• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مسلکی اختلاف ؟

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,224
پوائنٹ
425
شیخین کا جو واقعہ بیان کیا گیا ہے ، اس کی صحت کے بارے میں اللہ بہتر جانتا ہے ، لیکن میرے خیال میں ایسی رواداری تو سنت کی قربانی کرکے ہوتی ہے ۔ بہتر یہ ہے کہ دونوں اختلاف رکھنے والے جس کو حق سمجھتے ہیں اس پر عمل کریں ، اور پھر دوسرے کو ناک بھوں چڑھانے کی بجائے رواداری کا مظاہرہ کریں ۔
جزاک اللہ محترم بھائی مگر میں نے اوپر شیخین کے واقعہ میں ایک بات محسوس کی ہے کہ اگر واقعی ایسا ہی ہوا ہو کہ ہمارے شیخ نے رفع یدین نہ کیا ہو اور انکے شیخ نے رفع یدین کیا ہو تو پھر میرا سوال ہے کہ گھاٹے میں کون رہا اور غلط چیز پر عمل کس نے کیا میرے خیال میں تو ہمارے شیخ نے اپنے نظریہ کے خلاف عمل کیا ،گر ان کے شیخ پھر بھی اپنے نظریہ کے مطابق عمل کر گئے
یعنی ہمارے شیخ کا نظریہ یہ ہے کہ صرف رفع یدین ہی درست ہے اور انکے شیخ کا نظریہ یہ ہے کہ چوروں بر حق ہیں یعنی رفع یدین کرنا اور نہ کرنا دونوں درست ہیں
کہیں یہ اس طرح تو نہیں ہو جائے گا کہ جب کہا گیا تھا کہ ایک سال ہم تمارے معبود کی عبادت کریں گے اور ایک سال تم ہمارے معبود کی جس میں وہ تو پہلے بھی دونوں کی عبادت کرتے تھے یعنی اللہ کو بھی الہ مانتے تھے اور بتوں کو بھی مگر دوسری طرف نقصان تھا جو صرف ایک کو الہ مانتے تھے
یاد رکھیں یہ مثال ہر لحاظ سے مطابقت کے لئے نہیں دی صرف وضآحت کے لئے دی ہے
 

حیدرآبادی

مشہور رکن
شمولیت
اکتوبر 27، 2012
پیغامات
287
ری ایکشن اسکور
500
پوائنٹ
120
پیالی میں طوفان اٹھانا تو کوئی ہم سے سیکھے (مسکراہٹ)۔ اس فورم کے قارئیں ہیں ہی کتنے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ ”حق“ سے یا تو آگاہ ہیں، یا ایک مرتبہ بتلادینے سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔ جو بقیہ تھوڑے سے ہیں وہ کبھی مانے ہیں نہ مانیں گے۔ لیکن مندرجہ بالا مضمون جہاں چھپا ہے، وہ آفیشلی تو کراچی کا دوسرا بڑا اخبار ہے لیکن عملاً جنگ سے بھی زیادہ چھپتا ہے۔ یعنی ہزاروں عام لوگوں اس مضمون کو پڑھا اور درست سمجھا ہوگا۔ لیکن اُن ”معصوم قارئین“ تک حق بات پہنچانے والا کوئی نہیں۔ چونکہ یہ ایک ”عالم دین“ کا تحریر کردہ مضمون ہے۔ لہٰذا بہتر ہی ہوتا اگر جوابی مضمون بھی کسی عالم دین ہی کی طرف سے اخبار کو جائے، تب ہی اس کے چھپنے کا امکان ہوگا۔
شکر ہے آپ آئے اور کچھ معقول بات کی تو سہی۔ :)
ورنہ ۔۔۔ ہمارے بھائی لوگ (جو شائد مجھ سے واقف ہی نہیں) واقعتا یہاں پیالی میں طوفان اٹھانے پر تلے بیٹھے ہیں۔ کسی کو شائد یہ بھی پتا نہ ہو کہ جو چیزیں لگائی جا رہی ہیں یہ سب ہمارے مطالعے سے اس وقت گزر چکیں جب لگانے والے دنیا میں نازل بھی نہ ہوئے ہوں (just kidding Yousuf bhai ;) )
ویسے جس کسی کا یہ مضمون اخبار میں شائع ہوا ہے ، ان کی نیت بہرحال اچھی ہے اور ان کی معقول بات کی تائید کی جانی چاہیے۔ ہاں جو کچھ بھی علمی/فقہی اختلافات ہیں وہ کسی علمی اور غیرجذباتی مضمون کے ذریعے ہمعصر علما شائع کروا دیں تو یہ مناسب بات ہوگی۔
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,106
ری ایکشن اسکور
6,770
پوائنٹ
1,069
پیالی میں طوفان اٹھانا تو کوئی ہم سے سیکھے (مسکراہٹ)۔ اس فورم کے قارئیں ہیں ہی کتنے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ ”حق“ سے یا تو آگاہ ہیں، یا ایک مرتبہ بتلادینے سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔ جو بقیہ تھوڑے سے ہیں وہ کبھی مانے ہیں نہ مانیں گے۔ لیکن مندرجہ بالا مضمون جہاں چھپا ہے، وہ آفیشلی تو کراچی کا دوسرا بڑا اخبار ہے لیکن عملاً جنگ سے بھی زیادہ چھپتا ہے۔ یعنی ہزاروں عام لوگوں اس مضمون کو پڑھا اور درست سمجھا ہوگا۔ لیکن اُن ”معصوم قارئین“ تک حق بات پہنچانے والا کوئی نہیں۔ چونکہ یہ ایک ”عالم دین“ کا تحریر کردہ مضمون ہے۔ لہٰذا بہتر ہی ہوتا اگر جوابی مضمون بھی کسی عالم دین ہی کی طرف سے اخبار کو جائے، تب ہی اس کے چھپنے کا امکان ہوگا۔
میرے بھائی ہر دور میں اہل حق علماء باطل کا رد کرتے آئے ہیں اب اگر کوئی حق کے واضح ہونے کے بعد بھی نہیں مانے تو کیا یہ گمراہی نہیں ہے

