• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مشرک کی نجاست کا حکم

حافظ اختر علی

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 10، 2011
پیغامات
768
ری ایکشن اسکور
730
پوائنٹ
317
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
حکمی یا حسی کا مفہوم یہ ہے کہ:
1۔حسی: حسی کا تعلق حسیات یعنی کسی بھی چیز کی جسمانی کیفیت۔اس لیے کوئی بھی انسان اپنے جسم کے اعتبار سے ،مذہب اور عقائد کے اختلاف کی وجہ سے پلید اور نجس نہیں ہوتا۔
2۔حکمی : حکمی کا مطلب ہے کہ کسی چیز کے اندر ایسے عیوب پائے جاتے ہوں تو شرعی اعتبار سے قبیح قسم کے ہوں تو ایسے رویے پر حکمی پلیدگی کا حکم لگایا جاتا ہے اور اس کو نجاست حکمی کہتے ہیں۔جیسا کہ کسی انسان کو کہا جاتا ہے کہ ’’تمہاری سوچ کتنی گندی ہے‘‘تو یہ سوچ کو گندہ اس کے رویے کی وجہ سے کہا جاتا ہے ورنہ سوچ بذات خود کوئی نجس مادہ نہیں ہے۔
امید ہے بات واضح ہو گئی ہو گی۔ان شاء اللہ
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتا ھے: "انماالمشرکون نجس "
تو اس سے کون سی نجا ست مراد ہے
۱ حکمی
² حسی؟
دونوں مراد لی جاسکتی ہیں
عقائد واعمال تو اس کے نجس ہوتے ہی ہیں۔ جسم بھی نجس ہوتا ہے۔ اس لیے تو اسلام لانے پر غسل کرتا ہے۔ واللہ اعلم
 

انس

منتظم اعلیٰ
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 03، 2011
پیغامات
4,178
ری ایکشن اسکور
15,338
پوائنٹ
800
قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتا ھے: "انماالمشرکون نجس "
تو اس سے کون سی نجا ست مراد ہے
1 حکمی
2 حسی؟
مشرک کی نجاست حکمی (یا معنوی ہے) حسّی نہیں۔

کسی کافر کو چھونے سے مسلمان کو وضو یا غسل نہیں کرنا پڑتا۔

نبی کریمﷺ بعض اوقات مشرکوں کو مسجد میں ٹھہرا لیتے تھے۔

واللہ اعلم!
 
شمولیت
مئی 01، 2014
پیغامات
257
ری ایکشن اسکور
67
پوائنٹ
77
اس مباحثہ میں شرکت کرنے والوں کا شکر گزار ہوں
محترم نعیم بھائی آپ نے یہ فرمایا کہ: دونو ں مراد لی جا سکتی ہیں "...تو سکتی ھیں..آپ پخطہ بات بیان کریں.یا تو آپ اس طرح کہیں کہ "دونوں مراد ہیں "مزید ہمارے مہربان محترم انس نظر صاحب نے آپکی بات کا جو جواب دیا ہے اس پر آپ کیا فرمانا پسند کرینگے؟
 

ahmed

رکن
شمولیت
جنوری 01، 2012
پیغامات
37
ری ایکشن اسکور
32
پوائنٹ
38
آیت إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ کی تشریح
شروع از M Aamir بتاریخ : 25 July 2013 10:34 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
قرآن مجید میں ارشاد ہے۔ إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ۔ ''یعنی مشرک نا پاک ہیں'' مشرکین بعض ان لوگوں کو کہا جاتا ہے کہ جو مشہور اہل کتاب کے علاوہ ہیں۔ کیونکہ اہل کتا ب کی عورتوں سے نکاح جائز اور ان کا کھانا بھی جائز ہے۔ لیکن قرآن شریف میں یہ بھی ارشاد ہے۔ کہ کوئی قوم ایسی نہیں جس میں نبی اور کتاب انہی کی زبان میں نہ بھیجی گئی ہو۔ اب دل میں یہ خیال ہوتا ہے کہ جس حالت میں تمام دنیا اہل کتاب ہے۔ تو اجتناب کس سے۔ اور مشرکین سے مراد اگر ہر شخص ہو سکتا ہے جو شرک کرے۔ تو اس میں مسلمان بھی شامل ہوتے ہیں۔ اکثر علماء کا یہ بھی فتویٰ ہے کہ جب تک آدمی لا اله الا الله کہے چاہے عمل کچھ بھی ہو وہ مسلمان ہی ہے۔ اب جناب مفصل اس کا جواب دیں کہ اس میں تطبیق کیوں کی جاوے۔ اور ان کا کھانا کس صورت میں جائزہے۔ ایک حدیث شریف میں یہ بھی زکر ہے۔ کہ اہل کتاب کے برتنوں میں نہ کھائو۔ لا تاكلوا في صحافها الخ
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
قرآن مجید سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل کتاب یہود ونصاریٰ پر شرک ثابت کرنے پر بھی مشرکین سے مراد بت پرست قومیں ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہے۔ ۔ ۔ آیت۔ ما يَوَدُّ الَّذينَ كَفَر‌وا مِن أَهلِ الكِتـٰبِ وَلَا المُشرِ‌كينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيكُم مِن خَيرٍ‌ مِن رَ‌بِّكُم ۗۗ
''یعنی اہل کتاب اور مشرک لوگ تمہارے حق میں بھلائی نہیں چاہتے وغیرہ نیز فرمایا۔ ۔
ہندوستان کے ہندو بھی چونکہ کھلے بت پرست ہیں۔ اور ان کی کتاب کی تصدیق قرآن مجید میں مخصوص طور پر نہیں آئی۔ اس لئے ان کو بت پرستی کی وجہ سے مشرکین ہی میں داخل سمجھنا چاہیے۔ دوسری قسم کے شرک وہ ہیں۔ جو کسی قسم کا کوئی کام از قسم شرک کریں۔ وہ اللہ کے نزدیک یقینا مشرک ہیں۔ چاہے کلمہ توحید پڑھتے ہوں۔ ارشاد خداوندی عام ہے۔ ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغفِرُ‌ أَن يُشرَ‌كَ بِهِ وَيَغفِرُ‌ ما دونَ ذ‌ٰلِكَ لِمَن يَشاءُ ۚ
(''ترجمہ۔ اللہ مشرک کو کبھی نہ بخشے گا اس کے سوا جس کو چاہے گا بخش دے گا۔ '') اس قسم کے مشرکوں کے لئے دو مختلف احکام ہیں۔ دنیاوی اور اخروی۔ دنیاوی حکم تو یہ ہے کہ بوجہ کلمہ اسلام ۔ ۔ اسلام میں سمجھے جایئں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان سے نکاح میراث وغیرہ جاری رہے۔ تا وقت یہ کہ کوئی عقیدہ کلمہ اسلام کے صریح متضاد نہ رکھیں۔ اخروی حکم ان کا بھی وہی ہے۔ جو دوسرے مشرکوں کا ہے۔ اہل کتاب کے برتنوں کو دھو لینے کا حکم ہے۔ کیونکہ وہ خزیر ۔ شراب وغیرہ کھاتے پیتے ہیں۔ اس لئے ان کے برتنوں کو دھو کر ان میں کھانا چاہیے۔ (21 جمادی الثانی 41 ہجری)

فتاویٰ ثنائیہ
جلد 01 ص 343
محدث فتویٰ
 
Top