1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مکمل صحیح بخاری اردو ترجمہ و تشریح جلد ١ - (حدیث نمبر ١ تا ٨١٣)

'کتب احادیث' میں موضوعات آغاز کردہ از Aamir, ‏جون 26، 2012۔

  1. ‏جولائی 16، 2012 #471
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,383
    موصول شکریہ جات:
    16,864
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان
    باب : تکبیرہوتے وقت اور تکبیر کے بعد صفوں کا برابر کرنا

    حدیث نمبر : 717
    حدثنا أبو الوليد، هشام بن عبد الملك قال حدثنا شعبة، قال أخبرني عمرو بن مرة، قال سمعت سالم بن أبي الجعد، قال سمعت النعمان بن بشير، يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لتسون صفوفكم أو ليخالفن الله بين وجوهكم‏"‏‏. ‏
    ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سالم بن ابوالجعد سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ نماز میں اپنی صفوں کو برابر کرلو، نہیں تو اللہ تعالیٰ تمہارا منہ الٹ دے گا۔

    تشریح : یعنی مسخ کر دے گا۔ بعض نے یہ مراد لی کہ پھوٹ ڈال دے گا۔ باب کی حدیثوں میں یہ مضمون نہیں ہے کہ تکبیر کے بعد صفوں کو برابر کرو، لیکن امام بخاری نے ان حدیثوں کے دوسرے طریقوں کی طرف اشارہ کیا، چنانچہ آگے چل کر خود امام بخاری نے اسی حدیث کو اس طرح نکالا ہے کہ نماز کی تکبیر ہونے کے بعد آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور یہ فرمایا۔ اور مسلم کی روایت میں ہے کہ آپ تکبیر کہہ کر نماز شروع کرنے کو تھے کہ یہ فرمایا۔ امام ابن حزم نے ان حدیثوں کے ظاہر سے یہ کہا ہے کہ صفیں برابر کرنا واجب ہے اور جمہور علماءکے نزدیک سنت ہے اور یہ وعید اس لیے فرمائی کہ لوگ اس سنت کا بخوبی خیال رکھیں۔ برابر رکھنے سے یہ غرض ہے کہ ایک خط مستقیم پر کھڑے ہوں گے آگے پیچھے نہ کھڑے ہوں۔ یا صف میں جو جگہ خالی رہے اس کو بھردیں۔ ( مولانا وحید الزماں مرحوم )

    علامہ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ویحتمل ان یکون البخاری اخذ الوجوب من صیغہ الامر فی قولہ سووا صفوفکم و من عمعرم قولہ صلوا کما رایتمونی اصلی و من ورود الوعید علی ترکہ الخ یعنی ممکن ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث کے صیغہ امر سے سووا صفوفکم ( صفوں کو سیدھا کرو ) سے وجوب نکالا ہو اور حدیث نبوی کے اس عموم سے بھی جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسی نماز پڑھو جیسی نماز پڑھتے ہوئے تم نے مجھ کو دیکھا ہے۔

    صحیح روایت سے ثابت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابو عثمان نہدی کے قدم پر مارا جب کہ وہ صف میں سیدھے کھڑے نہیں ہو رہے تھے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا بھی یہی دستور تھا کہ جس کو وہ صف میں ٹیڑھا دیکھتے وہ ان کے قدموں کو مارنا شروع کردیتے۔ الغرض صفوں کو سیدھا کرنا بے حد ضروری ہے۔

    حدیث نمبر : 718
    حدثنا أبو معمر، قال حدثنا عبد الوارث، عن عبد العزيز، عن أنس، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ أقيموا الصفوف فإني أراكم خلف ظهري‏"‏‏. ‏
    ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے عبدالعزیز بن صہیب سے بیان کیا، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ صفیں سیدھی کر لو۔ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھ رہا ہوں۔

