• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری - زین العابدین احمد بن عبداللطیف - حصہ سوم (یونیکوڈ)

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اللہ تعا لیٰ کا قول'' جب تم کھانا کھا چکوتو نکل کھڑے ہو۔ ''(پھیل جاؤ اور وہاں بیٹھے نہ رہو) (احزاب :۵۳)
(۱۹۱۰)۔ سیدنا انسؓ کہا کرتے تھے کہ پردہ کی آیت کا شان نزول سب سے زیادہ مجھے معلوم ہے سیدنا ابی بن کعب بھی اس کو مجھ ہی سے پوچھتے تھے (حالانکہ بڑے درجے کے صحابی تھے)۔ رسول اللہﷺ کی ام المومنین زینب بنت حجشؓ سے نئی شادی ہوئی تھی اور آپﷺ نے ان سے مدینہ میں نکاح کیا تھا ، رسول اللہﷺ نے لوگوں کو کھانے کے لیے اس وقت بلایا جب دن چڑھ گیا تھا ، جب سب (کھا کر) چلے گئے تو رسول اللہﷺ اور چند آدمی آپﷺ کے ہمراہ بیٹھے رہے۔ پھر رسول اللہﷺ کھڑے ہو کر چلے گئے اور میں بھی آپﷺ کے ساتھ چلا گیا ، جب آپ ، ام المومنین عائشہؓ کے حجرے کے دروازے تک پہنچے تو خیال کیا کہ وہ لوگ چلے گئے ہوں گے آپﷺ لو ٹ آئے اور میں بھی آپﷺ کے ہمراہ واپس آیا (تو دیکھا کہ) وہ سب کے سب اپنی جگہ پر بیٹھے ہیں ، آپﷺ دوبارہ واپس چلے گئے اور میں بھی آپﷺ کے ساتھ گیا جب حجرۂ عائشہؓ کے دروازے تک گئے تو خیال کیا کہ وہ چلے گئے ہو نگے ، آپﷺ لوٹ آئے اور میں بھی آپﷺ کے ساتھ آیا دیکھا کہ وہ لوگ (واقعی) چلے گئے ہیں ، پس آپﷺ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور (اسی وقت) پردہ کا حکم اترا۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
عقیقہ کے بیان میں

جس بچہ کا عقیقہ نہ کیا جائے اس کے پیدا ہوتے ہی نام رکھ دینا چاہیے اور تالو میں شیرینی لگانا (چاہیے)۔
(۱۹۱۱)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ا سے میں نبیﷺ کی خدمت میں لے گیا تو آپﷺ نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور کھجور چبا کر اس کے منہ میں (تالو میں) لگا دی اور اس کے لیے برکت کی دعا کی پھر اسے میرے سپرد کر دیا۔

(۱۹۱۲)۔ سیدنا اسماء بنت ابی بکرؓ کی حدیث کی عبداللہ بن زبیر مسجدقباء میں پیدا ہوئے ، ہجرت کے باب میں حدیث نمبر(۱۵۱۴)کے تحت گزر چکی ہے اور اس روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ مسلمان اس کے پیدا ہونے سے بہت خوش ہوئے کیونکہ لوگ ان سے کہتے تھے کہ یہودیوں نے تم پر جادو کر دیا ہے لہٰذا تمہارے ہاں اولاد نہ ہو گی۔
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ عقیقہ میں (سر کے بال منڈوا نے سے) بچہ کی تکلیف دور ہو جاتی ہے۔
(۱۹۱۳)۔ سید نا سلمان بن عامر الضبیؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:'' لڑکے کا عقیقہ کرنا (لازم) ہے ، اس کی طرف سے خون گر اؤ اور تکلیف دور کرو۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ فرع کا بیان۔
(۱۹۲۴)۔ سیدنا ابو ہریرہؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' فرع اور عتیرہ (اسلام میں) کوئی چیز نہیں ہے۔ فرع اونٹ کے پہلے بچہ کو کہتے تھے جسے مشرکین اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے اور عتیرہ ، بکری کے اس بچے کو کہتے ہیں جس کی رجب (کے پہلے دس دنوں) میں قربانی کے جاتی تھی۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
ذبیحہ و شکار کا بیان

شکار پر بسم اللہ پڑھنے کے بیان میں۔
(۱۹۱۵)۔ سیدنا عدی بن حاتمؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبیﷺ سے اس شکار کی بابت دریافت کیا جو تیر کی ڈنڈی لگ کر مر جائے تو آپﷺ نے فرمایا :'' جس (جانور) کو تیر دھار کی طرف سے لگے اس کو کھا لیتا اور جس کے چوڑائی کی طرف سے لگ جائے ، وہ لاٹھیوں سے مارے ہوئے کی مثل ہے۔ '' اور میں نے کتے کے (مارے ہوئے) شکار کے بارے بھی دریافت کیا تو آپﷺ نے فرمایا : ''(اگر کتا خود نہ کھائے) اور تمہارے لیے روک رکھے تو کھا لینا (کیونکہ) ایسے کتے کا پکڑ لینا ذبح کے حکم میں ہے اور اگر اپنے کتے یا کتوں کے ساتھ کسی اور کا کتا بھی دیکھو اور یہ گمان ہو کہ ہمارے کتے نے دوسرے کے ساتھ مل کر شکار پکڑ کر مار ڈالا ہے تو اس کو نہ کھانا کیونکہ تم نے اپنے ہی کتے کے چھوڑنے پر بسم اللہ پڑھی تھی دوسروں کے کتوں پر نہیں پڑھی۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ کمان سے شکار (کرنے کا بیان)۔
(۱۹۱۶)۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنیؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی '' یا رسول اللہ ! ہم اہل کتاب کے ملک میں رہتے ہیں تو کیا ان کے برتنوں میں ہم کھا لیں (یا نہیں) اور ہم شکار کے جنگل میں رہتے ہیں تو کیا ہم تیر کمان یا سکھلائے ہوئے کتے اور بغیر سکھلائے ہوئے کتے سے شکار کر سکتے ہیں یا نہیں ،جو درست ہو (فرما دیجیے)۔ '' آپﷺ نے فرمایا :'' اہل کتاب کا جو تم نے ذکر کیا تھا تو (اس کا یہ جواب ہے) اگر ان کے برتنوں کے سواتمہیں اور برتن مل جائیں تو ان میں نہ کھایا کہ و اور اگر نہ ملیں تو پھر ان کو اچھی طرح دھو کر ان میں کھالو اور (شکایت کی نسبت یہ ہے کہ اگر) تیر سے جو شکار کیا تم بسم اللہ پڑ ھ کر کرو تو اسے کھالو اور اگر سکھلائے ہوئے کتے کو بسم اللہ پڑھ کر چھوڑا اور شکار کیا تو یہ کھانا درست ہے اور اگر (بسم اللہ نہیں پڑھی اور) یہ کتا سکھلایا ہوا نہ تھا تو بعد ذبح کے کھانا درست ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ چھوٹے چھوٹے سنگریزے اور غلے (درمیانی انگلی اور انگوٹھے سے) مارنا۔
(۱۹۱۷)۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفلؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک شخص کو دو انگلیوں سے کنکری پھینکتے ہوئے دیکھا تو اس سے کہا کہ (اس طرح)مت پھینکو کیونکہ رسول اللہﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے یا مکروہ سمجھا ہے (راوی کو شک ہے) اور فرمایا ہے کہ اس سے (کیا فائدہ کہ) نہ تو کوئی شکار ہی ہوتا ہے اور نہ دشمن ہی زخمی ہو تا ہے اور لیکن (کنکری) کسی کا دانت توڑ دیتی ہے یا آنکھ پھوڑ دیتی ہے (یعنی بجز نقصان کے کوئی نفع نہیں ہے) اس کے بعد انھوں نے اسے پھر اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا اور کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کی حدیث تجھ سے بیان کی تھی کہ آپﷺ نے اس طرح کنکری پھینکنے سے منع فرمایا یا مکروہ سمجھا ہے تو پھر بھی وہی کر رہا ہے ، اب میں تجھ سے اتنی مدت تک کلام نہ کروں گا۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ جو شخص (بلا ضرورت) ایسا کتا رکھے جو نہ شکاری ہو اور نہ مویشیوں کی حفاظت کرتا ہو (فقط شوقیہ کتا پالے)۔
(۱۹۱۸)۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :'' جو شخص ایسا کتا پالے جو نہ تو مویشیوں کی حفاظت کرنے والا ہو اور نہ شکاری تو اس کے نیک اعمال کے ثواب میں سے ہر روز دو قیراط کم ہوں گے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ اس شکاری کا بیان (جو تیر وغیرہ کھا کر بھاگ جائے) اور دو تین روز غائب رہے۔
(۱۹۱۹)۔ سیدنا عدی بن حاتمؓ کی (شکار کے بارے میں) حدیث قریب ہی گزری ہے (حدیث ۱۹۱۵)اور اس روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ۔۔۔ اور اگر تم نے شکار کو تیر مارا اور وہ (چوٹ کھانے کے بعد) تمہیں دو تین روز کے بعد (مردہ) ملے اور اگر تمہارے تیر کے زخم سوا اور کوئی علامت اس کے مرنے کی محسوس نہیں ہوتی تو اس کا کھانا درست ہے اور اگر پانی میں پڑا ہوا ملا تو اس کا کھانا جائز نہیں ہے۔ ''
 

Aamir

خاص رکن
شمولیت
مارچ 16، 2011
پیغامات
13,382
ری ایکشن اسکور
17,099
پوائنٹ
1,033
باب۔ ٹڈی کھانا (جائز ہے)۔
(۱۹۲۰)۔ سیدنا ابن ابی اوفٰیؓ کہتے ہیں کہ ہم نبیﷺ کے ہمراہ سات یا چھ (راوی کا شک) لڑائیوں میں شریک ہوئے اور ہم آپﷺ کے ساتھ ٹڈیاں کھاتے تھے۔
 
Top