• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری مترجم۔’’ التجرید الصریح لاحادیث الجامع الصحیح ''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَاب رَفْعِ الْعِلْمِ وَظُهُورِ الْجَهْلِ
علم کا اٹھ جانا اور جہالت کا ظاہر ہونا​

(71) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَثْبُتَ الْجَهْلُ وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا *
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’بے شک (یہ باتیں) قیامت کی علامات میں سے ہیں کہ علم اٹھ جائے اور جہالت باقی رہ جائے اور شراب نوشی (کثرت سے) ہونے لگے اور علانیہ زنا ہونے لگے ۔‘‘
(72) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا لاَ يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يَقِلَّ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا وَتَكْثُرَ النِّسَائُ وَيَقِلَّ الرِّجَالُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ *
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ (آج) میں تم (لوگوں) کو ایک ایسی حدیث بیان کروں گا کہ میرے بعد (شاید) کوئی تم سے نہ بیان کرے گا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’قیامت کی علامات میں سے (ایک علامت) یہ ہے کہ علم کم ہو جائے اور جہالت غالب آ جائے اور زنا علانیہ ہونے لگے اور عورتوں کی کثرت ہو جائے اور مردوں کی قلت، یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا سرپرست ، (کفیل) صرف ایک مرد ہو گا۔ ‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ فَضْلِ الْعِلْمِ

علم کی فضیلت (کا بیان)​

(73) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ بِقَدَحِ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ حَتَّى إِنِّي لَأَرَى الرِّيَّ يَخْرُجُ فِي أَظْفَارِي ثُمَّ أَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالُوا فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْعِلْمَ *

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’اس حالت میں کہ میں سو رہا تھا ، (خواب میں) مجھے ایک پیالہ دودھ کا دیا گیا، تو میں نے پی لیا، یہاں تک کہ میں یہ سمجھنے لگا کہ سیرہونے (کے سبب سے رطوبت) میرے ناخنوں سے نکل رہی ہے، پھر میں نے اپنا بچا ہوا عمربن خطاب ( رضی اللہ عنہ ) کو دے دیا۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے اس کی کیا تعبیر لی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’علم ۔‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ الْفُتْيَا وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى الدَّابَّةِ وَغَيْرِهَا
فتویٰ دینا اس حالت میں کہ(فتویٰ دینے والا) سواری پر سوار یا اور کسی چیز پر کھڑا ہو​

(74) عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَقَفَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِمِنًى لِلنَّاسِ يَسْأَلُونَهُ فَجَائَهُ رَجُلٌ فَقَالَ لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ فَقَالَ اذْبَحْ وَلاَ حَرَجَ فَجَائَ آخَرُ فَقَالَ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ ارْمِ وَلاَ حَرَجَ فَمَا سُئِلَ النَّبِيُّ ﷺ عَنْ شَيْئٍ قُدِّمَ وَلاَ أُخِّرَ إِلاَّ قَالَ افْعَلْ وَلاَ حَرَجَ *
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع میں لوگوں کے لیے منیٰ میں ٹھہر گئے۔ لوگ آپ سے مسائل پوچھتے تھے۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ نادانستگی میں میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈوا لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’(اب) ذبح کر لے اور کوئی حرج نہیں۔‘‘ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا کہ نادانستگی میں میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کرلی تو آپ ﷺ نے فرمایا:’’ (اب) رمی کر لے اور کوئی حرج نہیں۔‘‘ (عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اس دن) آپ ﷺ سے (مناسک حج کی ترتیب کے بارے میں) جس چیز کی بابت پوچھا گیا، خواہ وہ مقدم کردی گئی ہو یا موخر ، تو آپ ﷺ نے یہی فرمایا :’’اب کر لے اور کوئی حرج نہیں ۔ ‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَاب مَنْ أَجَابَ الْفُتْيَا بِإِشَارَةِ الْيَدِ وَالرَّأْسِ
جس شخص نے ہاتھ یا سر کے اشارے سے فتویٰ کا جواب دیا​