    تشریح : یہ آپ کے معجزات میں سے ہے کہ جس طرح آپ سامنے سے دیکھتے اسی طرح پیچھے مہر نبوت سے آپ دیکھ لیا کرتے تھے۔ صفوں کو درست کرنا اس قدر اہم ہے کہ آپ اور آپ کے بعد خلفائے راشدین کابھی یہی دستور رہا کہ جب تک صف بالکل درست نہ ہوجاتی یہ نماز شروع نہیں کیا کرتے تھے۔ عہد فاروقی میں اس مقصد کے لیے لوگ مقرر تھے جو صف بندی کرائیں، مگر آج کل سب سے زیادہ متروک یہی چیز ہے۔ جس مسجد میں بھی چلے جاؤ صفیں اس قدر ٹیڑھی نظر آئیں گی کہ خدا کی پناہ، اللہ پاک مسلمانوں کو اسوہ نبوی پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔
     
  2. ‏جولائی 16، 2012 #472
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,383
    موصول شکریہ جات:
    16,864
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان
    باب : صفیں برابر کرتے وقت امام کا لوگوں کی طرف منہ کرنا

    حدیث نمبر : 719
    حدثنا أحمد بن أبي رجاء، قال حدثنا معاوية بن عمرو، قال حدثنا زائدة بن قدامة، قال حدثنا حميد الطويل، حدثنا أنس، قال أقيمت الصلاة فأقبل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم بوجهه فقال ‏"‏ أقيموا صفوفكم وتراصوا، فإني أراكم من وراء ظهري‏"‏‏.
    ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے زائدہ بن قدامہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حمید طویل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نماز کے لیے تکبیر کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منہ ہماری طرف کیا اور فرمایا کہ اپنی صفیں برابر کرلو اور مل کر کھڑے ہو جاؤ۔ میں تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا رہتا ہوں۔

    تراصوا کا مفہوم یہ ہے کہ چوناگچ دیوار کی طرح مل کر کھڑے ہو جاؤ۔ کندھے سے کندھا، قدم سے قدم، ٹخنے سے ٹخنہ ملا لو۔ سورۃ صف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان اللہ یحب الدین یقاتلون فی سبیلہ صفا کانہم بنیان مرصوص ( الصف:4 ) اللہ پاک ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو اللہ کی راہ میں شیشہ پلائی ہوئی دیواروں کی طرح متحد ہو کر لڑتے ہیں۔ جب نماز میں ایسی کیفیت نہیں کرپاتے تو میدان جنگ میں کیا خاک کرسکیں گے۔ آج کل کے اہل اسلام کا یہی حال ہے۔
     
  3. ‏جولائی 16، 2012 #473
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,383
    موصول شکریہ جات:
    16,864
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان
    باب : صف اول ( کے ثواب کے بیان )

    حدیث نمبر : 720
    حدثنا أبو عاصم، عن مالك، عن سمى، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الشهداء الغرق والمطعون والمبطون والهدم‏"‏‏. ‏
    ہم سے ابوعاصم ضحاک بن مخلد نے امام مالک کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے سمی سے، انہوں نے ابوصالح ذکوان سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ڈوبنے والے، پیٹ کی بیماری میں مرنے والے، طاعون میں مرنے والے اور دب کر مرنے والے شہید ہیں۔

    حدیث نمبر : 721
    وقال ‏"‏ ولو يعلمون ما في التهجير لاستبقوا ‏{‏إليه‏}‏ ولو يعلمون ما في العتمة والصبح لأتوهما ولو حبوا، ولو يعلمون ما في الصف المقدم لاستهموا‏"‏‏. ‏
    فرمایا کہ اگر لوگ جان لیں جو ثواب نماز کے لیے جلدی آنے میں ہے تو ایک دوسرے سے آگے بڑھیں اور اگر عشاء اور صبح کی نماز کے ثواب کو جان لیں تو اس کے لیے ضرور آئیں۔ خواہ سرین کے بل آنا پڑے اور اگر پہلی صف کے ثواب کو جان لیں تو اس کے لیے قرعہ اندازی کریں۔