اللہ سبحانہ و تعالى نے مومنوں پر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى كلام اور ان كى حديث اور حكم كو مكمل تسليم كرنے كا حكم ديا ہے، حتى كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے اپنى قسم اٹھا كر كہا ہے كہ جس نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى كلام سنى اور پھر اسے قبول نہ كيا بلكہ رد كر ديا تو اس ميں ايمان كى رتى بھى نہيں ہے.

اللہ تعالى كا ارشاد ہے:

{ تيرے رب كى قسم يہ اس وقت تك مومن ہى نہيں ہو سكتے جب تك كہ وہ آپس كے تمام اختلافات ميں آپ كو حاكم تسليم نہ كر ليں، پھر آپ جو ان ميں فيصلہ كر ديں اس كے متعلق اپنے دل ميں كسى طرح كى تنگى اور ناخوشى نہ پائيں اور فرمانبردارى كے ساتھ قبول كر ليں }النساء ( 65 ).


ا
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,106
ری ایکشن اسکور
6,770
پوائنٹ
1,069
صاحب مضمون سے نقل کیا ہے :

دوسری قسم : جماعت اہل حدیث کی ہے یہ ان عوام پر مشتمل ہے جن کے پاس حدیث مبارکہ کا علم بہت کم یا بالکل نہیں ہوتا -

جھوٹ کی انتہا : یا پھر اندھی تقلید




 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,106
ری ایکشن اسکور
6,770
پوائنٹ
1,069
دیوبندیت چونکہ ماتریدی مذہب پر قائم ہے اس لئے ماتریدی مذہب کے بارے میں معلومات فراہم کرنا بھی ضروری ہے:

ماتریدیت ایک بدعتی فرقہ ہےجو کہ اہلِ کلام کی کوششوں کا نتیجہ ہے ،اس کا نام ابو منصور ماتریدی کی نسبت سے ہے۔آپ اسلامی عقائد اور دینی حقائق ثابت کرنے کیلئے معتزلی اور جہمیوں وغیرہ کے مقابلہ کرتے اور عقلی و کلامی دلائل پر انحصار کرتے تھے۔

ماتریدیہ کے ہاں اصولِ دین(عقائد) کی ماٰخذ کے اعتبار سے دو قسمیں ہیں:

1- الٰہیات (عقلیات): یہ وہ مسائل ہیں جن کو ثابت کرنے کیلئے عقل بنیاد ی ماخذ ہے، اور نصوص شرعیہ عقل کے تابع ہیں، اس زمرے میں توحید کے تمام مسائل اور صفاتِ الٰہیہ شامل ہیں۔