(75) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ ‘‘ يُقْبَضُ الْعِلْمُ وَيَظْهَرُ الْجَهْلُ وَالْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْهَرْجُ فَقَالَ هَكَذَا بِيَدِهِ فَحَرَّفَهَا كَأَنَّه، يُرِيدُ الْقَتْلَ ‘‘
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:’’ (عنقریب) علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت اور فتنے غالب ہوجائیں گے اور ہرج بہت ہو گا۔‘‘ عرض کی گئی یا رسول اللہ ﷺ ہرج کیا چیز ہے؟ تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے ترچھا اشارہ کر کے فرمایا: ’’اس طرح ! گویا آپ ﷺ کی مراد (ہرج سے) قتل تھی ۔ ‘‘
(76) عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ أَتَيْتُ عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَائِ فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ فَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ قُلْتُ آيَةٌ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا أَيْ نَعَمْ فَقُمْتُ حَتَّى تَجَلاَّنِي الْغَشْيُ فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَى رَأْسِي الْمَائَ فَحَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ النَّبِيُّ ﷺ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ مَا مِنْ شَيْئٍ لَمْ أَكُنْ أُرِيتُهُ إِلاَّ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ مِثْلَ أَوْ قَرِيبَ لاَ أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَائُ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ يُقَالُ مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوقِنُ لاَ أَدْرِي بِأَيِّهِمَا قَالَتْ أَسْمَائُ فَيَقُولُ هُوَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ جَائَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى فَأَجَبْنَاهُ وَاتَّبَعْنَاهُ هُوَ مُحَمَّدٌ ثَلاَثًا فَيُقَالُ نَمْ صَالِحًا قَدْ عَلِمْنَا إِنْ كُنْتَ لَمُوقِنًا بِهِ وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ لاَ أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَتْ أَسْمَائُ فَيَقُولُ لاَ أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ *
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں، تو میں نے (ان سے) کہا کہ لوگوں کا کیا حال ہے(کیوں اس قدر گھبرا رہے ہیں)؟ تو انھوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا (کہ دیکھو آفتاب میں کسوف ( گرہن) ہے)۔ پھر اتنے میں سب لوگ (نماز کسوف کے لیے ) کھڑے ہوگئے، تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا سبحان اللہ ۔ میں نے پوچھا کہ (یہ کسوف کیا) کوئی نشانی ہے؟ انھوں نے اپنے سر سے اشارہ کیا کہ ہاں۔ پھر میں بھی (نماز کے لیے ) کھڑی ہو گئی، یہاں تک کہ مجھ پر غشی طاری ہو گئی تو میں اپنے سر پر پانی ڈالنے لگی۔ پھر (جب نماز ختم ہو چکی اور کسوف جاتا رہا) تو نبی ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا :’’جو چیز (اب تک) مجھے نہ دکھائی گئی تھی، اسے میں نے (اس وقت) اپنی اسی جگہ میں (کھڑے کھڑے) دیکھ لیا۔ یہاں تک کہ جنت اور دوزخ کو (بھی)۔ اور میری طرف یہ وحی بھیجی گئی کہ اپنی قبروں میں تمہاری آزمائش ہوگی، مسیح دجال کی آزمائش کے مثل یا اسی کے قریب قریب۔(فاطمہ (راویہ حدیث) کہتی ہیں کہ مجھے یاد نہیں اسماء رضی اللہ عنہا نے ان دونوں لفظوں میں سے کیا کہا تھا )کہا جائے گا کہ تجھے اس شخص سے کیا واقفیت ہے؟ تو اگر مومن ہے یا موقن ،فاطمہ کہتی ہیں کہ مجھے یاد نہیں اسماء رضی اللہ عنہا نے ان دونوں میں سے کیا کہا تھا ) وہ کہے گا کہ وہ محمد ﷺ ہیں اللہ کے پیغمبر۔ ہمارے پاس معجزات اور ہدایت لے کر آئے تھے، لہٰذا ہم نے ان کی بات مانی اور ان کی پیروی کی اور وہ محمد ﷺ ہیں (یہ کلمہ) تین مرتبہ (کہے گا)۔ پس اس سے کہہ دیا جائیگا کہ تو آرام سے سو تا رہ۔ بے شک ہم نے جان لیا کہ تو محمد ﷺ پر ایمان رکھتا ہے۔ لیکن منافق یا شک کرنے والافاطمہ کہتی ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے ان دونوں لفظوں میں سے کیا کہا تھا، کہے گا میں (حقیقت تو) نہیں جانتا (مگر) میں نے لوگوں کو ان کی نسبت کچھ کہتے ہوئے سنا چنانچہ میں نے بھی وہی کہہ دیا ۔ ‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ الرِّحْلَةِ فِي الْمَسْأَلَةِ النَّازِلَةِ وَتَعْلِيمِ أَهْلِهِ
جو مسئلہ درپیش ہو اس (کی تحقیق) میں سفر کرنا اور اپنے اہل خانہ کو اس علم کا سکھانا​