    تشریح : اتفاقاً کوئی مسلمان مرد عورت کسی پانی میں ڈوب کر مرجائے یا ہیضہ وغیرہ امراض شکم کا شکار ہو جائے، یا مرض طاعون سے فوت ہو جائے یا کسی دیوار وغیرہ کے نیچے دب کر مرجائے۔ ان سب کو شہیدوں کے حکم میں شمار کیا گیا ہے۔ پہلی صف سے امام کے قریب والی صف مراد ہے۔ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ آگے کی صف دوسری صف کو بھی شامل ہے اس لیے کہ وہ تیسری صف سے آگے ہے، اس طرح تیسری صف کو بھی کیوں کہ وہ چوتھی سے آگے ہے۔ یہ حدیث پہلے بھی گزر چکی ہے۔
     
  4. ‏جولائی 16، 2012 #474
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,383
    موصول شکریہ جات:
    16,864
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان
    باب : صف برابر کرنا نماز کا پورا کرنا ہے

    حدیث نمبر : 722
    حدثنا عبد الله بن محمد، قال حدثنا عبد الرزاق، قال أخبرنا معمر، عن همام، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال ‏"‏ إنما جعل الإمام ليؤتم به فلا تختلفوا عليه، فإذا ركع فاركعوا، وإذا قال سمع الله لمن حمده‏.‏ فقولوا ربنا لك الحمد‏.‏ وإذا سجد فاسجدوا، وإذا صلى جالسا فصلوا جلوسا أجمعون، وأقيموا الصف في الصلاة، فإن إقامة الصف من حسن الصلاة‏"‏‏. ‏
    ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں معمر نے ہمام بن منبہ کے واسطہ سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ امام اس لیے ہوتا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے، اس لیے تم اس سے اختلاف نہ کرو۔ جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو اور جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر پڑھو اور نماز میں صفیں برابر رکھو، کیوں کہ نماز کا حسن صفوں کے برابر رکھنے میں ہے۔

    معلوم ہوا کہ نماز میں صف درست کرنے کے لیے آدمی آگے پیچھے سرک جائے یا صف ملانے کے واسطے کسی طرف ہٹ جائے یا کسی کو کھینچ لے تو اس سے نماز میں خلل نہیں آئے گا بلکہ ثواب پائے گا کیوں کہ صف برابر کرنا نماز کا ایک ادب ہے۔ امام کے ساتھ بیٹھ کر نماز پڑھنا پہلے تھا بعد میں آپ کے آخری فعل سے یہ منسوخ ہو گیا۔

    حدیث نمبر : 723
    حدثنا أبو الوليد، قال حدثنا شعبة، عن قتادة، عن أنس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ سووا صفوفكم فإن تسوية الصفوف من إقامة الصلاة‏"‏‏. ‏
    ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعبہ نے قتادہ کے واسطہ سے خبر دی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صفیں برابر رکھو کیوں کہ صفوں کا برابر رکھنا نماز کے قائم کرنے میں داخل ہے۔
     
  5. ‏جولائی 16، 2012 #475
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,383
    موصول شکریہ جات:
    16,864
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان
    باب : اس بارے میں کہ صفیں پوری نہ کرنے والوں پر ( کتنا گناہ ہے )

    حدیث نمبر : 724
    حدثنا معاذ بن أسد، قال أخبرنا الفضل بن موسى، قال أخبرنا سعيد بن عبيد الطائي، عن بشير بن يسار الأنصاري، عن أنس بن مالك، أنه قدم المدينة فقيل له ما أنكرت منا منذ يوم عهدت رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ما أنكرت شيئا إلا أنكم لا تقيمون الصفوف‏.‏ وقال عقبة بن عبيد عن بشير بن يسار قدم علينا أنس بن مالك المدينة بهذا‏.‏
    ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے فضل بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن عبید طائی نے بیان کیا بشیر بن یسار انصاری سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ جب وہ ( بصرہ سے ) مدینہ آئے، تو آپ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک اور ہمارے اس دور میں آپ نے کیا فرق پایا۔ فرمایا کہ اور تو کوئی بات نہیں صرف لوگ صفیں برابر نہیں کرتے۔ اور عقبہ بن عبید نے بشیر بن یسار سے یوں روایت کیا کہ انس رضی اللہ عنہ ہمارے پاس مدینہ تشریف لائے۔ پھر یہی حدیث بیان کی۔

