• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مشرک کی نجاست کا حکم

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
مشرک کی نجاست حکمی (یا معنوی ہے) حسّی نہیں۔

کسی کافر کو چھونے سے مسلمان کو وضو یا غسل نہیں کرنا پڑتا۔

نبی کریمﷺ بعض اوقات مشرکوں کو مسجد میں ٹھہرا لیتے تھے۔
واللہ اعلم!
محترم یا شیخ!
" مومن پاك ہے " يہ حديث ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے، وہ بيان كرتے ہيں كہ مجھے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ملے تو ميں جنابت كى حالت ميں تھا، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ميرا ہاتھ پكڑا تو ميں ان كے ساتھ ساتھ چلنے لگا حتى كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم ايك جگہ بيٹھ گئے، اور ميں چپكے سے وہاں سے كھسك گيا، اور گھر آكر غسل كيا اور پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس واپس آيا تو وہ بيٹھے ہوئے تھے، فرمانے لگے:ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ كہاں تھے ؟
ميں نے ان سے عرض كيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: سبحان اللہ، اے ابو ہريرہ مومن نجس نہيں ہوتا "
صحيح بخارى كتاب الغسل حديث نمبر ( 276 ) صحيح مسلم كتاب الحيض حديث نمبر ( 556 )
یا شیخ! اس حدیث مبارکہ کی روشنی میں۔۔۔
اگر مومن نجس نہیں ہوتا تو کیا اس حدیث کامعکوس مطلب یہ لیا جاسکتا ہے کہ مشرک حسّی نجس ہوتا ہے؟ کیونکہ وہ شرعی طہارت کا خیال نہیں رکھتا۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِ‌كُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَ‌بُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَ‌امَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـٰذَا ۚ وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ إِن شَاءَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
مجھے اُمیدہے کہ مشرکوں کا مسجد میں ٹھہرانا اس آیہ کریمہ کے نزول سے پہلے کا واقعہ ہوگا۔
تصحیح کردیجئے گا۔ جزاک اللہ خیرا۔

اس مباحثہ میں شرکت کرنے والوں کا شکر گزار ہوں
محترم نعیم بھائی آپ نے یہ فرمایا کہ: دونو ں مراد لی جا سکتی ہیں "...تو سکتی ھیں..آپ پخطہ بات بیان کریں.یا تو آپ اس طرح کہیں کہ "دونوں مراد ہیں "مزید ہمارے مہربان محترم انس نظر صاحب نے آپکی بات کا جو جواب دیا ہے اس پر آپ کیا فرمانا پسند کرینگے؟
شیخ محترم!
بعض علماء کے نزدیک مشرک ظاہر و باطن دونوں اعتبار سے ناپاک ہے۔ کیونکہ وہ طہارت (صفائی و پاکیزگی) کا اس طرح اہتمام نہیں کرتا، جس کا حکم شریعت نے دیا ہے۔
شیخین!
میری طرف سے یہ جوابات و سوالات صرف اور صرف طالبانہ ہیں ناکہ عالمانہ۔ تصحیح درکار ہے۔
جزاکم اللہ خیرا واحسن الجزاء۔
 
شمولیت
مئی 01، 2014
پیغامات
257
ری ایکشن اسکور
67
پوائنٹ
77
محترمی ومکرمی ھم سب دین کے طلباء ہی ہیں.
جس میں جس دن یہ سوچ آگئی کہ اب میں عالم بن گیا ہوں سمجہیں اسی وقت سے اسکا زوال شروع ہوگیا.اگر خود کو طالب علم سمجھ کر علم کے حصول میں لگ جائیگا تو ان شاءاللہ راہیں کہلتی جائینگی اورعلم کے بلند مقام پر فائز ہوجائیگا.اور اسکے لئے نت نئی تحقیقات کے درازے کھلتے جائینگے.خود کو کچھ سمجہنے والا محض محدود دائرے میں رھجائیگا.
اور محترم انس نضر صاحب نے جو بات کہی آپ کی اس بارے میں کیا رائے ھے کہ کیا مشرک کو چھونے سے آدمی نجس ہوجاتا ہے؟
باقی طہات کی بات یہ ھے کہ یہی بات(ناپاکی) ھمارے بعض مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ھے تو معاملہ تو مشترک ھوگیا.
اور اگر کسی مسلمان کو نجاست لگ جائے تو کیا وہ نجس نہیں ھوجائیگا؟
مشرک کی نجاست کس طرح ختم ھوگی؟
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,074
ری ایکشن اسکور
6,745
پوائنٹ
1,069
محترمی ومکرمی ھم سب دین کے طلباء ہی ہیں.
جس میں جس دن یہ سوچ آگئی کہ اب میں عالم بن گیا ہوں سمجہیں اسی وقت سے اسکا زوال شروع ہوگیا.اگر خود کو طالب علم سمجھ کر علم کے حصول میں لگ جائیگا تو ان شاءاللہ راہیں کہلتی جائینگی اورعلم کے بلند مقام پر فائز ہوجائیگا.اور اسکے لئے نت نئی تحقیقات کے درازے کھلتے جائینگے.خود کو کچھ سمجہنے والا محض محدود دائرے میں رھجائیگا.
اور محترم انس نضر صاحب نے جو بات کہی آپ کی اس بارے میں کیا رائے ھے کہ کیا مشرک کو چھونے سے آدمی نجس ہوجاتا ہے؟
باقی طہات کی بات یہ ھے کہ یہی بات(ناپاکی) ھمارے بعض مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ھے تو معاملہ تو مشترک ھوگیا.
اور اگر کسی مسلمان کو نجاست لگ جائے تو کیا وہ نجس نہیں ھوجائیگا؟
مشرک کی نجاست کس طرح ختم ھوگی؟