(77) عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ ابْنَةً لِأَبِي إِهَابِ بْنِ عَزِيزٍ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُ عُقْبَةَ وَالَّتِي تَزَوَّجَ فَقَالَ لَهَا عُقْبَةُ مَا أَعْلَمُ أَنَّكِ أَرْضَعْتِنِي وَلاَ أَخْبَرْتِنِي فَرَكِبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بِالْمَدِينَةِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ كَيْفَ وَقَدْ قِيلَ فَفَارَقَهَا عُقْبَةُ وَنَكَحَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ *
سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے ابوإہاب بن عزیز کی لڑکی سے نکاح کیا، اس کے بعد ایک عورت نے آ کر بیان کیا کہ میں نے عقبہ رضی اللہ عنہ کو اور اس لڑکی کو جس سے عقبہ نے نکاح کیا ہے، دودھ پلایا ہے (پس یہ دونوں رضاعی بہن بھائی ہیں ان میں نکاح درست نہیں)۔ عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ تونے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ تو نے (اس سے) پہلے کبھی مجھے (اس بات کی) اطلاع دی۔ پھر عقبہ (مکہ سے) سوار ہو کر رسول اللہ ﷺ کے پاس مدینہ گئے اور آپ ﷺ سے (یہ مسئلہ) پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’(اب) کس طرح (تم اس سے ازدواجی تعلق قائم رکھو گے)؟ حالانکہ (یہ جو) بیان کیا گیا (اس سے حرمت کا شبہ پیدا ہوتا ہے)۔‘‘ پس عقبہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو چھوڑ دیا (اور) اس نے دوسرے شخص سے نکاح کر لیا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ التَّنَاوُبِ فِي الْعِلْمِ
علم کے حاصل کرنے میں باری مقرر کرنا​

(78) عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَجَارٌ لِي مِنَ الْـأَنْصَارِ فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ وَهِيَ مِنْ عَوَالِي الْمَدِينَةِ وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ بِخَبَرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ الْوَحْيِ وَغَيْرِهِ وَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ فَنَزَلَ صَاحِبِي الْـأَنْصَارِيُّ يَوْمَ نَوْبَتِهِ فَضَرَبَ بَابِي ضَرْبًا شَدِيدًا فَقَالَ أَثَمَّ هُوَ فَفَزِعْتُ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ عَظِيمٌ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَإِذَا هِيَ تَبْكِي فَقُلْتُ طَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ قَالَتْ لاَ أَدْرِي ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ أَطَلَّقْتَ نِسَائَكَ قَالَ لاَ فَقُلْتُ اللَّهُ أَكْبَرُ *
امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور ایک انصاری میرا پڑوسی بنی امیہ بن زید (کے محلہ) میں رہتے تھے اور یہ (مقام) مدینہ کی بلندی پر تھا اور ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس باری باریآتے تھے۔ ایک دن وہ آتا تھا اور ایک دن میں ۔ جس دن میں آتا تھا، اس دن کی خبر یعنی وحی وغیرہ (کے حالات) میں اس کوپہنچا دیتا اور جس دن وہ آتا تھا، وہ بھی ایساہی کرتا تھا،تو ایک دن اپنی باری سے میرا انصاری دوست (نبی ﷺ کی خدمت میں حاضری دیکر واپس) آیا تو میرے دروازہ کو بہت زور سے کھٹکھٹایا اور (میرا نام لے کر) کہاکہ وہ یہاں ہیں؟ میں (ان اضطرابی حرکات سے) ڈر گیا اور ان کے پاس نکل (کر) آیا تووہ بولے کہ (آج) ایک بڑا واقعہ ہو گیا ہے (ـیعنی رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے) میں حفصہ (امّ المومنین رضی اللہ عنہا ) کے پاس گیا تو وہ رو رہی تھیں، میں نے ان سے کہا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے تم لوگوں کو طلاق دے دی ہے؟ وہ بولیں کہ مجھے نہیں معلوم ۔ اس کے بعد میں نبی ﷺ کے پاس گیا اور کھڑے ہی کھڑے میں نے عرض کی کہ کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا:’’ نہیں۔‘‘میں نے (اس وقت نہایت تعجب میں آ کر) کہا : ’’اللہ اکبر۔‘‘ (انصاری کو کیسی غلط فہمی ہوئی؟) ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ الْغَضَبِ فِي الْمَوْعِظَةِ وَالتَّعْلِيمِ إِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ
جب (ناصح و معلم) کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو غضبناک انداز میں نصیحت و تلقین کر سکتا ہے​

