بَابُ الْغَضَبِ فِي الْمَوْعِظَةِ وَالتَّعْلِيمِ إِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ
جب (ناصح و معلم) کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو غضبناک انداز میں نصیحت و تلقین کر سکتا ہے
(79) عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ لاَ أَكَادُ أُدْرِكُ الصَّلاَةَ مِمَّا يُطَوِّلُ بِنَا فُلاَنٌ فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فِي مَوْعِظَةٍ أَشَدَّ غَضَبًا مِنْ يَوْمَئِذٍ فَقَالَ ‘‘ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مُنَفِّرُونَ فَمَنْ صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمُ الْمَرِيضَ وَالضَّعِيفَ وَذَا الْحَاجَةِ ‘‘ *
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے (آ کر) کہا کہ یا رسول اللہ! میں عنقریب نماز (جماعت کے ساتھ )نہ پا سکوں گا، کیونکہ فلاں شخص ہمیں بہت طویل نماز پڑھاتا ہے۔ ابو مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نصیحت کرنے میں اس دن سے زیادہ کبھی نبی ﷺ کو غصہ میں نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے لوگو! تم (ایسی سختیاں کر کرکے لوگوں کو دین سے) نفرت دلانے والے ہو (دیکھو!) جو کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے اسے چاہیے کہ (ہر رکن کے اداکرنے میں) تخفیف کرے، اس لیے کہ مقتدیوں میں مریض بھی اور کمزور بھی ہیں اور ضرورت والے بھی۔
(80) عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ اللُّقْطَةِ فَقَالَ اعْرِفْ وِكَائَهَا أَوْ قَالَ وِعَائَهَا وَعِفَاصَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً ثُمَّ اسْتَمْتِعْ بِهَا فَإِنْ جَائَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ قَالَ فَضَالَّةُ الإِبِلِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ أَوْ قَالَ احْمَرَّ وَجْهُهُ فَقَالَ وَمَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَائَ وَتَرْعَى الشَّجَرَ فَذَرْهَا حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ *
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے ایک شخص نے گری پڑی(لاوارث) چیز کا حکم پوچھا تو آپ نے فرمایا :’’ اس کی بندش کو پہچان لے ۔‘‘یا یہ فرمایا :’’اس کے ظرف کو اور اس کی تھیلی کو (پہچان لے) پھر سال بھراس کی تشہیر کرے(یعنی اس کے اصل مالک کو تلاش کرے) پھر اس کے بعد (اگر کوئی مالک اس کا نہ ملے تو) اس سے فائدہ اٹھالے اور اگر اس کا مالک (سال بعد بھی) آجائے تو اسے اس کے حوالے کر دے۔‘‘ پھر اس شخص نے کہا کہ کھویا ہوا اونٹ (اگر ملے تو اس کو کیا کیا جائے)؟ تو آپ ﷺ غضبناک ہوئے، یہاں تک کہ آپ کے دونوں رخسار مبارک سرخ ہوگئے یا (راوی نے کہاکہ )آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور آپ نے فرمایا :’’تجھے اس اونٹ سے کیا مطلب؟ اس کی مشک اور اس کا پاپوش اس کے ساتھ ہے، پانی پر پہنچے گا (تو پانی پی لے گا) اور درخت (کے پتے) کھالے گا، لہٰذا اسے چھوڑ دے، یہاں تک کہ اس کو اس کا مالک مل جائے ۔‘‘ پھر اس شخص نے کہا کہ کھوئی ہوئی بکری (کا پکڑ لینا کیسا ہے)؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ (اس کو پکڑ لو کیونکہ وہ) تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی یا( اگر کسی کے ہاتھ نہ لگی تو) پھر بھیڑیے کی ۔‘‘
(81) عَنْ أَبِي مُوسَىرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ ﷺ عَنْ أَشْيَائَ كَرِهَهَا فَلَمَّا أُكْثِرَ عَلَيْهِ غَضِبَ ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ سَلُونِي عَمَّا شِئْتُمْ قَالَ رَجُلٌ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوكَ حُذَافَةُ فَقَامَ آخَرُ فَقَالَ مَنْ أَبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَبُوكَ سَالِمٌ مَوْلَى شَيْبَةَ فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا فِي وَجْهِهِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَتُوبُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ *
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ) نبی ﷺ سے چند باتیں پوچھی گئیں جو آپ کے خلاف مزاج تھیں۔ (تو آپ نے کچھ جواب نہ دیا مگر) جب (ان سوالات کی) آپ کے سامنے بھر مار کردی گئی تو آپ کو غصہ آ گیا اور آپ نے لوگوں سے فرمایا:’’ جو کچھ چاہو مجھ سے پوچھ لو۔‘‘ تو ایک شخص نے کہا کہ میرا باپ کون ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا:’’ تیرا باپ حذافہ ہے۔‘‘ پھر دوسرا شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ یارسول اللہ ! میرا باپ کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا :’’تیرا باپ سالم ہے، شیبہ کا غلام۔‘‘ پھر جب عمر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے چہرۂ مبارک پر آثار غضب دیکھے تو انھوں نے عرض کی کہ یارسول اللہ ! ہم اللہ بزرگ و برتر سے توبہ کرتے ہیں (یعنی اب کبھی اس قسم کے سوالات آپ ﷺ سے نہ کریں گے)۔