• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان '' (یاد کرو کہ) جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے۔۔۔ سخت سزا دینے والا ہے۔ ''(الانفال :۹۔۔۔ ۱۳)
(۱۶۰۰)۔ سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا مقدام بن اسودؓ کی ایک ایسی بات دیکھی کہ اگر وہ بات مجھے حاصل ہوتی تو میں اس مقابل میں کسی نیکی کو نہ سمجھتا ، وہ مجھے سب سے زیادہ پسند ہوتی۔ (ہوا یہ کہ) نبیﷺ مشرکوں پر بد دعا کر رہے تھے کہ اتنے میں مقدادؓ آن پہنچے اور عرض کی کہ یا رسول اللہ ! ہم (کبھی بھی) اس طرح نہیں کہیں گے جیسا کہ موسیٰؑ کی قوم نے ان سے کہا تھا '' تم اور تمہارا پروردگار جاؤ اور دشمنوں سے لڑو '' (سورۂ المائدہ :۲۴)بلکہ ہم تو آپ کی داہنی طرف سے اور بائیں طرف سے اور سامنے سے پیچھے کی طرف سے (دشمنوں کے مقابل) لڑیں گے۔ میں نے دیکھا کہ (یہ بات سن کر) نبیﷺ کا چہرہ مبارک چمکنے لگا اور آپﷺ خوش ہو گئے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ غزوۂ بدر میں شریک مسلمانوں کی تعداد۔
(۱۶۰۱)۔ سیدنا براءؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے نبیﷺ کے اصحاب نے بیان کیا جو کہ بدر میں موجود تھے کہ ان کی تعداد اتنی ہی تھی جتنی طالوت (بادشاہ) کے ساتھ والوں کی تھی ، جو ان کے ساتھ نہر پار کر گئے تھے اور وہ تین سو دس سے کچھ اوپر آدمی تھے۔ سیدنا براءؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! سوائے مومن (لوگوں) کے کوئی ان کے ساتھ دریا پار نہ جا سکا۔ (دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت :۲۴۹)
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ ابوجہل کے قتل کا بیان۔
(۱۶۰۲)۔ سیدنا انسؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے (بدر کے دن) فرمایا :'' کون ابوجہل کو دیکھ کر خبر لائے گا ؟ تو سیدنا ابن مسعودؓ چلے تو اسے (اس حال میں) پایا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے اتنا مارا ہے کہ یہ ٹھنڈا ہو رہا ہے ، سیدنا ابن مسعودؓ نے کہا کہ کیا تو ہی ابو جہل ہے ؟ اور اس کی ڈاڑھی پکڑ لی تو اس نے کہا :'' بھلا مجھ سے بڑھ کر کون شخص ہے جسے تم نے قتل کیا یا یوں کہا کہ اس شخص سے بڑ ھ کر کون ہے جسے اس کی قوم نے قتل کیا ہو؟

(۱۶۰۳)۔ سیدنا ابو طلحہؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے بدر کے دن قریش کے چوبیس سرداروں کی لاشوں کو بدر کے کنوؤں میں سے ایک گندے اور ناپاک کنویں میں پھینکنے کا حکم دیا اور نبیﷺ جب کسی قوم پر غلبہ پاتے تو تین راتیں اسی مقام پر ٹھہرے رہتے تھے پس جب بدر میں (رہتے ہوئے) تیسرا دن تھا تو آپﷺ نے حکم دیا ، تو آپﷺ کی اونٹنی پر زین کسی گئی پھر آپﷺ چلے اور آپ کے پیچھے صحابہؓ بھی چلے وہ سمجھے کہ شاید آپﷺ کسی کام سے جا رہے ہیں ، یہاں تک کہ آپﷺ اس کنویں کی منڈیر پر کھڑے ہوئے اور انھیں (کفار قریش کو) ان کے اپنے نام اور ان کے باپوں سے کے نام سے پکارنے لگے کہ اے فلاں کے بیٹے فلاں ، اے فلاں ! کے بیٹے فلاں ! کیا اب تمہیں یہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کر لیتے ، پس بے شک ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا ، ہم نے پا لیا ، کیا تم سے بھی تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا تم نے اس سچے پایا ؟ سیدنا ابو طلحہؓ کہتے ہیں کہ پھر سیدنا عمرؓ نے کہا کہ یا رسول اللہ !ﷺ آپ ان جسموں سے باتیں کرتے ہیں جن میں روح (موجود) نہیں ہے ؟ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمدﷺ کی جان ہے ! میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اس کو تم ان (کافروں) سے زیادہ نہیں سن رہے۔ ''
فائدہ : یہ آپﷺ کا معجزہ تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا ملہ کے ساتھ درختوں کو ، دیواروں کو اور مردوں کو سنوا سکتا ہے۔ اس واقعہ سے مسئلہ سماع موتٰی ثابت کرنا زیادتی ہے۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ غزوۂ بدر میں فرشتوں کا حاضر ہونا۔
(۱۶۰۴)۔ سیدنا رفاعہ بن رافع زرقیؓ جو کہ جنگ بدر میں شریک تھے ، کہتے ہیں کہ جبریلؑ نبیﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ آپ بدر(لڑنے) والوں کو اپنے درمیان کیسا سمجھتے ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا :'' سب مسلمانوں میں افضل (سمجھتا ہوں)۔ '' یا اسی طرح کی کوئی اور بات کہی تو جبریلؑ نے کہا کہ اسی طرح جو فرشتے جنگ بدر میں حاضر ہوئے تھے (وہ بھی تمام فرشتوں میں افضل ہیں)۔

(۱۶۰۵)۔ سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبیﷺ کے غزوۂ بدر کے دن فرمایا :'' یہ جبریلؑ اپنے گھوڑے کا سرتھا مے ہوئے اور لڑائی کے ہتھیار لگائے ہوئے (آئے) ہیں۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
((باب))
(۱۶۰۶)۔ سیدنا زبیرؓ کہتے ہیں کہ میں جنگ بدر کے دن عبیدہ بن سعید بن عاص سے ملا اور وہ ہتھیاروں میں اس طرح غرق تھا کہ اس کی صرف دونوں آنکھیں نظر آ رہی تھیں اور اس کی کنیت ابو ذات الکرش تھی، پس اس نے کہا کہ میں ابو ذات لکرش ہوں ، میں نے اس پر اپنے نیزے سے حملہ کیا ، اس کی آنکھ پر (نیزہ) مارا تو وہ مر گیا۔ (سیدنا زبیرؓ) کہتے ہیں کہ جب وہ مر گیا تو میں نے اپنا پاؤں اس کی لاش پر رکھا اور دونوں ہاتھ لمبے کر کے بہت مشکل سے وہ نیزہ اس کی آنکھ سے نکالا ، اس کے دونوں کنارے ٹیڑھے ہو گئے تھے ، پس یہ نیزہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے مانگا تو میں نے آپﷺ کو دیدیا ، پھر جب رسول اللہﷺ کی وفات ہو گئی تو میں نے (پھر) لے لیا۔ پھر سیدنا ابوبکرؓ نے مجھ سے وہ نیزہ مانگا تو میں نے انھیں دے دیا۔ پھر جب سیدنا ابو بکرؓ کی وفات ہو گئی تو سیدنا عمرؓ نے مانگا ، میں نے انھیں دے دیا پھر سیدنا عمرؓ کی شہادت واقع ہوئی تو میں نے لے لیا۔ پھر سیدنا عثمانؓ نے مانگا تو میں نے انھیں دے دیا۔ پھر جب سیدنا عثمانؓ شہید کیے گئے تو وہ سیدنا علیؓ (اور ان) کی اولاد کے پاس رہا۔ آخر میں سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ نے ان سے مانگ لیا اور وہ ان کے پاس رہا یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے۔

