• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مختصر صحیح بخاری مترجم۔’’ التجرید الصریح لاحادیث الجامع الصحیح ''

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ أَبْوَالِ الإِبِلِ وَالدَّوَابِّ وَالْغَنَمِ وَمَرَابِضِهَا *
اونٹ کا اور چوپایوں کا اور بکری کا پیشاب اور ان کے رہنے کے مقامات ( یعنی باڑے نجس ہیں یا نہیں) ؟​

(173) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ أُنَاسٌ مِنْ عُكْلٍ أَوْ عُرَيْنَةَ فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ ﷺ بِلِقَاحٍ وَأَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَانْطَلَقُوا فَلَمَّا صَحُّوا قَتَلُوا رَاعِيَ النَّبِيِّ ﷺ وَاسْتَاقُوا النَّعَمَ فَجَائَ الْخَبَرُ فِي أَوَّلِ النَّهَارِ فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمْ فَلَمَّا ارْتَفَعَ النَّهَارُ جِيئَ بِهِمْ فَأَمَرَ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسُمِرَتْ أَعْيُنُهُمْ وَأُلْقُوا فِي الْحَرَّةِ يَسْتَسْقُونَ فَلاَ يُسْقَوْنَ *
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عکلؔ کے یا عرینہؔ کے کچھ لوگ آئے چنانچہ انھیں مدینہ کی ہوا موافق نہ آئی تو وہ مدینہ میں بیمار ہو گئے تو آپ ﷺ نے انھیں چند اونٹنیاں دینے کا حکم دیا اور یہ(حکم بھی دیا) کہ وہ لوگ ان کا پیشاب اور ان کا دودھ پئیں۔ پس وہ (جنگل میں) چلے گئے (اور ایسا ہی کیا)۔ جب ٹھیک ہو گئے تو نبی ﷺ کے چرواہے کو قتل کر ڈالا اور جانوروں کو ہانک کر لے گئے ۔پس دن کے اول وقت (یہ) خبر نبی ﷺ کے پاس آئی اور آپ ﷺ نے ان کے تعاقب میں آدمی بھیجے ۔ چنانچہ دن چڑھے وہ (گرفتار کرکے) لائے گئے، پس آپ ﷺ نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹنے کا حکم دیا اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیر دی گئیں اور وہ گرم سنگلاخ جگہ پر ڈال دیے گئے ، پانی مانگتے تھے تو انھیں پانی نہ پلایا جاتا تھا ۔(اس لیے کہ انھوں نے بھی احسان فراموشی کی تھی)۔

(174) وَ عَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ يُبْنَى الْمَسْجِدُ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ*
سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں مسجد کے بنائے جانے سے پہلے نبی ﷺ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ مَا يَقَعُ مِنَ النَّجَاسَاتِ فِي السَّمْنِ وَالْمَائِ
جو نجاستیں گھی میں اور پانی میں پڑ جائیں (ان کا کیا حکم ہے؟)​

(175) عَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ سُئِلَ عَنْ فَأْرَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ فَقَالَ أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَاطْرَحُوهُ وَكُلُوا سَمْـنَكُمْ *
ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک چوہیا کے بارے میں پوچھا گیا جو گھی میں گر گئی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کو نکال دو اور اس کے (گرنے کی جگہ) کے اردگرد جس قدر (گھی) ہو وہ بھی نکال دو اور باقی گھی کھا لو ۔‘‘

(176) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ كُلُّ كَلْمٍ يُكْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهَا إِذْ طُعِنَتْ تَفَجَّرُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْكِ*
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’مسلمان کو جو زخم اللہ کی راہ میں لگایا جاتا ہے وہ قیامت کے دن اپنی اسی (ترو تازگی کی ) حالت میں ہوگا (جیسا کہ اس وقت تھا) جب وہ لگا یا گیا تھا (یعنی) خون بہے گا۔ رنگ تو خون کا سا ہو گا اور اس کی خوشبو مشک کی سی ہوگی ۔ ‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ الْبَوْلِ فِي الْمَائِ الدَّائِمِ
ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنا (نہ چاہیے)​