    تشریح : امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث لاکر صف برابر کرنے کا وجوب ثابت کیا ہے کیوں کہ سنت کے ترک کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خلاف کرنا نہیں کہہ سکتے، اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کرنا بموجب نص قرآنی باعث عذاب ہے۔ فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ ان تصیبہم فتنۃ او یصیبہم عذاب الیم ( النور:63 ) تسہیل القاری میں ہے کہ ہمارے زمانہ میں لوگوں نے سنت کے موافق صفیں برابر کرنا چھوڑ دی ہیں کہیں تو ایسا ہوتا ہے کہ آگے پیچھے بے ترتیب کھڑے ہوتے ہیں کہیں برابر بھی کرتے ہیں تو مونڈھے سے مونڈھا اور ٹخنے سے ٹخنہ نہیں ملاتے۔ بلکہ ایسا کرنے کو نازیبا جانتے ہیں۔ خدا کی مار ان کی عقل اور تہذیب پر۔ نمازی لوگ پروردگار کی فوجیں ہیں۔ فوج میں جو کوئی قاعدے کی پابندی نہ کرے وہ سزائے سخت کے قابل ہوتا ہے۔ ( مولانا وحید الزماں مرحوم
     
  6. ‏جولائی 16، 2012 #476
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,383
    موصول شکریہ جات:
    16,864
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان

    باب : صف میں مونڈھے سے مونڈھا ( کندھے سے کندھا ) اور قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہونا

    وقال النعمان بن بشير رأيت الرجل منا يلزق كعبه بكعب صاحبه‏.‏
    اور نعمان بن بشیر صحابی نے کہا کہ میں نے دیکھا ( صف میں ) ایک آدمی ہم میں سے ٹخنہ اپنے قریب والے دوسرے آدمی کے ٹخنہ سے ملا کر کھڑا ہوتا۔

    حدیث نمبر : 725
    حدثنا عمرو بن خالد، قال حدثنا زهير، عن حميد، عن أنس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ أقيموا صفوفكم فإني أراكم من وراء ظهري‏"‏‏. ‏ وكان أحدنا يلزق منكبه بمنكب صاحبه وقدمه بقدمه‏.‏
    ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر بن معاویہ نے حمید سے بیان کیا، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، صفیں برابر کر لو۔ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا رہتا ہوں اور ہم میں سے ہر شخص یہ کرتا کہ ( صف میں ) اپنا مونڈھا ( کندھا ) اپنے ساتھی کے مونڈھے ( کندھے ) سے اور اپنا قدم ( پاؤں ) اس کے قدم ( پاؤں ) سے ملا دیتا تھا۔

    تشریح : حضرت امام الدین فی الحدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں متفرق ابواب منعقد فرما کر اور ان کے تحت متعدد احادیث لاکر صفوں کو سیدھا کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ اس سلسلہ کا یہ آخری باب ہے۔ جس میں آپ نے بتلایا ہے کہ صفوں کو سیدھا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ صف میں ہر نمازی اپنے قریب والے نمازی کے مونڈھے سے مونڈھا اور قدم سے قدم اور ٹخنے سے ٹخنہ ملا کر کھڑا ہو۔ جیسا کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کا بیان نقل ہوا کہ ہم اپنے ساتھی کے ٹخنے سے ٹخنہ ملا کر کھڑا ہوا کرتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان بھی موجو دہے۔

