیں یقینا وہ تمام اہلحدیث طالب علم جنہوں نے میرے دور میں پڑھا اتنی بڑی تعداد میں نہیں پڑھ سکتے تھے اپنے اصول ترک نہیں کیے اور اگلے پر جارحیت نہیں دکھائی الحمدللہ اللہ تعالی کا فضل و کرم ہوتا رہا اور ابھی بھی ہوتا ہے اور اس حوالے سے میرے بہت تجربات ہیں جن میں زیادہ تر میں مطلوبہ نتیجہ ملا سوائے چند ایک کے
 
Top