(79) عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ لاَ أَكَادُ أُدْرِكُ الصَّلاَةَ مِمَّا يُطَوِّلُ بِنَا فُلاَنٌ فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْ يَوْمَئِذٍ فَقَالَ ‘‘ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مُنَفِّرُونَ فَمَنْ صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ الْمَرِيضَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ ‘‘ *
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے (آ کر) کہا کہ یا رسول اللہ! میں عنقریب نماز (جماعت کے ساتھ )نہ پا سکوں گا، کیونکہ فلاں شخص ہمیں بہت طویل نماز پڑھاتا ہے۔ ابو مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نصیحت کرنے میں اس دن سے زیادہ کبھی نبی ﷺ کو غصہ میں نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے لوگو! تم (ایسی سختیاں کر کرکے لوگوں کو دین سے) نفرت دلانے والے ہو (دیکھو!) جو کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے اسے چاہیے کہ (ہر رکن کے اداکرنے میں) تخفیف کرے، اس لیے کہ مقتدیوں میں مریض بھی اور کمزور بھی ہیں اور ضرورت والے بھی۔
(80) عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ اللُّقْطَةِ فَقَالَ اعْرِفْ وِكَائَهَا أَوْ قَالَ وِعَائَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اسْتَمْتِعْ بِهَا فَإِنْ جَائَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ قَالَ فَضَالَّةُ الإِبِلِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ أَوْ قَالَ احْمَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ وَمَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَائَ وَتَرْعَى الشَّجَرَ فَذَرْهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ *
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے ایک شخص نے گری پڑی(لاوارث) چیز کا حکم پوچھا تو آپ نے فرمایا :’’ اس کی بندش کو پہچان لے ۔‘‘یا یہ فرمایا :’’اس کے ظرف کو اور اس کی تھیلی کو (پہچان لے) پھر سال بھراس کی تشہیر کرے(یعنی اس کے اصل مالک کو تلاش کرے) پھر اس کے بعد (اگر کوئی مالک اس کا نہ ملے تو) اس سے فائدہ اٹھالے اور اگر اس کا مالک (سال بعد بھی) آجائے تو اسے اس کے حوالے کر دے۔‘‘ پھر اس شخص نے کہا کہ کھویا ہوا اونٹ (اگر ملے تو اس کو کیا کیا جائے)؟ تو آپ ﷺ غضبناک ہوئے، یہاں تک کہ آپ کے دونوں رخسار مبارک سرخ ہوگئے یا (راوی نے کہاکہ )آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور آپ نے فرمایا :’’تجھے اس اونٹ سے کیا مطلب؟ اس کی مشک اور اس کا پاپوش اس کے ساتھ ہے، پانی پر پہنچے گا (تو پانی پی لے گا) اور درخت (کے پتے) کھالے گا، لہٰذا اسے چھوڑ دے، یہاں تک کہ اس کو اس کا مالک مل جائے ۔‘‘ پھر اس شخص نے کہا کہ کھوئی ہوئی بکری (کا پکڑ لینا کیسا ہے)؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ (اس کو پکڑ لو کیونکہ وہ) تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا( اگر کسی کے ہاتھ نہ لگی تو) پھر بھیڑیے کی ۔‘‘
(81) عَنْ أَبِي مُوسَىرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ ﷺ عَنْ أَشْيَائَ كَرِهَهَا فَلَمَّا أُكْثِرَ عَلَيْهِ غَضِبَ ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ قَالَ رَجُلٌ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوكَ حُذَافَةُ فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا فِي وَجْهِهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ *
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) نبی ﷺ سے چند باتیں پوچھی گئیں جو آپ کے خلاف مزاج تھیں۔ (تو آپ نے کچھ جواب نہ دیا مگر) جب (ان سوالات کی) آپ کے سامنے بھر مار کردی گئی تو آپ کو غصہ آ گیا اور آپ نے لوگوں سے فرمایا:’’ جو کچھ چاہو مجھ سے پوچھ لو۔‘‘ تو ایک شخص نے کہا کہ میرا باپ کون ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا:’’ تیرا باپ حذافہ ہے۔‘‘ پھر دوسرا شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ یارسول اللہ ! میرا باپ کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا :’’تیرا باپ سالم ہے، شیبہ کا غلام۔‘‘ پھر جب عمر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے چہرۂ مبارک پر آثار غضب دیکھے تو انھوں نے عرض کی کہ یارسول اللہ ! ہم اللہ بزرگ و برتر سے توبہ کرتے ہیں (یعنی اب کبھی اس قسم کے سوالات آپ ﷺ سے نہ کریں گے)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ مَنْ أَعَادَ الْحَدِيثَ ثَلاَثًا لِيُفْهَمَ عَنْهُ
جس شخص نے ایک بات کی تین مرتبہ تکرار کی تا کہ خوب سمجھ لی جائے​