(177) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ’’ لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَائِ الدَّائِمِ الَّذِي لاَ يَجْرِي ثُمَّ يَغْتَسِلُ فِيهِ ‘’
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں، جو بہتا ہوا نہ ہو ، پیشاب نہ کرے (کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اسے ) پھر (کبھی) اسی (پانی) میں غسل کرنا پڑے ۔‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ إِذَا أُلْقِيَ عَلَى ظَهْرِ الْمُصَلِّي قَذَرٌ أَوْ جِيفَةٌ لَمْ تَفْسُدْ عَلَيْهِ صَلاَتُهُ
اگر نماز پڑھنے والے کی پیٹھ پر کوئی نجاست یا مردار ڈال دیا جائے تو اس کی نماز فاسد نہ ہوگی​

(178) عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُصَلِّي عِنْدَ الْبَيْتِ وَ أَبُوجَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ إِذْ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَيُّكُمْ يَجِيئُ بِسَلَى جَزُورِ بَنِي فُلاَنٍ فَيَضَعُهُ عَلَى ظَهْرِ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ فَانْبَعَثَ أَشْقَى الْقَوْمِ فَجَائَ بِهِ فَنَظَرَ حَتَّى سَجَدَ النَّبِيُّ ﷺ وَضَعَهُ عَلَى ظَهْرِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَأَنَا أَنْظُرُ لاَ أُغْنِي شَيْئًا لَوْ كَانَ لِي مَنَعَةٌ قَالَ فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ وَيُحِيلُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ سَاجِدٌ لاَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ حَتَّى جَائَتْهُ فَاطِمَةُ فَطَرَحَتْ عَنْ ظَهْرِهِ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَشَقَّ عَلَيْهِمْ إِذْ دَعَا عَلَيْهِمْ قَالَ وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الدَّعْوَةَ فِي ذَلِكَ الْبَلَدِ مُسْتَجَابَةٌ ثُمَّ سَمَّى اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ وَعَلَيْكَ بِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ وَعَدَّ السَّابِعَ فَلَمْ يَحْفَظْ قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِينَ عَدَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ صَرْعَى فِي الْقَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ *
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کعبہ کے قریب نماز پڑھ رہے تھے اور ابو جہل اور اس کے چند دوست بیٹھے ہوئے تھے کہ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ تم میں سے کوئی شخص فلاں قبیلہ کی اونٹنی (کی) اوجڑی (اور آنتیں وغیرہ) لے آئے اور اس کو محمد( ﷺ ) کی پشت پر ، جب وہ سجدہ میں جائیں ، رکھ دے ۔ پس سب سے زیادہ بد بخت (عقبہ) اٹھا اور اس کو لے آیا اور انتظار کرتا رہا یہاں تک کہ جب نبی ﷺ سجدہ میں گئے (تو فوراً ہی ) اس نے اس کو آپ ﷺ کے دونوں شانوں کے درمیان رکھ دیا اور میں (یہ حال)دیکھ رہا تھا مگر کچھ نہ کرسکتا تھا ۔ اے کاش! میرا کچھ بس چلتا (تو میں کیوں یہ حالت دیکھتا ) عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر وہ لوگ ہنسنے لگے اور ایک دوسرے پر (مارے ہنسی اور خوشی کے) گرنے لگے اور رسول اللہ ﷺ سجدہ میں تھے ، اپنا سر نہ اٹھاسکتے تھے یہاں تک کہ سیدہ فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہ تشریف لائیں اور انھوں نے اسے آپ ﷺ کی پیٹھ سے ہٹایا ۔ پس آپ ﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھا یا اور بد دعا کی کہ’’ یا اللہ! اپنے اوپر قریش (کی ہلاکت کو ) لازم کر لے۔‘‘ تین مرتبہ (آپ ﷺ نے یہی فرمایا ) پس یہ ان (کافروں) پربہت شاق گزرا۔ کیونکہ آپ ﷺ نے انھیں بد دعا دی تھی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ(کافر) جانتے تھے کہ اس شہر (مکہ) میں دعا مقبول ہوتی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے (ہر ایک کا ) نام لیا: ’’اے اللہ! ا بوجہل (کی ہلاکت) کو اپنے اوپر لازم کر لے اور عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ اور امیہ بن خلف اورعقبہ ابن ابی معیط (کی ہلاکت) کو اپنے اوپر لازم کرلے ۔‘‘ (اور ساتویں کو گنایا مگر اس کا نام مجھے یاد نہیں رہا ) پس قسم اس (ذوالجلال ذات) کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میں نے ان لوگوں کو جن کانام رسول اللہ ﷺ نے لیاتھا، کنویں یعنی بدر کے کنویں میں (بے گوروکفن) گرا ہوا دیکھا۔ ‘‘
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ الْبُزَاقِ وَالْمُخَاطِ وَنَحْوِهِ فِي الثَّوْبِ
کپڑے میں تھوک یا ناک یا اس کی مثل (کسی چیز ) کا لے لینا​