2- شرعیات (سمعیات): یہ وہ مسائل ہیں جن کے امکان کے بارے میں عقل کے ذریعے نفی یا اثبات میں قطعی فیصلہ کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کو ثابت یا رد کرنے کیلئے عقل کو کوئی چارہ نہیں ؛ جیسے: نبوّت، عذابِ قبر، احوالِ آخرت، یاد رہے! کہ کچھ ماتریدی نبوّت کوبھی عقلیات میں شمار کرتے ہیں۔

مندرجہ بالا بیان میں بالکل واضح طور پر منہج اہل السنۃ و الجماعۃ کی مخالفت پائی جاتی ہے؛ اس لئے کہ اہل السنۃ کے ہاں قرآن و سنت اور اجماعِ صحابہ ہی مصادر اور مآخذ ہیں،

اصولِ دین کو عقلیات، اور سمعیات دو حصوں میں تقسیم کرنا ایک نئی بدعت کا اضافہ تھا۔ یہ تقسیم ایک بے بنیاد نظریے پر کی گئی جسے فلسفیوں نے گھڑا تھا، اور وہ اسطرح کہ انہیں اس مفروضہ نے ،کہ دینی نصوص عقل سے متصادم ہیں، اس بات پر مجبور کیا کہ عقل اور دینی نصوص کو قریب تر لانے کوشش کیجائے، لہٰذا انہوں نے عقل کو وہاں تک گُھسا دیا جہاں عقل کا کوئی کام ہی نہیں ہے۔اور ایسے باطل احکامات صادر کئے جو کہ شریعت سے بالکل متصادم تھے، پھراسی تضاد و تصادم کو انہوں نے تفویض اور تأویل کاجامہ پہنا دیا، حالانکہ اہل السنۃ و الجماعۃ کے ہاں عقلِ سلیم اور صحیح ثابت شدہ نصوص میں کوئی تصادم ہے ہی نہیں"


مزید کیلئے دیکھئے: "الموسوعة الميسرة في الأديان والمذاهب المعاصرة "(1/99)

اہل سنت کا "ماتریدیہ" کے بارے میں موقف:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ یہ امت تہتّر فرقوں میں بٹ جائے گی، اور ایک فرقے کے علاوہ سب کے سب فرقے جہنم میں جائیں گے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتلا دیا کہ کامیاب ہونے والا یہ فرقہ ہی [اصل] جماعت ہوگی، اور یہ جماعت اس [منہج] پر ہوگی جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام تھے۔

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ اہل السنۃ و الجماعۃ کتاب و سنت پر علمی اور عملی ہر اعتبار سے ڈٹے ہوئے ہیں، اور یہی لوگ فرقہ ناجیہ میں شمار ہونگے، کیونکہ اِنہی میں کامیابی کا وصف پایا جاتا ہے، اور وہ ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اور آپکے صحابہ کرام کے منہج کو علمی اور عملی ہر اعتبار سے اپنانا۔

چنانچہ کسی فرد یا جماعت کے فرقہ ناجیہ میں شامل ہونے کیلئے نام ہی کی نسبت کافی نہیں ہے، خواہ وہ عملی طور پر صحابہِ کرام اور تابعینِ عظام کے منہج کی مخالفت کرتے ہوں؛ بلکہ علم و عمل ، تصور و سلوک ہر طرح سے انہی کے منہج کو اپنایا جائے۔


چنانچہ ماتریدی ایسا گروہ ہے جن کے نظریات میں حق و باطل ، اور سنت کی مخالفت سب کچھ ہے۔ یہ بات ظاہرہے کہ فرقے حق سے قریب اور بعید ہونے میں یکساں نہیں ہوتے، اس لئے جو کوئی فرقہ سنت کے زیادہ قریب ہوگا، وہی حق اور درست سمت میں ہوگا،اس بنا پر دیکھیں توان میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے بڑے بڑے مسائل میں اہل ِسنت کے مخالف موقف اپنایا، اور کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے باریک جزوی مسائل میں مخالفت کی ہے، اور بعض وہ بھی ہیں جنہوں نے منہج ِحق سے اپنے سے زیادہ دور فرقے کا رد کیا ہے، توا یسی شخصیات یقینا باطل کی تردید اور حق گوئی پر قابل تعریف ہیں، لیکن باطل کا ردّ کرتے ہوئے انصاف کی حدتجاوزکرے اس طور پر کہ بعض حق باتوں کا انکار ،اور بعض باطل باتوں کا اقرار کرےتو یہ درست نہیں بلکہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی بڑی بدعت کو چھوٹی بدعت سے بدل دے یا اور کمزور باطل سے قوی باطل پر وار کرے۔ یہی حالت اہل سنت و جماعت کی طرف منسوب بہت سے اہل کلام کی ہے ۔۔۔" انتہی