    نیز فتح الباری، جلد:2 ص:176 پر حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی کے یہ الفاظ بھی منقول ہیں کہ لو فعلت ذلک باحدہم الیوم لنفر کانہ بغل شموس اگر میں آج کے نمازیوں کے ساتھ قدم اور ٹخنے سے ٹخنہ ملانے کی کوشش کرتا ہوں تو وہ اس سے سرکش خچر کی طرح دور بھاگتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عہد صحابہ کے ختم ہوتے ہوتے مسلمان اس درجہ غافل ہونے لگے تھے کہ ہدایت نبوی کے مطابق صفوں کو سیدھا کرنے اور قدموں سے قدم ملانے کا عمل ایک اجنبی عمل بننے لگ گیا تھا۔ جس پر حضرت انس رضی اللہ عنہ کو ایسا کہنا پڑا۔ اس بارے میں اور بھی کئی ایک احادیث وارد ہوئی ہیں۔
    روی ابوداود و الامام احمد عن ابن عمر انہ علیہ الصلوٰۃ والسلام قال اقیموا صفوفکم و حاذوا بین المناکب و سدوا الخلل و لینوا بایدی اخوانکم لا تذروا فرجات الشیطان من وصل صفا و صلہ اللہ و من قطع صفا قطعہ اللہ و روی البزار باسناد حسن عنہ علیہ الصلوٰۃ و السلام من سد فرجۃ فی الصف غفر اللہ و فی ابی داود عنہ علیہ الصلوٰۃ و السلام قال خیارکم الینکم مناکب فی الصلوٰۃ۔ یعنی ابوداؤد اور مسند احمد میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صفیں سیدھی کرو اور کندھوں کو برابر کرو۔ یعنی کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو جاؤ اور جو سوراخ دو نمازیوں کے درمیان نظر آئے اسے بند کردو اور اپنے بھائیوں کے ساتھ نرمی اختیار کرو اور شیطان کے گھسنے کے لیے سوراخ کی جگہ نہ چھوڑو۔ یاد رکھو کہ جس نے صف کو ملایا خدا اس کو بھی ملا دے گا اور جس نے صف کو قطع کیا خدا اس کو قطع کرے گا۔ بزار میں سند حسن سے ہے کہ جس نے صف کی دراڑ کو بند کیا خدااس کو بخشے۔ ابوداؤد میں ہے کہ تم میں وہی بہتر ہے جو نماز میں کندھوں کو نرمی کے ساتھ ملائے رکھے۔

    و عن النعمان بن بشیر قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یسوی صفوفنا کانما یسوی بہ القداح حتی رای انا قد عقلنا عنہ ثم خرج یوما فقام حتی کاد ان یکبر فرای رجلا بادیا صدرہ من الصف فقال عباد اللہ لتسون صفوفکم او لیخالفن اللہ بین وجوہکم رواہ الجماعۃ الا البخاری فان لہ منہ لتسون صفوفکم او لیخالفن اللہ بین وجوہکم۔ ولاحمد و ابی داود فی روایۃ قال فرایت الرجل یلزق کعبہ بکعب صاحبہ و رکبتہ برکبتہ و منکبہ بمنکبہ۔ ( نیل الاطار ج:3ص:199 ) یعنی نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفوں کو اس طرح سیدھا کراتے گویا اس کے ساتھ تیر کو سیدھا کیا جائے گا۔ یہاں تک کہ آپ کو اطمینان ہوگیا کہ ہم نے اس مسئلہ کو آپ سے خوب سمجھ لیا ہے۔ ایک دن آپ مصلے پر تشریف لائے اور ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کا سینہ صف سے باہر نکلا ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ کے بندو! اپنی صفوں کو برابر کرلو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان باہمی طور پر اختلاف ڈال دے گا۔ بخاری شریف میں یوں ہے کہ اپنی صفوں کو بالکل برابر کر لیا کرو۔ ورنہ تمہارے چہروں میں آپس میں اللہ مخالفت ڈال دے گا۔ اور احمد اور ابوداؤد کی روایات میں ہے کہ میں نے دیکھا کہ ہر نمازی اپنے ساتھی کے کندھے سے کندھے اور قدم سے قدم اور ٹخنے سے ٹخہ ملایا کرتا تھا۔