(179) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَزَقَ النَّبِيُّ ﷺ فِي ثَوْبِهِ *
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے کپڑے میں (ایک مرتبہ) تھوکا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ غَسْلِ الْمَرْأَةِ أَبَاهَا الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ
عورت کا اپنے باپ کے چہرے سے خون کو دھو دینا (درست ہے )​

(180) عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدِ نِالسَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّه، سَأَلَهُ النَّاسُ: بِأَيِّ شَيْئٍ دُوِيَ جُرْحُ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ مَا بَقِيَ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي كَانَ عَلِيٌّ يَجِيئُ بِتُرْسِهِ فِيهِ مَائٌ وَفَاطِمَةُ تَغْسِلُ عَنْ وَجْهِهِ الدَّمَ فَأُخِذَ حَصِيرٌ فَأُحْرِقَ فَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ *
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے لوگوں نے پوچھا کہ کس چیز سے نبی ﷺ کے زخم کا علاج کیاگیا ؟تو وہ بولے کہ اس کا جاننے والا مجھ سے زیادہ (اب) کوئی باقی نہیں رہا (چنانچہ بتلایا کہ) امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال میں پانی لے آتے تھے اور سیدہ فاطمہ الزہرہ رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے چہرئہ انور سے خون دھوتی تھیں ۔ پھر ایک چٹائی لا کر جلائی گئی اور (راکھ) آپ ﷺ کے زخم میں بھر دی گئی ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ السِّوَاكِ
مسواک کرنا (سنت ہے)​

(181) عَنْ أَبِي مُوسٰی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ فَوَجَدْتُهُ يَسْتَنُّ بِسِوَاكٍ بِيَدِهِ يَقُولُ أُعْ أُعْ وَالسِّوَاكُ فِي فِيهِ كَأَنَّه يَتَهَوَّعُ *
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا دیکھا تو آپ ہاتھ میں مسواک لیے ہوئے مسواک کر رہے ہیں اور آپ ﷺ ’’ اع ، اع ‘‘ کرتے جاتے تھے اور مسواک آپ ﷺ کے منہ میں تھی گویا کہ آپ قے کرتے تھے۔

(182) عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ ﷺ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ *
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی ﷺ رات کو اٹھتے تو اپنے منہ (دانتوں) کو مسواک سے رگڑتے (صاف کرتے) تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ دَفْعِ السِّوَاكِ إِلَى الأَكْبَرِ
مسواک کا بڑے شخص کو دینا (سنت ہے )​

(183) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ أَرَانِي أَتَسَوَّكُ بِسِوَاكٍ فَجَائَنِي رَجُلاَنِ أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الآخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاكَ الْأَصْغَرَ مِنْهُمَا فَقِيلَ لِي كَبِّرْ فَدَفَعْتُهُ إِلَى الْأَكْبَرِ مِنْهُمَا *
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’میں نے خواب میں اپنے آپ کو مسواک سے دانت صاف کرتے ہوئے دیکھا۔ پھر (میں نے دیکھا کہ) میرے پاس دو شخص آئے، ایک ان میں دوسرے سے بڑا تھا، میں نے ان میں سے چھوٹے کو مسواک دے دی تو مجھ سے کہا گیا کہ ’’بڑے کو دے دیجیے‘‘ ۔ پھر میں نے وہ مسواک ان میں سے بڑے کو دے دی ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
بَابُ فَضْلِ مَنْ بَاتَ عَلَى الْوُضُوئِ
اس شخص کی فضیلت (کا بیان) جو با وضو سوئے​

(184) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ ‘’ إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوئَكَ لِلصَّلاَةِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ ثُمَّ قُلِ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلاَّ إِلَيْكَ اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ فَإِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ فَأَنْتَ عَلَى الْفِطْرَةِ وَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَتَكَلَّمُ بِهِ قَالَ فَرَدَّدْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ ﷺ فَلَمَّا بَلَغْتُ اللَّهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ قُلْتُ وَرَسُولِكَ قَالَ لاَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ ‘’
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے (مجھ سے) فرمایا:’’جب تم اپنی خوابگاہ میں آؤ تو نماز کی طرح وضو کر لیا کرو ۔ پھر اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاؤ پھراس کے بعد کہو ’’اے اللہ! میں نے تجھ سے امیدوار اور خائف ہو کر اپنا منہ تیری جناب میں جھکا دیا اور اپنا (ہر) کام تیرے سپرد کر دیا اور میں نے تجھے اپنا پشتی بان و پناہ دہندہ بنا لیا اور (میں یقین رکھتا ہوں کہ) تجھ سے (یعنی تیرے غضب سے) سوا تیرے پاس کے کوئی پناہ ونجات کی جگہ نہیں ہے۔ اے اللہ! میں اس کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل فرمائی ہے اور تیرے اس نبی پر (بھی) جسے تو نے (ہدایت خلق کے لیے) بھیجا ہے۔‘‘ پس اگر تم اپنی اسی رات میںمر جاؤ گے تو ایمان پر (مرو گے) اور ان کلمات کو تمام ان باتوں کے بعد کہو جو تم کرنا چاہتے ہو (یعنی اس کے بعد کلام نہ کرو)۔‘‘ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ان کلمات کو نبی ﷺ کے سامنے دہرایا پھر جب میں آمَنْتُ بکتَابکَ الَّذي اَنْزَلْتَ پر پہنچا تو میں نے کہہ دیا وَرَسُولکَ (یعنی) ’’اور تیرے رسول پر‘‘ تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں وَنَبیّکَ الَّذیْ اَرْسَلْتَ بلکہ ’’اور تیرے اس نبی پر (بھی) جسے تو نے (ہدایت خلق کے لیے ) بھیجا ہے۔‘‘
نوٹ : حالانکہ آپ ﷺ نبی بھی تھے اور رسول بھی، لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ نے جس طرح کلمات سکھائے تھے ان الفاظ کو جوں کا توں باقی رکھا اور ذرا سی تبدیلی بھی گوارا نہیں کی۔ غور کریں وہ لوگ جو آپ ﷺ کی مسنون دعاؤں اور کلمات میں اپنی طرف سے اضافہ کر دیتے ہیں اور کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ مثال کے طور پر روزہ افطار کرنے کی دعا میں ’’وَبکَ اٰمَنْتُ وَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ ‘‘ یہ ایسا اضافہ ہے جو شریعت سازی اور احْدَاث فی الدّیْن نیز کَذبَ عَلَی النَّبیِّ ﷺ کے زمرے میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بدعت و گمراہی سے بچائے۔ آمین یارب العالمین
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
کتاب الغسل
غسل کا بیان


بَابُ الْوُضُوئِ قَبْلَ الْغُسْلِ
غسل کرنے سے پہلے وضو کرنا (مسنون ہے)​

(185) عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلاةِ ثُمَّ يُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي الْمَائِ فَيُخَلِّلُ بِهَا أُصُولَ شَعَرِهِ ثُمَّ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاثَ غُرَفٍ بِيَدَيْهِ ثُمَّ يُفِيضُ الْمَائَ عَلَى جِلْدِهِ كُلِّهِ *
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب جنابت کا غسل فرماتے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے پھر وضو فرماتے جس طرح نمازکے لیے وضو فرماتے تھے، پھر اپنی انگلیاں پانی میں داخل کرتے اور ان سے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے پھر اپنے سر پر تین چلو (لپیں پانی) اپنے دونوں ہاتھوں سے ڈالتے پھر اپنے تمام بدن پر پانی بہا لیتے۔

(186) عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وُضُوئَهُ لِلصَّلاةِ غَيْرَ رِجْلَيْهِ وَغَسَلَ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ مِنَ الأَذَى ثُمَّ أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَائَ ثُمَّ نَحَّى رِجْلَيْهِ فَغَسَلَهُمَا هَذِهِ غُسْلُهُ مِنَ الْجَنَابَةِ *
ام المومنین میمونہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (غسل کے وقت پہلے) وضو فرمایا جس طرح نماز کے لیے آپ ﷺ کا وضو ہوتا تھا، سوا دونوں پاؤں کے (دھونے کے) اور اپنی شرمگاہ کو دھویا اور جہاں کہیں نجاست لگ گئی تھی (اسے بھی دھو ڈالا) پھر اپنے اوپر پانی بہا لیا۔ اس کے بعد اپنے دونوں پاؤں کو (اس جگہ سے) ہٹالیا اور ان کو دھو ڈالا۔ یہ (طریقہ) آپ ﷺ کا غسل جنابت (کاتھا) ۔
 
Top