(82) عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ كَانَ إِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَعَادَهَا ثَلاَثًا حَتّي تُفْهَمَ عَنْهُ وَإذَا أَتَى عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِم سَلَّمَ ثَلاَثًا *
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ جب کوئی بات کہتے تو تین مرتبہ اس کی تکرار کرتے تاکہ (اس کا مطلب اچھی طرح) سمجھ لیا جائے جب چند لوگوں کے پاس تشریف لا تےان کو سلام کرتے تو تین مرتبہ سلام کرتے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ تَعْلِيمِ الرَّجُلِ أَمَتَهُ وَأَهْلَهُ
مرد کا اپنی لونڈی اور اپنے گھر والوں کو تعلیم دینا​

(83) عَن أبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ثَلاَثَةٌ لَهُمْ أَجْرَانِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ وَآمَنَ بِمُحَمَّدٍ ﷺ وَالْعَبْدُ الْمَمْلُوكُ إِذَا أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ وَرَجُلٌ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَةٌ فَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ *
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین شخص ایسے ہیں جن کے لیے دوگنا ثواب ہے(۱) وہ شخص جو اہل کتاب میں سے ہو، اپنے نبی پر ایمان لایا ہو اور (پھر) محمد ﷺ پر بھی ایمان لائے (۲) مملوک غلام، جب کہ وہ اللہ کے حق کو اور اپنے مالکوں کے حق کو ادا کرتا رہے (۳) وہ شخص جس کے پاس اس کی لونڈی ہو ، اس نے اسے ادب سکھایا اور عمدہ تربیت کی اور اسے اچھی و عمدہ تعلیم دی پھر اسے آزاد کر دیا اور اس سے نکاح کر لیا، پس اس کے لیے دو گنا ثواب ہے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ عِظَةِ الإِمَامِ النِّسَائَ وَتَعْلِيمِهِنَّ
امام کا عورتوں کو نصیحت کرنا اور ان کو تعلیم دینا​

(84) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ خَرَجَ وَمَعَهُ بِلاَلٌ فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَائَ فَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْقُرْطَ وَالْخَاتَمَ وَبِلاَلٌ يَأْخُذُ فِي طَرَفِ ثَوْبِهِ *
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ (عید کے دن مردوں کی صف سے عورتوں کی طرف) نکلے اور آپ کے ہمراہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ ﷺ نے یہ گمان کیا کہ (شاید) عورتوں نے (خطبہ صحیح طرح) نہیں سنا، تو آپ نے انھیں نصیحت فرمائی اور انھیں صدقہ (دینے) کا حکم دیا۔ پس (کوئی) عورت بالی اور (کوئی) انگوٹھی ڈالنے لگی (کوئی کچھ اور) اور بلال رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے کے دامن میں سمیٹنے لگے۔
 
Top