مشرک کی نجاست کلم توحید کے اقرار سے ختم ہو گی اور مسلمان کی نجاست شرک سے توبہ پر ختم ہو گی -
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,074
ری ایکشن اسکور
6,745
پوائنٹ
1,069
کافر کا قرآن مجید چھونا

کیا کسی غیر مسلم کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ مکمل طہارت حاصل کیے اورقرآن مجید چھوۓ بغیر پڑھ لے ، جس طرح کہ مسلمان کرسکتا ہے ؟

الحمدللہ

قرآن مجید کو صرف طاہراور پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں ، اور اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے :

{ بیشک مشرک لوگ نجس ہیں } تو اس بنا پر کس بھی کافر چاہے ہو یھودی یا عیسائ اور یاپھر ھندو اور بدھ مت وغیرہ ہی کیوں نہ ہو کو قرآن مجید چھونے نہیں دینا چاہیے ۔

لیکن یہ جائز ہے کہ وہ ریڈیو یا پھر کیسٹ سے قرآن مجید سن لے اورجیسا کہ اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر پڑھ لے جو کہ مختلف زبانوں میں پاۓ جاتے ہیں ۔ .

الشیخ عبداللہ
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,074
ری ایکشن اسکور
6,745
پوائنٹ
1,069
کیا کفار نجس ہوتے ہیں؟

شروع از بتاریخ : 15 April 2013 02:21 PM

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا کفار نجس ہوتے ہیں۔؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مشرکین کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلاَ يَقْرَبُواْ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَـذَا. (التوبه، 9 : 28)

’’اے ایمان والو ! مشرک نرے ناپاک ہیں، تو اس سال (سن 9 ھ) کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں‘‘۔

’’فَـلَا يَقْرَبُوا‘‘ نہی ہے، اِسی لیے نون اعرابی گرا ہے۔ مسجد حرام سے مراد تمام حرم ہے۔ یہی مذہب ہے عطاء کا اس قول کے مطابق مشرک کو سارے حرم میں داخل ہونا حرام ہے۔ اگر چھپ کر حدودِ حرم میں داخل ہو گیا وہیں مر گیا اور دفن ہو گیا اس کی قبر اُکھاڑ کر ہڈیاں بھی نکال لی جائیں گی۔ سو مشرک نہ حرم کو وطن بنا سکے نہ وہاں سے گزر سکے۔

اور جمیع قسم کے کفار مشرک ہوتے ہیں،لہذا تمام کفار اس حکم کے عموم میں شمار ہوں گے۔اور نجس قرار پائیں گے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتویٰ کمیٹی
محدث فتویٰ
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,074
ری ایکشن اسکور
6,745
پوائنٹ
1,069
فتوى نمبر:19468

س: میرے ساتھـ یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ میں باری باری اپنے ساتھیوں کے ساتھـ بیشہ شہر سے جدہ شہر تک قیدیوں کو ان کے ملک
( جلد کا نمبر 10; صفحہ 7)

بھیجنے کے لئے لے جاتا ہوں، ان قیدیوں میں کچھـ غیر مسلمان بھی ہوتے ہیں جیسے عیسائی اور ہندو وغیرہ، اور جب ہم مکہ کی جانب متوجہ ہوتے ہیں تو دو راستے پڑتے ہیں: ایک راستہ مسلمانوں کے لئے ہوتا ہے اور دوسرا غیر مسلمانوں کے لئے ہوتا ہے، اور چونکہ غیر مسلمان كا راستہ لمبا ہے اور اس راستے سے جانے میں مشقت ہوتی ہے اس لئے ہم مسلمانوں کے راستے سے جاتے ہیں اور مشاعر مقدسہ سے گزرتے ہیں جیسے منى اور مزدلفہ، اور ہم رکتے نہیں ہیں بلکہ جلدی سے گزر جاتے ہیں تاکہ راستہ مختصر ہوجائے، تو کیا یہ ہمارے لئے جائز ہے یا نہیں؟