    امام محمد کتاب الآثار باب اقامۃ الصفوف میں لکھتے ہیں: عن ابراہیم انہ کان یقول سووا صفوفکم و سووا مناکبکم تراصوا و لایتخللنکم الشیطان الخ قال محمد و بہ ناخذ لا ینبغی ان یترک الصف و فیہ الخلل حتی یسووا و ہو قول ابی حنفیۃ یعنی ابراہیم نخعی فرماتے ہیں کہ صفیں اور شانہ برابر کرو اور گچ کرو ایسا نہ ہو کہ شیطان بکری کے بچہ کی طرح تمہارے درمیان داخل ہو جائے۔ امام محمد کہتے ہیں کہ ہم بھی اسی کو لیتے ہیں کہ صف میں خلل چھوڑ دینا لائق نہیں۔ جب تک ان کو درست نہ کر لیا جائے۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی مذہب ہے۔

    نیز بحر الرائق و عالمگیری و درمختار میں بھی یہی ہے کہ ینبغی للمامون ان یتراصوا و ان یسدو الخلل فی الصفوف و یسووا مناکبہم وینبغی للامام ان یامرہم بذلک و ان یقف وسطہم یعنی مقتدیوں کو چاہئے کہ صفوں کو چونا گچ کریں صفوں میں درازوں کو بند کردیں اور شانوں کو ہموار رکھیں بلکہ امام کے لیے لائق ہے کہ مقتدیوں کو اس کا حکم کرے پھر بیچ میں کھڑا ہو۔ فتاوی تاتار خانیہ میں ہے کہ جب صفوں میں کھڑے ہوں تو گچ کریں اور کندھے ہموار کرلیں۔ ( شامی، ج:1ص:595 )

    یہ تفصیل اس لیے پیش کی گئی ہے کہ صفوں کو سیدھا کرنا، پیر سے پیر ملاکر کھڑا ہونا ایسا مسئلہ ہے جس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے۔ اس کے باوجود آج کل مساجد میں صفوں کا منظر یہ ہوتا ہے کہ ہر نمازی دوسرے نمازی سے دور بالکل ایسے کھڑا ہوتا ہے جیسے کچھ لوگ اچھوتوں سے اپنا جسم دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر قدم سے قدم ملانے کی کوشش کی جائے تو ایسے سرک کر الگ ہو جاتے ہیں جیسے کہ کسی بچھو نے ڈنک ماردی ہو۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ملت کے باہمی طور پر دل نہیں مل رہے ہیں۔ باہمی اتفاق مفقود ہے سچ ہے

    صفیں کج، دل پریشان، سجدہ بے ذوق
    کہ انداز جنوں باقی نہیں ہے

    عجیب فتوی:
    ہمارے محترم دیوبندی حضرات فرماتے ہیں کہ اس سے مقصد پوری طرح صفوں کو درست کرنا ہے تاکہ درمیان میں کسی قسم کی کوئی کشادگی باقی نہ رہے۔ ( تفہیم البخاری پ:3 ص:108 ) بالکل درست اور بجا ہے کہ شارع کا یہ مقصد ہے اور لفظ تراصوا کا یہی مطلب ہے کہ نمازیوں کی صفیں چوناگچ دیواروں کی طرح ہونی ضروری ہیں۔ درمیان میں ہرگز ہرگز کوئی سوراخ باقی نہ رہ جائے۔ مگر اسی جگہ آگے ارشاد ہوتا ہے کہ فقہائے اربعہ کے یہاں بھی یہی مسئلہ ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان چار انگلیوں کا فرق ہونا چاہئے۔ ( حوالہ مذکور )
    تفصیلات بالا میں شارع کا مقصد ظاہر ہوچکا ہے کہ صف میں ہر نمازی کا دوسرے نمازی کے قدم سے قدم، ٹخنے سے ٹخنہ، کندھے سے کندھا ملانا مقصود ہے۔ اکابر احناف کا بھی یہی ارشاد ہے پھر یہ “ دو آدمیوں کے درمیان چار انگل کے فرق کا فتوی ” سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا مطلب رکھتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کمال ہے کہ نہ اس کے لیے کوئی صحیح حدیث بطور دلیل پیش کی جاسکتی ہے نہ کسی صحابی و تابعی کا کوئی قول۔ پھر یہ چار انگل کے فاصلے کی اختراع کیا وزن رکھتی ہے؟
    اسی فتویٰ کا شاید یہ نتیجہ ہے کہ مساجد میں جماعتوں کا عجیب حال ہے۔ چار انگل کی گنجائش پاکر لوگ ایک ایک فٹ دور کھڑے ہوتے ہیں اور باہمی قدم مل جانے کو انتہائی خطرناک تصور کرتے ہیں اور اس پرہیز کے لیے خاص اہتمام کیا جاتاہے۔ کیا ہمارے انصاف پسند و حقیقت شناس علمائے کرام اس صورت حال پر محققانہ نظر ڈال کر اصلاح حال کی کوشش فرما سکیں گے۔ ورنہ ارشاد نبوی آج بھی پکار پکا ر کر اعلان کر رہا ہے۔ لتسون صفوفکم او لیخالفن اللہ بین قلوبکم صدق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی صفیں برابر کرو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں باہمی اختلاف ڈال دے گا۔
     