" فتاوى شيخ الاسلام ابن تیمیہ"(1/348)

اب یہاں ایک اہم مسئلہ باقی ہے، اور وہ یہ ہے کہ ماتریدی گروہ کے بارے میں ہماری کیا ذمہ داری ہے؟ یا دیوبندیوں کی طرح انکے نظریات اپنانے والے لوگوں کے ساتھ ہمارا تعلق کیسا ہونا چاہئے؟

تو اسکا جواب ہر شخص کے بارے میں الگ ہوگا:

چنانچہ جو شخص اپنے غلط نظریات پر بضد قائم رہے، اور اپنے خود ساختہ نظریات کی ترویج کرے تو اس کے بارے میں لوگوں کو باخبر کرنا، اور اسکی گمراہی و انحراف بیان کرنا ضروری ہے، اور جو شخص اپنے نظریات کی ترویج نہ کرے، اسکے قول و فعل سے تلاش ِحق آشکار ہو تو اسے نصیحت کی جائے، عقائد میں موجود خامی کی نشاندہی کی جائے، اور اس کیلئے اچھا انداز اپنایا جائے، امید واثق ہے کہ اللہ تعالی اسے قبولِ حق کی توفیق دے گا۔جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (دین نصیحت کا نام ہے) ہم نے کہا کس کیلئے؟ آپ نے فرمایا: (اللہ کیلئے، اللہ کی کتاب کیلئے، اللہ کے رسول کیلئے، مسلم حکمرانوں کیلئے، اور عام لوگوں کیلئے) مسلم: (55)


واللہ اعلم.

شیخ محمد صالح المنجد

http://forum.mohaddis.com/threads/دیوبندی-جماعت.26584/
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,106
ری ایکشن اسکور
6,770
پوائنٹ
1,069
پیالی میں طوفان اٹھانا تو کوئی ہم سے سیکھے (مسکراہٹ)۔ اس فورم کے قارئیں ہیں ہی کتنے۔ اور ان میں سے اکثر لوگ ”حق“ سے یا تو آگاہ ہیں، یا ایک مرتبہ بتلادینے سے آگاہ ہوجاتے ہیں۔ جو بقیہ تھوڑے سے ہیں وہ کبھی مانے ہیں نہ مانیں گے۔ لیکن مندرجہ بالا مضمون جہاں چھپا ہے، وہ آفیشلی تو کراچی کا دوسرا بڑا اخبار ہے لیکن عملاً جنگ سے بھی زیادہ چھپتا ہے۔ یعنی ہزاروں عام لوگوں اس مضمون کو پڑھا اور درست سمجھا ہوگا۔ لیکن اُن ”معصوم قارئین“ تک حق بات پہنچانے والا کوئی نہیں۔ چونکہ یہ ایک ”عالم دین“ کا تحریر کردہ مضمون ہے۔ لہٰذا بہتر ہی ہوتا اگر جوابی مضمون بھی کسی عالم دین ہی کی طرف سے اخبار کو جائے، تب ہی اس کے چھپنے کا امکان ہوگا۔
میرے بھائی میرا آپ سے سوال ہے کہ اگر آپ پر حق واضح ہو جائے تو کیا پھر بھی آپ اس کو نہیں مانے گے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,767
ری ایکشن اسکور
5,408
پوائنٹ
562
میرے بھائی میرا آپ سے سوال ہے کہ اگر آپ پر حق واضح ہو جائے تو کیا پھر بھی آپ اس کو نہیں مانے گے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟
معاف کیجئے گا میرے پیارے پیار اور بہت پیارے بھائی! آپ میری بات اور میرا مدعا سمجھے ہی نہیں۔ چلیں کوئی بات نہیں۔ ہر بات، ہر ایک کے سمجھنے کے لئے ہوتی بھی نہین (مسکراہٹ)
 
Top