(۱۶۰۷)۔ سیدہ ربیع معوذؓ کہتی ہیں کہ نبیﷺ میری شادی سے اگلے روز (یعنی عروسی کے روز) صبح میرے پاس تشریف لائے ، کچھ لڑکیاں اس وقت دف بجا رہی تھیں اور بدر کے دن ان کے جو بزرگ مارے گئے ان کی تعریفیں کر رہی تھیں۔ ایک لڑکی ان میں سے یہ کہنے لگی کہ ہم میں ایک نبی (ﷺ)ہے جو جانتا ہے کہ کل کیا ہو گا تو نبیﷺ نے فرمایا :'' اس طرح مت کہو اور پہلے جو کہہ رہی تھی وہی کہو۔ ''

(۱۶۰۸)۔ سیدنا ابو طلحہؓ سے جو کہ جنگ بدر میں رسول اللہﷺ کے ساتھ حاضر تھے ، روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا :'' (رحمت کے) فرشتے اس گھر میں نہیں جاتے جہاں کتا اور (جانداروں) کی تصویریں ہوں۔ ''

(۱۶۰۹)۔ سیدنا عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ جب ام المومنین حفصہ بنت عمرؓ بیوہ ہو گئیں ، ان کے خاوند خنیس بن حذافہ سہمیؓ جو رسول اللہﷺ کے صحابی تھے اور جنگ بدر میں بھی شریک تھے ، مدینہ میں فوت ہو گئے تو سیدنا عمرؓ نے کہا کہ سیدنا عثمان بن عفانؓ سے ملا اور ان کے سامنے حفصہ (رضی اللہ عنہ) کا ذکر کیا اور کہا کہ (وہ بیوہ ہیں) اگر تم چاہو تو میں ان کا نکاح تم سے کر دوں ؟ تو انہوں نے کہا کہ میں سوچ کر بتاؤں گا ، پس میں کئی راتوں تک ٹھہرا رہا۔ پھر (ان سے ملا تو) انھوں نے کہا کہ ابھی میں یہی مناسب سمجھتا ہوں کہ ان دنوں (دوسرا) نکاح نہ کروں۔ پھر میں سیدنا ابو بکرؓ سے ملااور کہا کہ اگر تم چاہو تو میں حفصہ (رضی اللہ عنہ) کا نکاح تم سے کر دوں ؟ تو سیدنا ابوبکرؓ خاموش رہے اور مجھے کچھ جواب نہ دیا تو مجھے ان پر سیدنا عثمانؓ سے بھی زیادہ غصہ آیا ، میں اور کئی راتیں ٹھہرا رہا ، پھر نبیﷺ نے حفصہؓ کو نکاح کا پیغام بھیجا تو میں نے ان کا نکاح نبیﷺ سے کر دیا۔ اس کے بعدسیدنا ابو بکرؓ مجھے ملے تو کہا کہ شاید تمہیں غصہ آیا ہو گا۔ جب تم نے مجھ سے حفصہؓ کا ذکر کیا تھا اور میں نے تمہیں کچھ جواب نہ دیا تھا ؟ میں نے کہا کہ ہاں (آیا) تھا۔ انھوں نے کہا کہ بات یہ ہے کہ میں نے تم کو جواب نہ دیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہﷺ نے مجھ سے حفصہؓ کا ذکر کیا تھا (کہ کیا میں اس سے نکاح کر لوں) اور میں رسول اللہﷺ کا راز فاش نہیں کر سکتا تھا اگر نبیﷺ ان سے نکاح کرنے کا ارادہ چھوڑ دیتے تو بے شک میں ان سے نکاح کر لیتا۔

(۱۶۱۰)۔ سیدنا ابو مسعود البدریؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' جو کوئی رات کو سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات پڑھ لے وہ اسے کافی ہو جاتی ہیں۔ ''