  7. ‏جولائی 16، 2012 #477
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,383
    موصول شکریہ جات:
    16,864
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان
    باب : اگر کوئی شخص امام کے بائیں طرف کھڑا ہو اور امام اپنے پیچھے سے اسے دائیں طرف کر دے تو نماز ہو جائے گی

    حدیث نمبر : 726
    حدثنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا داود، عن عمرو بن دينار، عن كريب، مولى ابن عباس عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فقمت عن يساره، فأخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم برأسي من ورائي، فجعلني عن يمينه، فصلى ورقد فجاءه المؤذن، فقام وصلى ولم يتوضأ‏.‏
    ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے داؤد بن عبدالرحمن نے عمرو بن دینار سے بیان کیا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، آپ نے بتلایا کہ ایک رات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( آپ کے گھر میں تہجد کی ) نماز پڑھی۔ میں آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ اس لیے آپ نے پیچھے سے میرا سر پکڑ کر مجھے اپنے دائیں طرف کر دیا۔ پھر نماز پڑھی اور آپ سو گئے جب مؤذن ( نماز کی اطلاع دینے ) آیا تو آپ نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے اور وضو نہیں کیا۔

    سو جانے پر بھی آپ کا وضو باقی رہتا تھا۔ ا س لیے کہ دل جاگتا اور ظاہر میں آنکھیں سو جاتی تھیں۔ یہ خصوصیات نبوی میں سے ہے۔ باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے۔
     
  8. ‏جولائی 16، 2012 #478
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,383
    موصول شکریہ جات:
    16,864
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان
    باب : اس بارے میں کہ عورت اکیلی ایک صف کا حکم رکھتی ہے

    حدیث نمبر : 727
    حدثنا عبد الله بن محمد، قال حدثنا سفيان، عن إسحاق، عن أنس بن مالك، قال صليت أنا ويتيم، في بيتنا خلف النبي صلى الله عليه وسلم وأمي أم سليم خلفنا‏.‏
    ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اسحق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ میں نے اور ایک یتیم لڑکے ( ضمیرہ بن ابی ضمیرہ ) نے جو ہمارے گھر میں موجود تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی اور میری والدہ ام سلیم ہمارے پیچھے تھیں۔

    یہیں سے ترجمہ باب نکلتا ہے کیوں کہ ام سلیم اکیلی تھیں مگر لڑکوں کے پیچھے اکیلی صف میں کھڑی ہوئیں۔
     
  9. ‏جولائی 16، 2012 #479
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,383
    موصول شکریہ جات:
    16,864
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان
    باب : مسجد اور امام کی داہنی جانب کا بیان

    حدیث نمبر : 728
    حدثنا موسى، حدثنا ثابت بن يزيد، حدثنا عاصم، عن الشعبي، عن ابن عباس ـ رضى الله عنهما ـ قال قمت ليلة أصلي عن يسار النبي صلى الله عليه وسلم فأخذ بيدي أو بعضدي حتى أقامني عن يمينه، وقال بيده من ورائي‏.‏
    ہم سے موسی بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ثابت بن یزید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عاصم احول نے عامر شعبی سے بیان کیا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، آپ نے بتلایا کہ میں ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف ( آپ کے گھر میں ) نماز ( تہجد ) پڑھنے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ اس لیے آپ نے میرا سر یا بازو پکڑ کر مجھ کو اپنی دائیں طرف کھڑا کر دیا۔ آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا تھا کہ پیچھے سے گھوم آؤ۔