میں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا تو وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے بیشہ کے ایک قاضی سے اس بارے میں فتوی پوچھا تو اس نے کہا: کہ یہ جائز ہے، برائے کرم جواب عنایت فرمائیں، اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے؟

ج: جب آپ لوگوں کے سفر میں غیر مسلمان یعنی عیسائی اور ہندو یا دوسرے مشرک قیدی ہوتے ہیں تو اس حالت میں آپ پر یہ واجب ہوتا ہے کہ ان کو غیر مسلمانوں کے راستے سے لے کر جائیں اگرچہ اس میں زیادہ مشقت ہے، اور یہ جائز نہیں کہ آپ انہیں مسلمانوں کے راستے سے لے جائیں؛ کیونکہ اس سے انہیں حدود حرم میں داخل کرنا لازم آتا ہے، اور یہ حرام ہے؛ کیونکہ الله تعالى فرماتا ہے: ﺍﮮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭﺍﻟﻮ !بے شک مشرک بالکل ہی ناپاک ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺳﺎﻝ ﻛﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺴﺠﺪ ﺣﺮﺍﻡ ﻛﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﭘﮭﭩﻜﻨﮯ ﭘﺎﺋﯿﮟ آيت۔
( جلد کا نمبر 10; صفحہ 8)

وبالله التوفيق۔ وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم۔
علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی

ممبر ممبر ممبر نائب صدر صدر
بکر ابو زید صالح فوزان عبد اللہ بن غدیان عبد العزیزآل شيخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز
 
شمولیت
مئی 01، 2014
پیغامات
257
ری ایکشن اسکور
67
پوائنٹ
77
محترم عامر یونس بہا ئی آپ کا شکریہ.
محترم. حدیث "ان المسلم لا ینجس "میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلم سے کس نجاست کی نفی کی ھے؟
۱ اگر آ پ یہ فرمائیں کہ "حسی نجاست " کی نفی کی ھے.
تو پھلی بات یہ ہے کہ "حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے جنابت کی حالت میں خود میں کون سی نجاست محسوس کر رھے تھے؟ بظاھر تو یھی معلوم ہوتا ہے(جیسا کہ "فتح الباری میں" حافظ الدنیا ابن حجر نے کھا ہے )کہ وہ حسی نجاست ہی محسوس کررہے تھ تو اس پریہ اعتراض وارد ھوتا ھے
کہ مسلم بسا اوقات نجاست کے لگ جانے سے نجس بھی ھوجاتا ھے.
تو "ان المسلم لا ینجس "کا کیا ھوگا؟
۲ اور اگر آپ یہ فرمائیں کہ "آپ صلی اللہ علیہ وسلم "نے مسلم سے حکمی نجاست کی نفی کی ہے تو یہ عجیب تر نہ ہوگا ک ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ تو خودمیں نجاست حسی سمجھ رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اس شک کے ازالے کے لئے اس سے نجاست حکمی کی نفی کررہے ھوں.محترم اب بتائیں اتحاد نیت کھاں ھے؟
باقی قرآن مجید کی تلاوت کے حوالے سے(جو کہ اس موضوع کو ذکر کرنے کا بنیادی مقصد ھی یہی ہے )ان شاء اللہ آگے بحث کرینگے.کہ حدیث "ان لا یمس القرآن الا طاہر" سے کون مراد ھے؟
مسلم یا کافر؟
لیکن یہ بنیادی باتیں ذرا حل ھوجائیں تا کے بحث کو سمجھنے میں آسانی رہے.
اس لئے کہ اس مسئلے کا سارا دارو مدار انہی باتوں پر منحصر ھے.ان کے حل سے ان شاءاللہ مسئلہ حل ھوجائیگا.
مزید فورم پر موجود علماء کرام کی آراء کا بہی انتظار ہے.
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,074
ری ایکشن اسکور
6,745
پوائنٹ
1,069
بغیر وضو قرآن کی تلاوت کرنا
سوال: وضو کے بغیر قرآنِ مجید کی تلاوت کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ جبکہ ایک حدیث میں آتا ہے ( لا یمس القرآن الا طاھرا )قرآن کو طاہر کے سوا کوئی نہ چھوئے '' قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت کریں ؟

جواب: بے وضو قرآنِ مجید کی تلاوت کر سکتا ہے کیونکہ کوئی ایسی صریح اور صحیح حدیث یموجود نہیں ہے جس میں بے وضو آدمی کو قرآن مجید کی تلاوت سے روکا گیا ہو اور قرآن مجید کی تلاوت کا حکم خود قرآن مجید میں ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہیں :
'' کہ جو قرآنِ مجید سے میسر ہو ، پڑھو ۔''


اس میں یہ نہیں کہ وضو کے بغیر نہ پڑھو۔ جو حدیث آپ نے پیش کی ہے یہ حدیث بمجمعو طرقہٖ صحیح ہے کہ طاہر کے سوا قرآن مجید کو کوئی نہ چھوئے ۔ اس کی تفسیر بکاری شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جمعات میں آجئے جن میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم بھی تھے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مجلس سے نکل گئے ۔ جب مجلس میں واپس آئے تو سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (سبحان اللہ ان المؤ من لا ینجس) کہ مومن نجس نہیں ہوتا یعنی طاہر ہی رہتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ( الا طاہھرا) سے مراد الا مومن ہے یعنی کافر قرآن مجید کو نہ چھوئے، مومن چھو سکتا ہے خواہ وہ با وضو ہو یا بے وضو۔

صحیح بخاری شریف میں ہی ایک حدیث ہے جسے ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔ اس حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے تھے جب اُٹھے تو اپنی آنکھوں کو ہاتھ سے صاف کیا اور پھر :
(صحیح بخاری مع الفتح ١۱/ ٣٤٣۳۴۳،۳۴۴٣٤٤)
'' نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کی ۔ پھر لٹکائے ہو مشکیزہ کی طرف بڑھے اور وضو کیا اور نماز شروع کر دی''۔

اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کی اور وضوبعد میں کیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر باب قائم کیا ہے:
بے وضو ہونے کے بعد قرآن مجید کی تلاوت کرنا۔

یہ بات تو مسلم ہے کہ نبی کریم بے وضو بھی ہوتے تھے اور مسلم شریف کی صحیح حدیث میں ہے کہ :
'' کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرتے تھے''۔

اور اللہ کے ذکر میں قرآن مجید بھی داخل ہے۔ ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت کیلئے با وضو ہونا لازمی نہیں ہے۔

اس کا مطلب یہ بھی نہ سمجھ لیا جائے کہ آدمی اپنی عادت ہی بنا لے کہ میں نے تلاوت ہی بے وضو ہونے کی حالت میں کرنی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ با وضو ہر کر کے۔
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,074
ری ایکشن اسکور
6,745
پوائنٹ
1,069
حائضہ عورت کا مصحف چھوئے بغير قرآن کريم کا پڑھنا
( جلد کا نمبر 4; صفحہ 232)
سوال نمبر: 2 - فتوی نمبر:16340

سوال 2: کيا حائضہ عورت کے لئے مصحف چھوئے بغير قرآن پڑھنا جائز ہے؟

ج 2: حائضہ عورت کے لئے مصحف چھوئے بغير زبانی قرآن پڑھنا جائز ہے جب اسے بھول جانے کے ڈر سے قرآن پڑھنے کی ضرورت ہو، جب کہ جنبی آدمی کے لئے نہ مصحف ديکھـ کر نہ ہی زبانی قرآن پڑھنا جائز ہے، نبی صلى الله عليہ وسلم کے اس فرمان کی وجہ سے: بے شک قرآن کی تلاوت سے کوئی چیز منع نہیں كرتی سوائے جنابت کے۔ اس کی تخریج امام احمد اور اصحابِ سنن نے کی ہے۔ امام احمد کی ايک روايت ميں علی رضی الله عنہ سے صحيح سند سے مروی ہے: کہ نبی اکرم صلى الله عليہ وسلم نے قرآن کے کچھـ حصے کی تلاوت فرمائی، پھر آپ نے فرمایا: یہ اس شخص کے لئے ہے جو حالت جنابت میں نہ ہو، اگر جنبی ہے تو اس کے لئے ايک آيت بھی پڑھنا جائز نہيں ہے۔ البتہ وہ حديث جو حائضہ عورت کے قراءت قرآن سے ممانعت کے سلسلہ ميں وارد ہے، وہ ضعيف ہے۔

وبالله التوفيق۔ وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم۔
علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی

ممبر ممبر ممبر نائب صدر صدر
بکر ابو زید صالح فوزان عبد العزیزآل شيخ عبدالرزاق عفیفی عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز

http://alifta.com/Search/ResultDetails.aspx?languagename=ur&lang=ur&view=result&fatwaNum=&FatwaNumID=&ID=11699&searchScope=3&SearchScopeLevels1=&SearchScopeLevels2=&highLight=1&SearchType=exact&SearchMoesar=false&bookID=&LeftVal=0&RightVal=0&simple=&SearchCriteria=allwords&PagePath=&siteSection=1&searchkeyword=217133216181216173217129#firstKeyWordFound
 
Top