(۱۶۱۱)۔ سیدنا مقداد بن عمر وکندیؓ جو کہ بنی زہرہ کے حلیف تھے اور غزوۂ بدر میں بھی شریک تھے ، کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے کہا کہ آپ اس بارہ میں کیا کہتے ہیں کہ اگر میں (جنگ میں) ایک کافر سے ملوں اور ہم دونوں ایک دوسرے کو قتل کرنے کے درپے ہو جائیں ، تو وہ (کافر) میرے ایک ہاتھ پر تلور مارے اور اسے کاٹ ڈالے ، پھر وہ ایک درخت کی پناہ لے کر کہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا تابع فرمان (مسلمان) ہو گیا تو کیا میں اس کے یوں کہنے کے بعد اسے قتل کر ڈالوں ؟ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' نہیں اسے قتل نہ کرو۔ '' میں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! بے شک اس نے میرا ایک ہاتھ (بھی) کاٹ ڈالا اور کاٹنے کے بعد ایسا کہنے لگا (کہ مسلمان ہو گیا)۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' نہیں اس کو قتل مت کرو ورنہ بیشک اسے وہ درجہ حاصل ہو جائے گا جو تجھے اس کے قتل کرنے سے پہلے حاصل تھا اور تیرا وہ حال ہو جائے گا جو اسلام کا کلمہ پڑھنے سے پہلے اس (کافر) کا حال تھا۔ ''

(۱۶۱۲)۔ سیدنا جبیر بن مطعمؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے بدر کے قیدیوں کے بارہ میں فرمایا :'' اگر آج مطعم بن عدی زندہ ہو تا اور ان ناپاک لوگوں کی سفارش کرتا تو میں اس کے کہنے پر انھیں چھوڑ دیتا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ بنی نضیر کے یہودیوں کا قصہ اور ان کا نبیﷺ کا ساتھ دھوکا کرنے کا بیان۔
(۱۶۱۳)۔ سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ نبیﷺ سے بنی نضیر اور بنی قریظہ نے (خلاف معاہدہ) لڑائی کی۔ آپﷺ نے بنی نضیر کو جلا وطن کر دیا اور بنی قریظہ پر احسان کر کے رہنے دیا۔ جب قریظہ نے مسلمانوں پر (دوبارہ) چڑھائی کی تب آپﷺ نے ان کے مردوں کو مار ڈالا اور ان کی عورتوں ، بچوں اور مال کو مسلمانوں میں تقسیم کر دیا مگر کچھ نبیﷺ کے مطیع ہو گئے۔ آپﷺ نے انھیں امن دیا ، وہ مسلمان ہو گئے ، پھر تمام یہودی مدینہ بنی قینقاع کو جو سیدنا عبداللہ بن سلامؓ کی قوم کے تھے اور یہود بنی حارثہ اور باقی یہود مدینہ (سب کو) جلا وطن کر دیا۔

(۱۶۱۴)۔ سیدنا ابن عمرؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہﷺ نے بنی نضیر کے درخت جلا دیے اور (بعضے) کاٹ دیے جو کہ بویرہ میں تھے تو یہ آیت اتری :
'' جو درخت تم نے کاٹ دیئے یا انھیں ان کی جڑوں پر قائم رہنے دیا ، یہ سب اللہ کے حکم سے ہے۔۔۔۔ ''(سورۃ الحشر :۵)

(۱۶۱۵)۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہﷺ کی ازواج مطہرات نے سیدنا عثمانؓ کو سیدنا ابو بکرؓ صدیق کے پاس اپنا آٹھواں حصہ مال غنیمت میں سے مانگنے کو بھیجا۔ میں ان کو منع کرتی تھی اور کہتی تھی کہ کیا تمہیں اللہ کا ڈر نہیں ہے ؟ کیا تمہیں نبیﷺ کا یہ قول معلوم نہیں ہے کہ ہمارے مال کا کوئی وارث نہیں ، جو کچھ ہم چھوڑیں ، وہ صدقہ ہے۔ اس سے اپنی ذات مراد تھی ، صرف آل محمد (ﷺ) اس مال میں سے کھا لے۔ پھر سب ازواج نبیﷺ میرے کہنے سے (اس حصہ کو طلب کرنے سے) رک گئیں۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ یہودی کعب ابن اشرف کے قتل کا بیان۔
(۱۶۱۶)۔ سیدنا جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :'' کعب بن اشرف(کے قتل) کا کون ذمہ لیتا ہے ، اس نے اللہ اور اس کے رسولﷺ کو بڑی تکلیف دی ہے ؟ سیدنا محمد بن مسلمہؓ نے کھڑے ہو کر کہا کہ کیا آپ کو پسند ہے کہ اسے مار ڈالوں۔ آپﷺ نے فرمایا :'' ہاں۔ '' تو انھوں نے عرض کی کہ مجھے اجازت دیجیے تا کہ میں کچھ بات بتاؤں۔ آپﷺ نے فرمایا :'' تجھے اختیار ہے۔ '' چنانچہ سیدنا محمد بن مسلمہؓ اس کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ اس شخص (یعنی محمدﷺ) نے ہم سے صدقہ مانگا ہے اور ہمیں ستا رکھا ہے ، میں تجھ سے کچھ قرض لینے آیا ہوں۔ کعب نے کہا کہ ابھی کیا ہے۔ اللہ کی قسم! آگے چل کر تم کو بہت تکلیف ہو گی۔ وہ بولے کہ خیر اب تو ہم اس کا اتباع کر چکے ، اب ایک دم چھوڑنا تو اچھا نہیں لگتا ، مگر دیکھ رہے ہیں کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ خیر میں تیرے پاس ایک وسق یادووسق قرض لینے آیا ہوں۔ کعب بن اشرف نے کہا کہ میرے پاس کچھ گروی رکھ دو۔ انھوں نے کہا کہ تم کیا چیز گروی رکھنا چاہتے ہو ؟ کعب نے کہا تم میرے پاس اپنی عورتوں کو گروی رکھ دو۔ انھوں نے جواب دیا ہم تیرے پاس عورتوں کو کیسے رکھ دیں ؟ کیونکہ تو عربوں میں بے انتہا خوبصورت ہے۔ کعب بولا کہ اپنے بیٹوں کو میرے پاس گروی رکھ دو۔ وہ بولے بھلا ہم انھیں کیونکر گروی رکھ دیں ؟ جو ان سے لڑے گا یہ طعنہ دے گا تو ایک وسق یا دووسق پر گروی رکھا گیا تھا اور یہ ہم پر عار ہے لیکن ، ہم تیرے پاس ہتھیار رکھ دیں گے۔ پس انھوں نے کعب سے دوبارہ ملنے کا وعدہ کیا اور رات کے وقت کعب کے پاس آئے اور اپنے ہمراہ بونا ئلہ ، کعب کے دودھ شریک بھائی کو لے آئے۔ کعب نے انھیں قلعہ کے پاس بلا لیا اور خود قلعہ سے نیچے اتر کر ان کے پاس آنے لگا۔ اس کی بیوی نے پوچھا کہ تم اس وقت کہا ں جا رہے ہو؟ کعب نے جواب دیا کہ محمد بن مسلمہ(رضی اللہ عنہ)اور میرا بھائی ابونائلہ مجھے بلا رہے ہیں (ڈرنے کی کوئی بات نہیں)عورت بولی کہ اس آواز سے تو گویا خون ٹپک رہا ہے۔ کعب نے کہا یہ صرف میرا دوست محمد بن سلمہ(رضی اللہ عنہ)اور میرا دودھ شریک بھائی ابو نائلہ ہے اور شریف آدمی کو تو اگر رات کے وقت نیزہ مارنے کے لئے بلایا جائے تو فوراً منظور کر لے۔ ادھر محمد بن مسلمہ (رضی اللہ عنہ)دو اور آدمیوں کو ساتھ لائے تھے۔ (ابوعمرو کی روایت کے علاوہ دوسری روایت میں ہے کہ وہ)ابوعبس بن جبر اور حارث بن اوس اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہم تھے۔ (عمرو) کہتے ہیں کہ جن دو آدمیوں کو وہ ساتھ لائے تھے ان سے کہہ دیا تھا کہ جب کعب بن اشرف آئے گا تو میں اس کے بال پکڑ کر سونگھوں گا ،جب تم دیکھو کہ میں نے اس کے سر کو مضبوطی سے پکڑ لیا ہے تو تم جلد ی سے اسے مار دینا۔ (ایک دفعہ راوی عمرو نے)کہا کہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں تمہیں سونگھاؤں گا۔ جب کعب ان کے پاس چادر سے سر لپیٹے ہوئی آیا اور خوشبو کی مہک اس میں پھیل رہی تھی،تب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے آج کی خوشبو سے اچھی کبھی کوئی خوشبو نہیں دیکھی۔ کعب نے جواب دیا کہ میرے پاس عرب کی عورتوں میں سب سے زیادہ معطر رہنے والی اور سارے عرب کی باکمال عورت ہے۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا مجھے اپنا سر سونگھنے کی اجازت دیتے ہو؟ اس نے کہا ہاں کیوں نہیں۔ محمد بن مسلمہؓ نے سونگھا اور اپنے ساتھیوں کو سنگھایا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے پھر(دوبارہ سونگھنے کی)اجازت ہے؟اس نے کہا ،ہاں ہے۔ چنانچہ جب سیدنا محمد بن مسلمہؓ نے اسے مضبوط پکڑلیا تب انھوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اس کو مارو۔ چنانچہ انھوں نے کعب بن اشرف کو مارڈالا اور رسول اللہﷺ کو اس کے قتل کی خوشخبری سنائی۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ ابو رافع یہودی عبداللہ بن ابی الحقیق کے قتل کا بیان اور بعض نے کہا کہ اس کا نام سلام بن ابی الحقیق ہے۔
(۱۶۱۷)۔ سیدنا براء بن عازبؓ کہتے ہیں۔ کہ رسول اللہﷺ نے چند انصار کو ابو رافع یہودی کے پاس بھیجا اور ان پرسیدنا عبداللہ بن عتیکؓ کو امیر بنایا اور ابو رافع رسول اللہﷺ کو سخت ایذا دینا تھا اور آپﷺ کے نقصان پر کمر بستہ رہتا تھا اور وہ اپنے اس قلعہ میں جو حجاز میں تھا ، رہتا تھا۔ جب یہ لوگ اس کے قریب پہنچے ، اس وقت سورج ڈوب چکا تھا اور لوگ اپنے مویشیوں کو شام کے وقت واپس لا چکے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عتیکؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم یہاں بیٹھو ، میں جاتا ہوں اور دربان سے مل ملا کر قلعہ کے اندر جانے کی کوئی تدبیر کرتا ہوں۔ پھر وہ قلعہ کی طرف چلے ، یہاں تک کہ دروازوں کے قریب پہنچ گئے۔ پھر اپنے آپ کو کپڑے میں اس طرح چھپایا جیسے کوئی قضائے حاجت کے لیے بیٹھتا ہے۔ قلعہ والے اندر جا چکے تھے۔ دربان نے عبداللہ کو آواز دی کہ اے اللہ کے بندے ! اگر تو اندر آنا چاہتا ہے تو آ، کیونکہ میں دروازہ بند کرتا ہوں۔ میں اندر چلا گیا۔ جب سب آ چکے ، دربان نے دروازہ بند کر کے کنجیاں کھونٹی پر لٹکا دیں۔ عبداللہؓ کہتے ہیں کہ میں نے کنجیاں لینے کا ارادہ کیا پھر انھیں لے کر دروازہ کھولا۔ ابو رافع کے پاس کہانیاں ہوا کرتی تھیں اور وہ اپنے بالا خانے پر رہتا تھا۔ جب اس کے پاس سے کہانی والے چلے گئے تو میں بالا خانے پر چڑھا۔ میں جب کوئی دروازہ کھولتا تو اندر کی جانب سے بند کر لیتا اور (اپنے دل میں کہتا کہ) اگر لوگ مجھ سے واقف بھی ہو جائیں گے تو مجھ تک ابو رافع کے مارنے سے پہلے نہ آسکیں گے۔ جب میں اس کے پاس پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ایک اندھیرے مکان میں اپنے بچوں میں سو رہا ہے۔ مجھے اس کا ٹھکانہ معلوم نہ تھا۔ میں نے ابو رافع کہہ کر آوازی دی ، اس نے جواب دیا کون ہے ؟ میں آواز کی طرف لپکا اور آواز پر تلوار کی ایک ضرب لگائی ، میرا دل دھک دھک کر رہا تھا ، وار خالی گیا اور وہ چلانے لگا۔ میں مکان سے نکل کر تھوڑی دیر بعد پھر اندر گیا اور میں نے (آواز بدل کر) کہا کہ اے ابو رافع ! یہ کیسی آواز تھی ؟ اس نے کہا کہ تیری ماں پر مصیبت پڑے ، کسی نے ابھی ابھی مجھے تلوار ماری تھی۔ یہ سنتے ہی میں نے ایک بڑا وار کیا اگرچہ اب اس کو کاری زخم آ چکا تھا۔ لیکن وہ مرا نہیں تھا آخر میں نے تلوار کی نوک اس کے پیٹ پر رکھی اور زور سے دبایا تو تلوار اس کی پیٹھ تک پہنچ گئی۔ جب مجھے یقین ہوا کہ میں نے اسے مار دیا تو پھر میں ایک ایک دروازہ کھولتا جاتا۔ سیڑھیوں پر پہنچ کر اتر رہا تھا ، میں نے سمجھا کہ اب زمین آ گئی ، چاندنی رات میں (دھم سے) نیچے گر پڑا اور میری پنڈلی ٹوٹ گئی۔ میں اسے اپنے عمامہ سے پٹی باندھ کر نکلا اور دروازہ پر یہ کہہ کر بیٹھ گیا کہ آج رات اس وقت تک نہ نکلوں گا جب تک میں یہ نہ جان لوں کہ کیا میں نے اسے قتل کر دیا ہے۔ جس وقت مرغ نے اذان دی تو اس وقت ناعی (موت کی خبر سنانے والا) دیوار پر کھڑا ہو کر کہنے لگا کہ میں ابورافع ، اہل حجاز کے سود اگر کے مرنے کی خبر سناتا ہوں۔ پھر میں نے اپنے ساتھیوں سے آ کر کہا کہ جلدی چلو ، اللہ نے ابورافع کو قتل کرا دیا ہے۔ میں نے رسول اللہﷺ سے آ کر یہ قصہ بیان کیا تو آپﷺ نے فرمایا :'' اپنا پاؤں پھیلا ؤ۔ میں نے اپنا پاؤں پھیلایا تو آپﷺ نے اس پر ہاتھ پھیرا تو وہ ایسا ہو گیا جیسے کبھی اس کی شکایت ہی نہ تھی۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ غزوۂ احد کا بیان۔
(۱۶۱۸)۔ سیدنا جابر بن عبداللہؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے احد کے دن نبیﷺ سے پوچھا کہ اگر میں (اللہ کی راہ میں) مارا جاؤں تو کہاں (جاؤں گا ؟) آپﷺ نے فرمایا :'' (تو) جنت میں (جائے گا)۔ '' اس نے اپنے ہاتھ کی کھجوریں (تک) پھینک دیں اور اتنا لڑا کہ شہید ہو گیا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ '' جب تم میں سے دو گروہوں نے ہمت ہارنا چاہی اور اللہ ان کا مدد گار تھا۔ ''
(۱۶۱۹)۔ فاتح ایران سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ میں نے غزوۂ احد میں رسول اللہﷺ کے ساتھ دو مرد دیکھے جو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے اور آپﷺ کی طرف سے خوب لڑ رہے تھے۔ میں نے ان کو کبھی نہیں دیکھا نہ اس سے پہلے نہ اس کے بعد۔

(۱۶۲۰)۔ فاتح ایران سیدنا سعدبن ابی وقاصؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے احد کی دن اپنے ترکش سے تیر نکال کر میرے سامنے رکھے اور فرمایا :''(اے سعدؓ) تیر چلا تجھ پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔ ''
 
Top