    تشریح : اس حدیث میں فقط امام کے داہنی طرف کا بیان ہے اور شاید امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کی طرف اشارہ کیا جس کو نسائی نے براءسے نکالا کہ ہم جب آپ کے پیچھے نماز پڑھتے تو داہنی جانب کھڑا ہونا پسند کرتے تھے۔ اور ابوداؤد نے نکالا کہ اللہ رحمت اتارتا ہے اور فرشتے دعا کرتے ہیں صفوں کے داہنے جانب والوں کے لیے اور یہ اس کے خلاف نہیں جو دوسری حدیث میں ہے کہ جو کوئی مسجد کا بایاں جانب معمور کرے تواس کو اتنا ثواب ہے۔ کیوں کہ اول تو یہ حدیث ضعیف ہے۔ دوسرے یہ آپ نے اس وقت فرمایا جب سب لوگ داہنی جانب کھڑے ہونے لگے اور بایاں جانب بالکل اجڑ گیا۔ ( وحیدی
     
  10. ‏جولائی 16، 2012 #480
    Aamir

    Aamir خاص رکن
    جگہ:
    احمدآباد، انڈیا
    شمولیت:
    ‏مارچ 16، 2011
    پیغامات:
    13,383
    موصول شکریہ جات:
    16,864
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,033

    صحیح بخاری -> کتاب الاذان
    باب : جب امام اور مقتدیوں کے درمیان کوئی دیوار حائل ہو یا پردہ ہو ( تو کچھ قباحت نہیں )

    وقال الحسن لا بأس أن تصلي وبينك وبينه نهر‏.‏ وقال أبو مجلز يأتم بالإمام وإن كان بينهما طريق أو جدار إذا سمع تكبير الإمام‏.‏
    اور حضرت امام حسن بصری نے فرمایا کہ اگر امام کے اور تمہارے درمیان نہر ہو جب بھی نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اور ابومجلز تابعی نے فرمایا کہ اگر امام اور مقتدی کے درمیان کوئی راستہ یا دیوار حائل ہو جب بھی اقتدا کر سکتا ہے بشرطیکہ امام کی تکبیر سن سکتا ہو۔

    حدیث نمبر : 729
    حدثنا محمد، قال أخبرنا عبدة، عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن عمرة، عن عائشة، قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل في حجرته، وجدار الحجرة قصير، فرأى الناس شخص النبي صلى الله عليه وسلم فقام أناس يصلون بصلاته، فأصبحوا فتحدثوا بذلك، فقام ليلة الثانية، فقام معه أناس يصلون بصلاته، صنعوا ذلك ليلتين أو ثلاثة، حتى إذا كان بعد ذلك جلس رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يخرج، فلما أصبح ذكر ذلك الناس فقال ‏"‏ إني خشيت أن تكتب عليكم صلاة الليل‏"‏‏.
    ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدہ بن سلیمان نے یحییٰ بن سعید انصاری کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے بتلایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں اپنے حجرہ کے اندر ( تہجد کی ) نماز پڑھتے تھے۔ حجرے کی دیواریں پست تھیں اس لیے لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اور کچھ لوگ آپ کی اقتدا میں نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ صبح کے وقت لوگوں نے اس کا ذکر دوسروں سے کیا۔ پھر جب دوسری رات آپ کھڑے ہوئے تو کچھ لوگ آپ کی اقتدا میں اس رات بھی کھڑے ہو گئے۔ یہ صورت دو یا تین رات تک رہی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ رہے اور نماز کے مقام پر تشریف نہیں لائے۔ پھر صبح کے وقت لوگوں نے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ میں ڈرا کہ کہیں رات کی نماز ( تہجد ) تم پر فرض نہ ہو جائے۔ ( اس خیال سے میں نے یہاں کا آنا ناغہ کر دیا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں